Sunday, April 29, 2018

فالج 16|Falag|paralysis



۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل۔۔۔۔۔ ۔
Falag|paralysis
۔۔۔۔۔۔ فالج ۔۔۔۔ قسط نمبر16۔۔۔۔۔۔۔
دائین طرف فالج کا علاج ۔۔۔۔۔ دائین طرف فالج ھو تو غدی اعصابی تا اعصابی نسخہ جات اور غذائین استعمال کرین مفلوج مقام پہ گرم تر یا ترگرم روغنیات کی مالش کرین
چھینکین لانے کی کوشش کرین
ادویات مین مرض کی شدت مین حب انقلاب یا مسہل نمبر 6 دین اگر بلڈ پریشر زیادہ ھے تو حب چندن دین یا پھر موقعہ کی مناسبت سے حب بیش دین گبھراھٹ ھو تو خمیرہ گاؤزبان عنبری جواھردار دین یا پھر جواھردار مفرح بارد دین
حب انقلاب۔۔۔۔۔ سہاگہ بریان ۔۔ ست ملٹھی ۔۔سقمونیا ۔۔ریوندعصارہ ۔برابروزن پیس کر حب نخودی بنا لین یہ مسہل ھے حسب ضرورت استعمال کرین
حب چندن ۔۔۔۔ صندل سفید ۔۔ کشنیز ۔۔ چھوٹی چندن ۔۔الائچی سفید ۔۔ زیرہ سفید۔برابر وزن پیس کر 00 کیپسول بھر لین حسب ضرورت 3وقت 1تا2 استعمال کر سکتے ھین بلڈ پریشر بھی کنٹرول کرتے ھین اور نیند بھی لاتا ھے
حب بیش ۔۔ بیش مدبر 10گرام ۔ سوڈابائی کارب ۔ 75گرام ۔ سرنجان شیرین 75گرام حب نخودی بنا لین یا کیپسول بھر لین
ایسے درد جو گرمی خشکی سے پیدا ھون بخار کی شدت چھپاکی ھائی بلڈ پریشر ۔درد ریح ۔ درد پتہ ۔ و درد جگر تک مین مفید ھے مزاج غدی اعصابی ھے
باقی خمیرہ جات کے نسخے مرکبات کی کتب مین دیکھین
فالج اسفل کےعلاج مین آپ کو پتہ ھے عضلاتی تحریک کا شاخسانہ ھے مرکز نخاح پہ کوئی آفت نازل ھونے کی صورت مین نچلے دھڑسے رابطہ منقطع ھو جاتا ھے علاج مین ایسی تدبیر کرین کہ حرارت اور رطوبت اصلیہ پیدا ھونا شروع ھو جاۓ اس مقصد کے لئے آپ زیرہ سفید ۔ سورنجان شیرین ۔مغز پنبہ دانہ ۔ اسگندھ برابر وزن پیس لین 00کیپسول بھر لین 1کیپسول3باردے سکتے ھین رات کو ایک گولی حب سلاطین دے دین یہ یاد رھے فالج کا علاج بہت ھی صبرآزما ھوتا ھے مستقل مزاجی سے علاج کرنا پڑتا ھے خاص کر فالج اسفل مین
بایان فالج ۔۔۔ اس فالج مین عضلاتی غدی ادویات سے اعصابی مادے کو خارج کرکے عضلات کو تقویت دین ۔۔ اور اگر کسی سدہ کی وجہ سے فالج ھے تو اسطوخودوس ۔۔ بسفائج ۔۔ تربد مجوف افتیمون کا جوشاندہ 2وقت تا3وقت دین اور اس کے ساتھ اخراج مواد کے لئے مسہل نمبر3 دین مصبر 10گرام حنظل 10گرام رائی 20گرام پیس کر حب نخودی بنا لین 1تا2 گولی حسب ضرورت دین برھمی 50گرام دارچینی 20گرام وج 20 گرام پیس کر تین گنا شہد ملا لین معجون بن جاۓ گی چمچ چمچ 2تا3 بار کھلائین پہلے یہ سب علاج کرنے کے بعد تاکہ مواد خارج ھو جاۓ پھر مقویات ساتھ ضرور کھلائین
یاد رکھین فالج کے علاج مین بلڈ پریشر کا خیال رکھین مقویات ضرور استعمال کرین خون کو پتلا کرنے کے لئے اجوائن دیسی 50گرام زعفران 10گرام آب ادرک آب لہسن آب لیمن آب پیاز ھر واحد 30گرام مین کھرل کرکے حب آدھی رتی بنا لین 1گولی1تا3 بار دے سکتے ھین گندھک کے مرکبات جیسے حب صابر ھے نہ دین بلڈ پریشر کنٹرول نہین ھو گا اگر زیادہ ھے تو
یہ اوپر مین نے حب سلاطین کا ذکر کیا ھے اب اس کا نسخہ لکھنا یاد نہ رھا ۔۔۔حب سلاطین ۔۔ شنگرف 20گرام ۔۔ کچلہ مدبر 30گرام ۔۔ مغز جمالگوٹہ 10گرام اور رائی 120 گرام پیس کر معروف طریقہ سے دانہ مونگ برابر گولیان بنا لین یہ نسخہ پہلے بھی مین تفصیل سے لکھ چکا ھون اور بتا چکا ھون کہ کیسے بنانا ھے
میرے خیال مین اتنا ھی کافی ھے مضمون حقیقت مین مرض سمجھانے کے لئے لکھا جاتا ھے اب طبیب اتنی تو اھلیت رکھتے ھی ھین کہ مرض سمجھ لین تو علاج کرھی لین گے اب فالج کے امراض کے تمام مراحل اچھی طرح سمجھا دیے ھین سب کا علاج سوچ سمجھ کرکرین آج فالج کا مضمون اختتام کو پہنچ گیا ھے انشاءاللہ پھر کوئی اور موضوع فرصت مین شروع کر لین گے محمود بھٹہ

Saturday, April 28, 2018

فالج 15|paralysis|falag

۔۔۔۔ مطب کا مل ۔۔۔۔۔
Falag|paralysis
۔۔۔ فالج ۔۔ قسط نمبر 15۔۔۔۔۔۔
پچھلی پوسٹ مین ارادہ تھا کہ اسی پوسٹ مین مضمون کو کلوز کردون گا پھر سوال کے اندر سوال اٹھتے گئے اور مضمون بھی طویل ھوتا گیا سچ یہ ھے کسی بھی مرض پہ حقیقت مین مکمل مضمون لکھنا یہان ممکن ھی نہین ھے وقت کی کمی اور دیگر مسائل آڑے آتے ھین امید ھے آج مضمون کچھ مکمل ھو جاۓ گا اب اپنے موضوع کی طرف آتے ھین جہان چھوڑا تھا وھین سے ھی شروع کرتے ھین
اسی طرح مہرون کو باندھنے والے بندھن رباط اور پٹھے بھی اسی تحریک مین سکڑ کر کسے جاتے ھین مہرون کو زور سے دباتے ھین جسکی وجہ سے نرودب جاتے ھین یا ڈسک ایک طرف ھو جایا کرتی ھے
غدی عضلاتی تحریک مین مہرون کی ھڈیون کو غذا پہنچانے والی جھلی کی سوزش مہرون کی قدرتی شکل مین بگاڑ پیدا کرکے ان علامات کا باعث بنتی ھے
اعصابی تحریک مین بندھنون کے ڈھیلا ھونے اور کیلشیم جذب نہ ھونے سے بھی تبدیلی واقع ھو سکتی ھے
اچانک حادثہ یا بوجھ اٹھا لینے سے یا جھٹکے سے بھی یہ تکالیف ھو جایا کرتی ھین
اب تمام وضاحت کا ایک ھی مقصد ھے کہ درد سوزش یا ورم ھو تو مقام تحریک کے مطابق آپ نے علاج کرنا ھے اگر صرف سن پن ھو تو فالج کے مطابق آپ نے علاج کرنا ھے امید ھے اب آپ میری بات سمجھ گئے ھونگے ۔۔ اب ایک اور بات بھی اپنے دماغ مین بٹھا لین اگر کمر کے نچلے مہرون مین جیسا کہ پہلے آپ کو سمجھا چکا ھون کوئی بھی غیر طبعی حالت پیدا ھوتی ھے ایک یا دونون ٹانگون مین ۔۔۔ اس مین آپ نے ایک اور اھم پہلو کو بھی ضرور مدنظر رکھنا ھے جو آجکل ھمارے ملک پاکستان مین ایک خوفناک صورت پیدا کر گیا ھے وہ ھے شوگر۔۔۔۔۔۔ شوگر مین پاؤن یا پاؤن کی انگلیون مین یہ حالت ظاھر ھو جایا کرتی ھے
اب آپ کو عرق النساء کے بارے مین علیحیدہ سے بتاتا ھون
۔۔۔۔۔۔ عرق النساء۔۔۔۔۔۔آپ سب جانتے ھین کہ دائین ٹانگ مین عرق النساء ھو تو تحریک عضلاتی غدی اور اگر بائین ٹانگ مین ھو تو تحریک اعصابی غدی ھوتی ھے اب آپ کو بڑے راز کی بات بتاتا ھون عرق النساء درحقیقت بہت ھی کم پایا جاتا ھے دور حاضر مین جو لوگ آپ کو اس مرض مین مبتلا نظر آتے ھین اور آپ انہین عرق النساء کا مریض سمجھتے ھین ان مین زیادہ تر مریضون کا تعلق مہرون کی خرابی سے ھوتا ھے چوٹ لگنے جھٹکا لگنے یا وزن اٹھانے یا پٹھون کی مقامی سختی سے مہرون کے درمیان نرم گدی یعنی ڈسک پھٹ جاتی کر یا کھسک کر اعصاب پر دباؤ ڈالتی ھے ۔۔ ٹی بی ۔سل ۔ سوزاکی زھر ۔ غذا فراھم کرنے والی مقامی جھلی مین سوزش سے مہرہ یا اس کا کوئی حصہ گل جاتا ھے ۔ نتیجتاً مہرون کا توازن خراب ھو جانے اکھڑ جانے یا ان مین وقفہ آجانے یا ایک دوسرے پر چڑھ جانے سے اعصاب دب کر عرق النساء جیسی تکلیف پیدا کر دیتے ھین مقامی طور پہ کوئی گلٹی یا رسولی بھی نرو کو دباؤ ڈال سکتی ھے اب اتنا تفصیل سے بتانے کا مقصد یہ ھے کہ آپ بغیر دیکھے بغیر سوچے بغیر تشخیص کیے اگر کسی کی ٹانگ مین درد ھوتا ھے تو فتواہ نہ لگایا کرین کہ لو جی حضرت دوست محمد صابر ملتانیؒ نے لکھا ھے کہ دائین ٹانگ مین عضلاتی غدی اور بائین ٹانگ اعصابی غدی
محترم وہ صرف مرض عرق النساء کا لکھا ھے باقی مسائل کی تشریح تو باقی کو کرنی چاھیے تھی لیکن افسوس کسی نے بھی نہ کی آپ حضرات سے صرف ایک ھی گزارش ھے کبھی بھی ان تحریکون پہ نہ رھین بلکہ خود تشخیص کرکے جو تحریک بنتی ھو اس کے مطابق علاج کرین ۔۔ ھان اگر ضرورت اپریشن کی ھو تو اپریشن کروانے سے ھرگز نہ گھبرائین درست فیصلہ کرین اور درست علاج کروائین اور کرین
اب مین مضمون کو تو حقیقت مین ختم کررھا ھون لیکن آپ کی معلومات کے لئے علاج معالجہ مین سب سے پہلے ایلوپیتھی طریقہ علاج کا ذکر کرون گا
فالج اور ایلوپیتھی علاج ۔۔۔۔۔۔
ایلوپیتھیک مین فالج کا علاج انجائنا اور ھارٹ اٹیک کی طرز پہ کیا جاتا ھے کیونکہ دونون کے اسباب اور وجوھات ایک ھی خیال کیے جاتے ھینن
1۔۔خون کو پتلا کرنے اور نالیون کو پھیلانے والی ادویات کا استعمال
2۔۔اکھڑتے بلڈ کلاٹس کو اپنے مقام پہ سخت کرنا
3۔۔بلڈ پریشر اور شوگر کو کنٹرول کرنا
4۔ھر قسم کی چکنائی اور سگریٹ نوشی سے بچنے کی تلقین
5۔ بوقت ضرورت سرجری کو عمل مین لانا
6۔۔ایکسر سائز اور فزیوتھراپی کا تسلسل
یہ تھا مختصر اصول علاج جو ایلوپیتھی مین کیا جاتا ھے اب ایلوپیتھی مین میڈیسن کیا استعمال کی جاتی ھین وہ آپ کو ضرورت نہین
انشاءاللہ اس سے اگلی قسط مین طب کا طریقہ علاج اور مکمل نسخہ جات لکھون گا کچھ ھدایات لکھے دیتا ھون
جب تک آپ کو تشخیص مرض بمعہ مقام مرض کی پوری تسلی نہ ھو جاۓ آپ نے ھرگز دوا تجویز نہین کرنی جتنی تشریح مین نے آپ کو کردی ھے آپ اس کے مطابق چلین گے تو انشاءاللہ مرض کو شفایابی ملے گی اور ایک نقطہ بایان فالج مین کبھی بھی حب صابر نہ کھلائین اس کی تشریح بھی کردونگا اب اجازت دین آپکا محمود بھٹہ

Thursday, April 26, 2018

فالج 14|falag|paralysis


۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔
Falag|paralysis
۔۔۔۔فالج۔۔ قسط۔نمبر14۔۔۔۔۔
یہ مضمون کی تو شاید آخری قسط بن جاۓ علاج کی اس کے بعد آۓ گی
اعضاءکاسن ھونایاکمزورمحسوس کرنا۔۔۔۔
گردن کے نیچے والے مہرون مین چوٹ یا بیماری کی وجہ سے کوئی نرو دب جاۓ جس سے بازو کی سپلائی متاثر ھو کر وہ سن یا تھکا ھوا محسوس ھوتا ھے بعض دفعہ دونون بازوؤن کی سپلائی مین خرابی سے دونون بازو یہ علامت محسوس کرتے ھین یہان ضرورت محسوس کررھا ھون حس اور حرکت باطل کیسے ھوتی ھے اس کی وضاحت پہلے کردون ۔۔۔۔۔
اعصاب کی دو قسمین ھوتی ھین ایک حسی اعصاب Sensory Nervesاور دوسرے ھین حرکتی اعصاب Motor Nerves
ان مین حسی اعصاب صعودی Ascending یعنی جسم سے مرکز اعصاب کی طرف بڑھتے ھین اور حرکتی اعصاب نزولی Descendingھین جو دماغ سے جسم کی طرف آتے ھین ۔ اس تشریح سے آپ کو اعصاب کی فعلی حالت کا پتہ چل جاۓ گا جب کسی عضو مین حالت تسکین پیدا ھوتی ھے تو اس کی حس باطل ھو جاتی ھے اور خدد پیدا پیدا ھو جاتا ھے
اور جب حرکتی اعصاب مین تحریک پیدا ھوتی ھے تو حرکت ختم ھو جاتی ھے
پہلی صورت مین نفسانی قوت اعضاء مین موجود ھوتی ھے مگر وہ اپنے مرکزومبداء تک نہین پہنچ پاتی
اور دوسری صورت مین مرکزومبداء سے نفسانی قوت اعضا مین نہین پہنچ سکتی چنانچہ حس کا باطل ھونا حالت تسکین ھے اور حرکت کا بطلان حالت تحریک ھے یہ قانون یہان اس لئے آپ کو بتایا ھے تاکہ آپ کو سمجھنے مین آسانی ھو مزید تشریح کیلئے آپ اچھی کتب کا مطالعہ کرین
اب سن پن یعنی خدر کی وضاحت کرتا ھون سب پن ھونا یا تو اعصابی تحریک مین ھوتا ھے یا اعصابی تسکین مین فرق یہ ھے کہ اگر اعصابی تسکین سے ھو تو تھوڑے عرصہ کے لئے ھوتا ھے
اگر اعصابی تحریک سے ھو تو زیادہ عرصہ تک یا پھر مستقل ھو سکتا ھے اب مزید وضاحت
اعصابی تحریک مین حس و لمس باطل ھوتی ھے
اعصابی تسکین مین حس و لمس ناقص ھوتی ھے
اعصابی تحریک سے عضو سن ھو تو عضو کی حرکت مین دشواری ھوتی ھے
جبکہ اعصابی تسکین مین احساس کی کمی تو ھوتی ھے لیکن حرکت کرنے مین کوئی دقت نہین ھوتی
اعصابی تحریک مین خدر کی حالت مین دماغ واعصاب مین کسی غیر تام مواد سے مسدور ھو جانے سے پیدا ھوتی ھے
اعصابی تسکین مین خدر کی حالت مین اعصاب مین رطوبت تجاویف کے جمع ھو جانے سے پیدا ھوتی ھے
بہرحال مین نے اپنی سی کوشش کرکے دونون تحاریک مین فرق واضح کرنے کی کوشش کی ھے اب ایک اور سوال یہان اٹھ گیا ھے جس کے بارے مین بہت سے دوست سوچ رھے ھونگے وہ سوال یہ ھے مہرون کے بارے مین کہ کیا مہرون کا نقص بھی یہی ھے اور انہی تحاریک مین ھوتا ھے مختصراً اس کی بھی وضاحت کیے دیتا ھون جبکہ مضمون کا اس سے حقیقت مین کوئی تعلق نہین ھے اور اس بات کی بھی وضاحت کردون یہ سن پن کی جتنی تفصیل دلائل سے مین لکھی ھے یا آگے ابھی لکھون گا اسے ذھن نشین کر لین یہ آپ کو عام کتابون مین نہین ملے گی اب افسوس تو اس بات کا بھی ھے نظریہ مفرداعضاء کی کتابون مین چار یا پانچ لائینون مین اس پہ مضمون لکھا ھے اس مین بھی اغلاط موجود ھین درست کرلین
مہرون کی خرابی۔۔۔۔۔۔
بازوؤں مین تکالیف عموماً C4..C5 یا C5..C6یا C6..C7 مین ھوا کرتا ھے 1۔۔مہرون کی ڈسک کا پھٹ جانا ۔۔2۔۔ کھسک جانا ۔۔ 3۔ھڈی کا بڑھ جانا ۔4۔ گردن کے مہرون مین گنٹھیاوی مواد کا پیدا ھو کر انہین اندر سے تنگ کردینا ۔۔5۔ کوئی حادثہ 6۔ رسولی کا پیدا ھو جانا یا کچھ اور وجوھات کینسر ٹی بی یا کچھ بھی ھو سکتا ھے
متاثرہ مقام پہ حرام مغز اور یہان سے نکلنے والے نرو پر دباؤ پڑ کر متذکرہ بالا علامات پیدا ھو جایا کرتی ھین نرو کو زیادہ نقصان پہنچنے سے عضلات کمزور ھو جایا کرتے ھین گنٹھیاوی وجوھات سے پیدا ھونے والی ایسی تکلیف کو سرویکل سپانڈری Cervical spondlosisکہتے ھین اس مین درد ایک یا دونون بازوؤن مین اس مین سن پن ایک یا دونون بازوؤن مین شروع ھو جایا کرتا ھے ۔ بازوؤن کے عضلات کمزور ھو کر سوکھنے لگتے ھین ٹانگون مین سختی کمزور لڑکھڑاھٹ پیدا ھوتی ھے
Lumber Radiculopat کمر کے مہرون کی خرابی
متذکرہ بالا وجوھات اگر کمر کے مہرون کو متاثر کرین تو یہان کے نرو کو نقصان پہنچ کر ایک ٹانگ مین درد یاسن ھو جاتی ھے کسی بھی جسمانی حرکت سے یہ درد شدت کے ساتھ اس ٹانگ کی طرف پھیلتا ھے اور اسے سن کردیتا ھے ٹانگ کے عضلات کمزور ھوجاتے ھین یہ عموماً کمر کے مہرون L3..L4یا ایس ون نرو روٹ کے مقام کی ڈسک کو متاثر کرتی ھے اسے Lumber Radiculopthy یعنی وجع القطن کہتے ھین
طبی اصول کے مطابق بالمزاج گردن اور کمر کے مہرون کی متذکرہ بالا تکالیف مین سے زیادہ تر کا تعلق عضلاتی تحریک سے ھے مثلا گنٹھیاوی مادون سے مہرون کی موری اور نرو کے راستون کا تنگ ھونا۔۔زائد کیلشیم سے ھڈی کا بڑھ جانا ۔ کینسر اور ٹی بی سے کوئی مہرہ گل جاۓ پھر اس کی وضع کی خرابی ۔ تنگی ۔ خلا ۔۔۔۔ ان سب کا تعلق عضلاتی اعصابی تحریک سے ھے

Wednesday, April 25, 2018

فالج 13|paralysis|falag

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Falag|Paralysis
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فالج ۔۔۔۔۔۔ قسط نمبر13۔۔۔۔
کل کی پوسٹ مین بات کررھا تھا فالج اسفل حالات دیکھ کر علاج کرین اب بات آگے لئے چلتے ھین
ادھرنگ جسم کے نصف طولانی حصے مین اس وقت ھوا کرتا ھے جب شدید چوٹ شدید تحریک زھر اور دیگر اسباب کے اثرات مقدم دماغ کے کسی ایک حصہ مین خونبکی سپلائی مین حائل ھو جائین اگر خون کم ملے یا ناقص ملے تو فالجی علامات پیدا ھو جایا کرتی ھین
اگر رکاوٹ ایسی ھو جو کبھی سپلائی بند کر دے اور کبھی سپلائی کھول دے یا سفر کرکے آگے چلی جاۓ یا ایک سائیڈ پر ھو جاۓ اور خون کی روانی بحال ھو جاۓ اور دوستو فالج کی علامات پیدا بھی ھوتی رھتی ھین اور ختم بھی ھوتی رھتی ھین
اگر یہ رکاوٹ کسی خاص عضو کے جسم کو خون روک دے تو صرف وھی عضو متاثر ھو گا مثلا بعض اوقات آنکھ کی بینائی چلی جاتی ھے تو ایسا آنکھ کو خون کی سپلائی رک جانے سے ھوا بعض مرد حضرات مکمل نامرد ھو جایا کرتے ھین یاد رکھین نامردی بھی مقامی فالج ھے تحریک اعصابی ھو گی
تناؤ اور خواھش کم ھو تو غدی عضلاتی تحریک کا فالج سمجھ کر ایسی مردانہ کمزوری کا علاج کرین
اب بات کرتے ھین سکات کی ۔۔۔۔۔۔۔
سکات یا پورے جسم پہ فالج اس وقت ھوتا ھے جب دماغ کی جڑ یعنی برین سسٹم ھی متاثر ھو جایا کرتا ھے۔۔حادثہ یا دماغ مین جریان خون یا شدید زھر کا اثر ھوا کرتا ھے یا پھر کسی تحریک کے اثرات جو ابتدا مین اپنے مقام سے شروع ھوا کرتے ھین اور سارے جسم کے مفرد عضو مین ہھیل جائین تو بھی سکات ھو جایا کرتا ھے اور عموما موت واقع ھو جاتی ھے
جہان تک فالجی علامات کا تعلق ھے اس کا دارومدار تحریک کی شدت پہ ھے اور اس کے نتائج یا دیگر اسباب پر ھے ۔
بعض اوقات حس یا حرکت یا دونون مین نقص یا مکمل ابطال آجایا کرتا ھے ۔۔ سُن ھو جانا کمزوری تھکاوٹ اور کسی ایک عضو کے فعل کا نقص بھی فالجی علامات مین شامل ھے
اور یاد رکھین یہ علامات کبھی تحریک کبھی تحلیل اور کبھی تسکین سے ھوا کرتی ھین
اب اتنا کچھ بتانے کے بعد آپ کو ایک بات کی سمجھ تو آگئی ھو گی کہ فالج خود کوئی مرض نہین ھے بلکہ ایک علامت ھے مرض تو وہ ھے جس کی وجہ سے فالج کی علامت پیدا ھوئی اب اس بات کی سمجھ آ گئی ھو گی کہ فالج کا علاج صرف یہ نہین ھے کہ آپ مریض کو گرم دوائین ھی کھلاتے رھین اکثر کتب مین اور یار دوست کا بھی ایک ھی زور ھے لو جی شنگرف لونگ جائفل جلوتری عقرقرحا سم الفار مشک زعفران یا عنبر وغیرہ کی گولیان بنا لین اور کھلائین فالج کا نام و نشان نہین رھے گا ساتھ یہ نہین لکھتے کہ مریض کا بھی ستیاناس ھو جاۓ گا بھئی دین ایسی دوائین دین لیکن جہان ضرورت ھے انشاءاللہ آگے علاج جب لکھین گے تو وضاحت ھو جاۓ گی چند لفظون مین
ھمیشہ یاد رکھین طبیب نسخون کا محتاج نہین ھوا کرتا بشرط کہ طب آتی ھو براہ کرم مرض اور اس کی ماھیت سمجھا کرین روزانہ یہی کچھ بتاتا بھی ھون پھر بھی بات وھین اٹکی رھتی ھے خیر مین اور شاہ صاحب محترم سید ادریس گیلانی صاحب اپنا فرض نبھائین گے اب یہ آپ پہ منحصر ھے کہ موجودہ حالات کو دیکھتے ھوۓ عبرت آتی ھے یا نہین دعا ھے اللہ تعالی سب کوعمل کرنے کی توفیق عطاء فرماۓ
اب بات آگے لئے چلتے ھین کسی بھی بازو یا ٹانگ کا سن ھو جانا یا اس مین کمزوری محسوس کرنا یا پھر اس مضمون مین ایک اور بات کی وضاحت کرنی ھے وہ ھے عرق النساء اور ان کا علیحیدہ علیحدہ علاج درج کرنا ھے اور مضمون ختم ھو جانا ھے انشاءاللہ کل ان دونون پہ لکھ دین گے اور اس سے اگلی قسط علاج پہ آجاۓ گی آج مصروفیت کی وجہ سے مضمون کا یہان ھی اختتام کرتا ھون دعاؤن مین یاد رکھیے گا محمود بھٹہ

Sunday, April 22, 2018

فالج 11|falag|paralysis

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Paralysis|falag
۔۔۔۔۔۔۔ فالج ۔۔۔۔۔قسط نمبر11۔۔۔۔۔۔
بات دائین فالج کے اسباب پہ کررھے تھے بات کررھے تھے رکا ھوا خون دباؤ سے ویسلز کو پھاڑ سکتا ھے
۔۔۔۔۔جاۓ سکون پر تعفن سے سوزاکی زھر اور مختلف جراثیم پرورش پا سکتے ھین اور کئی بیماریون مثلا کن پیڑے ۔۔یوریمیاء وغیرہ وغیرہ ۔۔ ان سے جسم متاثر ھو جاتا ھے ۔۔یہ تمام اثرات یا آپ انہین فضلات کہہ سکتے ھین تحریک نمبر4 یا غدی عضلاتی کے مقام پر اثر انداز ھوتے ھین تو دماغ کا یہ حصہ درست خون اور اس کی کامل مقدار نہ ملنے سے دائین طرف اپنی گرفت کھو دیتا ھے یا کمزور کر لیتا ھے اسے آپ دایان فالج کہتے ھین
مین پہلے بھی عرض کر چکا ھون اور اب اسباب اور دلائل بھی دے چکا ھون یہ مرض عضلاتی غدی ھے دوستو غدی اعصابی نہین ھے
دائین طرف کے عضلات مین تحلیل سے استرخاء ھے جو حرکی اعصاب کی صحیح تحریک قبول کرنےسے قاصر ھو سکتے ھین
حسی اعصاب مین تسکین سےحسی حرکات ناقص یا معطل ھو جاتی ھین ۔ چنانچہ حس حرکت یا دونون غائب یا کمزور ھو جاتی ھین ۔۔۔
اھم نقطہ۔۔۔دائین فالج مین غدد مین تحریک سے تغذیہ کا عمل جاری رھتا ھے ۔۔ اب اسی لئے دائین طرف کے اعضاء جلدی جلدی سوکھتے اور کمزور نہین ھوتے ۔ جبکہ بائین فالج مین ضعف غدد سے اس طرف کے عضلات جلد کمزور ھو جاتے ھین
اھم یاداشتین؞۔۔۔۔ بایان فالج ان اعصابی مریضون مین ھوتا ھے ۔ جو مرغن غذائین ۔ چربیلی ۔ یا تلی ھوئی غذائین استعمال کرتے ھین ۔۔۔ یعنی قانون شفا کے ھمیشہ مخالف چلتے ھین
یا پھر ان لوگون مین پیدا ھوتا ھے جن کا علاج تحلیل کے بجاۓ تسکین سے کیا جاتا ھے ۔۔ اب اس غلطی سے تمام اعصابی مواد اور زھر تعدیل سے ختم ھونے کے بجاۓ خطرناک صورت مین رک جاتے ھین ۔۔
یا پھر دایان فالج ان بدقسمت غدی مزاج کے لوگون مین ھوا کرتا ھے ۔ جو چٹ پٹی اور مصالحہ دار غذاؤن کے رسیا ھوتے ھین اور تعیشات کے عادی ھوتے ھین
یا پھر وہ غدی مزاج کے لوگ جن کا علاج قانون فطرت کے خلاف ھو وہ اس کا شکار ھوتے ھین ۔۔ کیا آپ میری بات سمجھ رھے ھین ۔۔غور سے سنین اور سمجھین گے تو ذھن کھل جاۓ گا اور بہت کچھ سمجھ آ جاۓ گا اب مین ایک اور اھم بات اور ثبوت پیش کرنے لگا ھون توجہ کرین
ایلوپیتھیک طریقہ علاج فالج کے مریضون کا VDRL ٹیسٹ یعنی آتشک کا ٹیسٹ کیا جاتا ھے جو اس بات کا ثبوت ھے فالج آتشک سے بھی ھوا کرتا ھے اور آپ جانتے ھین آتشک اعصابی تحریک کی پیداوار ھے اور یہ بھی آپ جانتے ھین اعصابی تحریک صرف بایان فالج پیدا کرتی ھے ۔۔ اس لئے اصولی طور پہ بائین فالج کا ھی یہ ٹیسٹ ھونا چاھیے
علم طب مین غلطی سے پاک کوئی بھی نہین ھے اگر کسی ایک سے غلطی ھو گئی تشخیص سے چوک ھو گئی اب بجاۓ اس کے کہ غلطی کرنے والے پہ چڑھ دوڑین بتا بھئی کیون غلطی کی ؟
یا پھر غلطی درست کرنے والے پہ ڈانگ پھیرنی شروع کردیجاۓ اور اسے بڑون کا بے ادب اور نافرمان کہہ دیا یہ مسائل کا حل نہین ھے بلکہ ادب و اخلاق سے عاری اور جاھل ھونے کی نشاندھی ھے یاد رکھین ھمارے زوال کا سب سے بڑا سبب کم علمی بداخلاقی ایک دوسرے سے نفرت حسد بغض اور صحیح طبی علم کو ھمیشہ سینہ بہ سینہ منتقل کرتے رھے اب زمانے اور تاریخ مین ھمارا کوئی کردار نہین ھے ھمارا اب صرف ایک ھی کردار ھے جو لوگ تحقیق تدوین کے کام مین انتھک محنت کرکے ترقی کی منازل طے کرتے وقت پہ حاوی ھو گئے اور پوری دنیا مین آج جن کا طوطی بولتا ھے ھم ان سے نفرت کا اظہار کرتے ھین انہین جھوٹے اور پتہ نہین کیا کیا بولتے ھین غیر اصولی اور غیر علمی کہتے ھین ۔۔ میرے بھائی آپ بھی تو کچھ کرکے دکھائین یا پھر صرف آپ ماھر امراض مخصوصہ وپوشیدہ مردانہ اور زنانہ ھی رہ گئے ھین شنگرف سنکھیا کچلہ پارہ جائفل جلوتری لونگ کستوری عنبر زعفران اور پھر طب ختم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ھاۓ افسوس صد افسوس ھم اپنا ورثہ کھورھے ھین تاریخ کے اوراقون مین ھمارانام سنہرے نہین بلکہ سیاہ حروف مین لکھا جاۓ گا ۔۔ اس وقت ملک مین آپ کے ساتھ جو کچھ ھو رھا ھے اور کتنی حقارت اورتذلیل سے آپ کے دواخانے سیل کیے جارھے ھین ذرا سوچیے یہ سب ھمارے اعمال کی سزا ھے کسی کا کوئی قصور نہین نہ ھی حکومت کا نہ ھی معاشرے کا ۔۔ آپ نے خود اپنے آپ کو حقیر بنا لیا ھے اپنی کم علمی اور نااتفاقی کی وجہ سے ھر کوئی اپنااپنا دیا جلاۓ بیٹھا ھے میری سب حکماء سے گزارش ھے ایک پلیٹ فارم پہ آجائین اور ایک لائن متفقہ الیہ اختیار کرین ایک فارماکوپیا تجویز کرین اور اصل طبیب پیدا کرین جس کے لئے مستند طبی لائبریریان اور مشاھدات اور تجربات تحقیقات کے لئے محنتی اور مخلص لوگون کے بورڈ تجویز کرین مفردات تازہ اور ملاوٹ سے پاک مہیا کرنے کا طریقہ کار بنائین اسناد طبی کو معتبر بنائین جس مین نصاب تعلیم بہت اعلی اور جدید رکھین ۔۔۔ دعا کرین تجاویز پہ عمل ھو مضمون جذبات کی نذر ھوا باقی مضمون اگلی قسط مین انشاءاللہ

Saturday, April 21, 2018

تاریخی طبی واقعہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔ تاریخی طبی واقعہ ۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت سے دوستون نے اتنی سی بات سن رکھی ھو گی کہ ایک حکیم صاحب تھے ان کو نبض کے اوپر ھاتھ پہ دھاگہ باندھ کر دیا گیا تھا اور انہون نے مرض بتا دی تھی یا بعض نے یہ سن رکھا ھو گا بلی کے پنجے کے ساتھ دھاگہ باندھ کر دیا گیا تھا اب حکیم کون تھا یہ بھی کسی کو علم نہین مریض کون تھا یہ بھی کسی کو علم نہین آج آپ کو اصل سچ سے آگاہ کرنے لگا ھون آج ذرا مصروفیت کے باعث فالج کی قسط نہین لکھ سکا سوچا چلو آج آپ کو ایک تاریخی سچی داستان بمعہ ثبوت پیش کردون یاد رکھین جو ثبوت پیش کرنے لگا ھون یہ بھی صدیون عمر رکھتا ھے کل اپنی لائبریری دیکھ رھا تھا تو کتاب سامنے آگئی قلمی کتاب ھے جسے لکھے بھی زمانہ گزر گیا خیر آپ خود دیکھ لین گے زبان پنجابی ھے لکھی شعرون مین ھے حکیم صاحب کا نام حکیم جمال الدین تخلص فقیر صاحب تھے شاھی طبیب تھے مریضہ کا نام ملکہ نور جہان ھے یہ نور جہان نہین جو سنگرز تھی یہ تاریخی ملکہ نور جہان گزری ھےپورے ھندوستان پہ حکومت کرتی رھی ھے اب حکیم صاحب بادشاہ اور ملکہ کے جو علاج کرتے رھے ھین وہ اس کتاب مین درج ھین دیگر بھی حکیم صاحب کی زندگی بھر کا نچوڑ اس کتاب مین انہون نے درج کیا ھے اب مین آپ کو صرف کتاب کے اس حصہ کا عکس بھیج رھا ھون جس مین یہ داستان لکھی ھے خود ھی ملاحظہ فرمائین باقی جو دوست پنجابی نہین سمجھتے انہین ترجمہ کرکے کوئی دوست بتا دے



Friday, April 20, 2018

فالج 10|paralysis|falag

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Paralysis|falag
۔۔۔۔۔۔۔ فالج۔۔۔۔ قسط نمبر10۔۔۔۔۔
کل کا مضمون ختم ھوا تھا غذائین خصوصاً چکناھٹ جزو بدن نہین ھو سکتی کیونکہ دوران خون سست اور اس کی قوت کمزور ھو چکی ھوتی ھے۔
چنانچہ اس سرد سوزشی ماحول مین سدہ بن کر رک کر یا ناقص خون اس حصہ دماغ کو غذا سے محروم کرکے دوسری طرف فالج کا باعث بنتا ھے
سدہ کے مقام پر خون جمع ھو کر اس شریان کو بلاسٹ کر سکتا ھے چنانچہ ایسی صورت مین یہ برین ھمیرج فالج کا باعث بن جاتا ھے۔۔۔۔ یاد رکھین خون کی اس طرح کی رکاوٹ سے اعصابی عضلاتی تحریک مین بھی بلڈ پریشر بڑھ جایا کرتا ھے
رطوبت مائی ھر جاندار کی پیدائش کے لئے ایک بنیاد اور اولین عنصر ھے ۔۔اس لئے اس تحریک مین جاۓ سکون پُر تعفن ھو کر مختلف بیماریون کے جراثیم مختلف انفیکشنز کا باعث بن سکتے ھین ۔ مثلا ھیضہ ۔۔ملیریا ۔ اور محدود مدت کے لئے وائرل امراض ۔ بخار ۔ باؤلا پن ۔ اور آتشکی زھر جسم کو مختلف انداز مین متاثر کرتے ھین ۔
چنانچہ یہ اثرات اور یہان پیدا ھونے والے فضلات تحریک کے مقام پہ رک جاتے ھین اور اس طرح بندہ فالج کا شکار ھو جاتا ھے ۔ بائین فالج کے تمام اسباب جو ایلوپیتھی مین علیحیدہ علیحیدہ مرض کے طور پر بیان ھوۓ ھین ۔۔ اب ان سب کی ماھیت اور طریقہ وجود ایک ھی تحریک مین ثابت ھونا ھمین نظریہ کی جامعیت کا قائل کرتا ھے
ھان چوٹ اور رسولی مین جو جریان خون ھوتا ھے وہ اس مین نہین آتا کیونکہ چوٹ تو حادثتاً کسی بھی وقت کسی بھی جگہ لگ سکتی ھے اور اسی طرح رسولی مین جریان خون بھی کسی بھی وجہ سے ھو سکتا ھے لیکن مقام یہی ھو گا تب بھی بایان حصہ جسم مفلوج ھو جاۓ گا ۔۔ قوت گویائی ۔۔شنید اور قوت فہم بھی حالات کے مطابق کمزور یا مفقود ھو جاۓ گی
بایان فالج مرض اعصابی عضلاتی ھے حرکی اعصاب مین تحریک اور ارادای عضلات مین تسکین سے بائین طرف حس و حرکت معطل یا ناقص ھو جاتی ھے
دایان فالج ۔۔۔۔۔۔ فالج پہ مضمون لکھتے لکھتے اس وقت مجھے شدید شاک لگا جب مجھے حکیم فیض اللہ صاحب جو ھمارے گروپ کے ممبر بھی ھین اور ایک بہترین طبیب بھی ھین ان کی زوجہ محترمہ نے فون کیا اور مجھے بتایا کہ فیض اللہ صاحب اس وقت دائین سائیڈ لقوہ کا شکار ھو گئے ھین علاج کے بارے مین ھدایات لین آپ سب دوستون سے گزارش ھے فیض اللہ صاحب کی صحت یابی کے لئے دعا فرمائین ۔۔ جزاک اللہ
دایان فالج تحریک نمبر 4 یعنی غدی عضلاتی مین واقع ھوتا ھے
بائین نصف سرتابائین شانہ تک اس فالج کے اسباب غالب ھوتے ھین اب پھر سے یہ بات یاد رکھین شانہ اس مین شامل نہین ھے اس تحریک کی شروعات غدی ٹشو سے ھوتی ھین اور تعلق عضلات سے رھتا ھے
مزاج گرم خشک ھے ۔۔صفرا پیدا ھو کر جسم و خون مین رک جایا کرتا ھے ۔۔ جس کا اظہار تمام رطوبات اور جلد مین ھورھا ھوتا ھے
نبض مقام لمبائی اور حجم کے لحاظ سے متوسط ھے عضلات و خون مین گرمی زیادہ لیکن کچھ خشکی تا حال موجود ھے
( نوٹ۔۔ بہت سے مقام پہ بایان فالج کا غدی اعصابی مزاج لکھا اس کی اصلاح کر لین یہ درست نہین ھے مزاج غدی عضلاتی ھوا کرتا ھے تجربات سے ثابت ھے)
1۔۔غدد جاذبہ نے عضلات کی مشینی تحریک سے اخراج پانے والے ٹھوس سوداوی ریاحی مادون کو اول روک کر صفرا سے جزو بدن بنایا مگر اب شدت تحریک و سوزش سے غیر ضروری فضلے بھی رک رھے ھین ۔۔ غدد ناقلہ کے کمزور فعل سے یہ باھر نہین نکل پاۓ
خون اور جوف ۔ خلاؤن اور جوڑون کے مقامات پر عضلاتی محلولات کا ارتکاز بڑھ رھا ھے
2۔۔۔غیر ارادی عضلات بشمول شریانین تحلیل سے پھیل کر کمزور ھو چکی ھین ۔ اور ان کا فعل ناقص ھے ۔ بھاری مادون پر مشتمل خون شریانوں مین پوری مقدار اور رفتار سے گردش نہین کررھا۔۔۔ غدی بلڈ ویسلز یعنی وریدون مین سوزش ھے ۔ خون اب درست مقدار مین واپس بھی نہین جارھا ۔۔ کیونکہ غدی مقام پہ سکیڑ سے خون کی واپسی مین رکاوٹ سے دباؤ بڑھ گیا ھے مسترخی ۔۔ تحلیل زدہ عضلات اسے کھینچنے سے بالکل قاصر ھین۔۔چنانچہ نیچے کے بلڈ پریشر مین زیادتی ھے
3۔۔ حکم رسان اعصاب ۔۔۔ یعنی حرکی اعصاب اور خاص طور پہ خبر رسان اعصاب یعنی حسی اعصاب مین تسکین کی وجہ سے رطوبات جمع ھونے سے غدد و اعصاب کا رابطہ کمزور ھو چکا ھے یا پھر منقطع ھو چکا ھے اور یاد رکھین یہ سب تحریک غدی عضلاتی کے مقام پر عروج پہ ھوا کرتا ھے ۔ چنانچہ خون صحیح مقدار اور قوام مین اس حصہ دماغ کو سیراب نہین کرپا رھا ۔۔اس لئے دائین سائیڈ مفلوج ھو گئی ۔۔ قوت گویائی فہم اور شنید کا مرکز زیادہ لوگون مین اسی طرف ھوا کرتا ھے اسی لئے زیادہ لوگ ان قویٰ سے محروم ھو جایا کرتے ھین
۔۔گرم خشک اور سوزشی ماحول بائین حصہ دماغ مین خون کی روانی مین رکاوٹ بنتا ھے ۔اس لئے اس نصف دماغ مین خون نہین پہنچتا
ورم شدید ھو سکتا ھے مقامی استسقاء ھو کر یا سسٹ بن کر رکاوٹ بن سکتے ھین
۔۔۔۔ رکا ھوا خون دباؤ سے لیک ھو سکتا ھے۔۔ویسلز پھٹ سکتے ھین باقی آئیندہ

Thursday, April 19, 2018

فالج 9|paralysis|falag

۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Falag|paralysis
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فالج۔۔۔۔۔ قسط نمبر 9۔۔۔۔۔۔
چند روز ھوۓ ایک صاحب نے نئی نئی انٹری کی تھی گروپ مین اور انہون نے سکہ جمانے کے لئے سب سے پہلا وار کسی اور کے کہنے پہ مجھ پہ ھی کیا فرمایا کچھ بھی نہین ھو تم صرف کاپی کرتے ھو تم اور جو کچھ لکھتے ھو سب جھوٹ ھوتا ھے ۔ اب ھمارے کچھ معزز ممبران نے بھی ھان مین ھان ملائی کہ درست کہتے ھو تم۔۔۔ مین کچھ خاموش رھا مصروف بھی تھا بحث بھی نہین سجتی تھی کیونکہ خالی برتن کو بجانے سے آواز بہت نکلتی ھے لیکن حاصل کچھ نہین ھوتا ۔۔ لیکن ایک فائدہ ضرور ھوا ایک تحریک مل گئی تجربات تحقیقات اورحقائق لکھنے کی ۔۔ مزید شاہ صاحب نے حوصلہ دیا ۔۔۔میری دعا ھے اللہ تعالی سید ادریس گیلانی صاحب کو لمبی زندگی عطاء فرماۓ اور صحت سے بھی نوازے ۔۔آجکل شاہ صاحب نزول الماء کا شکار ھین اب بزرگی بھی ھے دعا کرین اللہ تعالی ان کی اس تکلیف کو دور فرماۓ آمین ثم آمین اب مضمون کی طرف آتے ھین کل کی پوسٹ مین طب قدیم کے بہت ھی مختصر نظریات لکھے آج سے نظریہ مفرد اعضاء کا نقطہ نظرشروع کرتے ھین جو ھمارا اصل مقصد بھی ھے یاد رکھین نظریہ مفرد اعضاء حقیقت مین ھماری طب قدیم ھی ھے بس تقسم امراض تشخیص امراض اور قانون طب کو سمجھنے مین آسانی پیدا کردی اصطلاحات کو ذرا جدید کردیا اب اس طب جدید مین بے شمار تحقیقی اور لفظی اغلاط موجود ھین ممکن ھے کتابت کی غلطیان ھون یا سہواً غلطیان ھو گئی ھون اب افسوس اس وقت ھوتا ھے جب کچھ حضرات نے مکھی پہ مکھی ماری اور اپنے نام سے وھی کچھ الٹ پلٹ کرکے کتابین مارکیٹ مین لے آۓ انشاءاللہ ان مسائل کو حل کرین گے اب اس مضمون مین بھی کافی اغلاط کی درستگی کردی ھے کسی کی عزت نفس کو ٹھیس پہنچانا یا کسی کی ذات پہ انگلی اٹھانا قطعا مقصد نہین ھے بس با اخلاق طریقے سے درستگی مقصد ھے تاکہ مبتدی ان غلطیون کو نہ دہرائین اللہ تعالی سب کو سیدھے راستہ پہ چلنے کی توفیق عطاء فرماۓ
بایان فالج ۔۔۔۔ ایلوپیتھی مین بیان کیے گئے بائین فالج کے سارے اسباب تحریک نمبر1۔۔اعصابی عضلاتی کے مقام پر اثر انداز ھوتے ھین اور اسی ھی تحریک سے وجود پاتے ھین
یعنی سرکے دائین نصف حصہ سے لے کر دائین شانہ تک ۔۔۔ یاد رکھین شانہ اس مین شامل نہین ھے ۔۔۔ یہ تحریک اعصابی انسجہ سے عضلات کے ٹشو تک پہنچتی ھے سردی تری یا بلغمی اثرات پاۓ جاتے ھین رطوبات جم کر سدہ غیر تام بننے کا رجحان ھے
سر کے دائین حصے کان ۔۔چہرے ۔۔آنکھ ۔ ناک ۔ داڑھ ۔ دانت ۔ زبان ۔ اور گردن مین خارش درد جلن سوزش ۔ ورم ۔گرمائش ۔ بخار ۔۔۔
یہ سب سوزش و تحریک کے درجے ھین یہ کم اور زیادہ ھو سکتے ھین ۔۔۔۔ ظاھر ھوتے ھین ۔۔ اب سوزش یا تحریک کے یہ اثرات مقامی سکیڑ و دیگر حصون مین تحریک تحلیل اور کہین تسکین سے مختلف علامات پیدا کرنے کا موجب بنتے ھین ۔ بائین طرف کا مفلوج ھو جانا اسی تحریک کااثر ھے ارادی عضلات مین تسکین ھو جاتی ھے۔۔۔ آج آپ کو آسانی کے لئے ایک اور بات کی وضاحت کردون اب تحریک تحلیل اور تسکین کی علیحیدہ علیحیدہ علامات ھوا کرتی ھین جب بھی کسی مرض کی تشخیص کرین تو ان کی اپنی اپنی علامات پہ ضرور نظر رکھا کرین تاکہ آپ کو مرض کی پہچان اور تشخیص مین آسانی رھے
آئے اب دیکھتے ھین اس تحریک سے کیاکیا علامات پیدا ھوا کرتی ھین۔۔۔۔ اعصاب کی یہ مشینی تحریک کیمیاوی تحریک کے ردعمل مین پیدا ھوا کرتی ھے
تری نے گرمی کو کلی طور پہ ختم کردیا ھے
رقیق اور سرد مادہ بڑی مقدار مین پیدا اور خارج ھو کر کیمیائی اثر مین سردی خشکی چھوڑ رھا ھے
بول وبراز مین اس کا اثر غالب ھوتا ھے
رطوبات سفیدی مائل یا نیلگون ھین
نبض اعصابی غدی کی نسبت کلائی کی ھڈی سے قدرے اوپر عضلات کی طرف مائل ھے
سوزش وسکیڑ سے اس تحریک کے مقام پر قدرے زیادہ دباؤ ۔ ورم ۔ اور گزرگاھون مین رکاوٹ اور ردعمل مین انفیکشن و تعفن کے امکانات ھین
غدد ناقلہ مین تحلیل ھے ۔ وہ اعصاب کے زیر اثر رطوبات کو جسم کے مجاری سے باھر دھکیل رھے ھین
پیشاب ۔ پسینہ ۔ دست ۔ قے ۔ ناک ۔آنکھ سے مائی رطوبات کثرت سے خارج ھونے کی شکایت ھے
غدد جاذبہ اتنی بڑی مقدار مین پیدا ھونے والی اس رطوبت کو جذب کرنے یا روکنے اور اس مین تبدیلی لانے سے قاصر ھوتے ھین۔۔ کیون؟؟اس لئے کہ ان کا فعل کمزور ھو چکا ھوتا ھے
عضلاتی غدی مقام پہ تسکین ھے یا یون کہہ لین ارادی عضلات کے مقام مین تسکین ھے ان کی قوت حرکت وحس مین تعطل یا خلل ھے کیونکہ وہ رطوبات سے بوجھل یا شیل کہہ لین ۔۔ ھو چکے ھوتے ھین ۔
سوزش زدہ بیمار حرکی اعصاب ان پہ حکم رسانی کرنے سے قاصر ھین ۔۔حرکی تحریکات قبول نہین ھو رھی
عضلاتی اعصابی مقامات و غیرارادی عضلات پھیپھڑے ۔ دل ۔ شریانون مین سردی سے حرارت اصلیہ بہت ھی کم ھو چکی ھوتی ھے
غدی غذائین خصوصاً چکناھٹ جزو بدن نہین ھو سکتی
دوران خون سست اور اس کی قوت کمزور ھو چکی ھوتی ھے
باقی آئیندہ

Wednesday, April 18, 2018

فالج 8|falag|paralysis

۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Falag|paralysis
۔۔۔۔۔۔۔۔ فالج ۔۔۔۔۔۔۔ قسط نمبر8۔۔۔۔۔۔
آج کی قسط مین مختصر اندازمین طب قدیم کے نظریات براۓ فالج سے آگاہ کرون گا
ایک بات پہ طب قدیم بھی من وعن اتفاق کرتی ھے کہ فالج نصف بدن کی حرکت کا موقوف ھو جانا یا حس کا موقوف ھو جانا ھی ھےاسی قول پہ قدیم علماء طب کا اتفاق ھے لیکن بعض لوگون کاقول ھے کہ فالج سرکے علاوہ بدن کے ایک طرف ڈھیلے ھو جانے کا نام ھے یہی مذھب یا اسی بات پہ اتفاق صاحب کامل کاھے مگراگلے حکماءفالج اوراسترخاء مین کوئی فرق نہین کرتے اوران کےایک ھی معنی سمجھتے ھین
اب آپکو تین قول جالینوس کے فالج پہ بتاتا ھون
پہلا قول۔۔۔ کتاب۔۔۔جوامع اعضاءآلمہ کے چوتھے مقالہ مین لکھا ھے کہ اگر دماغ کے پچھلے نصف حصہ پہ کوئی آفت پیدا ھو جاۓ تو فالج پیداھوتا ھے اگر دماغ کے پچھلے پورے حصہ پہ آفت نازل ھو تو سکات یعنی پورا بدن مفلوج ھو جاتا ھے
دوسراقول۔کتاب جوامع اعضاء آلمہ کے تیسرے مقالہ مین جالینوس کہتا ھے کہ جب مبداء النخاح کی ابتداء مین کوئی آفت پیدا ھو جاۓ تو چہرہ کے علاوہ تمام بدن ڈھیلا ھو جاتا ھے جبکہ مبداء النخاح مذکورہ کے نصف حصہ مین کوئی آفت آۓ تو اسی حصہ مین فالج پیدا ھوجاتا ھے ۔۔۔۔۔ اب موجودہ تحقیقات مین اس بات پہ اختلاف ھے ۔۔۔۔۔۔ خیر ھم جالینوس کی بات کرتے ھین وہ آگے کہتا ھے کہ گاھے فالج کے ساتھ چہرے کی اسی جانب استرخاء پیدا ھو جاتا ھے اس حالت مین جان لینا چاھیے کہ آفت دماغ مین ھے ۔ اور اگر چہرہ کے اعضاء تندرست ھون تو سمجھنا چاھیے کہ آفت مبدالنخاح مین ھے
تیسرا قول ۔۔۔ اسی مذکورہ کتاب کے چوتھے مقالہ مین لکھتا ھے کہ جب دماغ کے دونون حصے مبدالنخاح کے نزدیک علیل ھو جاتے ھین تو سکتہ یعنی فالج عام پیدا ھوجاتا ھے اور اگر دماغ کا ایک حصہ علیل ھو تو فالج کہلاتا ھے
اب جالینوس کے مقالہ جات سے یہ ثابت ھے کہ دماغ کا پچھلا حصہ دوھرا ھے اور یہ بات بھی لکھی ھے کہ آفت دماغ کے نصف حصہ مین ھوتی ھے
اب بات آتی ھے اسباب مین تو قدیم بلطب دموی یا بلغمی رطوبات کو فالج کا سبب بتاتی ھین اور یاد رھے یہ رطوبتین اعصاب پہ گرنے کا لکھا ھے اب وہ یہ بھی لکھتے ھین برودت اور رطوبت پٹھون پہ گرنے سے پٹھون کا مزاج فاسد ھو جاتا ھے جس سے اعضاء کے طبعی افعال بھی فساد مزاج کے باعث باطل ھو جاتے ھین طب قدیم مین بہت زیادہ قوی مذھب ابو بلقسیا کے بارے مین ھے
اب اس بات کو بھی سمجھاۓ دیتا ھون ۔۔۔ اگر مواد یا رطوبات حرام مغز کے مبداء النخاح مین گرین اور اس طرح گرین کہ اس مقام کے دونون طرف عام ھون تو چہرہ کے اعضاء کے علاوہ تمام بدن مفلوج ھو جاۓ گا اب فالج کی اس قسم کو ابوبلقسیا کہتے ھین اب فالج رطوبتی کی علامات مین سے
1۔۔بدن کا ایک طرف ڈھیلا ھو جانا۔۔نیز بدن کا وھی پہلو لٹکتے رھنا ۔۔اس جانب کی حس و حرکت باطل ھوتی ھے
2۔۔فالج کی پیدائش یکبارگی ھو گی جس کے مزید اسباب مین چوٹ کا لگنا۔۔ ضرب ۔ یا کٹ لگ جانا۔۔۔ اب اس دور مین جنگین تلوار سے لڑی جاتی تھی اور اکثر کٹ سے لوگ مفلوج ھوا کرتے تھے
قارورہ سفید اور کچا ھونا اور قارورہ مین چمک نہین ھوتی گاڑھا اور غلیظ ھوا کرتا ھے
اب دل کے امراض سے مفلوج ھونا قدیم طب سے ثابت ھے دماغی رسولیون سے مفلوج ھونا ثابت ھے اب اس بحث مین لکھتے ھین کہ پہلے تشنج ھوا کرتا ھے پھر لقوہ اور آخر مین فالج ھوا کرتا ھے اب اس کے اسباب مین سردرد قے بینائی کا کمزور ھونا بھی درج ھے اور آپ کو مزے کی بات بتاؤن قدیم طبی کتب مین صرع یعنی مرگی اور اختناق الرحم سے بھی فالج ھونا لکھا ھے اب اختناق الرحم کے اسباب مین واضح لکھا ھے اس مین لقوہ کی شکایت کبھی بھی نہین ھوتی اور نہ ھی قوت گویائی مین خلل پڑتا ھے اور ایک اھم بات یہ بھی یاد رکھین فالج کو سرد مزاج مین اور گرم مزاج دونون مین ھونا شیخ بوعلی سینا ۔۔ ابن عوض زکریارازی اور دوسرے بھی اکثریت علماء کا اتفاق ھے بلکہ آپ کو یہ بھی بتادون بوعلی سینا نے مفلوج کو سب سے پہلے تین روز ماء الشعیر یا ماء العسل دینے کاحکم دیاھے ناک مین کندش کا نفوع بہت فائدہ مند لکھا ھے ساتھ چلغوزہ کا ناشتہ لکھا ھے شیخ نے یہ بھی لکھا ھے کہ اگر فالج مین بخار ھے تو پہلے بخار کاعلاج کرنے کاکہا ھے اب آپ کو تشریحات مین یہ بھی بتا دون قدیم حکماءنے بعض معنی مین بخار بمعنی فشارالدم بھی لیا ھے کسی کو سمجھ لگے یا نہ لگے
یہ ھلکی اور ادھوری تشریحات لکھنے کامیرامقصد یہ ھے کہ طب قدیم کی تشریحات عام آدمی یابغیر عالم کے سمجھنا آسان نہین تھی جیسے آپ مندرجہ ذیل قدیم کتب کامطالعہ کرین گے توچند سطور مین بے شمار تشریحات چھپی ھوتی ھین جیسے ھمارے سیدادریس گیلانی صاحب چند سطور مین بہت بڑا مضمون قید کر دیتے ھین
حوالہ جات کتب قدیمہ زمرداخضر ۔۔۔۔ شفا الامراض ۔۔۔ معین العلاج ۔۔تدبیر العلاج ۔۔۔اکسیر العربی و مخزن سلیمانی ۔۔۔طب اکبر۔طب احسانی۔ مجمع البحرین

Tuesday, April 17, 2018

فالج 6|falag|paralysis

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Paralysis|falag
۔۔۔۔۔ فالج۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قسط نمبر6۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگر فالج کے اثرات ھلکے ھو تو لازمی طور پر علامات بھی ھلکی ھی ھونگی
اگر فالج کا شدید حملہ ھو اور بہت سے حصہ دماغ کو متاثر یر جاتا ھے تو لازمی طور پر نتائج بھی خوفناک ھی نکلین گے
تو اب مین آپ کو فالج کی ھر قسم کی علامات سے آگاہ کرتا ھون
1۔۔ جسم کی ایک سائیڈ کمزور یا سُن یا مفلوج ھو جاتی ھے ۔ کبھی کسی عضو کا مخصوص فعل خراب یا بند ھو جاتا ھے
2۔۔۔ بعض اوقات حس یا حرکت یعنی مریض کسی دوسرے بندے کے ھاتھ کا لمس محسوس نہین کرتا یا پھر آپ اعضاء کو کسی بھی سائیڈ حرکت دینا چاھتے ھین وہ حرکت نہین کرتا ۔۔۔۔ حس اور حرکت سے یہ دونون عمل مراد ھین یعنی بعض اوقات ان مین سے کوئی ایک فعل یا پھر دونون فعل کام کرنا بند کر دیتے ھین اسی وجہ سے آپ نے دیکھا ھو گا بعض مریض ٹانگ بازو حرکت دے رھے ھین لیکن آپ کے چھونے کا ان کو کوئی ہتہ نہین چلتا
3۔۔۔ مریض کو بولنے مین دشواری ھوتی ھے یا پھر زبان مکمل گنگ یعنی گونگی ھو چکی ھوتی ھے
4۔۔ بڑے سٹروک مین دماغ کی سوجن ۔۔۔۔ غنودگی ۔۔۔ بے ھوشی ۔۔ اور اچانک موت یہ نتیجہ نکلتا ھے
5۔۔ عموما فالج رات یا دن کو سوتے وقت ھوا کرتا ھے
6۔۔۔ 24 گھنٹے کے اندر صحت درست ھو جاۓ تو اسے وقتی فالج سمجھین یا ھلکا فالج کہہ سکتے ھین اگر 24 گھنٹے سے ٹائم اوپر گزر جاۓ یا عرصہ طویل ھو جاۓ تو اسے سٹروک فالج کہہ سکتے ھین
7۔۔ جو اسباب مین نے تحریر کیے ھین اب انہی اسباب وجوھات کی بنا پر کسی فالج مین علامات آھستہ آھستہ اور کچھ مین یکدم تیز اور فورا علامات ظاھر ھوا کرتی ھین
8۔۔۔کئی بار فالج کی علامات آتی جاتی رھتی ھین اب اس کی وجہ یہ ھے کہ دماغ مین خون کی سپلائی مین رکاوٹ پیدا ھوئی اور خود ھی دور بھی ھوجایا کرتی ھے اب لئے بعض مریضون کے ساتھ یہ مسئلہ ھوا کرتا ھے
اب ایک مسئلہ سمجھ لین دماغ مقدم کا بایان نصف حصہ زیادہ مضبوط ھوا کرتا ھےاور زیادہ تر لوگون مین بولنے اور سمجھنے کا مرکز اسی حصہ مین ھوا کرتا ھے اگر فالج کا حملہ اس حصہ پہ ھو تو مریض کو بولنے بلکہ سمجھنے مین بھی دشواری ھوا کرتی ھے یا یہ صلاحیت کافی عرصہ کے لئے مکمل ختم ھو جایا کرتی ھے اور اس کے ساتھ دائین حصہ کا چہرہ یا بازو یا ٹانگ یا کلی طور پہ مفلوج ھو جایا کرتا ھے
بلڈ پریشر ۔۔۔۔ 1۔۔فالج کے مریض کا اگر بلڈ پریشر بڑھا ھوا ھو تو اسے جلد سے جلد قابو مین لانا انتہائی ضروری ھے تھوڑے وقت کے لئے فالج کو بھول کر پہلے بلڈ پریشر کنٹرول کرین ورنہ یاد رکھین مزید نقصان ھو جاۓ گا جدید طبی سائینس مین تو بے شمار سہولیات ھین جن سے بلڈ پریشر کنٹرول ھو سکتا ھے پیشاب آور انجیکشن سے لے کر انتہائی اعلی دیگر ادویات ھین جو بلڈ پریشر کو فورا کنٹرول کرنے مین معاون ھین لیکن سوال یہ اٹھتا ھے مریض بھی بے ھوش پڑا ھے بلڈ پریشر بھی خطرناک حد تک بڑھا ھوا ھے تو ھماری قدیم طب مین ایسا کونسا فارمولا ھے جس سے فورا بلڈ پریشر کو کنٹرول کیا جا سکے ۔۔۔۔۔ توجہ کرین ۔۔ سب ڈاکٹر حضرات بھی اور حکماء حضرات بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ بعض اوقات موقعہ ایسا بنتا ھے آپ کے پاس بھی دوا موجود نہین ھے
اب اس وقت آپ ھفت اندام کا فصد کردین مین یقین سے کہتا ھون چند منٹ مین بلڈ پریشر ڈاؤن ھو جاۓ گا
2۔۔۔ اگر مریض کھانے پینے کے قابل نہین ھے تو اسے باھر سے خوراک ربڑ کی نالی کے ذریعے پہنچائی جاتی ھے اور یہ بات ذھن مین رکھین بعض اوقات یہ عمل ھفتون جاری رہ سکتا ھے اور اس نالی کو معدے مین پاس کرنا ایک ماھر معالج کا ھی کام ھے
اگر فالج کا حملہ شدید ھو تو لازمی بات ھے صحت یابی مین طویل عرصہ لگ سکتا ھے اب خطرات سے نکلنے کے لئے مسلسل مریض کو ورزش حرکت مالش جاری رکھنی پڑتی ھے ورنہ بستری زخم ھو جانے کا بھی خطرہ ھو سکتا ھے اس لئے مریض کی کروٹ بدلتے رھنی چاھیے اور یہ سب عمل کافی عرصہ جاری رہ سکتا ھے اس لئے تیمار کا بھی ثابت قدم ھونا بہت ضروری ھے ورنہ مریض کی جان کو خطرہ لاحق رھتا ھے باقی مضمون انشاءاللہ کل لکھین گے آج کچھ مہمان آجانے کی وجہ سے مضمون کی قسط لیٹ لکھ سکا دعاؤن مین یاد رکھیے آپ کا اپنا ۔۔۔۔۔محمود بھٹہ

فالج 7|paralysis|falag


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Paralysis|falag
۔۔۔۔۔۔ فالج ۔۔۔۔۔۔ قسط نمبر7 ۔۔۔۔۔۔۔۔
اس سے پہلے مین آپ کو جو کچھ بتا چکا ھون یہ تھی جدید سائینس کی تحقیقات جسے آپ ایلوپیتھی بھی کہتے ھین یقین کرین اگر تفصیل کے ساتھ مضمون کا احاطہ کرون تو انتہائی طویل ثابت ھو گا اور آپ کی سمجھ مین بھی نہ آسکے گا پچھلے دنون یہان ایک گروپ ممبر جہنین انتہائی مدبر قسم کا حکیم سمجھا جاتا ھے ان کو مضمون فالج پہ لکھنے کا کہا تو انہون نے وھی پرانی ڑٹ دایان فالج بایان فالج اور فالج اسفل پھر تمت بالخیر اور باقی دوسرے طریقہ علاج کی مخالفت اور کھانسی ۔۔۔فشون ۔۔۔ اور کئی دفعہ کچھ عالم قسم کے حکماء کے کہنے پہ میری پوسٹ پہ آکر اپنا علمی قسم کا تبصرہ کرنے سے بھی نہین چوکتے جب کہ مین خود ان کی عزت بھی کرتا ھون تبصرہ سے جب ان کی قابلیت کا علم ھوتا ھے تو سواۓ افسوس کے مین کچھ بھی نہین کرسکتا پھر مجھے بھی سمجھ نہین آتا اب کیا کرون سواۓ سر پیٹنے کے
اس مضمون کا سہرا حقیقت مین دو شخصیات کے سر سجتا ھے دونون شخصیات سید بھی ھین ان کی اجازت سے یا آشیرباد سے یہ مضمون لکھنا شروع کیا ایک شخصیت اپنے محترم سید ادریس گیلانی صاحب ھین جہنون نے واضح طور پرُ جلال انداز مین حکم دیا کہ اغلاط کی درستگی بھی کرنا ھے جو طبی کتب مین موجود ھین آگے چل کر آپ پہ واضح ھو جائین گی اور مضمون مین درست تحقیقات بھی درج کرنی ھین جن سے اطباء لاعلم ھین اور تھوڑا سا کھل کھلا کے لکھنے کی بھی اجازت شاہ صاحب نے دی اور دوسری شخصیت سید سلمان شاہ صاحب کی ھے شاہ صاحب ایم بی بی ایس ڈاکٹر ھین آجکل ایک یورپین پٹرولیم فیلڈ مین بطور ڈاکٹر خدمات سرانجام دے رھے ھین ان کے ساتھ فون پہ طویل گفتگو ھوئی آخری حکم ملا ۔۔۔۔ بھانڈہ پھوڑ دے لیکن سیلز ٹیکس کاٹ کے ۔۔ اور پھر صبح پہلی قسط لکھ دی جس کا تسلسل جاری ھے ۔۔۔ اب آگے چلتے ھین
اب ایلوپیتھی مین فالج کی تشخیص کے لئے انتہائی جدید ٹیسٹ آچکے ھین جن کا رزلٹ تقریبا حتمی ھوتا ھے ان مین ایک ٹیسٹ سر کا کیٹ سکین Cat Scan of Head یا پھر MRI
اب اس ٹیسٹ مین سارے دماغ اور سر کا سکین کرکے رکاوٹ کی نوعیت جریان خون اور ٹیومر اور پھوڑے وغیرہ کا پتہ چلایا جا سکتا ھے لیکن کبھی کبھی اس ٹیسٹ مین چھوٹی رکاوٹون کا پتہ نہین بھی چلتا لیکن ماھر ریڈیالوجسٹ مین نے ایسے بھی دیکھے ھین جو سی ٹی سکین دیکھتے ھی لمحون مین فتوا دےدیا کرتے ھین اور ان کے فتوے سوفیصد ھوا کرتے ھین
دوسرا ٹیسٹ Dopler study of Carotid یعنی گردن کی شریانون کا امتحان ۔۔اب اس کے ذریعے گردن مین کیراٹڈ شریانون کی اندرونی تنگی اور زخم کا پتہ چلایا جاتا ھے کہ کہین ان مین زخم کے مقام سے بلڈ کلاٹ علیحدہ ھو کر تو دماغ کو متاثر تو نہین کررھے ۔۔اگر آرٹری 70 تا 80 فیصد بند ھو تو پھر سرجری سے اس کی صفائی ترجیح دی جاتی ھے
2..D Echocardiogram ٹو ڈی ایکو کارڈیو گرام
یہ میرے دوستو دل کا الٹراساؤنڈ ھے اس سے دل کے چارون خانون کی اندرونی صورت حال کا اندازہ لگایا جاتا ھے ۔۔ کہ یہان کسی بیماری سے تو خون کے لوتھڑے بن بن کے دماغ کو متاثر تو نہین کررھے یہ بہت ھی کارآمد ٹیسٹ ھے
24 ..Hrs Holter Monitoring یعنی 24 گھنٹے ھولٹر جانچ
یہ دل کی حرکات کی اونچ نیچ کو 24 گھنٹے جانچا جاتا ھے اب اس بات کو بھی یاد رکھین دل کی حرکات کی بے قاعدگی سے بھی کلاٹ بنتے خون مین
Cerebral Angiography سیری برل اینجو گرافی
دماغ مین خون کی سپلائی کرنے والی آرٹریز کے اندر ڈائی ڈال کر گردن اور دماغ مین موجود رکاوٹون کی تصویرین لی جاتی ھین اس طریقے مین A.V.Mاور چھوٹی رکاوٹون کا پتہ چل جاتا ھے
Blood Test بلڈ ٹیسٹ۔۔۔۔۔
سی بی سی ٹیسٹ سے فالج زدہ کے خون کے گاڑھا ھونے کو چیک کیا جاتا ھے۔۔سرخ سیلز زیادہ ھون یا پلیٹ لیٹس کی تعداد کافی بڑھ جاۓ یا پولی سائی تھیمیا ھو جاۓ تو ایسا خون مختلف رکاوٹین پیدا کرتا ھے
آر ایچ فیکٹر یعنی ریوماٹیڈ فیکٹرEsr. ANA Titers سے خون کی نالیون کی سوزش اور انفیکشن کا پتہ چلتا ھے۔۔۔۔VDRL سے آتشک کے بارے مین معلوم کیا جاتا ھے ۔۔ کیونکہ اس صورت مین آتشکی زھر خون اورخون کی نالیون کو متاثر کرتا ھے(یاد رھے یہ بایان فالج ھوتا ھے )
پی ٹی اور پی ٹی ٹی ٹیسٹون سے خون کے جمنے کی صلاحیت چیک کی جاتی ھے
اس کے علاوہ مذید ٹیسٹ بھی ھین جو علامات اور بیماری کے مطابق کیے جاتے ھین
مندرجہ بالا مضمون مین آپ نے فالج کی مختلف حالتون کے بارے مین سمجھ چکے ھین اور کچھ عملا بھی آپ کو ایسے مریضون سے واسطہ پڑا ھو گا۔۔میرا فرض اتنا ھی تھا کہ آپ کو بتا دون یاد رکھین ایسے مریضون سے آپ دور رھین جب آپ مین یہ صلاحیت نہ ھو ان کے علاج معالجے کی۔جان بچانا فرض ھے اگر آپ کے پاس یہ سب سہولیات نہین تو فورا مریض کو آگے ریفر کر دین تاکہ جان بچ سکے اب آپ کو یہ بھی اندازہ ھوا ھو گا اس مرض پہ بلند دعوے کرنا درست نہین