Wednesday, May 16, 2018

کھانسی ھرقسم کا علاج

۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔ کھانسی ھرقسم کا علاج ۔۔۔۔۔۔
آج بھی مین نے بالمزاج کھانسی کی علامات اور علاج لکھنے والا طریقہ اپنایا ھے
بلغمی مزاج کی کھانسی ۔۔۔بلغم کی زیادتی ۔۔عام طور پہ سفید اور رقیق بلغم پیدا ھوتا ھے اخراج بڑی مشکل سے ھوتا ھے ۔جسم اکثر ٹھنڈا رھتا ھے اور اکثر زکام کی صورت ھوتی ھے
قارورہ کا رنگ سفید اور زیادہ ھوتا ھے اور پاخانہ غیر ھضم شدہ ھوتا ھے کھانسی کی زیادتی سے اکثر دل گھبراتا ھے بار بار کھانسی سے سینہ مین درد ھوتا ھے اور چوٹ سی محسوس ھوتی ھے بعض اوقات قے آجاتی ھے اگر مزمن صورت ھو جاۓ تو کالی کھانسی بن جاتی ھے
دوا۔۔۔ کاکڑا سنگھی ۔۔دارچینی ۔۔تخم پیاز ۔ ھموزن پیس لین 1تا2ماشہ تک ھمراہ پانی نیم گرم دین
صفراوی کھانسی۔۔۔چہرے اور قارورہ کا رنگ زردی مائل بلغم رقیق اور گاڑھا ملا جلا ھوتا ھے اس کھانسی کا تعلق پھیپھڑون کی غشا مخاطی سے ھوتا ھے اور غدد کے افعال مین خرابی پیدا ھو جایا کرتی ھے گلے مین سوزش اور کبھی جی متلاتا ھے پیٹ مین مروڑ کی صورت ھو جایا کرتی ھے پیشاب مین بعض اوقات جلن سی محسوس ھوتی ھے زیادتی کی صورت مین ضعف قلب ھو جایا کرتا ھے
دوا۔۔ بادام مقشر90گرام ۔ست ملٹھی 10گرام گوند کیکر 10 گرام پیس لین خوراک 1تا3 ماشہ ھمراہ پانی3دفعہ دن مین دین
سوداوی کھانسی۔۔۔ اس مین چہرہ کا رنگ سرخ قارورہ کا رنگ سرخ خشکی قبض کی زیادتی اور پیٹ مین ریاح کی کثرت دل کا گھبرانا ۔ نبض کا تیز چلنا ۔ حرارت ھو جانا ۔ بلغم کا غلیظ ھو جانا اور یہ آسانی سے خارج نہین ھوتی
دوا۔۔گل بانسہ اگر نہ ملے تو برگ بانسہ ڈال لین 80 گرام ۔۔گل بنفشہ 50 گرام ۔بادیان 30گرام پیس کر سفوف بنا لین 1تا3ماشہ تک دن مین 3بار ھمراہ پانی دین

Monday, May 14, 2018

ھاضمہ مزاج اور علاج

۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔ھاضمہ مزاج اور علاج ۔۔۔۔۔۔
آج ذاتی مصروفیت بہت ھی زیادہ تھی نہ پوسٹ لکھی نہ گروپ دیکھا پھر میرے عزیز ترین دوست سید اویس شاہ صاحب کا فون آیا خیریت دریافت کی مین نے ان سے لاھور کا موسم دریافت کیا شاہ صا حب سے پرانی یاد اللہ ھے بہت ھی محبت کرنے والے اور نیک انسان ھین آج انہون نے پہلی دفعہ فرمائش کی اور ھاضمہ کے لئے بہترین دوا لکھنے کا حکم دیا اور ساتھ ھی یہ بھی کہہ دیا کل والی پوسٹ کی طرح ھو مین نے فورا تعمیل مین ھی عافیت جانی کیونکہ شاہ صاحب سے ڈر بھی لگتا ھے کیونکہ جب بھی لاھور گیا شاہ صاحب زبردستی 15تا20 آدمیون کا کھانا مجھ اکیلے کو کھانے کا حکم صادر کیا کرتے ھین پچھلے دنون پورے بکرے کی سِجّی شاہ صاحب نے کھانے کا حکم دیا اب آپ ھی سوچ لین دو آدمی وہ کیسے کھا سکتے ھین خیر یہ سب شاہ صاحب کا پیار ھے لیجئے آج ھمارا پیار بھی دیکھ لین
صفراوی ھضم ۔۔۔۔۔۔۔ اسے آپ غدی ھضم بھی کہہ سکتے ھین
علامات۔۔اس مین ریاح کی زیادتی
ترش ڈکارین اور عام طور پر قبض رھتی ھے
دراصل اس قسم کی خرابی ھضم مین جگر مین سکون ھوتا ھے قارورہ کا رنگ سرخ ھوتا ھے اس مین مندرجہ ذیل دوا دین
نوشادر10گرام۔نمک خوردنی 30گرام۔۔ماس خورہ 40گرام پیس کر سفوف بنا لین 1رتی تا1ماشہ تک ھمراہ پانی کھلا سکتے ھین دن مین 3تا4 بار ضرورت کے مطابق دے سکتے ھین اگر قبض ھو تو 3ماشہ تک دے سکتے ھین
سوداوی ھضم ۔۔۔۔اس ھضم مین خرابی کی وجہ عضلات مین سکون کی وجہ سے ھوتا ھے
علامات۔۔ منہ سے پانی آنا
کھاری ڈکارین ۔اور اکثر قبض نہین ھوتی قارورہ کا رنگ سفید ھوتا ھے
اناردانہ 30گرام ۔۔ رائی 30گرام تخم پیاز 20گرام پیس کر سفوف بنا لین 4رتی تا2ماشہ تک دے سکتے ھین ھمراہ پانی
ھضم بلغمی ۔۔۔اسے اعصابی ھضم بھی کہہ سکتے ھین اعصاب مین سکون کی وجہ سے ھوتا ھے
علامات ۔ معدہ اور سینہ مین جلن
چرپرے ڈکار آتے ھین اکثر پیٹ مین مروڑ اٹھتا ھے ۔ قارورہ کا رنگ زرد ھوتا ھے
سجی کھار 20گرام ۔۔سہاگہ بریان 20گرام ۔ الائچی کلان 40گرام پیس کر خوراک ایک رتی تا ماشہ تک ھمراہ پانی دے سکتے ھین

Sunday, May 13, 2018

بخارات اور ان کا علاج طبی اینٹی بائیوٹک سے

۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔ بخارات اور ان کا علاج طبی اینٹی بائیوٹک سے ۔۔۔۔۔۔۔
آج اسی گروپ مطب کامل مین ایک پوسٹ بخار پہ پڑھی اور نہایت افسوس ھوا جب ایک صاحب نے ھرقسم کے بخار کاایک ھی علاج پیش کیا اور دوسروے طبیب حضرات کو کاپی پیسٹ بھی کہا اور عام آدمی کو دوا سے دور ا رھنے کی بھی ھدایت اور انہین کچھ بھی نہ بتانے کا کہا عجیب منطق تھی
مطب کامل گروپ کا ایک خاص مقصد یہ بھی ھے کہ طب کو عام آدمی کی پہنچ مین دیا جاسکے اس کی افادیت آج بھی ھر طریقہ علاج سے بہتر ثابت کی جا سکے اور آسان الفاظ مین بیماریون کی تشریحات کرکے اور ان کاعلاج بتایا جاسکے آج میرا ارادہ پوسٹ نہ لکھنے کا تھا مجبورا یہ پوسٹ لکھ رھا ھون چند الفاظ مین آپ کو سب کچھ بتاۓ دیتا ھون
بخار یعنی حمیات کی اقسام لگ بھگ 300 ھین اور یہ تین خاندانون مین تقسیم ھین ان مین سے کچھ کاتعلق سوداوی مزاج اور کچھ کاتعلق صفراوی مزاج اور کچھ کاتعلق بلغمی مزاج سے ھین ھر بخار کی اپنی اپنی شدید یا ضعیف علامات ھوا کرتی ھین مین آپ کو اس وقت سب بخارون کی علامات انفرادی طور پہ تو نہین لکھ سکتا انشاء اللہ کبھی اس موضوع پہ تفصیلی قلم اٹھا لین گے لیکن مزاجی طور پہ ان کی جو تین خاندانون مین تقسیم ھے اور جو خاندان کے لحاظ سے علامات ھین وہ لکھ کر علاج درج کر دیتا ھون
نمبر1۔۔ سوداوی بخار۔۔ عضلاتی سوزش سے ھلکی حرارت کی علامات۔۔اس مین قارورہ کا رنگ سرخ یا سرخ زردی مائل
پیٹ مین ریاح کی زیادتی قبض منہ کا ذائقہ ترش جسم مین خشکی کی زیادتی
دوا۔۔ نمک خوردنی 20گرام اجوائن دیسی30گرام۔ گندھک آملہ سار30گرام پیس کر سفوف بنا لین 1رتی تا 3ماشہ تک دے دوا دے سکتے ھین مقصد قبض کی حالت مین دوا کی مقدار بڑھا لین دن مین 3دفعہ دے لین
صفراوی بخار۔۔۔غدی سوزش سے ھلکی حرارت کی علامات۔۔اس مین قارورہ کا رنگ زرد یا زرد سفیدی مائل ھوتا ھے
صفرا کی زیادتی جسم مین حرارت اکثر پیٹ مین مروڑ پیچ دار پاخانہ منہ کا ذائقہ تلخ جسم پھولا ھوا عام طور پر غذا کھانے کے بعد بخار کا ھو جانا
دوا۔۔۔ سہاگہ بریان20گرام۔۔ ست ملٹھی 30گرام گندھک آملہ سار 30گرام پیس کر سفوف بنا لین 1رتی تا ماشہ دن مین 3تا4 بار دے سکتے ھین
بلغمی بخار۔۔اعصابی سوزش سے ھلکی حرارت کی علامات۔۔اس مین قارورہ نیلاھٹ لئے ھوۓ یا بالکل سفید ھوتا ھے۔ جسم مین بلغم کی کثرت ۔اکثر اسہال منہ کا ذائقہ کھاری جسم بھرا ھوا یا موٹاپا لئے ھوۓ ھوتا ھے
دوا۔۔ آملہ20گرام ۔ ھلیلہ سیاہ 30گرام ۔گندھک آملہ سار 30گرام
آملہ کو صاف کر لین گٹھلی نکال دین ھلیلہ کو بریان کر لین پیس کر سفوف بنا لین 1رتی تا2 ماشہ تک دن مین 3 بار دے سکتے ھین
یاد رکھین یہ تینون نسخے مین نے بخارون کے لئے بطور اینٹی بائیوٹک لکھے ھین انشاءاللہ فورا شفایاب کرین گے مذید تفصیل اس وقت نہین لکھ سکتا انشاءاللہ سب بخارون کی تقسیم بالمزاج ھر بخار کا نام اور علامات تک پھر کبھی موضوع بنائین گے مختصر اتنا ھی کافی ھے

Saturday, May 12, 2018

روزہ اور اس کے فوائد||fasting||benefit of fasting




۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔ روزہ اور اس کے فوائد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Fasting 
اسلامی نقطہ نگاہ سے اور کہین کہین طبی نقطہ نگاہ سے روزہ کے بارے مین آپ کو بہت سے مضامین پڑھنے کو ملین گے لیکن مین آپ کو ان تمام باتون سے ھٹ کر جن کا آپ کو علم ھی نہین وہ کچھ بتانے کی کوشش کرون گا
سب سے پہلی بات کہ رمضان المبارک آتے ھی مہنگائی کا بڑھ جانا سب کو علم ھے پورے ماہ کی ضروریات پہلے سے خرید کررکھ لین باقی یہ سب بھی جانتے ھین کہ رمضان المبارک بحیثیت مجموعی ھر قسم کی روحانی ۔ جسمانی ۔ اخلاقی ۔ مالی ۔ معاشرتی بیماریون اور برائیون کا یقینی علاج موجود ھے اور روزہ کے بارے مین مختلف احادیث بھی آپ نے ضرور پڑھ ھونگی جیسے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لکل شیءِزکوة و زکوةالجسدالصوم ترجمہ ہر چیز کی زکوة یعنی پاکیزگی کا طریقہ ھے اور جسم کی زکوة روزہ ھے اور آپ جانتے ھین پاکیزہ جسم ھی تندرست ھوا کرتا ھے اور تندرستی ھزار نعمت ھے یہ بھی پڑھ رکھا ھو گا لیکن مین آپ کو غیر مسلم حضرات کے روزے کے بارے مین خیالات بتاؤن گا
1۔۔ پروفیسر مورپالڈ آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ھین اپنی کتاب مین لکھا مین نے اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کیا اور جب روزے کے باب پر پہنچا تو مین چونک پڑا کہ اسلام نے اپنے ماننے والون کو اتنا بڑااور عظیم فارمولا دیا ھے ۔اس سے بڑھ کر ان کے پاس کوئی نعمت نہین ھے اور پھر مین نے مسلمانون کی طرز پہ روزے رکھنے شروع کردیے اور مین عرصہ دراز سے معدے کے ورم مین مبتلا تھا کچھ ھی دنون مین مین نے محسوس کیا کہ ورم ختم ھوتا جارھا ھے جسم مین توانایان اور عمدہ تبدیلیان محسوس کین اور مین نے روزون کو جاری رکھا حتی کہ ورم ختم ھو گیا اور میرا جسم تندرست توانا اور خوبصورت چست ھو گیا میری نظر مین روزہ ایک بہت بڑا طبی معجزہ ھے
2۔۔ ڈاکٹر تھرمیم آف کیمرج یونیورسٹی کے فارماکولوجی کے ماھر ھین اس نے روزہ دار کا جب سارا دن پیٹ خالی رھا اور پھر اسی خالی پیٹ مین سے رطوبت لی اور پھر اس کا لیبارٹری ٹیسٹ لیا اور اس مین اس نے محسوس کیا یہ مریض جو پہلے غذائی تعفن کی وجہ سے امراض معدہ مین مبتلا تھا شدید بھوک کی صورت مین مرض ٹھیک ھو گیا ھے
3۔۔سگمنڈ فرائیڈ مشہور ماھر نفسیات جس کا نام ھر تعلیم یافتہ بندے کو معلوم ھے جس کی تھیوری نفسیاتی ماھرین کے لئے مشعل راہ ھے اس کا کہنا ھے کہ روزہ سے نفسیاتی اور دماغی تمام امراض کا کلی خاتمہ ھو جاتا ھے ۔۔جسم انسانی پہ مختلف ادوار آتے ھین لیکن روزہ دار آدمی کا جسم مسلسل بیرونی دباؤ بہ آسانی قبول کر لیتا ھے اور روزہ دار ذھنی ڈپریشن اور جسمانی کھچاؤ برداشت کرنے مین اپنا ثانی نہین رکھتا
یقین جانین روزہ کے بارے مین یورپ مین اتنی تحقیقات ھورھی ھین اور ھو چکی ھین جن کو پڑھ کر بندہ عالم حیرت مین چلا جاتا ھے ان کی ایک تحقیق یہ بھی ھے کہ روزہ دار کبھی بھی معاشی پریشانی مین مبتلا نہین ھوتا آپ یہ الفاظ پڑھ کے ضرور سوچنے لگے ھونگے کہ روزہ کا معاشی مسائل سے کیا تعلق تو یہ آسان سی بات ھے روزہ دار کا جسم تندرست اور اس کی سوچ تبدرست اور روزہ دار ھمیشہ سے ذھین ھوا کرتا ھے اب جسم بھی توانا ھو اور ذھین بھی ھو تو پیسہ کمانا کونسا مشکل ھے
افسوس ھے تو صرف اس بات کا ھے ھم مسلمان ھو کر بھی اس فریضہ کو احسن طریقہ سے ادا کرنے سے قاصر ھین ھماری تو ایک خاص مذھبی عبادت ھے پھر بھی ھم اس سے دور بھاگتے ھین ھان وہ لوگ جو کسی ایسی مرض مین مبتلا ھین جس سے مزید بیماری آنے کا خطرہ ھو وہ روزہ نہ رکھین لیکن یہان یہ حال ھے ھٹے کٹے لوگ بڑے فخریہ انداز مین ایک دوسرے کو بتاتے ھین کہ ھم روزہ نہین رکھتے یادرکھین روزہ آپ کے جسم مین پلے سال بھر کے زھریلے مادون جو مختلف بیماریون کا سبب بنتے ھین ان کو جسم سے چھانٹتا ھے جسم مین مختلف ھارمونز پیدا کرنے والے فاسد مادون کو جذب کرکے ختم اور صاف کرنے والے غدد بڑی شدت سے روزون کا انتظار کرتے ھین تاکہ روزہ کی وجہ سے ان کو بھی آرام کا موقعہ مل سکے اور مزید جسم کی تعمیر کرنے کے لئے اپنی توانایان مجتمع کر سکین یاد رکھین روزہ سے قوت مدبرہ اور قوت مدافعت مکمل بیدار اور بھر پور ھو جاتی ھے اور یہی وہ دو طاقتین ھین ھو صحت کو بحال رکھنے مین اھم کردار ادا کرتی ھین مجھے ایک داناۓ طب کا قول یاد آیا ھے الصوم قائم الشباب مجھے ترجمہ کرنے کی شاید ضرورت نہین آپ سمجھ گئے ھونگے مزید مختصر ھدایت افطاری مین سادگی رکھین پکوڑے سموسے تکے کباب چاٹ کے بجاۓ مختصر اور ایک کھانا کھائین اور طریقہ سحری مین اپنائین بے شمار اشیاء کا ملغوبہ کھانا روزہ کے بدنی اثرات وفائدے کم کرتا ھے باقی آپ سب کچھ سمجھتے ھین دعا ھے اللہ تعالی پوری امت مسلمہ کو روزہ رکھنے کی ھدایت نصیب فرماۓ اور ھمت واستقامت دے

Friday, May 11, 2018

سن سٹروک 1|sun stroke

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Sun stroke
۔۔۔۔۔ سن سٹروک ۔۔۔۔ پہلی قسط۔۔۔۔۔۔۔
یہ دو تین ماہ اس مرض کا حملہ ھو سکتا ھے لو لگنے سے جسم مین گرمی اور خشکی بڑھ جاتی ھے ۔ جس کے نتیجے مین اعصاب و دماغ مین تسکین واقع ھو جاتی ھے ۔۔چنانچہ غنودگی اور بے ھوشی کی کیفیت پیدا ھونے کے ساتھ ساتھ بلڈ پریشر بھی گر جاتا ھے ۔ نبض انتہائی کمزور اور رفتار مین تیز ھو جاتی ھے
پانی کی کمی کی وجہ سے جسم کی حرارت کنٹرول کرنے والا نظام ٹھیک سے کام نہین کرتا ھے ۔اس وجہ سے جسم خشک ھو جاتا ھے ۔پسینہ نہین آتا اور مریض کو اچانک 108 درجے تک بخار ھو جاتا ھے ۔سانس رکنے لگتا ھے اور دل کام چھوڑ دیتا ھے ایسا عموما ان لوگون کے ساتھ ھوا کرتا ھے جو پہلے سے ھی صفراوی مزاج کے مالک ھوتے ھین یا پھر ان کا اس مزاج کی طرف میلان ھوتا ھے یعنی رجحان ھوتا ھے
اب ایک دوسری صورت حال بھی ھوتی ھے جس مین یکلخت کمزوری اور نڈھال پن اور پھر غنودگی کی سی حالت ھوتی ھے اور بہت شدت سے ٹھنڈا پسینہ آیا کرتا ھے ۔ بلڈ پریشر اس حالت مین بھی کم ھوا کرتا ھے لیکن بخار 99 یا 104 تک جا سکتا ھے
یہ وہ لوگ ھوتے ھین جن کی قوت مدافعت یعنی ایمونٹی پاور سن سٹروک کے حملے کے اثرات پہ قابو پانے کی کوشش کر رھی ھوتی ھے اب اس حالت مین پسینہ کی وجہ سے ٹمپریچر ایک حد سے آگے نہین جاتا اور غنودگی کی کیفیت پیدا کرکے جسم انرجی کو اکٹھا کرنے کی کوشش مین لگا ھوتا ھے
حبس مین کثرت پسینہ سے دراصل جسم کا نمک اور پانی تیزی سے کم ھوتا ھے اور وھی اوپر والی علامات پیدا ھوا کرتی ھین
یہ ان لوگون کے ساتھ ھوا کرتا ھے جو بھوکھے پیاسے اور گھٹن کے ماحول مین ھارڈ ورکنگ کرنے والے ھوتے ھین یا پھر نحیف کمزور لاغر لوگ اس کا شکار ھوتے ھین
اب سب سے پہلے احتیاطی تدابیر
سورج کی گرمی کی براہ راست زد مین آنے سے بچین
باھر نکلتے وقت چھتری استعمال کرین یا ساۓ مین چلین
سر اور گردن کو اچھی طرح کپڑے سے ڈھانپ کر رکھین اب دیکھین اس کے لئے پگڑی ایک بہترین پہناوہ ھے جو بیک وقت سر اور گردن کی حفاظت کرتی ھے
اپنے معمولات کو صبح اور شام کو سرانجام دینے کی کوشش کرین (اب دوپہر کو کہین جڑی بوٹیان اکھیڑنے نہ چلے جائین) یا پھر کچھ کام رات کو سرانجام دے لین
لو کے موسم مین گرم ھوا سے بچنے کی کوشش کرین اوٹ مین یا کسی کمرے مین رھین براہ راست لو سے بچین
کھیتون مین اور سفر مین جاتے وقت ٹھنڈا پانی ساتھ رکھین یاد رکھین دودھ کی لسی اس مین بہترین مشروب ھے بہتر ھے نمکین استعمال کرین میٹھی بھی استعمال کر سکتے ھین یہ پیاس بھی بجھاتی ھے اور جسم مین تری بھی پیدا کرتی ھے بازاری ڈرنک کولا وغیرہ سے سختی سے بچین ورنہ گئے کام سے ۔۔۔ اور کچھ ھو نہ ھو نہ گردے ضرور خراب ھونگے اور ھان ڈرائی فروٹ بھی استعمال کرنے سے پرھیز کرین
آنکھون پہ دھوپ کا چشمہ لگائین
لو کے بعد کثرت پسینہ سے پانی اور نمک کی کمی جسم مین ھو جاتی ھے ان دونون چیزون کو پورا رکھین
اب ان دنون مین حبس والی جگہ پہ زیادہ دیر کام نہ کرین نہ خالی پیٹ رھنا ھے اور نہ ھی زیادہ کھانا ھے
برسات کے دنون مین صفراوی اور بلغمی مزاج کے لوگ کھانے کے ساتھ کھٹاس ضرور استعمال کیا کرین اور کبھی بھی بغیر شدید مجبوری کے علاوہ جلاب آور ادویہ سے پرھیز کرین
اھم بات۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گرمی شروع ھوتے ھی ھماری عادت ھے ٹھنڈے مشروبات پہ ٹوٹ پڑتے ھین کیا کیا استعمال نہین کرتے ھم ۔۔ سردایان ۔۔تخم بالنگو ۔۔ گوند کتیرا ۔ چھلکا اسپغول ۔ شربت صندل ۔ نیلوفر ۔ املی آلو بخارا کے شربت ۔ فالسہ ۔ لیمون ۔ ستو ۔ ملک شیک تربوز وغیرہ دن رات بغیر ضرورت اور بغیر مزاج کے اندر پیٹ مین دھڑا دھڑ لوڈ کرتے ھین ۔۔ پھر رزلٹ کیا نکلتا ھے وہ سمجھ لین
جسم کی حرارت کم ھو جاتی ھے اور غیر طبعی تری کا غلبہ ھو کر اس مین تعفن سے طویل المعیاد اور قلیل المعیاد بیماریان پیدا ھوتی ھین ۔۔ یاد رکھین جسم کی حرارت کبھی بھی کم نہ ھونے دین ۔ برسات کے موسم مین کھانا ھمیشہ تازہ اورگرم کھائین
ھان اگرآپ کو شدید پیاس لگی ھے آپ مشروب پہ مشروب اندر پیٹ مین انڈیل رھے ھین پیاس ھے کہ پھر بھی بجھ نہین رھی تو اللہ کے بندے قہوہ پیو چینی کم رکھین بطورذائقہ لیمن نچوڑ لین فورا پیاس بجھ جاۓ گی اکثرلوگ آپ دیکھتے ھونگے جو ٹھنڈے مشروبات بھی پی رھے ھوتے ھین تربوز اور تخم ملنگے وغیرہ بھی پی رھے ھوتے ھین اور موت واقع ھو جاتی ھے پھر افسوس والےآتے ھین اورکہتے ھین بچاراگرمی سے بچنے کےلئے ایسی اشیاء بھی استعمال کرتا تھا پھر بھی گرمی کا شکار ھو گیا یا پھر کہین گے شدید گرمی تھی اور اٹیک ھو گیا
اصل مین ھوتا یہ ھے بہت زیادہ ٹھنڈے مشروبات اور غذائین استعمال کرنے کی وجہ سے جسم کی حرارت زائل ھوجاتی ھے اور بلڈ پریشر لو ھو کر دل فیل ھو جاتا ھے اور موت واقع ھو جاتی ھے

سن سٹروک 2||Sun Stroke

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔ سن سٹروک ۔۔۔ دوسری اور آخری قسط۔۔۔۔۔۔۔
کل مین نے صرف لو لگنے اور حبس زدہ دونون کا ذکر کیا ھے اب آپ نے دونون مین تفریق کرکے جیسا کہ کل مین لکھی تھی اسی کے مطابق علامات کے ھی مطابق علاج کرنا ھے
اگر بخار تیز ھو تو مریض کو فوتا ٹھنڈی جگہ اور ھوادار جگہ پہ لٹائین تولیہ یا موٹا کپڑا ٹھنڈے پانی مین بھگو نچوڑ کر اسپنچ کرین غدی اعصابی اور اعصابی عضلاتی نسخہ جات مشروبات اور محلولات کی صورت مین دین مریض کے نارمل ھونے تک ٹھوس غذا سے بھی پرھیز کرائین
اگر مریض بے ھوش ھو تو ٹھنڈے پانی کے چھنٹے مارین اور ھوش مین لانے والی دوائی سنگھائین
اگر بی پی بہت ھی کم ھے اور مریض مسلسل ھی بے ھوش ھے یا تو اسے کسی ھسپتال منتقل کرین تاکہ گلوکوز یا نارمل سیلائن ڈرپ لگائین اگر یہ سہولیات میسر نہین ھین تو دس گرام کھانے والا نمک ایک لٹر صاف پانی مین حل کرین اور چمچ چمچ یہ پانی مریض کے منہ مین ڈالین یہ پانی ڈرپ کا کام دے گا یہ یاد رکھین مریض کا سر اونچا کرکے منہ مین ڈالنا ھے
ٹھنڈا پسینہ کثرت سے آرھا ھو تو عضلاتی قہوہ لیمون نچوڑ کر اور نمک بھی ڈال لین اسے پلائین بلکہ اس دوا ۔۔۔۔ دارچینی 3گرام لونگ1گرام جلوتری2گرام سفوف بنا کر 4رتی تا ماشہ اس قہوہ کے ھمراہ دین تیزی کے ساتھ آرام آۓ گا دراصل یہ سردایان پینے والے مریض ھوتے ھین اسے بخار ھو گا تب ٹھیک ھو گا
باقی مرکبات آپ جانتے ھی ھونگے جوارش تمرھندی دوالمسک جواھردار سب ضرورت اور علامات کے مطابق استعمال کرین
اب تھوڑی سی چند باتون کی وضاحت تاکہ آپ کو علاج کرنے مین پریشانی نہ ھو
حبس زدہ یا لُو کا شکار مریض جن کا ذکر ھو رھا ھے اب ان کو بہت اونچے درجے کا بخار ھو سکتا ھے اب اسی موسم مین ایک اور بخار بھی اتنا ھی شدید ھوا کرتا ھے اسے آپ ملیریا کہتے ھین اس لئے علاج کرتے وقت آپ نے اس بات کا خیال کرنا ھے کہ آپ ملیریا کے مریض کا علاج کررھے ھین یا لو لگے مریض کا
اب اسی ضمن مین چند تشخیصی نکات لکھنے لگا ھون تاکہ آپ مرض کو پہچان سکین اور علاج کر سکین
1۔۔ گرمی کے ابتدائی مہینون مین اگر یکلخت اتنا تیز بخار ھو جاۓ اور قرائن وواقعات سے بھی معلوم ھو کہ مریض پہ گرمی کا اثر ھے تو اسے لو کا بخار سمجھین
2۔۔ملیریا کی ایک اھم نشانی یہ ھوتی ھے کہ اسے بخار ھونے سے پہلے سردی لگنا شروع ھو جاتی ھے لرزہ ھوتا ھے اور اسے کافی دیر بعد بخار ھوتا ھے ساتھ ساتھ کمر درد جسم درد سر درد شروع ھو جاتا ھے
3۔۔ لو کا بخار مسلسل ھوتا ھے جسم خشک ھو گا ۔کبھی بخار کے ساتھ ھی یا بخار سے پہلے ھی پسینہ آنا شروع ھو جاتا ھے
جبکہ ملیریا مین الٹیان لرزہ کے بعد بخار پھر ایک دو گھنٹہ پسینہ آکرسردی اور بخار جاتا رھتا ھے اور مریض بھوک اور کمزوری محسوس کرتا ھے
سردائیون کے شوقین حضرات مین سرد پسینہ آنے کے بعد یا پھر وہ لوگ جو برسات مین زیادہ دیر بھیگنے اور نہانے کے بعد اگر بخار آجاۓ تو اسے اچھی علامت سمجھین بلکہ اسے خشک گرم اور گرم خشک ادویات دے کر مزید بخار کو تیز کرین
امید ھے اب آپ کافی حد تک سمجھ گئے ھونگے کہ حبس اور لو کے مریض کا علاج کیسے کرنا ھے اب اس مضمون کی ضرورت مین نے اس لئے محسوس کی کہ اس موسم مین اس مرض کے عام لوگ شکار ھوتے ھین اور یہ مزدور طبقہ یا متوسط طبقہ ھوتا ھے جو فیکٹریون مین کھیتون مین تعمیرات مین مسلسل مزدوری کررھے ھوتے ھین براہ کرم ایسے لوگ آپ کی توجہ کی شدید مستحق ھوتے ھین انہین فوری اور فری فسٹ ایڈ دیا کرین کیونکہ حقیقت مین یہی لوگ سچ مین وطن کی تعمیر کررھے ھوتے ھین یہی لوگ وطن کو سرسبز وشاداب خوبصورت بنارھے ھوتے ھین یہی لوگ بڑی بڑی عمارتین اور سڑکین بنا کر برقی اور مواصلاتی نظام بنا کر ملک کی ترقی کا باعث بنتے ھین بڑے لوگون کو تو AC کے اندر بھی پسینہ آتا رھتا ھے پرفیومڈ اور ٹھنڈے پانی سے غسل کرتے وقت بھی انہین پسینہ آسکتا ھے اور بیمار ھو سکتے ھین واللہ اعلم
 ,Sunstroke# 

Tuesday, May 8, 2018

Appendicitis|اپنڈیکس اور علاج


Appendicitis
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔ اپنڈیکس اور علاج ۔۔۔۔۔
مضمون بڑا ھی مختصر لکھنے کا ارادہ تھا لیکن پھر اس مین وسعت پیدا کرنے کا ارادہ کر لیا آجکل یہ مرض بہت ھی عام پایا جاتا ھے اسے صحیح طرح سے سمجھنا ھی اطباء اور عام لوگون کے لئے مفید ھے
اپنڈے سائیٹسAppendicitis کا محل وقوع۔۔۔
اپنڈیکس چھوٹی آنت اور بڑی آنت کے جوڑ کے ساتھ ایک چھوٹا سا لٹکتا ھوا گوشت کا لوتھڑا ھے
اپنڈیکس کی سوزش ھمیشہ حادثاتی طور خوراک کے کسی ٹکڑے کا اپنڈیکس کے اندر داخل ھو کر گلنا سڑنا شروع ھوجاتاھے
اپنڈیکس کےاندر والی نالی کو بند کردیتا ھے اور اپنڈیکس سوج جاتی ھے پھر اس کے اندر پیپ پڑجاتی ھے اور بعض دفعہ یہ پھٹ جایا کرتی ھے اور اپنڈیکس کا پیپ بھرا غلیظ مادہ پیٹ کے اندر پھیل جاتا ھے جس کی وجہ سے پیٹ کی جھلی بھی سوزش ناک ھو جاتی ھے اور اسے Reritonitisکہتے ھین یاد رکھین یہ ایک خطرناک صورت حال ھوتی ھے سمجھ لین پورے پیٹ مین زھر پھیل گیا ھے اس صورت حال مین اگر فورا اپریشن ھو جاۓ تو بچنے کا امکانات روشن ھین ورنہ مریض موت کے منہ مین چلا جاتا ھے یون تو اپنڈیکس ھر عمر مین ھو سکتی ھے لیکن زیادہ تر یہ مرض 10 تا30 سال کی عمر مین دیکھی جاتی ھے ۔۔ یہ تھا مختصر تعارف اپنڈیکس کا۔۔۔۔۔
اپنڈیکس کا درد کیسے ھوتا ھے؟؟؟
اپنڈیکس کا درد دائین سائیڈ ناف سے تھوڑا اوپر یا ناف سے تھوڑا نیچے شروع ھوا کرتا ھے پھر جب اس درد مین شدت آتی ھے تو ساتھ ساتھ قے کا بھی حملہ بھی یعنی الٹی شروع ھو جاتی ھے اور درد 2سے12 گھنٹون کے درمیان آھستہ آھستہ بالکل دائین طرف ھو جایا کرتا ھے کیونکہ اب اپنڈے سائیٹس یعنی زائد اعور مین مکمل سوجن بن چکی ھوتی ھے اور یہ درد خاص اسی ایک مقام پہ آجایا کرتا ھے اب درد کا انداز بالکل وھی ھوا کرتا ھے جیسے کسی بھی سوجی ھوئی جگہ پہ ھاتھ پھیرنے سے ھوا کرتا ھے یعنی آپ اسے میٹھا میٹھا سا درد کہہ سکتے ھین جو کہ چلنے پھرنے سے اور کھانسنے سے بڑھ جایا کرتا ھے
یاد رکھین اپنڈیکس کے درد کا شک مٹانے کے لئے یا تشخیص کے لئے ضروری ھے کہ مریض کو تیز تیز چلنے کو کہین اور زور زور سے کھانسنے کو کہین اس عمل سے اگر درد بڑھ گئی تو لازما اپنڈیکس ھے ورنہ کسی اور وجہ سے درد ھوا ھے ان وجوھات کا آگے ذکر کرون گا اب مین چند خاص علامات کا ذکر کرتا ھون جو اپنڈیکس مین ھوا کرتی ھین
اپنڈیکس مین بھوک ختم یا بہت ھی کم ھو جایا کرتی ھے
قبض کی شکایت اور ساتھ بخار ھو جایا کرتا ھے بشرطیکہ ورم شدید ھو چکا ھو تو
کبھی کبھار مریضون کو دست کی بھی شکایت ھوا کرتی ھے
اپنڈیکس والی جگہ سخت ھوا کرتی ھے
لیبارٹری ٹیسٹ مین خون کے سفید خلیون کی تعداد بڑھ جاتی ھے اور Cmm/ ۔10000 سے بڑھ کر Cmm/۔20000 پر پہنچ جاتے ھین
کبھی کبھار لیبارٹری پیشاب ٹیسٹ مین پیشاب کے اندر خون نظر آتا ھے ۔۔۔اس نقطہ کو ذھن مین رکھیے۔۔۔۔ اب آگے چلتے ھین اور آپ کو ان بیماریون کی نشاندھی کرتا ھون جن کی وجہ سے بالکل اپنڈیکس کی طرح یا ملتا جلتا درد ھوا کرتا ھے
1۔انتڑیون کی سوزش
2۔یہ بیماری عموما بچون کو ھوا کرتی ھے ۔۔Mesenteric Adenitis
3.Mackle.s Divertculitis
4. Regional. Entritis
5چھوٹی آنت کے السر کا پھٹ جانا
6۔دائین گردے کی نالی کی سوزش
7۔جگر کی سوزش
8۔۔دائین گردے مین درد بوجہ پتھری یا گردے کی سوزش یا گردے مین ھوا کا بھر جانا
9۔ عورتون مین بچہ دانی کی دائین طرف کی ٹیوب کی سوجن
10۔عورتون مین دائین انڈے پہ چھالے بن جانا
11۔۔ حاملہ خواتین مین بعض اوقات حمل کا بچہ دانی کی دائین ٹیوب مین پرورش پانا اور پھر پھٹ جانا
ایک بات یاد رکھین اگر ایک ایک بات کی وضاحت کرون تو بہت ھی طویل مضمون بن جاۓ گا ایک بات اور بھی یاد رکھین اس حصہ مین کینسر بھی ھو جایا کرتا ھے لیکن یہ بڑی عمر کے لوگون مین ھوا کرتا ھے
خیر طب مین بھی اس کی تشریح وسیع ھے یہ سوداوی اور صفراوی مزاج دونون مین ھوا کرتی ھے بعض دور حاضر کے حکماء نے اسے صرف صفراوی مرض لکھا ھے جوکہ اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے برابر ھے پھر علاج بھی صفراوی ھی لکھتے ھین حقیقت مین یہ مرض سوداوی اور صفراوی دونون مزاجون مین ھوتا ھے جو اپنڈیکس عام طور پہ ھوا کرتا ھے جس کی کثرت ھے اس کا علاج بہترین سبز مکو اور کاسنی کے پتون کا اگر پانی میسر ھو تو بہتر ھے 4تولہ لے لین دوسری صورت مین ان دونون کا عرق لین اور شربت دینار 4تولہ کے ساتھ ملا کر دو وقت پلائین ساتھ غدی اعصابی ملین 2۔۔2۔۔2گولی ھمراہ پانی دین ساتھ اکسیر بادیان ۔۔ھلدی ۔ سونف ۔ ملٹھ برابر وزن اور ان کے برابر ریوند خطائی ملا کر سفوف بنا لین ماشہ تک 3وقت ھمراہ پانی ھی دین یہ علاج آپ اپنڈیکس کا علم ھوتے ھی شروع کردین تو یقینی شفا حاصل ھو گی انتہائی شدت کی حالت مین یا پھٹ جانے کی صورت مین مریض کو فوری اپریشن کا مشورہ دین

Monday, May 7, 2018

پسینہ اور اس کا علاج وتشخیص

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔ پسینہ اور اس کا علاج وتشخیص ۔۔۔۔۔
چند روز پہلے مین نے وعدہ کیا تھا پسینہ پہ مضمون لکھنے کا ۔۔۔کسی نے سوال کیا تھا رانون اور بغلون پہ شدید پسینہ آتا ھے اور تکلیف دہ ھوتا ھے آج ذرا فرصت ملی تو مضمون شروع کرنے سے پہلے ایک خیال یہ بھی ذھن مین آیا تھوڑی مضمون مین وسعت پیدا کی جاۓ اور پسینہ آنے سے مرض کی تشخیص کا بھی بتایا جاۓ پسینہ ھر مزاج مین آسکتا ھے اب سمجھنے والی بات تو یہ ھے کہ بندے کو پسینہ تو آگیا لیکن کیسے پتہ چلے کہ اس کا کس مزاج سے تعلق ھے اور ھم نے اس کا کیا سدباب کرنا ھے کہ جس سے یہ رک جاۓ یا کم ھو جاۓ بہت سے لوگ حکماء سے یہ سوال کرتے ھین لیکن جواب دینے کو کوئی بھی تیار نہین ھوتا بس خاموشی اختیار کرتے ھین ۔۔۔ لیکن محمود بھٹہ آپ کو اس سوال کا جواب ضرور دے گا
ھون تو کم علم سا ھی انسان لیکن جتنا مجھے میرے اللہ نے علم دے رکھا ھے اسے آپ تک پہنچانا تو فرض ھے یہ میرے اللہ کا حکم ھے بھئی دوستو کچھ نہ کچھ آپ کی علمی پیاس ضرور بجھے گی ھان تو دوستو سمجھین
پسینہ کے بارے مین یہ بات ذھن مین رکھین کہ تحت الجلد یعنی جلد کے نیچے غدد ھین جو خون سے رقیق اجزاء کو جذب کرکے پسینہ کی صورت مین خارج کرتے ھین اب یاد رکھین جس طرح کا مواد خون مین ھو گا اسی طرح کا پسینہ جلد سے خارج ھو گا
مثلا اگر خون مین ترشی زیادہ ھو گی تو پسینہ۔بھی ترش بو والا ھو گا اگر خون مین نمکیات زیادہ ھونگے تو لازمی بات ھے پسینہ بھی نمکین ھو گا اب اگر مزاج ھی بلغمی ھے اور خون مین بلغمی مادے کی کثرت ھے تو لازم ھے پسینہ بھی کھاری ھی ھو گا اب یہ بات بھی یاد رکھین اگر کہین مواد متعفن ھو چکا ھے اور خون مین آمیزش بھی اسی کی ھو چکی ھے تو پسینہ بھی تعفن والا ھو گا یہ ھضم عروقی کا فضلہ ھوتا ھے یعنی جب غذائی مواد انتہائی باریک ھو کر عروق مین پہنچتا ھے تو سارے حل شدہ مادے رطوبت مین گھلے ھوۓ ھوتے ھین جب عضلات مین تحلیل ھوتی ھے تب جلد کے مسامات پھیل جاتے ھین تو متحرک غدد ناقلہ اپنی رطوبات نچوڑ دیتی ھین جو عروق کی دیوارون سے چھن کر مسامات کی راہ باھر آجاتی ھین اور غذائی مواد خلیات کے کام آجاتا ھے اور فضلہ پانی کی شکل مین خارج ھو جاتا ھے
پسینہ کی دو تکالیف ھوتی ھین
1۔۔پسینہ کی کثرت۔۔ جو عضلاتی تحلیل کے نتیجے مین خارج ھوتا ھے
2۔۔پسینہ کی بندش۔۔یہ عضلاتی تحریک مین بند ھوتا ھے
تیزی سے بودار رنگین پسینہ اس مین جو غدد پسینہ پیدا کرتے ھین ان مین فساد اور فتور پیدا ھوجاتا ھے اگر عفونت پیدا ھو جاۓ تو پسینہ کا پانی بھی متعفن ھو جاتا ھے۔۔ویسے عام حالات مین اعضاء کی مناسبت سے اس کی تین اقسام ھوتی ھین
لیکن اس سے پہلے مین آپ کو جلد کا مزاج بتا دون جلد پہ سب سے پہلی تہہ بلغمی مادے کی ھے اسے آپ اعصابی کہتے ھین دوسری تہہ صفراوی مادے کی ھے اسے آپ غدی کہتے ھین تیسری تہہ سوداوی مادے کی ھے اسے آپ عضلات کہتے ھین اب بمطابق تحریک پسینہ کو سمجھین۔
اعصابی پسینہ☜☜☜ وہ پسینہ جو حالت سکون مین بیٹھے بٹھاۓ یا لیٹے یا سوۓ ھوۓ خارج ھو
یا خوف ندامت کی حالت مین خارج ھو یہ رقیق ھوتا ھے
اس مین عام طور پہ بو نہین ھوتی ھان اگر اعصاب مین سوزش ھو جاۓ یا اعصابی رطوبات مین تعفن پیدا ھو جاۓ تب اس مین بو بھی پیدا ھو جاتی ھے
غدی پسینہ☜☜☜ وہ پسینہ جو گرمی دھوپ یا گرم حبس دار موسم مین آۓ اس مین بالعموم کافی نمکیات خارج ھوتے ھین جو سطح جلد پر نمایان ظاھر ھوتے ھین
غدی رطوبات اگر متعفن ھو کر براہ مسامات خارج ھون تو ان مین تلخ ناگوار بدبو بھی آتی ھے
عضلاتی پسینہ☜☜☜ وہ پسینہ جو کثرت حرکت و مشقت ریاضت و محنت سے مسامات جلد کی راہ خارج ھون اگر بدن مین سودا متعفن ھو جاۓ تو یہ پسینہ بھی بدبودارخارج ھوتا ھے
اب بعض اوقات یہ ھوتا ھے کہ صرف ھاتھون یا پاؤن پہ رانون پہ یا چہرے پہ یعنی ان بدن کے ان ھی حصون پہ زیادہ پسینہ آتا ھے بعض لوگ تو یہ بھی شکایت کرتے ھین کہ جب کھانا کھاتے ھین تو سر ماتھے اور چہرے پہ بے تحاشا پسینہ آتا ھے کھانا کھانا مشکل ھو جاتا ھے تو دوستو یہ سب مقامی غدد ناقلہ کی تحریک ھوتی ھے اس کا علاج یہ ھے کہ رطوبات کے اس بہاؤکا راستہ بدل کر طبعی مجاری سے اخراج کیا جاۓ یعنی تحریک کو بدل کر ادرار کرایا جاۓ ۔یہ تکلیف پیدا بھی اسی لئے ھوتی ھے کہ طبعی اخراج رطوبات کے عمل مین رکاوٹ آتی ھے خاص کر مادون کو روکنے والی ادویہ کے استعمال کی وجہ سےجو بخارون مین دی جاتی ھین کشتہ جست اور کشتہ مرجان ملا کر دین ساتھ مقوی دماغ ترپھلہ اسطوخودوس بسفائج وغیرہ دے لین پسینہ ٹھیک ھو جاتا ھے مزید تحریک دیکھین جس تحریک مین پسینہ آرھا ھو اس کواگلی تحریک مین بدل دین پسینہ فورا ٹھیک ھو جاتا ھے لیکن یہ نہ کرین کہ صفراوی مزاج ھو تو دوا سوداوی مزاج کی دین بلکہ بلغمی مزاج ھی پیدا کرین اگر بلغمی ھے توسوداوی مزاج مین بدل دین

Saturday, May 5, 2018

ٹائیفائیڈ بخار

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ٹائیفائیڈ بخار ۔۔۔۔۔۔۔۔
میری فالج کی پوسٹون اور بعد مین بھی کمنٹس مین مجھے ٹائیفائیڈ یعنی معیادی بخار یا تپ محرقہ کے بارے مین لکھنے کو کہا گیا ۔۔
یہ بخار حقیقت مین تحلیل کا بخار ھے جب جگر وغدد مین تحریک ھوتی ھے تو عضلات مین تحلیل اور اعصاب مین تسکین پیدا ھو جاتی ھے ۔ صفراوی مواد بلغم کے ساتھ مل کر متعفن ھو جاتا ھے جس سے حرارت غریبہ پیدا ھوتی ھے جو بخار کا باعث بنتی ھے اگر یہ بخار جراثیمی زھر سے بھی پیدا ھو تو بھی یہ جراثیم جگر پہ اثر انداز ھو کر مرض کا سبب بنتے ھین
اگر کوئی غیر معمولی پیچیدگی پیدا نہ ھو تو یہ بخار ایک مخصوص مدت پوری کرکے اتر جاتا ھے کبھی 14دن تو کبھی 21 دن بعد
اسی لئے اس کو معیادی بخار کہتے ھین اس بخار کی کیفیت یہ ھوتی ھے کہ یہ مسلسل رھتا ھے اور زیادہ تیز نہین ھوتا
جگر کے مظاھرات کے اظہار کی پہلی نمائیندگی انتڑیان کرتی ھین اس لئے جگر کی غیر طبعی علامات کااظہار سب سے پہلے انتڑیوں پہ ھی ھوتا ھے اس کی سمیت یعنی زھریلے اثرات سے پیدا شدہ تعفن آنتون مین غیر طبعی ماحول پیدا کردیتا ھے جس سے بول وبراز بھی متعفن اور بدبودارخارج ھوتا ھے یاد رکھین یہ بخار عموما موسمی تبدیلی کے وقت بڑھتا ھے خاص کر اکتوبر نومبر مین ۔۔اب تو خیر ھر موسم اس کا اپنا موسم بن چکا ھے
قوت مدافعت کی کمی کے سبب اس کا حملہ تیز ھوا کرتا ھے
عضلاتی تحلیل کی وجہ سے عضلات مین انتہائی ضعف یعنی کمزوری واقع ھو جاتی ھے جس کی وجہ سے جسم مین درد اور دکھن ھر وقت محسوس ھوتا ھے خاص کر ٹانگون اور پنڈلیون مین شکستگی بہت ھوتی ھے مریض بے حال ھوتا ھے
نیند کی کمی یعنی بے خوابی بڑھ جاتی ھے ۔ اعصابی تسکین کی وجہ سے اور متعفن بلغم کی وجہ سے ذھنی پریشانی یا پریشان خیالی غمگینی اور خفقان بہت زیادہ ھوتا ھے ۔ منفی سوچین مسلسل دماغ مین پیدا ھوتی ھین۔ جسم پہ سرخی مائل دھبے بن جاتے ھین آنتون مین گڑگڑاھٹ پیدا ھوتی ھے اور درد بھی پیدا ھوتا ھے ۔اگر آنتون کی سوزش شدید ھو جاۓ تو میوکس ممبرین مجروح ھو جاتی ھے پھر خون یا آؤن آنے لگتی ھے اس بخار کی ایک خاص نشانی یہ بھی ھے کہ ظہر کے بعد اس کا زور زیادہ ھو جاتا ھے یاد رکھین تمام غدی امراض یعنی صفراوی امراض پچھلے پہر زور پکڑتے ھین خیر اس مرض اور بھی بہت سی علامات ھین آپ سب نے پڑھ رکھی ھونگی مین نے بہت ضروری علامتون اور عوارض کی تشریح کی ھے
آجکل تو اس کی تشخیص بہت ھی آسان ھے بلڈ ٹیسٹ کے ساتھ ساتھ دیگر علامات سے تشخیص ھو جایا کرتی ھے اگر واقعی ٹائیفائیڈ بخار ھے تو بلاتاخیر علاج کرنا چاھیے
علاج۔۔۔ غدی اعصابی اکسیر اور اعصابی غدی تریاق ھمراہ شربت دینار یا شربت کثوث دین اس کے علاوہ کشتہ ابرک سفید ساتھ ھڑتال ورقی جو چڑچٹہ کے پانی مین بنائی جاتی ھے اس مرض مین بہت موثر ھے شدید نمبر5 ساتھ شدید نمبر6 ملا کردین اگر آنتون مین سوزش یا خون آنے لگے تو مندرجہ ذیل دوا دین
اسگندھ ۔ زیرہ سفید ۔۔ سفوف ملٹھی ۔ گوند کیکر ھموزن پیس لین ماشہ تک 3وقت دے لین اگر اس کے ساتھ دست زیادہ آنے لگین تو بھی آنتون کی سوزش ختم کیے بغیر اسے بند نہ کرین کسی قابض یا حابس دوا کو استعمال نہ کرین
بخار اتر جانے کے باوجود 10 تا15 دن زودھضم غذائین دین دلیہ کسٹرڈ ۔۔ کدو ۔۔ توری سیاہ۔۔کھیرے ٹینڈے دین کثرت یا مشقت سے بہت پرھیز کرین ورنہ بخار لوٹ آۓ گا نظام ھضم سب سے زیادہ متاثر ھوتا ھے آلات ھضم بہت کمزور ھو جایا کرتے ھین ان پہ بوجھ نہ ڈالین ورنہ ساری زندگی ھضم کے مسائل سے دوچار ھونا پڑتا ھے ساری زندگی آنتین کمزور رھتی ھین بعض اوقات آنتون کی ٹی بی ھو جایا کرتی ھے
علاج کرتے وقت پنڈلیون پہ مالش ضرور کرین اور مسل کو دبایا کرین اس سے حیرت انگریز طور پر بخار ٹوٹ جاتا ھے اور عضلات کی قوت لوٹ آتی ھے اور مسلسل تھکن کا احساس ختم ھو جایا کرتا ھے
غدی اعصابی اکسیر۔۔سنڈھ40گرام۔فلفل سیاہ30گرام۔نوشادر ٹھیکری30گرام۔ھڑتال ورقی10گرام پہلے ھڑتال کو 6گھنٹہ کھرل کرین پھر باقی دوائین کھرل کرکے ملا لین2تا4رتی مقدار خوراک
اعصابی غدی تریاق۔۔سفوف ھلدی150گرام دودھ مدار10گرام کھرل دوگھنٹہ کرلین پھر حب نخودی بنا لین 1تا2گولی خوراک
شربت دینار اور شربت کثوت ھر مرکبات کی کتب مین نسخہ جات ھین کشتہ ابرک اور ھڑتال کے بھی طریقے عام ھین
شدید نمبر6۔۔سہاگہ بریان70گرام ۔سفوف ملٹھی 70گرام۔۔شیرمدار5گرام ایک گھنٹہ کھرل کرلین پھر حب نخودی بنا لین1تا2گولی خوراک
شدید نمبر5۔۔سنڈھ50گرام۔نوشادر ٹھیکری20گرام۔مرچ سیاہ10گرام سفوف بنا لین4رتی تا ماشہ خوراک دین
تمام دوائین ھمراہ پانی دین اور صبح دوپہر شام کھلائین

Friday, May 4, 2018

بچون مین فم معدہ کا درد

۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔ بچون مین فم معدہ کا درد ۔۔۔۔۔۔
بچون کو بار بار دونوں پسلیوں کی درمیانی ھڈی کے نیچے معدہ پر سخت درد ھوتا ھے۔۔ھاتھ کی انگلیان جوڑ کر دبانے سے قدرے سکون محسوس ھوتا ھے منہ مین پانی آتا ھے اور منہ کا ذائقہ خراب ھوا کرتا ھے
اس مقام کو فم معدہ یا معدے کا منہ کا نام دیا جاتا ھے یہان اعصاب کی کثرت ھوا کرتی ھے اور بچوں کا قدرتی مزاج ھی اعصابی یا بلغمی ھوا کرتا ھے ایسے بچے یا بڑے جو اعصابی یعنی بلغمی غذا زیادہ استعمال کرتے ھین عام طور پہ یہ درد ان کو ھوا کرتا ھے سکول جانے کا خوف یا کوئی بچے کو الجھن کی بات بچے کو درد بڑھانے مین اھم کردار ادا کرتی ھے دودھ اور چاول جیسی غذائین بند کرین اور علاج مین عضلاتی غدی شدید اور ھاضم بہترین دوا ھین لیکن آپ کو ایک بہت ھی بہترین دوا بتاتا ھون
کلونجی 50گرام کاکڑاسنگھی 200گرام کا سفوف بنا لین اب بڑے کو تو سفوف کی شکل مین دے لیا کرین بچون کے لئے اسی دوا مین تین گنا شہد ملا کر معجون بنا لین 1تا3گرام تک کھلا سکتے ھین اب اس سادہ سی دوا کے فوائد بہت زیادہ ھین
پھیپھڑون اور تنفس کے اعضاء اور سینہ کی اعصابی و عضلاتی علامات مین اکسیر ھے رقیق بلغم کو گاڑھا اور جمے ھوۓ بلغم کو معتدل القوام بنا کر خارج کرنا اس کا پہلا خاصہ ھے
بلغمی دمہ اور کھانسی مین بہت ھی اعلی ھے کھاری ڈکارون اور بلغمی مزاج مین پیدا ھونے والی بدھضمی مین بہت بہترین ھے
منہ سے پانی آنے کسیلا ذائقہ فم معدہ کا درد اور دل کا گھٹنا مستقل طور پہ ٹھیک کرتا ھے

Thursday, May 3, 2018

گرمی دانے اور ان کا کامل علاج

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔ گرمی دانے اور ان کا کامل علاج ۔۔۔۔۔۔۔۔
موسم خیر سے آگیا ھے گرمی دانون کا لیکن ایک بات آپ نے نوٹ کی ھو گی دو تین دہائی پہلے تقریباً ھر شخص گرمی دانون کا شکار ضرور ھوا کرتا تھا لیکن آجکل گاھے گاھے لوگون کو گرمی دانے یا پِت نکلا کرتی ھے کیون اور کیسے کبھی سوچا آپ نے؟؟؟
شاید ھر شخص کے ذہن مین ایک ھی بات آۓ کہ پہلے لوگون کے پاس گرمی سے بچاؤ کی سہولیات کم ھوا کرتی تھی آجکل لوگون کے پاس سہولیات زیادہ آگئین ھین عام لوگون کے پاس AC اور واٹر کولر کی سہولت میسر ھے تو میرے دوستو اگر آپ یہ سوچ رھے ھین تو بالکل غلط سوچ رھے ھین ۔۔۔ آلودگی نے سب کچھ تباہ کردیا ھے نظام زندگی برباد ھو کررہ گئی ھے فضا مین گرد و غبار اور کاربن کی کثافت اور دیگر زھریلے مادون سے پُر فضا مین ھم سانس لے رھے ھین جنگ و جدل اور بارود کی کئی اقسام کو ھمارے پڑوس بلکہ آدھے ایشیا مین آزمایا گیا اس کے مکمل اثرات ھمارے ملک کی فضا مین موجود ھین اس کے بعد نمبر آتا ھے پانی کا ۔۔۔۔۔ تو آپ مین سے کون ھے جسے علم نہین ھمارے پانی مین کتنی زھرین پیدا ھو چکی ھین بعض شہرون کے پانی مین تو جناب سنکھیا بہت بڑی مقدار مین شامل ھے جیسے سرگودھا شہر کے پانی مکمل سم الفار بن چکا ھے جن حکیمون کو خالص سنکھیا چاھیے وہ سرگودھا سے ایک لٹر پانی منگوا سکتے ھین مفت ملے گا خیر یہ لمبا رونا ھے اس پہ پھر کبھی لکھین گے بات مختصر کرتا ھون اب ان ھی وجوھات سے ایک تبدیلی انسانی جسم مین یہ آئی کہ انہین گرمی دانے نہین نکلتے اور جن کو نکلتے ھین وہ خوشیان منائین کہ وہ مزاجی اعتبار سے بہت سی خطرناک امراض سے دور ھین اب ذرا فلاسفی سمجھاتا ھون گرمی دانے کیون نکلتے ھین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گرمی تری کی وجہ سے کیا کہہ رھا ھون گرمی تری کی وجہ سے جب غیر طبعی طور پر جلد سے صفرا کا اخراج شروع ھوجا ئے تو اس نمکین رطوبت سے جلد پہ دانون کی صورت مین سوزش اور جلن اور خارش شروع ھو جاتی ھے دانے مختلف افراد مین مختلف نوعیت کے ھوتے ھین بعض لوگون مین شدید بے چینی اور شدید تکلیف کا باعث بنتے ھین حقیقت مین جسم مین فولاد اور ترشی یعنی سودا کی کمی ھو جاتی ھے مندرجہ ذیل پوڈر سے غدی نظام مین فورا تسکین شروع ھو جاتی ھے اور آپ کے گرمی دانے غائب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پوڈر۔۔۔۔۔۔ سنگجراحت کا 500گرام سفوف بنا لین اور اس مین اسٹارچ پوڈر بھی 500 گرام شامل کردین زنک آکسائیڈ 250گرام کافور کا سفوف 10گرام گلاب یا چنبیلی کی خوشبو 20گرام پسی پھٹکڑی سفید 20 گرام شامل کر لین
اب آپ کو بہترین اور گرمی دانون کا دشمن پوڈر تیار ھے جسم پہ لگائین فورا فوائد شروع ھو جائین گے