Thursday, July 19, 2018

تشخیص مزاج و تشخیص مرض 4

۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔ تشخیص مزاج و تشخیص مرض ۔۔۔ قسط نمبر 4۔۔۔۔
آج ھمارے موضوع مین تشخیص کے ایسے طریقے شامل ھین جو اس سے پہلے آپ نے آزماۓ نہین ھونگے خیر ایک بات کو مین عرصہ پہلے بھی آپ کو بتا چکا ھون کہ نبض کی رفتار سے مزاج کی پہچان بڑی حد تک درست کی جا سکتی ھے آئیے آج نئے سرے سے لکھتے ھین تو سنین۔۔۔
بلغمی مزاج۔۔۔ اس مین نبض کی ڈھڑکن یا رفتار فی منٹ 65 تک اگر ھو تو سمجھ لین مزاج بلغمی یا اعصابی ھے
سوداوی مزاج ۔۔۔۔ اگر نبض 65 سے اوپر چلی گئی اور 105 کے درمیان یعنی ان لکھے گئے فگر کے درمیان کہین بھی نبض کی رفتار فی منٹ ھے تو مزاج سوداوی ھی ھے
صفراوی مزاج ۔۔۔ اگر نبض 105 سے زیادہ 106 بھی ھو گئی تو مزاج صفراوی ھے
اب بہت سے لوگون کے ذھن مین سوال پیدا ھوا ھو گا بعض اوقات انسان تیز دوڑ کر آتا ھے یا کسی کو شدید ڈر یا خوف یا کسی اچانک ایسے حادثے مین نبض کی رفتار بھی بڑھ جاتی ھے یا دل والی سائیڈ پہ کبھی کبھی ریاح پھنس کر تیز دھڑکن کا سبب بن جاتے ھین اور دل کی رفتار فی منٹ ڈیڑھ سو بھی ھو سکتی ھے تو دوستو یہ سب علامات عارضی یا حادثاتی ھین ان سے ھٹ کر نارمل حالت مین یا عام مرض کی حالت مین مذکورہ لکھی گئی فی منٹ رفتارین نوٹ کرکے مزاج کا صحیح فیصلہ کر سکتے ھین آھستہ آھستہ تجربہ ھو جانے پہ عبور حاصل ھو جاتا ھے اور اب اس تحقیق کی بات کرتے ھین جس کا آپ کو شدت سے انتظار ھے یعنی تھرمامیٹر سے مزاج کی درست پہچان لیکن مین آپ سے پھر بھی یہی کہون گا نبض کی طرف توجہ کرین اور قارورہ کی طرف توجہ کرین ھان کچھ لوگون نے اس پہ بڑے تضحیک والے مضمون بھی لکھے ھین کہ بھئی کہان لوگون کے پیشاب سونگھتے پھرین تو مجھے بچپن مین پڑھی ایک کہانی یاد آتی ھے جس کا عنوان تھا ۔۔۔ دی گریپ آر سوئر۔۔۔ یعنی انگور کھٹے ھین یہ امید ھے کہانی سب نے پڑھ رکھی ھو گی بات کچھ یون ھے کہ جب علم انسان کی سمجھ مین نہ آۓ یا کوئی صحیح طرح سے سمجھا نہ سکتا ھون تا لازم بات ھے اس علم پہ کوئی نہ کوئی الزام لگاکر اسے رد کرنا ھی دل مطمئن ھو سکتا ھے یعنی جب انگور اونچائی پہ تھے حاصل ھو نہین سکتے تھے بس دل کو سمجھانے کے لئے انہین کھٹے کہہ دیا بالکل کچھ علم طب کے نااھل حضرات نے طب کی تضحیک کرکے اسے رد کرنے کی کوشش کرتے ھین اس وقت یہ لوگ دو باتین بھول جاتے ھین ایک روزانہ اپنے قارورہ اور براز سے معطر ھونے والی بات شاید ان کے بول و براز سے کوئی صندلی مہک نکلتی ھو دوسری بات ایلوپیتھک لیب مین دن رات بول براز کے ھی ٹیسٹ کیے جاتے ھین اور بو رنگ تک رپورٹ مین لکھا جاتا ھے تو طب کیون اس طریقہ تشخیص کو چھوڑے اور یہ بات بھی یاد رکھین طب کے پاس وسائل کی کمی کے باوجود سب سے مستند اور آسان طریقہ تشخیص ھے بے شمار ایسے مریضون کی نشاندھی کر سکتا ھون کہ جن کی تشخیص کے بعد جو کچھ لکھ کر دیا وھی کچھ لاکھون روپیہ لگا کر ٹیسٹ کروانے پہ بھی نکلا خیر یہ سب کچھ تو بہت تجربہ ھوجانے کے بعد ھی آتا ھے راتون رات نہین آجاتا یہ بات بھی ذھن مین رھے کہ کبھی کبھی تشخیص مجھ سے بھی غلط ھو جایا کرتی ھے پل پل مین رب کائینات کی قدرت سامنے آتی رھتی ھے خیر موضوع کی طرف چلتے ھین
آپ یہ تو جانتے ھی ھین کائینات مین ھر چیز کی مقدار پیمائش کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی آلہ مقرر ھی ھے مثلا وزن ۔۔لمبائی چوڑائی بلکہ وقت تک پیمانہ جات مقرر ھین لیکن آپ کے پاس پیمائش مرض کے لئے کوئی بھی تو آلہ نہین ھے لین پھر آج آپ کو انتہائی چھوٹے سے ھی آلہ سے مزاج کی درست تشخیص کا طریقہ کار بتلاۓ دیتے ھین اس آلہ کو استعمال کرنے کا احسن طریقہ سمجھاۓ دیتا ھون پہلے آپ نبض اور مریض کی پوری مرض کی ھسٹری سنین اب آپ کو کچھ نہ کچھ یہ اندازہ تو ھو گیا ھو گا کہ کونسا مزاج ھو سکتا ھے تو آپ اس کے مطابق مطلوبہ مقام کا ٹمپریچر لے کر حتمی فیصلہ کر سکتے ھین
جیسے اگر آپ کے پاس ایک مریض آتا ھے اپنی تکلیف بیان کرتا ھے تو آپ کے دل مین یہ بات جاتی ھے کہ ھو سکتا ھے یہ شخص اعصابی عضلاتی مزاج رکھتا ھے تو اسے چیک کرنے کے لئے آپ کہ آیا واقعی یہ شخص بلغمی مزاج ھی رکھتا ھے تو دائین کان اور جبڑے کے ساتھ نرم جگہ پر تھرمامیٹر رکھ کر حرارت نوٹ کرین اسی طرح عضلاتی اعصابی مزاج چیک کرنے کی جگہ دائین بغل مین تھرمامیٹر رکھین اب عضلاتی غدی مزاج کے لئے دائین آخری پسلی سے کولہے کی ھڈی تک کسی بھی نرم جگہ سے ٹمپریچر لین اب غدی عضلاتی مزاج چیک کرنے کےلئے بایان کان اور جبڑے کی ھڈی کے ساتھ نرم جگہ پہ تھرمامیٹر لگائین اسی طرح غدی اعصابی مزاج چیک کرنے کے لئے بائین بغل مین اور اعصابی غدی کے لئے بائین پسلی اور کولہے تک کسی بھی نرم جگہ کا ٹمپریچر لین
اب آپ سوچ رھے ھون گے ٹمپریچر سے اب اندازہ کیسے کرین تو ھم ایک طبی قانون تو سب ھی جانتے ھین کہ ھر تحریک مین سردی کی وجہ سے سکیڑ ۔۔۔ باقی مضمون اگلی قسط مین

Tuesday, July 17, 2018

تشخيص مزاج وتشخیص امراض 3

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تشخيص مزاج وتشخیص امراض۔۔۔۔۔قسط نمبر3۔۔۔۔
کل پوسٹ نہین لکھ سکا تھا آپ بھی انتظار کرتے رھے ھون گے ھوا کچھ یون کہ مجھے کامونکی جانا مجبوری تھا صبح ناشتہ وھین کیا پھر لاھور شہر چھوٹے چھوٹے کام کرتے کرتے دوپہر کا کھانا لکشمی طباق مین سرمد اور مین نے اکھٹے کھایا پھر کھانا ھضم کرنے کے لئے ھم نے شاہ عالمی مارکیٹ کے باھر گاڑیان پارک کین پھر پیدل پوری شاہ عالمی پاپڑ منڈی اور رنگ محل جواھرات کی مارکیٹ تک گھومے پسینہ اور گرمی نے اچھی خاصی خیریت پوچھی خدا خدا کرکے شام کے قریب لاھور سے نکلا کچھ دیر گوجرانوالہ مین ٹھہر کے ھمارے دوست اسفند صاحب کے ھان دعوت مٹن کڑاھی سیخی کباب اور تکہ جات سے پرلطف دعوت اڑائی گیارہ بجے رات گھر پہنچ سکا آپ سوچ رھے ھون گے مین تو خود بیمار تھا پھر اتنا کھانا یقین جانین سب سرمد اور میرے چھوٹے بھائی نے کھایا مین صرف ساتھ تھا اب ویسے بھی صحت مند ھون۔۔گروپ کے سب دوستون نے میرے لئے خلوص دل سے دعائین کین تھین اللہ ﷻ نے صحت عطا فرمائی ویسے بھی صحت کی خرابی مسلسل لمبے سفر رات رات بھر سفر جگ رتے کافی کافی روز نیند کا پورا نہ ھونا صحت کی خرابی کا سبب بنا کل ست انشاء اللہ اس موضوع پہ حسب وعدہ تسلسل سے لکھین گے آج آپ کی دلچسپی کے لئے ناخنون سے کچھ امراض کی تشخيص لکھے دیتا ھون ویسے آپ کو ایک بات بتا دون ھاتھ کی لکیرون مین اعصابی لکیر عضلاتی اور غدی لکیر مزید جو آپ کے لئے سب سے دلچسپ لکیر ھو گی وہ ھے قوت مردانہ یا شہوت کی لکیر اور قوت مدافعت کی لکیر اور مذید دیگر امراض کے متعلق لکیرین ضرور بتاؤن گا لیکن یاد رکھین یہ سب آپ نے معلومات اور علم کے لئے پڑھنی ھین میرا اصل ارادہ پہلے کڑے کو سونگھنا اور نبض کی رفتار سے تشخیص کرنا اور پھر تھرمامیٹر سے ھر مزاج کی پہچان کرنا اور پھر نبض کے کلیات اور نبض سے تشخیص مزاج اور قارورہ سے تشخیص اور آخر مین لکیرون والے علم پہ لکھین گے وہ بھی صرف آپ کی دلچسپی کی وجہ سے ورنہ ایسے علوم کچھ سند نہین رکھتے تو آئیے اب موضوع ﷽زیر بحث لاتے ھین
ناخن سے بہت سی امراض کا پتہ چل سکتا ھے اس طریقہ کو اب ڈاکٹر حضرات بھی استعمال کرتے ھین ایک بات یہ بھی یاد رکھین ناخن صرف ان امراض کا ھی اظہار کرتے ھین جو بیماریان خاندانی وراثت مین ملی ھون جیسے دل پھیپھڑے اور گردون کے امراض۔۔اب ناخنون کو چار حصون مین تقسیم کیا جاتا ھے لمبے ناخن چوڑے ناخن چھوٹے ناخن اور تنگ ناخن
اب ان چارون کی تفصیل کر لیتے ھین پہلے لمبے ناخن
جب بھی کسی شخص کے ھاتھون کے ناخن زیادہ لمبے ھون اس کی صحت بھی زیادہ اچھی نہین ھوتی ایسے لوگ مندرجہ ذیل امراض مین مبتلا ھوتے ھین
لمبے ناخن عموما پھیپھڑوں کے مریضون کے ھوتے ھین
یہ لوگ چہرے پہ چھائیون کے شکار ھوتے ھین
لمبے ناخنون پہ اگر پسیلون کے نشان بھی ھون تو گلے کی بیماریون کے شکار ھوتے ھین
اگر لمبے ناخن نیلے نیلے بھی ھون تو سمجھ لین دوران خون قطعی درست نہین ھے اور مریض جسمانی لحاظ سے کمزور بھی ھوتا ھے
اب آتے ھین چھوٹے ناخن۔۔۔ اگر ناخن چھوٹے ھون اوپر چاند کا نشان بھی ھو یا نہ ھون ایسے شخص کے دل کی حرکت بہت کمزور ھوتی ھے
اگر ناخن چھوٹے بھی اور چوڑے بھی ھون اور سائیڈون سے جلد کے اندر دھنسے ھوۓ ھون تو ایسا مریض اعصابی امراض کا شکار ھے اگر ان ناخنون پہ پسلیون کی ھڈیون والے نشان ھون تو مذکورہ امراض مین شدت ھے
اب لمبے اور تنگ ناخن۔۔۔ناخن لمبے اور تنگ ھون تو دل کے امراض کا شکار ھے
اب چوڑے ناخن۔۔ناخن چوڑے بھی ھون اور درمیان سے ابھرے ھوۓ ھون تو یہ شخص کسی بھی وقت فالج کا شکار ھوسکتا ھے یہ خطرہ اس وقت اور بڑھ جاتا ھے جب آگے سے ناخن بندوق کی گولی کی طرح ھون یعنی آگے سے نوکدار ھون اگر ان پہ چاند کا بھی نشان ھون اور ان کا رنگ سفیدی مائل نیلا ھو تو فالج آچکا ھے اور بیماری پرانی ھو چکی ھے
چاند کے نشان اور ناخن۔
چاند کے نشان ھمیشہ تیز حرکت دل اور تیز دورہ خون کی علامت ھوتے ھین یہ عموما دل پہ بوجھ کی بھی نشاندھی کرتے ھین عموما ایسے لوگ زیادہ تر برین ھیمرج کا شکار ھوتے ھین
اگر چاند کے چھوٹے نشان ھون یہ خون کے سست دورے کی نشاندھی کرتے ھین اور کمزور حرکت قلب کی نشاندھی کرتے ھین یاد رکھین جب انسان مرنے کے قریب ھوتا ھے تو سب سے پہلے یہ چاند کا نشان نیلاھٹ کی شکل اختیار کرتے ھین اگر چاند کے نشان نیلے ھو جائین تو سمجھ لین بندہ کچھ ھی دیر مین مرنے والا ھے پھر بالکل ھی چند سانس باقی رہ گئے ھون تو بندے کے ناخن مکمل نیلے سیاھی مائل ھو جایا کرتے ھین آخری بات ناخنون پہ بے شمار ایسی تحقیقات لکھی جا چکی ھین جن مین کچھ صداقت ھے وہ مین نے آپ کو لکھ دین باقی مضمون آئیندہ قسط مین اللہ حافظ

Sunday, July 15, 2018

تشخیص مزاج وتشخیص امراض 1

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔ تشخیص مزاج وتشخیص امراض ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قسط1۔۔
آج میرے عزیز دوست میان احسن صاحب میرے پاس عیادت و خیریت ومزاج پرسی اور ھلکی پھلکی طبی گفتگو مین ان سے وعدہ کیا تھا کہ علم طب کے ان تاریک خانون سے بھی روشناس ضرور کرائین گے جن کا علم عام طبیب کو نہ ھو سکا اور ایسے رازون سے بھی پردہ اٹھائین گے جو ابھی تک اچھے اچھے طبیبون تک نہین پہنچ سکا ابتداء مین کچھ ماضی بعید اور کچھ ماضی قریب کی ایسی تحقیقات پہ روشنی ڈالتے ھین جو صرف نظریات تک ھی محدود رھی اور کچھ پہ بحث مباحثہ بھی چلتا رھا ۔۔۔۔ علوم کی اسراری شاخون مین مشہور ترین شاخین علم نجوم علم رمل علم الاعداد علم جعفر علم الاید یا پامسٹری چہرہ شناسی ان سب علوم کے ماھرین نے اپنی اپنی جگہ طب کے موضوع پہ بھی کچھ نہ کچھ سر دھنا ھے
مضمون کی تفصیل لکھنے سے پہلے مین چند دوستون کو جو راتون رات امیر ھونے کے خواب دیکھنے کے قائل ھین یا جن کا منشور یہ ھے کہ فورا اصل بات کا علم ھو جاۓ باقی چھوڑین ایسے تمام دوست میری کتاب تشخیص بذریعہ نبض پڑھین اور اپنا کام چلائیں اس کی پی ڈی ایف فائل نیٹ پہ موجود ھے اللہ اللہ تے خیر صلا ۔۔۔۔ مین نے مضمون بہت آرام سے اور مکمل احاطہ کرتے ھوۓ لکھنا ھے جو کافی قسطون مین آۓ گا صبر سے پڑھین گے تو وہ کچھ حاصل کر لین گے جس کا آپ نے تصور بھی نہین کیا ھو گا اس مضمون کو لکھنے کے لئے آزاد بھٹو صاحب عرصہ سے کہہ رھے تھے آج بھی آزاد بھٹو صاحب نے فون پہ یہی مطالبہ دھرایا پھر میان احسن صاحب نے بھی زوردیا تو ناسازی طبع کے باوجود قلم کا نشتر تیز کیا خیر اپنے موضوع کی طرف چلتے ھین مین بات اسراری علوم کی کررھا تھا ان سب علوم کی مستند کتابین اٹھا کردیکھ لین یا پھر گروپ مین کوئی دوست ان مین سے کسی بھی علم پہ عبور رکھتا ھو تو وہ میری بات کی تصدیق کردے گا بس مین مختصراً ھی آپ کو ان علوم مین طب کی تشریحات بتاؤن گا سب سے پہلے بات کرتے ھین علم نجوم پہ
علم نجوم یا علم فلکیات ستارون کی رفتار ان کی ایک دوسرے پہ نظرات جن مین نظر تثلیث نظر تسدیس اور نظر تنصیف کا عمل دخل رفتار کے درجات ثانیہ ثالثہ دقیقہ تک حساب پھر ستارہ کس گھر مین کس وقت ھے یعنی زائچہ کے بارہ گھر ھوتے ھین جو پیدائش سے شروع ھوتے ھین اب ان مین بیت سفر بیت الزوج بیت الموت تک سب کچھ ھوتا ھے اس مین تشخیص یہان تک ھے کہ ایک شخص کی پیدائش سے شروع ھوتے ھین اسے کیا کیا مرض آۓ گی اور کب کس تاریخ کس وقت یہ بیمار ھوگا اور موت کب کس سال کس دن کس وقت آئے گی اب بعض لوگون کے بارے مین علم نجوم بالکل درست تشخیص کردیتا ھے اس مین بھی اس شخص کی درست تاریخ پیدائش وقت پیدائش تک معلوم ھو البیرونی بیماری آنے پہ دوا تک علم نجوم سے تجویز کرتا تھا میری اس سب بحث سے مراد یہ ھے کہ ایک حکیم بننے کے لئے پھر ضروری ھے کہ آدمی کم سے کم البیرونی کے پاۓ کا پھر علم نجوم بھی ساتھ پڑھے جوکہ اس دور مین ناممکن ھے ھان ماضی قریب مین جب کوئی شخص عالم بننے کے لئےدرس نظامی پڑھتا تھا تو اس وقت تک اسے مکمل عالم نہین سمجھا جاتا تھا جب وہ دینی تعلیم دورہ حدیث اور دورہ قرآن کرنے کے علاوہ چند علوم نہین ہڑھتا تھا جس مین منطق بیست باب اورعلم طب پڑھاۓ جاتے تھے بیات باب مین اسطرلاب جو ایک گولے کی شکل مین ھوتا ھے زمین اور سورج اور دیگر ستارون کے درمیانی فاصلے ماپنے مین بھی مستعمل ھے اب اس مین کافی حد تک علم نجوم ضرور پڑھایا جاتا تھا علم رمل بھی ھندوؤآنہ فن پیش گوئی ھے جس مین پتریان پھینک کر مرض مصیبت اور ان کا حل بتایا جاتا ھے علم اعداد مین تو لمبے چوڑے باب ھین کیسے ایک شخص کے اعداد کس مرض اور یہ شخص کس مزاج سے تعلق رکھتا ھے کس طبیعت کا مالک ھے سب بتاتے ھین اس مین نو مزاجون کا ذکر ھے کونسا عدد کس پہ کب غالب ھے کب مغلوب ھے ابجد سے مدد لی جاتی ھے علم جعفر مین بھی ابجد سے ھی مدد لی جاتی ھے اب سب سے زیادہ تشریح طب کے موضوع پہ علم جعفر نے ھی کی ھے اس مین جدول بناۓ جاتے ھین جن کے مستحصلہ اور پھر ان کے استخراج کیے جاتے ھین یاد رکھین آپ نے ابجد کا صرف ایک قانون پڑھا ھوگا جو اس طرح ھے ابجد ھوز حطی کلمن سعفص قرشت ثخذ ضظغ لیکن علم جعفر مین 28اقسام کی ابجد سے کام لیا جاتا ھے جیسے حروف تہجی کی تعداد بھی 28 ھے اسی طرح ابجد کے قائدے بھی اٹھائیس ھی ھین مزے کی بات تشخیص مزاج تشخیص مرض اور تجویز دوا تک علم جعفر مین ھے مین یہ سب کچھ اس لئے لکھ رھا ھون تاکہ آپ آپکو علم ھو سکے کہ علم طب مین تشخیص مرض اور مزاج اور دواتک کے دیگر زرائع بھی ھین لیکن یہ سب ناقص التشریحات ھین آپ یقین سے اور درست تجویز ان سے پھر بھی نہین کرسکتے میرا موڈ تو نہین تھا یہ سب کچھ لکھنے کا کیونکہ جس کا آپ کو فائدہ نہین تو صرف آپ کااور اپنا ٹائم ھی ضائع کرناتھا اس کاآپ کو اتنا ھی فائدہ ھو گا باقی آئیندہ

تشخیص مزاج اور تشخیص امراض 2

۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔تشخیص مزاج اور تشخیص امراض ۔۔۔قسط2۔۔
اس کا آپ کو اتنا ھی فائدہ ھو گا غلط افواھون سے بچ سکین گے غلط تشریحات سے بچ سکین گے پچھلی پوسٹ مین کچھ لوگون نے کمنٹس دیے کہ یقین نہین ھونا چاھیے تو میرے بھائی اسی سردردی مین تو لگا ھون کہ سمجھ ضرور لین لیکن یقین نہ کرین ھمارا موضوع تشخیص مرض اور تشخیص مزاج ھے مین نے اب سب سے پہلے سرسری ذکر علم نجوم پہ کیا تو اس لئے کیا کہ علم نجوم مین زائچہ بنایا جاتا ھے تو اس کے بارہ گھر ھوتے ھین یا بارہ خانے ھوتے ھین اب ترتیب سے سب گھرون کے نام لکھے دیتا ھون ۔۔۔ بیت الطالع۔۔۔بیت المال ۔۔۔بیت الاقربا۔۔بیت الارض ۔۔بیت اولاد والعشق۔۔۔بیت الامرض ۔۔ بیت الزوج ۔۔۔بیت الخوف ۔۔۔بیت السفر ۔۔ بیت العزت ۔۔۔ بیت الامید ۔۔۔بیت الاعداء
اب دیکھ لین چھٹا گھر بیت الامرض کا ھے اس گھر مین مرض مزاج اورعلاج آتا ھے اسی طرح نجوم مین عمل دخل بروج اور ستارون کا ھے تو یاد رکھین نجوم مین بروج کے چار ھی مزاج ھین اب ھلکی سی یاداشت اس پہ بھی لکھے دیتا ھون
آتشی بروج۔۔۔حمل ۔۔اسد قوس۔۔مزاج گرم خشک یعنی صفراوی طبع آتشی ھے ان کا تعلق خونی امراض سے ھے
خاکی بروج۔۔۔ثور۔۔سنبلہ ۔۔جدی ۔۔مزاج سرد خشک یعنی سوداوی ھے طبع خاکی ھے پرانی اور دیرینہ امراض سے تعلق ھوتا ھے
بادی بروج۔۔جوزا۔۔۔میزان ۔۔۔دلو ۔۔۔مزاج گرم تر مزاج دموی طبع بادی ان کا تعلق پھیپھڑوں اور دل کے امراض سے ھے
آبی بروج ۔۔ سرطان ۔۔۔عقرب ۔۔حوت۔۔مزاج بلغمی سردتر طبع آبی ھوتی ھے پیشاب اور زکام اور رطوبتی امراض سے متعلق ھین
بس میری بحث کا تعلق صرف ان باتون سے ھے باقی علم نجوم کی پیش گوئی درست ھے یا غلط یہ ھمارا موضوع نہین ھے براہ کرم کمنٹس صرف متعلقہ موضوع پہ ھونگے تو بات درست ھو گی اس کے علاوہ باقی کمنٹس ڈلیٹ کردیے جائین گے جواب تو بہت دور کی بات ھے دوسری بات غلطی مجھ سے بھی ھو سکتی ھے مین بھی آپ جیسا ان پڑھ سا بندہ ھون میرا کونسا دعوہ ھے کہ عالم بےبدل ھون مجھے بھی طالب علم سمجھا کرین بھئی سچ تو یہ ھے اللہ کی کائینات مین میرے جیسون سے ھزارون سینئر بزرگ موجود ھین جن کے سامنے اپنی حیثیت طفل مکتب جیسی ھے خیر بات موضوع کی طرف موڑتے ھین جیسا کہ مین پہلے لکھ چکا ھون اسی طرح علم الاعداد مین بھی ھندسون کا مزاج اور تقسیم موجود ھے جس کی کچھ تشریح پچھلی پوسٹ مین کر چکا ھون اسی طرح پامسٹری مین بھی ھاتھ کی لیکرون سے اندازے لگاۓ جاتے ھین اب پامسٹری مین ایک نام بہت بڑا اور مشہور بھی ھے وہ ھے۔ کیرو۔اس شخص نے اس فن مین عمدہ تشریحات کی ھین لیکن سب سے زیادہ ھاتھ کی لکیرون سے تشخیص مزاج و مرض پہ ھندی طب آیورویدک نے کیا باقائدہ تشخیص بذریعہ ھاتھ کی لکیرون سے مکمل کتابین تک لکھی لیکن یہ بھی طریقہ ناکام رھااس سسٹم مین بہت کچھ عمل دخل بدھ مذھب کابھی رھا ھے اب یہ طریقہ بھی غلط اور نامکمل تھا اب کسی کے دونون ھاتھ ھی نہ ھون تو وہ تو گیاکام سے ۔۔۔ اب اسی طرح باقی طریقہ تشخیص جن کا ذکر ھو چکا ھے ان مین ابہام اور غلطیان بے شمار ھین جیسے کسی کی درست تاریخ پیدائش میسر نہین ھے تو صحیح تشخيص ممکن نہین ھے اب ایک گونگا کیسے اپنا نام بتاۓ یاتاریخ پیدائش بتاۓ یعنی ابہامات بہت زیادہ ھین اب ان سب مین معتبر طریقہ چہرہ شناسی ھے جس پہ طب نے باقائدہ دلائل سے زور بھی دیا ھے چہرہ دیکھ کر بے شمار طبیب بلکہ ھر بڑاطبیب کسی نہ کسی حد تک مرض کی تہہ تک پہنچ جاتاھے اب بعض بعض امراض مین تو اتنا تجربہ ھوجایا کرتا ھے کہ حکماءفتوہ تک لگا دیتے ھین اب ھمارے سید ادریس گیلانی صاحب اس فن مین بہت طاق ھین ان سے بھی درخواست کرون گاکہ وہ اس فن کی کچھ تشریحات کرین ھاتھ کی انگلیان اور پورے دیکھ کر بہت کچھ بتایا جا سکتا ھے لیکن اگر یہ کہاجاۓ کہ سرسے لے کر پاؤن تک ھر مرض کی تشخیص ممکن ھے تو قطعی نہین بلکہ چیدہ چیدہ امراض پہ ممکن ھے اب اس فن پہ سب طریقہ علاج یعنی ایلوپیتھک ھیوموپیتھی آیورویدک طب یونانی سب اس طریقہ تشخيص کو کچھ نہ کچھ استعمال ضرور کرتے ھین
لیکن یاد رکھین دو فن تشخیص براۓ مزاج و مرض جن کا وزن سب سے بھاری ھے جن کاآج تک کوئی مقابلہ نہ ھو سکا وہ ھے بذریعہ نبض اور بذریعہ قارورہ
لیکن اس کے باوجود تحقیق رکی نہین ھے نئی سے نئی تحقیقات حکماء کرام سامنے لاتے رھے جن مین کپڑاسونگھ کر مرض کابتانا بھی شامل ھے یہ طریقہ تشخیص بہت سے لوگون کے لئے بہت حیران کن ھو گا لیکن انشاء اللہ اگلی پوسٹ مین اس کی وضاحت مختصر تشریح سے کردونگا یہ کوئی مشکل یا پراسرار طریقہ نہین ھے بلکہ بہت سادہ سا سسٹم ھے باقی میرے پاس جو اب سے نیا طریقہ تشخيص مرض و مزاج ھے وہ ھے جسم کے مختلف حصون کاٹمپریچرلے کر تشخيص کرنا یا پھر ایک دوسرا طریقہ بھی ھے جس کے بارے مین عرصہ پہلے ایک پوسٹ بھی لکھ چکا ھون وہ ھے نبض کی رفتارسے مزاج کی پہچان باقی آئیندہ

Friday, July 13, 2018

انتشار کا ختم نہ ھونا ایک خوفناک مرض

۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔ انتشار کا ختم نہ ھونا ایک خوفناک مرض۔۔۔۔
غالبا تین یا چار روز ھوۓ ھمارے ایک گروپ ممبر نے فون پہ اپنی الم ناک داستان سنائی ان کی بات سن کے میرے دماغ کو حقیقی معنون مین شاک لگا طبیعت شدید بوجھل ھوئی
ھمارے گروپ ممبر ھین ان کا نام بھی نہین لکھا جا سکتا انتہائی شریف انسان ھین آپ کی عبرت کے لئے ان کی مرض آپ کو بتارھا ھون اب بات غور سے سنین مریض شادی شدہ اور ایک بچے کے باپ بھی ھین شادی کو تین چار گزرے ان کو معمولی سی ڈیپریشن کی شکایت ھوئی حالات وواقعات کے مطابق مسلسل تعلیمی مغز ماری یا کسی اھم ذمہ دار پوسٹ پہ فریضہ سرانجام دینے والے لوگ بہت ھی کم بچا کرتے ھین ڈیپریشن سے اب ان صاحب سے بھی کچھ معاملہ ایسا ھی تھا اب ان کا حقیقی علاج تو مقام کی تبدیلی کسی پرفضا مقام پہ چند روز آرام تھا لیکن قلت وقت کے باعث یا کسی دیگر مصروفیت کے باعث ایسا نہ کرسکے بلکہ سیدھا سیدھا ڈاکٹر سے جا ملاقات کی اور اب ڈاکٹر صاحب نے بھی بجائے مخلصانہ مشورہ دینے کے دوائیں تجویز کردین اب انہین یہ علم نہین تھا کہ ڈاکٹر نے کیا دوا لکھی ھے بس دوا کی پہلی خوراک کھانے کے بعد انہین انتشار شروع ھو گیا پہلے تو انہون نے صبر اور حوصلہ کیا لیکن جب انتشار نے ٹوٹنے کا نام نہ لیا تو موصوف نے پھر ڈاکٹرون سے رابطہ کیا بے شمار علاج معالجہ کے باوجود انتشار نہ ٹوٹا اسی طرح چالیس گھنٹے گزر گئے اب ڈاکٹر نے اپریشن کا فیصلہ کیا اور عضو تناسل کی طرف آنے والی خون کی نالیان جن مین خون کا دورہ تیز ھونے سے انتشار ھوا کرتا ھے ان نالیون کو کاٹ کر ٹانکے لگا دیے تب انتشار ختم ھوا اس اپریشن سے ان کی دنیا تاریک ھو گئی کیونکہ اب ان کو انتشار تو آسکتا ھی نہین اب انہون نے مجھ سے رابطہ کرکے مشورہ لیا تو مین صاف کہا دواؤن سے اب انتشار نہین آسکتا جب تک خون کی روانی بحال نہ ھو اس لئے دوبارہ سرجری کا مشورہ دیا جس مین مصنوعی نالیان ڈالکر گزارے لائق دوران خون بحال کیا جا سکتا ھے لیکن عرصہ بیس سال بعد دوبارہ نئے سرے سے نالیان لگوانی پڑتی ھین اس اپریشن پہ کم سے کم پانچ تاسات لاکھ خرچہ آتا ھے اللہ تعالی ان کو صحت عطا فرمائے
اب بات کرتے ھین کہ یہ مرض ھے کیا؟؟؟
اس مرض کو میرے دوستو ۔۔۔۔فریموس۔۔۔۔۔ کہتے ھین اس مرض مین بغیر شہوت کے بھی عضوتناسل ھر وقت ایستادہ ھی رھتا ھے بے شک انزال ھو جاۓ اس کے باوجود انتشار نہین ٹوٹتا بلکہ اس مین تمدد اور کھچاؤ برقرار رھتا ھے لازم بات ھے اس حالت مین انسان کو نہ تو چھوٹا پیشاب کرسکتا ھے بلکہ مقام انتشار پہ درد ھونا شروع ھو جاتا ھے اب اس حالت مرض کی تین کیفیتین ھین جن کو علیحدہ علیحدہ لکھتا ھون
پہلی صورت مین یہ ھو سکتا ھے کہ ریاح بہت زیادہ اکھٹے ھوکر عضوتناسل کے جوف مین خاصی مقدار مین اکھٹے ھو جائین جس سے عضوتناسل کی رگین پھولی رھین اور مسلسل ایستادگی بحال رکھتی ھین اس کا علاج ریاح کا اخراج ھے
دوسرا سبب۔۔۔ کثرت خون اور حرارت سے مسلسل حالت انتشار رہ سکتی ھے اس کا علاج دوران خون کے بہاؤ کو کم کرنا اور حدت کو کم کرنے سے مرض ٹھیک ھوا کرتی ھے مسہل نمبر پانچ دین ساتھ مدر ادویات کا سہارہ لین املی آلوبخارہ کا جوشاندہ بھی مفید رھتا ھے
اب تیسری حالت مین یہ ھوتا ھے منی کی پیدائش بہت زیادہ بڑھ جاۓ اور مسلسل انتشار آکر طبیعت مدبرہ اس کے اخراج پہ راضی رھے افسوس یہ کیفیت ھمارے آب وھوا مین بہت ھی مشکل ھے کبھی یہ علامت تھی اب نہین ھے بہرحال اس کا علاج سودا کا پیدا کرنا ھے یاد رکھین یہ آخری والی مرض کی علامات مرض عاقونہ سے بالکل مشابہہ ھوتی ھین لیکن مرض عاقونا مین خصتین پہ اور عضوتناسل تک آنے والی نالیون پہ ورم ھوا کرتا ھے تمام قدیم حکماء نے جب بھی کوئی ایسا ممسک نسخہ جو امساک کو انتہائی طویل کرتا ھو اس کے ساتھ نسخہ کی سند کے لئے یا نسخہ کا رعب بڑھانے کے لئے ھمیشہ ساتھ توڑ بھی لکھے ھین کہ اگر انتشار نہ ھی ٹوٹ رھا ھو تو آپ اچار کھائین یا نمک چاٹین یا لیمن کھائین اب اچار اور لیمن والی تو ایک ھی بات تھی یعنی کھٹائی کا استعمال اور آپ جانتے ھی ھین اس سے سودا پیدا ھوا کرتی ھے یہ اس حالت مین زیادہ فائدہ مند تھا جب منی کی مقدار بھی بہت زیادہ ھو اور گاڑھی سویان بن کر نکلتی ھو ایمانداری کی بات ھے یہ کیفیت آج سے سوسال پہلے یا کم سے کم ستر سال پہلے تک بالکل تھی اس کی وجہ تھی اس دور مین غذا بالکل خالص اور سادہ تھی لوگ جو بھی غذا کھاتے تھے اس سے صالح الکیموس ھی بنتا تھا اس زمانہ مین اگر غذا صالح الکیموس بھی کھائی جاۓ تو اندر جاکر قوام ردی الکیموس ھی بنتا ھے پھر کہان وہ منی کی پیدائش اور کہان وہ طاقت سب کچھ غلط ھو چکا مین گھر سے نکلون اور لاھور تک جاؤن تو کم سے کم ایک وقت کا کھانا ساتھ لے جاتا ھون اور ھر ممکن وھان کے کھانون سے بچتا ھون اگر زیادہ دن ٹھہرنا پڑ جاۓ تو مکمل انتظام کے ساتھ جاتا ھون باقی پریشانی نہین ھوتی وھان گھر اپنا ھے پورے لاھور مین خالص دودھ کی چاۓ ملنی ممکن نہین ھے کالے خان کی چاۓ لاھور مین بہت مشہور ھے مین نے بھی وھان ایک گھونٹ چاۓ پی ھے بس مزا آگیا کیا بتاؤن خیر اپنے موضوع پہ آتے ھین آپ سوچ رھے ھون گے نمک سے کیسے انتشار ختم کیا جا سکتا ھے تو دوستو نمک کے زیادہ مقدار مین کھانے سے دوران خون قلب مین دورہ زیادہ کردیتا ھے جس کی وجہ سے عضوتناسل کی نالیون مین خون کا دباؤ کم ھو کر انتشار ٹوٹ جاتا ھے خیر اس مرض فریموس کا علاج علامات اور مزاج کے مطابق کرین اگر ریاح غلیظہ ھین تو ھینگ ماشہ واؤوڑنگ تین ماشہ نمک سنگ تین ماشہ زیرہ سفید چار ماشہ سنڈھ پانچ ماشہ کالی مرچ دو ماشہ مگھان ماشہ قسط 8ماشہ زردچوب ٩ماشہ چترک 10ماشہ اجمود 11ماشہ قند سیاہ تولہ پیس کرسفوف بنا لین تین ماشہ تک کھائین امید ھے آپ مرض اور اس کا علاج سمجھ گئے ھونگے بس اتنا ھی کافی ھے
ایک اھم بات۔۔ میری کوشش ھوتی ھے کہ آسان سے آسان الفاظ اور عام فہم انداز مین لکھون تاکہ سب سمجھ لین دراصل طب کی جو اصل زبان ھے اس کو سمجھنا ھرایک کے بس کی بات نہین ھے اور یہ بات بھی یاد رکھا کرین کہ مضمون کی شکل مین پوسٹ ھمیشہ اطبا کے لئے ھوتی ھے بعض دفعہ اصطلاحات استعمال کرنی پڑتی ھین جس کے ایک لفظ مین بہت لمبی تشریح ھوا کرتی ھے جیسے مین نے آج کی پوسٹ مین دو لفظ صالح الکیموس اور ردّی الکیموس لکھے ھین انہین اطبا اچھی طرح سمجھتے ھین ایسے الفاط کا مفہوم طب پڑھے بغیر سمجھنا بہت ھی مشکل ھوتا ھے اس لئے عام قاری ایسے سوالات کمنٹس مین نہ کیا کرین جن کا مفہوم آپ کو سمجھانا ممکن نہین یا بندہ ایک ماہ مین سمجھاسکے کل کسی نے مجھ سے انباکس پوچھ رکھا تھا کہ یہ کچلہ مدبر کیا چیز ھوتا ھے اب اس سوال کے جواب کے لئے پہلے تو اسے مدبر کا مفہوم سمجھاؤن پھر کچلہ بتاؤن خود اندازہ کر لین یہ دوچار گھنٹہ کاکام ھے
دوسری بات اکثر یہ دیکھا ھے گروپ مین پوسٹ پہلے سے میری لکھی ھوتی ھے لوگ باربار پھر اسی مرض کا سوال کررھے ھوتے ھین براہ کرم جو بھی نیا قاری گروپ مین آۓ مجھ سے سوال کرنے سے پہلے میری پوسٹین گروپ مین سرچ کر لیا کرین مزید کسی بھی پوسٹ کا آپ کو اگر لنک چاھیے ھوتا ھے تو سرمد وقاص صاحب سے کہا کرین وہ انشاء اللہ آپ کو لنک ضرور دین گے باقی انباکس نسخہ جات پوچھنے کے بجائے گروپ مین پڑھا کرین میرا اصول ھے مین کبھی بھی فیک نسخے نہین لکھتا یہ آپ سے وعدہ ھے مخلوق خدا کی خدمت کرنی ھے اللہ گواہ ھے وہ دیکھ رھا ھے مین اپنی طرف سے ھردوا درست لکھتا ھون اس مین غلطی کا شائبہ تک نہین ھوتا شفا تو میرے اللہ نے دینی ھے انشاء اللہ جو بھی شخص میری لکھی دوا بناۓ گا رزلٹ ضرور ملے گا اور میری کوشش ھوتی ھے سادہ اور آسان دوائیں لکھون تاکہ ھر کوئی خود سے بنا لے مشکل مین نہ پڑے پھر بھی بات کی سمجھ نہ آۓ تو کوشش کیا کرین اپنے کسی بھی قریبی اچھے طبیب سے رابطہ کرکے پوچھ لین اگر کوئی چارہ نہ ھو تو مین بتاؤن گا یا گروپ مین ھمارا کوئی بھی طبیب آپ کی راھنمائی ضرور کرے گا اپنے سوالات پوسٹ کی شکل مین پوچھا کرین کمنٹس مین نہ پوچھا کرین آپکا انتہائی شکریہ جو آپ نے مجھے اتنی دیر پڑھا جزاک اللہ ۔۔۔۔ اللہ تعالی آپ پہ اپنی رحمتین نازل کرے ۔۔۔ آپ بہت ھی اچھے ھین۔۔میرے لئے بھی دعا کےلئے ھاتھ اٹھا دین

Thursday, July 12, 2018

ھنگو اشٹک چورن

۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔ھنگو اشٹک چورن ۔۔۔۔۔۔۔
سنڈھ ۔۔مرچ سیاہ ۔۔۔۔فلفل دراز۔۔۔اجوائن ۔۔۔ سیندھیا نمک ۔۔۔زیرہ سفید۔۔زیرہ سیاہ ۔۔ھینگ بریان۔۔۔ برابر وزن پیس کر سفوف بنا لین بعض حکماء اس مین باقی ادویات تولہ کے حساب سے اور ھینگ ڈیڑھ ماشہ بریان شدہ شامل کرتے ھین لیکن حقیقت مین ھینگ کی پوری مقدار ھی شامل کرنی چاھیے
یہ نسخہ اس لئے آپ کو لکھا ھے کہ یہ دوا ھر وید دواخانہ کی لازمی زینت ھوا کرتا ھے اور دید کی مشہور کتابین جن مین چکردت۔۔بھاوپرکاش ۔بھیشج رتناولی یوگ رتناکر اور یوگ چنٹا منٹری مین ان سب مین بہت ھی تعریف سے لکھا ھے
مقدار خوراک ماشہ تا تین ماشہ ھمراہ گرم پانی یا عرق سونف دین اب ان کتابون مین اسے کھانے کا نرالہ انداز لکھا ھے کھانا شروع کرتے ھی اس دوا کو گھی مین ملا کر پہلے لقمہ مین لپیٹ کر کھانے سے ھاضمہ بہت ھی تیز ھوتا ھے خیر آپ سادہ طریقہ سے ھی کھائین
فوائد ۔۔بدھضمی ۔پیٹ درد۔۔ نفرت طعام ۔اپھارہ ۔۔پیٹ مین گڑگڑ کی آوازین آنا ۔ رقیق دستون کا آنا۔۔درد ریح ۔۔ قولنج ۔ باؤگولہ ۔ نفخ شکم
یاد رکھین جن مریضون کو کھانا کھاتے ھی پاخانہ کی حاجت ھو جایا کرتی ھے وہ واقعی اسے چند روز گائے کے گھی مین چرب کرکے استعمال کرین مرض درست ھو جاۓ گی
ذاتی تجربہ کی بنا پرآپ کو بتارھا ھون کہ پیٹ درد مین فورا ھی فائدہ دیتا ھے
اب ایک راز بھی بتائے دیتا ھون بعض دواخانون نے اس مین دو چیزون کا اضافہ کرکے اس دوا کو مذید تیز تر کردیا تھا اور بہت ھی پیسہ کمایا ھے اب اس بات کو بہت ھی راز مین رکھا گیا ھے آپ اس راز سے بھی فائدہ اٹھا لین یہ دو دوائیں ھلیلہ زنگی اور سجی کھار تھین کچھ نے سجی کھار کی جگہ سوڈابائی کارب ملا کر وھی فائدہ لے رھے ھین اب ایک اور تجربہ بھی بتا رھا ھون کہ اگر مذکورہ دوا کی ایک خوراک مین رتی تا دورتی چھلکا جڑ مدار کا بھی پیس کر شامل کرین گے اور بے شک کیپسول بنا لین یا گولیون کی شکل دے لین پھر آپ بے شک ایلوپیتھک پیٹ درد کی ھر دوا جب کام نہ کر سکے یعنی پیٹ درد نہ روک سکے تو پھر اس دوا کو استعمال کرین منٹون مین پیٹ درد رفع ھو گا
اسے کہتے ھین تحقیق کرنا ۔۔۔۔ مداری کرنے کو تحقیق نہین کہتے

آپکی اپنی پیدا شدہ ذھنی تحریک

۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔ آپکی اپنی پیدا شدہ ذھنی تحریک۔۔۔۔۔۔
ھر شخص ایک بات اچھی طرح جانتا ھے کہ جب بھی آپ کسی دوست سے ملتے ھین تو آپ اس کا صرف چہرہ دیکھ کر ھی بخوبی اندازہ لگا لیتے ھین کہ آپ کادوست اس وقت کس پوزیشن یا کیفیت مین ھے یا تو آپ کہین گے خیریت تو ھے بڑے پریشان لگ رھے ھو یا پھر آپ اسے کہین گے جناب آج کونسا خزانہ ھاتھ لگا ھے بڑے خوش خوش نظر آرھے ھین جناب یا پھر آپ یہ بھی سوال کردیتے ھین خیریت تو ھے کس سے لڑائی ھوئی ھے بڑے غصہ مین لگ رھے ھو یعنی آپ کسی کا بھی چہرہ دیکھ کر خوشی غم و غصہ افسردگی یا بیماری کا اندازہ یا قیافہ لگا لیتے ھین اسے دوسرے لفظون مین قیافہ شناسی بھی کہہ سکتے ھین یعنی ایک حس ایسی بھی آپ کے اندر موجود ھے جس سے کسی بھی انسان سے سوچنے کے انداز کا آپ پتہ لگا لیتے ھین اسے آپ ابتدائی ٹیلی پیتھی بھی کہہ سکتے ھین حقیقت یہ ھے کہ ھمارا جسم اپنے خیال کے تابع ھے جو کچھ بھی ھم سوچتے ھین اس کا اظہار چہرے اور ھمارے جسم کی حرکات سے ھوتا ھے اگر ھم منفی یا مایوس کن باتین سوچ رھے ھین تو ھمارے چہرے پہ افسردگی دکھائی دے گی اور ھم اپنا جو بھی کام کرین گے زبردستی ھی کرین گے دل لگا کر خوشی خوشی نہین کرین گے جس کی وجہ سے ھم اس کام سے جلد ھی اکتا جاتے ھین یعنی بور ھو جاتے ھین اب ان تمام باتون سے یہ بات بھی ثابت ھوتی ھے کہ ھمارے بیمار ھونے مین ھمارے خیالات کا بھی بہت کچھ حصہ ھوتا ھے
اگر ھم اپنے ذہن کو یہ تحریک دین گے کہ مین یہ کام نہین کر سکون گا کیونکہ میری طبیعت ٹھیک نہین ھے تو لازماًوہ کام کبھی بھی سرانجام نہین دے سکین گے وہ ادھورا ھی رہ جاۓ گا
اسی طرح اگر ھم روز سوچین کہ مین اپنے آپ کو پہلے سے بہتر محسوس کررھا ھون تو ھمارا جسم جلد ھی اس خیال سے فوری متاثر ھوگا اور ھم جلد ھی اپنے اندر صحت مندی کی لہرین محسوس کرنے لگین گے
اب آپ کو ذرا نفسیات کے اصول سے بات سمجھاتا ھون۔۔ اس ذاتی ذھنی تحریک کے نفسیاتی اصول کی بنیاد دراصل یہ ھے کہ جس وقت قوت ارادی اور تصورات مین تصادم ھوتا ھے تو یہ بات یاد رکھین فتح ھمیشہ تصورات کی ھی ھوتی ھے قوت ارادی دھری کی دھری رہ جاتی ھے اور تصورات اتنے مضبوط ھوتے ھین جس کا آپکو اندازہ نہین ھے ذھن یکسو کرنا مسلسل ایک ھی بات سوچنا ۔۔خواہ وہ سوچ منفی ھے یا مثبت ھمشہ پورے جسم پہ حاوی ھوجاتے ھین
جب انسان اس نظریہ کو سمجھ لیتا ھے اور اس مین جو قوتین شامل ھین ان کو صحيح طرح استعمال کرتا ھے تو پھر وہ اپنی دنیاۓ خیالات کو منظم کرنے لگتا ھے اس کا نتیجہ یہ نکلتا ھے کہ بندے کے ھر قول فعل مین اس کے خیالات کا اثر پڑتا ھے اور اس کے تمام تعلقات بھی اس سے متاثر ھوتے ھین
یہ بات بھی یادرکھین کہ یہ ذاتی ذھنی تحریک کی کاروائی ھروقت جاری رھتی ھے اب انسان کا کام یہ ھے کہ ھم کوشش کرین کہ یہ کاروائی ھمیشہ بھلائی کے سلسلے مین استعمال ھو اور ھمارے مفاد کے خلاف نہ جانے پائے
اب جو لوگ غمگین رھتے ھین جن مین خوداعتمادی کم ھوتی ھے یا وہ لوگ جو ھمیشہ اپنی صحت کے بارے مین پریشان رھتے ھین وہ لوگ اس ذھنی تحریک سے کوئی فائدہ حاصل نہین کرسکتے کیونکہ اپنے لا شعور مین وہ لوگ منفی خیالات کو اکھٹے کرتے رھتے ھین جب بہت دنون تک یہی صورت حال رھتی ھے تو اس کے اثرات اپنا رنگ دکھانا شروع کردیتے ھین اور ان لوگون کے تمام نظریات انہی سانچون مین ڈھل جاتے ھین
کبھی کبھی ایسے لوگ یہ کوشش کرتے ھین کہ اپنے اس انداز فکر مین تبدیلی پیدا کرین لیکن اپنی قوت ارادی کو ان تباہ کن اثرات سے نہین بچاسکتے کیونکہ قوت ارادی جب تصورات کی تباہ کن طاقت سے ٹکراتی ھے تو قوت ارادی زائل ھو کر سواۓ مایوسی ناامیدی اور اداسی کی خوفناک تصویر سامنے لا کھڑا کرتی ھے لہذا کوشش بیکار جاتی ھے
اب اس نقطہ کو ذھن مین رکھین ایسے حالات مین قوت ارادی باآلاخر بالکل ختم ھو کر الٹا نقصان کا باعث بن جاتی ھے بلکہ یہ سمجھ لین بندہ جتنی کوشش کرتا ھے اتنا ھی زیادہ مایوس اور غم زدہ ھوتا جاتا ھے
اب سوچنے والی بات تو یہ ھے کہ آخر اس تخریبی قوت سے جان کیسے چھڑائی جاۓ جس کی وجہ سے شخصیت تباہ ھورھی ھے اب ایسے لوگ عموما برے حالات کا ھی شکار ھوتے ھین جسمانی حالات کے ساتھ ساتھ مالی حالات گھریلو حالات بعض لوگ تو بڑے ھی متشدد لیکن اندر سے بزدل واقع ھوتے ھین یا دوسرے لفظون مین منفی اور ھمت شکن نظریات سے خود خوف زدہ بھی رھتے ھین ھمیشہ شکست کا خوف انکے اندر رھتا ھے
ایک بات یہ بھی ذھن نشین کر لین اس وقت دنیا مین 95فیصد لوگ اس مرض کا شکار ھو چکے ھین اور یہ لوگ دنیا کے ھر معاملہ مین ناکام لوگ ھین صرف پانچ فیصد لوگ جن کی سوچ مثبت ھے اصل مین وھی لوگ پوری دنیا پہ حکمرانی کررھے ھین اور تو اور پوری دنیا کی دولت بھی انہی لوگون کے پاس ھے اور باقی لوگ ھی مسائل اور بیماریون کا شکار ھین
تاریخ اٹھا کردیکھ لین بڑے بڑے لوگ جنہوں نے معرکے سر کیے ھین صدیان گزرنے کے باوجود آج بھی تاریخ کے اوراق مین زندہ ھین ان کی کامیابیان ان کے اس ذھنی تخیل پہ ھی مبنی تھی جو شروع سے ان کے ذھن مین پختہ ھو چکے تھے اب انہون نے اپنے خیالات کو عملی شکل دے کر اصلی صورت مین دنیا کے سامنے لے آئے اب انہون نے جستجو ھمت کو سینے سے لگاۓ رکھا اور اپنے نظریات کو عملی جامہ پہنا کردنیا کے سامنے لائے اور یاد رکھین ایسے لوگ ضروری نہین امیر طبقہ یا اعلی طبقہ سے ھی تعلق رکھتے ھون بلکہ ایک غریب سے غریب تر انسان کی بھی سوچ مثبت ھو سکتی ھے ھال کل کلان کو وہ اپنی لگن اور محنت اور اچھی سوچ کے بل بوتے امیر ھو جاۓ تو کوئی انوکھی بات نہین بلکہ جستجو اور لگن اور بہتر سوچ کا ھونا ضروری ھے جیسے ایک کردار آج بھی زندہ آپ کے سامنے ھے جس کا نام بل گیٹس ھے ایک وقت تھا جب انتہائی غریب آدمی تھا پھر دنیا نے دیکھا سب سے امیر آدمی کے روپ مین بھی
اب اپنی بات کی طرف آتے ھین اس مرض سے جان چھڑانے کا ایک ھی طریقہ ھے اپنے ذھن مین لگی منفی سوچ کی تصویر پہ مثبت سوچ کی تصویر لگا دین اب دماغ کا پردہ ایسا ھے جس پر تصویر ھٹانے کی ضرورت نہین ھے بلکہ اس کے اوپر جب مثبت تصویر لگائین گے تو منفی تصویر خود ھی غائب ھو جاتی ھے اب اس بات پہ ڈٹ جائین تبھی ممکن ھے آپ کامیابی حاصل کر لین یعنی آپ کو مثبت سوچ پیدا کرنے کے لئے ضروری ھے نیت صاف ھونی چاھیے یعنی کسی کے لئے بغض عناد اور دوسرون کے بارے مین برا سوچنے سے پہلے بندہ اپنا محاسبہ کرے تو نیت بھی درست ھو جاتی ھے مین نے بزرگون سے ایک ھی بات سنی تھی جس پہ آج تک عمل کررھا ھون ۔۔۔نیت صاف تو کام راس۔۔۔۔اب اس بات پہ ھمارے دین مین بھی سختی سے حکم آیا ھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اعمال کا دارومدار نیت پر ھے یعنی آپ جو بھی بیج بوئین گے تو کاٹین گے بھی وھی تو
اب بات کرتے ھین اس مضمون کو کیون لکھا تو دوستو بے شمار جسمانی عارضے جو صحت کو خراب کرکے رکھ دیتے ھین جیسے جلق زندہ مثال ھے اسی طرح دیگر بری عادات مین مبتلا ھو کر پھر مستقل مریض بن جانا اب ایسی تمام حرکات وعادات جن سے اسلام اور معاشرہ اور آپ کے والدین منع کرتے ھین اب ان عادات کو ری ایکشن کی شکل مین اپنا لینا آپ کے منفی تصورات پسند ھونے کی دلیل ھین اب اگر انسان تھوڑا سا غور کر لے آخر مجھے منع کیون کیا جاتا ھے میری ھر بات پہ ولدین ردعمل کا اظہار کیون کرتے ھین تو میرا خیال ھے آپ بے شمار پریشانیون سے بچ جائین گے آخر والدین کے ذھن مین یا معاشرہ کسی بات پہ پابندی لگاتا ھے اس کے پیچھے کئی سالون کے تجربات ھوتے ھین یاد رکھین اگر آپ نے بدنی نفسیاتی روحانی امراض سے بچنا ھے تو اپنی سوچ کا رخ تبدیل کر لین اور اپنے اندر مثبت سوچ پیدا کرین اور اپنے اخلاقیات درست کرین ذھن کو پاکیزہ رکھین اور ذھن کو پاکیزہ رکھنے کا آسان حل اللہ تعالی سے قربت مین ھے اور اس قربت کے لئے نماز پڑھنا از حد ضروری ھے اللہ تعالی سب کو ھدایت نصیب فرمائے آخری بات
اب میرا مضمون ذرا گروپ کے دیگر مضامین سے ھٹ کر ھے سب دوست سوچ رھے ھون گے کہ آج محمود بھٹہ کےقلم کا رخ کدھر مڑ گیا کہان خالص طبی مضامین اور کہان فلسفہ اور نفسیات کا ملغوبہ پیش کردیا بہرحال مین نے اس مضمون کی شدید ضرورت محسوس کی جس کی وجہ سے لکھا اب کچھ دوستو کو اگر میرا مضمون پسند نہ آیا ھو یا علمی لحاظ سے کوئی جھول نظر آیا ھو تو مجھے جاھل اور میری غریب علمی سمجھ کے نظر انداز کردین یا سمجھا دین

Wednesday, July 11, 2018

احتلام اور اس کا غلط علاج اور غلط تشخیص 2

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قسط نمبر 2۔۔
۔۔۔۔۔احتلام اور اس کا غلط علاج اور غلط تشخیص ۔۔۔۔۔۔۔
اب صفراوی مزاج کی وجہ سے پیدا شدہ سوزش اور بگاڑ ٹھیک کرنے کے لئے آپ کو لازما بلغمی مزاج پیدا کرنے والی ادویات دینی پڑین گی اور مرض اپنے انجام کو پہنچ جاۓ گا
مین نے ایک تیر سے تین شکار کیے ھین اگر آپ نے دھیان رکھا ھے پوسٹ مین تو سمجھ گئے ھون گے یعنی ذکر تو شروع کیا تھا احتلام کا اور تشخیص آپ کو اور طریقہ علاج جریان اور سرعت انزال تک کا بتا دیا ھے اور کچھ تشخیصی نکات بھی بتا دیے ھین اب ھم بات صرف احتلام کی ھی کرین گے
اب ایک اور نقطہ بھی سمجھ لین اب احتلام کی ایک چوتھی شکل بھی آپ کو بتائے دیتا ھون یہ شکل ھے طبعی احتلام دوسری تینون شکلین غیر طبعی احتلام کی آپ کو بتائی ھین اگر طبعی احتلام کی آسان زبان مین تشریح کرون تو کچھ یون ھو گی جب کوئی بھی مرد سن بلوغت کی حد کراس کرتا ھے تو اب اس مین کوئی شک نہین رھا وہ اولاد پیدا کرنے اور جماع کے قابل ھو چکا ھے یعنی منی اپنے خزانہ کے اندر پیدا ھونی شروع ھو گئی ھے اب سامنے سے بند باندھے رکھین اور پچھے خزانہ مین مسلسل منی کی پیدائش جاری ھے تو اب امتلائے منی اس نوجوان کے لئے باعث تکلیف بن جاتی ھے اب اتنی مقدار مین پیدا شدہ منی کہان جاۓ گی سچ بات ھے طبیعت نے اب اس کا کوئی نہ کوئی حل تو کرنا ھی ھے اب طبیعت اسے احتلام کی شکل مین خارج کرتی ھے ورنہ انسان بہت سے عارضون مین مبتلا ھو سکتا ھے یعنی طبیعت نے خود ھی علاج کردیا ھے یہ کیفیت ماہ مین ایک دو دفعہ پیدا ھو سکتی ھے اب اس کا علاج دوا قطعی نہین ھے بلکہ اس کا علاج شادی ھے اسی لئے اسلام مین بالغ ھوتے ھی لڑکے اور لڑکی دونون کی شادی کا حکم دیا ھے اب بعض نوجوان جیسے ھی بالغ ھوتے ھین والدین ان کی شادی نہین کرتے تو 95فیصد نوجوان لڑکے اور لڑکیان جلق اغلام بازی کثرت جماع یعنی بدعادات کا شکار ھو کر اپنا آپ تباہ کرتے ھین اب سچی بات ھے ان سے زیادہ ان کے والدین مجرم ھین جہنون نے توجہ نہین دی مین آپ کو اپنی زندگی بھر کے تجربہ کی نظر سے یہ بات دعوے سے بتا رھا ھون کہ مذکورہ تعداد مین مذکر اور مونث دونون برابر مین جلق کا شکار ھین اگر کسی بھی عام قاری کی نظر سے میری پوسٹ گزرے تو کم سے کم اس بارے مین سوچین ضرور اور اپنے بچون پہ توجہ ضرور رکھین اس بارے مین مکمل معلومات حاصل کرنے کے لئے گروپ مطب کامل مین جلق کے اوپر میرا تفصیلی مضمون جو کہ سترہ قسطون پہ مشتمل ھے اسے ضرور پڑھین انشاء اللہ آپ اپنے بچون کی بہتر نگہداشت کر سکین گے خیر ھم اپنے موضوع کو آگے لئے چلتے ھین
اب تک کے مضمون مین آپ کو تفصیل سے مرض احتلام کے اسباب اور تشخیص کے بارے مین بتا دیا ھے اب ذرا بات ادویات پہ کرتے ھین
ادویات مین نظریہ مفرد اعضاء مین تو غدی عضلاتی اور غدی اعصابی علاج ھے جو بہت ھی بہترین ھے جس مین ایک دوا اکسیر احتلام کے نام سے مین پہلے بھی لکھ چکا ھون جس مین مغز جمالگوٹہ دس گرام نمک خوردنی ایک کلو مین اچھی طرح کھرل کرکے تیار ھو جاتا ھے انتہائی بہترین دوا ھے احتلام کے لئے
حب احتلام ۔۔۔۔تخم مولی دو حصے ریوند خطائی چار حصہ انزورت دو حصہ پیس کر نخودی گولیان بنا لین ایک ایک گولی دن مین تین باردین
اب آیوویدک کا یہ نسخہ بھی بہت ھی مفید ھے ترکٹہ سنڈھ مرچ سیاہ مگھان برابر وزن پیس کر دورتی تا چاررتی دن مین تین باردین بہت ھی مفید ھے
احتلام والے مریض کو بوقت عصر کھانا کھانے کی ھدایت کرین تاکہ کچھ پیدل چلے اور غذا کو ھضم کرے صبح کو بے شک مربہ گاجر اور بادام پیس کر برابر وزن مین ملا لین اور اس مین چھوٹی الائچی بھی دیسی گھی مین سرخ کرکے شامل کر لین یہ کھا لے اور شام گلقند چھٹانک بھر ضرور کھلادین تاکہ قبض کسی صورت نہ ھو اب ایک منفرد علاج بتاتا ھون مائین خورد پیس لین اور ایک ماشہ ھمراہ دودھ دن مین کھلا دین بس ایک ھی خوراک کافی ھے اگر ضرورت ھو تو ھفتہ بھر بعد ایک دفعہ پھر کھلا دین احتلام رک جاۓ گا باقی معدہ کی درستگی کے لئے دوا ضرور دین غدی عضلاتی ملین اور غدی اعصابی ملین بھی بہت منفرد علاج ھے احتلام کا
اب میرا خیال ھے کافی کچھ اس کے علاج کے لئے آسان ترین دوائیں لکھ دی ھین اجازت چاھون گا اللہ حافظ آپکی دعاؤن کا طلب گار محمود بھٹہ

Tuesday, July 10, 2018

احتلام اور اس کا غلط علاج اور غلط تشخیص 1

۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔ احتلام اور اس کا غلط علاج اور غلط تشخیص ۔۔۔۔۔
اس مرض پہ بے شمار سوالات اور مشکلات مریض اور طبیب دونوں کے ساتھ ھین مریض خوف کا شکار ۔۔ کہ پتہ نہین میرے ساتھ ایسی کون سی ڈائن چمٹ گئی ھے جو خواب تو سہانے دکھاتی ھے لیکن انجام بہت ھی غلط نکلتا ھے جس کے لئے انسان کبھی بھی تیار نہین ھوتا یہ خواب ٹوٹنے پہ بہت ھی افسردگی اور پچھتاوے کا شکار ھوتا ھے بعض تو خواب کو ھی گالیان نکالتے ھین اب بات کرتے ھین حکیم صاحب کی
بیماری کی تفصیل سنتے ھی اس بیماری کا ذمہ دار شیطان کو ٹھہرا دیا جاتا ھے صاف صاف شیطان کی کارستانی بنا دی جاتی ھے اور ساتھ ھی فتوہ لگ جاتا ھے کہ آپ کے مثانے مین شدید گرمی ھو چکی ھے اب علاج سے جب آرام نہ آئے تو بھی مجرم شیطان ھی ٹھہرتا ھے بلکہ شیطان کا شروع ھی سے اس علت کا عادی ھونے کا انکشاف کردیا جاتا ھے اور مریض اگلے حکیم کا یا کسی عامل سے شیطان بھگانے کا عمل لینے پہنچ جاتا ھے
دوستو شیطان کا عمل دخل ضرور ھے لیکن یہ ھے مرض اگر آپ مرض کا علاج کرین گے اس مرض کے اسباب کو سمجھ کر تو مرض لازمی ٹھیک ھو جاتا ھے سب سے بڑا مسئلہ ھوتا ھے تشخیص اگر تشخیص درست ھوتی ھے تو مرض بھی جاتی ھے اب سب سے پہلی بات سمجھتے ھین احتلام ھوتا کیون ھے؟؟؟
نیم خوابی کی حالت مین منی کا اخراج ھو جانا احتلام کہلاتا ھے اب ایک بات پلے باندھ لین گہری نیند مین شاذو نادر ھی منی کا اخراج ھوتا ھے اگر ایسا ھو تو شدید ضعف واقع ھو چکا ھے
عام طور پر جن لوگون کی یہ عادت ھوتی ھے کہ وہ سکون سے لیٹ کر تصورات مین حسین خواب دیکھنے کے عادی ھوتے ھین وہ لوگ لازما اس مرض کا شکار ھوتے ھین ایک بات اور بھی یاد رکھین نیم خوابی کی حالت مین خیالات پر انسان کا کافی حد تک کنٹرول ھوتا ھے اگر خواب حسین ھو تو اسے جاری رکھنے کو انسان کا دل کرتا ھے مزید اس خواب کو طویل کرنے کا خواھشمند ھوتا ھے ھاں اگر خواب ڈراؤنا شروع ھو جائے تو اس سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کرتا ھے آخر کوشش رنگ لاتی ھے اور انسان بہت جلد جاگ جاتا ھے پہلے والی صورت مین انسان جاگنے سے ھر صورت بچتا ھے کیونکہ اس مین لذت اور چاشنی تھی دوسری حالت مین ڈر اور خوف و گھبراھٹ
اب ایک تیسری بھی پوزیشن ھوتی ھے نہ خواب آتے ھین نہ پتہ چلتا ھے بس سوتے ھی احتلام ھوجایا کرتا ھے یہ کیفیت اس وقت پیدا ھوتی ھے جب انسان کو انتہائی ضعف واقع ھو چکا ھوتا ھے اس صورتحال سے اب انسان جان چھڑانے کی کوشش کرتا ھے لیکن جان چھوٹتی ذرا مشکل سے ھے یاد رکھین یہ بھی کوئی مشکل صورت نہین ھوتی بلکہ تھوڑا عرصہ زیادہ درکار ھوتا ھے اب کچھ بات کرتے ھین اس کے اسباب پہ
اس کے اسباب مین عشقیہ خیالات یا پراگندہ خیالات و تصورات غلط فلمون کا دیکھنا اور وھی خیالات ذھن مین رچ بس گئے ھون تیز مصالحہ جات چٹپٹی اشیاء کا استعمال مرغن و منشی اشیاء کا بکثرت استعمال سے بھی ھوتا ھے ایسی غذا اور اشیاء کا استعمال جن سے قبض ریاح اور تیزابیت پیدا ھوتی ھو پھر یہی ریاح دماغ مین عضلاتی پردون مین سوزش پیدا کردیتے ھین جس سے ذکاوت حس عروج پہ پہنچ کر نیند کی حالت مین انزال کردے ایک بات کو ھمیشہ یادرکھین احتلام کی مرض عضلات مین تحریک و سوزش سے ھوتی ھے خاص کر نیند کی حالت مین جب معدہ کے عضلات مین تحریک و سوزش ھوتی ھے تو اس کا اثر لازما جنسی اعضاء پر بھی پڑتا ھے اس طرح جنسی اعضاء کے عضلات مین لطیف سی سوزش اور پھر دغدغہ سا ھو کر نیم خوابی کی حالت مین احتلام ھو جایا کرتا ھے اب ایک نقطہ۔۔۔۔۔۔ اکثر طبیب حضرات اس غلط فہمی مین مبتلا ھین کہ احتلام جوش خون اور گرمی سے ھوا کرتا ھے اب جریان اور سرعت انزال کے بارے مین بھی یہی اسباب سمجھے جاتے ھین ان سب کا علاج ایک ھی طریقہ سے کیا جاتا ھے اور ھمیشہ ٹھنڈی اور سرد ادویات کا سہارہ لیا جاتا ھے جبکہ جریان اور سرعت انزال بالکل الگ الگ مزاج کی امراض ھین اسی طرح احتلام بھی الگ مزاج کا مرض ھے احتلام خشک گرم مزاج یا عضلاتی غدی مزاج کا مرض ھے اب اگر خشکی گرمی کا علاج آپ سرد ادویات سے کرین گے تو لازما ناکامی ھو گی اس کا بہترین علاج گرم خشک ادویات سے شروع کرین اور گرم تر ادویات پہ مکمل کر دین اللہ اللہ تے خیر صلا
اب نقطے کی بات۔۔۔۔۔ یاد رکھین جریان بلغمی یا اعصابی مزاج مین ھوتا ھے احتلام سوداوی مادہ کی وجہ سے ھوا کرت ھے اور سرعت انزال صفراوی مادے کا بگاڑ ھے اب ان تینون مادون مین سوزش پیدا ھونے سے یہ امراض وقوع پذیر ھوا کرتے ھین امید ھے بات کی سمجھ آھی گئی ھو گی اب بڑی اصولی سی بات ھے بلغمی مادے کی سوزش ختم کرنے کے لئے سوداوی مزاج کی ادویات دینے سے ٹھیک ھو جاۓ گی اور سوداوی مادے کی سوزش ختم کرنے کے لئے صفرا کا پیدا کرنا ضروری ھے لازما آپ کو صفراوی مزاج رکھنے والی ادویات دینی پڑین گی باقی مضمون اگلی قسط مین بمعہ علاج پڑھین

Monday, July 9, 2018

کشتہ جست بازاری اور خود ساختہ| kushta jast|zinc

۔۔۔۔۔ مطب کامل۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔ کشتہ جست بازاری اور خود ساختہ۔۔۔
Kushta jast | kushta zinc
چند روز ھوئے کسی نے ایک عجیب انکشاف کیا میرا اس طرف دھیان ھی نہین تھا اب کچھ پنسار والے بھی اس کام مین ملوث ھین جو بہت بڑا ظلم ھے
رنگ روغن کی دوکانون سے جست کا نرم اور سفید رنگ کاملائم سا پوڈر ملتا ھے جوکہ کیمیائی طور پہ جلایا ھوا زنک آکسائیڈ ھے جس کی کوئی قدروقیمت نہین ھے یہ پوڈر رنگ کرتے وقت بھرتی کا کام دیتا ھے اسے کسی تیل مین شامل کرکے لکڑی پہ استعمال کرتے ھین تاکہ زنگ نہ لگے البتہ سائیٹیفک سٹور سے زنک سلفیٹ کے نام سے ایک پوڈر ملتا ھے اسے بھی زیادہ سے زیادہ آنکھون کے امراض مین استعمال کیا جاسکتا ھے باقی امراض مین کھلانے کے لئے یہ بھی درست نہین ھے جبکہ پنساری اول الذکر زنک آکسائیڈکو بطورکشتہ جست لوگون کودے رھے ھین یہ ظلم ھے
اب یہ بات بھی سو فیصد درست ھے کہ جست ایک عنصر ھے اور ھمارے بدن مین پایا جاتا ھے بلکہ اس کی کمی سے اعضاء کی نشوونما رک جایا کرتی ھے جدید ترین تحقیقات سے ثابت ھے کہ انسانی جسم کی نشوونما بلکہ جسم کی بقا بلکہ ارتقا بھی جست سے ھوا کرتی ھے قد کارک جانا یعنی چھوٹا قد رہ جانے کا سبب بھی جست کی کمی سے ھی ھوتا ھے یہان تک کہ اس کا عمل دخل اور اثر پیدائشی عمل مین جین پر بھی ھوتا ھے اس سے بھی بڑھ کر آپ کی دماغی صلاحیتین بھی اس کی کمی سے متاثر ھوتی ھین اور تو اور جنسی طور پہ جنسی امراض بلکہ مادہ منویہ کے امراض بھی کشتہ جست کی شدید ضرورت ھے مختصر الفاظ مین آپ کو بہت کچھ آگاہ کردیا ھے پوسٹ بار بار پڑھین توجہ سے بہت کچھ سمجھ آئے گا اسے خود تیار کرین طریقہ لکھے دیتا ھون جدید تحقیقات کیا ھین اس کی تشریح پھر کبھی لکھین گے
125گرام جست لین اسے پگھلاکر اٹ سٹ بوٹی یا بکن بوٹی یا ھرن کھری جسے پنجابی مین لیلی کہتے ھین کسی بھی ایک بوٹی کا سفوف چٹکی چٹکی ڈالتے جائین ساتھ ساتھ نیم یا آک کے ڈنڈے سے ھلاتے جائین کچھ دیر بعد جست سفوف بن جائے گا اب اس مین دھی کا ترش پانی ڈال کر کھرل کرین پانی اتنا ھی دہی کا ڈالنا ھے جس سے کھرل ھو جائے اور پتلی سی ٹکیا بنا کر معروف طریقہ سے چھ کلو کی آگ دے دین انتہائی ملائم پھول کر کشتہ جست تیار ھو جائے گا یہ کشتہ مذکورہ افعال مین بے مثل ھے اپنے استعمال مین لاوین بازاری کشتہ جست سے بچین

Saturday, July 7, 2018

ھاتھ پاؤن کی جلن|Sugar Sideeffect

.... مطب کامل .........
#Sugar,#Diabetes
..... ھاتھ پاؤن کی جلن ......
آج بھی دو پوسٹین لگی ھوئی ھین کہ ھاتھ پاؤن کی جلن کا علاج بتائین یہ ھاتھ پاؤن مین جلن یا ساڑ پڑنا بعض اوقات یون محسوس ھوتا ھے کہ جوتے بھی جل جائین گے
بھئی اس مین علامات کے ساتھ کفس سوزاحراق کا انطباق کرین اور جلن دار مادے کا اخراج ھمیشہ بذریعہ پیشاب کرنا چاھیے بذریعہ پاخانہ نہین کرنا چاھیے آسان سا علاج ھوتا ھے اس کا کرین انشاء اللہ فورا شفا حاصل ھو گی حب بندق اعصابی ملین شورہ کبدی اور سفوف گاؤزبان دین پہلے روز ھی جلن رک جاۓ گی
حب بندق... چھلکا ریٹھا .. گندھک آملہ سار .. رائی برابر وزن پیس کر نخودی گولیان بنا لین ایک تا دوگولی دن مین تین بار
شورہ کبدی..مرچ سیاہ 50گرام پیس لین اور دو تولہ قلمی شورہ کو آگ پہ پگھلا کر چٹکی چٹکی ڈالکر سب مرچ ختم کر نیچے اتار کر پیس کر رکھ لین آدھی تا ایک رتی دن مین تین بار دین
اعصابی ملین...قلمی شورہ 30گرام .تخم کاسنی 50گرام . جوکھار50گرام . گل سرخ 80گرام پیس کر سفوف بنا لین ایک تادو ماشہ دن مین تین بار دین
سفوف گاؤزبان .. گاؤزبان 100گرام گلوکوز 100گرام گل سرخ 100گرام پیس لین ایک تا دو ماشہ دن مین تین بار دین
یاد رکھین مرض کی وجوھات تلاش کرنا از حد پھر بھی ضروری ھے کیونکہ بعض اعصابی یعنی بلغمی شوگر کے مریضون کے بھی پاؤن مین بڑی جلن ھوتی ھے اس کا سبب تسکین قلب ھوتا ھے کیونکہ وہ دور ترین علاقہ مین اپنی قوت نہین پہنچا سکتا اب اس کا علاج تسکین قلب کی صورت والا ھی کرین
مجھے آج تک اس بات کی سمجھ نہین آئی کہ مریض اپنی مرض کی سب علامات بتانے سے ھمیشہ گریز کیون کرتا ھے مرض کی تکلیف اور اذیت کے سبب سانس بھی نہین نکل رھا ھوتا بات پھر بھی نہین بتاۓ گا اب آج کی دونون پوسٹین خود ملاحظہ فرما لین جن مین ایک ھی فقرہ لکھا ھے کہ ھاتھ پاؤن کی جلن کا علاج بتا دین آگے کچھ بھی نہین لکھا اب آگے پیچھے کچھ بھی علم نہین ھے کہ ھاتھ پاؤن کیون جل رھے ھین باقی علامات کوئی بھی نہین لکھی ھین ھوسکتا ھے ان دونون نے سیدھے سیدھے پاؤن رکھے ھی دھکتے کوئلون پہ رکھے ھون اور اس وجہ سے جل رھے ھون تو بھائی پاؤن ھی آگ سے ھٹا لو جلن رک جاۓ گی میری مراد یہ بھی ھے اگر مریض ایسی خوراک یا کوئی ایسی دوا بھی پہلے سے کھا رھا ھو جس سے جلن دار مادہ پیدا ھوتا ھے وہ نہ بتاۓ گا نہ چھوڑے گا بس علاج ضرور پوچھے گا
اللہ تعالی سب کو ھدایت دے ھمیشہ پوسٹ لکھتے وقت پوری مرض لکھا کرین