Tuesday, September 18, 2018

بچون کا نمونیا اور کھانسی

۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔بچون کا نمونیا اور کھانسی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تھوڑا وقت ملا ھے مختصر اور بامعنی حاضری دینے لگا ھون یاد رکھین جب بچون کے نمونیا مین ان کے پھیپھڑے جام ھو چکے ھون سانس لینا بھی دشوار ھورھا ھو چھاتی پہ بلغم چکا ھو بچے کی سانسین ٹھنڈی آتی ھون جہان ایلوپیتھی میڈیسن اپنا اثر چھوڑ چکی ھون کوئی چارہ نہ رھے بسم اللہ پڑھ کے پہلی خوراک دین انشاءاللہ چار پانچ منٹ مین بچے کی طبیعت سنبھلنا شروع ھوجاۓ گی فوری آرام آۓ گا بے ضرر دوا ھے بچے کے لئے
ھان اگر دوا دینے کے فورا بعد یا کچھ دیر بعد الٹی آجاتی ھے تو بھی اللہ کا شکر ادا کرین لیسدار گاڑھا بلغم نکلے گا اگر الٹی نہین آتی بچہ دوا ھضم کر جاتا ھے تب بھی اللہ کا ھی شکر گزار ھون انشاءاللہ مرض فورا کم ھوجاۓ گا طبیعت بہتر ھونا شروع ھو جاۓ گی بچہ سکون آنے پہ سوجاۓ گا زیادہ تر حکماء حضرات بہتر علاج کشتہ بارہ سنگا سمجھتے ھین شہد مین ملا کر چٹانا لیکن میری نسلون کا آزمودہ اور سب سے زیادہ قابل اعتبار نسخہ یہی ھے جسے لکھنے لگا ھون تو دوستو سہاگہ تولہ بریان نہین کرنا مرمکی تولہ ۔ مصبر تولہ پرانا گڑ چار تولہ پیس کر ملا لین اگر کھلے برتن مین رکھین گے تو یہ نمی لے کر معجون سی بن جاتی ھے اگر کسی مضبوط بند جار مین رکھین تب نمی کم ھی لیتا ھے سال تک کے بچے کو دانہ مسور کے برابر سال سے بڑا ھے تو دانہ گندم سے پھر بھی کم ھی خوراک دین زیادہ سے زیادہ دووقت دوا دین ورنہ ایک ٹائم دو تین خوراک ھی انشاءاللہ کافی ھو جائین گی مزید دوا کھلانے کی ضرورت نہین دوسری اور اھم بات یہ دوا میرے خیال مین آج بھی چالیس پچاس روپے مین تیار ھوجاۓ گی بنانا بھی کونسا مشکل کام ھے پانچ منٹ کاکام ھے یہ کم سے کم سو بچے کی دوا بن جاۓ گی براہ کرم دوا مفت دین صدقہ جاریہ سمجھ کر بہت نوازش ھوگی یہ بات بھی ذھن مین رکھین ایک چھوٹے سے معصوم کی جان بچارھے ھین ڈھیرون دعائین ملین گی جزاک اللہ دوستو

Saturday, September 15, 2018

سوائن فلو||swine flu||flu

۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔سوائن فلو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Flu , swine flu
پرسون کی پوسٹ تشخيص امراض وعلامات پہ شمشاد ٹھاکر صاحب انڈیا سے کمنٹس کیا ھوا تھا کہ انڈیا مین سوائن فلو پھیل گیا ھے مین شاید اپنی مجبوریوں مصروفیتون کی وجہ سے نظرانداز کرجاتا لیکن سرمد وقاص کا فون کیا آیا حکم بیان آیا مجبور کیا لازما مضمون لکھین پوچھا مختصر علاج معالجہ لکھے دیتا ھون اب حکم صاد ھوا نہین مفصل احاطہ کرین دور کی کوڑیان لائین تو دوستو سرمد تو بہت ھی عزیز ھے دور سے دور کی کوڑی لا پھینکین گے طبیعت واقعی میری بھی اس وقت جوش مین ھے گھبرائین نہین صرف ایک کپ چاۓ کڑک سی پی کر دن بھر کر تھکاوٹ دور کرچکا ھون آخر صابر شاکر لوگ ھین ھم چھوٹی سی چیز پہ خوش ھوجانے والے تو لیجئے احوال سوائن فلو سنیے
کوئی مانے نہ مانے اسلامی تعلیمات ھمیشہ ایک صحت مند معاشرے اور تہذیب کو جنم دیتی ھین اس کے آفاقی اصولون کو اپنانے اور ان پہ عمل پیرا ھونے مین ھی تمام انسانیت کا بھلا ھے انسان ھر قسم کی اخلاقی معاشی ۔معاشرتی اور جسمانی غلاظتون سے بیماریون سے بچ جاتا ھے افسوس اسے سمجھا ھی نہین گیا بلکہ اسے رجعت پسند دین قرار دے کرنسل نو کو اس سے برگشتہ کرنے کی کوشش جاری ھے انہین سمجھایا جاتا ھے کہ جدید دور کی ضرورتین اور تقاضے اسلام پورے نہین کرسکتا افسوس یہ بھی ھے کہ مسلمان خود بھی اکثریت عملا دور ھین
آج کرہ ارض پہ قدرت نے وسائل کی تقسیم اس انداز سے کی ھے کہ مختلف اقوام اور خطون کے انسان زندگی کی ضروریات پوری کرنے کے لئے ایک دوسرے کے محتاج ھین جون جون آبادی مین اضافہ ھورھا ھے ضروریات مین باھمی انحصار بڑھتا جا رھا ھے تیز ترین مواصلاتی ذرائع اور بے تحاشا آمدورفت نے ملکون ملکون دنیا کو سمیٹ کر گلوبل ولیج کی شکل دے ڈالی ھے
اب اس مین وبائی امراض وسیع پیمانے پہ بڑھنے کا خطرہ بڑھتا ھی جارھا ھے پہلے چیچک طاعون ھوا کرتے تھے انسان کے پاس عقل شعور آیا ان پہ قابو پا لیا لیکن ان کی جگہ کبھی ڈینگی کبھی کانگو وائرس کبھی ایڈز کبھی برڈ فلو اور کچھ نہین اپنی پیدا کردہ مصیبت سوائن فلو
اللہ تعالی کے احکامات کی خلاف ورزی آفاقی یکجہتی سے روگردانی کرکے انسان نے اپنے لئے سزا تجویز کر لی ھے معاشی عدم استحکام بدامنی بے روزگاری ناانصافی باھمی جنگ و جدل کے ساتھ طرح طرح کی بیماریون کا نزول خوف وھراس پیدا کررھی ھین ان مین ایک سوائن فلو ھے آئیے دیکھتے ھین سوائن فلو ھے کیا؟؟؟
سوائن فلو حقیقت مین نجس جانور خنزیر مین پائی جانے والی ایک مرض ھے اس کے لئے یہ اتنی خطرناک مرض نہین ھے لیکن ان لوگون کے لئے بہت خطرناک ھے جو اس کے قریب رھتے ھین انہین پالتے ھین انہین کھاتے ھین ان کا کاروبار کرتے ھین یا اس کے کسی بھی مواد کو چھوتے ھین یا استعمال کرتے ھین ان کے لئے اوران کے توسط سے دیگر انسانون کے لئے یہ مہلک بیماری ھے چند روز مین وبا کی صورت اختیار کرسکتی ھے
سور کے اندر موجود انفلونزہ وائرس ٹائپ A وائرس پھیلانے کا سبب بنتا ھے اس وائرس کی چار اقسام ھین جو سب وبائی شکل اختیار کرنے کی صلاحيت رکھتی ھین لیکن ٹائپ Aوائرس کے ذیلی وائرس H1 اور N1 اس بیمار جانور کی سانسون سے انسان مین منتقل ھوتا ھے یہ وائرس تیزی سے اپنا مقام یا جگہ بدلتا رھتا ھے کتون بلیون پہ بھی حملہ آور ھوجاتا ھے یہ موذی وائرس اگر انسانی جسم مین داخل ھوجاۓ تو توڑ پھوڑ کے رکھ دیتا ھے 1918 مین اس کی ایک قسم بہت تباھی مچاچکی ھے یہ اس وقت اور زیادہ خونخوار ھوجاتا ھے جب سابقہ وائرس کی تمام تر خصوصیات لے کر پہلے سے زیادہ طاقتور بن جاتا ھے
اب بیماری لگ جانے کی صورت مین علامات
پہلی بات سوائن فلو کی تمام علامات زکام والی ھی ھوتی ھین
ناک گلے مین سرسراھٹ سوزش اور ورم اور پتلی رطوبت بہتی ھے
کاھلی سستی اور جسمانی دردین
سردی اور لرزہ
سردرد بخار اور کھانسی
قے اسہال
بھوک کا خاتمہ
شدید کمزوری اور حواس باختگی
بے ھوشی
مرض اثرانداز ھونے کے سات روز کے اندر تمام علامات مکمل ھوجاتی ھین جبکہ بچون مین یہی مدت پندرہ روز کی ھے بیمار لوگ بڑی ھی خاموشی سے مرض آگے منتقل کرتا رھتا ھے
ایلوپیتھی مین شاید ابھی تک کوئی کامیاب علاج نہین ھے بس صفائی ستھرائی کے بارے مین زور دیا گیا ھے اب اسکے بارے مین تو آج سے چودہ سوسال پہلے اسلام حکم دے چکا ھے یعنی صفائی نصف ایمان ھے قب بیماری پھیلنے پہ ماسک چڑھانے ناک منہ پہ رومال رکھ کے ڈھانپنا جراثیم کش صابنون سے ھاتھ دھلاتے رھنا لیکن ساتھ ساتھ روشن خیالی کا درس دیتے رھنا نہین قطعی نہین یہ بیماری اس شخص کو کبھی لگتی ھی نہین جو متقی ھو دوستو اب تو پاکستان مین بہت سی ایسی اشیاء آرھی ھین جن مین سور کی چربی لحم شامل ھے نمکو کا ذائقہ وچمک دار چکنی پرکشش بچونکی کھانے والی بے شمار اشیاء اسی سے تیار ھورھی ھین پرھیز کیا کرین خیر چھوڑین لمبی بحث ھے ھم مرض کا تدراک وعلاج کرتے ھین دیکھو دوستو کسی بھی وائرس کو مارنے کے لئے ایلوپیتھی مین کوئی دوا نہین ھے اب طب کو فخر ھے جتنا بھی پہلوان وائرس ھو بھگایا جاسکتا ھے جسم سے مکمل خارج ھوجاتا ھے لین اب سمجھین اب طب کیا کہتی ھے سوائن فلو کے بارے مین تو دوستو یہ مرض پکی پکی اعصابی عضلاتی مرض ھے اس مین مریض کا یہی مزاج ھوا کرتا ھے اب آپ کو علم ھی ھے علاج تو عضلاتی تحریک کا پیدا کرنا ھی ھے ھان یاد رھے حرارت پیدا کرنے کے لئے غدی عضلاتی دے سکتے ھین اب مندرجہ ذیل دوائین دین انشاءاللہ نشان بھی نہین رھے گا سوائن فلو کا
حب نزلہ زکام خاص۔۔۔۔ گری بادام ۔۔۔کچلہ مدبر ۔۔منقہ ھر ایک دوا 50 گرام زعفران دس گرام پیس کر حب نخودی بنا لین ایک گولی حسب ضرورت دن مین دو تا تین بار ھمراہ پانی دین
حب اسطخدوس ۔۔۔اسطخدوس دو تولہ تمہ دو تولہ رائی چار تولہ پیس کر حب نخودی بنا لین ایک تا دوگولی دن مین تین بار دے سکتے ھین ھمراہ نیم گرم پانی دین جمی ھوئی بلغم سر درد اور درد آنکھ نزلہ زکام مزمن اور اعصابی دردون مین فورا فائدہ دے گی یہ بات ذھن مین رکھین اس دوا سے اسہال بھی آتے ھین
جو نسخہ پہلے لکھا ھے اس سے نزلہ زکام فورا درست ھوتا ھے حرارت جسم کی فورا پوری کرتا ھے
اگر ساتھ بخار ھے تو یہ دوا دین۔۔آملہ دو تولہ ۔۔ھلیلہ سیاہ تین تولہ ۔۔گندھک آملہ سار تین تولہ پیس کر سفوف بنا لین اور ھان آملہ کو گھٹلیون سے صاف کرکے ڈالین رتی تا ماشہ مقدار ھے دن مین تین بار دے سکتے ھین بخار اتار دے گا یہ سمجھ لین اینٹی بائیوٹک بھی ھے
کھانسی ھونے کی صورت مین کاکڑا سنگھی ۔۔دارچینی ۔۔تخم پیاز ھموزن پیس کر سفوف بنا لین اب اسے سفوف بھی رکھا جا سکتا ھے شہد ملا کر معجون بھی بنا سکتے ھین یا جوشاندہ بنا کر شربت بھی بنا سکتے ھین سفوف ماشہ تاتین ماشہ ھمراہ نیم گرم پانی دین کھانسی درست کردے گا
باقی دوستو آپ تمام دوائین جو عضلاتی اعصابی عضلاتی غدی اور غدی عضلاتی مزاج کی ھین جن کا تعلق نزلہ بخار سے ھو ضرورت کے مطابق دے سکتے ھین یاد رکھین مزاج کی تبدیلی وائرس کو بھگا دیتی ھے

Thursday, September 13, 2018

تشخيص امراض وعلامات 37

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔تشخيص امراض وعلامات ۔۔۔۔۔۔۔۔قسط نمبر37۔۔۔۔
آج ھمارا مضمون پانچوین قانون زمانہ سکون سے شروع ھو گا اسکی بھی تین ھی قسمین ھین ۔۔۔متواتر ۔۔۔۔متفاوت۔۔۔۔۔معتدل
اب پہلی شاخ متواتر پہ بات کرتے ھین
متواتر ۔۔۔۔ایسی نبض جس مین دوٹھوکرون کا درمیانی وقفہ کم ھو متواتر نبض کہلاتی ھے
یہ نبض قوت حیوانی کے ضعف کی علامت ھے سوزش قلب
ورم عضلات ۔۔ذات الریہہ سرسام اور دیگر اورام کو ظاھر کرتی ھے
متفاوت۔۔۔یہ نبض متواتر کے مخالف ھوتی ھے قوت حیوانی کی زیادتی پردلالت کرتی ھے اس نبض کے تحت اختلاج قلب ریاح شکم بواسیر احتراق معدہ وغیرہ امراض پیدا ھوتے ھین
معتدل۔۔۔ایسی نبض جو متواتر اور متفاوت کے درمیان یعنی کمی بیشی کا اظہار نہ کرے اور اعتدال سے اپنے سفر پہ روان دوان رھے معتدل کہلاتی ھے
تشریح ۔۔دو ٹھوکرون کا درمیانی وقفہ کو مدنظر رکھین
اگر درمیانی وقفہ بہت زیادہ ھو تو متفاوت سمجھین
اگر درمیانی وقفہ کم ھو تو متواتر سمجھین
اگر برابر ھو تو معتدل سمجھین
نوٹ۔۔ ان نبضون مین اور پہلے بیان شدہ نبضون پہ غور کر لین کوئی خاص بات تشریح والی نہ تھی ھان یہ کیا ھے جو نبض تواتر سے پہلے لکھ رھا تھا اس کی تعریف درمیان مین لکھ دی ھے جو دوسرے نمبر تھی اسے پہلے نمبر پہ لکھ دیا ھے
اب بات کرتے ھین مقدار رطوبت پہ
مقدار رطوبت ۔۔۔اس عنوان مین بھی نبض کی تین ھی قسمون کو بتایا گیا ھے
ممتلی۔۔۔۔۔۔۔۔خالی ۔۔۔۔۔۔۔معتدل
اب پہلے بات کرتے ھین ممتلی پہ
ممتلی نبض۔۔۔۔ممتلی کے لفظی معنی ھین بھری ھوئی
یعنی ایسی نبض جو روح اور خون سے بھری ھوئی ھو
یعنی کثرت روح و خون پہ دلالت کرتی ھے
اس سے ابتدائی مرض حادہ بلڈ پریشر اور التہاب کا پتہ چلتا ھے
خالی نبض ۔۔۔ممتلی کے بالکل الٹ یعنی نبض پہ ھاتھ رکھتے ھی محسوس ھو جیسے نرم سا لچکدار خالی پائپ آپ نے ھاتھ مین پکڑا ھوا ھے دوستو یہی وہ باتین ھین جس کی وجہ سے طب مین ھدایات ھین کہ طبیب ھاتھون کا انتہائی حساس ھونا بہت ضروری ھے اگر جلد کے اندر مثال کے طور پر معمولی کیڑی بھی چلتی ھے تو اس کے چلنے کا احساس کرسکے بلکہ قدم گن سکے
ایک واقعہ کا مین عینی شاھد ھون ایک ٹوکرے کے نیچے مرغی کے نئے نکلے ھوۓ چوزے تھے ایک حافظ کی قوت سماعت کا امتحان لیا حافظ صاحب نابینا تھے اب ان سے پوچھا کہ حافظ بتائین اس ٹوکرے کے نیچے کتنے چوزے ھین حافظ صاحب نے کان ٹوکرے کے ساتھ بنے سوراخ سے لگا دیا کچھ دیر بعد حافظ نے اعلان کیا کہ انیس چوزے ھین یقین جانین سب دیکھنے والے حیرت زدہ رہ گئے چوزے واقعی انیس ھی تھے اب مین نے پوچھا آپ کو کیسے اندازہ ھوا کہ چوزے انیس ھین انہون نے جواب دیا کہ بھئی مجھے آوازین انیس سنائی دین آپ کسی بھی نابینا شخص کی قوت سماع کی حس چیک کرین وہ حیران ھی کردے گا یہ سب کمال اس رحمان کی رحمت سے ھوتا ھے ایک حقیقی اور سچے طبیب کی انگلیان ایسی ھی حساس ھوجایا کرتی ھین یاد رکھین خالی نبض جریان خون ذیابیطس اندرونی زخم اور اواخر امراض حادہ کا اظہار کرتی ھے
خالی نبض کی تشریح ھو چکی معتدل
نبض معتدل۔۔۔ایسی نبض جو ممتلی اور خالی کے درمیان ھو معتدل کہلاۓ گی
تشریح ۔۔۔حسب دستور نباض اپنی انگلیون کے پورے مریض کی کلائی پہ رکھے
اگر شریان بھری محسوس ھو جیسے ٹیوب مین پانی ھوتا ھے تو نبض ممتلی کہلاۓ گی
اگر یون محسوس ھو جیسے خالی ٹیوب ھوتی ھے تو سمجھ لین مریض کے جسم مین خون کی بڑی ھی کمی ھے انتہائی کمزوری کی علامت ھے بس درمیان والی کا آپ کو علم ھے ھی معتدل کہلاۓ گی اللہ اللہ تے خیر صلا
اب بات کرتے ھین قانون نمبر سات کی جسے طبی زبان مین شریان کی کیفیت کہتے ھین
شریان کی کیفیت۔۔۔۔اس مین بھی تین ھی اقسام کا ذکر ھے
حار۔۔۔بارد۔۔۔۔۔۔ معتدل
اب پہلی قسم حار کا ذکر
نبض حار۔۔۔۔۔ایسی نبض جو طبیب کے پورون کو گرم محسوس ھو یعنی خون اور ریاح کی گرمی صفرا کی کثرت ۔۔بخار اور سوزش جگر کو واضح کرتی ھے لازما یہ غدی نبض ھے
بارد نبض ۔۔۔ایسی نبض جو طبیب کے پورون کو ٹھنڈی محسوس ھو یعنی سرد لگے بارد نبض کہلاتی ھے اور بارد کا مطلب برودت ھے نزلہ زکام کھانسی ضعف معدہ ضعف قوت ۔۔اور مزمن امراض کا اظہار کرتی ھے
نبض معتدل ۔۔۔نہ گرم لگے نہ ھی سرد لگے یعنی ٹمریچر نارمل لگے معتدل کہلاۓ گی
اب اس مین تشریح کی قطعی ضرورت نہین ٹھنڈی گرم توایک عام آدمی بھی پہچان کرلیتا ھے
اگلا قانون نمر آٹھ کا جسے وزن حرکت کہتے ھین
وزن حرکت۔۔۔اس کی بھی تین ھی صورتین ھین
خارج الوزن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ردی الوزن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جیدالوزن
پہلا مسئلہ خارج الوزن۔۔۔
ایسی نبض جس کا انبساط اور انقباض غیر مساوی ھو یعنی مذکورہ دونون کیفیات مین کمی بیشی پائی جاۓ ایسی نبض ضعف باہ کثرت بول پھیپھڑوں کی کمزوری بلغم کی کثرت کو واضح کرتی ھے اعصابی نبض ھوتی ھے
ردی الوزن نبض ۔۔۔۔۔ باقی آئییندہ

Wednesday, September 12, 2018

تشخيص امراض وعلامات 36

۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔تشخيص امراض وعلامات ۔۔۔۔قسط نمبر36۔۔۔۔
انشاءاللہ مضمون آخر تک مکمل کرین گے میری نظر مین ابھی آدھا مضمون شاید ھو گیا ھے نبض کی کتابون مین درج تشریحات ابھی کافی ھین تھوڑا کام نہین ھے بلکہ ابھی تو قدیم نبض کی تشریحات جاری ھین پھر نظریہ مفرداعضاء کے اصول قوانین فی النبض لکھین گے پھر فلاسفی نبض بھی لکھنی ھے یہ بات کتابون مین نہین لکھی گئی پھر وہ نظریات نبض جو واقعی خفیہ طریقہ سے خاندانون مین چلے آرھے ھین یہ بھی کسی کتاب مین نہین لکھے گئے پھر سر سے لے کر پاؤن تک ھر مرض کا نام اور اسکی نبض بھی لکھ دونگا اب مضمون مکمل ھو گا چلین آج نبض قدیم کے چوتھے قانون قوام آلہ پہ بات کرتے ھین قوام آلہ کو بھی تین اقسام مین تقسیم کیا گیا ھے قوام آلہ سے مراد نبض کی سختی اور نرمی مراد ھے
نوٹ ۔۔ ایک بات کا آپ نے دھیان رکھنا ھے نبض کی جتنی بھی قدیم تشریحات ھین ان پہ نظر رکھین اور خود ھی اندازہ لگا لین بے شمار نبض کی ایسی اقسام لکھ دی گئین ھین سچی بات ھے ان کی ضرورت ھی نہ تھی ان تقسیمون کو اور قسمون کو پڑھنے اور سمجھنے مین ساری زندگی لگ جاتی ھے پھر بھی شاید آپ سمجھ نہ سکین گے جہان تک بات مین سمجھا ھون جیسے پہلے تاریخ لکھی جاتی تھی اور خود تاریخ کی کتابون کو اٹھا کر میری بات کی تصدیق فرما لین تاریخ ابن خلدون تاریخ طبری تاریخ حشام تاریخ اسلام انسائکلوپیڈیا آف اسلام یا پھر مغربی مورخ ھیرالڈ لیمپ کی تاریخ اٹھا لین ھوتا یہ تھا مورخ کے پاس آکر کسی بھی ایک جنگ یا کسی بھی اھم واقعہ کی بارے مین کوئی بھی شخص آکر روایت کرتا واقعہ کی عینی شہادت لکھواتا مورخ من وعن بیان لکھتا ساتھ مورخ اس شخص کی معاشرے مین عزت وقار اور حیثت بھی لکھے دیتا کہ یہ شخص کردار کے لحاظ سے کیسا ھے اب دوسرا شخص وھی واقعہ یا اسی جنگ کی کسی اور طرح سے یا بالکل الٹی شہادت آکر لکھواتا مورخ وھی لکھ دیتا ساتھ اس کا بھی کردار لکھے دیتا اب مورخ نے قاری پہ بات چھوڑ دی کہ پڑھ کر خود فیصلہ کرتا رہ کیا سچ ھے اور کیا جھوٹ ھے لیکن موجودہ دور مین حکومتین بیان لکھوایا کرتی ھین وھی صرف تاریخ کا حصہ بنتی ھے خواہ سچ لکھواۓ یا جھوٹ
اب بالکل یہی کچھ طب کے ساتھ ھوا ھے جیسے ھی کسی بڑے طبیب نے اپنی تجویز شدہ اصطلاحات نبض لکھی تو آنے والے وقت مین ھر اصطلاح کو شامل کردیا گیا جس مین سواۓ اس کے کہ نام نئے رکھے گئے ورنہ باقی بات وھی لکھی ھے جو دوسری اصطلاح مین آپ بھی پڑھین گے اب نبض کی ایسی تشریحات شاید ھی کسی کو سمجھ آتی ھون اب طب کے زوال مین سے ایک سبب یہ بھی تھا موجودہ دور مین یہی غلطیان حضرت دوست محمد صابر ملتانی ؒ نے چھانٹی اور تمام طبی اصولون اور قانون کو نئے سرے سے آسان الفاظ مین آسان نامون سے لکھے جس پہ ایک شور مچ اٹھا حسد بغض ھم مین کوٹ کوٹ کر بھرا ھے اسلام جس بری عادت سے منع کرتا ھے ھم ھین کہ وھی عادت پہلے اپنانا فخر سمجھتے ھین پچھلی گزری صدی مین وہ ادارے اور کتابی نامور حکماء جن کا قبضہ وقت طب پہ تھا انہون نے شدید مخالفت کی مین نے ان مین سے کسی بھی ادارے یاشخص کی کسی بھی قسم کی طبی خدمات آج تک نہین دیکھی ھان یہ دیکھا ھے اب اسی گروہ کے پیچھے چلنے والے سڑکون پہ چیختے پھررھے ھین اور پولیس سے لاٹھیان کھانا خوراک کا حصہ بن گیا ھے طب کا جنازہ نکال دیا زوال کیا آخری سانس لے رھی ھے طب صابر ملتانی نے چیلنج ایلوپیتھی کو کیا اور وہ سامنے نہین آۓ جن کو ساتھ ملانا چاھا بڑے بڑے ھالون مین اپنے خرچے سے دعوت دے کر اپنا نظریہ پیش کیا تو انہون نے کہا صابر ھے تو بالکل سچا لیکن تیری وہ عزت وتوقیر نہین ھے جو ھماری ھے اس لئے ھم تیرے پیچھے چلین تو ھماری بے عزتی ھے ھمارے پیچھے تو چل لیکن یہ تحقیق مین اپنا نہین ھمارا نام سامنے رکھ دوستو یہ سب کچھ اس لئے لکھا ھے تاکہ آپ کو جدید طریقہ سمجھنے مین ابہام نہ رھے اب بات کرتے ھین قوام آلہ کی تو نبض کی سختی اور نرمی کو قوام آلہ کہتے ھین اس کے تحت بھی تین نبضین ھین صلب ۔۔لین ۔۔۔معتدل
صلب۔۔۔ایسی نبض جو نباض کی انگلیون کے پورون کو سخت محسوس ھو ایسی نبض خشکی پر دلالت کرتی ھے سخت سے مراد تنی ھوئی جس مین لچک کم ھو یہ دلالت مرض رعشہ ذات الریہہ ۔۔امراض گردہ ۔۔تصغیر القلب عموما ویاگرہ کھانے کے بعد یہی نبض ھوا کرتی ھے ان پہ دلالت کرتی ھے ھان اگر مریض کی عمر پچاس سال سے زیادہ ھو تو ایسی نبض نظر آۓ تو سمجھ لین وہ مریض یا تو آتشک مین مبتلا ھے یا شراب نوشی کا عادی ھے نظریہ مفرداعضاء کے تحت یہ نبض عضلاتی ھے
لیّن نبض ۔۔۔۔ایسی نبض جو نرم ھو یعنی صلب کے بالکل الٹ والی نبض ھو تو یہ کثرت رطوبات کا اظہار کرتی ھے جس سے خون کی کمی اندرونی زخم شوگر جیسی امراض مین ھوا کرتی ھے نظریہ کے تحت یہ اعصابی نبض ھے
معتدل ۔۔اب آپ جان ھی گئے ھونگے مین نے کیا لکھنا ھے۔۔جی ھان نہ نبض سخت ھو نہ ھی نرم یعنی درمیان والی ھو اسے یاد رکھین متوسط نبض بھی کہتے ھین یہ نظریہ کے تحت غدی نبض ھے جبکہ طب قدیم اسے معتدل نبض کہتی ھے اب لفظ اور اصطلاح معتدل پہ آپ سوچتے ھی ھونگے کہ ھر قانون مین ساتھ قسمون کے رائج ھے لیکن کردار کچھ بھی نہین ھے یہی تو مسائل ھین طب قدیم کے ساتھ جو آھستہ آھستہ آپ کو سمجھ آئین گے اور ان کا حل بھی آپ کو بتایا جاۓ گا پریشان نہین ھونا اب تھوڑی تشریح کردیتے ھین
دستور کے مطابق نباض مریض کی نبض پہ انگلیوں کے پورے رکھے اگر انگلیان رکھتے ھی نبض سخت اور تنی ھوئی معلوم ھو تو صلب نبض ھے تو دبانے سے آپ کے پورون کے نیچے سے بے شک پھسل جاۓ لیکن اپنا تناؤ نہ چھوڑے تو یہ نبض صلب ھے اگر نرم ملائم آسانی سے دب جانے والی یا ڈھیلی نبض محسوس ھو تو یہ لین ھے اب نہ تو زیادہ تنی ھو نہ ھی زیادہ نرم ھو درمیان والی ھو تو معتدل نبض ھے
نوٹ۔۔کچھ موازنہ پہلے سے پڑھی ھوئی نبض سریع بطی اب صلب و لین پہ غور کرین باقی مضمون اگلی قسط مین

Tuesday, September 11, 2018

تشخيص امراض وعلامات 35

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔تشخيص امراض وعلامات۔۔۔۔۔۔قسط نمبر 35۔۔
آج تشریح ھم نبض کے دوسرے قانون قرع سے شروع کرین گے قرع کے تین ھی زمانے بتاۓ تھے قوی ۔۔۔ضعیف ۔۔۔معتدل
لیکن پہلے ھم لفظ قرع پہ بات کرین گے
قرع کا مطلب ھے ٹھوکر ۔۔۔۔۔ایسی ٹھوکر جو نبض دیکھتے وقت طبیب اپنی انگلیون کے پورون پہ محسوس کرتے ھین اس ٹھوکر کو محسوس بھی تین طرح سے کیا جاتا ھے ایک ٹھوکر وہ ھے جو بڑے زور سے لگے ایک ٹھوکر وہ ھے جسے محسوس کرنے کے لئے طبیب کو اچھا خاصا دھیان دینا پڑتا ھے یعنی بڑی ھی گہرائی مین نبض ھوتی ھے تیسری ٹھوکر وہ ھے جو درمیانی ھو نہ سخت اور نہ ھی کمزور اب ان ٹھوکرون کی تشریح کرتے ھین
پہلی قسم قوی ٹھوکر۔۔۔۔ایسی نبض جو نباض کی انگلیون کے پورون کے ساتھ زور سے ٹکراۓ وہ قوی نبض کہلاۓ گی یہ نبض قوت حیوانی یعنی ( قلبی)کے قوی ھونے کا ثبوت فراھم کرتی ھے مضرات رسان اثرات کو واضح کرتی ھے بخار کی شدت ۔۔۔ابتداۓ اورام ۔۔۔امراض حادہ اور جریان خون کی پیش گوئی کرتی ھے نظریہ مفرداعضاء کے تحت یہ نبض عضلاتی ھوتی ھے
ضعیف نبض ۔۔۔قوی کے بالکل متضاد یعنی کمزور۔۔۔۔۔
ایسی نبض جو قوت حیوانی کے بالکل کمزور ھونے پہ دلالت کرتی ھے یعنی جو نبض پورون کو کچھ دبائین گے تو گہرائی مین محسوس ھوگی زیادہ نہین دبانا ورنہ بالکل پتہ ھی نہین چلے گا ایسی نبض ضعف قلب خون کی کمی بلغم کی کثرت ھاضمہ کی خرابی جیسی علامات کو ظاھر کرتی ھے نظریہ مفرداعضاء کے تحت یہ نبض اعصابی یعنی بلغمی ھے
معتدل نبض ۔۔۔۔۔۔یہ نبض قوی اور ضعیف کے درمیان واقع ھوتی ھے یعنی نہ تو زیادہ قوی ھوتی ھے نہ ھی زیادہ ضعیف ھوتی ھے ایسی نبض عمدہ صحت کی علامات سمجھی جاتی ھے نظریہ کے تحت یہ نبض غدی ھوتی ھے
اب تھوڑی تشریح ۔۔۔بڑی ھی آسان سی بات ھے نباض کی چارون انگلیان مریض کی کلائی پررکھنے سے اگرشریان پورون کو زور سے پیچھے دھکیلے تو نبض قوی کہلاۓ گی اگر کلائی پر آھستگی سے انگلیان رکھنے  پر نبض محسوس نہ ھو اور نباض کو انگلیون پہ تھوڑا دباؤ دینے سے نیچے ھڈی کے پاس معلوم ھو تو نبض ضعیف کہلاۓ گی اگر معمولی سا دباؤ دینے سے نبض معلوم ھونا شروع ھوجاۓ تو نبض معتدل کہلاۓ گی
اب بات شروع کرتے ھین تیسرے قانون زمانہ حرکت کے بارے مین
زمانہ حرکت ۔۔۔۔۔۔۔طب کی رو سے تین زمانے ھین جیسے گرائمر کے مطابق کے مطابق تین زمانے ھین مستقبل حال اور ماضی ھین اسی طرح طبی قوانین نبض مین بھی تین زمانے ھین لیکن ان کی پہچان یا انداز گرائمر کے اصولون سے قطعی مختلف ھین اس مین پہلے زمانے کو سریع دوسرے کو بطی تیسرا معتدل کہلاتا ھے اب ھم پہلے زمانے سریع پہ بات کرین گے اور سمجھین گے کہ یہ ھے کیا؟
سریع نبض یا سریع زمانہ۔۔۔۔سریع نبض اس نبض کو کہتے ھین جو تھوڑی مدت مین ختم ھوجاۓ یعنی ایک دفعہ طبیب کے پورے سے ٹکرائی اب اگر آپ غور کرین گے تو اعتدال سے جیسے نبض ٹپک کر دوبارہ انگلی کے پورون سے وقفہ لے کر ٹکرانی چاھیے تو یہ وقفہ کی مدت کم ھو جاتی ھے اسے آپ نبض سریع کہتے ھین لیکن سوال پیدا ھوتا ھے کہ ایسی کیفیت پیدا کیون ھوتی ھے یا یہ نبض کیسے ھوتی ھے تو دوستو یہ صورت اس وقت پیدا ھوتی ھے جب آپ کے خون مین شامل آکسیجن کم مقدار مین ھوتی ھے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار بڑھ جاتی ھے جسے پرانی طبی کتب مین کچھ اس طرح بیان کیا ھے ،،، ھواۓ سرد کی کمی اور دخانی ھواؤن کی کثرت کا اظہار کرتی ھے،،، اب ھوتا یہ ھے جب خون مین شامل آکسیجن کم مقدار مین ھو تو دل باربار طلب کو پورا کرنے کے لئے تیزی سے عمل کررھا ھوتا ھے لیکن بجائے آکسیجن کے آپ کاربن زیادہ جذب کررھے ھین تو لازما آپ کے دل کو زور یا کام زیادہ کرنا پڑے گا ایسی صورت مین آپ کے بدن مین لازمی مسائل پیدا ھونگے یہ کیفیت سگریٹ حقہ پینے اور زیادہ دھوان والی جگہون پہ کام کرنے والون کے ساتھ ھوتی ھے اب اس مین عام سے مسائل جو بدن مین ظاھر ھوتے ھین وہ پیٹ مین ریاح کی کثرت حرارت کی کمی اختلاج قلب تسکین جگر اور ضعف اعصاب جیسی علامات آشکار ھوتی ھین اب نظریہ مفرداعضاء ایسی نبض کو عضلاتی کہتا ھے
بطی نبض یا زمانہ۔۔۔۔۔یہ بالکل سریع کے مخالف نبض ھوتی ھے یعنی اس مین نبض ٹپکنے کا عرصہ یا زمانہ یا اسے وقفہ کہہ لین زیادہ ھوتا ھے یا اسے آپ تھکی ھوئی یا سست نبض بھی کہہ سکتے ھین یہ ایک دفعہ پورے سے ٹکرائی پھر جیسے بھول ھی گئی پھر یاد آیا پھر آکر ٹکرا گئی اسے نبض بطی کہتے ھین میرا خیال ھے بات سمجھ آگئی ھو گی اس مین پیدا ھونے والی عام علامات ضعف قلب سوزش جگر جیسی ھوا کرتی ھین یہ نبض رطوبت سے پر ھوتی ھے یعنی کثرت رطوبات اور حرارت کی کمی کا اظہار کررھی ھوتی ھے اسے نظریہ مفرداعضاء کے مطابق اعصابی نبض کہتے ھین
معتدل زمانہ یا معتدل نبض زمانہ۔۔۔۔سریع بھی نہ ھو بطی بھی نہ ھو یعنی درمیان والی کیفیت ھو یا دوسرے لفظون مین نارمل نبض دھڑک رھی ھو تو اسے پکی بات ھے آپ خود بھی سوچ رھے ھونگے نبض معتدل ھی کہین گے
اب تھوڑی تشریح یا بحث۔۔۔۔
نباض اپنی انگلیان مقام نبض پہ رکھے اگر انبساط اور انقباض کے درمیان وقفہ مین تیزی ھو تو نبض سریع ھے اور سستی پائی جاۓ تو نبض بطی ھے اگر انبساط اور انقباض کا درمیانی وقفہ برابر ھو تو نبض معتدل کہلاۓ گی
نوٹ۔۔انبساط اور انقباض پہ اس سے پہلے سمجھا چکا ھون اب آخری بات۔۔۔ کل ایک سوال کیا تھا پوسٹ مین لیکن جواب ندارد صرف دو اشخاص نے جواب لکھا تھا مجھے محسوس ھوا ھے کہ مین بھی فضول مین وقت ضائع کررھا ھون اس سے بہتر ھے دیگر پوسٹین لکھتا رھتا۔۔۔بہت افسوس ھوا۔۔۔۔
باقی کل کا سوال سمجھنے مین کچھ مشکل نہ تھا لفظ جان بوجھ کر زیق الکلیہ لکھ دیا تھا جسے دو حضرات نے جواب لکھا دونون کا درست کا لفظ تھا ضیق الکلیہ کیونکہ پوسٹ مین مین بات مسلسل ضیق پہ تشریح کررھا تھا ایک گردہ کی الگ سے مرض ھوتی ھے جسے زلق الکلیہ کہتے ھین اس کی کبھی پوسٹ لکھ دین گے
ایک اھم بات ۔۔۔کچھ دیگر مصروفیات کے باعث شاید تسلسل سے پوسٹین نہ لکھ سکون وقفہ آسکتا ھے باقی یہ بھی سوچ لین کیا اس مضمون کو یہان ھی کلوز کردین اگر دل بھر گیا ھے باقی دوچار بندے میری نظر مین ھین جو طلب گار ھین ان کا مین طریقہ کار کر لون گا وہ لائیو مجھ سے سمجھ لین گے تاکہ آپکو گروپ مین کوفت نہ ھو

پانی پیتے ھی چند منٹ بعد پیشاب کی حاجت

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔ پانی پیتے ھی چند منٹ بعد پیشاب کی حاجت ۔۔۔۔۔۔
آج کے مضمون تشخيص امراض وعلامات قسط نمبر 35 ۔۔ مین ایک مرض زلق الکلیہ کا مین نے ذکر کیا تھا اور یہ بھی لکھا تھا اس کی علیحدہ سے پوسٹ لکھ دونگا تو دوستو یہ مرض زلق الکلیہ آجکل بہت ھی عام مرض ھے بے شمار لوگ اس مرض کا شکار ھین آئیے آپکو ھلکی پھلکی تفصیل کے ساتھ اس مرض کے بارے مین بتائین
اس مرض مین غدد جاذبہ تیزی سے رطوبات جذب کرتے ھین اور غدد ناقلہ تیزی کے ساتھ اس کا اخراج کرتے ھین
اس مرض مین شوگر خارج نہین ھوتی یعنی شوگر کا یہ مرض نہین ھوتا لیکن پیشاب آنے کی صورت حال یہ ھوتی ھے کہ ایک رات مین دس بارہ دفعہ پیشاب آجاتا ھے یہی وہ مرض ھے جس مین اتنا پیشاب آنے کے باوجود بلڈ پریشر زیادہ ھوتا ھے اور مزے کی بات ھے اتنا پیشاب آنے کے باوجود پاؤن اور پنڈلیون پہ سوجن ھوا کرتی ھے اور دوسری مزے کی بات یہ ھے اب حکیم لوگ اسے گردون کی سردی سمجھتے ھوۓ یا گردون کی کمزوری سمجھتے ھوۓ گرم اشیاء اور گرم دوائین کھلاتے ھین جیسے اس معاملہ مین معجون فلاسفہ یا جالینوس وزرعونی ٹائپ کی ادویات کو بہترین سمجھتے ھوۓ مریض کو کھلاتے ھین ساتھ دیسی مرغ کی یخنی سیاہ چنے کا شوربہ پلاتے ھین لیکن ان سب دواؤن اور غذاؤن کے کھلانے سے مرض گھٹتا نہین بلکہ بڑھ جایا کرتا ھے یعنی پیشاب کی مقدار مین اضافہ ھوجایا کرتا ھے یا پھر سیدھا سیدھا شوگر کی دوا کھلانی شروع کردیتے ھین یہ بھی الٹا ھی کام کرتی ھے اگر شوگر نہین ھے تو بننے مین دیر نہین لگتی دوستو اب میری بات غور سے سنین سمجھین اور چٹکی بجاتے ھی علاج کر لین گے سمجھانا میرا کام ھے دوا بتانا بھی میرا کام ھے شفا رب کائینات نے دینی ھے انشاءاللہ پہلی خوراک سے ھی شفائی اثرات شروع ھو جائین گے لیکن پہلے مرض سمجھ لین بھئی یہ غدی اعصابی تحریک ھے جس مین غدد ناقلہ کا فعل تیز ھوجاتا ھے اور یاد رکھین یہ فعل اس لئے تیز ھوتا ھے کہ آلات بول مین کسی نہ کسی مقام پہ کوئی سوزش واقع ھو چکی ھے اب اس سوزش کی تسکین کے لئے طبیعت وھان رطوبت گراتی ھے جو اپنی کثرت کے سبب مسلسل اخراج پاتی رھتی ھے اب اس سوزش کو رفع کیا جاۓ جس کے لئے سفوف سوزش۔۔۔۔
سہاگہ بریان ۔۔۔ست ملٹھی ۔۔۔ گندھک آملہ سار برابروزن پیس لین ماشہ ماشہ دن مین تین بار دین اب ساتھ معجون فلاسفہ دین معجون قرطم دین بنادق البزور دین یہ سب قرابا دینی نسخے ھین انہین تو لکھنے کی ضرورت ھے نہین ۔۔سب کے پاس قرابا دینی کتابین پڑی ھوتی ھین بلکہ ھر پنساری کے پاس بھی لازمی ھوتی ھین نہین تو کسی اچھی کی لے لین۔۔۔ فورا مرض سے چھٹکارا ملے گا

تشخيص امراض وعلامات 35

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔تشخيص امراض وعلامات۔۔۔۔۔۔قسط نمبر 35۔۔
آج تشریح ھم نبض کے دوسرے قانون قرع سے شروع کرین گے قرع کے تین ھی زمانے بتاۓ تھے قوی ۔۔۔ضعیف ۔۔۔معتدل
لیکن پہلے ھم لفظ قرع پہ بات کرین گے
قرع کا مطلب ھے ٹھوکر ۔۔۔۔۔ایسی ٹھوکر جو نبض دیکھتے وقت طبیب اپنی انگلیون کے پورون پہ محسوس کرتے ھین اس ٹھوکر کو محسوس بھی تین طرح سے کیا جاتا ھے ایک ٹھوکر وہ ھے جو بڑے زور سے لگے ایک ٹھوکر وہ ھے جسے محسوس کرنے کے لئے طبیب کو اچھا خاصا دھیان دینا پڑتا ھے یعنی بڑی ھی گہرائی مین نبض ھوتی ھے تیسری ٹھوکر وہ ھے جو درمیانی ھو نہ سخت اور نہ ھی کمزور اب ان ٹھوکرون کی تشریح کرتے ھین
پہلی قسم قوی ٹھوکر۔۔۔۔ایسی نبض جو نباض کی انگلیون کے پورون کے ساتھ زور سے ٹکراۓ وہ قوی نبض کہلاۓ گی یہ نبض قوت حیوانی یعنی ( قلبی)کے قوی ھونے کا ثبوت فراھم کرتی ھے مضرات رسان اثرات کو واضح کرتی ھے بخار کی شدت ۔۔۔ابتداۓ اورام ۔۔۔امراض حادہ اور جریان خون کی پیش گوئی کرتی ھے نظریہ مفرداعضاء کے تحت یہ نبض عضلاتی ھوتی ھے
ضعیف نبض ۔۔۔قوی کے بالکل متضاد یعنی کمزور۔۔۔۔۔
ایسی نبض جو قوت حیوانی کے بالکل کمزور ھونے پہ دلالت کرتی ھے یعنی جو نبض پورون کو کچھ دبائین گے تو گہرائی مین محسوس ھوگی زیادہ نہین دبانا ورنہ بالکل پتہ ھی نہین چلے گا ایسی نبض ضعف قلب خون کی کمی بلغم کی کثرت ھاضمہ کی خرابی جیسی علامات کو ظاھر کرتی ھے نظریہ مفرداعضاء کے تحت یہ نبض اعصابی یعنی بلغمی ھے
معتدل نبض ۔۔۔۔۔۔یہ نبض قوی اور ضعیف کے درمیان واقع ھوتی ھے یعنی نہ تو زیادہ قوی ھوتی ھے نہ ھی زیادہ ضعیف ھوتی ھے ایسی نبض عمدہ صحت کی علامات سمجھی جاتی ھے نظریہ کے تحت یہ نبض غدی ھوتی ھے
اب تھوڑی تشریح ۔۔۔بڑی ھی آسان سی بات ھے نباض کی چارون انگلیان مریض کی کلائی پررکھنے سے اگرشریان پورون کو زور سے پیچھے دھکیلے تو نبض قوی کہلاۓ گی اگر کلائی پر آھستگی سے انگلیان رکھنے  پر نبض محسوس نہ ھو اور نباض کو انگلیون پہ تھوڑا دباؤ دینے سے نیچے ھڈی کے پاس معلوم ھو تو نبض ضعیف کہلاۓ گی اگر معمولی سا دباؤ دینے سے نبض معلوم ھونا شروع ھوجاۓ تو نبض معتدل کہلاۓ گی
اب بات شروع کرتے ھین تیسرے قانون زمانہ حرکت کے بارے مین
زمانہ حرکت ۔۔۔۔۔۔۔طب کی رو سے تین زمانے ھین جیسے گرائمر کے مطابق کے مطابق تین زمانے ھین مستقبل حال اور ماضی ھین اسی طرح طبی قوانین نبض مین بھی تین زمانے ھین لیکن ان کی پہچان یا انداز گرائمر کے اصولون سے قطعی مختلف ھین اس مین پہلے زمانے کو سریع دوسرے کو بطی تیسرا معتدل کہلاتا ھے اب ھم پہلے زمانے سریع پہ بات کرین گے اور سمجھین گے کہ یہ ھے کیا؟
سریع نبض یا سریع زمانہ۔۔۔۔سریع نبض اس نبض کو کہتے ھین جو تھوڑی مدت مین ختم ھوجاۓ یعنی ایک دفعہ طبیب کے پورے سے ٹکرائی اب اگر آپ غور کرین گے تو اعتدال سے جیسے نبض ٹپک کر دوبارہ انگلی کے پورون سے وقفہ لے کر ٹکرانی چاھیے تو یہ وقفہ کی مدت کم ھو جاتی ھے اسے آپ نبض سریع کہتے ھین لیکن سوال پیدا ھوتا ھے کہ ایسی کیفیت پیدا کیون ھوتی ھے یا یہ نبض کیسے ھوتی ھے تو دوستو یہ صورت اس وقت پیدا ھوتی ھے جب آپ کے خون مین شامل آکسیجن کم مقدار مین ھوتی ھے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار بڑھ جاتی ھے جسے پرانی طبی کتب مین کچھ اس طرح بیان کیا ھے ،،، ھواۓ سرد کی کمی اور دخانی ھواؤن کی کثرت کا اظہار کرتی ھے،،، اب ھوتا یہ ھے جب خون مین شامل آکسیجن کم مقدار مین ھو تو دل باربار طلب کو پورا کرنے کے لئے تیزی سے عمل کررھا ھوتا ھے لیکن بجائے آکسیجن کے آپ کاربن زیادہ جذب کررھے ھین تو لازما آپ کے دل کو زور یا کام زیادہ کرنا پڑے گا ایسی صورت مین آپ کے بدن مین لازمی مسائل پیدا ھونگے یہ کیفیت سگریٹ حقہ پینے اور زیادہ دھوان والی جگہون پہ کام کرنے والون کے ساتھ ھوتی ھے اب اس مین عام سے مسائل جو بدن مین ظاھر ھوتے ھین وہ پیٹ مین ریاح کی کثرت حرارت کی کمی اختلاج قلب تسکین جگر اور ضعف اعصاب جیسی علامات آشکار ھوتی ھین اب نظریہ مفرداعضاء ایسی نبض کو عضلاتی کہتا ھے
بطی نبض یا زمانہ۔۔۔۔۔یہ بالکل سریع کے مخالف نبض ھوتی ھے یعنی اس مین نبض ٹپکنے کا عرصہ یا زمانہ یا اسے وقفہ کہہ لین زیادہ ھوتا ھے یا اسے آپ تھکی ھوئی یا سست نبض بھی کہہ سکتے ھین یہ ایک دفعہ پورے سے ٹکرائی پھر جیسے بھول ھی گئی پھر یاد آیا پھر آکر ٹکرا گئی اسے نبض بطی کہتے ھین میرا خیال ھے بات سمجھ آگئی ھو گی اس مین پیدا ھونے والی عام علامات ضعف قلب سوزش جگر جیسی ھوا کرتی ھین یہ نبض رطوبت سے پر ھوتی ھے یعنی کثرت رطوبات اور حرارت کی کمی کا اظہار کررھی ھوتی ھے اسے نظریہ مفرداعضاء کے مطابق اعصابی نبض کہتے ھین
معتدل زمانہ یا معتدل نبض زمانہ۔۔۔۔سریع بھی نہ ھو بطی بھی نہ ھو یعنی درمیان والی کیفیت ھو یا دوسرے لفظون مین نارمل نبض دھڑک رھی ھو تو اسے پکی بات ھے آپ خود بھی سوچ رھے ھونگے نبض معتدل ھی کہین گے
اب تھوڑی تشریح یا بحث۔۔۔۔
نباض اپنی انگلیان مقام نبض پہ رکھے اگر انبساط اور انقباض کے درمیان وقفہ مین تیزی ھو تو نبض سریع ھے اور سستی پائی جاۓ تو نبض بطی ھے اگر انبساط اور انقباض کا درمیانی وقفہ برابر ھو تو نبض معتدل کہلاۓ گی
نوٹ۔۔انبساط اور انقباض پہ اس سے پہلے سمجھا چکا ھون اب آخری بات۔۔۔ کل ایک سوال کیا تھا پوسٹ مین لیکن جواب ندارد صرف دو اشخاص نے جواب لکھا تھا مجھے محسوس ھوا ھے کہ مین بھی فضول مین وقت ضائع کررھا ھون اس سے بہتر ھے دیگر پوسٹین لکھتا رھتا۔۔۔بہت افسوس ھوا۔۔۔۔
باقی کل کا سوال سمجھنے مین کچھ مشکل نہ تھا لفظ جان بوجھ کر زیق الکلیہ لکھ دیا تھا جسے دو حضرات نے جواب لکھا دونون کا درست کا لفظ تھا ضیق الکلیہ کیونکہ پوسٹ مین مین بات مسلسل ضیق پہ تشریح کررھا تھا ایک گردہ کی الگ سے مرض ھوتی ھے جسے زلق الکلیہ کہتے ھین اس کی کبھی پوسٹ لکھ دین گے
ایک اھم بات ۔۔۔کچھ دیگر مصروفیات کے باعث شاید تسلسل سے پوسٹین نہ لکھ سکون وقفہ آسکتا ھے باقی یہ بھی سوچ لین کیا اس مضمون کو یہان ھی کلوز کردین اگر دل بھر گیا ھے باقی دوچار بندے میری نظر مین ھین جو طلب گار ھین ان کا مین طریقہ کار کر لون گا وہ لائیو مجھ سے سمجھ لین گے تاکہ آپکو گروپ مین کوفت نہ ھو

Monday, September 10, 2018

تشخيص امراض وعلامات 34

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔تشخيص امراض وعلامات ۔۔۔۔۔۔قسط نمبر 34۔۔۔۔
کل تشریح کردی تھی مقدار نبض کی ایک حصہ """طویل"""" کی
آج ھم پہلے عریض سے شروع کرتے ھین
عریض ۔۔۔یہ وہ نبض ھے جس کی چوڑائی صحت مند شخص کی نبض سے زیادہ ھو آپ جانتے ھی ھونگے عریض کے لفظی معنی بھی چوڑائی کے ھین
اس نبض مین آپ کو رطوبت کی کثرت اور شدید اورام یعنی ورمون اور انتہاۓ تپ کی طرف اشارہ کرتی ھے اور آپ اسے نظریہ مفرداعضاء کے حساب سے اعصابی نبض کہتے ھین
اب نبض ضیق پہ آجاتے ھین
ضیق نبض۔۔۔۔ضیق بمعنی تنگ یا باریک ھوتے ھین
یہ وہ نبض ھے جو ایک تندرست شخص کی نبض کی نسبت چوڑائی مین کم ھوتی ھے جس سے رطوبت کی کمی پر استدلال کرتی ھے ایسی نبض تپ محرقہ ٹائیفائڈ ۔۔التہاب باریطون ذات الجنب کی علامات کو ظاھر کرتی ھے نظریہ مفرداعضاء کے حساب سے یہ نبض عضلاتی ھے
معتدل نبض ۔۔۔۔۔عریض اور ضیق کے درمیان والی نبض یعنی نہ ھی زیادہ موٹی یا چوڑی ھو اور نہ زیادہ باریک یعنی تنگ نبض ھو اب درمیان والی معتدل کہلاتی ھے اور اعتدال آپ صحت کو کہہ سکتے ھین
اب ھلکی سی تشریح
اب بات سمجھ لین جس طرح طویل نبض حرارت پر دلالت کرتی ھے اسی طرح عریض نبض رطوبت پہ دلالت کرتی ھے اب نبض دیکھنے کا طریقہ یہ ھو گا کہ طبیب چارون انگلیان عمودًا نبض یعنی شریانِ کلائی کھڑا کردے پھر انگلیون کے پورون سے نبض ک احساس کرے اگر نبض کی چوڑائی طبیب کی انگلی کے پورے کی نصف چوڑائی سے زیادہ ھو تو سمجھ لین یہ نبض عریض ھے اگر نصف پورے سے کم ھے تو نبض ضیق ھے اگر نصف پورے تک ھی ھے تو نبض معتدل ھے امید ھے بات آپ کی سمجھ مین آگئی ھو گی
نوٹ۔۔۔۔۔ایک اھم بات کی طرف نشاندھی کردون مین دیکھتا ھون کہ اکثر اطباء حضرات اور مریض حضرات بھی ایک نفسیاتی مسئلہ مین الجھے ھوۓ ھین یہان ھر شخص کی کوشش ھوتی ھے کہ امراض کے نام  ایلوپیتھی طرز یعنی انگریزی مین لکھتے ھین یہ بات میری نظر مین خوداعتمادی اور طب پہ یقین مین کمی کی نشاندھی کرتی ھے ایس باتون سے پتہ چلتا ھے کہ بندہ  انگریزی سے شدید متاثر ھے لیکن اسے انگریزی آتی بھی نہین ھوتی  ایسا ھرشخص میری نظر مین ھمیشہ ادھورا رھتا ھے نہ یہ چیل بنے گا نہ ککڑ۔۔۔اپنی زبان پہ اعتماد کرین دنیا کا ھر شخص ھمیشہ اپنی ھی زبان مین اچھا مدعا بیان کرسکتا ھے مین آپ کو بیماریون کے نام طبی زبان مین ھی بتاؤن گا یہی نام یاد کرین انشاءاللہ مین سرسے لے کر پاؤن تک ھر مرض کی نبض لکھ دونگا لیکن امراض کے نام تو آپ نے ھی یادرکھنے ھین چلین ابھی تمام حکماء سے ایک سوال کا جواب مانگتا ھون پڑھتے ھی تیزی کے ساتھ جواب لکھ دینا ھے
سوال ۔۔۔۔۔۔۔ بتائین مرض زیق الکلیہ کس مرض کو کہتے ھین
اب آگے مضمون کی طرف چلتے ھین بات کرتے ھین تیسری نبض مشرف کی
نبض مشرف۔۔۔لفظ شرف کے معنی بلندی کے ھین  لہذا ایسی نبض جو صحت مند شخص کی نبض سے زیادہ بلند ھو مشرف کہلاتی ھے نظریہ مفرداعضاء کے تحت یہ نبض عضلاتی کہلاتی ھے جو حرکت وریاح کی کثرت پہ دلالت کرتی ھے ایسی نبض مین ریاح شکم یعنی پیٹ مین گیس یا ھوا اور ذات الریہہ اور رعشہ اور انتہاۓ تپ مین یہ نبض ھوتی ھے
منخفض ۔۔۔۔ نبض منخفض یعنی پست نبض یعنی ایسی نبض جو نبض مشرف کے بالکل الٹ ھو یعنی پستی مین ھو یہ نبض منخفض کہلاتی ھے
اس نبض مین حرکت کی بھی کمی ھوتی ھے تو سمجھ لین ریاح مین بھی کمی ھوتی ھے ایسی نبض ھیضہ قے اسہال غشی اور اعصابی دردین اور محرقہ جیسی علامات وامراض کو ظاھر کرتی ھے نظریہ مفرداعضاء کے تحت یہ نبض اعصابی یعنی بلغمی مزاج کی ھوتی ھے
معتدل ۔۔۔۔۔ایسی نبض جو مشرف اور منخفض نبضون کے درمیان ھو معتدل کہلاتی ھے نظریہ کے تحت یہ نبض غدی ھوتی ھے
اب تھوڑی سی تشریح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چارون انگلیان مقام نبض پہ آھستگی سے رکھین
اگر انگلیان رکھنے کے ساتھ ھی نبض کی تڑپ یعنی ٹپکن محسوس ھونے لگے تو سمجھ لین یہ نبض مشرف ھے
اگر انگلیان رکھتے ھوۓ نبض کی ٹپکن محسوس نہ ھو تو آھستہ آھستہ دباؤ ڈالین اگر بالکل نیچے ھڈی کے ساتھ جاکر نبض اپنی ٹپکن کا احساس دلاۓ یعنی محسوس ھو تو یہ نبض منخفض ھے اگر نبض نہ تو ھڈی کے قریب نہ ھی بالکل اوپر بلکہ سنٹر یعنی درمیان مین محسوس ھو یا ٹپکن انگلیون کے ساتھ لگنا شروع ھوجاۓ تو یہ نبض معتدل ھے یا آپ اسے غدی نبض کہہ سکتے ھین
دوستو مقدار نبض کی تشریحات یہان ختم ھوئین لکھ کر یہی کچھ سمجھایا جا سکتا ھے باقی کام ماھر فن نبض پریکٹیکلی طور پہ ھی بتا سکتا ھے یا پھر یہ ھوسکتا ھے آپ کو سمجھ آگئی ھو تو خود تجربات کرین ایک بات بتاۓ دیتا ھون اپنے اندر اعتماد بہت زیادہ پیدا کرین ھان شروع شروع اعتماد بہت مشکل سے بنتا ھے پھر جب ماھر فن ھو جاتا ھے اور فن کے عروج پہ پہنچ جاتا ھے تواعتماد انتہا کو پہنچ چکا ھوتا ھے مین اپنے تجربے سے بھی آپ کو ایک بات یہ بھی بتا دون بہت سے معاملات مین مریض نفسیاتی مسائل مین مبتلا ھو چکا ھوتا ھے وہ اپنی مرض آپ سے چھپا رھا ھوتا ھے بلکہ اپنی رام کہانی سناتے ھوۓ مسلسل جھوٹ بول رھا ھوتا ھے جب کہ اسے علم بھی ھوتا ھے کہ مین مریض ھون اور مجھے ھی مرض کی اذیت یا تکلیف سہنی ھے اس کے باوجود وہ غلط بیانی سے کام لیتا ھے لیکن جب نبض دیکھی جاتی ھے تو ایک ماھر فن کو کہانی کچھ اور نظر آتی ھے وہ صاف مریض کے منہ پہ کہہ دیتا ھے کہ تم جھوٹ بول رھے ھو تمھاری مرض تو کچھ یون ھے اب وہ ڈرتا بھی ھے جھجھکتا بھی ھے اب معالج کا کردار یہ ھونا چاھیے کہ مریض کی طبیعت سمجھے یعنی نفسیات سمجھے بعض کو تو مین انتہائی پیار سے سچ بولنے پہ راضی کرلیتا ھون بعض کے ساتھ میرا رویہ یہ ھوتا ھے کہ مین انہین کہے دیتا ھون تو نے اپنی مرض کے بارے مین مجھے جھوٹی کہانی سنائی ھے لہذا مین تیرا علاج ھی نہین کرسکتا جا کسی ایسے شخص سےجاکر مل جو تیری مرض کو ھضم کرلے ۔۔۔۔اب یہ بات بھی آپ کے رویہ پہ منحصر ھوتی ھے زیادہ سخت لہجہ تھا تو بالکل مایوس کردیا آپ نے تو واقعی چلا جاۓ گا اب اسے روکین بھی نہین لیکن نوے فیصد فورا سچ بولنے پہ راضی ھوجاتے ھین اب ایک دوسری قسم کے مریضون سے بھی واسطہ پڑتا ھے وہ اپنی مرض مین پراسراریت جذبات دکھ یا خوفناکی شامل کرلیتے ھین یہ سراسر مبالغہ آمیزی ھوتی ھے وہ خود کو بڑے ھی بہادر منوانے پہ تلے ھوتے ھین ان کے آخری الفاظ عموما ایسے ھوتے ھین ۔۔۔۔ حکیم صاحب اب یہ میرا ھی حوصلہ یا جگرا ھے جو اس بیماری سے لڑ رھا ھون ورنہ مولو تیلی جیسے لوگ تو چند روز مین ھی قبر مین جا پڑتے ھین لیکن نبض دیکھنے سے مرض معمولی ھوتی ھے جسے مریض کئی سال تک ساتھ لیے پھرتا ھے لیکن زیادہ تر واسطہ ان ھی لوگون سے پڑتا ھے جو سچ سچ مرض بیان کرتے ھین جو انہین سمجھ یا پتہ ھوتی ھے   
انشاءاللہ باقی اگلا مضمون  قرع نبض کی تشریح سے شروع ھو گا

تشخيص امراض وعلامات 34

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔تشخيص امراض وعلامات ۔۔۔۔۔۔قسط نمبر 34۔۔۔۔
کل تشریح کردی تھی مقدار نبض کی ایک حصہ """طویل"""" کی
آج ھم پہلے عریض سے شروع کرتے ھین
عریض ۔۔۔یہ وہ نبض ھے جس کی چوڑائی صحت مند شخص کی نبض سے زیادہ ھو آپ جانتے ھی ھونگے عریض کے لفظی معنی بھی چوڑائی کے ھین
اس نبض مین آپ کو رطوبت کی کثرت اور شدید اورام یعنی ورمون اور انتہاۓ تپ کی طرف اشارہ کرتی ھے اور آپ اسے نظریہ مفرداعضاء کے حساب سے اعصابی نبض کہتے ھین
اب نبض ضیق پہ آجاتے ھین
ضیق نبض۔۔۔۔ضیق بمعنی تنگ یا باریک ھوتے ھین
یہ وہ نبض ھے جو ایک تندرست شخص کی نبض کی نسبت چوڑائی مین کم ھوتی ھے جس سے رطوبت کی کمی پر استدلال کرتی ھے ایسی نبض تپ محرقہ ٹائیفائڈ ۔۔التہاب باریطون ذات الجنب کی علامات کو ظاھر کرتی ھے نظریہ مفرداعضاء کے حساب سے یہ نبض عضلاتی ھے
معتدل نبض ۔۔۔۔۔عریض اور ضیق کے درمیان والی نبض یعنی نہ ھی زیادہ موٹی یا چوڑی ھو اور نہ زیادہ باریک یعنی تنگ نبض ھو اب درمیان والی معتدل کہلاتی ھے اور اعتدال آپ صحت کو کہہ سکتے ھین
اب ھلکی سی تشریح
اب بات سمجھ لین جس طرح طویل نبض حرارت پر دلالت کرتی ھے اسی طرح عریض نبض رطوبت پہ دلالت کرتی ھے اب نبض دیکھنے کا طریقہ یہ ھو گا کہ طبیب چارون انگلیان عمودًا نبض یعنی شریانِ کلائی کھڑا کردے پھر انگلیون کے پورون سے نبض ک احساس کرے اگر نبض کی چوڑائی طبیب کی انگلی کے پورے کی نصف چوڑائی سے زیادہ ھو تو سمجھ لین یہ نبض عریض ھے اگر نصف پورے سے کم ھے تو نبض ضیق ھے اگر نصف پورے تک ھی ھے تو نبض معتدل ھے امید ھے بات آپ کی سمجھ مین آگئی ھو گی
نوٹ۔۔۔۔۔ایک اھم بات کی طرف نشاندھی کردون مین دیکھتا ھون کہ اکثر اطباء حضرات اور مریض حضرات بھی ایک نفسیاتی مسئلہ مین الجھے ھوۓ ھین یہان ھر شخص کی کوشش ھوتی ھے کہ امراض کے نام ایلوپیتھی طرز یعنی انگریزی مین لکھتے ھین یہ بات میری نظر مین خوداعتمادی اور طب پہ یقین مین کمی کی نشاندھی کرتی ھے ایس باتون سے پتہ چلتا ھے کہ بندہ انگریزی سے شدید متاثر ھے لیکن اسے انگریزی آتی بھی نہین ھوتی ایسا ھرشخص میری نظر مین ھمیشہ ادھورا رھتا ھے نہ یہ چیل بنے گا نہ ککڑ۔۔۔اپنی زبان پہ اعتماد کرین دنیا کا ھر شخص ھمیشہ اپنی ھی زبان مین اچھا مدعا بیان کرسکتا ھے مین آپ کو بیماریون کے نام طبی زبان مین ھی بتاؤن گا یہی نام یاد کرین انشاءاللہ مین سرسے لے کر پاؤن تک ھر مرض کی نبض لکھ دونگا لیکن امراض کے نام تو آپ نے ھی یادرکھنے ھین چلین ابھی تمام حکماء سے ایک سوال کا جواب مانگتا ھون پڑھتے ھی تیزی کے ساتھ جواب لکھ دینا ھے
سوال ۔۔۔۔۔۔۔ بتائین مرض زیق الکلیہ کس مرض کو کہتے ھین
اب آگے مضمون کی طرف چلتے ھین بات کرتے ھین تیسری نبض مشرف کی
نبض مشرف۔۔۔لفظ شرف کے معنی بلندی کے ھین لہذا ایسی نبض جو صحت مند شخص کی نبض سے زیادہ بلند ھو مشرف کہلاتی ھے نظریہ مفرداعضاء کے تحت یہ نبض عضلاتی کہلاتی ھے جو حرکت وریاح کی کثرت پہ دلالت کرتی ھے ایسی نبض مین ریاح شکم یعنی پیٹ مین گیس یا ھوا اور ذات الریہہ اور رعشہ اور انتہاۓ تپ مین یہ نبض ھوتی ھے
منخفض ۔۔۔۔ نبض منخفض یعنی پست نبض یعنی ایسی نبض جو نبض مشرف کے بالکل الٹ ھو یعنی پستی مین ھو یہ نبض منخفض کہلاتی ھے
اس نبض مین حرکت کی بھی کمی ھوتی ھے تو سمجھ لین ریاح مین بھی کمی ھوتی ھے ایسی نبض ھیضہ قے اسہال غشی اور اعصابی دردین اور محرقہ جیسی علامات وامراض کو ظاھر کرتی ھے نظریہ مفرداعضاء کے تحت یہ نبض اعصابی یعنی بلغمی مزاج کی ھوتی ھے
معتدل ۔۔۔۔۔ایسی نبض جو مشرف اور منخفض نبضون کے درمیان ھو معتدل کہلاتی ھے نظریہ کے تحت یہ نبض غدی ھوتی ھے
اب تھوڑی سی تشریح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چارون انگلیان مقام نبض پہ آھستگی سے رکھین
اگر انگلیان رکھنے کے ساتھ ھی نبض کی تڑپ یعنی ٹپکن محسوس ھونے لگے تو سمجھ لین یہ نبض مشرف ھے
اگر انگلیان رکھتے ھوۓ نبض کی ٹپکن محسوس نہ ھو تو آھستہ آھستہ دباؤ ڈالین اگر بالکل نیچے ھڈی کے ساتھ جاکر نبض اپنی ٹپکن کا احساس دلاۓ یعنی محسوس ھو تو یہ نبض منخفض ھے اگر نبض نہ تو ھڈی کے قریب نہ ھی بالکل اوپر بلکہ سنٹر یعنی درمیان مین محسوس ھو یا ٹپکن انگلیون کے ساتھ لگنا شروع ھوجاۓ تو یہ نبض معتدل ھے یا آپ اسے غدی نبض کہہ سکتے ھین
دوستو مقدار نبض کی تشریحات یہان ختم ھوئین لکھ کر یہی کچھ سمجھایا جا سکتا ھے باقی کام ماھر فن نبض پریکٹیکلی طور پہ ھی بتا سکتا ھے یا پھر یہ ھوسکتا ھے آپ کو سمجھ آگئی ھو تو خود تجربات کرین ایک بات بتاۓ دیتا ھون اپنے اندر اعتماد بہت زیادہ پیدا کرین ھان شروع شروع اعتماد بہت مشکل سے بنتا ھے پھر جب ماھر فن ھو جاتا ھے اور فن کے عروج پہ پہنچ جاتا ھے تواعتماد انتہا کو پہنچ چکا ھوتا ھے مین اپنے تجربے سے بھی آپ کو ایک بات یہ بھی بتا دون بہت سے معاملات مین مریض نفسیاتی مسائل مین مبتلا ھو چکا ھوتا ھے وہ اپنی مرض آپ سے چھپا رھا ھوتا ھے بلکہ اپنی رام کہانی سناتے ھوۓ مسلسل جھوٹ بول رھا ھوتا ھے جب کہ اسے علم بھی ھوتا ھے کہ مین مریض ھون اور مجھے ھی مرض کی اذیت یا تکلیف سہنی ھے اس کے باوجود وہ غلط بیانی سے کام لیتا ھے لیکن جب نبض دیکھی جاتی ھے تو ایک ماھر فن کو کہانی کچھ اور نظر آتی ھے وہ صاف مریض کے منہ پہ کہہ دیتا ھے کہ تم جھوٹ بول رھے ھو تمھاری مرض تو کچھ یون ھے اب وہ ڈرتا بھی ھے جھجھکتا بھی ھے اب معالج کا کردار یہ ھونا چاھیے کہ مریض کی طبیعت سمجھے یعنی نفسیات سمجھے بعض کو تو مین انتہائی پیار سے سچ بولنے پہ راضی کرلیتا ھون بعض کے ساتھ میرا رویہ یہ ھوتا ھے کہ مین انہین کہے دیتا ھون تو نے اپنی مرض کے بارے مین مجھے جھوٹی کہانی سنائی ھے لہذا مین تیرا علاج ھی نہین کرسکتا جا کسی ایسے شخص سےجاکر مل جو تیری مرض کو ھضم کرلے ۔۔۔۔اب یہ بات بھی آپ کے رویہ پہ منحصر ھوتی ھے زیادہ سخت لہجہ تھا تو بالکل مایوس کردیا آپ نے تو واقعی چلا جاۓ گا اب اسے روکین بھی نہین لیکن نوے فیصد فورا سچ بولنے پہ راضی ھوجاتے ھین اب ایک دوسری قسم کے مریضون سے بھی واسطہ پڑتا ھے وہ اپنی مرض مین پراسراریت جذبات دکھ یا خوفناکی شامل کرلیتے ھین یہ سراسر مبالغہ آمیزی ھوتی ھے وہ خود کو بڑے ھی بہادر منوانے پہ تلے ھوتے ھین ان کے آخری الفاظ عموما ایسے ھوتے ھین ۔۔۔۔ حکیم صاحب اب یہ میرا ھی حوصلہ یا جگرا ھے جو اس بیماری سے لڑ رھا ھون ورنہ مولو تیلی جیسے لوگ تو چند روز مین ھی قبر مین جا پڑتے ھین لیکن نبض دیکھنے سے مرض معمولی ھوتی ھے جسے مریض کئی سال تک ساتھ لیے پھرتا ھے لیکن زیادہ تر واسطہ ان ھی لوگون سے پڑتا ھے جو سچ سچ مرض بیان کرتے ھین جو انہین سمجھ یا پتہ ھوتی ھے
انشاءاللہ باقی اگلا مضمون قرع نبض کی تشریح سے شروع ھو گا

Sunday, September 9, 2018

تشخيص امراض وعلامات 33

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔تشخيص امراض وعلامات ۔۔۔۔۔۔۔قسط نمبر33۔۔۔۔
آج سے بحث نبض شروع ھو رھی ھے جس کا بہت سے دوستو کو انتظار تھا اب نبض قدیم کی پہلے ھلکی پھلکی تشریح کرین گے اس کے بعد جدید تشریحات پہ آجائین گے اب طب یونانی مین نبض دیکھنے کے دس باتون کو سامنے رکھا گیا ھے
١۔مقدار نبض ۔۔ ٢۔۔۔قرع نبض ۔۔٣۔۔۔زمانہ حرکت ۔۔۔٤۔۔۔قوام آلہ ۔۔۔٥۔۔۔زمانہ سکون ۔۔۔۔٦۔۔۔مقدار رطوبت ۔۔۔٧۔۔شریان کی کیفیت ۔۔۔۔۔ ٨ ۔۔۔وزن الحرکت ۔۔۔۔۔ ٩ ۔۔استواء اختلاف نبض ۔۔۔۔١٠ ۔۔نظم نبض
اب ان دس مین مذید باریکیان یا تقسیم ھین ان مین ھم نمبر١ مقدار نبض کو دیکھتے ھین ۔۔۔۔۔۔۔مقدار نبض
ࣨࣨ]
طویل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عریض ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مشرف
! ! !
طویل ۔۔۔۔۔۔۔۔ معتدل۔۔۔۔۔۔ قصیر ! !
عریض ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ضیق ۔۔۔۔۔۔۔ معتدل !
مشرف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ منخفض۔۔۔۔۔معتدل
اب اسی طرح نمبر٢۔۔ قرع نبض بھی تین ھی قائدون مین تقسیم ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قرع نبض
!
قوی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ضعیف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ معتدل
اب ترتیب سے سب کا لکھے دیتا ھون
نمبر ٣ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زمانہ حرکت
!
سریع ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بطی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔معتدل
نمبر٤۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قوام آلہ
!
صلب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔معتدل
نمبر٥۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زمانہ سکون
!
متواتر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔متفاوت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔معتدل
نمبر٦۔۔۔۔۔۔۔۔۔مقدار رطوبت
!
ممتلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خالی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔معتدل
نمبر٧۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شریان کی کیفیت
!
حار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بارد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔معتدل
نمبر٨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وزن حرکت
!
خارج الوزن۔۔۔۔۔۔۔۔۔ردی الوزن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جیدالوزن
نمبر ٩۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔استواء اختلاف نبض
!
استواء ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اختلاف
نمبر١٠۔۔۔۔نظم نبض ۔۔۔۔ اس مین تقسیم نہین ھے
اب آپ خود ھی دیکھ لین اتنی باریک تقسیم آپ کیسے یاد رکھ سکین گے یعنی دس شرائط نبض ھین جبکہ نظریہ مفرد اعضاء نے اس طویل مضمون کو سمیٹتے ھوۓ چھ شرائط نبض لکھ کر نبض کو مذید آسان کردیا اب نظریہ مفرداعضاء مین یہ شرائط کچھ یون ھین
نمبر١۔۔۔مقام نبض ۔۔۔۔٢۔۔۔۔مقدار نبض ۔۔۔۔٣ ۔۔حجم نبض ۔۔۔٤۔۔رفتار نبض ۔۔٥۔۔قرع نبض ۔۔۔۔٦۔۔۔۔ قوام نبض
اب نظریہ مین مذید تقسیم کرکے بجائے اضافہ کرنے کے بات کو مذید سمیٹا اور مفرد نبض کی اقسام ھی تین کردی اب سوال پیدا ھوا کیون؟۔۔۔تو دوستو اس لئے جب تمام قدیم اور جدید نظریات اس بات کو مانتے ھین کہ اعضائے رئیسہ ھی تین ھین چوتھا کوئی عضو رئیس ھے ھی نہین تو نبض کا تعلق بھی تو سیدھا سیدھا اعضائے رئیسہ سے ھی ھے اور اس بات کو جب قدیم علماۓ طب اور جدید علماۓ طب اس بات پہ متفق ھین بلکہ ھر طریقہ علاج والے بھی اس بات پہ متفق ھین کہ اعضائے رئیسہ دل دماغ اور جگر ھی ھین اب ایک صاحب علم جدید نے جناب حکیم راحت صاحب نے کچھ دلائل سے تلی کو بھی اعضائے رئیسہ مین شامل کرنے کی کوشش کی لیکن تجربات اور حقائق سے یہ بات ثابت ھو گئی کہ اگر تلی کو جسم انسانی سے جدا بھی کردیا جاۓ تو انسان زندہ رھتا ھے اس لئے تلی اعضائے رئیسہ نہین ھو سکتی اس پہ انشاءاللہ مین مضمون تفصیل سے علیحدہ سے لکھون گا خیر ھم بات کررھے تھے دل دماغ اور جگر کی تو دوستو مختصراٗ نبضون کی تعداد بھی حقیقت مین تین ھی رہ گئی اس مین جس کا تعلق دماغ سے ھے اسے اعصابی کہا گیا جس کا تعلق جگر سے ھے اسے غدی کہا گیا جس کا تعلق دل سے ھے اسے عضلاتی کہا گیا اب ان کی تقسیم جب کی گئی جیسے مین نے پہلے قدیم شرائط کی کی ھے تو بات بڑی ھی مختصر کردی گئی اور بہت زیادہ آسانی پیدا کردی گئی وضاحت اس طرح ھوئی کہ جب دل ایک مفرد عضو ھے اور اس کے خادم صرف دو ھین جن مین پہلا خادم ارادی عضلات دوسرا غیر ارادی عضلات تو نبض کی تقسیم بھی ان خادمون یا وزیرون تک ھی رھنے دی جاۓ انہین ھی کنٹرول ان کے اپنے مفرد عضو سے کرایا جاۓ وہ خواہ دوسرے مفرد عضو سے مدد لے اسی طرح جگر کے بھی دو ھی وزیر ھین غدد جاذبہ ۔۔۔و۔۔۔غدد ناقلہ اسی طرح دماغ کے بھی دو ھی وزیر ھین حکم رسان اعصاب اور خبر رسان اعصاب ۔۔۔۔۔۔ ھان یہ اپنا اپنا عملہ آگے رکھتے ھین جو جسم کا انتظام سنبھالتے ھین اب یہ کوئی ھمارے ملک کی کابینہ تھوڑی ھے جہان سو وزیر ھون بھئی یہ اللہ تعالی کا بنایا کارخانہ نظام ھے جہان تین بادشاہ اور چھ وزیر انسانی جسم کا وسیع نظام سنبھالے ھوۓ ھین تو دوستو بات تو بادشاھون تک تھی اگر آپ تھوڑا آگے قدم اٹھاتے ھین تو بات وزیرون تک رھے گی تو دوستو اس لئے نبضین یقین جانین چھ ھی رھتی ھین لیکن مین کچھ تشریحات قدیم نبض سے شروع کرون گا جسے جدید نبض کے تحت آپ کو سمجھاؤن گا اب سب سے پہلے ھم بات کرین گے نمبر ایک یعنی مقدار نبض کی اوپر نقشہ سے دیکھین
مقدار نبض۔۔۔۔مقدار نبض مین تین تقسیمین تھین طویل ۔۔۔عریض ۔۔مشرف کی تو پہلے طویل کی بات کرتے ھین
طویل ۔۔۔اس کی بھی تین تقسیمین ھین ۔۔۔طویل ۔۔۔قصیر۔۔۔ معتدل
اب ان مین طویل کی وضاحت ۔۔۔۔یہ وہ نبض ھے جو اعتدال کی نسبت لمبائی مین زیادہ محسوس ھو یعنی چار انگلی یا اس بھی زیادہ محسوس ھوتی ھو تو دوستو یہ نبض جسم مین حرارت بخار اور ورم کا پتہ دیتی ھے جبکہ جدید نظریہ مین اسے عضلاتی نبض کہتے ھین
اب قصیر نبض۔۔۔۔یہ نبض طویل کے بالکل الٹ ھوتی ھے قصیر یعنی چھوٹی نبض تو لازمی بات ھے اظہار بھی بالکل طویل نبض کے الٹ ھی کرے گی یعنی جسم مین حرارت کی کمی ظاھر کرتی ھے جو تپ لرزہ خون کی کمی یعنی قلت الدم اندرونی زخم اور وجع القلب یعنی دل کے درد کی طرف اشارہ کرتی ھے اب جدید کے مطابق یہ نبض اعصابی ھے
معتدل نبض ۔۔۔یہ نبض طویل اور قصیر کے بالکل درمیان والی نبض ھے یعنی نہ ھی لمبی نہ ھی چھوٹی یعنی اعتدال کا اظہار کرتی ھے یہ نبض جدید کے مطابق غدی ھے
اب تھوڑی تشریح اضافی۔۔۔جب آپ نبض پہ چارون انگلیون کے پورے جوڑ کر نبض پہ رکھتے ھین ھان یہ بات بھی یاد رکھین نبض آپ نے اپنی انگلیون کے پورون سے دیکھنی ھے نہ کہ پوری انگلیان نبض پہ رکھ کے کلائی نہین پکڑنی
جب چارون پورے آپ نبض پہ رکھین گے اگر نبض کی ٹپکن چارون پورون تک یا اس سے طویل محسوس ھو تو نبض طویل ھے اگر نبض دو تا تین انگلیون تک آتی ھے تو نبض قصیر ھے نبض مریض کی کلائی پہ انگوٹھے کے سائیڈ بالکل ساتھ ھی نبض کی ٹپکن محسوس ھوتی ھے اسی جگہ سے نبض دیکھنی ھے انشاءاللہ باقی مضمون اگلی قسط مین اور یہ بھی امید ھے آپ کو اس طرح نبض کی تشریح پسند آئی ھو گی اگر اس طرح سمجھ آرھی ھے تو بتائین اگر نہین سمجھ آیا تو بتائین انداز مذید بدل لین گے لیکن تشریح مذید طویل ھو جاۓ گی

Saturday, September 8, 2018

تشخيص امراض وعلامات 32

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔تشخيص امراض وعلامات۔۔۔۔۔قسط نمبر 32۔۔۔۔
قسط نمبر تیس مین بات ختم ھوئی تھی کہ افضل مقام نبض دیکھنے کا کلائی ھے اور پھر قسط نمبر 31 مین دیگر وضاحتوں کی نظر ھو گئی آج کی پوسٹ مین نبض دیکھنے کے طریقہ کی تشریح کرین گے جو سب کچھ ھر کتاب نبض مین لکھا ھوتا ھے مین بھی آپکی یاداشت تازہ کرنے ودیگر مبتدی حضرات کے لئے اس یاداشت کو لکھ رھا ھون حکماء اسے برداشت کرین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جس طبیب نے نبض دیکھنی ھو اس کے لئے لازم ھے کہ وہ خود تندرست وتوانا وچست ومعتدل مزاج ھو ایسا نہ ھو خود آخری دم پہ ھو اور دوسرے کی نبض دیکھ کر زندگی کی امید دلا رھا ھو کچھ(وضاحتین میری طرف سے بھی)
طبیب نبض دیکھتے وقت مریض کا ھاتھ پہلو پہ رکھے
جب مریض کا ھاتھ طبیب کے ھاتھ مین ھو تو وہ نہ تو چت ھو نہ الٹا ھو بلکہ پہلو پر ھو یعنی کھڑا ھو اور اوپر کی طرف انگوٹھا ھواور نیچے کیطرف چھوٹی انگلی ھو
نوٹ۔۔ھاتھ پہلو پہ رکھنے کی وجہ یہ ھے کہ ھاتھ پٹ یا اوندھا ھونے کیصورت مین نبض کی چوڑائی بلندی ۔ اور اس کا شرف بڑھ جاتا ھے اور لمبائی گھٹ جاتی ھے خاص کر یہ لاغرون مین یہ حالت نمایان ھوتی ھے اس کے برعکس اگر ھاتھ سیدھا یا چت ھو تو بلندی اور لمبائی بڑھ جاتی ھے اور چوڑائی کم ھوجاتی ھے یہ بہت ھی اھم نقطہ ھے ایک دفعہ مین خود بھی اسی غلطی کی وجہ سے غلط تشخيص کر چکا ھون مرض الموت کا فتوہ دیا بندہ دوسال بعد بھی زندہ رھا اس لئے یہ نقطہ آپ یاد رکھین تشریح آگے نبض کے باب مین کردونگا یہ بات بھی یاد رکھا کرین جہان مین نے کسی بھی قسط مین اگر لکھ دیا ھے کہ اس کی تشریح آگے کردونگا تو مجھے علم رھتا ھے کہ اس بات کہ آگے تشریح لازمی مجھے کرنی ھے جیسے ایک صاحب مجھ سے غالبا قسط نمبر8 مین لکھی ایک بات (نبض نملی ھوجاتی ھے)کے بارے مین تشریح مانگ رھے تھے جبکہ ساتھ لکھا بھی تھا تشریح آگے کرون گا پھر بھی مین نے بتایا کہ نمل کیڑی کو کہتے ھین اور یہ نبض کی پہچان جب چال نبض ایسی ھوتی ھے تو پہچان کے لئے ھے مہربانی فرما کر اپنے اپنے سوالات نوٹ کر لیا کرین یا تو سوالات اسی وقت پوسٹ پہ لکھ دین یا نوٹ رکھین مضمون مکمل ھونے پہ کرین ھر سوال کا جواب ضرور ملے گا انشاءاللہ ۔۔یہ بات تو ھے نہین کہ آپ سوال کرین تو جواب نہ دون اگر آپ کے سوالون کے جواب نہین دینے تو مضمون لکھنے کا کیا فائدہ اور دوسری بات الحمداللہ مین نے آج تک کسی بھی مضمون کو کاپی پیسٹ نہین کیا ھے اور نہ ھی مجھے علم ھے کہ یہ کاپی پیسٹر نیٹ پہ کہان سے اتنے مضمون اٹھاتے ھین ھان کبھی کبھی مجھے ذاتی ضرورت پڑتی ھے تو ایلوپیتھی فارماکوپیا سے یا کیمیکل کے بارے مین معلومات جو صرف فارمولے ھوتے ھین وہ دیکھ لیتا ھون چلین مضمون پہ آتے ھین
یہ بھی ضروری ھے کہ نبض ایسے وقت دیکھی جاۓ کہ جب مریض نہ تو غصہ مین ھو نہ ھی رنج غمی خوشی لذت مسرت اور ریاضت اور تمام انفعالات نفسانیہ سے خالی ھوتا ھے نہ اس کا اتنا شکم پر ھو نہ ھی بالکل خالی نہ بوجھل ھو نیز وہ اپنی کسی عادت کو چھوڑے ھوۓ نہ ھو اور نہ ھی کوئی نئی عادت پیدا کر لی ھو کیونکہ ان تمام امور سے مزاج نبض مین شدید اختلافات عضیم پیدا ھو جاتے ھین دوستو یہ فرمان بوعلی سینا ھے میرا نہین
یہ بھی ضروری ھے کہ نبض دیکھتے وقت اس کا مقابلہ اور امتحان بہترین اور معتدل شخص سے کیا جاوے تاکہ نبض معتدل اور غیر معتدل کا باھمی اندازہ قائم ھو سکے یہ بھی بوعلی سینا کا فرمان ھے
اب ان دونون فرمانون کی تشریح کردون بات صرف اتنی تھی صبح سویرے نبض دیکھنا افضل ھے اور کچھ بھی بات نہین ھے اشارون کناؤن مین بات لکھی ھوئی ھے تاکہ صرف ایک فلاسفی ھی سمجھ سکے
مریض کے دائین ھاتھ کی نبض طبیب بھی دائین ھاتھ سے دیکھے بائین ھاتھ کی نبض طبیب بھی بائین ھاتھ سے دیکھے
دائین ھاتھ کی نبض دائین ھاتھ سے ذرا دیر تک دیکھے کیونکہ دائین ھاتھ کی حس نسبتہ ذکی اور تیز ھوتی ھے
طبیب نبض دیکھتے وقت اپنے دوسرے ھاتھ کو بطور سہارا مریض کے ھاتھ کے نیچے رکھے تاکہ ھاتھ کو اٹھانے سے مریض کا ھاتھ تھک نہ جاۓ
طبیب بھی نبض دیکھتے وقت ایسے تمام عوارض بدنیہ ونفسانیہ سے خالی ھو جو اسکی توجہ کو کم کرنے والے اور دوسری طرف پھیرنے والے ھون یعنی غصہ خوشی بھوک پیاس نیند سے اونگھ نہ رھا ھو کیونکہ معالج کو معتدل المزاج اور سلیم الذھن اور صحیح الطبع ھونا چاھیے
طبیب کی انگلیان کھردے کامون کی وجہ سے کھردری نہ ھونی چاھیے نرم ملائم اور ذکی الحس اور بخوبی احساس کرنے والی ھونی چاھیے یہ نہ ھو لوھا یا لکڑی کوٹے کاٹے اور نبض دیکھنے لگ جاۓ طبع کا بھی نفیس ھونا ضروری ھے گندگی سے دور رھتا ھو یہان تک کہ بال تراش بھی نہ ھو نفیس طبع اور حساس ھونا طبیب کے ضروری ھے کیونکہ طبیب کے ذھن مین وہ تمام باتین موجود ھون جن سے نبض مین تغیرات پیدا ھو سکتے ھین مثلا اختلاف ممالک مختلف ھوائین اور سرد وگرم ماحول مین چلا جانا یعنی طبیب کی اپنی حس اتنی تیز ھو کہ وہ اپنی انگلیون سے ھر چیز کا احساس کرسکے سونگھ کر سب کچھ سمجھ سکے یعنی ذھن کی نفاست جس مین اخلاق اور مثبت سوچ ھو اخلاقی لحاظ سے بلند پاۓ کا ھو مریض خواہ جان کے دشمن خاندان سے تعلق رکھتا ھو طبیب پہ فرض ھے مریض کی جان بچائے اس سے بہترین اخلاق سے پیش آۓ
نبض قوی کو زور سے دبا کر دیکھے تاکہ اس کے زور کا اندازہ ھوسکے نبض ضعیف کو معمولی دباؤ سے محسوس کرے زیادہ دباؤ سے نبض معدوم ھو جاۓ گی
نبض دکھاتے وقت مریض اپنے ھاتھ سے کوئی کام نہ کررھا ھو نہ ھی کسی چیز کو اٹھاۓ نہ ھی اس ھاتھ سے کسی چیز کا سہارا لیے ھوۓ ھو اس کے علاوہ نہ ھی مریض کے ھاتھ یا بازو بندھے ھوۓ ھون جیسے ھیضہ کے مریض کے بازو کندھون کے قریب سے کپڑے کی پٹی سے باندھ دیا کرتے ھین ھان کلائی پہ گھڑی یا خواتین تنگ زیور چوڑیان وغیرہ پہنے ھوۓ ھون تو انہین بھی ڈھیلا کردینا یا اتروا دینا چاھیے
طبیب مریض کے پاس جاتے ھی نبض نہ دیکھنی شروع کردے بلکہ خوش اخلاقی سے باتون مین لگاۓ تاکہ مریض مانوس ھوجاۓ اس کی کیفیت کے بارے مین مرض کے بارے مین پوچھے پھر اسے تسلی دلاسہ دے اس کے اندرسے خوف نکالے پھر نبض دیکھے یاد رکھین جب مریض طبیب کے پاس پہنچتا ھے تو چند چیزون کا شکار ھو سکتا ھے مریض کے اندر ایک قسم کی ھیجانی کیفیت پیدا ھوتی ھے کہ پتہ نہین حکیم صاحب مجھے کیا بتاتے ھین بعض اوقات طبیب کا رعب مریض کے حالات واقعات خیالات سب کچھ متغیر ھوجاتا ھے بس یہ نہین ھونا چاھیے اسے ان باتون سے آزاد کرنے کے لئے اس کے ساتھ رشتہ استوار کرین جیسے باپ بیٹے کا بھائی کا خواتین ھین تو بیٹی باپ بن جائین یا بھائی ھونے کا احساس دلائین یعنی اچھے اور با اخلاق رشتے سامنے رکھین تاکہ مریض کے اندر اعتماد پیدا ھو پھر نبض دیکھین انشاءاللہ رزلٹ درست ملے گا
عورتین صنف نازک ھوتی ھین اس لئے زیادہ دیر تک نبض نہین دکھا سکتی ایک نوجوان لڑکی ایک نوجوان طبیب کا زیادہ دیر ھاتھ پکڑے رھنا بدنیتی کا الزام لگنے کا بھی خطرہ ھوتا ھے اس لئے بہتر ھے مریض سے کیفیت زیادہ پوچھین اور نبض پہ وقت کم لگائین تاکہ آپ پہ الزام نہ آۓ اس پیشہ مین صاف نیت اور پاکیزہ خیالات کا ھونا بہت ھی ضروری ھے ورنہ شفا تو گئی آپ کے ھاتھون سے
ایک آخری بات جسے اپنانا بہت ھی ضروری ھے دوا دیتے وقت قرآن کی تلاوت یا کم سے کم کلمہ طیب ضرور پڑھتے رھا کرین شفا یقینی ھوجاۓ گی
انشاءاللہ کل سے مضمون سیدھا سیدھا نبض کی بحث پہ شروع ھو گا جسے سمجھنا آپ کے لئے از حد ضروری ھے مضمون کو بار بار پڑھنا لازم ھوگا تبھی فلسفہ نبض کی سمجھ آسکے گی