Tuesday, November 20, 2018

نیم یا نم کا پانی نکالنا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔ نیم یا نم کا پانی نکالنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چند مشکل ترین طبی کامون مین سے ایک کام نیم کا پانی نکالنا ھے اب جن لوگون نے آج تک نم کے پانی کی ضرورت ھی محسوس نہ کی ھو تو علیحدہ بات ھے لیکن جن لوگون کو کسی بھی نسخہ مین نم کے خالص پانی کی ضرورت پڑی ھو گی وہ اس مشکل کو ضرور سمجھتے ھین شاید بہت سے لوگ ایسے بھی ھون جو زندگی بھر نم کے پانی حاصل کرنے کی تمنا لئے قبر فراش ھو گئے ھون دراصل ھوتا یہ ھے آپ بےشک بیس کلو نم کے پتے باریک کوٹ لین اور کپڑے مین ڈال کر بے شک جتنا بھی اسے دبا لین آپ ایک قطرہ پانی نہین نکال سکین گے بے شک آپ تجربہ کر لین ایسا ھی ھوگا اب جن لوگون نے یہ تجربہ کیا ھو گا انہین اچھی طرح اندازہ ھے اب حکماء کو ایک ھی طریقہ سمجھ مین آیا کہ نم کا پانی حاصل کرنا یہی ھو سکتا ھے کہ کچھ مقدار مین نم کے پتے حاصل کرین اب ان کو پانی کی کچھ مقدار مین ابال لین اور کپڑے مین چھان کر کام چلا لین یہ سب باتین دل کو مطمئن کرنے کے لئے ھین ورنہ اصل مقصد فوت ھو جاتا ھے اب یارو مجھے بھی ایک دن نیم کے پانی تین کلو کی شدید ضرورت پڑ گئی اور آپ یہ بات ذھن مین رکھین محمود بھٹہ کو متبادل دواؤن کے استعمال سے بھی الرجی ھے اور محنت نہ کرنے والے حکماء سے بھی الرجی ھے میرا اصول ھے اگر آپ اس پیشہ سے وفاداری نہین کرسکتے اور اگر محنت کی ضرورت بیش آگئی ھے اور آپ محنت کرنے سے گھبراتے ھین تو بہتر یہی ھے آپ اس مقدس پیشہ کو چھوڑدین کوئی اور کام شروع کردین مین نے لفظ مقدس لکھا ھے پتہ ھ کیون لکھا ھے ؟
اس لئے کہ یہ علم اللہ تعالی نے انبیاء کرام کو دیا اور دوسری اور اھم بات یہ علم بہت ھی وسیع سمندر ھے اسے چھپانا اور درست راھنمائی نہ کرنا بہت بڑا جرم ھے آپ پہ فرض ھے کہ جہان تک ھو سکے لوگون تک درست اور ٹھیک ٹھیک پہنچائین ممکن ھے آپ کی یہی نیکی آپ کی بخشش کا ذریعہ بن جاۓ انشاءاللہ جب تک زندگی ھے کوشش ھو گی آپ کی راھنمائی ھوتی رھے گروپ مطب کامل کا سب سے سےبڑا مشن ھی یہی ھے کہ آسان انداز مین درست بات بتانا
تو دوستو مین بات کررھا تھا کہ مجھے بھی تین کلو نیم کے پانی کی ضرورت پڑ گئی بس پھر کیا کرنا تھا وافر مقدار مین نیم کے پتے تڑوا لئے اور ساتھ عقل کا تڑکا لگایا یہ جا وہ جا دو گھنٹے مین ھی پانچ کلو سے زیادہ خالص نیم کا پانی نکال دیا اب بات کو سمجھین کہ مین نے کیا کام کیا مین نے ایک بڑے کھلے برتن مین نیم کے پتون کی کچھ مقدار ڈالی اور اسے تین چار منٹ کے لئے آگ پہ رکھ دیا جب مین نے سمجھا سب پتے گرم ھو گئے ھین ھلکا رنگ تبدیل کررھے ھین اب پتون کو برتن سے نکال کر فورا بادام روغن نکالنے والی مشین مین ڈالکر پریس کرنا شروع کردیا اور نیچے بڑا برتن رکھ دیا یقین جانین دل خوش ھو گیا جب کافی مقدار مین پانی نیچلے برتن مین جمع ھو گیا مین نے اپنے دو شاگردون کو پورے دن کے لئے اس کام پہ لگا دیا انہین بھی علم تھا کہ پانی تین کلو چاھیے اب دو گھنٹے بعد انہون نے مجھے بتایا کہ جناب پانی چیک کرلین اور نکالنا ھے تو ھم نکالین شاگرد ذھین تھے انہون نے ساتھ ساتھ ھی جو پانی نکلتا رھا اسے فلٹر والے برتن مین ڈالتے گئے تین گھنٹون مین وہ پانچ کلو پانی فلٹر بھی کرچکے تھے ھمیشہ کوئی بھی ایسا کام کرنے سے پہلے عقل کا ضرور استعمال کیا کرین اور تجربات کرتے رھا کرین ان سے بھی عقل بڑھتا ھے اس سے پہلے جو پوسٹ برگد اور مدار کے دودھ پہ لکھی ھے اسی مین ایک صاحب نے نم کا پانی نکالنے کا طریقہ پوچھ رکھا تھا اگر کسی اور مشکل کا حل پوچھنا ھے تو پوچھ سکتے ھین انشاءاللہ جہان تک تجربہ ھو گا بتا دیا جاۓ گا دعاؤن مین یاد رکھین محمود بھٹہ

Sunday, November 18, 2018

تشخيص امراض وعلامات 54

۔۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔تشخيص امراض وعلامات ۔۔۔قسط نمبر 54۔۔۔
قوت ارادی+قوت یقین=شعور +لاشعور
آج کی قسط مین نفسیات کی الجھی باتون پہ بحث کرکے سلجھانے کو ھے اوپر والی مساوات کو غور سے دیکھین یہ زندگی کو کسی بھی نہج پہ گزارنے کا اصول ھے اور آج کی پوسٹ مین مین صرف احساس کی امراض پہ بات کرون گا یعنی قوت نفسانی کے امراض پہ بات ھو گی آج کا مضمون تھوڑا اھم بھی ھے بڑے دھیان سے پڑھنا اس سے آپ کو پتہ چلے گا آنسان مختلف قسم کی غیر معمولی حرکتین کرتا ھے جن کی بارے مین آپ سوچ بھی نہین سکتے بلکہ پوری زندگی سوچتے رہ جاتے ھین آئیے پہلے احساتی امراض پہ بحث کرتے ھین جس کا مین پچھلی قسط مین ذکر کر چکا ھون
احساتی امراض یا قوت نفسانی کے امراض
علامہ جلال الدین دوانی نے اس کو قوت تمیز کا نام دیا ھے بلکہ اسی کے تحت بیان فرماتے ھین وہ فرماتے ھین کہ اس قوت مین افراط سے حیرت پیدا ھونے سے معمول کی قوت یقین ڈگمگا جاتی ھے یعنی قوت نفسانی کی زیادتی سے حیرت کی قوت کی زیادتی ھو جانے سے قوت یقین ڈگمگا جاتی ھے
اب طبی طور پر یعنی قانون مفرد اعضاء کے تحت اس تحریک مین شدت پیدا ھونے سے معمول اپنے ادارک فہم کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتا ھے یعنی پہلے پہل معمولی معمولی باتون کا بتنگڑ بنانا شروع کردیتا ھے اور یہ تحریک بڑھتے بڑھتے ذھنی سوچ بھی حقیقت بننے لگتی ھے یعنی بندہ سوچتا ھے کہ حقیقت مین میری اپنی ذات کچھ اور ھے جبکہ مین نظر کچھ اور آرھا ھون اب ان باتون سے قوت یقین جاتی رھتی ھے یعنی انسان بجاۓ انسان کے خود کو بیل گاۓ کتا یا کچھ بھی جانور سمجھنا شروع کردے یہان یقین کی قوت دو رخ ایک منفی اور ایک مثبت کوئی بھی اختیار کرسکتی ھے اب علماء سے وہ طبقہ جن کو علم منطق پہ عبور ھے وہ میری بات اچھی طرح سمجھ رھے ھین یا جو فلاسفی پہ عبور رکھتے ھین اب یہ الفاظ مین ان کے لئے لکھ رھا ھون ۔۔۔۔ مین بات خمود وبلادت یا جہل بسیط کی کررھا ھون ۔۔۔
اب دوستو بعض باتین آپ کو بتانے سمجھانے والی نہین ھین کیونکہ وہ بات ایسی ھی ھوگی کہ جیسے پہلی جماعت کے بچے کو ایم اے کا نصاب پڑھانا شروع کردون خیر یہ بات بتاۓ دیتا ھون وہ لوگ جو خدائی یا نبوت کا دعوہ کرتے ھین وہ یہی لوگ ھوتے ھین اب ان کے لئے سفاھت کی اصطلاح مستعمل ھے اور آپ طبی لحاظ سے اسے اعصابی غدی تحریک کہتے ھین اب آپ کو علم ھی ھے اعصابی کی ایک دوسری تحریک بھی ھے جسے آپ اعصابی عضلاتی کہتے ھین جو اعصاب کی مشینی تحریک ھے اور آپ کو پچھلی اقساط مین بتا چکا ھون مشینی تحریک کیا ھوتی ھے اب اس اعصابی عضلاتی تحریک مین بندہ بے وقوف احمق پن اور بچون جیسی حرکات کرتا ھے اب ایک نازک سی بات بھی اشارتاً کرنے لگا ھون ذکر اذکار مین وہ مقام جہان لطائف کی منازل شروع ھوتی ھین اب ان مین کچھ منازل بھی ھوا کرتی ھین عموما وہ لوگ جن مین قوت ارادی کی کمی سے قوت یقین کے متزلزل ھونے سے شعور جو پیدا ھوتا ھے وہ مکمل طفلانہ ھو جایا کرتا ھے بلکہ آخری سٹیج لاشعور مین بھی یہی کچھ بیٹھ جانے سے بچگانہ حرکات سکنات کرتا ھے اب یار لوگ اسے بھی پہنچی ھوئی سرکار سے متعارف کروا دیتے ھین یاد رکھین جس کا سینہ بھر گیا وہ سمندر بن جاتا ھے اس مین بغیر کسی وجہ سے طلاطم نہین آیا کرتا خیر یہ آپ کی سمجھ کی باتین نہین ھین اور نہ ھی موضوع ھے بس کچھ علمی وسعت بلکہ آپ کا شعور بہتر کرنے کے لئے سمجھنے والون کے لئے کچھ لکھ دیا اب اگے چلتے ھین
اب سوچنے کی بات ھے اس حیرت وسفاھت کو کنٹرول کیسے کیا جاۓ تو یاد رکھین کیفیت حیرت مین نفس جزم ویقین سے عاجز آجاتا ھے اب ایسی منطقی تدابیر اختیار کرنی چاھیے کہ جن سے حق وباطل مین تمیز ھو سکے اور ایک طرف کا یقین کامل ھو سکے یاد رکھین سفاھت مین مین مبتلا شخص کی بھی عقل درست کام نہین کرسکتی اور معمول یعنی مبتلا شخص اپنی ذات کے علاوہ کسی کو عاقل نہین سمجھتا یعنی اس کے ذھن مین یہ بات سوار رھتی ھے جتنا ذھین اور عقلمند مین ھون اور کوئی نہین ھے بلکہ ھمیشہ دوسرون کا مذاق اڑایا کرتا ھے یعنی دوسرون کی بےوقوفی پہ ماتم کیا کرتا ھے لیکن سچ یہ ھوتا ھے خود وہ ھی بے وقوف ھوتا ھے عقلی فعلی کسی بھی لحاظ سے وہ خود ٹھیک نہین ھوتا یعنی اپنی بے وقوفی کو وہ عقل مندی سمجھتا ھے اور دوسرون کی عقلمندی کو بے وقوفی سمجھتا ھے اب دوستو قصہ مختصر ایسے بندے کی غذا اور دوا اعصابی عضلاتی سے عضلاتی اعصابی کردین انشاءاللہ مادے کی تحلیل سے ضرور صحت جیسی نعمت سے مستفید ھوگا
اب بات کرتے ھین جہل بسیط کی تو دوستو جہل بسیط عدم علم کو کہا جاتا ھے ھان اپنے حق مین علم کا اعتقاد ھو مگر ابتدائی طور پر ایسا ھونا مذموم شمار نہین کیا جاتا کیونکہ علوم کے حصول کے لئے اس درجہ کا پایا جانا لازمی ھوتا ھے اب دوسرے طریقہ سے بات سمجھاتا ھون کیا آپ جانتے ھین منطق کی رو سے بھی انسان حیوان کے زمرے مین آتا ھے تو اس مقام پہ انسان کو غور کرنا چاھیے کہ وہ حیوانات مین افضل کیون ھے تو دوستو یہ سیدھی سیدھی حقیقت ھے کہ انشان کو اشرف المخلوق یعنی شرف ورتبہ صرف صرف عقل وعلم کی بدولت ھے اسلئے وہ جو جہالت کی دنیا مین زندگی گزار رھے ھین وہ حیوانات سے بھی بدتر اور خسیس ھین کیونکہ قدرت کاملہ نے جس کمال کے لئے انہین پیدا کیا ھے اس کے حصول کو کامیاب بنانے والے ھی کامیاب وکامران اور اعلی علین کا مرتبہ حاصل کرنے والے ھوتے ھین جبکہ جاھل وناھنجار اس مرتبہ کے کمال سے عاری وتنگ دست رھتے ھین یاد رکھین جہل بسیط کا علاج پہلی بات حصول علم کی راہ پہ گامزن ھونے مین ھے
بس دوستو باقی مضمون انشاءاللہ اگلی قسط مین یاد رھے آج کی تقریبا تمام بحث مباحثہ اھل علم لوگون کے لئے تھی اگر آپ کی سمجھ مین میری باتین نہ آسکین تو معذرت کیونکہ آج تھوڑی آسان زبان بھی استعمال نہ کر سکا کوشش تو بہت کی ھے لیکن کچھ الفاظ مجبوراً ایسے استعمال کرنے پڑتے ھین جن کا بدل یا مفہوم آسان بتانا بہت ھی مشکل ھوجاتا ھے

Saturday, November 17, 2018

ایک من برگد اور مدارکا دودھ کیسے نکالین

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔ ایک من برگد اور مدارکا دودھ کیسے نکالین ؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی میری سرمدوقاص صاحب سے فون پہ بات ھو رھی تھی اچانک سرمدوقاص نے فرمائش کردی کہ آپ نے آسان اور وافر مقدار مین دودھ نکالنے کا طریقہ بتانے کا وعدہ کررکھا ھے اور آج اور ابھی وہ طریقہ لکھین یقین جانین یہ روزانہ کے حساب سے سرمد وقاص کی ھی زیادہ تر فرمائشین ھوتی ھین جن پہ اکثر لکھا کرتا ھون بھئی ھمارا لاڈلا بھی ھے اور گروپ مطب کامل کا ایڈمن بھی ھے خیر آئیے آپ کو آج عقل کا استعمال بتاتا ھون سب سے پہلی بات کہ ایک من دودھ اوپر سے وہ بھی بدگد کا اور پھر مدار کا بھلا اتنا کیسے ممکن ھے کہ نکالا جا سکے لیکن عقل کا استعمال کرین گے تو ممکن ھے فوری نکال لین گے لیجئے بات سمجھین
آپ نے بالکل تازہ برگد کی بڑی سے بڑی دوانچ اور چھوٹی سے چھوٹی آدھا انچ شاخین کاٹ لینی ھین اور موسم بہار کا بالکل عروج پہ ھونا چاھیے تاکہ تازہ اور وافر دودھ میسر آسکے آجکل کے موسم مین بہت ھی کم نکلے گا خیر ان شاخون کو پتون سے چھانٹ لین کسی درانتی وغیرہ سے اب ان شاخون کو گنّے کا رس نکالنے والے بیلنے مین ایک ایک کرکے دیتے جائین جیسے گنّے کا رس نکالتے ھین تو دوستو ان سے دودھ نکلنا شروع ھو جاۓ گا اور ساتھ ھی ان شاخون سے پانی بھی نکلے گا یاد رکھین یہ بھی دودھ ھی ھے اسے ضائع نہین کرنا باقی جو حقیقی شکل مین سفید دودھ ھوتا ھے وہ نیچے بیٹھتا جاتا ھے اور پانی اوپر رھتا ھے دونون کو استعمال کیا کرین اب یہ آپ پر منحصر ھے کہ کتنی شاخین کاٹ سکتے ھین جن سے دودھ نکالنا ھے خیر اگر آپ کے پاس وافر مقدار مین شاخین ھون تو ایک دن مین ایک من دودھ نکالنا کچھ بھی مشکل نہین ھے بالکل یہی طریقہ مدار کا بھی ھے اب مدار کو بھی کاٹ کر شاخین اکٹھی کر لین اور بیلنے سے گزار کر جتنا مرضی دودھ حاصل کرین بس اس مین کمال کچھ بھی نہین ھے صرف عقل استعمال ھوا ھے یاد رھے آج کا تو مجھے علم نہین پہلے بازار مین عام برگد کا دودھ قیمتا ملا کرتا تھا اور اسے اسی طریقہ سے نکال کر یارلوگ مارکیٹ فروخت کردیا کرتے تھے اب جس کسی کے پاس برگد کے درخت وافر مقدار مین ھون وہ یہ کاروبار کرسکتا ھے

Wednesday, November 14, 2018

تشخيص امراض وعلامات 53

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔تشخيص امراض وعلامات ۔۔۔قسط نمبر 53۔۔
پچھلی قسط مین کیمیائی اور مشینی تحریک پہ بحث تھی آج چاھیے تو یہ تھا کہ امراض کی بدن پہ تقسیم پہ لکھتا لیکن اس سے زیادہ اھم بات نفسیاتی مسائل جذبات کی تقسیم قوتون کی تقسیم کیون اور کیسے نفسیاتی مسائل مین بندہ گھرتا ھے اور بہت سی ایسی باتین جن کا ذکر عام طبی کتب مین نہین ملتا بلکہ یکجا نہین ملتا کچھ کی تقسیم منطق کے اصولون مین کردی گئی ھے کچھ کا ذکر فلسفہ حیات مین کردیا گیا ھے کئی ایک موالید ثلاثہ سے منطبق باتین ھین کچھ طبی قوانین مین آجاتی ھین مین ان سب کو یکجا کرنے لگا ھون آپ سوچ رھے ھونگے بلکہ سمجھنے کی کوشش کررھے ھونگے یہ آج کیا لکھ رھے ھین بھئی دوستو یہ مختلف علوم کا ذکر کررھا ھون منطق وہ علم ھے جسے بہت بڑے صرف جید علماء ھی پڑھا کرتے ھین عام عالم دین اسے نہین پڑھ سکتا اس سے زیادہ مین آپ کو بھی نہین بتا سکتا یہ سمجھ لین خطرناک علم ھے باقی فلاسفی علیحدہ باب ھے الحیون الحیوان علیحدہ باب ھے یعنی حقیقت مین یہ سب پڑھنے سے ھی بندہ حکیم بن سکتا ھے ورنہ نہین بن سکتا اور جو نصاب پڑھ کے لوگ دعوے طبیب کردیتے ھین وہ صرف معالج تک محدود ھین حکیم نہین ھین خیر چھوڑین ان باتون کو آپکی سمجھ مین نہین آئین گی اور مین بھی حکیم نہین ھون بس عام سا بندہ ھون جو بات دماغ مین آجاۓ لکھ مارتا ھون ورنہ کچھ بھی نہین ھون نہ ھی کوئی دعوہ ھے علماء سے معذرت۔۔۔ آئیے موضوع پہ چلتے ھین نفسیاتی علوم پہ مشتمل کتب کے مطالعہ سے یہ بات علم مین آتی ھے کہ نفسانی اختلاط وامراض کا علاج ضبط نفس سے ھی ھو سکتا ھے اور جسمانی امراض کے علاج معالجہ کے لئے طب اور طبیب کی ضرورت محسوس ھوتی ھے اب میری بات کو سمجھین طب جسمانی ھو یا روحانی ھو یاد رکھین دونون مین ھی مزاج ونفس وقوی کی ضرورت کے مطابق و موافق ماحول اپنانےاور غذا کے استعمال سے یا بیماری ونفسانی کیفیت کے مخالف ادویہ کے استعمال سے مزاج وکیفیت کو اعتدال پہ لایا جا سکتا ھے
علم طب کا اصول یہ ھے کہ پہلے مرض کی تشخيص وشناخت اور پھر اسباب یعنی جس سے مرض پیدا ھوئی ھے اور اس کے ساتھ ساتھ علامات پہ غور کیا جاتا ھے موسم اور ماحول کو بھی مدنظر رکھا جاتا ھے جیسے آجکل موسم نے پورے ملک مین نزلہ زکام کی وبا پھیلا رکھی ھے اب اس کے بعد علاج تجویز ھوتا ھے
نوٹ۔۔۔مجھے بہت ھی افسوس ھوتا ھے جب لوگ ٹنڈ منڈ سوال لکھ دیتے ھین اور پھر جواب مانگ رھے ھوتے ھین جیسے کل ایک صاحب نے میری کچلہ والی پوسٹ پہ لکھ رکھا تھا کہ کچلہ گردہ کی مرض مین نقصان دیتا ھے پھر جواب نہ ملنے پہ بہت سیخ پا تھا اب خود ھی فیصلہ کر لین گردہ کی تو بے شمار امراض ھین مین غائب کا علم تو جانتا نہین اب بہت سی گردہ کی امراض مین کچلہ استعمال بھی ھوتا ھے اور کچھ مین نہین ھوتا ایسے سوالون سے گریز کیا کرین ھمیشہ پوری بات لکھا کرین
تو دوستو طب نفسانی مین بھی امراض کی تقسیم قوی انسانی کے مطابق تین حصون مین تقسیم ھے
پہلے نمبر پہ آتی ھے قوت تمیز یعنی احساسات کے امراض
یہ امراض احساسات کے تغیر سے پیدا ھوتے ھین اور آپ جانتے ھین احساسات کا تعلق دماغ سے ھوتا ھے یعنی مزاج بلغمی کے امراض ھین
دوسرے نمبر پہ قوت غضبی کے امراض ھین غضب کی طاقت کا تعلق جگر سے ھوتا ھے یہ سب امراض صفراوی ھوا کرتے ھین
تیسرے نمبر پہ قوت شہوی کے امراض ھین یعنی قوت حصولیہ کے امراض یعنی اس مین کسی بھی چیز کے حصول کی شدید خواھش اور رغبت پائی جاتی ھے جس کی عام مثال عشق کی ھے اب سب جانتے ھین عشق کا تعلق مزاج سودا سے ھے یاد رکھین آگے چل کر عاشق کی نبض کی بھی وضاحت کرون گا عشق ویسے تو دو طرح کا ھی ھوتا ھے عشق حقیقی اور عشق مجازی لیکن میرے ایک استاد تھے اللہ تعالی انکی مغفرت فرمائے علم کا سمندر تھے ان سے کلیدین پڑھی اردو ادب کی معراج ان سے سیکھی وہ از راہ مذاق عشق کی تیسری قسم بھی بتاتے تھے جسے آج آپ کسی گیسٹ ھاؤس کے کمرے کا عشق یا آپ اسے موبائل فون کا عشق کہہ سکتے ھین پہلے تو مذاق مین سمجھایا لیکن پھر سنجیدگی سے بھی بتایا ساتھ نفس امارہ نفس لوامہ نفس مطمئنہ کی تشریحات کین اور چودہ طبق روشن کردیے
خیر اس بات کی کچھ تشریح آگے آۓ گی اب موجودہ بات کو سمجھین
مندرجہ تینون قوتون مین سے کسی ایک کے حد اعتدال سے انحراف کا نام مرض ھے چاھے وہ کیفیتی ھو یا خلطی ھو اب یاد رکھین جب ایک قوت مین بے اعتدالی پائی جاۓ گی تو باقی دو بھی متاثر ھوتی ھین یاد رکھین کسی بھی ایک قوت کا ارتقا دوسری قوت کی پستی وخفت کو ظاھر کرتی ھے اسی طرح تیسری قوت مین بھی ایک الگ کیفیت ھی پائی جاۓ گی جو اس کی اصل کارکردگی سے بالکل ھی الگ ھو گی یادرھے مین پچھلی قسط مین تحریک تحلیل اور تسکین کے بارے مین لکھ چکا ھون وھی کیفیات ھوتی ھین وضاحت آگے کردیتا ھون اب ان قوتون کی تقسیم بالمزاج سمجھ لین
پہلی قوت نفسانی یعنی احساسات کی قوت
١۔۔احساساتی غضبی اس کا تعلق اعصابی غدی مزاج سے ھے
٢۔احساساتی حصولی ۔۔اس کا تعلق اعصابی عضلاتی مزاج سے ھے
دوسری قوت شہوی یا حصولی قوت
١۔۔حصولی احساساتی اس کا تعلق عضلاتی اعصابی مزاج سے ھے
٢۔۔حصولی غضبی اس کا تعلق عضلاتی غدی مزاج سے ھے
تیسری قوت غضبی
١۔۔غضبی حصولی اس کا تعلق غدی عضلاتی مزاج سے ھے
٢۔۔غضبی احساساتی اس کا تعلق غدی اعصابی مزاج سے ھے
باقی انشاءاللہ ان سب قوتون کی تشریحات اگلے مضمون مین کرین گے شاید بہت سے دوستو کو میرے آج کے مضمون کی پوری طرح سمجھ نہ آسکے انشاءاللہ جیسے جیسے مضمون آگے بڑھے گا سمجھ مین آجاۓ گا اور اسے سمجھنا بہت ھی ضروری ھے ورنہ طب کے میدان مین بندہ ساری زندگی ٹکرین ھی مارتا رھتا ھے ستر فیصد امراض کا شدید تعلق نفسیات سے ھوتا ھے اور اب بے شمار ایسی امراض بھی آپ کے سامنے آتی ھین جن کے سر پیر کا کسی کو علم ھی نہین ھوتا اور مریض مرض کا شکار ھو کر اذیت مین مبتلا رھتا ھے اب بے شمار ایسے امراض جنہین لوگ جن بھوت پریت سایہ کا نام دے دیتے ھین جبکہ حقیقت مین وہ مرض ھوتی ھے اب ان کی تشخيص اورعلاج کیسے کرنا ھے ان سبکی تشریحات کی جائین گی روحانی امراض اور روح طبعی نفسانی اور حیوانی کیا اور کیسے ھوتی ھین ان سب کا احاطہ علمی بحث مباحثہ سے ھو گا گروپ مطب کامل کو اور مجھے دعاؤن مین یاد رکھیے گا

Tuesday, November 13, 2018

کچلہ مدبر مصفی خون اور مقوی نیا انداز

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔ کچلہ مدبر مصفی خون اور مقوی نیا انداز۔۔۔۔
کچھ عرصہ پہلے مین نے دوستون کی آسانی کے لئے طب جدید کے طریقہ کے مطابق کچلہ مدبر کرنے کی آسان ترکیب لکھی تھی یعنی ریت مین بھون کر استعمال مین لائین پھر بعض دوستون نے کئی طریقے کچلہ مدبر کرنے کے لکھے جیسے دودھ اور گھی مین پکانا کنوار گندل کا پانی پلا کر مدبر کرنا وغیرہ وغیرہ سب طریقے اپنی اپنی جگہ درست بھی ھین اور افادیت بھی علیحدہ علیحدہ رکھتے ھین اس وقت پوسٹ تو کچھ اور لکھنے لگا تھا لیکن اچانک ارادہ بدل گیا کیونکہ کچلہ مدبر کرنے کا ایک انتہائی اکسیری طریقہ ذھن مین آیا اور ساتھ ھی جوش خون سے جلد کی خرابی اور خارش کا علاج بھی یاد آیا دوستو پہلی بات جو طریقہ کچلہ مدبر کا ھے بہت ھی اعلی ھے لیجئے اب بات کو سمجھین حسب ضرورت کچلہ لے لین اور پھر برگ نم تازہ بھی ضرورت کے مطابق لے لین اور کوٹ کر نغدہ تیار کرین اب اس نغدہ مین کچلے ترتیب سے رکھ دین یعنی پچھا دین اور اوپر نیچے نغدہ دے کر ھلکی آنچ مین رکھ دین تاکہ کچلہ کچھ نہ کچھ برگ نم کا رس چوس کر پھول جاۓ خواہ روٹی پکانے والے بڑے توے پہ پہلے نغدہ پچھا کر اوپر کچلے رکھ لین یا کسی اور برتن کو استعمال کرین بس ترتیب یہ ھونی چاھیے کہ ھر کچلہ کا دانہ برگ نم کے نغدہ کے ساتھ لگا ضرور ھونا چاھیے تاکہ اس کی رس تک ڈائریکٹ اس کی پہنچ ھو نغدہ تھوڑا جل جانے پہ کچلے نکال لین اور اب ان بجھ چونا حاصل کرین اور اس کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر لین اور کسی کھلے برتن مین تہہ لگا کر نیچے پچھا دین اور اوپر مذکورہ کچلے رکھ کر مذید ان بجھ چونا کے ٹکڑون سے اس کچلہ کو ڈھانپ دین اب اس پہ پانی کے چھنٹے لگائین جب چونے سے گیس نکلنی شروع ھو جاۓ تو ھاتھ روک دین جب چونے کی گیس اچھی طرح نکل جاۓ تو کچلے نکال لین اب ان مین سے جو جل گئے ھون انہین پھینک دین باقی کو صاف کرلین خشک کرکے اپنے کام مین لے آئین انتہائی اعلی درجہ کا کچلہ مدبر تیار ھے
اب دوسری بات مصفی خون والی ۔۔تو دوستو عشبہ چرائیتہ اور منڈی بوٹی ھر ایک سوگرام اور اس ترتیب سے تیار شدہ کچلہ پچیس گرام ملا کر پیس لین اور چھوٹے چنے برابر گولیان بنا لین اور ایک ایک گولی دن مین تین بار ھمراہ پانی دین لیکن غذا مین دیسی گھی کا استعمال کرین جلد کے اکثریت عوارض کا بہترین علاج ھے خاص کر جب خون مین ھیجان پیدا ھونے سے جو لاحق ھوتے ھین
اب آخری بات ان کچلون مین قوت مدافعت پیدا کرنے کے لئے نم کا استعمال ھوااور کیلشیم جیسی اھم چیز کی شمولیت کے لئے چونا استعمال ھوا باقی صفات آپ جانتے ھین

Sunday, November 11, 2018

دوالمسک سادہ اور خاص

۔۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔ دوالمسک سادہ اور خاص ۔۔۔۔۔۔۔
آج الحمداللہ ھمارے گروپ مطب کامل کے پچاس ھزار سے ممبر زائد ھو چکے ھین اور گروپ مطب کامل بنے ایک سال ھی گزرا ھے خیر گروپ مطب کامل مین جو بھی پوسٹ لکھتا ھون وہ اھم ھی ھوتی ھے لیکن خاص کر اس سلور جوبلی کے موقعہ پہ دل چاھا کہ مین اپنے تجربہ کی بہت ھی خاص پوسٹ لکھون دوستو دوالمسک کے بہت سے نسخہ جات قرابا دینی مرکبات کی کتابون مین لکھے موجود ھین بعض نسخے تو صرف لکھے ھی ھوۓ ھین شاید کسی طبیب نے آج تک ان کو بنایا ھی نہین ھے اور پڑھ کر یہ بھی امید کرتا ھون کہ صاحب نسخہ جس نے اسے تحریر کیا ھے اس نے بھی کبھی بنایا نہین ھو گا اب ایک بات مبتدی حضرات کے لئے بھی بتاتا چلون کتابون مین ایک آدھ نہین ھزارون نہین لاکھون کے حساب سے نسخے قوت باہ اور جسمانی طاقت کے لکھے ھوۓ ھین سینکڑون کے حساب سے کتب مرکبات کی میرے پاس پڑی ھین اور جو اھم بات مین نے نوٹ کی ھے وہ یہ ھے کہ چند اشیاء کے گرد ھر نسخہ گھومتا ھے جو عام شخص کی پہنچ سے ھمیشہ ھر دور مین دُور ھی رھی ھین ان ادویات کے نام کچھ یون ھین کستوری زعفران عنبر کشتہ ھیرا سونا چاندی یاقوت زمرد مروارید لعل بدخشانی پارہ تانبہ وغیرہ وغیرہ اب سوچنے کی بات یہ بھی تھی کہ جن لوگون کو یہ ادویات میسر نہین تھین وہ طاقت ور کیسے ھوۓ خوراک بھی روکھی سوکھی ملتی رھی وہ بھی کبھی کھانے کو ملا کبھی نہین ملا اصل بات یہ ھے کہ طاقت انسان کے اندر ھی ھوتی ھے اللہ تعالی نے ھر جاندار کے اندر ایسا نظام بنا رکھا ھے کہ بہت تھوڑی خوراک سے بہت زیادہ طاقت حاصل ھوجایا کرتی ھے بس حقیقت یہ ھوتی ھے کہ اس نظام کو درست رکھا جاۓ عمر کے مختلف حصون مین مختلف مزاج پیدا ھوا کرتے ھین کبھی بلغمی مزاج ھوتا ھے تو کبھی سوداوی مزاج تو کبھی صفراوی مزاج انسان کو ھوتا ھے اب یہ نہین ھوتا کہ پیدائش سے لے کربڑھاپے تک ایک ھی مزاج بندے کا رھے فطرت وقت کے ساتھ ساتھ مزاج بدلتی رھتی ھے اسے ھی زندگی کا مزا کہتے ھین اب ضرورت کے مطابق اسی مزاج سے طاقت کا منبع پھوٹا کرتا ھے یہ نہین ھوا کرتا کہ کستوری عنبر کھانے سے ھی طاقت پیدا ھو گی
خیر یہ ایک الگ موضوع ھے اگر یہان لکھنا شروع کردون تو پوسٹ ختم ھونے کا نام نہین لے گی آج کے اصل موضوع کی طرف چلتے ھین بات کررھے تھے دوالمسک کی تو یہ عام طور پہ دو طرح کی استعمال کی جاتی ھے ایک دوالمسک سادہ جس مین چند مختصر اجزاء پاۓ جاتے ھین دوسری دوالمسک جواھردار کے نام سے بازار مین ملتی ھے اگر ان دونون کے نسخے کتابون مین دیکھین تو انہین بنانا مشکل ھو جاتا ھے آئیے آج آپ کو دونون نسخے انتہائی آسان بنانے کا طریقہ بتاۓ دیتا ھون انشاءاللہ بازار والی تیار شدہ دوالمسک سے ھزار درجہ بہتر پائین گے پہلے دوالمسک سادہ
الائچی خورد 20گرام الائچی کلان 20گرام زرشک شیرین 50گرام مصطگی رومی بریان در دیسی گھی 20گرام چندن صغیر 20گرام دارچینی 50گرام ۔ زہر مہرہ خطائی 30گرام ۔۔ مویز منقی 50گرام ۔جلوتری دس گرام شہد سہ چند
تمام ادویات کو باریک پیس کر شہد کے قوام مین ملا لین مقوی قلب بھی ھے اور مقوی باہ بھی ھے مراق ومالیخولیا مین بھی درست ھے
اب بات کرتے ھین دوالمسک خاص کی
الائچی سفید دس گرام ۔۔مصطگی رومی بریان در دیسی گھی 50گرام ۔دارچینی 50گرام ۔۔ زہر مہرہ خطائی تیس گرام ۔ مروارید تین گرام ۔ عنبر تین گرام ۔ مشک ایک گرام ۔ زعفران تین گرام ۔ شہد خالص 250 گرام ورق نقرہ تین گرام ۔ کیوڑہ حسب ضرورت
تمام ادویہ کو باریک کھرل کرین چند قطرے کیوڑہ شامل کرین پھر شہد کے قوام مین ملا لین اور آخر مین ورق شامل کر لین دوالمسک جواھردار تیار ھے
تقویت قلب عصبی امراض مین بہت ھی نافع ھے قوت باہ کی لاجواب دوا ھے فوری اثر دوا ھے فورا حرارت غریزی پیدا کر کے بدن مین جان بھردیتی ھے جگر اور نظام ھضم کو محرک کرنے کی مستند دوا ھے بہت سی کتب مین سیب کا پانی انار کا پانی یا گاجر کا پانی شامل کرنا بھی لکھا ھوتا ھے ساتھ لمبا چوڑا نسخہ بھی لکھا ھوتا ھے کچھ ضرورت نہین ھان یہ کرسکتے ھین صرف سیب کا پانی برابروزن شہد شامل کرسکتے ھین باقی فوائد مرکبات کی کتب مین درست لکھے ھین

شربت فولاد خاص الخاص

۔۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔ شربت فولاد خاص الخاص ۔۔۔۔۔۔۔
آج اس شربت فولاد کے لکھنے کا بھی وعدہ کررکھا تھا اور موسم کی مناسبت سے اس کا نسخہ لکھنے لگا ھون حقیقت مین یہ صرف شربت فولاد نہین ھے بلکہ طاقت کا عظیم خزانہ بھی ھے گروپ مطب کامل کی اس سلور جوبلی پہ مین آج یہ دوسرا تحفہ آپ کو دینے لگا ھون لیجئے ترتیب سمجھ لین
چھوھارے ۔۔خوبانی ۔۔ ھر ایک پچاس گرام جلوتری خولنجان دارچینی ھرایک دس گرام پتری فولاد پانچ گرام زعفران پانچ گرام چینی 1500گرام اب پہلی پانچ دوائین ٹکڑے باریک کرکے دو کلو گرم پانی سادہ اور ایک کلو سیب کے پانی مین بھگو دین بارہ گھنٹہ بعد اتنا ابالین کہ آدھا پانی رہ جاۓ اب ان دواؤن کو موٹے کپڑے کے ذریعے چھان لین اب اس مین چینی ڈالکر قوام پہ لے آئین جب شربت بن جاۓ تو اس سے پہلے پتری فولاد کو گرم پانی ایک چھٹانک مین حل کرکے چھان لین اب اسے شربت مین شامل کردین اور ساتھ ھی ایک ابال آنے پہ اتار لین اب زعفران کو باریک کھرل کرکے اس شربت مین شامل کردین یاد رکھین گرم شربت مین ھی زعفران شامل کرنا ھے تاکہ وہ اپنا رنگ چھوڑ سکے رتی بھر سوڈیم بنزوویٹ شامل کردین تاکہ شربت خراب نہ ھو بہترین اور خوش ذائقہ طاقت سے بھر پور شربت تیار ھے عام جسمانی کمزوری مردانہ کمزوری بھس اور خون کی کمی مین استعمال کرین مقدار خوراک دو چمچ دن مین دو تا تین بار دین

Friday, November 9, 2018

کن پیڑے اور نامردی ایک خوفناک مرض

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔کن پیڑے اور نامردی ایک خوفناک مرض۔۔۔۔۔
کافی روز سے ارادہ کررھا تھا کہ اس مرض پہ لکھون جس کے بارے مین بہت لا پرواھی برتی جاتی ھے مرض عموما اوائل عمری مین ظاھر ھوا کرتی ھے اکثریت بچون کی چند روز مین خود بخود ھی مرض ختم ھوجاتی ھے دیہاتون مین تو لوگ جانورون کا چارہ لوسن جسے ھیوموپیتھی والے الفا الفا کے نام سے یاد کرتے ھین اسے کوٹ کر گرم کرکے بچے کے گلے پہ ٹکور کرتے ھین تاکہ سوجن ختم ھو جاۓ خیر طرح طرح کے علاج لوگ گھر پہ کرلیتے ھین کسی بھی اچھے طبیب کے پاس جانے سے گریز کرتے ھین اگر چلے بھی جائین تو اسے بھی مرض کی اصلیت کا علم نہین ھوتا وہ بھی اسی قسم کا مشورہ دےدیتا ھے اگر بندہ کسی ڈاکٹر کے پاس چلا جاۓ تو وہ فوری طور پہ اینٹی بائیوٹک کھلا دیتا ھے لیکن یاد رکھین اس مرض پہ اینٹی بائیوٹک کا کوئی اثر ھے ھی نہین کیون نہین ھے اس کا جواب یہ ھے گاؤن دیہات کے ڈاکٹر عموما ڈسپنسر ھی ھوتے ھین اور زیادہ تر وہ بھی نہین ھوتے انہین اس مرض کی اصلیت کا علم نہین ھوتا ایلوپیتھی اسے وائرس کا حملہ قرار دیتی ھے اور وائرس والی امراض پہ اینٹی بائیوٹک دوائین اثر انداز نہین ھوا کرتی طب کا المیہ یہ ھے سو مین ایک طبیب کو اس مرض کی حقیقت کا شاید علم ھو اور ایک بات کا شاید ھی کسی کو علم ھو اس مرض کے پیدا ھونے سے کل کلان کو جب بچہ جوان ھوتا ھے تو نامرد ھو چکا ھوتا ھے کیون اور کیسے ھو جایا کرتا ھے حق تو یہ تھا کہ مین سوال کرتا ان طبیب حضرات سے جنہین سال سال گزر جاتا ھے روزانہ ایک پوسٹ قوت باہ کی عبادت سمجھ کر لکھے دیتے ھین منی مین سپرم نہین ھین یہ سوال کسی کو کرنے دین سینکڑون کمنٹس مین علاج آچکے ھونگے اللہ کے بندے مریض سے تو پوچھ کہ بھئی نظر توتو ھٹا کٹا نظر آرھا ھے پھر تجھے ایسی کیا دیگر مرض ھے جس کی وجہ سے تجھے یہ مرض لا حق ھوئی یعنی بندہ بظاھر بالکل تندرست نظر آرھا ھے لیکن اس کی منی مین سپرم نہین ھین جب تک اصل مرض دور نہین ھو گی یہ مرض دور نہین ھو سکتی خیر آئیے آج اس مرض کی خطرناکی کے بارے مین آپ کو آگاہ کرتا ھون کیونکہ یہ فخر گروپ مطب کامل کو ھی حاصل ھے کہ ایسے تحقیقاتی مضامین لکھے جاتے ھین ھمارا گروپ پچاس ھزار کی حدود کو چھونے والا ھے صرف دو سو قدم پیچھے رہ گیا ھے یہ آج کا مضمون اسی خوشی مین ھے
کن پیڑے یا گلسوۓ جسے Mumps بھی کہتے ھین غدی سوزش سے پیدا ھونی والی ایک علامت ھے یہ غدہ نکفیہ یعنی Parotid Glandکے ورم یعنی التہاب کی صورت مین ھوتا ھے اب یہ ایک غدی زھر ھے جو جسم مین پیدا ھوتی ھے اب آپ اسے خواہ خلطی زھر کہین یا جراثیمی کہین لیکن زھر ناکی غدے پہ اثر انداز ھوتی ھے جس سے گلا سوج جاتا ھے بخار ھوجایا کرتا ھے یاد رکھین منہ مین لعاب پیدا کرنے غدد مین یہ ایک اھم غدہ ھے اور اھم ترین افعال سرانجام دیتا ھے اس بات کو بھی یاد رکھین جن بچون کو ماں کا دودھ پینا نصیب ھوا ھے ان بچون کے جسم مین قوت مدافعت یعنی ایمونٹی پاور زیادہ ھوتی ھے وہ بچے مرض آنے کے باوجود نامردی جیسی خطرناک مرض کا شکار نہین ھوتے ھان وہ ماں جو پہلے سے ھی غدی سوزش کی شکار ھے اگر وہ بچے کو دودھ پلا رھی ھے تو وہ بچہ گلسوۓ کا شکار بھی ھوتا ھے اور ان مین سے چند ایک کل کلان کو سپرم نہ ھونے والی مرض کا بھی شکار ھو سکتے ھین لیکن وہ بچے جہنین ماں کا دودھ نصیب نہین ھوا ان مین پچاس فیصد تک بچے جوان ھونے کی صورت مین مردانہ بیماریون کا شکار ھو جاتے ھین
جب کن پیڑون کی مرض کا حملہ ھوتا ھے تو منہ کے اندرونی غدد اور زبان کے نیچے غدی جھلیان بھی متورم ھوجاتی ھین
یہ غدد چونکہ کان کی جھلیون کے ساتھ متصل ھوتے ھین اس لئے جب ان مین ورم ھوتا ھے تو کان بھی متورم ھو جاتے ھین یعنی سوج جاتے ھین اب حلق کی جھلیان بھی سوج جاتی ھین اب مریض کو خوراک نگلنے مین تکلیف محسوس ھوتی ھے اگر مواد یا مرض زیادہ ھو جاۓ تو لوزتین کو بھی ورم ھوجایا کرتا ھے یعنی Tonsils پھول جایا کرتے ھین اب حلق والے حصون مین بھی درد ھوتا ھے غدی حرارت کی وجہ سے جلد ھی یہ ورم ختم ھوجایا کرتا ھے ھاں البتہ بعض اوقات غدد مین پیپ پڑ جایا کرتی ھے جو حلق کے اندر یا کانون کے راستے پھوٹ پڑتی ھے اس وجہ سے بعض اوقات کانون مین بھی سوزش ھو جایا کرتی ھے جس کی وجہ سے بچہ بہرہ بھی ھوجایا کرتا ھے
عموما یہ ورم ھفتہ دس دن مین اتر جایا کرتا ھے اور کوئی خاص پیچیدگی بھی پیدا نہین ھوتی اور نہ بظاھر کسی اور تکلیف کا شکار نظر آتا ھے ھان اگر یہ زھر کسی دوسرے غدہ مین منتقل ھو جاۓ اور اس مین بھی سوزش پیدا کردے تو یاد رکھین یہ خطرناک صورت حال پیدا ھو گئی ھے خاص طور پہ یہ زھر جب نوجوان بچون کے خصیون پہنچ جاتی ھے تو ان مین درد یا ورم بھی آجایا کرتا ھے اس صورت مین منی کے اندر سپرم کا نام ونشان ھی مٹا ڈالتا ھے بالکل اسی طرح بچیون کے خصیتہ الرحم مین پہنچ کر بیضہ کی پیدائش وافزائش تباہ وبرباد کردیتا ھے اگر نوجوان بچیون یا شادی شدہ خواتین کے پستانون مین یہ زھر سرایت کرجاۓ تو یاد رکھین دودھ زھریلا ھو جایا کرتا ھے بلکہ بعض اوقات کڑوا بھی ھوجایا کرتا ھے
غدد پہ اس زھر کے اثرات یہ بھی ھوا کرتے ھین کہ مردون کے خصیے اور عورتون کی بیضہ دانیان اور پستان سکڑ کر چھوٹے ھو جاتے ھین اور ان مین زندگی پیدا کرنے والے مادے مکمل متاثر ھو چکے ھوتے ھین اب ایک اور بات بھی یاد رکھین اس مرض کے پیدا ھونے پہ انتہائی تیز قسم کے اینٹی بائیوٹک بہت ھی برا اثر چھوڑتے ھین اگر استعمال کیے جائین اچھا معالج کبھی بھی ایسے اینٹی بائیوٹک استعمال نہین کرتا اب طب مین اس مرض کا علاج بہت ھی آسان ھے اب آپ کو بتا دیا ھے کہ یہ غدی سوزش ھے تو آپ اس عفونت اور سوزش کو اعصابی تحریک پیداکرکے ختم کر سکتے ھین بہترین علاج غدی اعصابی اور اعصابی غدی دوائین دینا ھے پھر یہ زھر بغیر نقصان کیے جسم سے ختم ھوجایا کرتا ھے اور نہ ھی کہین کسی دیگر غدے مین منتقل ھوتا ھے مندرجہ ذیل دوا دین بہت ھی مفید ھے
قسط شیرین ۔۔ملٹھی ۔۔بہی دانہ ۔۔خطمی برابروزن پیس کر سفوف بنا لین آدھے سے ایک ماشہ تک دن مین تین بار دین ساتھ اکسیر بادیان ۔۔۔ملٹھی دس گرام ۔۔سونف دس گرام ۔۔ ھلدی دس گرام ۔۔ریوندخطائی خطائی تیس گرام پیس کر سفوف بنا لین آدھے سے ایک گرام تک دن مین تین باردین
دوائین عرق مکو کاسنی کے ھمراہ دین رادع دواؤن سے گریز کرین ازمحمود بھٹہ گروپ مطب کامل

Wednesday, November 7, 2018

تشخيص امراض وعلامات 52

۔۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔تشخيص امراض وعلامات ۔۔۔قسط نمبر 52۔۔۔
پچھلی قسط مین بات کیمیائی اور مشینی تحریک پہ ختم ھوئی تھی چند روز قسط نہ لکھ سکا کیون نہ لکھ سکا یہ سب کو علم ھے خیر پہلی فرصت مین آج مختصر اس بات پہ پھر سے تشریح کرتے ھین کہ کیمیائی اور مشینی تحریک مین فرق کیا ھے یہ وہ تشریحات ھین جو کتب مین بھی درج ھین لیکن مین ذرا اسے بھی آسان الفاظ مین لکھون گا کیمیائی اور مشینی تحریک پہ جو تشریح مین نے اپنی طرف سے کرنی تھی وہ بہت پہلے کرچکا ھون جو نئے اصحاب ھین وہ پچھلی قسطون مین پڑ ھ سکتے ھین
کیمیائی تحریک ۔۔۔
١۔۔کیمیائی تحریک مین کسی عضو کے سکون کی حالت مین یعنی انبساط کے باعث پیدا ھوتی ھے
یعنی اس کے تحت عضو اجتماع خون کے باعث جسمی طور پہ پھول چکا ھوتا ھے
٢۔۔کیمیائی تحریک مین عضو صرف ان رطوبات کو خارج کرتا ھے جو اس کے سکون وانبساط سے جمع ھو چکی ھوتی ھین
٣۔۔کیمیائی تحریک مین عضو خلط کو پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ خون مین جمع بھی کرتا رھتا ھے
٤۔۔کیمیائی تحریک سے پیدا ھونی والی امراض یعنی تکالیف ایسی پیدا ھوتی ھین جو انسان مدتون برداشت کر سکتا ھے
٥۔۔۔کیمیائی تحریک مین خلط کی زیادتی تکلیف کا باعث ضرور بن سکتی ھے لیکن اس تحریک مین فوری جان کا خطرہ نہین ھوتا
٦۔۔کیمیاوی تحریک مین دوسرے اعضاء مین تحلیل وتسکین بھی کیمیائی ھی ھوتا ھے اب یہ نہین ھوتا کہ تحریک کیمیائی ھو اور تسکین وتحلیل مشینی ھو
٧۔۔کیمیائی تحریک سے ھی تغذیہ ھوا کرتا ھے
٨۔۔کیمیائی تحریک مین ھی عضو زیادہ کام کرتا ھے
٩۔۔ کیمیائی تحریک مین خلط کے مطابق ھی بدن کا رنگ ھو جایا کرتا ھے یعنی سودا بڑھ جاۓ تو رنگت سیاھی مائل اور اگر صفرا بڑھ جاۓ تو جسم پہ پیلاھٹ آجایا کرتی ھے
یعنی غدد مین کیمیائی تحریک کے تحت اب لازما خون مین صفرا کی مقدار زیادہ ھو جاۓ گی اب اس خلط کا خون مین جمع ھونا یرقان اسود اصفر ونیز استسقاء وغیرہ پیدا ھو جایا کرتا ھے
اب بات کرتے ھین مشینی تحریک کی۔۔۔
١۔۔مشینی تحریک مین عضو کے اندر شدید انقباض ھوتا ھے جس کے باعث رکی ھوئی رطوبات راہ فرار اختیار کرتی ھین جس کی وجہ سے پھولا ھوا جسم پچک جایا کرتا ھے
٢۔۔۔مشینی تحریک ھمیشہ کیمیائی تحریک کے بعد پیدا ھوا کرتی ھے اور خلط پیدا ھونے کے ساتھ ساتھ بدن سے خارج بھی ھوتی رھتی ھے
٣۔۔ مشینی تحریک مین عضو اپنی ھی پیدا کردا خلط خارج بھی کرتا ھے
٤۔۔مشینی تحریک مین عضو مین سکیڑ وانقباض کے سبب شدید تکلیف ھوا کرتی ھے جو ناقابل برداشت ھوتی ھے
٥۔۔۔مشینی تحریک مین فوری موت واقع ھو جانے کا خطرہ ھوا کرتا ھے
٦۔۔۔مشینی تحریک کے تحت دوسرے حیاتی عضو مین شدید تحلیل وتسکین پیدا ھوتی ھے جس سے تیزی کے ساتھ ضعف آیا کرتا ھے
٧۔۔۔مشینی تحریک سے تصفیہ اور تنتیہ ھوا کرتا ھے
٨۔۔مشینی تحریک مین عضو کو زیادہ کام کرنا پڑتا ھے
٩۔۔مشینی تحریک مین عضو کے خلط خارج کرنے کی وجہ سے جسم کا رنگ طبعی حالت مین ھی رھا کرتا ھے
اب یاد رکھین مشینی تحریک مین مفرد عضو مین شدید انقباض وسکیڑ پیدا ھوتا ھے اور رطوبات کو جاری کرنے مین ایک منٹ کا بھی وقفہ نہین ھوا کرتا اور تیزی سے کرتا ھے جس کی وجہ سے رطوبات ضرورت سے زیادہ جسم سے خارج ھو جایا کرتی ھین جس کے باعث شدید تکلیف ھونے سےموت واقع ھو جایا کرتی ھے جیسا کہ ھیضہ مین اعصابی عضلاتی تحریک خونی قے مین عضلاتی غدی سے بیشتر اوقات فیصلہ ھو جاتا ھے
اب ھلکی سی تشریح تحریک بمطابق اخلاط
١۔۔اعصابی عضلاتی
خلط۔۔ بلغم خالص
اعصاب کی مشینی تحریک ھے جس سے باآسانی بلغم خارج ھوتی ھے
٢۔۔عضلاتی اعصابی
خلط ۔۔۔ سودا خام
سوداوی مادہ کیمیاوی طور تیار ھوتا ھے اور خون مین سرایت کرتا رھتا ھے مگر اپنے مجاری سے خارج نہین ھوتا
٣۔۔عضلاتی غدی
خلط۔۔سودا خالص
سوداوی مادہ اپنی کیمیائی کیفیت کو مکمل کرنے کے بعد صفراوی ناطہ کے باعث اپنے مجاری سے جاری ھوجاتا ھے
٣ــ غدی عضلاتی
خلط۔۔صفرا خام
سوداویت مغلوب ھو چکی ھے اور صفرا غالب آچکی ھے مگر اس کیفیت مین صفراوی مادہ عضلاتی مادہ کی خشکی کے باعث خون مین سرایت کرتا رھتا ھے جسم سے خارج نہین ھوتا جس کی وجہ سے جسم کا رنگ زرد ھو جایا کرتا ھے
٥۔غدی اعصابی
خلط۔۔صفرا خالص
اس مین صفرا پیدا بھی ھوتا ھے اور خارج بھی ھوتا ھے
٦۔ اعصابی غدی
خلط ۔۔ بلغم خام
اس مین بلغم خارج نہین ھوتی پیدا بھی ھوتی رھتی ھے
اب ایک اور بات بھی سمجھ لین کہ کہان تحریک ھو گی تو کہان تسکین و تحلیل ھوگی
١۔مقام ۔۔دماغ
تحریک اعصاب
تحلیل۔۔ غدد
تسکین۔ عضلات
بلغم ورطوبت کی زیادتی
٢۔۔مقام دل
تحریک عضلات
تحلیل اعصاب
تسکین غدد
سودا وخشکی کی کثرت
٣۔مقام جگر
تحریک غدد
تحلیل عضلات
تسکین اعصاب
صفرا وگرمی کی کثرت
انشاءاللہ باقی مضمون اگلی قسط مین

Sunday, November 4, 2018

سرس یا شہرین

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔ سرس یا شہرین ۔۔۔۔۔۔۔۔
چند روز سے مین سوچ رھا تھا کہ اس درخت کی افادیت پہ کچھ لکھون اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ مین اکثر دواؤن مین اس کے اجزاء استعمال کرنے کی ھدایت کرتا ھون اس درخت کا تعارف تو لکھنے کی ضرورت نہین ھے مشہور اور عام ھے صرف ان ھی لوگون کو تعارف کی ضرورت پڑ سکتی ھے جو یہ بھی پوچھ سکتے ھین کہ بھئی گندم کا درخت کتنا بڑا ھو سکتا ھے آئیے اب صرف افادیت پہ روشنی ڈالین
مزاج عضلاتی اعصابی ھے
مقدار خوراک مین تخم دو سے تین ماشہ تک کھلا سکتے ھین جبکہ چھال پانچ سے سات ماشہ تک کھلا سکتے ھین
طبی فوائد محرک عضلات مسکن غدد اور محلل اعصاب یعنی کیمیائی طور پہ خلط سودا پیدا کرتا ھے
تھوڑی تشریح ۔۔حابس رطوبات۔۔ یعنی رطوبات کو خشک کرتا ھے مسکن اوجاع بلغمی یعنی بلغمی مزاج مین پیدا شدہ جوڑون کے درد مین مفید ھے درد روکتا ھے
مصفی خون یعنی پھوڑے پھنسی مین بھی بہت مفید ھے
قابض بھی ھے
اب ھلکی سی وضاحت
حابس رطوبات صفت مین کثرت لعاب دھن زکام لیکوریا جریان اور کثرت پیشاب مین مفید ھے
مصفی خون صفت مین اعصابی مزاج کے وہ مریض جن کے زخمون سے ھر وقت رطوبت رستی رھتی ھے ان کے لئے بہت مفید ھے
محرک عضلات صفت مین مقوی باہ بھی ھے یاد رکھین امساک اور قوت باہ عضلاتی ھی ھوا کرتا ھے
اب اگلی صفت حابس رطوبات ھے مزاجا عضلاتی اعصابی ھے اس لئے تحریک مین تو گرمی کا نام ونشان بھی نہین ھے سرس کے مزاج مین
اس لئے اگر کوئی آگ سے جل جاۓ اور آبلہ پڑ جاۓ تو دوستو آبلہ کو چیر کر رطوبت نکالین اور سرس استعمال کرین جب تک زخم ٹھیک نہین ھو گا سرس کا سفوف جو اوپر لگایا تھا چمٹا رھے گا
آئیے آج مین اپنے تجربات جو سرس پہ کیے ھین ان سے آگاہ کرتا ھون اگر دماغ مین نزلہ جم جاۓ اور کسی صورت نکلنے کا نام نہ لے تو دوستو اس کے تخم یا پھول کو خشک کرکے سفوف بنا لین چٹکی مین تھوڑا سا لے کر بطور نسوار صبح کے وقت ناک مین چڑھا دین اب تھوڑی دیر انتظار کرین نزلہ پتلا ھو کر پانی کی طرح بہنا شروع ھو جاۓ گا عصر تک اس نزلہ کو چلنے دین اب ایک کپ قہوہ چاۓ مین ایک چمچ دیسی گھی شامل کرکے گرم گرم پی لین نزلہ رک جاۓ گا اور جما ھوا نزلہ خارج ھو کر مرض سے نجات صرف ایک خوراک سے مل جاۓ گی
اب خارش پھوڑے پھنسی کے لئے اس کا چھلکا جو اندرونی سائیڈ پہ ھوتا ھے اور سرخ رنگ کا ھوتا ھے کلو حاصل کرکے بارک ٹکڑے کرکے چار سیر پانی مین بھگو دین پھر آگ پہ چڑھا دین اتنا ابالین کہ پانی کلو رہ جاۓ اسے چھان کر کلو ھی چینی ڈالکر قوام کرکے شربت بنا لین چار چمچ صبح شام پی لین یاد رکھین کثیر جلدی امراض مین فائدہ مند ھے اگر اس مین برابروزن دھماسہ اور اونٹ کٹارہ شامل کرکے شربت بنا لین تو جلدی کینسر کو بھی درست کردیتا ھے میرا ذاتی تجربہ ھے
اب وہ لوگ جو ٹانسلز مین اپریشن کی نوبت پہ آچکے ھین وہ گندھک آملہ سار تخم سرس چھلکا ریٹھا اور تارا میرا برابروزن سفوف بنا کر نخودی گولیان بنا لین ایک تا دو گولی عمر کے لحاظ سے تین وقت پانی سے کھائین اور اپریشن کو بھول جائین
اب ایسی خواتین جن کو لیکوریا جان ھی نہین چھوڑتا وہ مندرجہ ذیل دوا بنا کر استعمال کرین تخم سرس پانچ تولہ پوست درخت سرس تین تولہ مازو ثابت تین تولہ کشتہ بیضہ مرغ دوتولہ ۔ کشتہ فولاد ھیرا کسیس والا لے لین ایک تولہ
پہلے تخم اور پوست باریک پیس کر اب کشتے ملا کر گھنٹہ بھر خوب کھرل کر لین اور 500ملی گرام والے کیپسول بھر لین ایک ایک کیپسول دن مین تین بار بعد از طعام دین چونکہ سخت قابض ھے اس لئے ساتھ حب صابر دین جوارش تمرھندی دین تاکہ نظام ھضم بھی درست ھو اعصابی لیکوریا مین بہت ھی اعلی علاج ھے
جلے ھوۓ کے لئے اور شوگر والے وہ لوگ جن کے زخم ٹھیک ھونے کا نام نہین لیتے وہ اس طرح کرین کہ چھلکا درخت سرس کا حسب ضروت لے لین اور دھوپ مین سکھا کر باریک پوڈر کر لین جیسے میدہ ھوتا ھے اگر آبلہ ھے تو آبلہ کو چیر کر اوپر لگا دین اگر شوگر کے زخم ھین تو ان پہ ویسے ھی لگا دین اور ایک ھفتہ نتظار کرین انشاءاللہ درست ھو جائین گے
دوستو گروپ مطب کامل مین کوشش ھوتی ھے کہ کم سے کم وہ دوائین لکھی جائین جو بنانے مین آسان اور تجربہ مین درست پائی جائین چند آخری باتین یاد رکھ لین
پہلی بات جن کشتہ جات کا مین نے ذکر کیا ھے یہ عام پنساری کی دکان سے کمپنیون کے مل جاتے ھین کسی بھی اچھی کمپنی کا استعمال کر لین باقی جو آخری نسخہ مین نے لیکوریا کے بارے مین لکھا ھے یہ ممسک صفات بھی رکھتا ھے اب بہت سے کتابون مین سرس کا یہ نسخہ لکھا ھے کہ اس کے تخم کا پتال جنتر سے تیل نکال لین پاؤن کے تلوؤن پہ لگائین بہت ممسک ھے یا کھائین بہت ممسک ھے مین اپنے تجربہ کی بات بتا دیتا ھون اس کے چھلکے کا جو شربت مین نے لکھا ھے اب بعض مریضون کو پلانے سے انزال واقع رک گیا بہت ھی امساک پیدا ھوا لیکن یاد رکھین سو مین دو چار لوگون مین امساک پیدا ھوتا ھے باقی سب کہانی ھے آپ لوگ اس بارے مین سردردی نہ لین ھان محرک مقوی گرم خشک ادویہ کے ساتھ ملا کردینے سے بہت کچھ فائدہ دیتا ھے عقلمندون کو صرف اشارہ ھی کافی ھے

Saturday, November 3, 2018

جوڑون کا درد اور باکمال حب سرنجان

۔۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔ جوڑون کا درد اور باکمال حب سرنجان۔۔۔۔۔
ایک دن پہلے سردی کی وجہ سے وجع المفاصل کا علاج لکھا تھا آج گرمی خشکی یا خشکی گرمی سے پیدا شدہ وجع المفاصل کا علاج درج کررھا ھون انشاءاللہ چند خوراک سے ھی بہت افاقہ مرض ھو جاۓ گا
علاج کے لئے آپ حب سرنجان خاص ایک ایک گولی دن مین تین بار غدی عضلاتی ملین دو دو گولی دن مین تین بار اور غدی اعصابی تریاق ایک ایک گولی دن مین تین بار دین اب ترتیب وار ان کے نسخہ جات لکھتا ھون
حب سرنجان خاص۔۔
صبر زرد۔۔۔سنڈھ۔۔۔۔سرنجان شیرین اسگندھ ناگوری ۔۔سب دواؤن کو باریک پیس کر مکو سبز کا پانی نکال لین اور اس مین ان دواؤن کو گوندھ لین جب گولی بنانے کے قابل ھو جائین تو نخودی گولیان بنا لین
غدی عضلاتی ملین کا نسخہ ویسے تو بہت ھی دفعہ درج ھو چکا ھے چلین آج پھر لکھے دیتے ھین
رائی ۔۔اجوائن ۔۔۔۔بابچی ۔۔۔ھر ایک دوا دس گرام گندھک آملہ سار تیس گرام پیس کر نخودی حب بنا لین
غدی اعصابی تریاق۔۔۔شیر مدار تین تولہ سہاگہ بریان سات تولہ ۔سنڈھ پانچ تولہ پپلا مول تین تولہ ۔۔شیر مدار کے علاوہ باقی سب دوائین باریک پیس کر شیر مدار شامل کرکے نخودی گولیان بنا لین
اگر آجکل کسی دوست کے پاس شیر مدار میسر نہ ھو تو پریشان نہ ھون آپ مندرجہ ذیل دوا بنا لین یہ بھی غدی اعصابی تریاق ھی ھے
چھلکا ریٹھا ۔۔گندھک آملہ سار ۔۔۔ سنڈھ ۔۔۔۔ نوشادر برابروزن باریک پیس کر نخودی گولیان بنا لین ایک تا دو گولی استعمال کرین دن مین تین بار ھی دین