Tuesday, April 16, 2019

مجربات کینسر 1|cancer treatment




۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Cancer treatment and medicine
۔۔۔۔۔۔۔۔ مجربات کینسر ۔۔۔۔۔۔ جناب محترم شاھد محمود سیفی کے نام
کل فیصل آباد جناب محترم حکیم شاھد محمود سیفی صاحب سے ملاقات واقعی حقیقی معنون مین دل پہ نقش ھوئی اپنے آنے کی خبر تو مین ان کو پہلے ھی دے چکا تھا میرا یہ سفر صرف سیفی صاحب سے ملاقات کے لئے تھا اس کے علاوہ اس سفر کا اور کچھ مقصد نہ تھا عرصہ بعد ایک مکمل طبیب کو دیکھا فیصل آباد کی سرزمین پہ بہت سے اچھے حکماء کو جانتا ھون لیکن ان مین کچھ خاص طبیب ھین جنہین آپ کامل طبیب کہہ سکتے ھین جب سے میرا واسطہ شعبہ تدریس سے ھوا تو حکماء مین ایک چیز مین نے خاص طور پہ نوٹ کی ۔ اب وہ حکماء جو شعبہ تدریس سے منسلک ھین کم سے کم دو کام انہون نے ضرور کیے ھین پہلا کام لباس کی تبدیلی شلوار قمیص کی جگہ پینٹ شرٹ نے لے لی دوسرا زبردستی اپنے نام کے ساتھ لفظ پروفیسر لگا لیا کئی ایک نے خود ھی اپنے نام کے ساتھ بے شمار القابات کا اضافہ بھی کرلیا خیر سے شاھد محمود سیفی صاحب بھی ایک کالج مین معلم ھین قابل ترین استاد ھین لیکن درویش ھین وھی عاجزی وھی درویشی وھی انکساری جو ایک کامل طبیب کا خاصہ ھونی چاھیے وہ سب صفات جناب شاھد محمود سیفی صاحب مین موجود ھین دعا ھے رب کریم ان کو لمبی زندگی دے اور اپنے حفظ امان مین رکھے آمین ثم آمین اس کے علاوہ سیفی صاحب کے ھان محترم جناب حکیم استاد محمد جمیل عارف صاحب سے طویل گفتگو رھی بہت ھی خوبصورت انسان ھین انتہائی سادہ انداز مین طبی کونسل پہ کڑھتے رھے حکماء کے مسائل پہ طویل گفتگو ھوئی تمام مسائل کی جڑ اور اس کے حل پہ بھی باتین ھوئی کچھ طبی علمی گفتگو بھی ھلکے پھلکے انداز مین ھوئی دعا ھے کہ پورے ملک کے حکماء اپنی اپنی ڈفلی بجانا چھوڑ دین اور ایک پلیٹ فارم پہ اکھٹے ھو جائین دوستو ورنہ بڑے ھی گھمبیر مسائل سامنے آنے والے ھین
آئیے اب موضوع کی طرف چلتے ھین
ایک بات کینسر کے بارے مین ھمیشہ آج سے ذھن نشین کر لین اس مرض کا سبب خلط کا احتراق ھے چاھے خلط صفرا ھے یا بلغمی ھے یا خود ھی سودا ھے ھمیشہ احتراقی مادے کو سامنے رکھین اب اسی کے اسباب وعلامات کو سامنے رکھ کر علاج تجویز کرنا چاھیے اب ایک بات کا سب حکماء کو علم ھے کہ جب کوئی بھی خلط جلتی ھے تو آخرکار وہ سودا کی ھی شکل بنتی ھے جب بھی جسم مین کسی خلط کی زیادتی ھو جائے تو اس مین پہلے خمیر اس کے بعد تعفن پیدا ھوتا ھے پھر اس متعفن مادے مین طبیعت ھمیشہ احتراق کا عمل شروع کردیتی ھے اب اسے سمجھنے کے لئے آپ کو عمل خمیر ترشی تیزاب اور پھر زھر کیسے بنتی ھے یہ سب عملا سمجھنا پڑے گا اس پہ میرے سابقہ مضامین پڑھین یہ بات پکی ڈھکی ھے کہ کینسر سوداوی خلط ھے اور اس مین ھمیشہ رطوبت کی کمی اور یبوست کی زیادتی ھوتی ھے اب تھوڑا غور کرین گے تو بات سمجھ آجائے گی اب رطوبت کی کمی اور یبوست کی زیادتی کی وجہ سے اس مین پیپ پیدا نہین ھوتی اب ایک بات اور بھی سمجھ لین کہ اکثر شروعات یا فساد بلغمی یا صفراوی مادے سے ھوتی ھین اگر شروع مین پیپ پیدا ھوجائے تو علاج سو فیصد فورا ھوجاتا ھے اگر خدانخواستہ بعد مین پیپ پیدا ھو بھی جائے تو فساد اتنا بگڑ جاتا ھے کہ آپ اسے ختم کرھی نہین سکتے بہت ھی مشکل سے ٹھیک ھوتا ھے یاد رکھین جب خون مین فساد پیدا ھوکر غددناقلہ کے ضعف کے سبب خلط مین زھر پیدا ھوجائے تو یہ مادہ خلیات کے اندر داخل ھوجاتا ھے رطوبات اصلیہ فنا ھونا شروع ھوجاتی ھین بلکہ بالکل ختم ھوجاتی ھین اس لئے جسم کا دفاع یعنی غددناقلہ کا فعل متاثر یعنی کمزور ھوجاتا ھے آج کے مضمون مین تشریح اتنی ھی کافی ھے باقی کچھ تشریح کل کے مضمون مین کردی جائے گی لیکن علاج آج ھی لکھے دیتا ھون باقی تشریح کل پڑھ لین تین دوائین بہت ھی اھم ھین میری نظر مین
پہلی دوا۔۔عرق دھماسہ عرق شاھترہ عرق مکو پانی کی طرح مریض کو پلائین
دوسری دوا۔۔ غاریقون انتہائی باریک کھرل کرین جتنا کھرل کرین گے اتنا ھی زیادہ فائدہ اٹھا لین کم سے کم ھفتہ دس دن ضرور کھرل کرین بلکہ عرق دھماسہ مین ھی کھرل کرتے رھین اب دو چاول خوراک تین وقت عرق سے ھی کھلائین
تیسری دوا۔۔جونک چائینہ کی پنسار سے عام ملتی ھے اسے سنٹر سے کاٹ لین اور دم والی سائیڈ والا حصہ پیس لین ایک رتی روزانہ عرق دھماسہ اور مکو شاھترہ سے کھلا دین باقی ادویات اور تشریح کل کی پوسٹ مین اجازت دین محمود بھٹہ گروپ مطب کامل

Monday, April 15, 2019

بواسیری نمک

۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔بواسیری نمک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بکائن کے پھل کا نمک نکال لین اور یہ نمک چھ ماشہ ھلیلہ سیاہ بریان تولہ رسونت تولہ نمک مولی چھ ماشہ پیس کر رکھ لین ایک تا دو ماشہ یہ نمک ھمراہ عرق گاؤزبان دین
خون آنا اور مسون کا ورم بھی جاتا رھتا ھے بواسیر ھمیشہ کے لئے ٹھیک ھو جاتی ھے
اور ریح بواسیر مین ھیرا ھینگ چھ ماشہ فلفل سفید نو ماشہ سہاگہ بریان نو ماشہ نوشادر نو ماشہ نمک لاھوری نو ماشہ پیس کر کسی تام چینی کے برتن مین آب برگ سہانجنہ آب ادرک ادویات مین شامل کرکے دوا کو پھیلا دین پانی اتنا ڈالنا ھے کہ ادویات دو ھفتہ تک تر رھین اب اس برتن پہ کپڑا باندھ کر دھوپ مین برتن رکھ دین جب اس مین خمیر پیدا ھو کر گولی بنانے کے قابل ھو جائے تو دانہ مونگ برابر گولی بنا لین ایک گولی صبح دوپہر شام ھمراہ عرق بادیان دین
یاد رھے بادی اور خونی ھر دو اقسام بواسیر مین یہ دوا مفید ھے اس کے علاوہ بھی فوائد بے شمار ھین جیسے وجع المفاصل مین بھی بہت مفید ھے

Saturday, April 13, 2019

طب کی انڈی رال یعنی حرکات قلب کو منظم کرنے کی دوا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔ طب کی انڈی رال یعنی حرکات قلب کو منظم کرنے کی دوا۔۔
انڈی رال ایلوپیتھک مین انتہائی بہترین دوا سمجھی جاتی ھے
آج آپ کو طب مین ایک ایسی ھی دوا متعارف کرواتا ھون جو کثیر الفوائد بھی ھے اس کی خوبیان نمبر وار آپ کو بتاتا ھون
1۔۔ مفرح قلب ھے
2۔۔ دل کی دھڑکن کو روکتی ھے نارمل حالت مین لے آتی ھے
3۔۔غم اور افسردگی کو دور کرتی ھے
4۔۔ھائی بلڈ پریشر مین اکسیر کا درجہ رکھتی ھے فورا کنٹرول ھوتا ھے
5۔۔پھیپھڑوں سے خون آنے کو بھی روکتی ھے اس لئے آپ مرض دق وسل مین بھی بہت فائدہ مند رھتی ھے
6۔۔قوت مدافعت بڑھاتی ھے وسوسون سے نجات دلاتی ھے
یہ تھین کچھ خاص خاص خوبیان
بظاھر آپ کو یہ دوا مہنگی نظر آرھی ھو گی لیکن اس مین سے کوئی بھی دوا کوئی خاص مہنگی نہین ھے
کشتہ مرجان ۔ کشتہ عقیق ۔ کشتہ سنگ یشب ۔ کشتہ زھر مہرہ خطائی ۔ کشتہ سنگ جراحت ۔۔ ھرایک چھ ماشہ ورق چاندی تین ماشہ عرق بید مشک 5تولہ عرق کیوڑہ5 تولہ
اب تمام کشتہ جات کو عرقیات مین کھرل کرین پہلے ورق کھرل کرلین اور خشک ھونے پہ محفوظ کرلین بس دوا تیار ھے
ایک رتی تک مقدار خوراک ھے صبح شام ھمراہ دودھ استعمال کرسکتے ھین

Friday, April 12, 2019

عرق موٹاپا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عرق موٹاپا ۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ عرق شاید مین پہلے بھی لکھ چکا ھون آج مذید اصلاح کے بعد دوبارہ لکھ رھا ھون دوائین لکھنے سے پہلے ایک ھدایت مین پہلے کردون مقررہ مقدار سے زیادہ کبھی بھی نہ پیئن بعض حضرات یہ سوچ کر کہ زیادہ مقدار مین پی لیتے ھین کہ جلد از جلد وزن کم ھو سکے گا اب زیادہ مقدار مین پینے سے وزن ضرور کم ھو گا لیکن ایک سائڈ ایفیکٹ بھی بعض لوگون مین پیدا ھو جاتا ھے یعنی پھر آپ اس تحریک کو روک نہین سکین گے مسلسل چربی جسم سے ختم ھونا شروع ھو جاتی ھے اب غیر ضروری چربی کے ساتھ ساتھ ضروری چربی بھی گھلنا شروع ھو جاتی ھے اور آپ سوکھ کر ھڈیون کا ڈھانچہ بن سکتے ھین اس لئے یہ بات ھمیشہ یاد رکھین کہ دوا کو مقررہ مقدار سے زیادہ استعمال ھرگز نہ کیا کرین اب ایک بات اور بھی آپ کو بتادون کہ بازار مین عرق دسمول کے نام سے ایک عرق عام ملتا ھے لیکن جو دوا مین بتانے لگا ھون یہ دوا رزلٹ مین زیادہ تیز ھے
تیز پات پودینہ اجوائن سوئے آملہ ھریڑ سبز ھر ایک پچاس گرام لے کر چھ کلو پانی مین بھگو کر بارہ گھنٹہ کے لئے رکھ دین اس کے بعد معروف طریقہ سے عرق تین بوتل کشید کر لین اب فی بوتل ٹاٹری ساڑھے بارہ گرام اور سوڈابائی کارب 25گرام شامل کر لین یعنی عرق750mlھو گا تویہ مقدار شامل کرنی ھے اب نوجوان آدمی چار چمچ (چاول کھانے والی )صبح شام پی لے یعنی یہ مقدار 20ml ھو گی بے شک دو تا تین ماہ لگ جائین لیکن موٹاپا ھمیشہ آھستہ روی سے دور کرنا چاھیے ایسی کوئی بھی دوا استعمال نہین کرنی چاھیے جس سے یکلخت موٹاپا دور ھوتا ھو اب اسی دوا مین مذید بہتری لانے کے لئے اور اس کے مذید مضر اثرات کم کرنے کے لئے بجائے ٹاٹری شامل کرنے کے آپ اس مین لیمن کارس سوگرام نکالین اور اسے فلٹر کرکے ابال لین اور فی بوتل سوگرام شامل کرلین اور ٹاٹری پھر نہ ڈالین یہ پہلے سے بھی زیادہ بہترین بنے گا اگر موٹاپا بہت ھی زیادہ ھے تو اس عرق کے استعمال کے ساتھ ساتھ حب صابر رات ایک تا دو گولی ساتھ کھا لیا کرین حب صابر کے ساتھ استعمال سے چند فائدے بڑھ جائین ایک تو موٹاپا کم زیادہ ھو گا دوسرا فائدہ مرد حضرات جب کھٹائی زیادہ استعمال کرین گے یعنی یا تو ٹاٹری یا پھر سیدھا سیدھا لیمن کا رس استعمال ھو گا تو اس سے جنسی خواھشات لازمی کم ھوتی ھین اب حب صابر کے ساتھ استعمال سے جنسی خواھشات کم نہین بلکہ بڑھ جائین گی اس کے علاوہ تحریک تیزی سے بھی لیکن اعتدال سے بڑھے گی اور مضر اثرات نہ ھونے کے برابر رہ جاتے ھین لیکن اس سے بھی اعلی دوا ایک اور بھی ھے جس مین ادرک کلو لیمن کلو لہسن کلو کا پانی نکال کر اس مین پاؤ سرکہ سیب خالص بلکہ خودساختہ ملا کر اسے روئی کی مدد سے باقاعدہ فلٹر کرین اور اس تمام حاصل شدہ پانی کے وزن کے برابر شہد ملائین اور دو تا چار چمچ صبح شام پیئن اب اس سے مذید فائدہ یہ بھی ھو گا کہ بدن کی فالتو چربی کے ساتھ ساتھ خون کی نالیون کے اندر سے بھی چربی وکولسٹرول کو ٹھیک کردیتا ھے
نوٹ۔۔ رطوبات کو نچوڑنے مین بے شمار انتہائی تیز ادویات طب مین موجود ھین جیسے بلادر کشتہ نیلا تھوتھا وغیرہ لیکن ان کا استعمال ایک ماھر طبیب کو ھی کرنا چاھیے عام آدمی اور مبتدی طبیب کو ان کے استعمال سے بچنا ھی چاھیے ورنہ نقصان کا احتمال ھوتا ھے والسلام محمود بھٹہ گروپ مطب کامل

Thursday, April 11, 2019

فالج 1| Falag|paralysis

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Falag|paralysis
۔۔۔۔۔۔ فالج ۔۔۔۔۔قسط نمبر1 ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔ دماغ حیرت انگریز ایکسچینج ۔۔۔۔۔
سب سے پہلے اللہ ﷻ سے دعا ھے وہ مجھے لکھنے کی توفیق عطا فرماۓ اور آپ کو سمجھنے کی توفیق عطا فرماۓ مضمون بہت ھی گہرا ھے شاید مین کہین مشکل الفاظ بھی لکھ جاؤن لیکن کوشش ھو گی آسان تشریح ھی کرون
آپ دماغ کا محل وقوع اور کام اور اھمیت تو لازمی بات ھے کتابون مین ضرور پڑھ چکے ھونگے اب صرف دماغ تک ھی مضمون لکھنا شروع کردین تو سچ یہ ھے کئی سو پوسٹون مین شاید ھی مکمل کر سکون
مین سمجھتا ھون دماغ پہ آج بھی جدید سائینس مسلسل تحقیق کررھی ھے مین اس کی مختصر تعریف ضرور ھی کرون گا کیا آپ جانتے ھین کہ انسانی دماغ سے بڑا کمپوٹر کوئی ھے ھی نہین اس سے بڑی کوئی ٹیلی فون ایکسچینج نہین ھے اس سے بڑا کوئی نشریاتی ادارہ نہین ھے سب سے بڑی اور حیرت انگریز بات اس کی میموری لامحدود ھے کروڑون اربون جی بی سے بھی زیادہ شاید آپ پوری زندگی مین ان جی بی سے کروڑوان حصہ بھی استعمال نہ کر سکتے ھون اتنی بڑی خالی میموری آپ لے کر اس دنیا سے چلے جاتے ھین
دماغ انسانی جسم مین بھی حاکم اعلی کا کردار ادا کرتا ھے اللہ تعالی نے اسے رکھا بھی جسم مین سب سے افضل مقام پہ ھے انتہائی سخت قسم کی ھڈیان اس کی حفاظت کرتی ھین اور ان ھڈیون کے اندر انتہائی لچک دار ملائم جھلیان ھین جو حفاظت پہ معمور ھین بہت ھی نرم ونازک وجود کا مالک خود دماغ چار حصون مین تقسیم ھے یاد رھے جو سر کے اوپر بال تک اسی دماغ کی حفاظت پہ معمور ھین
یاد رکھین انسانی دماغ ھر جانور کے دماغ سے بڑا ھوتا ھے یہ بدن کا چالیسوان حصہ کے برابر ھوتا ھے
ھمارے بدن کے تمام حصے اپنا اپنا کام ٹھیک وقت پر باقاعدگی اور توازن کے ساتھ کرتے رھتے ھین کوئی حصہ کسی دوسرے کے کام مین خلل نہین ڈالتا۔۔بلکہ اس کی مدد کرتا ھے ۔۔بس اسی طرح بدن کی مشین بے روک ٹوک چلتی رھتی ھے ۔۔آپ سو رھے ھوتے ھین لیکن بدن کے حصے اپنا کام سرانجام دے رھے ھوتے ھین
بلکہ بے ھوشی تک مین یہ اپنا کام جاری رکھ کر زندگی کا چراغ جلاۓ رکھتے ھین ۔۔ اللہ اکبر
اور ھم غذا کی تلاش مین ٹانگون کو چل کر جانے کا حکم اور ھاتھون کو منہ تک نوالہ لے جانے کا حکم اور پھر جبڑون کو چبانے کا حکم اور پھر حلق کو نوالہ نگلنے کا حکم
ہھرمعدہ اور آنتون کو ھضم و جذب کرنے کا حکم ۔۔۔ یہ سب سلسلہ بہ سلسلہ فرض آپ کا دماغ ادا کرتا ھے
آپ کو رب کائینات نے ساتھ شعور عطاء فرما دیا تو آپ دسترخوان پہ چنے کھانے مین سے اپنی پسند کا کھانا بھی پسند ناپسند کا حکم بھی آپ کو دماغ ھی سمجھاتا ھے اگر غور کرین گے تو ایسی سینکڑوں چیزین ھین جن کو کرنے نہ کرنے کا حکم اپنے اعضاء کو دیتے ھین اور اعضاء ھماری تعمیل کرتے ھین
اب ان تمام دلائل وبحث سے اس بات کا پتہ چلتا ھے کہ ھمارے جسم کی سلطنت مین کچھ خاص ایسا ھے جو بدن کے دوسرے تمام اعضاء کا حاکم اعلی ھے یا خادم اعلی یا افسر کہہ لین جو ھر اعضاء کو حکم جاری کرتا ھے تم یہ کرو تم وہ کرو
اب ان تمام باتون سے ثابت ھے کہ یہ فرمانروا حاکم دراصل ھمارا دماغ ھے دماغ گویا مرکزی ٹیلی فون ھے یا نشریاتی ادارہ جس کے پاس بدن کے ھر گوشے یا روئین روئین سے پیغامات اور خبرین بھی پہنچتی ھین اور احکامات بھی پہنچتے ھین یعنی وہ پھر براہ راست یا اپنے ماتحت مرکزون یا وزیرون کے ذریعے مناسب احکام صادر کرتا ھے
یاد رھے ھم اسی کے حکم سے لکھتے پڑھتے بات چیت کرتے یہان تک کہ چھونے دیکھنے سننے سردی گرمی درد کی تکلیف یا پھر لذت آفرین لمحات کا احساس یعنی ھر اچھے برے تک کا احساس ھوتا ھے ماضی کی یادین حال کے مناظر و جذبات مستقبل کی پلاننگ یعنی تمام جذبات و احساس کا سرچشمہ و خزانہ یہی دماغ ھے
یاد رکھین اتنے اھم حصہ بدن کے بارے مین کبھی بھی لاپرواھی نہ برتین جو کہ ھم کرتے ھین اگر آپ اسے اچھی تربیت دین گے تو اچھے احکامات دے گا یعنی آپ نے اسے تربیت بداخلاقی کی دی تو لازما یہ بھی حکم گالی گلوچ والا ھی دے گا آپ کے منہ سے تو وھی پھول جھڑنے ھین جو آپ نے اسکی میمری مین محفوظ کیے ھین جو تربیت ھم بچپن مین بچے کو دے رھے ھوتے ھین وہ حقیقت مین ھم اس کے دماغ کی تربیت کررھے ھوتے ھین
اگر آپ اس کی میموری مین اخلاق اور ادب کا سبق ڈال دین گے اچھے عادت اطوار ڈال دین گے تو لاشعوری طور پہ انسان وھی حکم پہلے قبول کرے گا اگر صبح اخلاق کا درس شام بدکاری کا درس کسی بچے کو شروع کر دین تو وہ نہ شاھین بنے گانہ مرغا بلکہ شاید کوےکی شکل اختیار کرجاۓ یادرھے منفی اورمثبت سوچین یکمشت ڈالین گے تو دماغ تقسیم ھو کر رہ جاۓ گا اور نوجوان ھو کر ھمیشہ ناکامیون کا منہ دیکھنا مقدر بن جاۓ گا اس لئے تربیت مثبت کیا کرین
میرے خیال مین دماغ کی ابتدائی بحث کافی ھو گئی ھے دوسری قسط مین دماغ کی مختصر بناوٹ پہ بحث کرین گے یہ سب فالج مرض سمجھنے کے لئے ضروری ھے

پراسٹیٹ گلینڈ بڑھ جانا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔پراسٹیٹ گلینڈ بڑھ جانا۔۔۔۔۔۔۔
کافی پوسٹین پراسٹیٹ پہ مین لکھ چکا ھون لیکن اس کے باوجود روزانہ یہ سوال کردیا جاتا ھے اب نئے گروپ ممبران یہ نہین کرتے کہ کم سے کم سوال کرنے سے پہلے گروپ کو ھی سرچ کر لین گروپ بنے تو ڈیڑھ سال ھونے والا ھے لیکن آپ کوآج گروپ مطب کامل جوائن کررھے ھین ھر گروپ ممبر سوال کرنے سے پہلے گروپ کو سرچ کیا کرین اگر میری پوسٹین پڑھنی ھین تو کسی بھی پوسٹ پہ جو میری تصویر نظر آرھی ھوتی ھے اس پہ کلک کرین تو میری لکھی تمام پوسٹین آپ کے سامنے کھل جائین گی اب ان مین سے مطلوبہ مرض کی پوسٹ دیکھ لین خیر آج ایک اور بھی سوال اس پوسٹ مین ھے کل ایک صاحب جن کی عمر شاید بیس بائیس سال ھے ان صاحب نے انباکس لکھا کہ مجھے پراسٹیٹ پرابلم ھوگیا ھے ساتھ ھی لکھتے ھین کہ انہین ڈاکٹر نے کہا ھے کہ تیرا پراسٹیٹ غدود بڑھ چکا ھے
اب آپ مین سے کچھ کو ھنسی آگئی ھو گی کچھ سوچنے لگ گئے ھونگے کہ یہ کیسے ممکن ھے جبکہ آپ نے آج تک جتنا بھی پڑھا ھے جب بھی پراسٹیٹ کا ذکر ھوتا ھے تو ایک بات واضح ھوتی ھے کہ اس مرض مین انسان بڑھاپے مین شکار ھوتا ھے اب یہ بیس بائیس سال کی عمر مین تو یہ مرض ھو ھی نہین سکتی یا تو مریض جھوٹ بول رھا ھے یا پھر ڈاکٹر نے غلط تشخیص کی ھے دوستو ایسا کچھ بھی نہین ھوا سب سچ بول رھے ھین بس ذرا مریض نے پورا سچ نہین لکھا تھا ائیے اب اس پہ بحث کرتے ھین
پراسٹیٹ ایک گلٹی ھے جو وھان سے شروع ھوتی ھے جہان سے پیشاب کی نالی شروع ھوتی ھے اور پیشاب کی نالی اس کے تقریبا درمیان سے گزرتی ھے اس مین پندرہ بیس باریک باریک عروق ھوتی ھین جو پیشاب کی نالی مین کھلتی ھین ان عروق کے ذریعے سے اس غدے کے اندر بننے والی رطوبت پیشاب کی نالی مین آتی رھتی ھے یاد رکھین یہ رطوبت خالص الکلی ھوتی ھے اس کی شکل انڈے کی سفیدی جیسی ھوتی ھے
اب جنسی ھیجان کے وقت یہ رطوبت زیادہ نکلنے لگتی ھے جو انزال سے پہلے نائرہ کو تر کردیتی ھے تاکہ وہ منی کے تیز تیزابی بہاؤ کے اثر وضرر سے محفوظ رھے اس کے ساتھ ھی یہ منی کے ساتھ مل کر اس کی اصلاح بھی کرتی ھے
اس مرض کے پیدا ھونے کی وجہ یہ ھوتی ھے کہ یہ مرض عضلاتی تحریک اور غدی تسکین کا شاخسانہ ھے خشک گرم اشیاء خوردنوش کی کثرت تیز مرچ مصالحہ کا استعمال اور عضلاتی قبض اس کو پیدا کرنے کا سبب ھوتے ھین
اب دوسری وجہ بیان کرتا ھون جو مریض مین درحقیقت ھین جس کا ذکر ھورھا ھے یعنی بیس سال کی عمر مین یہ مرض کیسے آئی
جنسی ماحول۔ عورتوں کے ساتھ میل جول جس سے جنسی ھیجانات مسلسل پیدا ھوتے رھتے ھون جنسی خیالات اور جنسی پراگندگی ھر وقت جنسی اعضاء کو انگیخت کرتی رھتی ھین یہ سب حرکتین اعضائے جنس کے ضعف کا سبب بنتی ھین اب جب قوتین کمزور ھوتی ھین تو تمام جنسی اعضاء مین ایک سکیڑ سا پیدا ھوتا ھے اور غدد بڑھ جاتے ھین اب اس مرض کی ایک وجہ یہ بھی ھوا کرتی ھے کہ جب نوجوانوں مین احتلام ھونے لگتا ھے اور ان کی نیند کھل جائے تو وہ کپڑے خراب ھونے کے خوف سے عضو کو آگے سے دبالیتےھین اورمنی کوخارج نہین ھونےدیتے اس سے پراسٹیٹ پہ دباؤ پڑتا ھے اور وہ اپنے دفاع مین بڑھ جایا کرتے ھین اب ان وجوھات کی بنا پرعضم غدد ھوجایا کرتا ھے پہلے پیشاب کی دھار پتلی ھوتی ھے پھر جلن ھوتی ھے پیشاب تھوڑا تھوڑا خارج ھوتا ھے پھر بند ھوجاتا ھے پھولے ھوئے غدد کی رطوبات برانگخیت تو ھوتی ھین لیکن سوجن کی وجہ سے مجاری بند ھو جاتے ھین پیشاب تھوڑا تھوڑا خارج ھوتا ھے تو یہ رطوبات اندر ھی اندر جمع ھوتی رھتی ھین اور پھر وھان پہ تعفن پیدا ھو کرزھریلی شکل اختیار کرکے نوبت کینسر تک آجایا کرتی ھے جو ابتدائے غدے کو اور پھر حوالی کو اپنی لپیٹ مین لے لیتا ھے اب اس کا علاج یہی ھے کہ عضلاتی تحریک کو ختم کیا جائے اور غدی تسکین کو تحریک مین بدل دیا جائے اس مقصد کے لئے آپ مسہل نمبر پانچ ملین پانچ حب بندق محلل۔ تریاق غدد یا تریاق چھ دین چند دن ٹھوس خوراک بند کرکے صرف سبزیان کھلائین زیرہ سفید اور سونف کا قہوہ پلائین اگر کینسر ھو چکا ھے تو علاج الگ ھے اسے یہان لکھنے کا مقصد کوئی نہین ھے کیونکہ ھمارا موضوع صرف پراسٹیٹ بڑھ جانے تک ھی تھا تمام دواؤن کے نام لکھ دیے ھین اب ان مین ضرورت کے مطابق یعنی جتنی مرض پیدا ھو چکی ھے اس کے مطابق استعمال مین لائین نسخہ جات اس لئے نہین لکھے کہ تقریبا ان ادویات کو بارھا بار لکھ چکا ھون یہ سب نسخے گروپ مین لکھے جا چکے ھین گروپ مطب کامل محمود بھٹہ

Monday, April 8, 2019

جوھر خصیہ تشریح

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔جوھر خصیہ تشریح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مختلف نسخہ جات مین بھی اور اکیلی بطور دوا اسے کافی استعمال مین لایا جاتا ھے اور اس پہ نئے نئے طریقے بلکہ دلچسپ طریقے اور ھر طرح سے اسے جوھر ثابت کرنے کے دعوے اور اسے مکمل دوا ثابت کرنے کے لئے دعوے بلکہ قسمین تک اٹھائی جارھی ھین بلکہ اب یہ دواسینے کے رازون مین شامل ھو چکی ھے میری پچھلی پوسٹ مین کسی نے اس کی تشریح لکھنے کو بھی کہا تھا بلکہ دس بیس انباکس بھی یہی سوالات آچکے ھین دوستو سب سے پہلی بات مجھے اس کے نام سے ھی اختلاف ھے بے شک بڑا باوزن اور پرکشش نام ھے جوھر ھمیشہ اس دوا کو کہتے ھین جو انتہائی ھلکی ھو اور نیچے سے اوپر کی طرف اُڑے یعنی دوا کو بناتے وقت دو برتن استعمال ھوتے ھین نچلے برتن مین دوا رکھی جاتی ھے اور دوسرے برتن سے ڈھانپ کر اسے باقاعدہ گل حکمت کردیا جاتا ھے اب برتن آگ پہ رکھ دیا جاتا ھے اور اوپر والے برتن کو ٹھنڈا رکھنے کا انتظام کیا جاتا ھے اب دوا حرارت ملنے پر بخارات بن کے جب اوپر والے برتن کی طرف جا کر ٹکراتی ھے تو اوپر والے برتن کا درجہ حرارت کم ھونے کی بنا پر دوا کے لطیف اجزاء اوپر والے برتن سے چمٹ جاتے ھین اب اس اوپر والے برتن سے چمٹے ھوئے ان اجزاء کو جوھر کہتے ھین یہ کسی بھی دوا مین لطافت پیدا کرنے یا اسے انتہائی مصفی یا نفیس بنانے مین یہ طریقہ مستعمل ھے اب کافی دوستون نے جوھر خصیہ جات کی پوسٹین پڑھی ھونگی اس دوا مین جوھر والی کوئی خوبی نہین ھے اب ذرا خصیہ کی تشریح کرلیتے ھین خصیہ خواہ بکرے کا ھو یا بیل کا ھو یاانسانی ھو یہ منی جسے آپ انگریزی مین سیمن کہتے ھین وہ پیدا کرتے ھین خواہ ان مین سپرم ھین یعنی جرثومے ھین یا نہین یہ خمیر شدہ یعنی متعفن گندہ پانی ھوتا ھے جسے نطفہ بھی کہا جاتا ھے انسان انسانی نطفہ سے اور باقی جانور اپنے متعلقہ جانور کے نطفہ سے ھی تخلیق اللہ کے حکیم سے پاتے ھین اب اس خصیہ کو آپ عرف عام مین کپورے کہتے ھین بشرطیکہ جب یہ کسی ٹکا ٹک شاپ پہ پہنچ جاتے ھین اب اس گندے پانی سے بھرپور جس مین لاکھون کروڑون باریک کیڑے یعنی سپرم بھی شامل ھوتے ھین آپ ٹکاٹک شاپ پہ یا گھر مین بنواکر بڑے شوق سے کھاتے ھین پھر پوسٹ لگا کرپوچھتے پھرتے ھین کیا کپورے کھانے جائز ھین اب یہ سوال ھی درست نہین ھے خود ھی فیصلہ کر لین کہ کیا کھانا چاھیے یا نہین ؟اور مہربانی فرما کر اس پوسٹ پہ اس بحث کو کمنٹس مین مت چھیڑیے گا ایسا ھر کمنٹس ڈلیٹ کردیا جائے گا کیونکہ یہان مقصد صرف حقائق پہ طبی بحث کرنا ھے مذھبی حیثیت سے یہان بحث بند ھے
اب جو طریقہ کار جوھر خصیہ یا رب خصیہ بنانے کا لکھا جاتا ھے اب اس مین جوھر مقصود جل کر اپنی کیفیت اور ماھیت مکمل طور پہ بدل چکا ھوتا ھے کسی نے گرینڈ کرکے جوس نکالنے کا مشورہ دیا تو کسی نے کوئی اور طریقہ لکھا آج ایک طریقہ مین بھی لکھ رھا ھون امید ھے کچھ اجزاء آپ اس طریقہ سے درست پائین گے آپ چھ بکرون کے خصیے کانٹ چھانٹ کرصاف کرکے باریک قیمہ کر لین اب اس مین ایک پاؤ چینی شامل کردین اور کسی محفوظ جگہ پہ رکھ دین بعد از دودن یہ سب پانی کی شکل اختیار کرچکا ھو گا اب جتنا پانی بن چکا ھے اسے کسی موٹے کپڑے کی مدد سے چھان لین اب اس چھنے ھوئے پانی کو کسی سٹیل کے برتن مین ڈال لین اور پھر کسی بڑے برتن مین صاف شدہ ریت ڈال کر جس کا حجم دو کلو کے قریب ھو اسے برتن مین ڈالین اور اس ریت کے اوپر وہ خصیون والا پانی کا برتن رکھ دین اب یہ ریت والا برتن آپ نے دھیمی آنچ پہ رکھ دینا ھے یہ وہ عمل ھے جسے آپ بالو ریگ جنتر کہتے ھین
اب چند باتین اس سارے عمل مین یاد رکھین
آگ نہایت دھیمی ھونی چاھیے
دوا کو ابال کسی صورت نہ آئے
بلکہ اس عمل مین ایسے ھی لگے کہ صرف حرارت سے آھستہ آھستہ یہ سب مرکب سوکھے خواہ کتنا ھی وقت لگے تاکہ مرکب کسی صورت بھی جلنے نہ پائے
سوکھ جانے پہ نیچےاتارکر باریک پیس لین اب اس مرکب مین ایک تولہ زعفران شامل کرین جسے آپ نے پہلے سے ھی باریک پیس کر شامل کرنا ھے بعد مین بھی اچھی طرح ان دونون کو اچھی پیس لین تاکہ درست طور پہ زعفران شامل ھو جائے اب ایک تولہ مروارید خالص بھی عرق بید مشک مین کھرل کرین یا عرق گلاب مین کھرل کرین یہ مروارید بھی جب کھرل کرنے سے کشتہ ھوجائین تو اسے بھی شامل کردین اب دوا تیار ھے اب خواہ اسے اکیلا استعمال کرین تو پھر مقدار خوراک رتی تا دورتی ھونی چاھیے اگر کسی دوا مین شامل کرنا ھے تو آپکی مرضی ھے کسی نہ کسی حد تک نسبت سے سپرم کے نہ ھونے اور مقوی باہ ھونے کی صفات رکھتا ھے نام جوھر خصیہ سے بہتر جواھر خصیہ کسی حد تک درست ھے کیونکہ مروارید شامل کیا گیا ھے محمود بھٹہ گروپ مطب کامل

Saturday, April 6, 2019

سفوف مغلظ وکمی سپرم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔سفوف مغلظ وکمی سپرم ۔۔۔۔۔۔
مزاج اعصابی غدی
افعال واثرات۔۔مغلظ ۔مولدرطوبات۔۔مولد منی ۔ تغلیظ منی ۔ دافع سرعت۔ رقت منی ۔ افزائش سپرم سب کے لئے اعلی دوا ھے
مقدار خوراک۔۔ایک ایک چمچ صبح وشام ھمراہ دودھ
نسخہ۔۔ آردسنگھاڑا۔۔تخم اٹنگن ۔ بیخ بدھارا۔ مغز پنبہ دانہ
ھموزن دوائین لین اور ان سب دواؤن کے برابر وزن کے کوزہ مصری ملا کر سب کو پیس لین بس دوا تیار ھے

Friday, April 5, 2019

نمک کیا ھے 9|Salt|herbal salt

۔۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔نمک کیا ھے۔۔۔قسط نمبر9۔۔۔آخری قسط۔۔۔
نمک کی کمی برقراررھےتودماغ کومستقل نقصان پہنچ سکتاھےاس مین نمایان علامات مندرجہ ذیل ھین
بےھوشی۔غنودگی۔پرمژدگی۔بےربط گفتگواورغلط الفاظ کابولنا
متلی۔قے
انتہائی سستی۔کمزوری
پٹھون کاکھنچاؤ
مرگی جیسےدورے
کوما
اب وجوھات
نمک جسم مین دووجوھات کی وجہ سےکم ھواکرتاھے
پانی کی مقدارکاجسم مین بڑھ جانا
سوڈیم کی کمی بوجہ نمک کم کھانااوراس سےمتعلقہ غذاومشروبات کاکم استعمال۔
مثال ۔۔فرض کرین آپ نمکین پانی کا محلول بناناچاھتےھین۔اس مقصدکےلئےایک لٹرپانی مین دس گرام نمک حل کیا۔اب یہ معیاراسی صورت برقراررہ سکتاھےجب نمک اورپانی کی یہی مقدار رکھی جائےاب اگر پانی لٹرکےبجائے زیادہ کردیاجائےیانمک دسگرام کےبجائےپانچ گرام کردیاجائےتوھردوصورت مین محلول مین نمک کی کمی محسوس ھوگی۔دوستوھمارےجسم مین بالکل اسی طریقےسےنمک کی کمی ھواکرتی ھے
اب پہلی صورت مین پانی زیادہ ھے یعنی آپ بھی باربارپانی پی رھےھین یاپھریون بھی ھوسکتا ھے گردےجگریاھارٹ فیل ھوکریاپھرگردون کی بیماری سےپورےجسم یاپھرپیٹ مین ھی پانی اکھٹاھوجاتاھے بعض اوقات خون مین ADHنامی ھارمون بڑھ جاتاھےجس سےگردےزائدپانی پیشاب کی شکل مین خارج کرنےکےبجائےاسےجذب کرتےرھتےھین اورخون مین اس کالیول بڑھادیتےھین اس مرض کو S I A D Hکانام دیاجاتا ھے یہ دونون اسباب جسم مین پانی کی مقداربڑھاکرنمک کی مقدارکوکم کرنےکاباعث بنتےھین
اب ان کاعلاج یہ ھے کہ جسم سے فالتو پانی کوباھرنکالاجائےاس مقصدکےلئےشدیدپیشاب آورادویات استعمال کی جائین اور مریض کوزیادہ پانی پینےسےمنع کیاجائے اب پانی کم ھوتےھی نمک کالیول معمول پرآناشروع ھوجائےگا
اب دوسری صورت مین پانی جسم مین توزیادہ نہین ھے بلکہ نمک کالیول ھی کم ھوگیاھے یہ اس صورت مین ھواکرتاھے جب پیشاب آوراو دویات کے بلاوجہ استعمال سےیاپھرخون مین مٹھاس ہروٹین یاچکنائیان بڑھ جانےسےھوتاھے یا پھر بعض ادویات کے استعمال سے بھی یہی کام ھواکرتاھےاب اس کا حل یہ ھےکہ خوردنوش اوربوقت ضرورت خواہ نمک کھلایاجائےیابذریعہ ورید بشکل بوتل دیاجائے اور پیشاب آور ادویات بند مٹھاس۔پروٹین اورچکنائیون کوخون مین کم کیاجائےھان یہ احتیاط ضرورکی جائےکہ یکلخت نمک کی مقدار بڑھا ھی نہ دینابہتر ھےساتھ پوٹاشیم بھی دین بذریعہ ورید صرف ایمبرجنسی کی حالت مین ھی دین یعنی جب لیول 115..110سےنیچےھوجائےتودماغ کو مستقل نقصان پہنچنےکاخطرہ ھوتا ھے اب اس صورت مین دین ورنہ بذریعہ منہ ھی دین
اب بات کرتے ھین جب جسم مین نمک کی مقدار بڑھ جائےیعنی خون مین نمک کی مقدار146سےزیادہ ھوچکی ھو جب مریض کو نقصان کا احتمال ھوتا ھے
اب اس مین مندرجہ ذیل علامات اکثر آتی ھین
گھبراھٹ
ھاتھون مین کپکپاھٹ
بازوؤں ٹانگون مین سختی
چال مین لڑکھڑاھٹ
منہ کا ذائقہ نمکین
ماحول سے بےخبری
اب دوھی سبب ھین جو نمک مین اضافہ کا باعث بنتے ھین
جسم مین پانی کا کم ھوجانا
نمک کی مقدارزیادہ ھوجانا
جسم مین پانی کی کمی کی وجہ پانی کاکم دستیاب ھونایاجس کی طرف طبیعت راغب ھی نہ ھویاپھرکمزوری بڑھاپاوغیرہ کی وجہ سےپانی پینے کی سکت ھی نہ ھویاپیاس کم ھوجائے یایہ بھی ھوسکتاھےکہ مریض کےپاس پانی پلانےوالاھی کوئی نہ ھو(اللہ اکبر )اب ان تمام مسائل کا حل تو یہی ھےکہ مریض کوپانی زیادہ پلایا جائےاوراس راستہ کےدرمیان مین حائل تمام رکاوٹوں کودردکیاجائے
اب نمک بڑھنے کی دوسری وجہ نمک اور اس سے متعلقہ غذائین اور مشروبات زیادہ استعمال کیے جائین یا پھر ذیابیطس سادہ کا مرض لاحق ھو جس مین ADHھارمون کی کمی سے گردے پانی جذب کرکے خون مین شامل نہین کرتے بلکہ اسے پیشاب کی شکل مین باھر نکال پھینکتے ھین اب خون مین پانی کی کمی ھی رھتی ھے جس سے نمک کا لیول بڑھ جاتا ھے اب بالکل سادہ سا اصول یاد رکھین پانی کم ھو اور نمک زیادہ ھو تو نمک کو کم کرین اور پانی زیادہ پیا کرین تو لازما نمک کی مقدار جسم مین کم ھو گی کچھ دیگر بیماریون مین بھی سوڈیم یعنی نمک خود بخود بڑھ جایا کرتا ھے
اب بات کرتے ھین بی پی کی
سب جانتے ھین کہ جسم مین نمک کی زیادتی بلڈ پریشر بڑھانے کا سبب بنتا ھے آپ کو ایک اصول یہ بھی بتایا ھے کہ اگر نمک جسم مین زیادہ ھے تو پانی بھی زیادہ پیا کرین اور نمک کا استعمال کم کردین اب اس حوالے سے یہ بات بھی یادرکھین کہ کچھ وجوھات مین جسم مین پانی کم ھونےکےساتھ بی پی بھی کم ھوجایاکرتا ھےاب اس کی پہچان یہ ھےکہ اگرپیشاب بھی کم ھی آرھاھے اورساتھ بی پی بھی کمزور ھے تویادرکھین یہ پانی کی کمی وجہ سے ھے ایسی حالت مین پہلےبلڈپریشرکابڑھانا ضروری ھوتاھے میٹھا اور نمکین پانی دین قہوہ پینے کودین یہ بات بھی یاد رکھین کبھی بڑھے ھوئے نمک کو یکلخت کم کرنے کی کوشش نہ کرین ورنہ اعصاب کو نقصان پہنچنے کااندیشہ ھوتا ھے دوستو اب بہت کچھ نمک کےموضوع پہ لکھ دیاھےانشااللہ پھرکبھی اس موضوع پہ قلم اٹھائین گے جس مین مختلف نمکیات بنانے اور کشتہ کرنے بلکہ بالمزاج نمکیات کیسے تیار ھوتے ھین اور امراض مین کیسے ان کا استعمال کیا جا سکتا ھے اور آپ کیسے ایلوپیتھک کے برابر ادویات تیار کرسکتے ھین دراصل یہ موضوع بہت علمی ھے اسے سادہ الفاظ مین پیش کرنا یعنی لکھنا بہت ھی مشکل کام ھے اب دیکھ لین ایک ھی مرض کا مخفف نام لکھا ھے یعنی S I A D Hاس کا پورا نام نہین لکھا تھا اسے اب لکھ دیتا ھون Syndrome of inapproprite ADH secretion
اسی کے ساتھ ھی اجازت محمود بھٹہ گروپ مطب کامل
نوٹ۔۔یہ بات یاد رھے یہ سارا کھیل اساس تیزاب اور الکلی کا ھے کیا سمجھے؟

Thursday, April 4, 2019

نمک کیا ھے 8|Salt|herbal salt

۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔
Salt|herbal salt
۔۔۔۔۔نمک کیا ھے ۔۔۔قسط نمبر 8۔۔۔
تین دن کی غیرحاضری کےبعد آج پھرآپ کےدرمیان موجودھون اللہ تعالی کالاکھ لاکھ شکرھےکچھ صحت کی بھی خرابی تھی لیکن ایک صدمہ ایساھوا کہ اپنی بیماری بھی یادنہین رھی دوستو بدنصیبی جب بندے کامقدربنتی ھےتوایک طوفان بلا خیز ساتھ لاتی ھےجو سب کچھ بہاکرساتھ ھی لےجاتا ھےمیری فیملی کے اندر ھی جائیداد کے تنازعے پہ دوقتل یکم اپریل کو ھو گئے ظلم یہ ھوا کہ قتل ھونے والے میان بیوی اپنے حصہ کی زمین مانگنے کے مطالبہ مین قتل ھوئے جو ھر لحاظ سے ان کا حق تھا تیرہ سال کا بیٹا بچ گیاسگے بھائی نے اپنےبھائی اور بھاوج کو قتل کیا افسوس کا مقام یہ تھا کہ قتل ھونے والا پہلے ھی مظلوم تھا پھر قتل کرکے اور ظلم کیا گیا اللہ تعالی ان کو جنت الفردوس مین اعلی مقام عطافرمائے
آئیے اب اپنے چھوڑے ھوئے موضوع کی طرف چلتے ھین پچھلی قسط مین جو آخری بات مین نے لکھی تھی وہ یہ تھی کہ طب کی کتب مین ایک ھی اصول لکھا ھے کہ جب مرض کا تعین کسی بھی ایک تحریک مین ھوتا ھے تو اس سے اگلی تحریک پیدا کردین تو مرض سے چھٹکارا مل جاتا ھے اس سے آگے کوئی تشریح نہین لکھی جاتی دوستو آج محمود بھٹہ کی یہ بات بھی یاد رکھین اکثریت لوگون کو بس کتابین لکھنے کا شوق رھا ھے تاکہ ھمارا نام بھی رھے لوگ سمجھین کوئی بہت بڑا حکیم ھو گزرا ھے لیکن اکثریت نے صرف نقالی کی ھے اور مزے کی بات نقل مین بھی بے شمار غلطیان کررکھی ھین اب نظریہ مفرد اعضاءمین درست کتب صرف نظریہ لکھنے والی ھستی دوست محمد صاحب کی حقیقی کتب ھی ھین ان کتب کی درست تشریح شاید ھی کسی نے کی ھو جو میری نظر سے تو نہین گزری
مرض کی تحریک سے اگلی تحریک پیدا کرنا ھر مرض مین شفایاب نہین ھوتی
اب بات کو دھیان سے سمجھین تو بات سمجھ آجائے گی
یہ فارمولا ھر جگہ اور ھر مرض مین نہ ھی جائز ھے اور نہ ھی موثر ھے ۔۔۔ مزمن اور کیمیائی تحاریک کے امراض سے تو شفایابی اسی اصول پر عمل کرکے ھی ممکن ھے یعنی مرض کی تحریک کو اگلی تحریک مین بدل دین اگرچہ بعض صورتون اور بعض حالات یعنی بعض اوقات وقتی طور پر اس اصول کو بھی توڑنا پڑتا ھے جیسے درد دل یا قولنج کی درد کی صورت مین اول درد کو بند کرنے کے لئے اسی تحریک کی دوائی افیون یا برشعشا وغیرہ بھی استعمال کرنا پڑتا ھے لیکن مشینی تحریکون مین جن سے گھمبیر حالات پیدا ھو جائین آپکو کئی بار طے شدہ اصولون کو چھوڑنا پڑتا ھے لیکن آپ اسے اصول کا حصہ ھی سمجھین جیسا کہ ھیضہ کے بیان مین مین نے لکھا ھے تحریک کی تشخیص کے سوال پر آپ سے کہون گا کہ مشینی تحریک کبھی چھپ نہین سکتی یہ کیمیائی تحریک کے بعد فطری انداز مین بڑھے یا خود اسےمتحرک کیا جائے تو ھر آنے والے لمحہ مین آسودگی بخشتی ھے اور اگر بے اعتدالی سے جنم لے یا شدید رنگ اختیار کرلے تو مریض کو تیزی سے موت کے منہ کے قریب لے جارھی ھوتی ھے یاد رکھین حاد امراض مشینی تحریک کی پیداوار ھوتے ھین مزمن امراض کیمیائی تحریک سے ھوتی ھین اب کیمیائی تحریک کی علامات پرانی ھوتی ھین اس کئے انہین سمجھنا اور جاننا بھی مشکل نہین ھوتا مریض کا بیان ھی کافی ھوتا ھے البتہ تسلی ضرور کرین نبض اور قارورہ سے یا دیگر ٹیسٹون سے مدد لین
اب نمکیات بدن مین کم ھین یا زیادہ اس کا ٹیسٹ الیکٹرولائٹس ھے الیکٹرولائٹس سے مراد نمکیات ھین جو انسانی جسم کی رطوبات مین حل ھوتے ھین جسم مین ان نمکیات کااور پانی کا تناسب برقرار رھنا چاھیے اگر اس تناسب مین کمی بیشی ھو جائے تو کئی خرابیان پیدا ھو جاتی ھین بلکہ بعض اوقات کسی نمک کی شدید کمی سے فوری موت بھی واقع ھو جاتی ھے اسی لئے ایلوپیتھک مین الیکٹرولائٹس ٹیسٹ کی بہت اھمیت ھے
اب گردے وجگر کی کئی امراض اورجب جسم مین جھٹکےلگین مرگی کےدورےپڑین ھاتھ پاؤن مڑجائین تو اس ٹیسٹ کوضرور کرایا جاتا ھے اسی طرح کئی ادویات کے استعمال کے دوران بھی بارباریہ ٹیسٹ دھرایاجاتاھےتاکہ نمکیات کےعدم توازن کو درست رکھنےکا بندوبست کیاجاسکےاب الیکٹرولائٹس مین مندرجہ ذیل نمکیات شامل ھین
سوڈیم ۔پوٹاشیم بائی کاربونیٹ۔۔کیلشیم۔۔فاسفورس اورمیگنیشم۔۔اب اس مضمون مین ھم عام نمک یعنی سوڈیم کے اثرات کوھی ابھی تک دیکھ رھےھین آئیےاب سےپہلےنمک کی کمی سےپیداشدہ عوارض پہ نظرڈالتےھین
خون مین سوڈیم کی معیاری مقدار 145..135ملی ایکویلنٹ فی لٹر ھونی چاھیے جبکہ سیرم مین یہ مقدار 130سے نیچے آجائے تو سوڈیم کی کمی ظاھر ھو گی اب لیبارٹری ٹیسٹ سے باآسانی اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ھے یہ علامات اسوقت اور زیادہ واضح ھونگی جب سوڈیم کی مقدار خون مین 120سے بھی کم ھو جائے۔ اگر یہ مقدار تیزی یا یکلخت معیاری ویلیو سے نیچے گرے تو 130سے واضح علامات نمودار ھوجاتی ھین تو اس کے فوری اثرات دماغ پردیکھے جا سکتے ھین ۔یہ سب اگلی قسط مین محمود بھٹہ گروپ مطب کامل

Monday, April 1, 2019

نمک کیا ھے 7|Salt|herbal salt

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Salt|herbal salt
۔۔۔۔۔۔ نمک کیا ھے ۔۔۔۔قسط 7۔۔۔
کل کی پوسٹ پہ بہت سے دوستو نے جواب لکھے جزاک اللہ بڑی خوشی ھوئی کہ اب جواب لکھنے والے پیدا ھو چکے ھین جبکہ کچھ عرصہ پہلے اگر مین سوال لکھتا تھا تو جواب ندارد۔۔
خیر بات وھین سے شروع کرتے ھین کہ ھیضہ مین عضلاتی تحریک نے اعصابی تحریک کے اثرات کیون نہ مٹائے؟
اعصاب کی معمولی اور ابتدائی مشینی تحریک مین جبکہ قوت مدافعت مضبوط ھو عضلاتی علاج ھی درست ھے لیکن شدید حالتون اور کمزوری مین عضلاتی علاج ھیضے جیسی علامات کو مذید بڑھانے کا باعث بنتا ھے اس کی وجہ بیان کرچکا ھون لیکن اس مرحلہ مین رطوبات۔ نمک اور ٹمپریچر کی کمی سے عضلاتی ادویات ھضم وجذب کرنے کی مریض مین سکت ھی نہین ھوتی
جسم مر رھا ھوتا ھے اور کمزوری سے رطوبات چھوڑ رھا ھوتا ھے یا یون کہہ لین ردعمل مین غیر فطری انداز مین پیدا ھونے والی عضلات کی تحریک نچوڑ رھی ھوتی ھے رطوبات کی شدید قلت کی وجہ سے خلیے اور رگین پچکتی جاتی ھین بلڈ پریشر انتہائی کم ھو اور حرارت غریزیہ بالکل رھتی ھی نہین ۔ اب اس موقع پہ پانی اور نمک کی کمی اگر پوری کردی جائے تو مریض تیزی سے صحت یاب ھونا شروع ھو جاتا ھے اسی وجہ سے نمک کا محلول بذریعہ ورید دینا ایلوپیتھک مین معمول اور بہترین نتائج کا حامل ھوتا ھے اگرچہ وھان کچھ دیگر غلطیان مریض کو لے ڈوبتی ھین اب اتنی بوتلین چڑھائی جاتی ھین کہ سابقہ عمل شروع ھو جاتا ھے دراصل درجہ حرارت کی انتہائی کمی اور پانی کی زیادتی سے مریض مرجاتا ھے
اب نظریہ مفرداعضاء کے معالجین یہ بات اچھی طرح سمجھ لین کہ شدید ھیضہ مین عضلاتی ادویہ کا استعمال نہ صرف بیکار ھے بلکہ یہ ادویات جسم کا حصہ ھی نہین بن سکتی اب لیمون املی آلوبخارا اور دیگر اسی قبیل کی ادویات اس وقت قے تک بند نہین کرسکتی شاید اسی لئے حکیم دوست محمد صابر ملتانیؒ نے ھیضہ کا علاج غدی ادویات کو قرار دیا تھا لیکن ھوا یہ جب نظریہ عام لوگون کے ھتھے چڑھا جن کی اپنی سوچنے سمجھنے کی صلاحيت نہ ھونے کے برابر تھی انہون اپنی اپنی کتابون مین ھیضہ کا علاج عضلاتی ادویہ لکھا ھے تریاق نمبر چار اور تریاق معدہ ایسی علامات کا بہترین علاج ھے یاد رکھین چار اور پانچ نمبر ادویات یعنی غدی عضلاتی اور غدی اعصابی دوائین نمکین اور میٹھے قہوے سے دینا فوری نتائج کا حامل ھے یہ بات بھی یاد رھے آپ نے یہ عمل پانی کی شدید کمی کی صورت مین کرنا ھے اگر ھیضہ کی معمولی علامات ھین تو پھر آپ نے تین اور چار نمبر دوائین یعنی عضلاتی غدی سے غدی عضلاتی دوائیں استعمال کرانی ھین اس طرح پانی اور نمک کی کمی پوری ھو کر حرارت اور خون کا دباؤ جلد قائم ھو جاتا ھے ورنہ بصورت دیگر رگین پچکی رہ کر پیچیدہ صورت حال پیدا ھو سکتی ھے
ابھی ھاری بات یہ ھو رھی ھے کہ پانی اور نمک کی ھیضہ سے مرتے مریض کے لئے انتہائی ضروری ھے اس کمی کو دور کرنے کے لئے ایلوپیتھک مین نمکین پانی کی بوتل لگا دیتے ھین جس سے فوری کمی پوری ھونے لگتی ھے بلکہ بعض اوقات لو لگنے اور وہ مریض جن کا بلڈ پریشر کسی صدمے یا جریان خون یا زھر سے بہت حد تک گر جائے تو بھی یہ نمکین پانی کی بوتل انہین بچا لیتی ھے لیکن اگر آپ نے یہ کمی پوری کرنی ھو تو کیا کرنا چاھیے آپ کے پاس تو بوتل ھے ھی نہین ؟
آئیے آپ کو اس سے بھی بہتر علاج بتائے دیتا ھون ایک حل تو مین اکثر بچون کو بطور نمکول استعمال کرواتا رھتا ھون جس مین ایک لٹر پانی ابال کر ٹھنڈہ کرکے اس مین ایک انڈے کی سفیدی کچی شامل کرکے اچھی طرح مکس کر لین ذرا سا ست پودینہ شامل کرین اور دو چمچ میٹھا شامل کرین بہترین نمکول ھے عام کھانے والا نمک بھی آدھ چمچ ڈال سکتے ھین ورنہ ایسی کوئی خاص ضرورت نہین ھے لیکن بڑے آدمی مین پانی کی کمی دورکرنےکےلئےآپ مندرجہ ذیل پانی تیارکرین
ایک لٹر پانی مین دوعددثابت سرخ مرچ ڈال کراس پانی کوابالین لیکن مرچ پھٹنے نہ پائے ابلنے کے بعد اس پانی کو ٹھنڈہ کرین اس مین آدھا چمچ نمک آٹھ چمچ چینی اور ایک چٹکی میٹھا سوڈا ڈال لین اب اس پانی کو خواہ نیم گرم یا ٹھنڈہ کرکے چمچ چمچ یاگھونٹ گھونٹ مریض کوپلانا شروع کردین اگرآپ کے پاس ست پودینہ اورست اجوائن میسر ھےتوان کامحلول چند قطرے بھی شامل کردین جون جون پانی ھضم ھوتا جائے تو پانی کی مقداربڑھاتےجائین پھرقہوہ اورغدی عضلاتی ادویات محلول کی شکل مین اورغذابھی غدی عضلاتی محلول شکل مین مریض کو دین انشااللہ چند گھنٹون مین مریض مکمل شفا یاب ھو گا
اب ایک اور قانون علاج کی تشریح
اگرکسی انسان کوباؤلاپن جسےانگریزی مین ریبیزکہتےھین اس کاعلاج بھی عضلاتی غدی اورغدی عضلاتی ادویہ سےکرین لیکن اس مقصدکےلئےشدید ترین ادویہ استعمال کرین