Wednesday, May 15, 2019

تشخیص امراض وعلامات 83

۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔تشخیص امراض وعلامات۔۔۔۔قسط نمبر83۔۔۔
بڑی ھی عجیب بات ھے جب انسانی بدن کی تشریح کی جاتی ھے تو بڑی سچائیان سامنے آتی ھین قرآن کا مطالعہ کیجئے سائینس کا مطالعہ کیجیے تو آپ کو حیرت انگیز انکشاف ھو گا کہ تخلیق پہ آکر سائینس کسی طور قرآن کی مخالفت نہین کرسکتی یعنی اللہ کی کتاب کی ایک ایک بات سچ ثابت ھوتی ھے خیر ھمارا یقین اور ایمان کا حصہ ھے لیکن مین آپ کو ایک اور بات بھی بڑے یقین سے بتاتا ھون قرآن مجید کو اللہ تعالی کی طرف سے بھیجی گئی آخری کتاب یہودی بھی مانتے ھین اور عیسائی بھی مانتے ھین بلکہ رسول اللہ ﷺ کو آخری اورسچا نبی بھی مانتے ھین پھر آپ سوچین گے تو اختلاف کس بات پہ ھے تو دوستو یہ ایک الگ موضوع ھے ھمارا موضوع طب ھے صرف یہ بتا دیتا ھون کہ پچھلی صدی مین جتنی ترقی سائینس نے کی ھے وہ سب قرآن مجید کا گہری نظر سے مطالعہ کرنے کے بعد کی گئی ھے
خیر اپنے موضوع کی طرف آتے ھین مضمون کے شروع مین ایک قانون لکھنے لگا ھون اسے دماغ مین بٹھا لین اور تشریح تو مین کرون گا ھی لیکن آپ نے بھی اس پہ غور بہت زیادہ کرنا ھے
۔۔جوھر۔۔مادہ۔۔۔خلیے۔۔۔۔انسجہ۔۔۔۔مفرداعضاء۔۔۔مرکب اعضاء۔۔۔جسم۔۔۔ یہ ھےتخلیق بدن
اب تفصیل سمجھین
انسانی جسم انتہائی چھوٹی اکائیون سے مل کر بنا ھے یعنی چھوٹی چھوٹی اینٹون سے مل کر بنا ھے اب ھر اکائی کو خلیہ یا سیل یعنی حیوانی ذرہ یا کیسہ کہتے ھین
ایک خلیہ کے اندر وسیع کائینات موجود ھے یا یون سمجھ لین کہ ایک خلیہ کے اندر ایک جاندار وجود کے تمام لوازمات موجود ھین یعنی خلیہ بذات خود ایک زندگی ھے یا زندہ جسم کی طرح عمل کرتا ھے اب یہ خلیے چار قسم کے بدن انسانی مین پائے جاتے ھین
١۔۔اعصابی خلیے NERVOUS CELLS
٢۔۔عضلاتی خلیے MUSCULAR CELLS
٣۔۔غدی خلیے۔۔EPITHELIAL CELLS
٤۔۔۔الحاقی خلیے CONNECITVE CELLS
یہ ھین چار قسم کے سیلز جن سے بدن بنتا ھے اب دیکھنا یہ ھے کہ بدن بنتا کیسے ھین ؟تو اس بارے مین بات کو سمجھین
ایک ھی مزاج یعنی ایک ھی قسم کے خلیے آپس مین مل کر بافت یا نسیج (TISSUE )بناتے ھین یعنی اگر اعصابی خلیہ ھے تو دوسرے اعصابی خلیے سے مل کر بافت بنائے گا اور ایک ھی طرح کے یا ایک ھی جیسے مزاج کی جو نسیج جسے انسجہ لکھ رھا ھون اب ان سے مفرداعضاء بنتے ھین یعنی سیمپل آرگن بنتے ھین یعنی یہ خلیہ پھر بافت پھر انسجہ پھر ان سے مفرداعضاء بنتے ھین اب ان مفرداعضاء سے مرکب اعضاء بنتے ھین
اب اگلا سوال آتا ھے کہ مرکب اعضاء کیسے بنتے ھین اور چوتھی قسم یعنی الحاقی کنکٹو سیلز کا بدن مین کیا کردار ھے یہ بات سمجھنے سے پہلے ایک اور بات سمجھ لین
مفرداعضاء تین قسم کے خلیات سے وجود مین آئے اور مفرداعضاء بھی لازما تین ھی بنے ھین اور یہ مفرداعضاء دماغ ۔۔دل ۔ جگر ھین یعنی یہ تین بادشاہ ھین جنہین ھم اعضائے ریئسہ پکارتے ھین یہ پورے جسم مین حکمرانی کرتے ھین اس لئے انہین حیاتی اعضاء یا فعلی اعضاء بھی کہتے ھین ان تینون کے پاس دو دو وزیر ھین۔۔۔۔۔ دیکھ لین کتنی مختصر کابینہ ھے ۔۔۔
دماغ کے دونون وزیر یا خادم کہہ لین
دماغ کے دوخادم ۔۔۔۔١۔خبر رسان اعصاب ۔۔٢ ۔۔۔ حکم رسان اعصاب
دل کے دو خادم ۔ ١۔۔ارادی عضلات ۔۔٢۔۔غیر ارادی عضلات
جگر کےدوخادم۔۔۔١۔۔۔۔غددجاذبہ ۔۔٢۔۔غدد ناقلہ
یہ دو دو کارندے یا خادم اعضائے ریئسہ کی معرفت افعال زندگی سرانجام دیتے ھین
اب نظریہ مفرداعضاء نے ایک ھی سب سے بڑا انفرادی کام کیا ھے کہ ان تینون اعضائے ریئسہ اور ان کے خدام کے کردار کے مطابق کیفیات امزجہ اغذیہ ادویہ اخلاط اور جذبات کی ترتیب ان مفرداعضاء کے مطابق کردی ھے یعنی اعصاب جسم مین اندرونی اور بیرونی احساسات اور عضلات ھر طرح کی حرکات اور غدد تغذیہ کاکام کرتے ھین ۔۔
نوٹ۔۔۔ان کی مذید تشریح پڑھنی ھو تو اس سے پہلے مین تفصیل سے اس پہ مضامین لکھ چکا ھون گروپ مطب کامل مین موجود ھین انہین پڑھ سکتے ھین
اب بات کرتے ھین چوتھے سیلز کی جسے الحاقی لکھا ھے
اسے آپ بنیادی بھی کہہ سکتے ھین ان کاکام رباط۔ھڈیان ۔ اوتاروغیرہ اور فعلی اعضاء کو آپس مین جوڑنا اور انہین سہارا دینا متعینہ جگہ پر قائم رکھنا ان کے لئے بنیاد اور بھرتی کاکام سرانجام دینا ان کے ذمہ ھے لیکن ایک بات یاد رکھین یہ بےجان مادےسےوجودپاتےھین
حیاتی اعضاء کااپنےاپنےمجوزہ افعال طبعی اندازمین سرانجام پاناحالت صحت ھے
لیکن جب کسی ایک کے عمل مین خرابی یعنی تیزی یا تحریک پیدا ھوجائےتو باھم ربط کی وجہ سے دیگر دونون اعضاءکا بھی فعلی توازن برقرار نہین رھتا اس کااظہارمخصوص علامات سے ظاھر ھوتا ھے اسے ھی حالت مرض کہتے ھین یعنی یعنی مرض کی پیدائش ھمیشہ اعصابی ۔عضلاتی ۔ یا غدی مفرداعضاء مین سے کسی ایک مین ھوتی ھے افعال زندگی چونکہ حیاتی مفرداعضاء کےباھمی تعاون سے ھی سرانجام پاتے ھین باقی آئیندہ گروپ مطب کامل محمودبھٹہ

Tuesday, May 14, 2019

تشخیص امراض وعلامات 82

۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔تشخیص امراض وعلامات۔۔۔۔۔قسط نمبر82۔۔۔
دوستوطب قدیم کی روسےبھی گردہ کےایک ایک مرض پہ تفصیلی لکھاگیا ھےاب یہ نہین تھاکہ جدیددورمین ھی یہ تحقیقات ھوئی ھین بلکہ آپ کوبتادون قدیم طب مین ابھی تک ان امراض کوبھی مدنظررکھا جاتاھےجن کاذکرجدیددورمین طب کرتی ھی نہین خیربدن انسان کی بہت زیادہ امراض کےبارے مین دورجدیدکےلوگون کاخیال ھےکہ ان امراض کےبارےمین صرف جدیدزمانےمین ھی پتاچلاھےقدیم طب مین کوئی جانتاھی نہین مثلاآج کےدورمین کالایرقان کاایک بہت بڑاخوف اورمشہوری کی گئی اوردورجدید کی مرض بتائی گئی جبکہ ایسی کوئی بات نہین ھےیہ قدیم طب مین چارھزارسال پہلےبھی اس مرض کا تفصیلی ذکرملتاھےبلکہ تفصیلی علاج بھی ملتاھےیادرکھین کالےیرقان کی جدیددورکی دواسیلی مائرین جوانتہائی کامیاب دواھےجسےبتایاگیاکہ ملک تھیسٹل نامی پودےسےاسےنکالاگیا اب قدیم طب کالےیرقان کےعلاج مین ریوندخطائی اشترخار بنفشہ سنامکی جیسی ادویات لکھتی ھےاب دوستواشترخار جسےھم آج اونٹ کٹارہ کےنام سےجانتےھین اوراسےانگریزی زبان مین ملک تھسٹل کہاجاتاھےاب اس سےایک جزوعلیحدہ کرناکہان کاکمال ھےاب میرےجیسےوہ لوگ جنہون نےقدیم طب کوبھی پڑھاھووہ بغیرھنسنےکےاورکیاکرین گےالحمداللہ طب قدیم جس کی جدید شکل نظریہ مفرداعضاء ھےاس مین ھرایک مرض کا کامیاب علاج موجود ھے
خیر ذکر ھورھا تھا امراض گردہ کا ۔۔تو اس مین کافی چھوٹی چھوٹی امراض بھی ھین جیسے سخونتہ الکلیہ یعنی گردون کا گرم ھوجانا جسے گائے کے دودھ کی چھاچھ کو پھاڑ کرپانی نکال کر اس مین کافور شامل کردین دوچار دفعہ ھی پلانے سے مرض جاتا رھتا ھے یاد رکھین زیادہ نہین پلانا ورنہ گردے سرد بھی ھوجائین گے اور یہ زیادہ مقدار مین پلانے سے گردہ مین پتھری بھی پیدا ھوجایاکرتی ھے
برودۃ الکلیہ۔ یعنی گردہ کا سرد ھوجانا اب اس بھی علاج لکھ دون تو جناب منقہ کا بیج نکال کر اس کی جگہ کالی مرچ بھر کر کھلا دین چند روز مین سردی گردہ جاتی رھے گی اور یہ بات بھی ذھن نشین کر لین یہ گردہ کی پتھری کو بھی توڑ دیتی ھے اور ھان تقطیرالبول مین بہت نافع ھے ویسے عام طبیب جوارش کمونی سے بھی گردہ کی سردی دور کردیتے ھین ۔۔ھزال الکلیہ۔ یعنی گردہ کی لاغری اور ضعف الکلیہ۔ یہ الگ الگ امراض ھین وجع الکلیہ۔ ورم الکلیہ ۔۔قروح الکلیہ۔۔ حصاۃ الکلیہ۔۔ ومثانہ ۔۔یعنی گردہ مثانہ کی پتھری ورم الکلیہ ومثانہ ۔۔قروح المثانہ ۔۔جمود الدم فی المثانہ۔۔۔ یعنی مثانہ مین خون کا جم جانا خلع المثانہ۔۔ واسترخاء۔۔ حرقتہ البول۔۔ یعنی پیشاب کی سوزش۔احتباس البول وعسرہ ۔ تقطیرالبول ۔ سلسل البول ۔ البول فی الفراش ۔ کثرة البول۔ بول الدم ۔وغیرہ وغیرہ اب دیکھین یہ سب تقسیم طب قدیم مین گردہ کے امراض مین کی گئی ھے
حقیقت یہ ھے دوستو جتنی آسانی سے طب آپکو مرض تک پہنچنے مین مدد دیتی ھے اور کوئی بھی ایسا طریقہ علاج نہین ھے جو باآسانی مرض تک رسائی دے سکے مین نے آپ کو ایلوپیتھی طریقہ تشخیص سے بھی متعارف کروایا الحمداللہ مین نے ایم بی بی ایس نصاب کےعلاوہ بھی بہت سی دقیق ایلوپیتھی کتب کا مطالعہ کیا یا پڑھا لیکن پیاس نہ بجھ سکی یقین جانین طب ھی ایسا مضمون ھے جسے پڑھ کر دماغ مین روشنی پیدا ھوئی یہ فن طب ایک تو وراثت مین مجھے ملا جو پشت درپشت ھمارے خاندان مین چلا آرھا ھے آج لگے ھاتھون آپکے سامنے اپنے بارے مین بھی چند انکشاف کردیے ھین اور ایک بات اور نوٹ کرلین نظریہ مفرداعضاء کا نام نظریہ مفرداعضاء حضرت دوست محمد صابر ملتانیؒ صاحب نے ضرور دیا بلکہ اسے کتابی شکل مین عام طبیب کے سامنے لے آئے جبکہ حقیقت یہ تھی کچھ خاندانون کے اندر ایک راز کی شکل مین نظریہ بہت صدیان پہلے سے موجود تھا لیکن ظلم کی انتہا یہ تھی اسے منظر عام پہ نہین لایا گیا تاکہ طب چند خاندانون کے اندر ھی رھے خیر یہ الگ سے بحث ھے آئیے آج آپ کو نظریہ بالکل نئے انداز سے قانون اصول وتشریح بتاتے ھین  لیکن ایک بات آپ کو پہلے سے آگاہ کردون انسانی جسم مین تین بادشاہ ھین دل دماغ اور جگر انہین طبی زبان مین اعضاء ریئسہ بھی کہتے ھین باقی سارا جسم ان تین کے ھی ماتحت ھےاب ان کی سب سے بڑی خوبی اور پہچان یہ ھے کہ اگرایک کوبھی جسم سےالگ کردیاجائےتوموت یقینی اور اسی وقت ھوجاتی ھےخواہ دل کو بدن سےنکال دین یا جگرکو نکال دین یا دماغ کو نکال دین منٹ بھی نہین لگے گا زندگی کا خاتمہ ھوجائے گا لیکن بعض نے طحال کو بھی اعضاء رئیسہ مین شمار کردیا ھے اور اسے سوداوی مادے کا حاکم مقرر کردیا ھے جوکہ حقیقت نہین ھے کیونکہ تجربہ سے یہ بات ثابت ھے کہ طحال یعنی تلی کو اگر مکمل بدن سے نکال بھی دیا جائے تو بھی بدن مین عرصہ دراز تک زندگی قائم رھتی ھے اس کی زندہ مثال میرا اپنا دوست ھے جو بہترین زندگی گزاررھاھےباقی آئیندہ مطب کامل گروپ محمودبھٹہ

Monday, May 13, 2019

تشخیص امراض وعلامات 81

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔تشخیص امراض وعلامات ۔۔۔۔۔قسط نمبر 81۔۔۔۔۔
پتھریون کا ذکر چھوڑ رھا ھون پھر بھی مخترا لکھ رھا ھون
یورک ایسڈ کی پتھری سخت بھورے رنگ کی یا سرخی مائل کی ھوتی ھے گوشت خور یا تیزابی مزاج اور نقرسی مریضون مین پائی جاتی ھے گردے مین بنتی ھے پیشاب مین سرخ ریت اور تیزابیت پائی جاتی ھے سسٹین ۔۔زین تھین کی پتھری بھی انہین وجوھات کی بنا پر بنتی ھے
کیلشیم آگزلیٹ کی پتھری سیاھی مائل کھردری اور سخت ھوتی ھے یہ سبزی خور اور میعہ خورون مین بنتی ھے نظام انہظام کمزور اور پیشاب مین کیلشیم کا اخراج زیادہ پایا جاتا ھے پیراتھائی رائیڈ کی تیزی وٹامن ڈی کی زیادتی اور کیلشیم والی غذا زیادہ کھانے سے پیدا ھوتی ھے
فاسفیٹ کی پتھری زردی مائل نرم بھربھری بیضوی ھوگی یہ عام طور پہ مثانہ مین ھوتی ھے مریض کاپیشاب عرصہ سے کھاری ھوتا ھے یادرھے یہ پتھری گردہ اور حوض گردہ مین بھی بن سکتی ھے ایک بات یہ بھی یاد کر لین کہ گردہ مین پتھری یورک ایسڈ ۔ کیلشیم آگزلیٹ اور کچھ فاسفورس کے نمکیات سے بنتی ھین زیادہ تر پتھری مین کیلشیم ضرور ھوتا ھے میگنشیم ۔ایمونیم فاسفیٹ دوسرے نمبر پہ جبکہ یورک ایسڈ سسٹین کی پتھری کم پائی جاتی ھے
عام علامات مین گردہ کے مقام پہ بوجھ درد اور درد خصیہ اور کنج ران تک آتے ھین
وجوھات مین عموماانفیکشن سوزش گردہ غیر متوازن خوراک وٹامن کی کمی خوراک کی کمی پانی کم پینا زیادہ گوشت کھاناورزش کی کمی پراسٹیٹ کا بڑھ جانا پیشاب زیادہ گاڑھا ھونا تیزابی ھونا یا عرصہ تک پیشاب کھاری رھنا عام طور پہ ھاضمہ درست کرنے کے لئے میٹھا سوڈا کا استعمال یا سوڈامنٹ گولیون کا استعمال یا بطور دوا نوشادر کا استعمال وغیرہ وغیرہ اب پتھری کا مضمون مکمل پڑھنے کے لئے میرا پہلے سے تحریر شدہ مضمون بھی گروپ مطب کامل مین پڑھ سکتے ھین
نوٹ۔۔یہان ایک بات اور بتا دون بعض دفعہ پتھری کے لئے ایکسرے الٹراساؤنڈ اور پیشاب کے ٹیسٹ سے مدد لی جاتی ھے اب ھوتا یہ ھے کہ سسٹین اور یورک ایسڈ کی پتھریان ایکسرے مین نظر نہین آتی اب بعض اوقات پتھری کا مقام جانچنے کے لئے آئی ۔وی ۔پی کی ضرورت پڑتی ھے پیشاب کی پی ایچ اور کرسٹلز سے بھی پتھری کی قسم کا پتہ چل جاتا ھے
دوستو اب گردہ اور مثانہ کی امراض تو بے شمار ھین مین نے تو صرف سمجھانے کے لئے تشخيص پہ کچھ نہ کچھ لکھ دیا ھے اس سے پہلے مین پراسٹیٹ اور کینسر آف پراسٹیٹ پہ بھی کافی کچھ لکھ چکا ھون اب عام امراض گردہ مین
سوزش حوض گردہ pyelitis
ورم مثانہ Cytitis   پیشاب کی راہ کا بند ھوجاناObstruction of urinary tract
پیشاب مین جلن  اور درد سے آناDysuria
پیشاب کا جلد جلد آنا urgenicy
پیشاب کا رک رک کے آناHesitation of Micturition
پیشاب مین خون آنا Hematliria
بستر پہ پیشاب کردیناnocturnal Enuresis
سوزاک یعنی گائینوریا
مزید اڈایا ہیٹک نیفروپیتھی ۔پلازما سیلز کا کینسر یعنی ملٹی پل مائی لوما۔۔ویسکیولائیٹس اور ایمی لائیڈوس
اب ان مین کچھ کی مختصر تشریح کردیتا ھون
ان مین ڈایا ہیٹک نیفروپیتھی اھم ھے یہ ذیابیطس شکری کے مریضون مین ھوا کرتی ھے یعنی ذیابیطس شکری کی وجہ سے گردون کا خراب ھونا اس مین پہلے پہل پروٹین پیشاب مین آتی ھے پھر یوریا اور کریاٹی نین بھی بڑھ جاتی ھین اور بالاآخر نیفروٹک سینڈروم ھوکر11..15پروٹین دن رات مین خارج ھونا شروع ھوجاتی ھے جسم مین پروٹین کی کمی سے ھاتھ پاؤن پہ سوجن آجاتی ھے خون مین Lipoproteins Lipidsبڑھ کر دل اور دماغ کی شریانون مین تنگی پیدا ھوکر فالج اور دل کے امراض بن جاتے ھین
اب کچھ باتین گردون کے کینسر کے بارے مینCarcinoma of kidneysاس مین پہلے نمبر پہ
رینل سیل کارسی نوماRanal cell carcinoma
یہ عموما 55تا60 سال کے مردون مین ظاھر ھوتا ھے آدھے مریضون مین پہلی علامت کے طور پر خون مین یشاب کا آنا۔۔کمزوری انیمیا ۔۔بخار چڑھے رھنا۔ اور کیلشیم کا خون مین بڑھ جانا اس کی تشخیص مین آتے ھین جب کیلشیم خون مین بڑھ جائے تو پھر اس مرض پہ مہر لگ جاتی ھے پیٹ مین درد رھنا اور گردون کے مقام پہ ٹٹولنے سےزائد مادہ محسوس ھونا
اب پیٹ کے کیٹ سکین اور گردون کے الٹراساؤنڈ سے پوری تشخیص ھوجاتی ھے
اب دوسرے نمبر پہ نیفروبلاسٹوما یعنی ویلمز ٹیومر
یہ بچون مین پانچ سال سے پہلے شروع ھوجاتا ھے پیٹ مین درد اور ٹٹول کردیکھنے سے زائد مادہ محسوس ھوتا ھے اور پورے جسم مین بہت جلد پھیل جاتا ھے
یہ دونون کینسر گردون کو براہ راست متاثر کرتے ھین
دوستو میری کوشش ھے کہ مضمون ایلوپیتھی نقطہ نظر سے طب قدیم اور نظریہ مفرداعضاء کے بھی نقطہ نظر سے آسان پیرائے مین لکھون اگر سمجھ نہین آرھی تو کمنٹس مین بتا سکتے ھین انشااللہ اگلی قسط مین امراض گردہ ومثانہ قدیم نقطہ نگاہ سے اور نظریہ مفرداعضاء کے نقطہ نگاہ سے بیان کرین گے اجازت دین محمود بھٹہ گروپ مطب کامل

Sunday, May 12, 2019

تشخيص امراض وعلامات 80

۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔تشخيص امراض وعلامات ۔۔۔قسط نمبر 80۔۔
بات کررھے تھے کہ بروفین اور جسم مین دباؤ یا زخم کے نتیجے مین پیدا ھونے والا مائیوگلوبن یوریابھی گردےفیل کردیتا ھے
نمبر تین۔۔۔۔مثانہ۔۔ مجری البول اور حالبین نالیون مین رکاوٹ سے جب پیشاب خارج نہ ھو تو واپس گردون تک چڑھ جاتا ھے اور اس سے گردون پہ بہت شدید پریشر پڑتا ھے جس کی وجہ سے بھی گردے خراب ھوجاتے ھین اب ایسی حالت مین گردون کا سائزبڑھ جاتا ھے اسے hydronephrosisکہتے ھین
یہ رکاوٹیں پراسٹیٹ گلینڈ کے بڑھ جانے سے ۔۔سرویکس کینسر۔۔حالبین کے گرد اور مجری البول کے اندر زائد گوشت کی پیدائش ۔۔پتھری کا بننا۔۔ خونی لوتھڑون کا اجتماع۔۔ کینسر مثانہ ۔ نظام البول کی اندرونی سوجن ۔ بلڈ پریشر کی زیادتی ۔حساسی ردعمل سے ھوسکتی ھے۔۔۔ نوٹ ۔۔۔ایک بات یاد رکھین ان مین سے اکثریت علامات زنا خور یا سیکس کے پجاریون مین پائی جاتی ھین
اب ٹیسٹ رپورٹ مین خون مین کریاٹی نین ۔ بن (یوریا )اور پوٹاشیم اور فاسفورس زیادہ ھوگا اور کیلشیم اور البیومن کم ھوجاتے ھین
یوریا بڑھنے سے تھکن کمزوری متلی قے وسواس یعنی وھم یاداشت کی کمزوری اورمرحلہ بہ مرحلہ غشی بلڈپریشرکی زیادتی اور دل کی حرکات کا غیر منظم ھونا یہ عام علامات ھوتی ھین
مزمن سوزش گردہ Ch.Nephritis     Ch.Renal Failure
یہ سوزش گردہ حاد اور دیگر کئی وجوھات کے بعد پیدا ھوتی ھے اگر مریض ڈیڑھ تا دوماہ مین تندرست نہ ھو تو گردے اور جسم بہت زیادہ سوج جایا کرتے ھین
پیشاب مین بلڈ یوریا ۔ یوریٹ ۔ البیومن بڑھ جاتے ھین اور اس مین خون اور کاسٹ بہت زیادہ آتے ھین اسی وجہ سے جسم مین سرخی اور پروٹین کی کمی واقع ھوجاتی ھے پیشاب مقدار مین کم اور وزن مخصوصہ زیادہ ھوجاتا ھے مریض کافی کمزور ھوجاتا ھے ھچکیان اور جلد پہ خارش اور یاداشت کی شدید کمی یا ذھن کا صحيح کام ھی نہ کرنا جنسی طور پہ عدم دلچسپی بلڈ پریشر زیادہ اور مذید کئی ایک پیچیدگیاں ھو کر نئی نئی علامات پیدا ھوتی رھتی ھین ایلوپیتھک مین سوائے ڈائلیسز یا گردہ کی تبدیلی کے علاوہ اور کوئی حل نہین ھے جبکہ الحمداللہ طب مین حل موجود ھے اس پہ کافی پہلے مین مکمل علاج لکھ چکا ھون
سمیت بول یعنی پیشاب کا ھی زھریلا ھوجاناUraema
سمیت بول سے بھی گردے فیل ھوجاتے ھین اور پیشاب تو قطعی نہین بناتے جس سے زھریلے مرکب خاص طور پہ یوریا خون مین جمع ھو کر کئی علامات ک باعث بنتا ھے
نوٹ۔۔ آسان الفاظ مین میری اوپر لکھی بات کی وضاحت کچھ یون ھے کہ بجائے پیشاب بجائے اس کے کہ فطری طور پہ جسم سے خارج ھو اس کے بجائے گردے اسے خون مین شامل کرنا شروع کردیتے ھین امید ھے اب بات سمجھ گئے ھونگے
اب اس مین چند وجوھات بھی لکھےد یتا ھون
گردے مین رسولی یا پتھری کی وجہ
نظام اخراج مین کوئی رکاوٹ جیسے پراسٹیٹ کا بڑھ جانا
ھائی بی پی
ایسا صدمہ جس سے بلڈ پیشر بہت ھی کم ھوجائے
دل کی بیماریان ودیگر وجوھات
اب اس مین مندرجہ ذیل علامات پائی جاتی ھین
جسمانی دردین ۔ھچکی ۔ جسم پہ خارش ۔ متلی ۔قے ۔ سردرد۔ نڈھال پن ۔ پٹھے پھڑکنا ۔ پیشاب کی شدید کمی یا پشاب کی بندش ۔ اسہال اور کبھی قبض ۔ سانس چڑھنے کا کبھی دورہ۔ شدت مرض مین تشنج کے دورے اور بے ھوشی ۔ غنودگی یا ماحول سےبے خبری۔آخری سٹیج پہ دل کی حرکات کا غیر منظم ھوجانا۔ پیشاب مین کمی لیکن البیومن مین زیادتی اور آخر مین حرکت قلب بند اور پھر موت واقع ھوجاتی ھے
نوٹ۔۔۔ بہت سے لوگ پوسٹ لکھ مارتے ھین کہ اجی مجھے سانس چڑھتا ھے کوئی علاج بتائین ؟ اب بات سمجھ لین صرف سانس چڑھنے کی بے شمار وجوھات ھین کچھ خاص خاص سمجھ لین ۔خون کی کمی ۔ گردون کی خربی ۔ دل کے امراض ۔ جگر کا ورم بن جانا جس سے پھیپھڑا دب جائے۔ پھیپھڑوں مین پانی۔ یا پھیپھڑوں کی نالیان تنگ ھوجانا ۔ پیٹ گیس۔ ایسی ھی کچھ اور وجوھات ھین اب خود ھی بتائین اس پوسٹ پہ بندہ جواب کیا لکھے جب اسے علم ھی نہین کہ کس وجہ سے سانس چڑھ رھا ھے عموما لوگ ایسے ھی نامکمل سوال لکھ کر جواب مانگ رھے ھوتے ھین جس کا مین جواب نہین لکھتا اب بعض یہ بھی کہتے ھین کہ شاید محمود بھٹہ بہت مغرور ھے جو جواب نہین لکھتا جبکہ ایسی بات نہین ھے غلط علاج تجویز کرکے مین گناہ کیون حاصل کرون مجھے بھی روز محشر حساب دینا ھے راہ جاتے بدی لے لون پوسٹ لکھتے وقت پوری مرض کی ھر علامت قارورہ کا رنگ عمر وزن نبض فی منٹ رفتار نیند بھوک جسمانی کیفیات سب کچھ لکھا کرین
باقی اس مضمون مین یہان ایک اور چیز شامل کرنی تھی وہ تھی گردہ کی پتھریان ۔۔۔اب اس پہ مین تفصیل سے پہلے ھی تینون قسم کی پتھریون کے بارے مین تفصیل لکھ چکا ھون اب باقی مضمون انشااللہ اگلی قسط مین محمود بھٹہ گروپ مطب کامل

Saturday, May 11, 2019

تشخیص امراض وعلامات 79

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔تشخیص امراض وعلامات ۔۔۔۔قسط نمبر 79۔۔
سٹریپٹوکاکل انفیکشن ھونے کے بعد ھونے والی سوزش
post۔۔streptococcal nephritis
یہ گلے یا جلدی زخم کی سٹریپٹوکاکس جراثیم کی انفیکشن کے 10..12روز بعدھوتی ھے سرخ یا براؤن رنگ کا پیشاب آتا ھے
چہرہ آنکھون اور پاؤن پر پانی کے اجتماع سے سوجن بن جاتی ھے بلڈ پریشر بڑھ جاتا ھے پیشاب مین پروٹین کی زیادتی سرخ سیلزکاسٹس اور بلڈ مین A.S.O Titerاس کی علامات اور تشخيص کا باعث بنتی ھے بوقت ضرورت گردون کی بائی آپسی بھی کی جاسکتی ھے اکثریت مین یہ بیماری خود ھی ٹھیک ھوجاتی ھے لیکن بعض اوقات گردے فیل ھوجاتے ھین اور کبھی فیل شدہ گردے خود ھی ٹھیک بھی ھوجاتے ھین اب جناب نیم حکیم صاحبان اگر دوا دے رھے ھون تو دوسرے روز گردون کا ماھر معالج کا بورڈ تک آویزان کردیتے ھین مین نے تو یہان تک دیکھا ھے بلکہ آپ نے بھی دیکھا ھوگا نام کے ساتھ ماھر امراض مخصوصہ یا ماھر امراض معدہ وجگر لکھا ھوتا ھے بندہ پوچھے کہ جناب یہ ڈگری کہان سے ملتی ھے اب خاموشی ھوتی ھے یعنی خودساختہ ھی ماھرامراض بن گئے تھے ایک حکیم کو اپنے نام کے ساتھ ماھر امراض قطعی نہین لکھنا چاھیے بلکہ بات اگر سمجھ آجائے تو سمجھ لین ایک اچھا طبیب ھمیشہ سے ھر مرض کا ماھر ھوتا ھے اس کے پاس مرض الموت کے سوا ھر مرض کا علاج ھوتا ھے
ھان یہ ھونا چاھیے کہ تعلیم درست ھو طب کے قانون کے دائرے مین رہ کرعلاج کرے تو خدا قسم ابھی تک وہ امراض جن کا علاج ایلوپیتھک مین قطعی نہین ھے بلکہ اربون ڈالر تحقیقات پہ انہون نے لگا دیے ھین ایک اچھا طبیب ان کا علاج بڑی آسانی سے کرلیتا ھے بشرطیکہ تربیت کسی اچھے حکیم سے لے رکھی ھو کچھ عرصہ پہلے ایڈز کا بڑا شور تھا بلکہ چند روز ھوئے آزاد بھٹو صاحب نے بھی لاڑکانہ سندھ مین کافی مریض ایڈز کے بتائے مین نے انہین بتایا کہ طب مین سو فیصد کامیاب علاج موجود ھے اسکی پوسٹ بہت پہلے لکھ چکا ھون آنکھ بند کرکے علاج کرین اب ایک دوسری بات یاد آئی کل کی پوسٹ پہ بھی ایک نے کمنٹس مین یہ لکھ رکھا تھا کہ یہان ساتھ علاج بھی بتاتے جائین تو دوستو یہ مضمون صرف تشخيص امراض کے متعلق ھے اگر آپ کو تشخيص مرض آگئی تو علاج کرنا بھی آجائے گا اب آگے چلتے ھین
بہت جلد بڑھنے والی سوزش گردہRapidly progressive glomerulonephritis اسکی بھی علامات اور وجوھات اوپر والی قسم کی ھی ھین بس اس مین گردون مین سوزش کے بعد حالت تیزی سے خراب ھوتی ھے اور گردے فیل ھوجاتے ھین خاص طور پہ یہ بیماری انفیکشن کے بعد آیا کرتی ھے ۔۔آئی۔ جے۔ اے نیفروپیتھی۔۔اینٹی ۔جی ۔ بی۔ ایم اینٹی باڈیز کی وجہ سے یعنی شدید قوت مدافعت کی کمزوری کی وجہ سے یہ خرابی آیا کرتی ھے
گڈ پاسچر سنڈروم ۔۔۔
اینٹی۔۔ جی ۔ بی ۔ ایم اینٹی باڈی ڈیزیز
اس مین بھی گردے جلدی فیل ھوجاتے ھین زیادہ تر جوان مرد اس مرض کا شکار ھوتے ھین۔۔شروع مین پھیپھڑوں مین اس بیماری سے بلیڈنگ ھوکر تھوک یا بلغم مین خون آیا کرتا ھے
خون کی کمی ۔۔ پیشاب مین پروٹین اور سینہ کے ایکسرے مین دونون پھیپھڑوں مین نشان نظر آتے ھین خون مین ۔ جی بی ۔ایم اینٹی باڈیز موجود ھوتی ھے
آئی ۔ جی ۔ اے ۔ نیفروپیتھی یعنی Bergers Disease
نظام تنفس کی خرابی کے بعد وقوع پذیر ھوتی ھے ۔ یہ بھی حقیقت مین قوت مدافعت کی خرابی کی وجہ سے ھوتی ھے
پیشاب مین خون آنا
بعض اوقات بی ۔پی۔ بڑھ جانا
نیز خون مین IgAکی مقدارزیادہ ھونے کے علاوہ اورکوئی خاص علامات نہین ھوتی
اس سوزش سے گردے زیادہ خراب نہین ھوتے یاد رکھین ھینوک شان لین پرپرا مین بھی گردون مین IgAجمع ھوجاتی ھے اب فرق اتنا ھوتا ھے کہ پرپرا مین جوڑون۔ جلداور آنتون مین ورم ھوتا ھے پیٹ مین درد اور جلد پر نشان بھی پڑجایا کرتے ھین
گردون کا یکدم فیل ھوجانا۔۔۔۔ Acute Renal Failure
گردون کے یکدم یا آھستہ آھستہ فیل ھونے دونون کا نتیجہ اور بڑی علامات سمیت بول یا یورمیا ھے یورمیا مین خون مین یوریا۔۔کریاٹی نین زیادہ اور الیکٹرولائٹس کی خرابیان ھوتی ھین
اس سوزش کی وجوھات کو تین حصون مین تقسیم کیاجاتاھے
نمبر ایک۔۔۔گردون مین خون کی آمد کم ھوجاتی ھے۔ایساجسم مین پانی کی کمی۔ بلڈ پریشرکا بہت زیادہ گرجانا۔ صدمہ یا دل کے بند ھونے کی وجہ سے ھوتاھے
نمبر دو۔۔ ایسی سب بیماریان جوگردون کو فیل کرسکتی ھین جیسے اسی پوسٹ مین اوپر مین خرابیان بیان کرچکاھون۔کئی طرح کی ادویات جیسےجوڑون کےدرد کی ادویات خاص کر بروفین وغیرہ( نوٹ) یاد رکھین بروفین درحقیقت نقصان دہ دوا ھے جب تک میڈیکل سپیشلسٹ اسے تجویز نہ کرے قطعی استعمال نہ کرین اورکچھ کرے نہ کرے خون فورا گاڑھا کردیتی ھے مثلا کسی عورت کوحیض جاری ھےاسےدرد کےلئےبروفین دین گےتو حیض رک جائے گا باقی اندازےآپ خودلگالین ھماری توعام کریانہ کی دکانون پہ بھی بروفین گولی مل جاتی ھے باقی
آئیندہ محمودبھٹہ

Friday, May 10, 2019

تشخيص امراض وعلامات 78

۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔تشخيص امراض وعلامات ۔۔۔قسط نمبر 78۔۔۔۔
کچھ عرصہ سے یہ سلسلہ موقوف تھا سردیون کی راتین بڑی ھوتی ھین ماحول کا پرسکون ھونا ذھنی یکسوئی فرصت کے لمحات سب ایک ساتھ میسر ھون تو لکھنے کا مزا بھی آتا ھے پڑھانا بھی درحقیقت ایک مشکل کام ھوتا ھے ایک لیکچر کی تیاری مین کافی کتابین کھنگھالنی پڑتی ھین تب جاکر بندہ صبح لیکچر دے سکتا ھے اسی طرح لکھنا اس سے بھی مشکل کام ھے یاداشتون کو قوی کرنا اور بحال رکھنا پڑتا ھے تب تجربات سمیٹ کر ایک نئی کتاب کی شکل دی جاسکتی ھے بڑی عرق ریزی چاھیے اس دشت کی سیاحی مین ؟
خیر کوشش ھے رمضان المبارک کے بابرکت ماہ مین اسے مکمل کردیا جائے قسط نمبر 77مین مختلف لیبارٹری ٹیسٹون کے بارے مین آگاہ کررھا تھا بلکہ آپ کی یاداشت بحال کرنے کے لئے علیحدہ سے اس قسط کو بھی لگائے دیتا ھون آج امراض گردہ پہ قارورہ ٹیسٹ لکھنے کی کوشش کرتے ھین تو سب سے پہلے شدید سوزش گردہacute nephritis اور ورم کلیہ glomerulonephritis
پہ بات کرتے ھین چلین اس مرض پہ بھی تھوڑی تشریح کردیتے ھین سوزش گردہ عموما گلے پکنےبرونکائی ٹس سردی لگنے نمونیا ٹائیفائڈ آنتون کی سوزش یا کسی اور بیماری سے ھو سکتی ھے بہرحال یہ ایک خطرناک مرض ھے سوزش گردہ کو برائیٹس ڈزیز بھی کہتے ھین اس کے سب اسباب کبھی مرض اور کبھی علامت بیان کرتے ھین
اب اس کی علامات مین بلڈ پریشر مین اضافہ جسم خاص کر چہرے پہ ورم کمی خون کمی بول پیشاب مین البیومن اور خون کے سرخ ذرات کا آنا کاسٹ آنا
اب اس بیماری سے یا تو پانچ چھ ھفتے بعد آرام آجاتا ھے یا پھر یہ ایک مذمن مرض کی شکل اختیار کرجاتا ھے
آکثر ایلوپیتھک مین اس کا علاج انتہائی اعلی اینٹی بائیوٹک سے ھی کیا جاتا ھے جس مین عام ڈاکٹر حضرات سیپروفلاکسن ایماکسل بلکہ کلیری سیڈ تک استعمال کرتے ھین اب ان کے استعمال کا زیادہ سے زیادہ عرصہ پانچ دن تک ھوتا ھے جبکہ اکثر ڈاکٹر اینٹی بائیوٹک دوتین ھفتے لگاتار استعمال کرکے بندے کو یقینی گردون کا مریض بنادیتے ھین بلکہ یون سمجھ لین اس صورت مین گردے مذید سوزش ناک ھوجاتے ھین کیونکہ مریض مقررہ مقدار تک پانی بھی استعمال نہین کرتا اب جب گردے سوزش ناک ھوتے ھین تو لازما گردے موٹے بھی ھوجاتے ھین اور جسم بھی متورم ھوجاتا ھے پیشاب کا رنگ سرخی مائل مریض کا چہرہ پیلا آنکھون کے گرد زیادہ ورم ھوجاتا ھے جو صبح صبح بالکل نمایان ھوتا ھے تین چار روز معمولی بخار رہ سکتا ھے اب پروٹین تین گرام فی دن زیادہ اور یوریا سو ملی گرام تک بڑھ جاتا ھے الٹیان آتی ھین اور غنودگی طاری رھتی ھے فشارالدم قوی hypertension خونی بول hematuriaپروٹین کا اخراجproteinuriaاور کمی پیشاب oliguriaاس کی چیدہ چیدہ علامات ھین یہ مرض اکثر بچون مین دیکھی گئی ھے
اب اس مرض کی چند ایک وجوھات مین سے ایک بڑی وجہ مدافعتی نظام کی خرابی ھے ایک بات یاد رکھین کہ جب بھی کسی انفیکشن یا سوزش سے اینٹی جن یعنی جسم کے مخالف ذرات بنتے ھین تو قوت مدافعت یعنی اینٹی باڈیز یعنی جسم کا دفاع کرنے والے کیمیائی مادے بنا کر اینٹی جن کو ناکارہ کرتی ھے اب یہ اینٹی جن اور اینٹی باڈیز گردون مین پہنچ کر فلٹریشن کے نظام کو کمزور کردیتے ھین
بعض دفعہ تو قوت مدافعت جسمانی بافتون کو حملہ آور اینٹی جن سمجھ کرانہین برباد کرنا شروع کردیتی ھے مدافعتی نظام کی ایسی خرابی کو آٹوایمیون ڈزیز کہتے ھین کئی بار گردون کے سیلز اس زد مین آجاتے ھین
لیبارٹری ٹیسٹ ۔۔۔۔۔۔۔
پیشاب کا معائینہ کرنے پر سفید وسرخ سیلز۔۔۔سرخ سیلز کاسٹس اور پروٹین ملے گی پیشاب مقدار مین کم ھوگا
بلڈ ٹیسٹ مین خون کی کمی۔۔ بی این یو ( یوریا)کریاٹی نین کی مقدار زیادہ اور الیکٹرولائٹس مین عدم توازن پایا جائے گا
انیمیا کے لئے سی بی سی کروا لین RFTیعنی رینل فنکشن ٹیسٹ ۔۔الیکٹرولائٹس ٹیسٹ سے بھی بقیہ خرابیون کا پتہ چل جاتا ھے ASO TITRESاور ای ایس آر بلڈ مین بڑھ جاتا ھے
باقی مضمون اگلی قسط مین محمود بھٹہ گروپ مطب کامل

Thursday, May 9, 2019

اکسیر اور تریاق دوا مین فرق

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔ اکسیر اور تریاق دوا مین فرق۔۔۔۔۔۔
ریاض شاہ صاحب نے آج انباکس سوال لکھا ان دونون کا فرق پوچھا پہلے تریاق کی تشریح کرلیتے ھین
تریاق وہ دوا ھوتی ھے جو مرض پہ وقتی طور پہ سہارا دے
تریاق دوا مرض کی شدت کی صورت مین تھوڑے تھوڑے دقفہ سے دی جا سکتی ھے جب تک مریض کومرض سے افاقہ نہ ھوجائے پھر وقت بڑھایا جاسکتا ھے
تریاق دوا مرض کو افاقہ دینے کے ساتھ ساتھ خود بدن سے خارج بھی ھوجایا کرتی ھے یہ جزو بدن نہین بنا کرتی
عمومی طور پہ تریاق اس دوا کو کہتے ھین جو کسی بھی زھر کا فوری توڑ ھو یعنی زھر کے اثر کو باطل یعنی ختم کردے یا مرض کی پہلی حالت کو فوری دوسری حالت مین بدلنے کی خوبی رکھتی ھو تریاق کو انگریزی مین اینٹی ڈوٹ کہتے ھین
اب لفظ تریاق خصوصا ایک واحد دوا کو بھی کہا جاتا ھے وہ ھے افیون
اب بہت سی طبی کتب مین افیون کا نام ھی تریاق لکھ رکھا ھے لیکن بہت کم لوگ جانتے ھونگے کہ افیون کو تریاق کیون کہتے ھین دراصل افیون کا نشہ اور اثرات تو بہت تیز ھوتے ھین اب اس کے اثرات کو زائل کرنا یعنی افیون کےبد اثرات کو ختم کرنے کے لئے کچلہ استعمال کیا جاتا ھے تو فورا افیون سے پیدا شدہ براثرات زائل ھو جاتے ھین اس لئے نام تو کچلہ کا تریاق ھونا چاھیے لیکن کہا افیون کو جاتا ھے وہ بھی اس لئے کہ جب کچلہ کے ضرورت سے زیادہ براثرات بدن مین ظاھر ھون تو اسے زائل کرنے کے لئے افیون کا سہارا لیا جاتا ھے جہان بھی افیون کسی نسخہ مین ڈالی جاتی ھے تو کچلہ ساتھ ضرور ڈالا جاتا ھے یعنی یہ دونون ایک دوسرے کے غلط اثرات بھی زائل کرین اور اپنی اپنی خوبیان بھی برقرار رکھین جیسے کھار کے اثرات کو زائل کرنے کے لئے ترشی کا استعمال کیا جاتا ھے اور اسے تریاق بنا دیا جاتا ھے لیکن دوستو ان سب صفات کے علاوہ افیون کو تریاق کہنے کی سب سے بڑی وجہ جو نظر آتی ھے وہ ھے
لگے دم مٹے غم والی بات یعنی اس کے کھانے سے بندہ غفلت کی نیند مین چلاجاتا ھے یا پھر جاگتے ھوئے بھی سوتا رھتا ھے یعنی دماغ سن ھوجاتا ھے سوچنے کی صلاحیت مفقود کردیتی ھے اس لئے بندے کو ھرغم سے آزاد کردیتی ھے اس وجہ سے اسے کا نام تریاق بھی پڑ گیا باقی ادویاتی طور پہ جو قانون ھے تریاق کے لئے اسکی ایک بھی صفت یا ایک بھی قانون پہ افیون نہین اترتی کیونکہ تریاق دوا اپنے اثرات بدن مین کرتے ھوئے جسم سے خارج بھی ھوجانی چاھیے جبکہ یہ بدن سے ایسے ویسے خارج ھونے کا نام بھی نہین لیتی
اب آتے ھین اکسیر کی طرف
اکسیر اس دوا کو کہا جاتا ھے جو اپنے انفرادی اثرات مین اعلی صفات رکھتی ھو یعنی بدن مین فورا جذب ھو کر یعنی خون مین شامل ھوکر اپنا عمل فورا شروع کردے اور یہ دوا جزو بدن بھی رھے یعنی لمبے عرصہ تک جسم سے خارج نہ ھو اور اپنے اثرات مستقل یعنی دائمی شفائی اثرات رکھے ایسی ادویات ھمیشہ اس وقت استعمال کرنی چاھیے جب کوئی بھی مرض بدن مین مستقل ڈیرے ڈال لے یعنی مرض دائمی ھو چکی ھو مثلا شوگر ۔۔چھپاکی ۔ دائمی قبض ۔ خارش ۔ چنبل ۔سوزاک وغیرہ ان سب امراض کی علامات اس وقت بدن پہ ظاھر ھوتی ھے جب یہ لمبا عرصہ جسم کا خون مین جمع ھوتی رھتی ھین اور طویل وقت گزرنے کے بعد ظاھر ھوا کرتی ھین
یہ تھی تشریح اصطلاحات اکسیر اور تریاق کی جبکہ اب دیکھتے ھین کہ دوا مین اکسیر والے فوائد کسی طور نظر نہین آرھے ھوتے جبکہ صاحب نسخہ نے اس کا نام اکسیر فلان بن فلان سے شروع کررکھا ھوتا ھے اس لئے بہتر ھے پہلے اکسیرات اور تریاق بنانے کا فن سیکھین بلکہ اس مین جتنی بھی اصطلاحات دوا کے زمرے مین آتی ھین وہ سب سمجھے جیسے کسی دوا کو محرک تو کسی کو شدید تو کوئی ملین یا پھر مسہل یا مقوی لکھا ھوتا ھے یاد رکھین طب بڑا ھی وسیع میدان ھے اب اس کا نام طب نہین ھے کہ چند نسخے بنا لئے اور ایک جمیل مین ڈالے اور گلی محلہ گاؤں گاؤن جاکر آوازین لگائین کہ سنیاسی بابا آگیا ھے یا کسی تھڑے پہ جمال افروز ھو گئے یا زیادہ کیا تو دوکان سجا لی اب وہ چند نسخے ھی کل کائینات بن گئے بہتر ھے طب پڑھین ایک اچھے اور باکمال طبیب بنین یہ نہ کرین کہ ساری زندگی ایک نسخہ تلاش کرنے مین لگا دی اور آخر مین خود بھی مختلف عارضہ جات کی لپیٹ مین آکر قبر مین جالیٹے مرتے دم تک یہی خواھش رھے کاش فلان نسخہ مجھے مل جاتا تو مین کامیاب ھو جاتا لعنت ڈالین ایسے نسخہ پر ۔۔ ایک طبیب کسی بھی دوا یا نسخے کا محتاج نہین ھوتا بلکہ نسخہ ھمیشہ طبیب کا محتاج ھوتا ھے کہ کب اور کس مقام پہ طبیب مجھے استعمال کرے گا مین ھمیشہ مختلف ادویات مین خود جدت پیدا کرتا رھتا ھون لکیر کا فقیر کبھی بھی نہین رھا بلکہ بعض دفعہ دوا کی ماھیت ھی بدل کے رکھ دیتا ھون مثلا گرم خشک مزاج کی دوا ھے اب اس کی صفت یہی ھے کہ یہ دوا بدن مین گرمی کے ساتھ خشکی ھی پیدا کرے گی لیکن مجھے ضرورت ھے کہ اس کے شفائی اثرات سے بھی فائدہ اٹھاؤن اور اس مین یہ خوبی بھی پیدا ھو کہ یہ خشکی نہ کرے بلکہ تری پیدا کرنا شروع کردے اب ایک طریقہ یہ ھے کہ مین اس مین ایسی ادویات ساتھ ملاؤن کہ وہ اپنی خشکی بھی چھوڑ دے اور تری والی صفات بھی پیدا ھوجائین لیکن یاد رکھین جب دیگر ادویات ساتھ ملاؤن گا تو ان ادویات کے اثرات بھی شامل ضرور ھونگے اب میرے لئے آسان کام کیا ھے مین اس دوا کو کھار کی شکل مین بدل دون اب یہ بجائے خشکی کرنے کے تری پیدا کرے گی اسی طرح ایک سرد دوا کو گرم مزاج مین لانے کے لئے مین اسے نمکیات کی حالت مین لے جاتا ھون عقلمند کے اتنا اشارہ ھی کافی ھے اب کچھ محنت خود بھی کیا کرین میری باتین اکثر تلخ ھوتی ھین یا کچھ دوست سمجھتے ھین لیکن کبھی جھول نہین آئے گا خدا را ایک اچھا طبیب بننے کے لئے پڑھین محنت کرین طب ایک وسیع سمندر ھے اس مین غوطہ زن ھون لیکن پہلے تیراکی ضرور سیکھ لینا کہین ڈوب ھی نہ جائین دعاؤن مین یاد رکھیے محمود بھٹہ گروپ مطب کامل

Monday, May 6, 2019

شربت بادام خاص

۔۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔شربت بادام خاص۔۔۔۔ تحفہ رمضان المبارک۔۔۔۔
کل انشااللہ بروزمنگل پہلا روزہ ھے بابرکت ماہ کی آمدھے درحقیقت روزہ عبادت کے ساتھ ساتھ بدن انسانی سے تمام فاسد چھٹ جاتے ھین یا یون سمجھ لین پورے بدن کے ایک ایک حصے کی ٹیونگ ھوجاتی ھے قوت برداشت اور مدافعتی نظام مکمل طور پہ نیا ھوجاتا ھے بے شمار امراض سے بدن انسانی بچ جاتا ھے اخلاط ومزاج اعتدال پہ آجایا کرتے ھین ھان ایک غلطی ھم سب کرتے ھین جبکہ وہ نہین کرنی چاھیے وہ غلطی ھمیشہ بوقت افطاری ھم کرتے ھین جب ھم پکوڑون سموسون فروٹ چاٹ کباب تکے اور انواع اقسام کے کھانون کا ڈھیر سامنے لگا کر بیٹھ جایا کرتے ھین جبکہ یہ درست بات نہین ھے کوشش کرین سادگی سے افطاری کرین۔ کجھور سے اور ساتھ پیاس کے لئے پسندیدہ مشروب کھانا بھی سادہ رکھین ھان سحری کسی ایک کھانے سے بھرپور کرلیا کرین اس تمام عمل کا فائدہ آپکی صحت کی صورت مین ظاھر ھوگا
اب تھوڑا ذکر کل کی پوسٹ کے بارے مین۔۔
بہت سے لوگون نے شربت کی قیمت بھی پوچھی یا پھر بھیج دینے کی بابت لکھا دوستو مشروبات یا تو خود تیار کرلین یا پھر کسی قریبی اچھے حکیم سے تیار کروا لین مین تواپنے استعمال کےلئے صرف بناتا ھون ھان اگر پینے کا شوق ھے تو میرے پاس تشریف لے آئین پلا مین دونگا
خیر سے بنانا بھی کچھ مشکل نہین ھوتا
ثابت بادام کلو لین اب اس کی گری خود نکالین بازار سے نکلی ھوئی گری قطعی نہ لین خواہ کتنی بھی اچھی ھو یاد رکھین بادام مین ایک روغن فرافری ایسا بھی ھوتا ھے جو ذائقہ دینے کے علاوہ قوت بھی پیدا کرتا ھے اب اس کی حفاظت کے لئے اتنےموٹےخول مین گری بادام کورکھا ھے جو کچھ عرصہ گری نکلنے کے بعد بادام کی گری سےاڑجایا کرتا ھے کلوبادام سے پاؤ بھرگری نکلے گی اب اس کا چھلکا اتار کرگری سفید کرلین اب اس گری کے ساتھ آدھ پاؤ چہار مغز بھی شامل کرلین اور پچاس گرام الائچی سفید علیحدہ سے رگڑ کے پاؤ بھرپانی مین بھگو کے رکھ لین تین گھنٹہ بعد دوتین ابال دے کر ٹھنڈہ ھونے کے لئے رکھ دین اب بادام اور چہار مغز کو تھوڑاتھوڑا لین اور ملک شیک والے جگ مین ڈالکر تھوڑی مقدار مین عرق گلاب ڈالکر اسے شیک کرین جب اچھی طرح شیک ھوجائے تو موٹے کپڑے سے چھان لین اسی طرح تمام گری بادام اور چہار مغز کی عرق گلاب کے ساتھ دودھی نکال لین عرق دولٹر ھونا چاھیے اب یہ دودھی آپ کے پاس دولٹر ھے تو چارکلو چینی سے اس کا قوام کرین جب ایک دوابال آجائین تو الائچی والاپانی چھان کر اس قوام کے ساتھ شامل کرکے مذیدایک ابال آنے پہ نیچے اتار لین شربت کو محفوظ رکھنے کے لئے چھوٹی چمچ سوڈیم بنزوویٹ ڈال دین ٹھنڈہ ھونے پہ صاف بوتلون مین بھر لین جب دل چاھے شربت بادام پیئن انتہائی ذائقہ دار شربت بنتا ھے مذید اسی شربت کو دودھ کی لسی مین بھی شامل کرکے پیا جا سکتا ھے گروپ مطب کامل محمود بھٹہ


Sunday, May 5, 2019

مہزل

مہزل برائے مخصوص حکمائے کاملین ۔۔
ھوالشافی ۔۔
جوھر عقاب ( نوشادر کے جوھر ) ۔۔ تلاطین مقیمہ در فلک سیر ( بھنگ میں قائم کیا شورہ ) ٹاٹری فرانس ۔۔ کھار پس افگندہء شتر ( اونٹ کے گوہر کی کھار ۔۔ جملہ مساوی الوزن اور سب کے برابر اسارون ۔۔ خوراک 1 گرام بر رائے طبیب ھمراہ عرق بادیان ۔۔ عرق مکو ۔۔ عرق اجوائن ۔۔ سرکہ سیب مکد وزن مخلوطہ بقدر نیم پاو ۔۔ صرف پتوں والی سبزیاں ۔۔ کالی توری ۔۔ ٹینڈے ۔۔ مولی ۔۔ مونگرے ۔۔ بند گوبھی ۔۔ دال مونگ ۔۔ روٹی مکئی ۔۔ ان شاء اللہ المستعان جلد ھی بہتری ھوگی ۔۔

سلاجیت کیا ھے|salajeet|shilajit



۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کا مل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
|shilajit|What is salajeet
۔۔۔۔۔۔ سلاجیت کیا ھے ؟؟؟ ۔۔۔۔۔۔۔
آج ایک پوسٹ پڑھی جو سلاجیت کے بارے مین تھی اب لکھا تھا کہ سلاجیت پہاڑون مین ایک جانور ھوتا ھے اس کا پاخانہ ھوتا ھے صاحب پوسٹ علم الادویہ کے ماھر بھی ھین محترم نے پوسٹ مین واضح لکھا کہ یہ مین نے ایک مضمون مین پڑھا ھے اور غالبا کسی اخبار وغیرہ کا مضمون تھا پھر موصوف آگے لکھتے ھین کہ ان کے پاس سوات کا کوئی پٹھان تھا جس نے تصدیق کی کہ واقعی ایک جانور کا پیشاب ھوتی ھے سلاجیت اب پوسٹ کے کمنٹس مین کچھ لوگون نے حکماء کو کوسا ھوا تھا کہ واقعی اگر یہ جانور کا پیشاب ھے تو انتہائی ظلم کرتے ھین حکیم لوگ ۔۔یہ سب مین نے سرسری پڑھا اور نہائت افسوس ھوا کہ کم سے کم ایک سمجھدار طبیب سے یہ امید نہ تھی کہ ایسی پوسٹ لکھتا ۔۔تو آئیے محترم آج سلاجیت کی حقیقت جانین ۔۔تو دوستو سچ یہ ھے کہ یہ پہاڑ کا گوند کہہ لین رال کہہ لین نکلتا پہاڑ سے ھی ھے مین نے مزید تحقیق کے لئے سچی بات ھے اس وقت کم سے کم 14 کتابون سے مطالعہ کرنے کے بعد پوسٹ ذمہ داری سے لکھ رھا ھون جس مین جدید ترین کتاب بوٹانیکا بھی دیکھی ھے اور مین آپ کو یہ بھی بتا دون سلاجیت کو مین نے اصل حالت مین بھی خود دیکھ رکھا ھے یاد رھے یہ عام پہاڑون مین نہین ھوتی بلند سیدھے لمبے پہاڑون مین ھوتی ھے مزے کی بات سلاجیت ھمیشہ سے خطرناک مقام پہ ھوتی ھے یعنی بلند ترین پہاڑی غارون مین مئی اور جون کی گرمی مین یہ ترشہ یعنی خمیر پا کر پہاڑ سے باھر نکلتی ھے اور ھمیشہ بلندی پہ نکلتی ھے اور یاد رکھین جن پہاڑون مین اسفالٹ کی کانین یا پتھر ھوتا ھے یہ صرف اسی پہاڑ مین ھوتی ھے اور یہ بھی ذھن مین رکھین کہ اسفالٹ پتھر مین ھی خمیر پیدا ھو کر سلاجیت نکلتی ھے اس لئے اسے انگریزی مین سیدھا سیدھا اسفالٹ ھی بولتے ھین ھان عربی مین حجر موسی اور اردو مین سلاجیت کہتے ھین اور یہ چار رنگون مین دستیاب ھوتی ھے آپ سب نے صرف سیاہ دیکھی ھوئی ھےنمبر1۔سورن سلاجیت۔جس کا رنگ سرخ ھوتا ھے۔2۔ چندریا چاندی یہ سفید رنگ مین ھوتی ھے۔3۔تامیسر ۔یہ تانبہ کے رنگ کی ھوتی ھے سیاھی مائل بھوری ھوتی ھے ۔4۔ بالکل سیاہ یہی بکثرت ھوتی بھی ھے اور آپ کو ملتی بھی ھے اصل سلاجیت مین دو اجزاء پاۓ جاتے ھین بینزوئیک ایسڈ اور بنزوایٹس یاد رکھین یہ دو نمبر عام ھے سڑا ھوا گڑ سلاجیت بنا کر فروخت کیا جاتا ھے اسے پنجابی مین مومیائی کہتے ھین جب یہ پہلے حاصل کی جاتی ھے تو اس مین پتھر کینکرے بہت ھوتے ھین اسے چار حصہ پانی مین ملا خوب ھلا کر حل کیا جاتا ھے تاکہ سلاجیت پانی مین حل ھو جاۓ اور ریت پتھر نیچے بیٹھ جائین پھر اس پانی کو کسی دوسرے برتن مین ڈالکر آگ پہ رکھا جاتا ھے تو اس پانی کے اوپر بالائی سی بنتی ھے اسے اتار لیتے ھین جب تک پانی کے اوپر بالائی بنتی رھے اسے اتارا جاتا ھے جب بننا بند ھو جاۓ تو پانی پھینک دیا جاتا ھے یہی بالائی اصل سلاجیت ھے تیز آنچ پہ اصل سلاجیت خراب ھوجاتی ھے ۔۔مزاج کے اعتبار سے خشک گرم ھے مقوی باہ مقوی معدہ مقوی عضلات مقوی گردہ مثانہ حرارت غریزی پیدا کرتی ھے پیٹ کے کیڑے مارتی ھے یاد رھے جن کو پیٹ مین ھر وقت گڑ گڑ کی آوازین آتی رھتی ھین اس کے لئے بہت ھی اعلی دوا ھے نزلہ زکام کو ٹھیک کرتی ھے کمر درد پٹھون کے درد کو بہت ھی اچھی ھے بھوک بہت لگاتی ھے پیٹ کی بڑھی ھوئی رطوبتین اور خمیر کو بہت مفید ھے ایک وہ لوگ جو پہاڑون کی چڑھائی ھر روز چڑھتے ھین وہ ضرور کھاتے ھین وہ نہ تھکتے ھین نہ سانس پھولتا ھے اگر یہ لنگور یا دوسرے بندر کو نظر آ جاۓ تو لازمی کھاتا ھے براہ کرم غلط بات لکھ کے لوگون مین غلط تاثر طب کا نہ پیدا کیا کرین آپ کی بہت مہربانی کہ آپ نے آج کی ہوسٹ بغیر آنکھ جھپکاۓ پڑھی کیا خیال ھے پھر کھائین سلاجیت اور لگائین چھلانگ لنگور کی طرح؟؟؟؟؟؟؟؟۔۔۔

https://www.facebook.com/groups/126909197934246/permalink/165066044118561/ 

قوت باہ منفرد دوا

۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کا مل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔ قوت باہ منفرد دوا ۔۔۔۔۔۔۔
کسی دوست کے انتہائی مجبور کرنے پہ انشاءاللہ گاھے بہ گاھے اس موضوع پہ بھی درمیان مین پوسٹ ضرور آیا کرے گی لیجئے بغیر تمہید کے اعلی ترین دوا لکھنے لگا ھون ۔۔۔۔۔خولنجان 10گرام۔ کبابہ 10گرام ۔ زنجبیل تازہ10گرام۔ مصطگی رومی 10گرام ۔ جوزبوا10گرام ۔ دارچینی 10گرام ۔ قرنفل10گرام ۔ عقرقرحا 5گرام ۔ عود خالص 2 گرام ۔ کستوری اصل 2 گرام ۔ کستوری کو پہلے عرق بید مشک مین کھرل کرین ۔ پھر باقی ادویہ پیس کر تین گنا خالص شہد مین ملا کر معجون بنا لین آدھی چمچ صبح شام ھمراہ دودھ دین کھاتے ھی جسم مین شدید قسم کی حرارت غریزی پیدا ھو گی انتشار بھی شدید آتا ھے مقوی باہ اور مقوی قلب بھی ھے ایک ھفتہ مین دیکھین آپ کو کتنی کامیابی ملتی ھے یعنی شاندار رزلٹ۔۔۔۔۔ بے ضرر اور برے اثرات سے پاک دوا