Saturday, December 8, 2018

تبخیر معدہ یعنی پیٹ مین گیس ھوا کا پیدا ھونا 1

۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔ تبخیر معدہ یعنی پیٹ مین گیس ھوا کا پیدا ھونا۔۔۔۔۔
سکول مین کسی زمانے مین ایک مضمون پڑھا تھا مضمون انگریزی مین ھوا کرتا تھا جس کا عنوان تھا مائی بیسٹ فرینڈ
تو دوستو کلیم اللہ صاحب جن کا تعلق لاھور سے ھے اور کوالیفائیڈ رجسٹرڈ حکیم ھین لیکن میری طرح اپنے نام کے ساتھ لفظ حکیم نہین لکھا ھوا آج ان کی خواھش پہ مضمون معدہ کی تبخیر پہ لکھ رھا ھون اور صاف ظاھر ھے گروپ مطب کامل کی زینت ھی بن رھا ھے یہ مضمون
آج آپ کو مختصر لیکن مفصل اس مرض کے حوالے سے بتایا جاۓ گا ھر دوسرا تیسرا بندہ اس مرض مین مبتلا ھے اور ساری زندگی اکثر لوگ اس مرض کو لئے گھومتے رھتے ھین اس کی سب سے بڑی وجہ غذا کا درست نہ ھونا اور غذا کا درست طریقہ سے نہ کھانا ھے مجھے حیرت ھوتی ھے ھم مسلمان ضرور ھین لیکن غذا کھانے کے آداب سے قطعی واقف نہین ھین انشاءاللہ اس پہ پھر کبھی تفصیلا مضمون لکھون گا سچ یہ ھے اگر ھم رسول اللہ صلى الله عليه و سلم کے بتاۓ ھوۓ طریقہ پہ عمل کر لین تو بے شمار خطرناک امراض سے بچ جائین کھانا کھاتے وقت بیٹھنے کے آداب ھر کوئی بتاۓ گا لیکن کھانا کیا ھے یہ نہین بتایا جاتا انشاءاللہ یہ سب کچھ لکھین گے پہلے آج صرف مرض المعدہ بلکہ تبخیر معدہ پہ بات کرتے ھین اگر میری تحریر پوری توجہ سے بلکہ یکسو ھو کر تین چار پڑھ لین گے تو انشاءاللہ اس مرض کا کامیاب علاج کر لین گے بلکہ یہ روزانہ کے چکر بلکہ بازاری پھکیان ھاجمولے بلکہ لکڑ ھضم پتھر ھضم یا سوڈے والی مشہور عام سفوف بلکہ ست اجوائن ست پودینہ والے سفوف ۔۔۔۔۔۔۔ جن سے عارضی فائدہ تو ضرور ھوتا ھے بلکہ ٹھنڈ پڑ جاتی ھے بلکہ چند روز پہلے بھی مین ایک دوا لکھ چکا ھون جس سے ریلیف تو مل سکتا ھے لیکن مرض جان نہین چھوڑتی بلکہ بعض پڑھے لکھے لوگ صرف میپرا زول کے ھو کررہ گئے اب اس کے مسلسل استعمال سے یاداشت بھی متاثر ھوا کرتی ھے خیر آج ذرا ان سب سے ھٹ کر مستقل علاج کی طرف توجہ کرتے ھین
تبخیر معدہ مین عام طور پہ پیٹ مین گیس تو بنتی ھی ھے لیکن ساتھ مندرجہ ذیل علامتین بھی نظر آتی ھین
جن مین کچھاؤ تھکاوٹ اعضاء شکنی بیزاری دردون کا رھنا جسم مین وغیرہ وغیرہ
آئیے آج ان سب علامات کا تیاپانچہ کردین بلکہ مستقل حل کردین
یاد رکھین پیٹ مین گیس معدے کے عضلات مین سوزش یا آنتون کے غدد مین سوزش سے ھوا کرتی ھے
مین نے کیا بات سمجھائی ھے دوبارہ سن لین
نمبر ایک۔۔۔معدہ کے عضلات مین سوزش
نمبر دو ۔۔۔آنتون کے غدد مین سوزش
ان وجوھات سے گیس بنا کرتی ھے
اب تحریک کے حساب سے بات سمجھ لین
نمبر1۔۔۔اعصابی عضلاتی تحریک مین رطوبات کی زیادتی سے اور حرارت کی کمی سے معدہ مین جلد تعفن پیدا ھو کر بدھضمی سی رھتی ھے اور کچا سا پاخانہ یا بغیر درد کے دست آیا کرتے ھین اور پیٹ مین گڑ گڑ کی آوازین آیا کرتی ھین
نمبر 2۔۔۔۔عضلاتی اعصابی تحریک مین شدید قبض ۔۔بواسیر ۔۔السر معدہ کی شکایت کے ساتھ جلن معدہ اور گیس کی شکایت کی جاتی ھے ۔۔ ھوا خارج نہین ھوتی ۔۔
نوٹ۔۔۔ ایک بات یاد رکھ لین عضلاتی اعصابی تحریک مین ھوا خارج نہین ھوا کرتی لیکن عضلاتی غدی تحریک مین ھوا تھوڑی تھوڑی خارج ھوا کرتی ھے بلکہ ھوتی رھتی ھے
نمبر 3۔۔۔غدی اعصابی تحریک مین ھوا کا اخراج بار بار ھوا کرتا ھے اور یہ کبھی ختم ھونے کا نام ھی نہین لیتی پاخانہ دن مین ایک سے زیادہ مرتبہ آیا کرتا ھے اور کامل اطمینان نہین ھوا کرتا
اب ایک اور نقطہ بھی ذھن نشین کر لین
اعصابی عضلاتی اور عضلاتی اعصابی دونون تحریکون مین کھانے کے فورا بعد معدہ کے مقام پہ تناؤ ھو جایا کرتا ھے
جبکہ غدی عضلاتی تحریک مین غذا کھانے کے دو گھنٹہ بعد جب کھایا پیا آنتون مین پہنچ رھاھوتا ھے تب تکلیف ھوتی ھے
اب دیکھ لین کتنی تفصیل سے لیکن چند الفاظ مین آپ کو مکمل تبخیر کی اصل کیفیت اور علامات سے آگاہ کردیا ھے اب علاج آپ مندرجہ بالا علامات کو دیکھ اور سمجھ کر کرین گے تو زندگی بھر کے لئے آپ تبخیر معدہ سے چھٹکارہ حاصل کر لین گے اگر آپ کی سمجھ مین یہ مضمون آگیا ھو تو اگلی قسط مین علاج لکھے دیتا ھون اگر بات کی سمجھ نہین آئی تو آپ سوالات کر سکتے ھین پہلے ان کے جوابات لکھون گا اگلی پوسٹ مین تب علاج لکھ دونگا ھر مزاج کے مطابق
ھان ایک بات یاد رکھین جس کو آپ تبخیر معدہ یقین سے سمجھتے ھین وہ یاد رکھین صرف دو مزاجون مین ھی ھوا کرتی ھے یا تو اعصابی عضلاتی یا عضلاتی اعصابی یعنی یا تو بدن مین سردی خشکی ھوا کرتی ھے یا خشکی سردی ھوا کرتی ھے اور باقی جن مزاجون مین گیس کا ذکر کیا ھے یہ کبھی کبھار مریض نظر آتے ھین اکثر واراثت مین مرض لے کر آئے ھوتے ھین بعض کسی اور مرض کی پیچیدگی کی وجہ سے اس مین مزاجا مبتلا ھوا کرتے ھین اب بھی سمجھ نہ آئی ھو تو سوالات کرسکتے ھین

Thursday, December 6, 2018

خمیرہ گاؤزبان|khamera gaozaban

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔ خمیرہ گاؤزبان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط حکماء کے لئے 
Khamera gaozaban
انتہائی بہترین اور خاص نسخہ ھے لازما تیار کرین اور مطب کی زینت بنائین
نوٹ۔۔۔۔ اسے صرف حکماء کے لئے اسلئے لکھا ھے خمیرہ تیار کرنا عام حکیم کے بھی بس کا روگ نہین ھے عام آدمی کیسے بناۓ گا اس لئے عام آدمی کو نہ بنانے کی ھدایت ھے ھان کسی طبیب سے سمجھ کر بنا سکتے ھین باقی یہ دوا برے اثرات سے پاک ھے فائدہ مند بہت زیادہ ھے جگر کی گرمی ۔۔دل کی کمزوری یعنی ضعف قلب کو دور کرنے مین لاثانی دوا ھے
گاؤزبان تیس گرام
کشنیز دس گرام
بہمن سفید دس گرام
بہمن سرخ دس گرام
تخم فرنجمشک دس گرام
ابریشم مقرص دس گرام
اسطخدوس دس گرام
تخم بالنگو دس گرام
بادرنجبویہ دس گرام
بالچھڑ دس گرام
اشنہ دس گرام
چینی دو کلو
معروف طریقہ سے خمیرہ بنا لین
مقدار خوراک۔۔ خمیرہ ایک تولہ مین ایک رتی کے حساب سے کشتہ مرجان شامل کر لین اب چمچ چمچ دن مین تین بار کھلائین
گروپ مطب کامل محمود بھٹہ

Wednesday, December 5, 2018

اکسیر داندان||tooth pain

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Tooth pain treatment
۔۔۔۔۔ اکسیر داندان ۔۔۔۔۔۔
کافی لوگ اس بارے مین سوال بھیج دیتے ھین کہ دانت درد نہین جارھا ایک صاحب نے مجھے انباکس لکھ رکھا تھا آدھی بتیسی نکلوا دی ھے پہلے تو مین سمجھا مسکرانے کی بات کررھے ھین جب غور کیا تو لفظ نکلوا دی ھے نیچے ڈاکٹر کا بھی ذکر تھا وقفے وقفے سے دانت نکلواتے رھے درد کچھ عرصہ بعد دوبارہ ھو جاتا ھے دوستو درد دانت واقعی ناقابل برداشت ھوتا ھے چند روز پہلے مجھے زندگی مین پہلی دفعہ دانت کا درد ھوا ھے تو احساس ھوا بہرحال کوشش کیا کرین جیسے تیسے بھی ھو اس دانت کا علاج کروائین جس مین درد ھے نکلوانے سے گریز کیا کرین یہ نعمت دوبارہ نہین ملتی خواہ آپ بے شک جتنے مرضی قیمتی دانت لگوا لین خیر مین آپ کو بے شمار فوائد کی حامل ایک دوا بتاۓ دیتا ھون گھر مین تیار کرکے رکھین
لونگ دس گرام
اجوائن دیسی پچاس گرام
عقرقرحا پچاس گرام
نوشادر ٹھیکری پچاس گرام
نمک خوردنی پچاس گرام
سب کو پیس کر سفوف بنا لین حسب ضرورت منجن لے کر دانتون کی جڑون مین رکھ دین یا پھر آھستہ آھستہ مل لین
فائدے۔۔۔درد دانت ۔۔۔کیڑا لگنا ۔۔۔ماسخورہ کے لئے بہت ھی اعلی دوا ھے اب اندرونی طور پر بھی اس کے کچھ فوائد ھین وہ بھی سن سمجھ لین پیٹ درد بدھضمی ریاحی درد پیٹ ۔۔ضعف معدہ کے لئے بھی بہت مفید ھے حسب عمر وحسب ضرورت کھلا سکتے ھین دو رتی تا آدھا ماشہ پانی سے کھلا دین
گروپ مطب کامل محمود بھٹہ

Saturday, December 1, 2018

ھاضمہ دار کیپسول

۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔ ھاضمہ دار کیپسول ۔۔۔۔۔
پہلے دوا سمجھ لین
گندھک آملہ سار بیس گرام
پودینہ خشک پچاس گرام
سندھ بیس گرام
کالی مرچ دس گرام
نوشادر ٹھیکری بیس گرام
سوڈابائی کارب بیس گرام
ست اجوائن ایک ماشہ
تمام دوائین پیس کر چار نمبر کیپسول بھر لین
ایک ایک کیپسول دن مین تین بار ھمراہ پانی دین
فائدے۔۔۔تبخیر معدہ ۔۔۔پیٹ درد ۔۔۔درد گردہ ۔۔۔ریح قبض ۔۔احتلام بدھضمی ۔۔کے لئے موثر ھے گروپ مطب کامل محمود بھٹہ

Friday, November 30, 2018

تشخيص امراض وعلامات 60

۔۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔تشخيص امراض وعلامات ۔۔۔۔۔قسط نمبر 60۔۔۔۔۔۔۔
آج ھماری بحث غصہ سے شروع ھو گی ۔۔
غصہ ۔۔۔۔ ایک ایسی کیفیت کا نام ھے جس کے تحت انسان کے اندر زبردست قسم کا جوش اور ولولہ پیدا ھوتا ھے اور نفسیاتی طور پر آپ غصے کو یون سمجھ سکتے ھین
ایک ایسی الجھن کہ انسان کی طبیعت کے خلاف کچھ برداشت نہ ھو سکے
طبی لحاظ سے آپ غصہ کو جگر وغدد کی ایسی کیفیت وحالت کو کہتے ھین کہ جس مین صفراوی مادہ بکثرت پیدا ھو اور اس کے اثرات خون مین جمع ھوتے رھین یا آپ اسے یون سمجھ سکتے ھین
کہ حالت غصہ مین انسان کا غدی نظام یعنی صفراوی نظام اپنی صفراوی رطوبات یا گرمی اپنی شدت کے جوھر کو حواس وعقل پہ ظاھر کرتی ھے اور صفراوی مادہ خارج نہین ھوپاتا تو شدت گرمی کے باعث عضلاتی نظام مین تحلیل و ضعف واقع ھوتا ھے جس کے باعث اعصاب مین تسکین واقع ھوتی ھے جس کی وجہ سے عقل وشعور بھی ماند پڑ جاتے ھین یعنی جاتے رھتے ھین اور گرمی خشکی یعنی غدی عضلاتی تحریک کے باعث غصہ اپنے جواھر دکھاتا ھے اور باقی آپ سب جانتے ھین کہ غصہ کی کیفیت مین انسان کیا کچھ کر سکتا ھے یا کرتا ھے
ندامت۔۔۔۔۔
ندامت بھی ایک جذبہ ھے حقیقت مین شرمندگی کے مترادف ایک لفظ ھے جب بھی کوئی انسان سے سرزد ھوجاۓ اور جب انسان کو غلطی کا احساس ھو جاۓ تو جو کیفیت انسان پہ پیدا ھوتی ھے اسے ندامت کہتے ھین
دیکھین مین نے بار بار لفظ انسان کا استعمال کیا ھے انسان صرف اس کے لئے استعمال ھوتا ھے جس مین آدمیت بشریت اخلاصیت یعنی ھر لحاظ سے مکمل ھو اسے آپ انسان کہتے ھین ورنہ اس دار فانی مین لوگ ایسے ایسے موجود ھین بلکہ زندہ مثال آپ کے سامنے ھین جو بظاھر بشکل انسان ھی آپ کو نظر آتے ھین لیکن سچ مین باطنی اور ظاھری لحاظ سے بھی ایک بھی کام انسانون والا نہین ھے کسی بھی حقوق العباد کی پاسداری نہین کرتے بلکہ حقوق شکن ھین جس مین کتنے ھی لوگ شامل آپ کے سامنے ھین اور اللہ کی زمین پہ اکڑ اکڑ کر چلتے ھین تکبر اتنا ھے کہ انسانیت کی معراج سے بھی دور کچھ اور نظر آتے ھین ھر اپنی غلطی پہ بجاۓ ندامت کے فخر کرتے ھین بلکہ اسے خوبی سمجھتے ھین
دوستو انسان کی اصلیت کیا ھے اب تھوڑا تجزیہ کر لیتے ھین بظاھر آپ کو ایک شخص مین نو تادس سوراخ نظر آتے ھین باقی بھی لاکھون کے حساب سے چھوٹے چھوٹے سوراخ ھین سب کے بارے مین نظر دوڑا لیتے ھین
پہلے دو سوراخ آنکھون کے ھین ان سے آپ دیکھتے ھین لیکن ان سے پیپ دار مادہ جس سے آنکھین چپک بھی جایا کرتی ھین وہ نکلتا ھے یا ہھر آنسو نکلتے ھین یہ آنکھ کے فضلے ھین کیا وھی بندہ اسے کھا سکتا ھے قطعی نہین بلکہ شدید کراھت کرے گا
پھر کان ھین جن سے میل کچیل نکلتی ھے کیا آپ وہ میل کھا سکتے ھین قطعی نہین بہت ھی نفرت کا اظہار کرین گے
پھر ناک کے نتھنے ھین جن سے نزلہ پیپ دار مادہ ھی نکلتا ھے یہ بھی گندگی ھے منہ ھے الٹی تھوک بلغم نکلتی ھے نیچے مردون کے دو سوراخ جن سے پیشاب اور پاخانہ نکلتا ھے عورتون کو حیض بھی آیا کرتا ھے ایک اضافی سوراخ ھے یہی بندہ نطفہ کی تخلیق پہلی خوراک یہی حیض اور جب دنیا مین آۓ تو انتہائی خوبصورت شکل تخلیق کن چیزون سے ھوئی پھر دوستو ھزارون لاکھون مسام جن سے س
پسینہ خارج ھوتا ھے وہ بھی نہین کھایا پیا جاسکتا
یعنی انسانی جسم سے اگر نیا بھی سوراخ کردیا جاۓ تو مادہ خون ھی نکلے گا جو بدبو لئے ھوتا ھے ایک بھی مقام دکھا دین جہان سے انسان کے اندر سے کوئی اچھی چیز نکلتی ھو یعنی گندگی کا ڈھیر ھے بندہ پھر بھی اس رب کائینات کا شکر ادا کرنا چاھیے جس نے تمام مخلوقات مین بڑا مقام انسان کو دے دیا یعنی اشرف المخلوقات کا مقام دیا لیکن انسان ھونا بھی سیکھیے انسان ھونا ھی انسان کی معراج ھے انسان کو عاجزی انکساری ھی ججتی ھے نہ کہ تکبر غرور اکڑ یہ صفات انسان کے لئے نہین ھین میری اس ساری بحث سے مراد یہ ھے کہ اگر غلطی ھو جاۓ تو ماننی بھی چاھیے اور ندامت کی کیفیت بھی پیدا ھوتی ھے آج مین آپ کو ایک اور نقطہ بھی بتاۓ دیتا ھون جہان قدیم کتابون مین نبض کے باب مین لفظ تحریر ھوا کرتا ھے بلکہ ایک نبض ھوا کرتی ھے جسے معتدل معتدل معتدل لکھا جاتا ھے یاد رکھین نظریہ مفرداعضاء اسے غدی اعصابی نبض سے جوڑتی ھے اور ندامت کے وقت انسان کی نبض بھی غدی اعصابی ھوا کرتی ھے اور ایک بات اور بھی یاد رکھین پرانی قدیم کتب مین جو آخری نبض بیان ھوئی ھے جو ھر لحاظ سے معتدل ھوا کرتی ھے یہ عام لوگون مین قطعی نبض نہین آتی بلکہ صرف انبیاء کرام مین آتی ھے بلکہ مین کہا کرتا ھون روۓ زمین پہ صرف رسول اللہ صلى الله عليه و سلم کے بغیر کسی مین بھی یہ نبض نہین آئی ھو گی ایک وہ ھستی ایسی ھے جن کا مزاج اتنا معتدل ھوا ھے باقی نہین ھو سکتا اس لئے انسانی جسم مین باقی دنیا کے سب سے معتدل مزاج غدی اعصابی ھی ھوا کرتا ھے
ندامت مین غدد مین انبساط مین پیدا ھو تب ندامت محسوس ھوا کرتی ھے
حقیقت مین اگر مواخذہ کیا جاوے تو معلوم ھوتا ھے کہ ندامت مین جب معمول کو غلطی کا احساس کا ھوتا ھے تو اعصابی قوت مین لطافت پیدا ھوتی ھے اور غدی قوت مین تلملاھٹ سی پیدا ھوتی ھے اور حقیقت مین مزاج غدی اعصابی اور اعصابی غدی کا ملا جلا رجحان پیدا ھوتا ھے اسی لئے کچھ اطباء اسے غدی اعصابی اور بعض اطباء اسے اعصابی غدی مانتے ھین انشاءاللہ باقی بحث غم و خوشی اگلی اقساط مین ھوگی اجازت چاھون گا محمود بھٹہ گروپ مطب کامل

Wednesday, November 28, 2018

تشخيص امراض وعلامات 59

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔تشخيص امراض وعلامات ۔۔۔۔۔قسط نمبر 59۔۔۔۔۔
انسانی جذبات غیر شعوری تحریکات ھین اس لئے جنسی جذبات بھی غیر شعوری سے پیدا ھوتے ھین
یہ وضاحت درج ھے نظریہ مفرد اعضاء کی کتابون مین
جذبہ لذت اعصابی غدی تحریک ھے جس سے اعصاب خصوصا جنسی اعصاب کے فعل مین تیزی پیدا ھو جاتی ھے جس کے ساتھ ھی غدد یعنی خاص کر خصیون مین دوران خون تیز ھو جاتا ھے اور عضلات خصوصا جنسی عضلات پر دباؤ بڑھ جاتا ھے اور حالت انتشار پیدا ھو جاتی ھے جس سے خصیون مین منی کی پیدائش شروع ھو جاتی ھے اور منی کے دباؤ سے انزال کی صورت پیدا ھو جاتی ھے
لیکن ایک بات ضرور یاد رکھین جس بھی مفرد عضو کا فعل تیز ھو گا اس کا عمل شدید ھو گا یعنی ھر کسی کا ایک جیسا انزال نہین ھوا کرتا نقطہ سمجھ لین بہت سے راز آپ کے دماغ مین روشن ھو جائین گے
پہلی بات جس کے اعصاب مین تیزی ھو گی تو سمجھ لین لذت اور جذبات مین تیزی ھو گی یعنی شدت ھو گی
دوسری بات جس کے غدد مین تیزی ھو گی تو منی کی پیدائش اور اس کے دباؤ مین شدت ھو گی
تیسری بات اگر عضلات مین تیزی ھو گی تو سمجھ لین انتشار اور قوت مین بھی شدت ھو گی
یہ ھے فلسفہ جنسی جذبات کا اور اس طرح جنسی جذبات پایہ تکمیل تک پہنچتے ھین
اب ایک بات اور سمجھائے دیتا ھون ایسے سب لوگ جو جنسی جنونی ھوتے ھین اور اکثر معاشرے کا ناسور ثابت ھوتے ھین یہ اس آخری تحریک کے زیادہ شکار ھوتے ھین امید ھے سمجھ گئے ھونگے ھین اب بات کرتے ھین خوف کی
خوف۔۔۔۔۔۔
ھمیشہ سے ایک بات سچ رھی ھے اگر مقابل طاقتور ھے تو جسم پہ خوف طاری ھوا کرتا ھے اگر کسی کے دل سے خوف نامی چیز نکل جاۓ تو مدمقابل بے شک پہاڑ نظر آۓ لیکن کمزور نظر آنے والا اس پہاڑ کو گرا دے گا
جب خوف پیدا ھوتا ھے تو پہلی علامتون مین سے جسم کا رنگ بدلتا ھے خاص کر چہرے کا یعنی زرد ھو جاتا ھے اب بہت سے لوگون سے میرا سوال ھے جبکہ میرے کیے ھوۓ سوال کا جواب بھی مین انہی پوسٹون مین لکھ رھا ھون
سوال۔۔۔ خوف سے رنگ زرد سفید کیون ھوتا ھے آخر نیلا سرخ گلابی بادامی کیون نہین ھوتا۔۔۔۔۔
اب بات آگے لئے چلتے ھین رنگ ماند پڑ جاتا ھے رونگٹے کھڑے ھو جاتے ھین بولنے کی قوت مین ڈگمگاھٹ یعنی لڑکھڑاھٹ یا زبان تھرتھرانے لگتی ھے اگر بندہ کہین جنگل مین رات کو تنہا ھو تو بے ساختہ عجیب و غریب آوازین بھی نکال سکتا ھے
دوستو اس سارے عمل مین اعصابی عضلاتی تحریک کا عمل دخل ھوتا ھے جس کے باعث خوف کے وارد ھوتے ھی نفسانی قوت اندر کی طرف راجع ھوئی عضلاتی قوت کو ماند کردیتی ھے صابر ملتانیؒ نے اپنی کتاب مین خوف کے عمل مین کمی کو رفتہ رفتہ لکھا ھے یعنی یعنی خوف کم آھستہ آھستہ ھوتا ھے یکلخت خوف کم نہین ھوا کرتا جیسے ھی خوف کم ھو گا تو چہرہ سرخ ھو جایا کرتا ھے اس لئے کہ قوت مدبرہ بدن مقابل سے مقابلہ کرنے کی ھمت بندھاتی ھے تو غدد عضلات کسی قدر جوش مین آجایا کرتے ھین جس کے باعث رنگ سرخ ھوا کرتا ھے یاد رھے نظریہ مفرد اعضاء کے قانون کے مطابق خوف کے وقت اعصابی یعنی دماغی خلیات Neurons کی تحریک اجاگر ھو جایا کرتی ھے کیفیاتی لحاظ سے اعصاب کا تعلق عضلات سے ھوتا ھے اس لئے اس حالت مرکبہ کو اعصابی عضلاتی کے نام سے پکارا جاتا ھے اور یہی اعصاب کی فاعلہ تحریک ھے
یاد رکھین خوف کی حالت مین دماغ پہ اس قدر دباؤ یعنی پریشر بڑھتا ھے کہ اس کی مثل کے خلیات Nerons اپنی نوع کے فالتو خلیات پیدا کرتے ھین جس کی وجہ سے رطوبات وافر مقدار مین افراز ھوتی ھین اس طرح رطوبات کا زیادہ پیدا ھونا اور خون کی ماھیت کو تبدیل کرنا جسم مین سردی اور کپکپی پیدا کردیتا ھے یاد رکھین سردی اور رطوبات کی یہی شدت جگر کی رطوبات یعنی صفرا و گرمی کو مغلوب کیے رکھتی ھے اور معلول کے جسم کی جرات بالکل ھی ختم ھوجایا کرتی ھے دوستو یہ جتنے بھی نقطے مین نے لکھے ھین انہین ازبر کر لین زندگی بھر کام آئین گے انشاءاللہ باقی جذبات کی تشریح اگلی اقساط مین بیان کرون گا
محمود بھٹہ گروپ مطب کامل

Tuesday, November 27, 2018

تشخيص امراض وعلامات 51

۔۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔تشخيص امراض وعلامات۔۔۔قسط نمبر51۔۔
آج نبض غدی اعصابی اور اعصابی غدی دونون کا ھی کرون گا
غدی اعصابی ۔۔۔
یہ نبض نہ طویل نہ عمیق نہ ھی عریض ھوتی ھے مگر اس کا رجوع قعر کی جانب ھوا کرتا ھے ایسی نبض کا حامل شخص حواس مین سستی بوجھل جسم نیند کا غلبہ ذائقہ نمکین پیشاب مین جلن جگر گردے امعاء جسم مین سوزش سر اور شانون پہ بوجھ درد کمر کا بوس لیسدار لیکوریا نزلہ حار سرعت انزال سلسل بول مروڑ پاخانہ مین آؤن کا آنا ضعف معدہ ھاضمہ بھوک کی کمی سوزاکی زھر جیسے عوارضات پاۓ جاتے ھین باقی اس مزاج مین خطرناک امراض بہت ھی کم ھوا کرتی ھین حرقت البول پیشاب مین پتھری کا اخراج سوزش و ورم گردہ شدید ۔ بائین گردے مین جلن پیشاب زرد سفیدی مائل جلن سے رک رک کر آتا ھے غدد ناقلہ مین تحریک ارادی عضلات مین تحلیل اور حکم رسان اعصاب مین تسکین ھوا کرتی ھے
اب بات کرتے ھین اعصابی غدی نبض کی
اعصابی غدی۔۔۔۔یہ نبض باقی تمام نبضون کی نسبت کلائی کے قعر مین واقع ھوتی ھے اسی لئے اسے نبض منخفض کہتے ھین قوتون کے فنا ھونے کے قریب رفتار نملی نبض یعنی چیونٹی کی مانند دکھائی دیتی ھے اس لئے اسے نبض دودی نملی بھی کہتے ھین
اس نبض مین اعصابی دردین ھیضہ شدت قے ۔۔شدت اسہال محرقہ دماغی ۔ بے ھوشی ۔ کثرت رطوبات زکام جریان ۔غیر ارادی طور پہ پیشاب کا اخراج ۔۔قلت خون ۔ کثرت بلغم مگر خارج نہ ھوتی ھو ۔ ضعف باہ ۔ نامردی کی حد تک اصل شوگر ۔ یعنی جو شوگر کے مریض یہ کہتے ھین کہ نہ کبھی انتشار آتا ھے نہ ھی خیال آتا ھے اگر کبھی آبھی جاۓ تو فورا ختم بھی ھو جایا کرتا ھے وہ لوگ اسی مزاج کے مالک ھوا کرتے ھین۔۔بول فی الفراش ۔۔دل کا ڈوبنا لمس نبض مین نرمی وسردی ھوا کرتی ھے قویٰ مین کمزوری کے ساتھ اس نبض مین فترہ آنے لگ جاتا ھے اور یہ بہت ھی خطرناک ھوا کرتا ھے عموما ھارٹ فیل اور حرارت غریزی کا جسم مین مکمل اخراج ھو جانے سے موت واقع ھوتی ھے بہت ھی خطرے ھوتے ھین اس نبض مین
آئیے آج مزاج کے اعتبار سے مختصر تشریح ولب لباب بیان کرتے ھین
نمبر١۔۔اعصابی عضلاتی تحریک
خلط۔۔بلغم خالص
تشریح ۔۔اعصاب کی مشینی تحریک ھے جس مین بلغم آسانی سے خارج ھوا کرتی ھے
٢۔ تحریک ۔۔۔عضلاتی اعصابی
خلط۔۔۔سودا خام
تشریح ۔۔سوداوی مادہ کیمیاوی طور پہ تیار ھوتا ھے اور خون مین سرایت کرتا رھتا ھے مگر اپنے مجاری سے خارج ھونے کا نام بھی نہین لیتا
٣۔۔تحریک عضلاتی غدی
خلط۔۔۔سودا خالص
تشریح ۔۔سوداوی مادہ اپنی کیمیاوی کیفیت کو مکمل کرنے کے بعد اپنا ناطہ صفرا سے جوڑ لیتا ھے اس لئے اپنے مجاری سے مادے کو خارج بھی کرنے لگتا ھے
٤۔۔تحریک غدی عضلاتی
خلط ۔۔صفرا خام
تشریح ۔۔یہان سوداویت تو مغلوب ھو چکی ھوتی ھے یعنی اس کا خاتمہ بالخیر ھو چکا ھوتا ھے اور اب صفرا غالب ھے مگر یاد رکھین اس کیفیت مین صفراء مادہ سودا کی خشکی کے باعث خون مین سرایت کرتا رھتا ھے اور جسم کا رنگ زرد کرتا رھتا ھے اور صفرا اپنے مجاری سےخارج ھونے کا نام تک نہین لیتا
٥۔تحریک ۔۔ غدی اعصابی
خلط۔۔ صفرا خالص
تشریح ۔۔۔ اس تحریک مین صفرا کا ناطہ بلغمی مادے سے جڑ چکا ھے سوداوی مادے سے جان چھوٹ چکی ھے یعنی خشکی کی جگہ تری نے لے لی ھے تو اس مین صفرا پیدا ھونے کے ساتھ ساتھ اپنے مجاری سے خارج بھی ھورھا ھوتا ھے
٦۔۔اعصابی غدی تحریک
خلط۔۔۔بلغم خام
تشریح ۔۔اس تحریک مین بلغمی مادے کا تعلق ابھی صفرا سے ھے اس مین بلغمی مادہ اپنے مجاری سے خارج ھونے کا نام بھی نہین لیتا بلکہ دھرنا دے کر بدن مین بیٹھ ھی جاتا ھے اپنے مجاری کی طرف نہین جاتا
اب ذرا مواخذہ سب تحریکون کا کرتے ھین
جب بھی کسی مادے کا تعلق اپنے پچھلے مزاج کے مادے سے ھوتا ھے تو موجودہ مادہ بدن سے قطعی خارج نہین ھوتا اور یہ کیفیت ھمیشہ خطرناک امراض کا باعث ھوتی ھے مادے کا اعتدال یا جسم سے خارج اس وقت ھی ھوتا ھے جب اس کا تعلق مستقبل سے جڑ جاتا ھے یعنی اگلے مادے سے تعلق پیدا ھوجاتا ھے تو وہ اپنے مجاری سے خارج ھوتا رھتا ھے یعنی زائد خارج بھی ھو گا اور خالص مادہ جو جسم کی ضرورت ھو گا وہ بدن مین رہ بھی جاۓ گا یعنی تین مزاج اعصابی غدی ۔۔عضلاتی اعصابی ۔۔غدی عضلاتی یہ بدن کے خطرناک ھوتے ھین بشرطیکہ اگر خود ھی پیدا ھوۓ ھون اگر طبیب دوا دے کر عارضی طور پہ یہ مزاج پیدا کرتا ھے تو کچھ حرج نہین ھے لیکن یاد رھے ان مزاجون کی دوائین لمبا عرصہ نہین کھلائی جاسکتی ورنہ مزاج مستقل ھونے سے یہ کیفیت بھی خطرناک ھو جایا کرتی ھے کیونکہ اس صورت حال سے بھی مزاجاً تعفن پیدا ھوا کرتا ھے جو نئی امراض کا باعث بن جاتا ھے اکثر اطباء سم الفار کچلہ یا دیگر کشتہ جات کا بے دریغ استعمال کرکے مزاجی اعتبار سے بدن کی اصل کیفیت تباہ کرتے ھین اور بندہ موت کے منہ مین چلا جاتا ھے طبیب شفا کی تلاش مین رھتا ھے اور بندہ قضا ھو جاتا ھے پھر اتنے سے الفاظ مین بات ختم ھوجاتی ھے بس جی اللہ کا جو حکم ھم نے تو ھر ممکن علاج کیا یاد رکھین روز محشر حساب کتاب ھو گا اور یہ آپ کے ذمہ ھے اور اس بات کو بھی ذھن مین رکھین یہ بات قطعی طور پہ غلط ھے کہ طب یونانی کی ادویات تو بےضرر ھین یہ بات بالکل غلط ھے طب کی دواؤن کے بھی اسی طرح سائیڈ ایفیکٹ ھین جیسے ایلوپیتھی کی ادویات کے ھین اور ھیوموپیتھی کی ادویات بھی اتنی ھی خطرناک ھوتی ھین
دوا کا استعمال مزاج جانچے بغیر قطعی نہ کرین کیفیات کو مدنظر رکھین اگر مرض مشینی تحریک مین ھے آپ کو ضرورت ھے کہ کیمیائی تحریک پیدا کرنے سے صحت بحال ھو گی تو عارضی طور پہ کیمیائی تحریک پیدا ضرور کرین اب صحت کے لئے لازم ھے اس موضوع پہ پچھلی اقساط مین مضمون لکھ چکا ھون انشاءاللہ مختصر تشریح کل پھر کر دونگا تاکہ آپ کو یاد تازہ ھو جاۓ کہ کیمیائی تحریک اور مشینی تحریک جسم پہ کیا اثرات چھوڑتی ھین نہ مزاج کی پہچان مشکل ھے نہ مرض کی پہچان مشکل نہ ھی علاج مشکل ھوتا ھے کوئی بھی مرض ھو اس کا پہچاننا آسان کام ھے لیکن یاد رکھین سمجھ بہت مشکل ھے اگر آپ مرض اور بدن کی کیفیت سمجھتے ھی نہین ھین تو کیونکر صحت بحال کر سکتے ھین انشاءاللہ کل کی قسط کے بعد بدن کی تقسیم پہ لکھین گے اور نبض کی تقسیم پہ لکھین گے ایک انچ جگہ پہ ھی کیون نہ مرض ھو آپ سمجھین گے تو آپ کو پتہ چل جاۓ گا نہین سمجھین گے تو نہین پتہ چلے گا انشاءاللہ مضمون اب بہت ھی اھم حصے مین داخل ھونے والا ھے بار بار پڑھنے سے ھی سمجھ آۓ گا

تشخيص امراض وعلامات 58

۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔تشخيص امراض وعلامات ۔۔۔قسط نمبر 58 ۔۔۔
آج ھماری بحث وتکرار قوت غضبی کے بارے مین ھے
قوت غضبی مین افراط تفریط اور ردات کو بالترتیب غضب ۔۔جبن یعنی بددلی ندامت ھتک اور خوف کی کیفیات سے مرتب کرتے ھین
غضب وغصہ حقیقت مین قوت غضبی تحریک غدی کا نتیجہ ھین یا یون سمجھ لین غضب وغصہ غدی کی کیمیائی تحریک غدی عضلاتی سے پیدا ھوتی ھے اور آپ جانتے ھین اس تحریک مین صفرا پیدا تو ھوتا ھے لیکن اپنے مجاری سے خارج نہین ھوتا اسی وجہ سے طبیعت مین جوش وغضب پیدا ھوتا ھے یاد رکھین اس مین انسان انتہائی دلیرانہ اقدام اٹھانے سے بھی گریز نہین کرتا چاھے وہ موت کی آغوش مین ھی کیون نہ چلا جا ۓ اور یہ بات بھی یاد رکھین یہ غدد کی انقباضی کیفیت سے ھوتا ھے اور اس بات کو بھی ذھن مین رکھین جو نظام غدد کی انبساطی کیفیت ھے اس مین ندامت ھتک اور بددلی جیسی کیفیات پیدا ھوتی ھین ایک تجربہ میرا بارھا آنکھون دیکھا بھی ھے آپ کو بھی بتاۓ دیتا ھون قاتل جب قتل کرتا ھے اس وقت یا اس سے تھوڑی دیر بعد تک انتہائی جوش جنون مین ھوتا ھے اس وقت وہ قتل کا اعتراف بڑے ھی جوشیلے اور بلند آواز سے کرتا ھے اور بدن مین جو دوسری کیفیت دیکھنے کو ملتی ھے آنکھون کی سرخی جسم کا کجھلانا سر پہ بار بار ھاتھ سے رگڑنا پھر کچھ دیر بعد جب وہ اس کیفیت سے نکلنے لگتا ھے تو پیٹ مین مروڑ کی شکایت بھی کرتا ھے بعض کو جسم پہ شدید کجھلی ھوتی ھے پھر آھستہ آھستہ یہ کیفیت جاتی رھتی ھے پھر حقیقی خوف اور ندامت کی کیفیت پیدا ھوجایا کرتی ھے اب قاتل خاموش ھوجاتا ھے اور اکثر زمین پہ بیٹھ کر گردن ڈال دیا کرتے ھین زمین پہ لکیرین کھینچ رھے ھوتے ھین خیر آگے سب جذبات کی اصلیت لکھتا ھون یہان آپ کو یہ سمجھانا مقصود تھا غضب وغصہ روح اور خون کے جوش مین آنے کا نام ھے اور یہ بات بھی یاد رکھین اس سب کی ابتدا یا بنیاد انتقام کی خواھش سے ھوتا ھے خواھشین تو انسان مین بے شمار ھوتی ھین یاد رکھین جب بھی کسی خواھش مین شدت پیدا ھوتی ھے تب اس خواھش کو پورا کرنے کی ٹھانتا ھے جوش وغضب انتقام خواھش کی شدت سے یہ تحریک پیدا ھوتی ھے
علامہ جلال الدین دوانی نے اس کو یون تعبیر کیا ھے ::: وہ فرماتے ھین غضب کی ترقی سے نور عقل مستور ھو جاۓ گا ::
جبکہ حکماء نے اس کی مثال یون دی ھے ۔۔۔ترقی غضب مین گھرے انسان کو ایسے غار سے تشبیہ دی ھے جو آگ اور دھوئن سے بھرا ھو اور سواۓ غوغا اور شعلون کے اور کوئی چیز اس مین معلوم نہ ھو
ایسی حالت مین علاج کچھ اس صورت مین ھو سکتا ھے کہ اگر مریض بیٹھا ھوا ھے تو اسے کھڑا رھنے کی تلقین کرین سرد پانی پینے کی ھدایت کرین بشرطیکہ اسے بدنی نقصان نہ کررھا ھو حدیث مبارکہ ھے بار بار وضو کرنے کی ھدایت کرین اب دیکھ لین حدیث مبارکہ مین کتنا بڑا فلسفہ پوشیدہ ھے اور نیند لینے کی بھی ھدایت ھے اب طب جدید مین علاج بہت ھی آسان ھے مقام تسکین کو تحریک دے دین صحت انشاءاللہ بحال ھوجاۓ گی
لفظ جذبات تو ھر کوئی سمجھتا ھے لیکن جذبات سمجھنا ھر کسی کے بس کی بات نہین ھے جذبات کسے کہتے ھین ان کی تقسیم کیا ھے کونسا جذبہ کس مزاج کے تحت ھے اب اگلا ھمارا موضوع یہی ھے جو انتہائی دلچسپ بھی ھے
جذبات کو طبی طور پر بھی نفسیاتی طور پر بھی تین حصون مین تقسیم کیا جاتا ھے یاد رھے جذبات کی ھر مفرد عضو یعنی اعضائے رئیسہ کے حساب سے تو جذبات کی تین قسمین ھی ھوئین لیکن ھر قسم کے دو دو پہلو ضرور ھین یا دوسرے لفظون مین یون سمجھ لین جذبات کی کل چھ قسمین ھین یعنی ایک جذبہ کا تعلق جب مفرد عضو کی خلیاتی اکائی سے قائم ھو کر جب دوسرے مفرد عضو کے خلیاتی اکائی سے جڑتا ھے تو ایک علیحدہ جذبہ پیدا ھوتا ھے اب اس طرح چھ اقسام بنتی ھین اب ھم پہلے بھی تشریح کر چکے ھین نفسانی قوت ۔۔۔غضبی قوت ۔۔شہوی قوت کی ۔۔اب ان کے تحت ھی دو دو جذبے ھین
1۔۔۔۔۔اعصابی یا نفسانی قوت
١۔اعصابی غدی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لذت
٢۔۔اعصابی عضلاتی ۔۔۔۔۔خوف
2۔۔۔غدی یا غضبی قوت
١۔۔غدی عضلاتی ۔۔۔غصہ
٢۔۔غدی اعصابی ۔۔۔ندامت
3۔۔۔عضلاتی یا شہوی قوت
١۔۔عضلاتی اعصابی۔۔۔غم
٢۔۔عضلاتی غدی ۔۔۔۔ مسرت
اب ھم پہلے مذکورہ جذبے لذت کی بات کرتے ھین
لذت۔۔۔سب سے پہلے ایک غلطی کی نشاندھی
بہت سے کتب مین لذت کو عضلاتی اعصابی تحریک کے تحت لکھا گیا ھے تو ان سے معذرت
کیونکہ عضلاتی اعصابی تحریک مین کثرت شہوت ھوا کرتی ھے لیکن یاد رکھین انزال کے وقت کی کیفیت اعصابی غدی ھی ھوا کرتی ھے اگر کیفیت عضلاتی اعصابی سے ھی قائم رھے تو بندہ خداانزال تو ھو ھی نہین سکتا اور آپ اسے لذت کا نام نہین دے سکتے بلکہ زحمت ومرض مین شمار کرین گے اور اس کو اعصابی عضلاتی لکھنے والے جان لین بلکہ تحریک پہ دھیان دین تو بات سمجھ آۓ گی انزال کے وقت بجائے لذت کے درد محسوس ھو گا اور لذت اور درد دو علیحدہ کیفیات ھین شاعرون کی باتین نہ مان لین جو وہ درد کا حد سے گزر جانا کی بات کرتے ھین وہ تو صرف لفظون کی کہانی ھے شاعر پتہ نہین شعر کا وزن اور قافیہ ردیف ملاتے ملاتے طرح مصرع کی اصلاح کرتے کرتے حقائق کا بیڑا غرق بھی کردیا کرتا ھے یاد رکھین جذبات کا ذکر کرتے کرتے خود جذبات مین نہ بہہ جایا کرین یہ طب ھے دوستو یہان صرف حقائق اور تجربات ھی کام آتے ھین ایسا نہ ھو کل کلان کو آپ کسی مرض کا علاج کسی شعر کے ورد سے کرتے پھرین اور مریض سے کہتے پھرین کہ بھئی آپ فلان جذبے کا شکار ھو گئے ھین آپ اس شعر کو ھزار بار دہرائین انشاءاللہ نجات مل جاۓ گی بلکہ مجھے شک ھے کہ کہین عضلاتی اعصابی شعر کی تلاش نہ شروع ھو جاۓ تاکہ انزال ھی نہ ھو پھر اعصابی غدی شعر کہنے والا شاعر جواب نفی مین نہ دے دے خیر شاعرون سے معذرت ان الفاظ پہ بلکہ محسوس نہ کرنا کبھی ھم نے بھی اس دشت مین گھوڑے دوڑاۓ ھین یعنی شاعری کی ھے لاشعوری نہین بلکہ شعوری تحریک مین شاعری کی
انشاءاللہ لذت کے جذبہ کی تشریح اگلی قسط مین اگر کسی کی دل آزاری ھوئی ھو تو پھر معذرت
محمود بھٹہ گروپ مطب کامل

Monday, November 26, 2018

۔تشخيص امراض وعلامات 50

۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔تشخيص امراض وعلامات ۔۔۔۔قسط نمبر50۔۔
اللہ تعالی بڑے ھی رحمان ھین مجھے ھمت دی اور آج پچاس اقساط پوری ھوئی ھین مجھے یہ مضمون لکھنا بڑا ھی مشکل کام لگا ایک تسلسل سے لکھنا اتنا بھی آسان کام نہین ھے بہرحال ذات باری کی مدد شامل رھی مستقل مزاجی اور شروع سے ھی لکھنے کی عادت کام آئی دعا کرین اللہ تعالی مجھے مضمون مکمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے
آج ھمارا موضوع غدی عضلاتی تحریک کی وضاحت ھے
غدی عضلاتی ۔۔۔اس نبض مین طول کو دیکھا جاتا ھے جو حرارت کے باعث پیدا ھوتا ھے اور جو سابقہ نبض عضلاتی غدی مین شرف تھا یعنی بلندی تھی وہ حرارت کے باعث کچھ کم ھو گیا ھے اس نبض کے قرع مین اگر قوت نہ ھو تو سمجھ لین ضعف واضمحلال پہ دلالت کررھی ھے یعنی دبانے سے بغیر دقت کے دب جاۓ
اب ایک بات یاد رکھین یہ نبض نہ تو مشرف ھوتی ھے اور نہ ھی منخفض ھوتی ھے بلکہ بالکل ھی درمیان مین ھوتی ھے یعنی اگر عضلاتی نبض ھے تو طبیب نبض پہ ھاتھ رکھتے ھی اس کی ٹپکن محسوس کرے گا اگر اعصابی ھے تو اچھا خاصا اپنی انگلیون کو دباۓ گا تب جا کر نبض محسوس ھو گی غدی نبض تھوڑے سے دباؤ سے محسوس ھوتی ھے
اب نبض غدی عضلاتی کی تشریح سمجھین جب گرمی کا تعلق عضلات کی خشکی وریاح سے ھوتا ھے مگر اس کا اخراج درست طریقہ سے نہین ھورھا ھوتا بلکہ صفرا کی رکاوٹ سے یرقان ۔۔سوءالقینہ ۔۔حدت جلن بخار ۔۔استسقاء کا امکان پاؤن اور ھاتھون مین جلن نیز گلا حلق سینہ آنتون مثانہ وپیشاب مین بھی جلن پائی جاتی ھے یاد رھے اگر یہ نبض درمیانی انگلی پہ قرع دے یعنی درمیانی انگلی کے بالکل وسط مین ٹھوکر لگاۓ تو یقینی طور پہ سوزاکی نبض ھے پیشاب مین جلن اور درد کا پایا جانا لازمی ھوتا ھے گاھے گاھے کچھ مریضون مین پہلے پیشاب دو دھاری خارج ھوا کرتا ھے بعد ازان ایک ھی دھار مین خارج ھونا شروع ھوجاتا ھے اب ھوتا یہ ھے پیشاب کے اخراج سے وہ رطوبت جو نالی کے منہ پہ جمی ھو اسے خارج ھونے مین تھوڑی دیر لگا کرتی ھے
یاد رکھین غدی عضلاتی کیمیاوی تحریک ھے درد گردہ ورمی ۔۔پتھریان وسوزش و ورم گردہ جلن مثانہ بول الدم تصغر گردہ تقطیر البول سوزاک بندش بول البیومن کا اخراج پیشاب زرد سرخی مائل جلن سے آتا ھے غدد جاذبہ مین تیزی اور غیر ارادی عضلات مین تحلیل اور حسی اعصاب مین تسکین ھوا کرتی ھے
اس کے علاوہ التہاب باریطون ۔۔ذات الجنب ۔ تپ محرقہ ۔۔۔سوزش وجلن بے چینی خصیتہ الرحم طمث وحیض مین بے قائدگی اور درد بعض دفعہ ایک ماہ مین دو تین دفعہ حیض ھو جایا کرتے ھین استحاضہ کی کیفیت ۔۔خفقان ضعف قلب ۔ پھیپھڑوں دل اور معدہ مین سوزش دم پھولنا پٹھون کا کمزور ھونا سن ھونا سدہ شریانی ۔ ھائی بلڈ پریشر ۔ ابتدائی اورام بشرطیکہ نبض وسط مین ھو یعنی طویل کے بجاۓ قصیر ھو تو تپ لرزہ جریان خون اندرونی زخم وجع القلب ھوتے ھین
اگر نبض باریک اور تنگ بھی ھو تو تپ محرقہ التہاب باریطون ذات الجنب ھو سکتے ھین
اگر نبض مین سختی آجاۓ تو لازمی طور پر ذات الریہہ رعشہ یا گردون کے امراض ھو سکتے ھین
مین نے کوشش کی ھے کہ آپ کو ھر وہ مرض بتا سکون اور نبض کی وہ کیفیت بھی بتا سکون جو غدی عضلاتی نبض مین عام طور پہ آسکتے ھین انشاءاللہ آگے چل کر آپ کو سر سے لے کر پاؤن تک ھر مرض کی نبض سے آگاہ کرون گا تاکہ آپ کو سمجھنے مین آسانی ھو جاۓ باقی مضمون انشاءاللہ آئیندہ گروپ مطب کامل کی زینت بنے گا اللہ حافظ

Sunday, November 25, 2018

شہد کا معجونات مین استعمال

۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔شہد کا معجونات مین استعمال ۔۔۔۔۔
کل مجھے ایک میسج میرے ایک محترم دوست نے کیا جس مین شہد کا استعمال کسی معجون مین نہ کرنے کے بارے مین سوال تھا ان کا فرمانا تھا بعض لوگون کو شہد موافق نہین ھوتی کیا کیا جاۓ اسی وقت میرے ذھن مین چند سوالات شہد کے بارے مین آۓ آئیے آپ کو بھی آگاہ کرتا ھون
یہ تو سبھی جانتے ھین کہ شہد کا استعمال ھزارون سال سے ھے میری کچھ عرصہ دلچسپی فرعونیات کے مضامین مین بھی رھی جہان تک ممکن ھو سکا اسے پڑھا اب اس دور کی تہذیب تمدن رسم ورواج معاشرتی تخلیق وقانون وبادشاھت فرعون پہ مطالعہ رھا وہ تو ھمارا موضوع نہین ھے لیکن اس مین ایک دلچسپی کی بات آپ کے لئے بھی ھے اس زمانہ مین بھی محقیقین پنسلین یعنی اینٹی بائیوٹک سے آگاہ تھے اس دور مین نزلہ زکام وبائی امراض وبخار کے لئے ایک دوا تیار ھوتی تھی جس کا رزلٹ اپنے وقت مین جادوئی سمجھا جاتا تھا
ایک روٹی خمیر شدہ تیار کی جاتی جسے پانی مین بھگو کررکھ دیا جاتا دو چار روز مین اس پہ پھپھوندی شدید قسم کی لگ جاتی تھی یاد رکھین یہ پھپھوندی ھی پنسلین ھوا کرتی ھے اب اس روٹی کو خشک کیا جاتا سوکھنے کے بعد اس پہ شیر کی چربی لگائی جاتی اور پھر سفوف بنا کر اس مین شہد شامل کرکے معجون بنا کر محفوظ کرلیتے اور بوقت ضرورت اسے استعمال کرتے
میرا یہ مقصد ھرگز نہین ھے کہ وہ لوگ علمی میدان مین کہان تک پہنچے ھوۓ تھے ھان یہ پتہ ضرور چلتا ھے وہ لوگ شہد کی افادیت سے آگاہ تھے لاشون کو حنوط کرنا اس دور کا رواج اورایجاد ھے بلکہ ان کے عقائد کا حصہ ھین اور لاش کوحنوط کرنے کیلئے وہ لوگ سوڈیم بنزوویٹ یعنی ست لوبان اور شہد مین لتھڑی پٹیان ھی لپیٹا کرتے تھے جو آج بھی ھزارون سال گزرنے کے باوجود بالکل درست ھین اس ساری گفتگو مین میرا ایک مقصد پنہان تھا طب مین ایک دوا معجون کی شکل مین ھے کیا آپ جانتے ھین کہ کیون ھے؟
اب اسی دوا کو بطور سفوف یا گولی یا کیپسول کی شکل مین بھی لایا جا سکتا ھے لیکن معجون کیون بنانی گئی تو دوستو اس سوال کا جواب کچھ یون ھے
١۔۔نباتات کچھ عرصہ بعد اپنے اثرات کھو دیتی ھین اب ساتھ شہد مل جانے سے لمبے عرصہ کے لئے اپنی افادیت پہلے دن والی برقرار رکھتی ھین
٢۔۔۔شہد مین انتہائی اعلی نسل کے ھرقسم کے وٹامن ھین ان کے اثرات انسانی جسم پہ خوشگوار ھوتے ھین یعنی ھر معجون مقوی بھی کچھ نہ کچھ ھوتی ھے
٣۔۔۔شہد دنیا کا سب سے بہترین اینٹی بائیوٹک بھی ھے اب یہ اثر بھی معجون مین ھوتا ھے
٤۔۔۔شہد کے مل جانے سے دوائین بہت حد تک خراب ھونے سے محفوظ ھو جاتی ھین
یاد رکھین کوئی بھی معجون بغیر شہد کے کبھی بھی مکمل نہین ھوتی آجکل کے حکماء خود کو ذھین فطین ثابت کرتے ھوۓ گلوکوز اور چینی کا قوام کرکے معجون بناتے ھین جو کسی صورت مین بھی معجون یا دوا کہلانے کی حقدار نہین ھوتی اسی وجہ سے دواخانون پہ اعتماد نہین رھا اس سے بہتر ھے آپ معجون کے نسخہ کا سفوف بنا کر مریض کو کھلا دین یا پھر بہترین طریقہ یہ ھے کہ آپ شہد کے موسم مین اپنی ضرورت کے مطابق شہد خالص اکھٹی کرلیا کرین
اب اس مین شفائی اثرات اسلام کی رو سے کتنے ھین وہ آپ سب جانتے ھین آپ کو پتہ ھے نا؟ کہ جب جنت کا ذکر آتا ھے تو ساتھ شہد اور دودھ کی نہرون کا ذکر آتا ھے اب اس مین ایک بہت بڑا فلسفہ ھے جہان جنت مین حورون کا ذکر ھے وھان شہد اور دودھ کا بھی ذکر ھے اللہ تعالی نے جنت کی غذاؤن مین ان کو افضلیت کیون دی اس بارے مین کوئی عالم دین ھی وضاحت فرما سکتے ھین شہد کے بارے مین سوال مجھ سے محترم پیر اویس علی چشتی صاحب نے کیا تھا وہ بہترین عالم دین بھی ھین مین ان سے ھی گزارش کرون گا کہ وہ تھوڑی وضاحت فرما دین

خالص قلمی شورہ تیار کرنا

۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔خالص قلمی شورہ تیار کرنا ۔۔۔۔۔۔۔۔
دو روز ھوۓ کسی نے یہ سوال کررکھا تھا بلکہ پوسٹ لکھی ھوئی تھی جس کا جواب کسی نے بھی نہین دیا بلکہ کچھ نے لاعلمی کا بھی اظہار کررکھا تھا مجھے بہت حیرت ھوئی اور کچھ نہین تو ھمارے گروپ مطب کامل مین بہت سے کیمیاء گر بھی موجود ھین اب یہ کیمیاء کا تو بہت ھی اھم جزو ھے اس کے بغیر کیمیاء گری کا تو سوال ھی پیدا نہین ھوتا چند ھی چیزین ھین کیمیاء گری کے لئے پارہ قلمی شورہ گندھک نوشادر وغیرہ اور مزے کی بات ھے قلمی شورہ خالص بازار مین قطعی دستیاب ھی نہین ھے سب جانتے ھین صرف ٹکرین مار رھے ھین آئیے آج اس راز سے پردہ اٹھاتے ھین مین نے تین روز پہلے قلمی شورہ خود سے تیار کیا ھے میرے پاس ختم ھو چکا تھا بہت ھی اعلی کوالٹی کی قلمین بنی ھین آجکل موسم ھے سب دوستون کو دعوت ھے وافر مقدار مین بنائین خود بھی استعمال کرین اور دوسرون کو بھی دین پہلے جو قلمی شورہ بازار مین دستیاب تھا اسے بنانے کا طریقہ یہ تھا شور زدہ زمین پہ چھوٹا سا کنوان کھودا جاتا تھا اور اس کنوین سے شور زدہ پانی نکال کر اس کا سیر شدہ محلول بنایا جاتا تھا اور پھر اس کا قلمی شورہ بنتا تھا اسے بھی آپ مکمل خالص نہین کہہ سکتے تھے کیونکہ اس مین بھی بہت سی کثافت جو زمینی پانی کی نمکیات کی شکل مین ھوتی ھے ملی ھوئی ھوتی ھے ایک بات مین دعوے سے کہتا ھون گروپ مطب کامل مین اس وقت اکاون ھزار سے اوپر ممبر ھین ان کو بھی چھوڑین بلکہ پورے پاکستان اور انڈیا مین اس دور کا کوئی بھی طبیب یا کیمیاء گر جس نے قلمی شورہ دیکھا یا استعمال کیا ھو اس نے آج تک خالص قلمی شورہ نہ ھی دیکھا ھے اور نہ ھی استعمال کیا ھے جو بازار مین کمپنی کا تیار شدہ ایک نمبر قلمی شورہ دستیاب ھے وہ بھی سواۓ کیمیکل کے اور کچھ نہین ھے مصنوعی طریقہ سے بنایا جاتا ھے انشاءاللہ جو طریقہ بتانے لگا ھون یہ دنیا کا سب سے خالص قلمی شورہ بنے گا آئیے اب بات کو سمجھین
شور زردہ زمین سے وافر مقدار مین سفید شور جو زمین کے اوپر سفید تہہ سی بنا چکا ھو اسے صاف ستھرا حاصل کرین یعنی اوپر اوپر سے اٹھا لین مٹی کسی صورت شامل نہ ھونے دین اب اس مین چار گنا پانی شامل کرین پتا ھے کونسا پانی شامل کرنا ھے صرف بارش کا پانی شامل کرنا ھے اب بہت سے لوگ کمنٹس مین یہ سوال کرین گے کہ کیا فلٹر والا پانی یا نہر کا صاف پانی یا کسی اور طریقے سے صاف شدہ پانی شامل نہین کرسکتے تو جناب قطعی نہین شامل کرنا صرف بارش کا پانی اس مین شامل کرنا ھے یہ واحد پانی ھوتا ھے جس مین نمکیات شامل نہین ھوتے باقی آپ بے شک روئی کا باقائدہ فلٹر بنا کر اس سے پانی فلٹر کر لین اس مین نمکیات شامل رھتے ھین ھان ایک طریقہ ھو سکتا ھے پہلے فلٹر کرین پھر عرق نکالنے والے قرع انبیق مین ڈال کر اس کا عرق نکال لین یہ بڑی حد تک صاف ھو جاتا ھے میری ان سب باتون سے مراد یہ ھے جو پانی آپ نے اس شور مین شامل کرنا ھے وہ زیرو ھونا چاھیے بن تو دوسرے پانی سے بھی جاۓ گا لیکن نمکیات شامل ضرور ھونگے
اب جب آپ نے اس حاصل شدہ شور کو پانی مین حل کردیا ھے پھر بھی احتیاطً اسے روئی کی مدد سے فلٹر کردین یا کم سے کم موٹے کپڑے سے چھان لین اب اس کو آگ پہ چڑھا دین اور اتنا ابالین کہ اگر آپ نے کلو شور ڈالا تھا تو ساتھ کلو ھی پانی رہ جاۓ اب اسے آگ سے نیچے اتار کر رکھ دین کسی محفوظ جگہ پہ ڈھانک کر رکھ دین بلکہ رات کو باھر ٹھنڈی فضاء مین رکھین صبح دیکھین گے تو اس مین نیچے تہہ مین بے شمار شیشے کی طرح قلمین بنی ھوئی ملین گی اب اوپر والا پانی اتار دین اور قلمون کو دھوپ مین خشک کر لین یہ آپ کا قلمی شورہ نایاب قسم کا تیار ھو گیا ھے اب جہان چاھے استعمال کرین جہان بھی قلمی شورے کی آپ کو ضرورت ھے یہ ھے خالص ترین قلمی شورہ