Friday, May 10, 2019

تشخيص امراض وعلامات 78

۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔تشخيص امراض وعلامات ۔۔۔قسط نمبر 78۔۔۔۔
کچھ عرصہ سے یہ سلسلہ موقوف تھا سردیون کی راتین بڑی ھوتی ھین ماحول کا پرسکون ھونا ذھنی یکسوئی فرصت کے لمحات سب ایک ساتھ میسر ھون تو لکھنے کا مزا بھی آتا ھے پڑھانا بھی درحقیقت ایک مشکل کام ھوتا ھے ایک لیکچر کی تیاری مین کافی کتابین کھنگھالنی پڑتی ھین تب جاکر بندہ صبح لیکچر دے سکتا ھے اسی طرح لکھنا اس سے بھی مشکل کام ھے یاداشتون کو قوی کرنا اور بحال رکھنا پڑتا ھے تب تجربات سمیٹ کر ایک نئی کتاب کی شکل دی جاسکتی ھے بڑی عرق ریزی چاھیے اس دشت کی سیاحی مین ؟
خیر کوشش ھے رمضان المبارک کے بابرکت ماہ مین اسے مکمل کردیا جائے قسط نمبر 77مین مختلف لیبارٹری ٹیسٹون کے بارے مین آگاہ کررھا تھا بلکہ آپ کی یاداشت بحال کرنے کے لئے علیحدہ سے اس قسط کو بھی لگائے دیتا ھون آج امراض گردہ پہ قارورہ ٹیسٹ لکھنے کی کوشش کرتے ھین تو سب سے پہلے شدید سوزش گردہacute nephritis اور ورم کلیہ glomerulonephritis
پہ بات کرتے ھین چلین اس مرض پہ بھی تھوڑی تشریح کردیتے ھین سوزش گردہ عموما گلے پکنےبرونکائی ٹس سردی لگنے نمونیا ٹائیفائڈ آنتون کی سوزش یا کسی اور بیماری سے ھو سکتی ھے بہرحال یہ ایک خطرناک مرض ھے سوزش گردہ کو برائیٹس ڈزیز بھی کہتے ھین اس کے سب اسباب کبھی مرض اور کبھی علامت بیان کرتے ھین
اب اس کی علامات مین بلڈ پریشر مین اضافہ جسم خاص کر چہرے پہ ورم کمی خون کمی بول پیشاب مین البیومن اور خون کے سرخ ذرات کا آنا کاسٹ آنا
اب اس بیماری سے یا تو پانچ چھ ھفتے بعد آرام آجاتا ھے یا پھر یہ ایک مذمن مرض کی شکل اختیار کرجاتا ھے
آکثر ایلوپیتھک مین اس کا علاج انتہائی اعلی اینٹی بائیوٹک سے ھی کیا جاتا ھے جس مین عام ڈاکٹر حضرات سیپروفلاکسن ایماکسل بلکہ کلیری سیڈ تک استعمال کرتے ھین اب ان کے استعمال کا زیادہ سے زیادہ عرصہ پانچ دن تک ھوتا ھے جبکہ اکثر ڈاکٹر اینٹی بائیوٹک دوتین ھفتے لگاتار استعمال کرکے بندے کو یقینی گردون کا مریض بنادیتے ھین بلکہ یون سمجھ لین اس صورت مین گردے مذید سوزش ناک ھوجاتے ھین کیونکہ مریض مقررہ مقدار تک پانی بھی استعمال نہین کرتا اب جب گردے سوزش ناک ھوتے ھین تو لازما گردے موٹے بھی ھوجاتے ھین اور جسم بھی متورم ھوجاتا ھے پیشاب کا رنگ سرخی مائل مریض کا چہرہ پیلا آنکھون کے گرد زیادہ ورم ھوجاتا ھے جو صبح صبح بالکل نمایان ھوتا ھے تین چار روز معمولی بخار رہ سکتا ھے اب پروٹین تین گرام فی دن زیادہ اور یوریا سو ملی گرام تک بڑھ جاتا ھے الٹیان آتی ھین اور غنودگی طاری رھتی ھے فشارالدم قوی hypertension خونی بول hematuriaپروٹین کا اخراجproteinuriaاور کمی پیشاب oliguriaاس کی چیدہ چیدہ علامات ھین یہ مرض اکثر بچون مین دیکھی گئی ھے
اب اس مرض کی چند ایک وجوھات مین سے ایک بڑی وجہ مدافعتی نظام کی خرابی ھے ایک بات یاد رکھین کہ جب بھی کسی انفیکشن یا سوزش سے اینٹی جن یعنی جسم کے مخالف ذرات بنتے ھین تو قوت مدافعت یعنی اینٹی باڈیز یعنی جسم کا دفاع کرنے والے کیمیائی مادے بنا کر اینٹی جن کو ناکارہ کرتی ھے اب یہ اینٹی جن اور اینٹی باڈیز گردون مین پہنچ کر فلٹریشن کے نظام کو کمزور کردیتے ھین
بعض دفعہ تو قوت مدافعت جسمانی بافتون کو حملہ آور اینٹی جن سمجھ کرانہین برباد کرنا شروع کردیتی ھے مدافعتی نظام کی ایسی خرابی کو آٹوایمیون ڈزیز کہتے ھین کئی بار گردون کے سیلز اس زد مین آجاتے ھین
لیبارٹری ٹیسٹ ۔۔۔۔۔۔۔
پیشاب کا معائینہ کرنے پر سفید وسرخ سیلز۔۔۔سرخ سیلز کاسٹس اور پروٹین ملے گی پیشاب مقدار مین کم ھوگا
بلڈ ٹیسٹ مین خون کی کمی۔۔ بی این یو ( یوریا)کریاٹی نین کی مقدار زیادہ اور الیکٹرولائٹس مین عدم توازن پایا جائے گا
انیمیا کے لئے سی بی سی کروا لین RFTیعنی رینل فنکشن ٹیسٹ ۔۔الیکٹرولائٹس ٹیسٹ سے بھی بقیہ خرابیون کا پتہ چل جاتا ھے ASO TITRESاور ای ایس آر بلڈ مین بڑھ جاتا ھے
باقی مضمون اگلی قسط مین محمود بھٹہ گروپ مطب کامل

Thursday, May 9, 2019

اکسیر اور تریاق دوا مین فرق

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔ اکسیر اور تریاق دوا مین فرق۔۔۔۔۔۔
ریاض شاہ صاحب نے آج انباکس سوال لکھا ان دونون کا فرق پوچھا پہلے تریاق کی تشریح کرلیتے ھین
تریاق وہ دوا ھوتی ھے جو مرض پہ وقتی طور پہ سہارا دے
تریاق دوا مرض کی شدت کی صورت مین تھوڑے تھوڑے دقفہ سے دی جا سکتی ھے جب تک مریض کومرض سے افاقہ نہ ھوجائے پھر وقت بڑھایا جاسکتا ھے
تریاق دوا مرض کو افاقہ دینے کے ساتھ ساتھ خود بدن سے خارج بھی ھوجایا کرتی ھے یہ جزو بدن نہین بنا کرتی
عمومی طور پہ تریاق اس دوا کو کہتے ھین جو کسی بھی زھر کا فوری توڑ ھو یعنی زھر کے اثر کو باطل یعنی ختم کردے یا مرض کی پہلی حالت کو فوری دوسری حالت مین بدلنے کی خوبی رکھتی ھو تریاق کو انگریزی مین اینٹی ڈوٹ کہتے ھین
اب لفظ تریاق خصوصا ایک واحد دوا کو بھی کہا جاتا ھے وہ ھے افیون
اب بہت سی طبی کتب مین افیون کا نام ھی تریاق لکھ رکھا ھے لیکن بہت کم لوگ جانتے ھونگے کہ افیون کو تریاق کیون کہتے ھین دراصل افیون کا نشہ اور اثرات تو بہت تیز ھوتے ھین اب اس کے اثرات کو زائل کرنا یعنی افیون کےبد اثرات کو ختم کرنے کے لئے کچلہ استعمال کیا جاتا ھے تو فورا افیون سے پیدا شدہ براثرات زائل ھو جاتے ھین اس لئے نام تو کچلہ کا تریاق ھونا چاھیے لیکن کہا افیون کو جاتا ھے وہ بھی اس لئے کہ جب کچلہ کے ضرورت سے زیادہ براثرات بدن مین ظاھر ھون تو اسے زائل کرنے کے لئے افیون کا سہارا لیا جاتا ھے جہان بھی افیون کسی نسخہ مین ڈالی جاتی ھے تو کچلہ ساتھ ضرور ڈالا جاتا ھے یعنی یہ دونون ایک دوسرے کے غلط اثرات بھی زائل کرین اور اپنی اپنی خوبیان بھی برقرار رکھین جیسے کھار کے اثرات کو زائل کرنے کے لئے ترشی کا استعمال کیا جاتا ھے اور اسے تریاق بنا دیا جاتا ھے لیکن دوستو ان سب صفات کے علاوہ افیون کو تریاق کہنے کی سب سے بڑی وجہ جو نظر آتی ھے وہ ھے
لگے دم مٹے غم والی بات یعنی اس کے کھانے سے بندہ غفلت کی نیند مین چلاجاتا ھے یا پھر جاگتے ھوئے بھی سوتا رھتا ھے یعنی دماغ سن ھوجاتا ھے سوچنے کی صلاحیت مفقود کردیتی ھے اس لئے بندے کو ھرغم سے آزاد کردیتی ھے اس وجہ سے اسے کا نام تریاق بھی پڑ گیا باقی ادویاتی طور پہ جو قانون ھے تریاق کے لئے اسکی ایک بھی صفت یا ایک بھی قانون پہ افیون نہین اترتی کیونکہ تریاق دوا اپنے اثرات بدن مین کرتے ھوئے جسم سے خارج بھی ھوجانی چاھیے جبکہ یہ بدن سے ایسے ویسے خارج ھونے کا نام بھی نہین لیتی
اب آتے ھین اکسیر کی طرف
اکسیر اس دوا کو کہا جاتا ھے جو اپنے انفرادی اثرات مین اعلی صفات رکھتی ھو یعنی بدن مین فورا جذب ھو کر یعنی خون مین شامل ھوکر اپنا عمل فورا شروع کردے اور یہ دوا جزو بدن بھی رھے یعنی لمبے عرصہ تک جسم سے خارج نہ ھو اور اپنے اثرات مستقل یعنی دائمی شفائی اثرات رکھے ایسی ادویات ھمیشہ اس وقت استعمال کرنی چاھیے جب کوئی بھی مرض بدن مین مستقل ڈیرے ڈال لے یعنی مرض دائمی ھو چکی ھو مثلا شوگر ۔۔چھپاکی ۔ دائمی قبض ۔ خارش ۔ چنبل ۔سوزاک وغیرہ ان سب امراض کی علامات اس وقت بدن پہ ظاھر ھوتی ھے جب یہ لمبا عرصہ جسم کا خون مین جمع ھوتی رھتی ھین اور طویل وقت گزرنے کے بعد ظاھر ھوا کرتی ھین
یہ تھی تشریح اصطلاحات اکسیر اور تریاق کی جبکہ اب دیکھتے ھین کہ دوا مین اکسیر والے فوائد کسی طور نظر نہین آرھے ھوتے جبکہ صاحب نسخہ نے اس کا نام اکسیر فلان بن فلان سے شروع کررکھا ھوتا ھے اس لئے بہتر ھے پہلے اکسیرات اور تریاق بنانے کا فن سیکھین بلکہ اس مین جتنی بھی اصطلاحات دوا کے زمرے مین آتی ھین وہ سب سمجھے جیسے کسی دوا کو محرک تو کسی کو شدید تو کوئی ملین یا پھر مسہل یا مقوی لکھا ھوتا ھے یاد رکھین طب بڑا ھی وسیع میدان ھے اب اس کا نام طب نہین ھے کہ چند نسخے بنا لئے اور ایک جمیل مین ڈالے اور گلی محلہ گاؤں گاؤن جاکر آوازین لگائین کہ سنیاسی بابا آگیا ھے یا کسی تھڑے پہ جمال افروز ھو گئے یا زیادہ کیا تو دوکان سجا لی اب وہ چند نسخے ھی کل کائینات بن گئے بہتر ھے طب پڑھین ایک اچھے اور باکمال طبیب بنین یہ نہ کرین کہ ساری زندگی ایک نسخہ تلاش کرنے مین لگا دی اور آخر مین خود بھی مختلف عارضہ جات کی لپیٹ مین آکر قبر مین جالیٹے مرتے دم تک یہی خواھش رھے کاش فلان نسخہ مجھے مل جاتا تو مین کامیاب ھو جاتا لعنت ڈالین ایسے نسخہ پر ۔۔ ایک طبیب کسی بھی دوا یا نسخے کا محتاج نہین ھوتا بلکہ نسخہ ھمیشہ طبیب کا محتاج ھوتا ھے کہ کب اور کس مقام پہ طبیب مجھے استعمال کرے گا مین ھمیشہ مختلف ادویات مین خود جدت پیدا کرتا رھتا ھون لکیر کا فقیر کبھی بھی نہین رھا بلکہ بعض دفعہ دوا کی ماھیت ھی بدل کے رکھ دیتا ھون مثلا گرم خشک مزاج کی دوا ھے اب اس کی صفت یہی ھے کہ یہ دوا بدن مین گرمی کے ساتھ خشکی ھی پیدا کرے گی لیکن مجھے ضرورت ھے کہ اس کے شفائی اثرات سے بھی فائدہ اٹھاؤن اور اس مین یہ خوبی بھی پیدا ھو کہ یہ خشکی نہ کرے بلکہ تری پیدا کرنا شروع کردے اب ایک طریقہ یہ ھے کہ مین اس مین ایسی ادویات ساتھ ملاؤن کہ وہ اپنی خشکی بھی چھوڑ دے اور تری والی صفات بھی پیدا ھوجائین لیکن یاد رکھین جب دیگر ادویات ساتھ ملاؤن گا تو ان ادویات کے اثرات بھی شامل ضرور ھونگے اب میرے لئے آسان کام کیا ھے مین اس دوا کو کھار کی شکل مین بدل دون اب یہ بجائے خشکی کرنے کے تری پیدا کرے گی اسی طرح ایک سرد دوا کو گرم مزاج مین لانے کے لئے مین اسے نمکیات کی حالت مین لے جاتا ھون عقلمند کے اتنا اشارہ ھی کافی ھے اب کچھ محنت خود بھی کیا کرین میری باتین اکثر تلخ ھوتی ھین یا کچھ دوست سمجھتے ھین لیکن کبھی جھول نہین آئے گا خدا را ایک اچھا طبیب بننے کے لئے پڑھین محنت کرین طب ایک وسیع سمندر ھے اس مین غوطہ زن ھون لیکن پہلے تیراکی ضرور سیکھ لینا کہین ڈوب ھی نہ جائین دعاؤن مین یاد رکھیے محمود بھٹہ گروپ مطب کامل

Monday, May 6, 2019

شربت بادام خاص

۔۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔شربت بادام خاص۔۔۔۔ تحفہ رمضان المبارک۔۔۔۔
کل انشااللہ بروزمنگل پہلا روزہ ھے بابرکت ماہ کی آمدھے درحقیقت روزہ عبادت کے ساتھ ساتھ بدن انسانی سے تمام فاسد چھٹ جاتے ھین یا یون سمجھ لین پورے بدن کے ایک ایک حصے کی ٹیونگ ھوجاتی ھے قوت برداشت اور مدافعتی نظام مکمل طور پہ نیا ھوجاتا ھے بے شمار امراض سے بدن انسانی بچ جاتا ھے اخلاط ومزاج اعتدال پہ آجایا کرتے ھین ھان ایک غلطی ھم سب کرتے ھین جبکہ وہ نہین کرنی چاھیے وہ غلطی ھمیشہ بوقت افطاری ھم کرتے ھین جب ھم پکوڑون سموسون فروٹ چاٹ کباب تکے اور انواع اقسام کے کھانون کا ڈھیر سامنے لگا کر بیٹھ جایا کرتے ھین جبکہ یہ درست بات نہین ھے کوشش کرین سادگی سے افطاری کرین۔ کجھور سے اور ساتھ پیاس کے لئے پسندیدہ مشروب کھانا بھی سادہ رکھین ھان سحری کسی ایک کھانے سے بھرپور کرلیا کرین اس تمام عمل کا فائدہ آپکی صحت کی صورت مین ظاھر ھوگا
اب تھوڑا ذکر کل کی پوسٹ کے بارے مین۔۔
بہت سے لوگون نے شربت کی قیمت بھی پوچھی یا پھر بھیج دینے کی بابت لکھا دوستو مشروبات یا تو خود تیار کرلین یا پھر کسی قریبی اچھے حکیم سے تیار کروا لین مین تواپنے استعمال کےلئے صرف بناتا ھون ھان اگر پینے کا شوق ھے تو میرے پاس تشریف لے آئین پلا مین دونگا
خیر سے بنانا بھی کچھ مشکل نہین ھوتا
ثابت بادام کلو لین اب اس کی گری خود نکالین بازار سے نکلی ھوئی گری قطعی نہ لین خواہ کتنی بھی اچھی ھو یاد رکھین بادام مین ایک روغن فرافری ایسا بھی ھوتا ھے جو ذائقہ دینے کے علاوہ قوت بھی پیدا کرتا ھے اب اس کی حفاظت کے لئے اتنےموٹےخول مین گری بادام کورکھا ھے جو کچھ عرصہ گری نکلنے کے بعد بادام کی گری سےاڑجایا کرتا ھے کلوبادام سے پاؤ بھرگری نکلے گی اب اس کا چھلکا اتار کرگری سفید کرلین اب اس گری کے ساتھ آدھ پاؤ چہار مغز بھی شامل کرلین اور پچاس گرام الائچی سفید علیحدہ سے رگڑ کے پاؤ بھرپانی مین بھگو کے رکھ لین تین گھنٹہ بعد دوتین ابال دے کر ٹھنڈہ ھونے کے لئے رکھ دین اب بادام اور چہار مغز کو تھوڑاتھوڑا لین اور ملک شیک والے جگ مین ڈالکر تھوڑی مقدار مین عرق گلاب ڈالکر اسے شیک کرین جب اچھی طرح شیک ھوجائے تو موٹے کپڑے سے چھان لین اسی طرح تمام گری بادام اور چہار مغز کی عرق گلاب کے ساتھ دودھی نکال لین عرق دولٹر ھونا چاھیے اب یہ دودھی آپ کے پاس دولٹر ھے تو چارکلو چینی سے اس کا قوام کرین جب ایک دوابال آجائین تو الائچی والاپانی چھان کر اس قوام کے ساتھ شامل کرکے مذیدایک ابال آنے پہ نیچے اتار لین شربت کو محفوظ رکھنے کے لئے چھوٹی چمچ سوڈیم بنزوویٹ ڈال دین ٹھنڈہ ھونے پہ صاف بوتلون مین بھر لین جب دل چاھے شربت بادام پیئن انتہائی ذائقہ دار شربت بنتا ھے مذید اسی شربت کو دودھ کی لسی مین بھی شامل کرکے پیا جا سکتا ھے گروپ مطب کامل محمود بھٹہ


Sunday, May 5, 2019

مہزل

مہزل برائے مخصوص حکمائے کاملین ۔۔
ھوالشافی ۔۔
جوھر عقاب ( نوشادر کے جوھر ) ۔۔ تلاطین مقیمہ در فلک سیر ( بھنگ میں قائم کیا شورہ ) ٹاٹری فرانس ۔۔ کھار پس افگندہء شتر ( اونٹ کے گوہر کی کھار ۔۔ جملہ مساوی الوزن اور سب کے برابر اسارون ۔۔ خوراک 1 گرام بر رائے طبیب ھمراہ عرق بادیان ۔۔ عرق مکو ۔۔ عرق اجوائن ۔۔ سرکہ سیب مکد وزن مخلوطہ بقدر نیم پاو ۔۔ صرف پتوں والی سبزیاں ۔۔ کالی توری ۔۔ ٹینڈے ۔۔ مولی ۔۔ مونگرے ۔۔ بند گوبھی ۔۔ دال مونگ ۔۔ روٹی مکئی ۔۔ ان شاء اللہ المستعان جلد ھی بہتری ھوگی ۔۔

سلاجیت کیا ھے|salajeet|shilajit



۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کا مل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
|shilajit|What is salajeet
۔۔۔۔۔۔ سلاجیت کیا ھے ؟؟؟ ۔۔۔۔۔۔۔
آج ایک پوسٹ پڑھی جو سلاجیت کے بارے مین تھی اب لکھا تھا کہ سلاجیت پہاڑون مین ایک جانور ھوتا ھے اس کا پاخانہ ھوتا ھے صاحب پوسٹ علم الادویہ کے ماھر بھی ھین محترم نے پوسٹ مین واضح لکھا کہ یہ مین نے ایک مضمون مین پڑھا ھے اور غالبا کسی اخبار وغیرہ کا مضمون تھا پھر موصوف آگے لکھتے ھین کہ ان کے پاس سوات کا کوئی پٹھان تھا جس نے تصدیق کی کہ واقعی ایک جانور کا پیشاب ھوتی ھے سلاجیت اب پوسٹ کے کمنٹس مین کچھ لوگون نے حکماء کو کوسا ھوا تھا کہ واقعی اگر یہ جانور کا پیشاب ھے تو انتہائی ظلم کرتے ھین حکیم لوگ ۔۔یہ سب مین نے سرسری پڑھا اور نہائت افسوس ھوا کہ کم سے کم ایک سمجھدار طبیب سے یہ امید نہ تھی کہ ایسی پوسٹ لکھتا ۔۔تو آئیے محترم آج سلاجیت کی حقیقت جانین ۔۔تو دوستو سچ یہ ھے کہ یہ پہاڑ کا گوند کہہ لین رال کہہ لین نکلتا پہاڑ سے ھی ھے مین نے مزید تحقیق کے لئے سچی بات ھے اس وقت کم سے کم 14 کتابون سے مطالعہ کرنے کے بعد پوسٹ ذمہ داری سے لکھ رھا ھون جس مین جدید ترین کتاب بوٹانیکا بھی دیکھی ھے اور مین آپ کو یہ بھی بتا دون سلاجیت کو مین نے اصل حالت مین بھی خود دیکھ رکھا ھے یاد رھے یہ عام پہاڑون مین نہین ھوتی بلند سیدھے لمبے پہاڑون مین ھوتی ھے مزے کی بات سلاجیت ھمیشہ سے خطرناک مقام پہ ھوتی ھے یعنی بلند ترین پہاڑی غارون مین مئی اور جون کی گرمی مین یہ ترشہ یعنی خمیر پا کر پہاڑ سے باھر نکلتی ھے اور ھمیشہ بلندی پہ نکلتی ھے اور یاد رکھین جن پہاڑون مین اسفالٹ کی کانین یا پتھر ھوتا ھے یہ صرف اسی پہاڑ مین ھوتی ھے اور یہ بھی ذھن مین رکھین کہ اسفالٹ پتھر مین ھی خمیر پیدا ھو کر سلاجیت نکلتی ھے اس لئے اسے انگریزی مین سیدھا سیدھا اسفالٹ ھی بولتے ھین ھان عربی مین حجر موسی اور اردو مین سلاجیت کہتے ھین اور یہ چار رنگون مین دستیاب ھوتی ھے آپ سب نے صرف سیاہ دیکھی ھوئی ھےنمبر1۔سورن سلاجیت۔جس کا رنگ سرخ ھوتا ھے۔2۔ چندریا چاندی یہ سفید رنگ مین ھوتی ھے۔3۔تامیسر ۔یہ تانبہ کے رنگ کی ھوتی ھے سیاھی مائل بھوری ھوتی ھے ۔4۔ بالکل سیاہ یہی بکثرت ھوتی بھی ھے اور آپ کو ملتی بھی ھے اصل سلاجیت مین دو اجزاء پاۓ جاتے ھین بینزوئیک ایسڈ اور بنزوایٹس یاد رکھین یہ دو نمبر عام ھے سڑا ھوا گڑ سلاجیت بنا کر فروخت کیا جاتا ھے اسے پنجابی مین مومیائی کہتے ھین جب یہ پہلے حاصل کی جاتی ھے تو اس مین پتھر کینکرے بہت ھوتے ھین اسے چار حصہ پانی مین ملا خوب ھلا کر حل کیا جاتا ھے تاکہ سلاجیت پانی مین حل ھو جاۓ اور ریت پتھر نیچے بیٹھ جائین پھر اس پانی کو کسی دوسرے برتن مین ڈالکر آگ پہ رکھا جاتا ھے تو اس پانی کے اوپر بالائی سی بنتی ھے اسے اتار لیتے ھین جب تک پانی کے اوپر بالائی بنتی رھے اسے اتارا جاتا ھے جب بننا بند ھو جاۓ تو پانی پھینک دیا جاتا ھے یہی بالائی اصل سلاجیت ھے تیز آنچ پہ اصل سلاجیت خراب ھوجاتی ھے ۔۔مزاج کے اعتبار سے خشک گرم ھے مقوی باہ مقوی معدہ مقوی عضلات مقوی گردہ مثانہ حرارت غریزی پیدا کرتی ھے پیٹ کے کیڑے مارتی ھے یاد رھے جن کو پیٹ مین ھر وقت گڑ گڑ کی آوازین آتی رھتی ھین اس کے لئے بہت ھی اعلی دوا ھے نزلہ زکام کو ٹھیک کرتی ھے کمر درد پٹھون کے درد کو بہت ھی اچھی ھے بھوک بہت لگاتی ھے پیٹ کی بڑھی ھوئی رطوبتین اور خمیر کو بہت مفید ھے ایک وہ لوگ جو پہاڑون کی چڑھائی ھر روز چڑھتے ھین وہ ضرور کھاتے ھین وہ نہ تھکتے ھین نہ سانس پھولتا ھے اگر یہ لنگور یا دوسرے بندر کو نظر آ جاۓ تو لازمی کھاتا ھے براہ کرم غلط بات لکھ کے لوگون مین غلط تاثر طب کا نہ پیدا کیا کرین آپ کی بہت مہربانی کہ آپ نے آج کی ہوسٹ بغیر آنکھ جھپکاۓ پڑھی کیا خیال ھے پھر کھائین سلاجیت اور لگائین چھلانگ لنگور کی طرح؟؟؟؟؟؟؟؟۔۔۔

https://www.facebook.com/groups/126909197934246/permalink/165066044118561/ 

قوت باہ منفرد دوا

۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کا مل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔ قوت باہ منفرد دوا ۔۔۔۔۔۔۔
کسی دوست کے انتہائی مجبور کرنے پہ انشاءاللہ گاھے بہ گاھے اس موضوع پہ بھی درمیان مین پوسٹ ضرور آیا کرے گی لیجئے بغیر تمہید کے اعلی ترین دوا لکھنے لگا ھون ۔۔۔۔۔خولنجان 10گرام۔ کبابہ 10گرام ۔ زنجبیل تازہ10گرام۔ مصطگی رومی 10گرام ۔ جوزبوا10گرام ۔ دارچینی 10گرام ۔ قرنفل10گرام ۔ عقرقرحا 5گرام ۔ عود خالص 2 گرام ۔ کستوری اصل 2 گرام ۔ کستوری کو پہلے عرق بید مشک مین کھرل کرین ۔ پھر باقی ادویہ پیس کر تین گنا خالص شہد مین ملا کر معجون بنا لین آدھی چمچ صبح شام ھمراہ دودھ دین کھاتے ھی جسم مین شدید قسم کی حرارت غریزی پیدا ھو گی انتشار بھی شدید آتا ھے مقوی باہ اور مقوی قلب بھی ھے ایک ھفتہ مین دیکھین آپ کو کتنی کامیابی ملتی ھے یعنی شاندار رزلٹ۔۔۔۔۔ بے ضرر اور برے اثرات سے پاک دوا

اکسیر جریان|Jeryan

Akser Jiryan
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔ اکسیر جریان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بے مثال رزلٹ بے شمار فوائد کی حامل یہ دوا آپ کوشش کرکے زیادہ مقدار مین بنائین مین تو مقدار آپ کو سمجھانے کے لئے وھی بتاؤن گا جس سے آپ سمجھ جائین فوائد بعد مین پہلے دوا اور اس کی ترتیب سمجھ لین
انگور کا خالص پانی 50گرام
آب انار 50گرام
آب برگ کیکر50گرام
آب ادرک 50گرام
آب پیاز 50گرام
برادہ فولاد 50گرام
نوشادرٹھیکری 6گرام
حل کرکے ایک مرتبان مین ڈالکر منہ بند کرکے دوھفتہ دھوپ مین رکھین جب حل ھو جاۓ تو
جاوتری6گرام
جائفل9گرام
زعفران 3گرام
کشتہ فولاد خانہ ساز 6گرام کوٹ کر چھان لین اور مرکب مین شامل کرکے ایک لوھے کی کڑاھی مین ڈالکر اگر میسر ھوتو بیری کی لکڑی کی آگ دین ورنہ کوئی بھی ھلکی آنچ پہ رکھ دین جب قوام گاڑھا ھو جاۓ تو اتار کر 40 گولیان بنا لین
صبح اور رات سوتے وقت 1تا2 گولی ھمراہ دودھ کھا لین
ضعف جگر ۔۔ جریان ۔ ضعف اعصاب و دماغ وغیرہ کے لئے خاص اکسیر ھے خون وافر مقدار مین پیدا ھوتا ھے جریان سے پیدا شدہ تمام عوارضات ٹھیک کرنے مین اپنا ثانی نہین رکھتی یاد رھے پہلے حصہ سے چھ گرام آپ نے کشتہ فولاد تیار شدہ لینا ھے باقی کا اسنمبھال رکھی

ھور چُوپو

۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔ ھور چُوپو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کبھی کبھی معلوماتی تاریخی حقائق پہ بھی مضمون ھونا چاھیے
لیکن آج کا عنوان تجویز کرنے کے لئے سرمد وقاص کا ھاتھ ھے فونک گفتگو ھو رھی تھی اور مین اسے کہہ رھا تھا سرمد کل آجاؤ مین تجھے شتر مرغ کا گوشت کھلاتا ھون کل شتر مرغ ھمارے یہان ذبح ھو گا لاھور مین تو گوشت پندرہ سو سے دوھزار روپے کلو آجکل ملتا ھے لیکن ھمارے یہان بارہ سو روپے کلو ملتا ھے دوستو شتر مرغ کا گوشت نہایت ھی لذیذ اور دل کے مریضون کے لئے اکسیر کا درجہ رکھتا ھے یہ سب کچھ اس لئے بتا رھا ھون کہ بات اس گوشت سے شروع ھوئی اور چکن تک آگئی جسے ھم ولایتی چوچے کا گوشت بھی کہتے ھین بحث اس کی افادیت پہ آگئی سرمد کہنے لگا کہ مین نے ایک آرٹیکل پڑھا ھے جس مین یہ لکھا تھا کہ برائلر مین وہ سب خصوصیات پائی جاتی ھین جو سور کے گوشت مین پائی جاتی ھین مین نے کہا پڑھا تو مین نے بھی ھے کہ اس مین سور کا کچھ نہ کچھ کردار ھے لیکن یہ سب مضامین مستند حیثیت نہین رکھتے کیونکہ ھمارے پاس ایسی لیبارٹری موجود نہین ھے جس سے اصل حقیقت کا پتہ چلایا جا سکے ھان اس کا گوشت مسلسل کھانے والون کا حشر مین نے اپنی آنکھون سے ضرور دیکھا ھے جسم پھول جاتا ھے ایک ھی جگہ بیٹھے رھنے کو جی چاھتا ھے اور وہ سب امراض بگڑی شکل مین اس شخص کے اندر موجود ھوتی ھین جو اس مرغ مین پائی جاتی ھین مثلا ھائیڈرو۔۔۔ کا کسی کریزا۔۔ایکولائی ۔۔گمبھورو ۔۔ اینڈی ۔۔ یہ عام مشہور امراض ھین اس مرغ کی اور اسے کھانے والا دل کا مریض ھو نہ ھو لیکن دل کے پاس اور پھیپھڑوں مین پانی اکثر جمع ھوتا ھے جوڑون کے امراض مین اکثر ایسے لوگ ملوث ھوتے ھین پیٹ گیس خمیر کا شکار لازما اسے کھانے والے ھوتے ھین نزلہ زکام عام رھتا ھے قوت مدافعت بدن مین کم ھوتی ھے اگر مدافعتی نظام گڑ بڑ ھو تو چھوت دار امراض کا بندہ اکثر شکار رھتا ھے یعنی وہ سب خوبیان جو اس مرغ مین پائی جاتی ھین وہ بندہ اپنا لیتا ھے اب مین اس فلسفہ پہ کہ عادات وتاثیرات کیسے منتقل ھوتی ھین اس پہ دو حوالے ضرور دونگا ایک تاریخی ایک طبی حوالہ
پہلے تاریخی حوالہ۔۔۔ جن دوستو نے تاریخ پڑھی ھے یا مطالعہ کیا ھے وہ سبائیون کے بارے مین ضرور جانتے ھونگے سبائیون کی فوج کا ایک حصہ جسے فدائی کہا جاتا تھا فدائی کمانڈو ایکشن کرتے تھے اور یہ آج کے خود کش بمبار سمجھ لین جنہین اپنی جان کی پروا نہین ھوتی ان فدائیون کی ٹرینگ ایسی ھوتی تھی یہ انتہائی خونخوار مکار دلیر اور چالاک ھوتے تھے یہ اکثر حملہ آور ھونے کے بعد بچ کر نکل آیا کرتے تھے کیا آپ جانتے ھین ان مین یہ سب خوبیان کیسے آتی تھی تو دوستو انہین ورزش یا ٹرینگ کے ساتھ ساتھ غذا مین بلیون کا گوشت اور حشیش پلائی جاتی تھی بلی کا گوشت کھلانے کا فلسفہ اس لئے تھا کہ تمام بلی والی خوبیان ایک فدائی مین پیدا ھو جائین اور ھو جایا کرتی تھین اب دوسری طبی مثال ۔۔۔تمام قدیم حکماء متفقہ الیہ اس بات کے قائل تھے کہ انسان کا جو اعضاء بیمار ھے اسے حلال جانور کے اسی حصہ کا گوشت بعض صورتون مین کھلانے سے مرض مین افاقہ ھوتا ھے جیسے آج بھی گھٹنے کے درد والے یا دیگر جوڑون کی دردون مین پاۓ کھانے کو کہا جاتا ھے یعنی اعضاء کی تاثیر اس بیمار اعضاء کو تقویت دینے مین معاون ھو یہ مسلمہ اصول ھے جیسے آج بھی سنگرھنی کے مریض کو سنگ دانہ مرغ دینے سے یا اوجھری کھلانے سے فوری آرام آتا ھے یعنی اوجھری سنگرھنی کا اٹل علاج ھے آزما کردیکھ لین
تو کیا خیال ھے دوستو اگر برائلر کا گہری نظر سے مشاھدہ کرین اس کے چلنے پھرنے بیٹھنے کھانے رھنے کا مشاھدہ کرین اور یہ بھی مشاھدہ کرین ایک فارم مین نراور مادہ دونون ھوتے ھین کبھی آپ نے کسی نر کو کسی مادہ سے اٹھکلیان کرتے دیکھا ؟اگر نہین دیکھا تو مرد بھی پھر( بہن جی) ھی بن جاتا ھے بس آپ کھائین اور باجی باجی پکارتے رھین مین نہین کھاتا بلکہ اس سے بہتر ھے دال سبزی کھا لیا جاۓ یا بڑا گوشت کھائین جو نہایت ھی طاقتور ھوتا ھے سنا تھا جب انگریز برصغیر پہ قابض ھوۓ تو یہان بھینس کا دودھ نہین پیتے تھے صرف گاۓ کے دودھ کو ترجیح دیتے تھے پتہ ھے کیون؟ اس لئے کہ بھینس اکثر کیچڑ مین لیپٹی رھتی ھے صفائی پسند جانور نہین ھے جبکہ گاۓ صاف رھنا پسند کرتی ھے اب تو زمانہ بدل گیا ھے اب تو بھینسین بھی میک اپ کرکے رھتی ھین ؟؟؟؟؟
https://www.facebook.com/groups/126909197934246/permalink/316221309003033/

شربت رمضان

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شربت رمضان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کسی نے نام (روح افزا )لکھا تو نقال نے نام کے معنی پہ غور نہ کیا بلکہ بس ملتا جلتا نام شربت( روح فضا )رکھ لیا اب شک ھونے لگا کوئی اللہ کا بندہ زیادہ جذبات مین آکر شربت کا نام( روح قضاء) نہ رکھ دے خیر شربت روح افزا پاکستان اور انڈیا مین بہت زیادہ سیل ھوا بلکہ پوری دنیا مین فروخت ھوا اب یا لوگون نے اسے بنانا بہت ھی آسان کردیا بازار مین ھر ایسینس اور فلیور کی دکان سے روح افزاء کا فلیور مل جاتا ھے پانی کو سرخ کرکے چینی کا قوام کیا اور چند قطرے روح افزاء کا فلیور شامل کیا پانچ منٹ مین شربت روح افزاء تیار ھوجاتا ھے لیکن اصل شربت جو واقعی روح افزاء تھا اب شاید مارکیٹ مین دستیاب ھی نہین جو کبھی پچاس ساٹھ سال پہلے بنا کرتا تھا نسخہ اس کا ضرور لکھے دیتا ھون لیکن بنائے گا کوئی بھی نہین کیونکہ بہت ھی محنت طلب کام ھے
تخم خرفہ۔۔ منقہ ۔ کاسنی تخم وجڑ۔ نیلوفر۔ گاؤزبان ۔ پودینہ ھر ایک پچاس گرام سبز دھنیا۔ پالک تازہ ۔ کدوتازہ۔ ھر ایک سوگرام گلاب تازہ اصل سوگرام ۔ لیمن کا رس سوگرام ۔ نارنگی کے پھول سوگرام ۔ سنگترہ۔ گاجر ۔انناس ۔ گاجر۔ تربوز ھرایک کا جوس پانچ سوگرام کیوڑا ۔صندل سفید ۔۔ خس ھر ایک تیس گرام اب سب کا عرق نکالنا ھے اب عرق مین شربت تیار کرنا ھے رنگ کے لئے سرخ رنگ ڈالنا ھے یہ تھا شربت روح افزاء
آج بھی انڈیا کے ھمدرد دواخانہ مین بیرون ممالک بھیجنے کے لئے یہ شربت ھی تیار ھوتا ھے لیکن مہنگا بھی بہت زیادہ ھے اگر آپ ضرور بالضرور روح افزاء کی طرح کا ھی مفید شربت بنانا چاھتے ھین تو آپ نسخہ لکھے دیتا ھون یہ بنا لین انشااللہ معیار اور فوائد مین بہت ھی اعلی پائین گے
خس ۔۔ الائچی سفید ۔ صندل سفید ۔ھرایک پچاس گرام گاؤزبان ۔ گل نیلوفر ۔ تخم کاسنی ۔ خرفہ ۔ ھر ایک سوگرام اب ان تمام دواؤن کو عرق گلاب خالص دس لٹر مین بھگو دین بارہ گھنٹہ بعد اب ان کا پھر عرق کشید کر لین اب اس عرق مین فی لٹر کے حساب سے پچاس گرام چہار مغز رگڑ کریعنی گرائنڈ کرکے چھان لین اب اس مین فی لٹرعرق مین ڈیڑھ کلو چینی سے قوام کرین ویسے اصولا تو دو کلو چینی کا قوام کرنا چاھیے لیکن آپ پندرہ سوگرام چینی سے قوام کرین کلر کے لئے سرخ کلر حسب ضرورت ڈال لین انتہائی خوش ذائقہ بلکہ آپ اس ذائقہ سے پہلے قطعی مستفید نہین ھوئے ھونگے ایک بات یاد رکھین ایک گلاس سے زیادہ قطعی نہ پیئن ورنہ بدن مین شدید ٹھنڈ بھی پیدا کردیتا ھے پیاس کی شدت ختم مفرح قلب جگر کی گرمی کو مفید پیشاب جل کرآنے مین مفید گردون کی سوزش مین مفید روزہ کی کمزوری مین مفید غصہ اور چڑچڑاپن ختم کرتا ھے فورا طبیعت ھشاش بشاش کرتا ھے باقی فائدے آپ کو پینے پہ خود ھی معلوم ھوجائین گے
نوٹ۔۔کچھ سیانے لوگ کمنٹس مین ایک کام کرتے ھین کہ لوگون کو مشورہ دیتے ھین کہ اس مین فلان چیز کا اضافہ کرلین تو فائدہ یون ھوگا ایسے لوگ مہربانی فرمایا کرین بلکہ اپنی اھلیت ثابت کرنے کے لئے علیحدہ سے پوسٹ دلائل اور اجزاء دوا ترتیب دینے کے قانون کو بیان کرکے لکھا کرین مین اپنی دواؤن مین مزاج کی ترتیب ھمیشہ سامنے رکھتا ھون آپ بے شک پورا پنسار سٹور شامل کرلین لیکن میری پوسٹ پہ تکے نہ لگایا کرین بہت ھی مہربانی ھوگی محمودبھٹہ گروپ مطب کامل

Saturday, May 4, 2019

حب کینسر و بواسیری زھر|cancer|Piles

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 Cancer|Pile|Bawaser
۔۔۔۔۔حب کینسروبواسیری زھر ۔۔۔ تحفہ رمضان المبارک۔۔۔۔۔
ماہ رمضان کی آمد آمد ھے ھونا تو یہ چاھیے کہ مشروبات پہ لکھا جاتا ۔۔۔ کسی خاص نسل کا شربت لکھا جاتا یا پھر کسی ٹھنڈک خاص کا نسخہ سینہ بہ سینہ تہہ اکھاڑ کر آپ کے سامنے رکھا جاتا بہرحال انتظار کرین شربت کا نسخہ انشااللہ کل لکھ دونگا پہلے بھی گروپ مین کافی مشروبات لکھ چکا ھون آج مرض سے شفایاب ھونے کی آسان دوا سمجھ لین
شروع مین مین نے ایک بات لکھی ھے کہ بواسیری زھر ؟
دوستو چند دن پہلے پوسٹ جو کہ سپرم پہ تھی اس مین سوزاکی زھر سے سپرم ختم ھوجانے اور سپرم کی کمی کا مفصل علاج لکھ دیا تھا میری کوشش ھوتی ھے کہ پوسٹ لکھتے وقت پیچھے سوال کوئی نہ رہ جائے اس کے باوجود کچھ لوگون نے ایسے سوالات لکھ رکھے تھے جو بنتے ھی نہین تھے اس کی وجہ یہ ھوتی ھےکہ پوسٹ کوغورسےپڑھا ھی نہین جاتااورنہ ھی سمجھاجاتاھے یا پھرسوال مبتدی کی طرف سے آتا ھے جسے خودبھی علم نہین ھوتاکہ مین کیاسوال کررھا ھون اب ایک بات اس پوسٹ کے بارے مین صاف سمجھ لین۔ نوے فیصد لوگون مین سپرم کی کمی کا مرض سوزاکی زھر سے ھوتا ھے اگر بواسیری زھر جسم مین موجود ھے تو آج کی لکھی دوا ساتھ استعمال کرلین بواسیری زھرجاتی رھے گی باقی جو دوا آج لکھنے لگاھون اسے بواسیری زھرکا حتمی علاج سمجھین باقی بات کل کی پوسٹ مین اور پچھلی کافی پوسٹون مین لکھ چکا ھون کہ کینسر بھی بواسیری زھر کا ھی بگاڑ ھوا کرتا ھے چند دوائین کینسر کی اس سے پہلے بہت ھی اعلی لکھ چکا ھون  اور آج کی دوا بھی کینسر تک کا بہترین علاج ھے اس کی وضاحت آگے کیے دیتا ھون دوا تو دوستو مندرجہ ذیل ھے
زیری سیاہ۔۔گوگل ۔۔۔بکن بوٹی۔۔تخم سرس۔۔ اسارون برابروزن پیس کر کیپسول بڑےسائزبھرلین تین وقت ھمراہ پانی دین
اب وضاحت کیے دیتا ھون
باقی سب دوائین بھی بہت باکمال ھین لیکن خاص کردار بکن کا ھے یاد رھے یہ بوٹی شاید پورے ملک مین ھی عام پائی جاتی ھے اسے سمجھنے کی اگر آپ کو ضرورت ھے تو دوسرے گروپ خزائن المفردات مین جائین تصاویر ضرور لگی ھونگی بکن بوٹی کی۔
خیر بات کررھا تھا کہ اگر بکن بوٹی کا نمک تیار کرلیاجائے اور اسی نسخہ مین باقی دوائین تو برابروزن ھی رکھین اور بکن کا نمک آدھے وزن مین ڈالین اور اسی طرح کیپسول بھر کراستعمال کرین تو کینسر تک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے والی دوا ھے اگر اسے صرف بواسیر کے لئے ھی استعمال کرتے ھین تو کچھ ھی عرصہ مین بواسیری زھر ھمیشہ کے لئے بدن سے ختم ھوجایا کرتا ھے ایک بات ھمیشہ یاد رکھین بواسیری زھر بدن سے ختم کرنااتنا آسان کام نہین ھے بہت ھی ڈھیٹ مادہ ھوتا ھے جاتے جاتے بھی عرصہ لگا دیتا ھے یہ جتنے چیلنج ھوتے ھین کہ تین خوراک سے بواسیر ختم ایک ھی ٹیکہ سے بواسیر ختم یہ سب باتین ھزار فیصد غلط ھوتی ھین وقتی طور پہ مرض کو دبا دینے سے مرض جاتا نہین ھے بلکہ زیادہ اذیت ناک ھوا کرتا ھے ایک انجیکشن لگا کر مسے جھاڑ دینا کینسر مین مبتلا کرنے والی بات ھے کیا آپ جانتے ھین وہ انجیکشن کیا ھوتا ھے نہین علم تو سمجھین یہ انجیکشن بڑا ھی مشہور ھوا تھا بڑے لوگون نے لگوایا بھی ھے
کاربالک ایسڈ دس قطرے کڑوے بادام کا تیل نوے قطرے مکس کرکے بوائل کرکے سرنج مین بھر کر ایک تا دوقطرے مسے کی جڑ مین لگادیاجاتا ھے جس سے مسہ دوتین دن مین جھڑجاتا ھے اور حکیم صاحب کی واہ واہ ھوجاتی ھے یہ ظلم تھا دوستو بواسیری زھر جان لیوا ھوتا ھے اسے بدن سے خارج کرنے کے لئے وقت چاھیے ھوتا ھے اب لوگ سوال کرین گے کہ یہ دوا کتنے عرصہ استعمال کرین تو آج اس کا بھی جواب اچھی طرح سمجھانے دیتا ھون اس بات کا انحصار مرض کی شدت یا کمی پہ ھوتا ھے اسی دوا کے استعمال سے اگر بدن مین بواسیری زھر کم ھے تو پندرہ دن کے اندر بھی ختم ھوجاتا ھے اگر مرض پرانی کینسر کے قریب یا کینسر بن چکا ھے تو عرصہ لگ جاتا ھے خیر پریشان ھونے والی بات قطعی نہین ھوتی یہ بات قطعی ھے کہ اس دوا کے استعمال سے بواسیری زھر کی ھرطرح کی علامات کا علاج آپ بڑے اعتماد سے اس دوا سے کرسکتے ھین اب وہ لوگ جو مجھ سے دلی الفت رکھتے ھین وہ کم سے کم بکن اکھاڑ کر اسے سایہ مین خشک کرنے کے بعد مجھے بھی حصہ بقدر جثہ بھیج سکتے ھین میری اس اتنی ھی تھی جو مین کل استعمال کرچکا ھون دعاؤن مین بکن کے ساتھ ساتھ مجھے یاد ضرور رکھیے گا اب جازت محمودبھٹہ گروپ مطب کامل
نوٹ۔۔ایک سوال کا جواب کسی نے سوال کررکھا تھا کہ جس کے پیدائشی سپرم نہ ھون اس کا علاج کیا ھے تو دوستو اس کا کوئی علاج نہین ھے اگر کسی مرض کا سبب ھو تو علاج ممکن ھے لیکن پیدائشی مسئلہ کا علاج نہین ھے بس دعا ھے اللہ تعالی ایسے دوستون کے حال پہ رحم فرمائے خیر وہ استغفار کثرت سے پڑھا کرین نماز کی پابندی کرین

۔کچھ انکشافات بلڈ پریشر کے بارے مین|blood Pressure

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  Blood Pressure
۔۔۔۔۔کچھ انکشافات بلڈ پریشر کے بارے مین ۔۔۔۔۔۔۔۔
کل مین نے پوسٹ لکھی تھی جس مین صرف نسخہ جات ھی دیے تھے بلڈ پریشر کے زیادہ اور کم ھونے کے
لیکن بہت سے مطالبات بھی آئے کہ دل کے امراض کے بارے مین لکھا جاۓ
ضرور لکھون گا دل تو یون کرتا ھے کہ آپ کی اس محبت اور اس اعتماد پہ نچھاور ھو جاؤن سب کچھ گھول کر آپ کو ایک دن مین ھی پلا دون وقت کی کمی اور دیگر مجبوریان بھی آڑے آتی ھین سر تا پاؤن بے شمار امراض ھین ھر ایک اھم ھے ھر ایک کا راستہ موت کی طرف جاتا ھے
کل ایک سوال یہ بھی تھا کہ آیا بلڈ پریشر صرف دل کے امراض مین ھی بڑھتا ھے اور تمام دیگر وجوھات جن سے بلڈ پریشر بڑھتا ھےان کی وضاحت کردی جاۓ
تو دوستو 60 فیصد بلڈ پریشر بڑھنے کی وجوھات کا علم ابھی تک پوری دنیا مین کسی کو بھی نہین ۔۔۔ اس پہ ابھی بہت سی تحقیقات ھورھی ھین
یہ بات بھی یاد رکھین بلڈ پریشر کوئی مرض نہین ھے اسے خود سے مرض کا نام نہین دیا جا سکتا بلکہ اسے علامت مرض کہا جا سکتا ھے جیسے بخار کو آپ مرض نہین کہہ سکتے کئی وجوھات سے بخار ھو سکتا ھے صرف بخار بخار کی 300 کے لگ بھگ اقسام ھین یا یہ کہہ لین تین سو وجوھات یا 300 امراض ھین جن مین بخار ھو جایا کرتا ھے تو کیا آپ بخار کو مرض کہین گے مرض تو وہ ھے جس کی وجہ سے بخار ھوا ھے
اسی طرح بلڈ پریشر مرض نہین ھے بلکہ مرض وہ ھے جس کی وجہ سے بلڈ پریشر بڑھا ھے خاص کر ھمارے ملک کا المیہ یہ ھے کہ ھمیشہ سے جس بندے کو بھی بلڈ پریشر زیادہ ھوا اسے صرف بلڈ پریشر کم کرنے کی دوا دے دی جاتی ھے متعلقہ مرض کا علاج بہت ھی کم ھوا کرتا ھے اس کے بارے مین تحقیق کرنے کی ضرورت ھی محسوس نہین کی جاتی مین دیکھتا رھتا ھون
اب بہت زیادہ پوسٹون پہ کمنٹس مین یہ سوال ضرور کیا جاتا ھے جب بھی مردانہ کمزوری کی پوسٹ لکھی ھو تو یہ سوال ضرور آتا ھے۔۔ کیا یہ بلڈ پریشر والا مریض استعمال کر سکتا ھے ؟
اب پوسٹ لکھنے والے صاحب کو خود اپنی لکھی ھوئی پوسٹ کی ادویات کا بھی علم نہین ھوتا ۔۔۔ بس وہ ڈر جاتا ھے کہ کہین سر منڈھاتے ھی اولے نہ پڑ جائین ۔۔ اب پوسٹ لکھنے والا کبھی بھی یہ سوال نہین کرے گا اور نہ ھی یہ سوال کبھی مین نے کسی کو کرتے دیکھا ھے اور نہ ھی پوسٹ لکھنے والے نے کبھی وضاحت کی ھے کہ بھئی بلڈ پریشر کس وجہ سے اپ ھورھا ھے اب وجہ کا یا مرض کا علم ھو جاۓ تو ممکن ھے آپ کی دوا اس بلڈ پریشر بڑھے مریض کے لئے فائدہ مند ھو بلکہ وہ فورا یہ ضرور لکھ دے گا کہ بلڈ پریشر والا اسے استعمال نہ کرے
اب ان تمام باتون سے صاحب پوسٹ کی علمی قابلیت کا اظہار ھو جایا کرتا ھے یاد رکھین میرا کام کسی پہ تنقید کرنا نہین ھوتا اور نہ ھی کرتا ھون بس مجھے یہ بات اچھی لگتی ھے کہ وہ لکھ رھا ھے اب نہ لکھنے والے سے تو بہتر ھے میرا کام حوصلہ بڑھانا ھے حوصلہ توڑنا نہین لکھنے سے ذھن مین وسعت پیدا ھوتی ھے اللہ تعالی سب کو ھمت عطاء فرماۓ کہ فن طب کی خدمت کر سکین بس دعا ھی کر سکتا ھون
اب دوبارہ موضوع کی طرف چلتے ھین دوستو مین بات کررھا تھا کہ بلڈ پریشر بڑھنا بہت سی امراض مین ھوتا ھے
بلڈ پریشر تو ایک عام تندرست آدمی کو بھی ھو سکتا ھے مین ایک تجربہ بتاتا ھون پسند آۓ اور ھمت ھوئی تو ضرور کر لین کسی بھی تندرست ھٹے کٹے بندے کو آپ ننگی ننگی گالیان نکالین صرف دو تین منٹ ھی نکالین پھر بلڈ پریشر چیک کرین shoot کر جاۓ گا ھان اس بندے نے آپ کا سر پھاڑ دیا تو میرا ذمہ نہین ھے
اب اس مین مرض وہ گالیان تھین نہ گالیان نکالتے نہ بی پی اپ ھوتا نہ آپ کا سر پھٹتا
اب بعض ذھین پولیس افسران نفسیاتی مار مارتے ھین بغیر تشدد کیے مجرم سے سب کچھ اگلوا لیتے ھین کیا آپ کو پتہ ھے وہ کیا کرتے ھین تو سنین وہ بندے کی غیرت پہ حملہ کرتے ھین باتون باتون مین بڑے پرسکون انداز مین جذبات سے کھیلتے ھین بلڈ پریشر اپ ھو جاتا ھے اور مجرم جذبات مین سب کچھ اگل دیتا ھے خیر یہ سب کچھ جو آپ کو بتایا ھے ذھن مین بٹھا لین اب اھم بات آگے سمجھین
دل کی دو فعلی حالتین ھوتی ھین
1۔۔Systolic یہ انقباضی حالت ھوتی ھے
2۔ Diastolic یہ انبساطی حالت ھوتی ھے
جب دل سکڑ کر خون کو بدن مین سیرابی کے لئے یا یون کہہ لین پورے جسم مین خون کو پہنچانے کے لئے شریانون مین دھکیلتا ھے تو اس خون کے بہاؤ سے شریانون کی دیوارون کی مزاحمت سے خون کا دباؤ بھی بڑھ جاتا ھے چنانچہ خون کا شریانون پہ دباؤ اوپر کا بلڈ پریشر ھوتا ھے اسے آپ انقباضی حالت یعنی Sistolic کہتے ھین
اب دل کی دوسری حالت یعنی انبساطیDiastolic ھے جس مین خون وریدون کے ذریعے واپس دل کی طرف آتا ھے اب وریدون کا خون پہ دباؤ نیچے کا بلڈ پریشر ھوتا ھے
اس کے لئے ایک مخصوص پیمانہ ھے جو عمر کے مختلف اوقات مین مختلف یا کم وبیش ھوتا ھے عام طور پہ اوپر والے اور نیچے والے بلڈ پریشر مین 40 درجہ فرق ھوتا ھے
اب دو باتین ذھن مین اور بٹھا لین
1۔۔ خون جب دل سے جسم مین جاتا یا پھیلتا ھے تو شریانون کے ذریعے جاتا ھے یعنی دل سے خون لے جانے والی خون کی نالیان شریانین کہلاتی ھین اور دل سے جسم کی طرف جانے والے خون کے پریشر کو آپ Systolic کہتے ھین
2۔۔ جب جسم سے خون واپس دل کی طرف آتا ھے اور جن خون کی نالیون سے گزر کر آتا ھے انہین وریدین کہا جاتا ھے اسی طرح جب خون واپس دل کی طرف آتا ھے تو خون کے اس دباؤ کو ھم Diastolic کہتے ھین
اب آپ کو یہ بھی وضاحت ھو گئی ھے جو نالیان خون لے جاتی ھین یہ علیحدہ ھین اور جو واپس دل کی طرف لاتی ھین یہ علیحدہ ھین
اب بات کرتے ھین انکشاف والی۔۔۔۔۔
یہ اوپر والے بی پی کا تعلق عضلات سے ھوتا ھے اور نیچے والے کا تعلق غدد سے ھوتا ھے
اب وضاحت کردون پورے جسم مین عضلات مین کہین بھی کسی بھی جگہ تنگی یا سکیڑ ھو گا تو اوپر والا بلڈ پریشر بڑھ جاۓ گا خاص کر عضلات کا یہ سکیڑ اگر شریانون مین بھی تنگی پیدا کرے گا یا پھر خون کے بہاؤ مین رکاوٹ پیدا کرے تو اوپر والا بی پی لازما بڑھے گا عضلاتی سکیڑ مین شدت آنے کی صورت مین غدد سے تعلق ھونے پہ نیچے والا بھی بڑھ جاتا ھے
اسی طرح غدد و غشا مین کہین بھی یعنی پورے بدن مین ضیق اور سکیڑ پیدا ھو گا تو نیچے والا بی پی بڑھ جاتا ھے یعنی نیچے والا بلڈ پریشر جب بھی بڑھے گا تو تعلق غدد سے ھوتا ھے
یاد رھے یہ ایک عمومی انداز ھے جو غیر طبعی افعال بدن مین مریضون کو پیدا ھوتا ھے خیر بی پی کا بڑھنا یا کم ھونا یا اوپر نیچے کا اختلاف ر تفاوت کسی مستقل قانون کے مطابق نہین ھے
اب یہ انحصار مرض اور مریض کے معروضی حالات کے مطابق بلڈ پریشر کئی رخ اور کئی انداز بدلتا رھتا ھے کبھی اوپر والا بی پی بہت اوپر اور نیچے والا بہت نیچے چلا جاتا ھے کبھی ان کے درمیان کا فرق بہت ھی کم ھو جاتا ھے کبھی درمیانی فرق بہت ھی بڑھ جاتا ھے ایسے کئی اور بے شمار سوالات ھین کہ ایسا کیون ھوتا ھے یہ سب وقت اور مرض عمر کے حساب سے ھوا کرتا ھے
ھان ایک بات بہت ھی اصولی اور پکی ٹھکی ھے شریانون یا وریدون کی فراخی سے بلڈ پریشر لو ضرور ھو جاتا ھے اور تنگی اور صلابت سے بڑھ ضرور جاتا ھے
دوستو میرے خیال مین بہت وضاحت ھو گئی ھے آپ کو سمجھ بھی بہت کچھ آگیا ھو گا بہت ھی اٹل اور فیصلہ کن باتون سے آپ کو آگاہ کردیا ھے ایک آخری بات آپ سے کرون گا جب بھی نیچے والا بلڈ پریشر زیادہ ھو آپ چندن والی دوا استعمال کرین تو سفید زیرہ اور گل سرخ کا قہوہ ضرور دین یہ بھی ایک راز ھی ھے کوئی کھولے تو دیکھو
بس آپ کی محبتون کے ساتھ اجازت دعاؤن مین یاد رکھیے گا محمود بھٹہ
https://www.facebook.com/groups/126909197934246/permalink/202310063727492/