Friday, September 29, 2017

شوگر 14|diabetes|Sugar

,,,,,مطب کامل,,,,
شوگر قسط نمبر 14,,,,,
Diabetes |sugar
آج میرا دل ھے کہ اس مضمون کو کافی حد تک سمیٹ دون اس لئے آج چار پوسٹین اس پہ لکھی ھین تاکہ جو خلا پیدا ھوا تھا اسے وقت پہ پورا کیا جا سکے تو جناب بات ھو رھی تھی کاذب شسگر کی یعنی جھوٹی شوگر اس کی ایک قسم بیان ھو گئی ھے اب دوسری قسم پڑھین ,,,,,,
یہ قسم سوداوی مادہ کی وجہ سے پیدا ھوتی ھے جس سے قلب عضلات کا فعل تیز ھو جایا کرتا ھے غدد جاذبہ مین سستی ھو جاتی ھے جس کی وجہ سے رطوبات کے جذب ھونے کا عمل کم ھو جایا کرتا ھے اس وجہ سے پیشاب زیادہ آیا کرتا ھے شوگر کی یہ قسم بہت ھی کم دیکھنے مین آتی ھے اس مین وہ لوگ شکار ھوتے ھین جو میٹھی اور ترش چیزین زیادہ کھاتے ھین بعض دفعہ ٹی بی اور بواسیر کے مریض بھی اس مرض مین مبتلا ھو جایا کرتے ھین ایسے مریضون کا پیشاب قدرے سرخی مائل ھوا کرتا ھے چونکہ جسم اور خون مین رطوبات کم ھوتی ھین اس لئے ایسے مریض دبلے پتلے ھوتے ھین خشکی کی وجہ سے شدید قبض کا شکار ھوتے ھی. بواسیر بادی ھو جاتی ھے منہ خشک رھتا ھے اس لئے پانی زیادہ پیتا ھے غدد جاذبہ کے سکون کی وجہ سے مسے بڑھ جاتے ھین ترشی تیزابیت زیادہ ھونے کی وجہ سے پھیپھڑون مین بھی خشکی اسر تیزابیت کی وجہ سے زخم ھو جایا کرتے ھین گاڑھی بلغم آنے لگتی ھے اس مرض کے شکار اکثر نوجوان ھوا کرتے ھین کثرت میخوری اور کثرت جماع بھی بہت بڑے اسباب ھین ان کامون سے مریض کو روکین اور زور لگا کر کام کرنے سےبھی روک دین مریض کو سردی سے محفوظ کرین محرک مقوی غدد جاذبہ دوا اور غذا دین ,,,سنبل طیب  کا سفوف بنا لین جسے آپ ولییرین پوڈر بھی کہتے ھین نصف سے ایک گرام ھمراہ لونگ دارچینی قہواہ شربت فولاد دین کارڈ لیور آئل دین یعنی روغن ماھی ,,,وٹامن اے ڈی,,,
شنگرف دس گرام نمک طعام تیس گرام پہلے شنگرف کو کھرل پانچ چھ گھنٹہ کرین تاکہ چمک ختم ھو جاۓ پھر نمک ملا کر دو گھنٹہ کھرل کر لین ایک رتی تک ھمراہ قہواہ لونگ دارچینی کھلا سکتے ھین مادار عمر کے اور مرض کے لحاظ سے دین معجون اذراقی مفید ھے  آپ اس نسخہ کو بھی استعمال کر سکتے ھین بہت ھی مفید ھے ,,مرچ سرخ ,,رائی  ھر ایک 120 گرام کچلہ مدبر 40 گرام پیس کر نخودی گولیان بنا لین اور ایک تا دو گولی دن مین تین بار دی جا سکتی ھے ھمراہ پانی یا قہواہ دے دین بہت ھی تیز اثر دوا ھے منٹون مین آرام آتا ھے غدد جاذبہ کے سکون کو منٹون مین ختم کرکے رطوبات کے اخراج کو روکتی ھے حرارت غریزی پیدا کرکے کثرت بول کو روکتی ھے اسہال بھی روک دیگی ھے سوداوی مزاج کی شوگر کا سب سے بہترین علاج ھے ریحی درد بھی یہ دوا ٹھیک کرتی ھے

شوگر 13 |Sugar|Diabetes



,,,,,مطب کامل,,,,,,
,,,شوگر قسط نمبر 13,,,,,
Sugar, Diabetes,#Diabetes,#Sugar
میرے عزیز دوستو مین نے کوشش کی ھے کہ آپ کو ذرا تفصیل سے شوگر کے موضوع پہ معلومات دون اب آپ کو یہ تو پتہ چل ھی گیا ھو گا شوگر کیون کر پیدا ھوتی ھے اب آپ کو یہ بھی بتاتا ھون شوگر کی ایک قسم ھے ذیابیطس کاذب اور اس کی بھی دو قسمین ھوتی ھین اب ان کے اسباب علامات و علاج لکھتا ھون
ذیابیطس کاذب یعنی غیر حقیقی کی بھی دو اقسام ھین ایک بلغمی مزاج کی پیداوار ھے اور ایک سوداوی مزاج کی پیداوار یا قلبی شوگر کہہ سکتے ھین سب سے پہلے بلغمی مزاج کی پیداوار کو لیتے ھین ,,,,شوگر کی اس قسم مین دماغ اعصاب کا فعل تیز ھو جاتا ھے اور اس قسم مین اکثر بچے مبتلا ھوتے ھین دراصل بچپن مین رطوبت عزیزہ وافر مقدار. مین موجود ھوتی ھے یہی رطوبت بچے کی نشونما کرتی ھے اس کی بدولت بچہ پھلتا پھولتا ھے اگر کسی بچہ کے اعصابی نظام مین تیزی پیدا ھو جاۓ اور وہ میٹھی چیزون کا استعمال بکثرت کرنے لگے تو اسے بار بار پیشاب آنے کی شکایت پیدا ھو جاتی ھے پیشاب کا رنگ سفید ھوتا ھے چونکہ حرارت نام کو بھی نہین ھوتی اس لئے پیشاب مین ایلبومین یا شکر نہین آیا کرتی دراصل نشونما بچے کی ھو رھی ھوتی ھے اور غدد جاذبہ کمزور نہین ھوتے اس لئے پیشاب مین شکر نہین ھوتی خدانخواستہ اگر کسی وجہ سے غدد جاذبہ کمزور ھو جائین تو ذیابیطس حقیقی ھو جاۓ گی پھر اس کے خون اور پیشاب مین شکر خارج ھونے لگے گی اس وجہ سے اس کی نشونما بھی رک جاۓ گی اور بچہ بہت جلد مر بھی سکتا ھے ایسے بچون کا مزاج سرد خشک ھوا کرتا ھے اور عموما چار پانچ سال سے لے کر پندرہ سولہ برس کی عمر مین یہ شوگر ھوا کرتی ھے بچہ بار بار پیشاب کرتا ھے بار بار پانی بھی پیتا ھے بعض بچے جب رات کو بھی بار بار پیشاب کرتے ھین تو ساتھ پیاس کی شکایت کرتے ھین اور پانی پیتے ھین اس وجہ سے دوبارہ پیشاب آ جایا کرتا ھے ایسے بچون کو علاج کی صورت مین سیاہ تل اور گڑ ملا کر دیا جاۓ تو بہت ھی مفید ھوتا ھے یا پھر یہ دوا دین ,,,کشتہ فولاد دس گرام ھلیلہ سیاہ بیس گرام تل سیاہ تیس گرام پیس کر نخودی گولیان بنا لین ایک تا دو گولی صبح دوپہر شام ھمراہ ترش لسی یا لونگ دارچینی کے قہواہ شے دین پھٹکڑی سرخ کاٹھی سپاری اقاقیا گل انار ھموزن پیس لین ایک رتی سے دو رتی تک بچے کو دین غذا مین فرائی انڈے چنے بجھے ھوۓ مربہ ھریڑ مربہ آملہ دھی لونگ دارچینی کی چاۓ گوشت ھر قسم اچار ٹماٹر الو بینگن دھی بھلے آلو چھولے مچھلی وغیرہ دین انشاء اللہ مرض شفایاب ھو گی اگر گول گپے اور استعمال کرین گے تو اس سے بچے. کی بھوک بڑھ جاتی ھے اور بچہ کی غذا بھی خوب ھضم ھوتی ھے اور تیزی سے صحت مند ھو جاتا ھے دیگر دواؤن مین جوارش تمرھندی بہت ھی مفید ھے

شوگر12|Sugar|diabetes

,,,,,مطب کامل,,,,
#Sugar,#Diabetes
,,,, شوگر قسط نمبر 12,,,
ھان بات پہنچی تھی جب جراثیم کا انکشاف ھوا تو کیا ھوا
جراثیم کی دریافت سے پہلے ایلوپیتھی کی بنیاد خون کے عناصر کی کمی بیشی پر منحصر تھی جب جراثیم کو مرض کا سبب قرار دیا گیا تو اس وقت سے یہ نظریہ برابر ختم ھونے لگا اب کچھ کچھ غذا پہ اھمیت ایلوپیتھی دے رھی ھے وہ بھی غلط اصولون پہ تھوڑا آگے وضاحت کرون گا بات ھو رھی تھی جس مرض کے جراثیم معلوم ھو چکے ھین ان کا علاج جراثیم مارنے کی بنیاد پہ ھو رھا ھے اور جس مرض کے جراثیم دریافت نہین ھو سکے ان کا علاج پرانی ڈگر پہ یعنی عناصر کی کمی بیشی پہ کیا جا رھا ھے یعنی انسانی اعضاء کی کمزوری کو بھی مد نظر رکھا جاتا ھے اور یہ بات مین پہلے بتا چکا ھون یہ سب کیمیائی عناصر جو خون مین موجود ھوتے ھین ان کی کمی بیشی سے ھوتا ھے افسوس دو کشتیون پہ سواری ھو رھی ھے اور مجھے اس بات پہ بھی افسوس ھے کہ ھمارے طبیب حضرات اندر خانے ایلوپیتھک میڈیسن استعمال کرتے ھین کیون ,,,یہ سب علم کی کمی ھے سچی بات یہ ھے ھر نظریہ علاج کا مطالعہ کیا اپنی توفیق کے مطابق کسی کو. بھی مکمل نہ پایا اور ھر نظریہ علاج کی اصل بنیاد کو مین نے طب یونانی کو ھی پایا کتنی حیرت کی بات ھے اس کے باوجود ھم دوسرون کا سہارا لین اور لیتے ھین اس کا سب سے بڑا سبب مجھے علم کی کمی اور تحقیق کی کمی نظر آئی مین اپیل کرون گا کہ سب حکماء حضرات کثرت سے مطالعہ کرین گے اور تحقیق کیا کرین اب اپنی گفتگو کی طرف آتے ھین جہان تک جراثیم کا تعلق ھے نہ وہ خون کا جزو ھین اور نہ ھی ان کا زھر خون کا حصہ ھین ان کا اثر اعضاء پر ھوتا ھے جس طرح دیگر مادی اور بادی ادویات کا اور زھرون کا اثر ھوتا ھے اس لئے جراثیم اور ان کا زھر خون کا اثر خون مین شامل نہین ھوتا اگر کچھ شامل ھے تو طبعت مدبرہ بدن فطری طور پر ان کو خون سے خارج کر دیتی ھے قوت مدبرہ طاقت ور ھو تو جراثیم اور ان کا زھر نہ جسم اور نہ ھی خون پہ اثر انداز ھو سکتے ھین اور نہ ھی امراض پیدا کر سکتے ھین اس کی مثال انتھریکس جرثومہ ھے جو ھمارے علاقہ مین بے تحاشہ ھونے کے باوجود کبھی کسی کو بیماری کا سبب نہین بنا سکا اور یہی جرثومہ امریکہ مین موت کا سبب بنا ان حقائق سے ثابت ھے کہ مکمل اور مقوی خون اور صحیح تندرست اعضاء کی صورت مین جراثیم اور ان کا زھر ھمیشہ بے اثر ھوتا ھے بہت سے لوگون کے ذھن مین سوال ابھرا ھو گا کہ یہ جراثیم پیدا کس طرح ھوتے ھین سنتے بھی ھم یہی ھین کہ فلان مرض کا فلان جراثیم,,,, یہ مین نوین جماعت بیالوجی کا مضمون پڑھا تھا جس مین براسیکا امیبا پیرامیشیئم وغیرہ جرثومون کے بارے مین ھمین پڑھایا گیا تھا اور پریکٹیکلی دیکھایا بھی گیا تھا کہ متعفن چیز مین جراثیم پیدا ھو جاتے ھین آپ کسی بھی برتن مین پانی ڈالکر اس مین گھاس پھونس ڈالکر رکھ دین چند روز کے بعد مشاھدہ کرین خورد بین مین مذکورہ جراثیم نظر آئین گے یعنی ھر متعفن مادے مین جراثیم ضرور پیدا ھوتے ھین ا ب انسانی جسم مین جہان بھی تعفن پیدا ھو گا تو جراثیم بنین گے طب مین اس کا علاج مادے کو جسم سے خارج کرنا اورایسی دوا غذا دینا کہ جس سے وھان تعفن پیدا ھی نہ ھو ابھی تک شوگر کا جراثیم ملا نہین ورنہ لگ پتہ جاتا اسے,,,باقی مضمون آئیندہ محمود بھٹہ

شوگر 11|Sugar|Diabetes

,,,,,,مطب کامل,,,,,,,,
#Sugar,#Diabetes
,,,,شوگر قسط نمبر 11,,,,,,
علاج لکھنے سے پہلے تین چیزون کی وضاحت رہ گئی ھے نمبر غذا اور کونسا میٹھا استعمال ھو سکتا ھے ذیابیطس قوما اور کاذب شوگر بلغمی اور سوداوی مادہ سے ھونے والی شوگر پچھلی قسط مین بات مٹھاس مختلف پہ پہنچی تھی آج غذا کی اھمیت پہ پوسٹ ھے اس پوسٹ مین زیادہ حصہ تحقیق نظریہ مفرد اعضاء مین صابر صاحب کی غذا کی اھمیت پر مشتمل ھے ,,,تحقیقات علاج بالغذا مین ایورویدک اور طب یونانی کی تحقیقات غذا اور خون کے متعلق صابر رح فرماتے ھین کہ طب یونانی مین اور ایورویدک مین جسم انسان اور خون کا تجزیہ دوشون اور اخلاط سے کیا جاتا ھے یہ دوش اور اخلاط غذا سے تیار ھوتے ھین مختلف غذاؤن سے مختلف دوش یا اخلاط بنتے ھین جب غذا مین خاص قسم کے اجزا کم ھو جائین تو امراض پیدا ھوتے ھین اگر ان دوشون یا اخلاط کو درست کر لیا جاۓ تو امراض رفع ھو سکتے ھین جہان تک ادویات اور زھرون کا تعلق ھے ان کا اثر انسانی جسم پہ ھوتا ھے جس سے ان کے افعال مین کمی بیشی اور تحلیل ھو سکتی ھے اور خون مین بھی شامل ھوتے ھین مگر خون کا جز نہین بن سکتے اگر جسم مین طاقت ھے تو جسم سے خارج ھو جاتے ھین گویا ادویات اور زھرون کا اثر ختم ھو جاتا ھے اور افعال بھی اپنی حالت پہ لوٹ آتے ھین یعنی ان کا اثر انسانی جسم پہ عارضی ھوتا ھے ,,,,یہ سب بہت غور سے دوبارہ پڑھین اس مین بہت سے ایسے نقطے ھین جو آپ کو ھر مرض کے علاج مین کام دین گے,,,,اس کے برعکس جسم پر مستقل اثر صرف خون کے کیمیائی اجزا کا ھوتا ھے جو خون مین پیدا ھوتے ھین اور خون غذا سے پیدا ھوتا ھے صابر رح ملتانی اپنی شہرہ آفاق کتاب تحقیق علاج بالغذا کے مقدمہ مین فرماتے ھین انسان اور ھر قسم کے وحشی جانور کا خون بھی صرف غذا سے پیدا ھوتا ھے کسی دوا یا زھر سے پیدا نہین ھوتا اور اس قانون کی دوستو اطباء متقدمین اور متاخرین سب کے سب اس بات کی تصدیق کرتے ھین دنیا کی کوئی سائینس اس سے انکاری نہین ھے دوسرے یہ بھی حقیقت ھے کہ زندگی کا دارومدار صحیح اور مکمل خون پہ ھے اس مین کسی بھی دوا یا زھر کا دخل نہین ھے ھر جسم کی نشو ارتقا صرف خون سے ھی ھوتی ھے اب دوستو جب سب نظریات کا خواہ ایلوپیتھک ھے خواہ ھوموپیتھی ھے ھر ایک کا جب اتفاق ھے کہ زندگی کی نشو نما خون پہ قائم ھے اور خون کا دارومدار غذا پہ قائم ھے تو پھر یہ ابہام کیون یہ غلطی کیون کہ زندگی کا دارومدار خون کے بجاۓ دوا پہ رکھ دیا جاۓ اور یہ سمجھا جاۓ کہ صحت صرف دوا سے ممکن ھے غذا سے نہین یہ سب کچھ لکھنے کا مقصد آپ کو یہ سمجھانا ھے کہ دوا سے بہتر پرھیز ھے یہ ھمارے اجداد کا بھی تو قول ھے
اب آتے ھین جدید سائینس کی طرف ,,,میڈیکل سائینس نے تحقیق کیا کہ خون پندرہ ایلیمنٹس سے بنا ھے یا عناصر کا مرکب ھے اور یہ بھی ثابت کیا کہ اگر ان ایلیمنٹس مین کمی بیشی ھو جاۓ یا ان مین خرابی واقع ھو جاۓ تو مرض پیدا ھوتا ھے اسی نظریہ پہ ڈاکٹر شسلر نے بائیوکیمک ,,کیمیاوی زندگی,, کی بنیاد رکھی مگر ھوموپیتھی کی پیروی مین یہ ایک مفید نظریہ جس کو علاج بالغذا کا چھوتھائی حصہ کہنا چاھیے بالکل ختم ھو گیا اور دنیا حقیقی فوائد سے محروم ھو گئی جب جراثیم کا انکشاف ھوا تو کیا ھوا یہ اگلی قسط مین محمود بھٹہ

Thursday, September 28, 2017

تیل جست اور پارہ|Mercury

 ,,,,,تیل جست اور پارہ ,,,,,,

Mercury 

ابھی سب دوستون کو دعوت ھے ذرا اس پہ بھی بحث ھو جاۓ کیا واقعی ممکن ھے کہ جست اور پارہ بشکل تیل صورت اختیار کر جائین دوستو مین تو کافی حد تک اس معاملے مین نابلد ھون آپ نے ھی اس کی اصل صورت نکالنی ھے اور مجھے بھی آگاھی دیجئے کہ یہ کیا ھے 

دو تولہ سیماب لین اور دو تولہ ھی جست لے کر چھلبند کرین پھر ایک پاؤ تیزاب نمک آدھ پاؤ تیزاب شورہ دونون کو ملا کر یہ چھلبند شدہ پارہ اور جست اس مین حل کرکے آگ پہ خشک کرین جب بشکل پوڈر ھو جاۓ تو آگ ذرا تیز کر دین تیل کھل جاۓ گا بھئ نہین کھل رھا تو بھی مشکل نہین ھے ایک تولہ اس پوڈر مین دارچکنا سفوف کرکے چٹکی دیتے جائین اور آگ تیز ھی رکھین اب اس بارے کہتے ھین اس مین نوشادر قائم شدہ کا تیل شامل کر کے کام مین لایا جا سکتا ھے اب یہ آپ ھی کو علم ھے کہ کیا کام لیا جا سکتا ھے

شوگر 10|Sugar|Diabetes

,,,,,مطب کامل,,,,,
#Sugar,#Diabetes
,,,,شوگر قسط نمبر 10,,,,,,,,
آجکل میری مصروفیات بھی حد سے بڑھی ھوئی ھین اور مضمون بھی کافی رھتا ھے مجھے امید ھے ممبران ناراض نہین ھونگے اس غلطی پہ معذرت,,,,
شوگر کا روگ ھزارون سال سے چلا آ رھا ھے تاریخ کے ساتھ ساتھ علاج بھی ھوتا ھی آیا ھے اب بدقسمتی سمجھ لین پکا علاج آج تک نہ دریافت ھو سکا جب بھی کوئی مریض آتا ھے تو وہ اتنا مجبور اور لاچار ھوتا ھے کہ کوئی جادو اثر ھی دوا کا مطالبہ کرتا ھے کوئی ایسی پڑی ھو کھاتے ھی شوگر غائب ھو جاۓ دوسری طرف حکیم بھی تریاق صفت دوا کی تلاش مین رھتا ھے ھر روز نیا نسخہ آزماتا ھے لیکن تاحال ناکامی ھی ناکامی ھے اب یہی صورت حال دیگر طریقہ علاج. مین ھے ایلوپیتھک مین تاحال سب سے اچھی دوا انسولین ھی سمجھی جاتی ھے کیا انسولین ھی ٹھیک علاج ھے جا ننا چاھیے کہ لبلبہ طحال وغیرہ کی رطوبت انسولین کہلاتی ھے جب لبلبہ و طحال مین کمزوری واقع ھو جاتی ھے اور ان کی رطوبت خون مین پوری مقدار. مین داخل نہین ھوتی تو لازمی بات ھے ذیابیطس شکری پیدا ھو گی اگر لبلبہ و طحال دوبارہ سے انسولین خون مین شامل کرنے لگ جائین گے تو یقینی طور پر شوگر کا مرض ٹھیک ھو سکتا ھے جب بھی انسولین مصنوعی طور پر خون مین شامل کی جاتی ھے جس سے عارضی افاقہ ضرور ھوتا ھے لیکن شوگر کے علاج مین ھونا تو یہ چاھیے کہ غدد جاذبہ کے فعل کو اعتدال پر لایا جاۓ جس سے لبلبہ خود ھی انسولین بنا بنا کر خود ھی خون مین شامل کرتا رھے اور اس کی کمی پوری کرتا رھے اب جب مصنوعی انسولین خون مینچلی جاۓ گی تو خود ھی فیصلہ کر لین اب لبلبہ کو کیا ضرورت ھے انسولین بنانے کی لہذا وہ بار بار انسولین ملنے کی وجہ سے مکمل ناکارہ ھو جاتا ھے اور وہ خود انسولین قطعا نہین بناتا یہی وجہ ھے جب ایک دفعہ انسولین لینا شروع کر دی تو پھر پیاس گھبراھٹ بے چینی اور کثرت بول کی شکایت ضرور ھی پیدا ھو گی اور پہلے سے زیادہ شوگر خارج ھونے لگتی ھے اب ایک دوسری غلطی کہ مریض کو ھر قسم کی مٹھاس بند کر دی جاتی ھے یاد رکھین اللہ تعالی مٹھاس صرف ایک ھی طریقہ سے پیدا نہین کی ھے اب آپ فروٹون کو ھی لے لین کچھ فروٹ پہلے کسیلا ذائقہ کے ھوتے ھین بعد مین میٹھے ھوتے ھین مثلا کیلا,,کچھ فروٹ پہلے کٹھے ھوتے ھین بعد مین میٹھے ھوتے ھین اس مین تو بہت ھی زیادہ ھین انار مالٹا وغیرہ یہ تفصیل آگے چل کر علاج کے باب مین لکھین گے اب اصول تو یہ ھونا چاھیے جس مزاج کی شوگر ھے وہ میٹھا بند اور دوسرے جاری رھنے چاھیے تاکہ بدن انسانی کمزور نہ ھو جبکہ شوگر کے علاج مین معالج ایک ایسا محاذ جنگ کھڑا کر دیتا ھے کہ ھر طرح کی مٹھاس بند یہی علاج مین پہلی غلطی ھے انشاء اللہ جلد ھی اگلی قسط مین بقیہ مضمون دعاؤن مین یاد رکھیے گا. محمود بھٹہ

Sunday, September 24, 2017

نسخہ کیمیاء نذیر شاہ صاحب-2

 Kimia | Al Kimia

 ,,,نسخہ کیمیاء نذیر شاہ صاحب دوسرا حصہ,,,,


بغیر کسی انتظار کے فارمولا پیش خدمت ھے ھان مین. پہلے سے عرض کر دون عرصہ گزرا شاہ جی نے جب یہ نسخہ کیمیاء عطاء کیا لیکن مین نے آج تک اس پہ کوئی تجربہ نہین کیا آپ یہ نہ سوچ لین کہ مین نے خود کیون نہین تجربہ کیا تو اس کی بھی کافی وجوھات ھین وقت ھی نہ ملا یا کچھ اور ,,البتہ شاہ جی بات پہ مجھے سو فیصد یقین تھا کہ وہ سچ بول رھے ھین ان کی آنکھون مین حسرت یاس کے آنسو مین نے دیکھے ھین آپ نے نہین اب شہادت بھی مین ھی دے سکتا ھون کہ شاہ جی نے ھر بات سچ کہی اب نسخہ دیکھ کر شاید آپ بھی یقین کر لین  ,,,,,,,,,
شنگرف رومی,,, ھڑتال ورقی,,,,, سم الفار زرد ,, سونا مکھی ھر ایک چھ ماشہ ,, ان دواؤن کو علیحدہ باریک پیس لینا ھے کم سے کم ایک دن ,,اب ایک نمبر اسے دے لین
دو نمبر دوا,,نمک سیاہ,,طوطیا سبز,,نوشادر ٹھیکری,,, سرخ کاھی ,,,ھر ایک تین ماشہ ان کو علیحدہ باریک پیس لینا ھے کھرل ایک دن کرنا ھے
نمبر تین,, گندھک آملہ سار ,,سیماب مصفی,,چھ چھ ماشہ کی علیحدہ ایک دن کھرل کر کے کجلی تیار کر لینی ھے
نمبر چار,, انبہ ھلدی 20 تولہ دودھ بھیڑ 20 تولہ مین کھرل کر کے دو تین دن اچھی طرح کھرل کرین پھر اس کا بذریعہ پتال جنتر تیل نکال لین
اب یہ چار علیحدہ علیحدہ نسخے تیار ھو گئے اب بانس کی لکڑی جو وہ تنگون کی شکل مین کر لیتا تھا وزن بانس لکڑی ایک پاؤ اور زیتون تیل ایک ڈبی ,,
اب پہلے والی چارون دوائین اور زیتون اور بانس کی لکڑی یہ سب کچھ وہ سادھو لے کر خیمہ کے اندر شام کو چلا جاتا تھا صبح وہ خیمہ سے باھر نکلتا تھا اس رات اس کی بیوی بھی اس خیمہ کے اندر نہین جا سکتی تھی صبح جب وہ خیمہ سے باھر نکلتا تو اس کے ھاتھ مین وہ تیل شیشی کے اندر موجود ھوتا تھا جسے وہ سورج کی طرف کر کے دیکھتا پھر تانبہ کے اوپر لگا کر تانبہ کو آگ مین رکھ دیتا جسے آدھ گھنٹہ بعد نکال لیتا جو خالص شمس بن چکا ھوتا اسے وہ شاہ جی کو دیتا کہ بازار فروخت کر آؤ شاہ جی فروخت کر آتے سال مین وہ دو دفعہ تیل بناتا پہلے والے سب عمل شاہ جی سے کرواتا اب خیمہ والا عمل وہ خود ھی کرتا شاہ جی کہتے ھین بعض اوقات زیتون بھی کچھ بچ جاتا بانس کے تیلے جلے ھوۓ ملتے تھے اب سب کو دعوت ھے خیمہ والی کہانی کو کھولین

نذیر حسین شاہ کا نسخہ کیمیا

 ,,,, نذیر حسین شاہ کا نسخہ کیمیا,,,,,

نہ کوئی پراسراریت نہ ھی کوئی ابہام سب کچھ آپ کے سامنے ھے میری زندگی تباہ ھو گئی سب کچھ آپ کے سامنے ھے آپ اس گتھی کو سلجھا لین مجھ سے جو پوچھنا ھے وہ پوچھ لین بلکہ کہین تو پہلا عمل مین آپ کو مکمل کرواۓ دیتا ھون آخری عمل کی مجھے کچھ سمجھ نہین آئی یہ الفاظ مجھے خود نذیر حسین شاہ صاحب نے فرماۓ تھے شاہ جی کا تعلق جلال پور بھٹیان سے تھا وفات پاۓ عرصہ گزر چکا اب ان کا مزار ھی ھے جس سے ملاقات ھو سکتی ھے لیکن جو داستان مین بیان کرنے لگا ھون اس کے گواہ زندہ ھین شاہ جی کے ساتھی زندہ ھین شاہ جی کی کہانی بہت دردناک تھی اور لمبی بھی تھی چار پانچ گھنٹے لگ گئے پوری ھسٹری سننے مین شاہ جی کے بہت سے سنیاسی نسخے جو زندگی بھر کا نچوڑ ھین ایک ھندو سادھو کے وہ بھی عطاء فرماۓ  اب مین وہ سب کچھ تو سنا نہین سکتا  مختصر اسی نسخہ کے مطعلقہ کچھ باتین لکھے دیتا ھون ملاحظہ فرمائین,,,,,,

پاکستان بننے سے پہلے کی بات ھے شاہ جی کھیتون مین اپنے ڈیرہ پہ کام مین مصروف تھے غروب آفتاب کا وقت ھے شاہ جی بھینسیون سے دودھ نکال چکے ھین ایک سادھو ھمراہ بیوی پہنچتا ھے رات گزارنے کی اپیل کرتا ھے شاہ جی منظور کرتے ھین کھانے کو اور تو کچھ پاس نہین تھا دوپہر کی باسی روٹی اور تازہ دودھ فراھم کر دیتے ھین شاہ جی انہین چھوڑ کے گھر چلے جاتے ھین جو وھان سے دو میل دور جلال پور بھٹیان مین ھے رات گزرتی ھے شاہ جی حلواہ اور روغنی روٹیان گھر سے بنوا کر اس ھندو میان بیوی کے لئے لے جاتے ھین وہ ھندو خوش ھو کر بطور تحفہ سونے کی ڈلی شاہ صاحب کو دیتا ھے اب شاہ جی کی مت ماری جاتی ھے لالچ مین آتے ھین مزید کا مطالبہ کرتے ھین وہ سادھو اپنے کیمیا گر ھونے کا اعتراف کر لیتا ھے شاہ صاحب دونون کو  درخت سے باندھ کر  گھر کی طرف دوڑ لگاتے ھین تانبے کا برتن لینے کے لئے ادھر شاہ جی کے ڈیرہ پہ پڑوسی آ جاتا ھے وہ خود کو شاہ جی کا مہمان ظاھر کرتے ھین اور بتاتے ھین کہ چور آیا ھے ھمین لوٹ کر باندھ گیا ھے اسے شاہ جی کو بلانے شہر بھیجتے ھین اور خود فرار ھو جاتے ھین راستہ مین پڑوسی اور شاہ جی کی ملاقات ھوتی ھے وہ مہمانون کی صورت حال بتاتا ھے تو شاہ جی سر پیٹ لیتے ھین اور اسے بتاتے ھین انہین شاہ جی نے خود ھی باندھا تھا شاہ صاحب گھوڑے پہ سوار تیزی سے ڈیرہ پہ پہنچتے ھین اور ان ھندوؤن کا کھرا دیکھ کر پیچھا شروع کر دیتے ھین حافظ آباد ریلوے اسٹیشن پہ پہنچ جاتے ھین اور ریل کے ڈبے مین سادھو نظر آجانے پر شاہ جی بھی ٹرین پہ سوار ھو جاتے ھین یہ ھے ابتداء داستان کی ,,,,,,,اب چودہ سال جنگلون مین سادھو کے ساتھ شاہ جی مارے مارے پھرتے رھے منت سماجت کر کے شاہ جی نے ھندو کو راضی کر لیا تھا کچھ ساتھ شاہ جی کا ھندو کی بیوی نے دیا اب وہ جنگلون مین ھی ڈیرہ لگاتا ایک تیل تیار کرتا جو بقول شاہ جی کے سرخ آفتابی رنگ کا ھوتا تھا اب اس کا طریقہ یہ تھا کہ اس نے شروع مین شاہ جی کو سنیاس کی دوائین تیار کراتا اور ان کے بارے مین سب کچھ اس نے شاہ جی کو بتا دیا کیمیاء کے نسخہ کے چار سٹیپ شاہ جی سے تیار کراتا اور آخری مرحلہ مین شاہ جی کو دور کر دیتا تھا وہ تیل سے تانبہ کو رنگین کرتا اور شاہ جی سے ھی کہتا بازار فروخت کر کے سودا سلف لے آؤ اس دوران پاکستان بن چکا تھا کلکتہ کے قریب کسی جنگلی جگہ پہ رات کے وقت سادھو کو سانپ کاٹ گیا اب اس نے آواز لگائی شاہ جی فلان دوا فورا لاؤ مجھے سانپ ڈس گیا ھے شاہ جی نے جھولے سے دوا نکالی اور ھاتھ مین پکڑ لی اب شاہ جی کے دل مین فورا ایک بجلی سی چمکی انہون نے سادھو سے کہا کہ دوا تیرے منہ مین تب ڈالون گا جب آخری بات بتاۓ گا کہ کیسے تیل بناتا ھے اب دونون مین تکرار شروع ھو گئی ھندو کہتا پہلے دوا دو تب بتاتا ھون شاہ جی کہتے پہلے بتاؤ تب دوا دون گا سانپ زیادہ زھریلا تھا سادھو کا بھی وقت آ گیا تھا سادھو مر گیا اب ان چودہ سالون مین سادھو کی بیوی نے بار بار سادھو سے کہا تھا کہ شاہ جی کو آخری بات بتا دو ,,,اب شاہ جی نے سادھو کی بیوی کو کلکتہ شہر چھوڑا اور خود چلتے پھرتے چودہ سال بعد گھر پہنچ گئے اور پوری زندگی شاہ جی نے اس آخری مرحلہ کو حل کرنے مین لگا دئے صرف تیل کھلتا نہین باقی سب کچھ من عن تیار ھو جاتا ھے کوئی ھے ایسا جو اس آخری مرحلہ کو حل کر دے تو نسخہ کی پوسٹ لگاؤن جو ھے بھی آسان

Saturday, September 23, 2017

صحیح نسخہ شوگر حکیم عثمان بھٹ|Sugar|Diabetes

,,,,,مطب کامل,,,,
#Sugar,#Diabetes
,,,,,,تصحیح نسخہ شوگر حکیم عثمان بھٹہ,,,,
عثمان صاحب کا نسخہ جس مین مرغ کے پتہ کے پانی کا ذکر ھے بالکل درست ھے آپ جانتے ھین وہ پانی کیا چیز ھے نہین جانتے تو بتا دیتا ھون مین اپنے مضمون شوگر مین وضاحت کر چکا ھون کہ صفرا ھی کا کمال ھے سب کچھ ,,,
شوگر کے مرض مین صفرا آنتون اور معدہ مین زیادہ گرتی ھے جس کی وجہ سے خوراک جلدی ھضم ھو جاتی ھے خون مین کم شامل ھوتی ھے یہ ھے فالٹ ,,اس کا ذکر مین اپنی پوسٹ مین کر چکا ھون اب آپ. کو بتاؤن کہ پتہ مین جو کڑوا سا پانی ھوتا ھے یہی خالص صفرا ھے جب آپ غذا کے ساتھ خود ھی ڈارئریکٹ صفرا لین گے جو مرغ کے پتہ کے اندر ھوتی ھے تو وہ غذا کے ساتھ ھضم ھو کر سیدھی سیدھی خون مین شامل ھو جاۓ گی تو اب بندے کو جتنی ضرورت تھی خون مین صفرا کی وہ پوری ھو گئی تو شوگر نے کنٹرول تو ھونا ھی ھے کہان جاۓ گی جزو بدن بننا ھی ھے کہان جاۓ گی میرے خیال مین دلیل اتنی ھی کافی ھے اب رھا اس کو آسان طریقہ سے استعمال کرنے کا ,,بہت سے لوگون کا سوال تھا کہ کیپسول مین کیسے ڈالین تو جناب سن لین آسان طریقہ مین نے خود تجربہ کیا ھے وھی بتا رھا ھون مین نے بکرے کا پتہ پورا حاصل کیا اس. مین  مرچ سیاہ پیس کر ملا دین بلکہ بھگو دین جب وہ سوکھ گئین تو دو مرچ برابر صبح شام ھمراہ پانی کھلا دین شوگر دو دن مین کنٹرول ھو گئی آپ اس طرح بھی کر سکتے ھین کہ مرغ کے بہت سے پتون سے اکھٹا پانی حاصل کر لین اور ان مین مرچ سیاہ پیس کر بھگو دین آپ نے مرچ ڈالنی اتنی ھی ھے جو پانی مین تر بتر ھو جاۓ یہ نہین کرنا پتہ چار عدد اور مرچ من ڈال لین جب سوکھ جاۓ تو بے شک چھوٹے کیپسولون مین بھر لین صبح شام کھا لین یا ایک دفعہ کھا لین اب رہ گیا مرچ سیاہ کا فلسفہ کہ یہ کیون شامل کی کچھ اور کیون نہین تو میرے بھائی مرچ سیاہ بذات خود کڑوی ھے نا تو خود بھی صفراوی مزاج رکھتی ھے اور محرک جگر بھی ھے اور جو چیز خود صفرا کی حامل ھو تو اس سے بہتر اور کیا چیز ھو گی بات آئی سمجھ مین یا نہین

Friday, September 22, 2017

شوگر 9|Sugar|Diabetes

,,,,,,,,,,مطب کامل,,,,,,,,,
#Sugar,#Diabetes
,,,شوگر قسط نمبر 9,,,,
تمام ماھرین فزیالوجی اور اناٹومی اس بات پہ متفق ھین کہ انسانی دماغ پیدائش سے لے کر رطوبت عزیزی پیدا کرتا ھے جس سے انسانی وجود کی نشو و نما ھوتی ھے اور یہ عمل چالیس سال کی عمر تک جاری رھتا ھے جب چالیس سال سے عمر اوپر ھوتی ھے تو یہ عمل رک جاتا ھے یعنی رطوبت عزیزی پیدا نہین ھوتی جس کی وجہ سے انسانی دماغ کا ھی وزن کم ھونا شروع ھو جاتا ھے جو تقریبا ایک اونس سالانہ ,,, 28 گرام تقریبا کم ھونا شروع ھو جاتا ھے نتیجہ یہ ھوتا ھے کہ خون اور جسم مین رطوبت کی کمی اور گرمی خشکی بدن مین بڑھ جاتی ھے رطوبت عزیزی جس کا. اصل کام غذائی جوس کو پتلا کر کے جذب ھونے کے قابل بناتی ھے لیکن ھوتا یہ ھے کہ وہ رطوبت اب پیدا تو کم ھو رھی ھے یا نہین ھو رھی تو غذائی جوس کو پہلے کی طرح ھضم ھونا مشکل ھو جاتا ھے جب جوس پتلا نہین ھو گا تو بدن نے کوئی نہ کوئی عمل کرنا ھی ھوتا ھے تو طبیعت باھر سے مدد لیتی ھے اور انسان بار بار پیاس محسوس کر کے پانی پیتا ھے اس طرح قوام پتلا ھو کر ھضم ھونے کے قابل ھوتا ھے اب بات ھے کہ رطوبت عزیزی کی تو کمی واقع ھو چکی ھے  تو لازما ضعف دماغ بھی پیدا ھوتا جاتا ھے اب تمام عمر عارضی طور پر پیاس کی صورت مین پانی طلب کر کے اپنی ضرورت پوری کرنے سے بھی شوگر کا عارضہ لاحق ھو سکتا ھے
اب ایک دوسری اھم بات یہ بھی یاد رکھین اس سارے عمل سے جسم مین صفرا کی مقدار ضرور بڑھ جاتی ھے لیکن کہان بڑھتی ھے یہ سمجھین ,,,,,
آپ کو پہلے بھی کسی قسط مین بتا چکا ھون کہ شسگر کے مریض کا ھضم کا فعل انتہائی تیز ھو جاتا ھے اگر. یاد آگیا ھے تو یہ بھی یاد ھو گا کہ مین نے بتایا تھا کہ معدہ اور انتڑیون مین صفرا کی مقدار زیادہ ھو جاتی ھے جس کی وجہ سے ھضم کا عمل تیز ھوتا ھے لیکن افسوس,,, جہاں ضرورت تھی وھان صفرا کی کمی واقع ھو جاتی ھے اور وہ مقام ھے خون غذائی مواد جب انتڑیون مین ھضم ھو کر آپ کی کیمیائی فیکٹری جگر مین پک کر جب یہ قوام خون مین داخل ھوتا ھے تو وھان بھی صفرا کی شدید ضرورت تھی جو غذائی مواد کو ھضم کرکے جزو بدن بننے کے قابل بناتی ھے اب یہ عمل یا تو رک جاتا ھے یا بالکل سست ھو جاتا ھے بمشکل یہ عمل ھوتا ھے جب یہ غذائی مواد خون مین صفرا کم ھونے کی وجہ سے کچا رہ جاتا ھے تو گردے اس کچے مواد کو فضلہ سمجھ کر براہ بول  خارج ھو کر دیتا ھے باقی اگلی قسط مین محمود بھٹہ

بڑھی ھوئی توند کا علاج

,,,,,,, مطب کامل,,,,
,,, بڑھی ھوئی توند کا علاج,,,,,
مصروفیت کے باعث وقت تو ملتا نہین ھے ایک شوگر کی پوسٹین لکھنی پڑتی ھین ٹائم اتنا ھی ھوتا ھے ھمارے گروپ کے رضوان صاحب کافی روز سے مطالبہ کر رھے ھین پیٹ کی توند نکل گئی ھے علاج بتائین تو جناب اس کا بہترین اور آسان علاج جوارش بسباسہ ھے اس کا نسخہ مندرجہ ذیل ھے بنائین اور پیٹ ساتھ لگائین پھر مزے اڑائین جتنا مرضی کھائین
اسارون,,, فلفل دراز,, جلوتری,,, دارچینی,,, سنڈھ,,, ھر ایک 50 گرام الائچی کلان ,, الائچی خورد,,, ھر ایک 25 گرام مرچ سیاہ سو گرام لونگ 75گرام شہد دواؤن کے وزن سے تین گنا ڈالین اب سب دوائین پیس کر شہد کا قوام بنا کر اس مین سب دوائین شامل کر دین تین تا چھ ماشہ ھمراہ عرق چہار کے ساتھ صبح شام کھائین اس کے مندرجہ ذیل فائدے ھونگے
حرارت غریزی بہت پیدا کرتی ھے معدہ کی سردی دور کرتی ھے پیٹ کے ریاح ختم کرتی ھے پیٹ کی توند ختم کرتی ھے مزاجا گرم خشک ھے چربی کو تحلیل کرتی ھے