Wednesday, October 20, 2021

دواسازی-3

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔ دواسازی کیسےکی جاۓ۔۔۔۔۔۔قسط 3۔۔۔۔

اب تک کی بحث سے ایک بات کنفرم ھوگئی ھے کہ ھم یونانی طبی میدان ترقیاتی معاملات مین بہت ھی پیچھے رہ گئی ھے اور یاد رکھین اگر ھم زمانہ کے ساتھ نہ چل سکے توشاید زمانہ بھی ھماراساتھ نہ دے اس لیے اس فن کےتمام شعبون مین جدت کی ضرورت ھے دواسازی اور ادویات کی تیاری جوھم اسلاف کے رائج طریقون کے مطابق کررھے ھین جبکہ ھماری ذمہ داری تھی کہ ھم اس مین جدت لاتے اور ھم نے سواۓ اسکے کہ پیکنگ خوبصورت بنائی اور کمپنیاں بنائی اور مارکیٹنگ شروع کردی یہ جدت ھم نے خوب کی لیکن دوا کا معیار انتہائی گھٹیا اور ناقص ھوتاھے ایک سمجھدار طبیب ان سب باتون کو سمجھتا ھے مین یہان ایک چھوٹی سی مثال آپ کودیتا ھون دوا کا معیار کچھ یون ھوتا ھے کہ اگر آپ بازار سے کسی بھی دواخانہ کا تیار شدہ شربت دینار لین اس بازاری شربت کی قیمت دوا کا معیار ذائقہ اپنے بناۓ شربت دینار سے کرین آنکھین کھل جائین گی اب مین ایک دوسرے رخ کی بھی مثال دیتا ھون معجون خبث الحدید کے بارے مین سب ھی جانتے ھین کہ فولادکاایک بہترین مرکب ھے اپنی افادیت کے لحاظ سےآج بھی ایک مسلمہ حیثیت رکھتاھے لیکن اسکے بنانے مین ناقص ترین انداز اپنایا جاتا ھے بندہ بجاۓ کھانے کے اس سے متنفر ھوتاھے اگر اسی دوا کو بہتر انداز مین جدید انداز مین ھم بنائین توانتہائی خوش ذائقہ ٹانک مین بدل سکتے ھین بے شمار اشیاء کے ذائقے اور خوشبو مارکیٹ سے دستیاب ھین اگر ھم مناسب ذائقہ اور خوشبو اس مین ڈالکر اسے تیار کرین تو مریض بڑی دلجمعی سے اسے کھاۓ گا اگر پرانے انداز مین ھی بنائین تو نہایت بدذائقہ ھوگی دوستو جدت ھم نے خود لانی ھے اگر ھم اسی ایک دوا مین جدت لے آئین تو عوام مین ھرشخص کی زبان پہ معجون خبث الحدید کانام ھوگا میری مراد ھے کیون نہ ھم جدید ٹیکنالوجی اور ترقی یافتہ انداز اپنا کراپنے مرکبات کوجدید اور دیدہ زیب انداز مین پیش کرین یہ کوئی مشکل کام نہین ھے بازار مین دستیاب پیپر منٹ سیرپ جسے عام لوگ پسند کرتے ھین کیا آپ جانتے ھین یہ شربت کیسے تیار کرتےھین اس مین دوا نام کا توشاید ذرا بھی نہین ھوتا بس پانی مین تھوڑی گم مٹھاس فلیور پیپر منٹ آئل یا امرت دھاراسبز کلر بس شربت تیار ھے کیا اس سے یہ بہتر نہین ھے آپ خود امرت دھارا بنالین اور سادہ شربت کا قوام بنا کرپاس رکھ لین اور ضرورت کے مطابق چندقطرے امرت دھاراکے اس سادہ شربت مین ڈالکر مریض کوپلا دین یہ زیادہ فائدہ مند رھے گا 

اب ھم نے ایک بات اور کلیر کرلی کہ ھم نے دواؤن کو خوبصورت انداز مین خوشبودار اور ذائقہ داربنانا ھے لیکن اس سے بھی پہلے ایک انتہائی مشکل کام ھمین کرنا پڑے گا وہ ھے مفردات کاکام ؟

کیا آپ کو علم ھے کہ جومفردات ھم پنسار کی دوکان سے خریدتے ھین کیا وہ درست ھین درست ھونے یا نہ ھونے مین دوکلام ھین ۔۔۔ پہلا کلام یہ ھے کہ کیا ھمین ملنے والے مفردات اصل ھین یعنی جوھم نے طلب کیے ھین کیا یہ وھی مفردات ھین یا جو بھی کوڑاکرکٹ سامنے آیا ھے پنساری نے وھی ھمین پکڑادیاھے دوسرا کلام یہ ھے کہ یہ قابل استعمال ھین یا بوسیدہ ھوچکے ھین 

قدیم سے قدیم مفردات کےکتب اٹھا کردیکھ لین خواہ جدید دیکھ لین یہان یہ نشاندھی کردون کہ مفردات کی کتاب اگر دوسوسال پرانی یا کم سے کم نولکشور کی چھپی دیکھ لین اور اس صدی مین چھپی بھی پڑھ لین سب نے ایک دوسرے کی نقل کررکھی ھے بہت کم فرق نظرآۓ گا یعنی ایک دوسرے سے نقالی کرکے اپنا نام لکھ کر مصنف بن بیٹھے ھ خیر ھر مفرد دوا کا مزاج اور دوا کی عمر کا تعین ضرور لکھا ھے جیسے مین مثال دونگا ھنس راج دوا کی عمر چھ ماہ ھے اب پنساری آپ کو کیسے بتاۓ گا کہ یہ ابھی تازہ ھے اور قابل استعمال ھے ممکن ھے اس کے پاس پانچ سال پرانی پڑی ھو یہی حال دیگر مفردات کاھے کوئی سال بھر عمررکھتی ھے تو کوئی دوسال عمررکھتی ھے جبکہ پنساری کے پاس پتہ نہین کتنے سال پرانی ھو اپنی عمرگزارچکی ھو اب خودفیصلہ کرین یہ  مطلوبہ مرض پہ کیافائدہ کرے گی ھے نا پریشان کن بات ؟ لیکن پریشان نہ ھون اس بات کا بھی حل ھے اور انشاءاللہ یہ حل ھم سب خود مل کر کرین گے

پہلا اصول تو یہ ھونا چاھیے کہ ھر مفرد نباتات کے اوپر بوٹی کو اکھیڑ کر صاف کرکے خشک کرکے تیار حالت کی تاریخ اورکتنے عرصہ تک قابل استعمال ھے ان تاریخوں کااندراج اور کسی مرکب مین کب ڈال گئی اور یہ مرکب کب تک استعمال ھوسکتا ھے ان سب باتون پہ سختی سے عمل ھو اور یہ بھی پتہ چلے کہ مطلوبہ بوٹی کونسے علاقہ کی پیداوار ھے اور کس موسم مین پیدا ھوتی ھے دوستو یہان مین ایک نکتہ اوربھی بتادون کچھ بوٹیان صرف بالکل تازہ حالت مین ھی کام آتی ھین جیسے مجھے عبدالکریم آزاد صاحب نے ایک بوٹی جو بھکھڑا کلاں کی شکل مین ھوتی ھے اس کے سبز پتے پانی مین رکھنے سے چند منٹ مین پانی کو شہد کی طرح گاڑھا کردیتی ھے باقی اگلی قسط مین

Tuesday, October 19, 2021

دوا سازی-2

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔ دوا  سازی کیسے کی جاۓ ۔۔۔۔قسط 2۔۔۔۔۔

مین پچھلی قسط مین بات کررھا تھا کہ زمانہ قدیم مین ادویات کو ایک مرتبان مین ڈالا جاتا تھا اور اسے پانی سےبھردیاجاتا مقررہ مقدار مین پانی نکال کر مذید پانی ڈال دیاجاتا اور یہی پانی مریض کو پلایا جاتا اپنے دور مین یہ دوا کی انتہائی جدید شکل تھی کہ جیسے پھکی پھانکنا مشکل ھے تو یہ پانی پینا آسان تھا اس دوا کی تیاری مین دوا کو دو نئی شکل دینے مین مدد ملی جیسے بعض نباتات جو ذائقے مین قدرتی مٹھاس رکھتی ھون اگر ان کو پانی مین بھگو دیاجائے تو کچھ عرصہ اگر یہ دوا پانی مین پڑی رھے تو لازما ایسے دوا اپنے اندر ترشہ پیدا کرکے سرکہ کی شکل اختیار کرلیتی ھے یہان مین چند وہ ادویات لکھنے لگا ھون جن کا سرکہ بنانے کا آپ نے آج تک سوچا بھی نہ ھوگا اب اس مین ایک دوا ھلدی ھے اگرتازہ ھلدی کا رس نکال کر کسی بوتل مین ڈال دین تو زیادہ سے زیادہ ایک ھفتہ مین خود ھی سرکہ کی شکل اختیار کرجاتا ھے یاد رکھین ھلدی بظاھر آپ کو کسی صورت میٹھی نہین لگے گی لیکن یہ اپنے اندر بہت زیادہ شکررکھتی ھے اسی طرح آک جسے آپ مدار بھی کہتے ھین اگر اس کے پتون کا خالص پانی نکال کر کسی برتن مین رکھ دین توچند روز بعد یہ بھی سرکہ بن جاۓ گا مین بذات خود اپنی ضرورت کے مطابق تیار کرتارھتا ھون باقی استعمال کہان کرتا ھون آج یہ ھمارا موضوع نہین ھے میرے مثال دینے سے مراد یہ تھی کہ زمانہ قدیم مین جب ایسی نباتات دیگر ادویات کے ساتھ ملا کرپانی مین بھگودیجاتی تھی تو ترشہ پیدا ھوکر سرکہ کی شکل اختیار کرلیتی اب حکماء پہ سرکہ کا راز کھلا یاد رکھین ھرسرکہ بھوک پیدا کرتا ھے کیونکہ ھرایک خوراک معدہ مین ترشہ پاکرھی ھضم کی طرف جاتی ھے اب حکماء کرام نے دوا کی نئی شکل سرکہ کو بھی مریضون پہ استعمال شروع کردیا یہین سے بعض لطیف مزاج حکماء کو جن کی سوچ انتہائی گہری تھی انہون نے دوا کو پانی مین بھگو کرپھر پانی کو بخارات کی شکل دے کرٹھنڈا کرکے ایک انتہائی لطیف شکل دے دی اسے ھم آج عرقیات کے نام سے جانتے ھین یاد رھے دور جدید مین اس وقت بھی ایلوپیتھی مین عرقیات کا استعمال ھوتاھے  جیسے بعض ایکسرے کرنے سے پہلے پوری بوتل عرق سونف پلانا ضروری سمجھاجاتاھےیعنی عرقیات کی افادیت کو اس دور مین بھی نہین جھٹلایا جاسکتا ھان دور قدیم مین عرقیات کےلئے مستعمل ادویات کی درجہ بندی کی گئی یعنی خوشبودار ادویات جیسے سونف پودینہ اجوائن الائچی تیزپات زیرہ گلاب جیسی ادویات کے عرقیات بناۓ جاتے اسکا ایک خاص سبب تھا کہ ھرعرق مفرح قلب ضرور ھوتا ھے پھرجاذب وجزو بدن بننا نہایت تیزی سے عمل پذیر ھوتا ھے 

یہان مین دو منفی باتین بھی بتاۓ دیتا ھون جیسا کہ موجودہ دور مین آپ دیکھتے ھین برے لوگ بھی ھین اور اچھے لوگ بھی ھین اسی طرح زمانہ قدیم مین بھی اچھی بری سوچ کے حامل حکیم بھی تھے بعض جو ھروقت منفی سوچ سوچتے تھے انہون نے پہلے پہل سرکہ کی ھلکی شکل مین ایک نیند آور دوا نبیند کی شکل مین تیار کی پھر انہین اس رازکابھی علم ھوگیا کہ انتہائی ترشہ کی شکل مین کسی بھی مٹھاس رکھنے والی دواکا سرکہ بنایا جاۓ اور پھر سرکہ کا عرق کشیدکیاجاۓ تو یہ عرق ایک مخصوص حد کے اندر ایک انتہائی تیز نشہ آور دوا بنتی ھے یعنی اس راز کا علم ھوگیا کہ جوادویات پہلے سے ھی نشہ آور ھوتی ھین جیسے حشیش یا بھنگ ھے اسکے علاوہ بھی خودساختہ نشہ آور عرق تیار کیاجاسکتا ھے اور یہ نشہ ھردوامین پیداکیاجاسکتا ھے اب یہ پہلی سنسنی خیز دوا شراب کی صورت مین ایجاد ھوچکی تھی جیسے جیسے وقت گزرتاگیا حکماء اپنی ادویات مین جدت پیدا کرتے گئے اور انہون نے دوا کوکئی اشکال دے دین ایک ھم ھین کہ اب انہی اشکال مین دوائین تیار کررھےھین کوئی نئی ترتیب دینے سے قطعی پرھیزکرتےھین ایک طرف مغرب ھے جو ھماری ھی کتب اٹھاکر لےگیا اور بڑی محنت اور لگن سے دوا کو ترقی دیتے گئے انجیکشن ڈرپ اور گیس کی شکل مین بےشمار ادویات ترتیب دے ڈالی اورھمین شرم بالکل نہین آئی بلکہ بےشرمی کی حدتک آج ھم انہی کی دواؤن کے محتاج ھوچکےھین ایک وہ اچھا خاصا بھرم بنا ھواتھا کہ چلو خاص امراض کاعلاج تو حکیم ھی کرسکتاھے لیکن خداغارت کرے اس ویاگرا کو جب سے مارکیٹ مین آئی ھے ھمارا یہ بھرم بھی ٹوٹ گیا ھے خیرسے ھم آجکل اسکے بھی محتاج ھوچکےھین 

دوستو یقین جانین ھم آج بھی تھوڑی سے سوجھ بوجھ اور ھمت سےکام لین توچندسال مین پوری دنیا مین تہلکہ مچاسکتےھین امید پہ دنیا قائم ھے میراکام ھے آپکی راھنمائی کرنا اور آپ کاکام ھے خلوص دل سے سمجھنا اور محنت کرنا عہد کرین کہ ھم نے پہاڑوں کےسینے چیر کربھی منزل تک پہنچنا ھے کون کون اس عہد پہ ھے ذرا ھاتھ اٹھائین انشااللہ باقی باتین اگلی قسط مین اب اجازت دین محمودبھٹہ گروپ مطب کامل 

نوٹ۔۔۔ اچھے طبیب حضرات کو گروپ جوائن کرنے کی دعوت بھی دیا کرین

Monday, October 18, 2021

دوا سازی-1

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔ دوا سازی کیسے کی جاۓ ۔۔۔۔۔۔۔۔قسط1۔۔۔

موجودہ دور مین طب سے منسلک اکثریت حضرات مشکل ترین نسخہ جات پڑھ بھی لیتے ھین اور لکھ بھی لیتے ھین لیکن انہین بنانا عام بندے کےلئے توناممکن اور طبیب کےلئے بالکل ممکن نہین ھوتا بس وہ پڑھ کرھی اپنے دماغ مین وہ علم بٹھاتارھتاھے اور اسی سے حظ اٹھاتا رھتا ھے چند ایک حکماء جو ھمارے گروپ مین موجود ھین وہ دوا سازی کے فن پہ عبور رکھتے ھین لیکن وہ لکھنے سے گریز کرتے ھین خیر دعا ھے کہ اللہ تعالی انہین لکھنے کی توفیق عطافرمائے 

دوا سازی یہ نہین ھے کہ دوائین بازار سے خرید لین پھر ان کو گرینڈر مین ڈال کر پیس لیا اب یا تو بشکل سفوف ھی رکھ لیا یا گولیان بنالین یا کیپسول بھر لیے یا معجون کی شکل دے دینا فن نہین ھے دوا ھمیشہ لطافت مانگتی ھے جتنی لطیف سے لطیف شکل دے سکین اتنی ھی دوا موثر ھوگی آئیے مختصر انداز مین آپ کو شروع سے دوا سازی کے بارے مین بتاتے ھین یاد رھے یہ مضمون کئی اقساط پہ مشتمل ھوگا اسلیے اپنے پاس محفوظ کرسکتے ھین

جس طرح ھم آج معجونات مشروبات بناتے ھین دور قدیم مین دوا کی یہ شکل نہین تھی اور آپ کو اس بات پہ حیرانگی ضرور ھوگی کہ موجودہ دور مین دنیا کے بعض حصوں مین آج بھی قدیم انداز مین دوا تیار کی جاتی ھے جس مین براعظم امریکہ بھی شامل ھے قدیم انداز کیا تھا کہ دوا کو جوشاندہ یا خیساندہ کی شکل مین دیاجاتاتھا قدیم طبی کتب کے مطالعہ سے جالینوس اور ارسطو سے پہلے یہ جوشاندہ والی صورت حال تھی پھر سفوف بنانی شروع کی گئی لیکن ادویات مین پھپھوندی لگنا یا کیڑے پیدا ھوجانا سے حکماء پریشان رھتے تھے اب جالینوس کے دور مین مرکبات کو سفوف بنا کر اس مین شکر یا شہد شامل کرکے معاجین کی شکل دینے سے دوفائدے حاصل ھوۓ ایک ادویات خراب ھونے سے محفوظ ھوئین ذائقہ مین بہتری آئی اور اثرات مین بھی بڑھ گئین دور قدیم مین بعض ادویات کو مرکبات کی شکل مین مرتبانون مین ڈالکر پانی سے بھردیاجاتا اب یہ پانی مطلوبہ مقدار مین نکال کر مریض کو پلادیاجاتا بالکل آج بھی یہی طریقہ کار براعظم امریکہ کے ملک پیرو مین استعمال کیاجاتاھے اگر کبھی پیروجانے کا موقعہ ملے توآپ کو جڑی بوٹیان لےکر مختلف مرکبات ترتیب دیے ھوۓ سڑک کے کنارے بیٹھے ھوۓ لوگ ملین گے آج بھی اکثریتی آبادی انہی نباتات سے ھی اپناعلاج معالجہ کرتے نظرآئین گے امریکہ مین مختلف نباتات سیل بند سٹور پہ منرل کی شکل مین مل جاتی ھین یہان ایک بات یہ بھی بتاتا چلون پنسلین جیسی دوا موجودہ دور کی ایجادنہین ھے بلکہ پانچ ھزار پہلے فرعون کے زمانہ مین بھی پنسلین کا استعمال ھوتاتھا اس دور مین روٹی کے اوپر چربی لگائی جاتی خاص کر امراء کےلئے شیر کی چربی لگائی جاتی اب اس روٹی کوپانی مین بھگودیاجاتاجب شدید پھپھوندی لگ جاتی تو اس پھپھوندی کواتار کرشہد شامل کرکے نزلہ زکام یا جہان بھی اینٹی بائیوٹک کا استعمال ھوتاھے اسے استعمال کیاجاتاتھا یعنی زمانہ پہلے یونان کی تہذیب اور مصر کی تہذیب کو پتہ چل چکا تھا کہ ادویات کو کیسے محفوظ رکھنا ھے بلکہ ادویات تورھی ایک طرف وہ لاشین اس انداز مین حنوط کرتے تھے جوھزارون سال تک خراب نہین ھوئی یہ سب کچھ ھمارے سامنے ھین سینکڑوں کے حساب سے ممیاں انگلینڈ اور مصر کےعجائب گھروں مین ھمارے سامنے پڑی ھین ان لاشون کو محفوظ کرنے مین دو چیزین انتہائی اھم ھین جو وہ لوگ استعمال کرتے تھے ایک شہد دوسرا لوبان جس کے جوھر کوھم سوڈیم بنزوویٹ کہتےھین یعنی موجودہ مین بھی انہی اجزاء کوبہترجاناگیاھے خیر جدید تحقیق مین دیگر بھی کافی اجزاءدریافت ھوچکے ھین ان کا ذکر آگے ترتیب سے آجاۓ گا یادرھے یہ نئی دریافتین سب مغربی دنیا کی کاوش ھین مسلمان تولذت سرور مین ڈوب کر تحقیق کے میدان سے نکل گئے آج کچھ سرپھرے ھاتھ پاؤن مارتے ھین تو اندرونی اور بیرونی پابندیوں کاسامنا کرنا پڑتاھے خیر امید کادیاروشن ھے 

دواسازی مین جوطریقہ ھمارے اسلاف نے رائج کیاتھا ھم آج بھی وھی طریقہ کار استعمال کررھے ھین جبکہ یورپ نے اسی فن پہ دن رات محنت کی اور دوا سازی کو جدت دے کر اس فن پہ بھی قابض ھوگئے یاد رکھین ھم بھی جدید ٹیکنالوجی کواپناکراپنے مرکبات مین جدت پیدا کرکے اس فن کی بہترانداز مین خدمت کرسکتے ھین انشاءاللہ آپ کو آھستہ آھستہ اسی روشنی کی طرف لے جاؤن گا 

یادرھے ایلوپیتھی ادویات کے بے شمار سمی اثرات یعنی سائیڈایفیکٹ اتنے زیادہ ھین کہ ھماری ادویات مین اس حساب سے نہ ھونے کےبرابرھین اب دنیا کااصول ھے وہ بہترسے بہترکی طرف رخ کرتی ھے کیون نا ھم بھی طب مین ایسے مرکبات تیار کرنا شروع کردین جواثرات مین زیادہ تیزاثر ھون اسکے لیے ھم ھرنباتات کے جوھر نکال کر دوا بنائین اب یہ جوھر کیسے بنانے ھین ابتدا کیسے کرنی ھے یہ سب اگلی قسطون مین

Sunday, October 17, 2021

جھاتیوں کی نشوونما پوری نہ ھونا

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔ جھاتیوں کی نشوونما پوری نہ ھونا ۔۔۔۔۔۔۔۔

نہایت ھی آسان اور گھر بیٹھے خود سے ھی کرنے والا علاج ھے 

اگر کنواری لڑکی مین یہ عارضہ ھو تو بہترین حل شادی کردینا ھے بعض لڑکیون کے شادی کردینے سے ھارمونز تیزی سے متحرک ھوکر کمی دور کردیتے ھین لیکن اکثریت مین غذائی کمی کی صورت مین یہ عارضہ لاحق ھوتاھے یا پھر خون کی کمی کی صورت مین یہ صورتحال پیدا ھوتی ھے 

اگر شادی بھی کردی جاۓ اور خون کی کمی بھی نہ رھے یا غذائی کمی بھی نہ ھو پھر بھی چھاتیان نہ ھونے کے برابر ھون تو مندرجہ ذیل دوا استعمال کرین انشاءاللہ مرض جاتی رھے گی

پہلی ھدایت

روزانہ کسی ایک وقت مین گرم پانی مین نمک کھانے والا حل کرکے ترپڑہ یعنی پاشویہ کرین یعنی سینہ پہ کپڑے کی مددسے یہ گرم گرم پانی گرا کرٹکور کرین جس کا دورانیہ کم سے کم آدھ گھنٹہ ھو اس کے بعد مندرجہ ذیل دواؤن کا گھوٹ کر شیرہ نکال کر پی لین کوئی ایک وقت مقرر کرلین 

یہ مین ایک خوراک کا وزن لکھ رھا ھون 

مغز پنبہ دانہ 3گرام

خارخسک تین گرام

مغز چلغوزہ تین گرام

مغز بادام شیرین پانچ عدد

تودری سرخ تین گرام

سونف 5گرام

دانہ ہیل خورد 5گرام

ان سب ادویات کا پانی ڈال کر گھوٹ کر شیرہ نکال لین اور اس مین خواہ گڑ سفید یا شکر سفید بیس گرام شامل کرکے پی لیا کرین چند روز استعمال کرنے سے چھاتیان ابھر کراپنی نشوونما پوری کر دیتی ھین ھاں یاد رھے جن خواتین کے پاس دودھ کی کمی ھوتی ھے وہ صرف اس دوا کو چند روز استعمال کرین انشاءاللہ کمی دودھ دور ھوجائے گی یاد رکھین اپنے بچے کو بجاۓ خشک دودھ یا گاۓ بھینس کا دودھ پلانے کے بجائے اپنا دودھ پلائین ماں کے دودھ سے بڑھ کر بچہ کےلئے اور کوئی خوراک نہین ھے ماں کا دودھ پلانے سے دیگر بے شمار فوائد کے ساتھ دوفائدے اتنے اھم ھین جن کی کوئی قیمت نہین ھے

پہلا فائدہ بچہ طاقتور اور بے شمار امراض سے بچنے کےلئے  قوت مدافعت زندگی بھر کےلئے پیدا ھوجاتی ھے ایسا ھربچہ مدافعتی طور پر کمزور اور زندگی بھر کسی نہ کسی مرض کاشکار رھتا ھے جو ماں کے دودھ سے دور رھے

دوسرا فائدہ۔۔۔ وہ خواتین جو چھاتی کے کینسر یا سینہ کے کسی نہ کسی مرض کا شکار ھوجاتی ھے ان مین نوے فیصد وہ خواتین ھین جو اپنے بچون کو اپنا دودھ پلانے سے گریز کرتی ھین  

یاد رکھین۔۔۔ اگر اللہ تعالی نے آپ کو اولاد جیسی نعمت سے نوازا ھے  تو آپ بڑی ھی خوش قسمت ھین آپ کو ایک ماں ھونے کا تقدس مل گیا اور ایک ماں کا اسلام مین بھی اور معاشرے مین بھی بہت اونچا مقام ھے اب آپ کی ذمہ داری ھے کہ ایک ماں ھونے کا تقدس وعظمت بحال رکھین اور یہ عظمت بحال رکھنے کےلئے اپنے بچے کواپنا دودھ پلائین  جس خاتون نے اپنے بچے کو اپنا دودھ نہین پلایا وہ ادھوری ماں ھے آپ مکمل ماں ھونے کا شرف حاصل کرین اسی مین آپ کی عظمت ھے اجازت چاھون گا محمودبھٹہ گروپ مطب کامل

مرجان

 السلام عليڪم 


مرجان کا تعارف شوخ رنگ کی بارش شاخوں کے مانند ایک پتھر ہے جو سمندر سے نکالا جاتا ہے پنساریوں کی دکانوں پر شاخ مرجان کے نام سے ملتا ہے رنگ شوخ سرخ ذائقہ پھیکا

مقدار خوراک ایک ماشہ کشتہ کی صورت میں آدھی رتی سے دو رتی تک مزاج خشک گرم افعال واثرات محرک عضلات محلل اعصاب مقوی جگر کیمیاوی طور پر حرارت غریزی بڑھاتا ہے بلغمی رطوبات خشک کرکے سودا میں تبدیل کرتا ہے

خواص حابس قابض مجفف رطوبات دماغ و جگر ہے

فوائد حابس وقابض ہونے کی وجہ سے نزلہ زکام اور دست وغیرہ کے لئے بے حد مفید ہے دماغ اور اعصاب کی سوزش کو ختم کرکے نزلہ زکام اور بلغمی کھانسی کیلئے مفید ہے کیونکہ اس کے استعمال سے دماغ میں دوران خون تیز ہوجاتا ہے اس کے استعمال سے ایک طرف دماغ کی سوزش تحلیل ہو جاتی ہے دوسری طرف دماغ میں قوت وطاقت آکر اعصاب ودماغ کے غیر طبعی افعال افعال دروست ہوجاتے ہیں چونکہ شاخ مرجان خشک گرم اثرات کا حامل ہے اس لئے جونہی اس کے استعمال سے عضلات کا تعلق جگر سے ہوتا ہے فورا کیمیائی طور پر جگر وغدد میں قوت و طاقت پیدا ہونا شروع ہوجاتی ہے جسم گرم ہو جاتا ہے اور کمزوری رفع ہوجاتی ہے خون کی فاضل رطوبت کو خشک ہو کر خون کا رنگ شوخ سرخ ہوجاتا ہے یاد رکھیں کہ جب تک حملہ عورت کی گھبراہٹ دل کا متلانا اور قے کا ہونا برابر قائم رہتا ہے برابر اکثر کا حمل گر جاتا ہے یہ حالت اس وقت تک قائم رہتی ہے جب تک عضلات کا تعلق جگر نہیں ہوجاتا ہے چونکہ شاخ مرجان کا مزاج بھی خشک گرم ہے اس لیے اس کے استعمال سے نہ صرف حمل ہو جاتا ہے بلکہ بلکہ متلی ابکائی قے اور بے چینی جیسی غیر طبعی علامات بالکل ختم ہو جاتی ہے کہا جاتا ہے کہ جس نومولود بچے کے گلے میں ہار بناکر پہنایا جائے تو وہ بچہ 90 فیصد امراض سے محفوظ رہتا ہے جب رطوبات اور ریشہ کی وجہ سے دانت ہلنے لگیں یا ان میں ہلکا ہلکا درد رہنے لگے توشاخ مرجان کے باریک سفوف کو دانتوں پر ملنے سے دانت صاف ہو کر مضبوط ہو جاتے ہیں اور ان کا درد بھی غائب ہو جاتا ہے سرد مزاج کی حامل ادویات کے ساتھ ملا کر استعمال کرنے سے اپنی تیزی کو کم کردیتا ہے چنانچہ صندل کے ساتھ ملانے سے ہر قسم کے اخراج کو خون کو روکتا ہے تلوں کے ساتھ کھانے سے کثرت بول کو روک دیتا ہے پانی میں رکھ کر کھانے سے بلغمی کھانسی کیلئے مفید ہے


1 کشتہ مرجان


250 گرام گلاب دیسی 

50 گرام مرجان عمدہ 

ترکیب تیاری 


250 گرام تازہ گلاب دیسی لیکر اس کا نغدہ بناکر چینی مٹی کا کپ لیکر آدھا نغدہ رکھیں اس پر تمام مرجان رکھیں بقیہ نغدہ دے کر بند گل کرکے ہوا سے محفوظ جگہ پر 15 کلو اپلوں کی آگ دیں سرد ہونے پر احتیاط سے کشتہ نکالیں اب اس تیار کشتہ میں تازہ گلاب کا پانی 100 ملی لیٹر کھرل کرکے جذب کرائیں آپ کا کشتہ تیار ہے

محفوظ رکھیں استعمال خوراک نصف سے ایک رتی ہمراہ مکھن بالائی یا مناسب بدرقہ

فوائد دل دماغ جگر کے لئے مفید ہے

آنکھوں میں بطور سرمہ پہننا امراض چشم کے لئے لاجواب رزلٹ کا حامل ہے


نوٹ نغدہ گلاب کی جو رکھ ہے اس کو جمع کرتے رہیں تاکہ نمک گلاب بنانے کا کام لیا جائے

آپ کی دعاؤں کا طالب

عبدالکریم آزاد


02 کشتہ مرجان قوت باہ کے لئے مفید ہے


25 گرام مرجان

100 گرام لونگ

1 عدد چینی مٹی کا کپ 

ترکیب تیاری

لونگ کو کوٹ کر باریک کریں کہ اس میں سے تیلیہ پن نظر آنے لگے

آدھا سفوف لونگ کپ میں رکھ کر اوپر مرجان رکھ کر بقیہ لونگ کا سفوف دے کر بند گل کرکے ہوا سے محفوظ جگہ پر 15 کلو اپلوں کی آگ دیں سرد ہونے پر نکالیں مرجان پھول کر سفید رنگ میں کشتہ ہوگا اس کو اچھی طرح کھرل کرکے محفوظ رکھیں استعمال خوراک ایک سے دو چاول ہمراہ مکھن

بالخصوص قوت باہ اور دل کی تقویت کے لئے اعلیٰ رزلٹ کا حامل ہے

نوٹ یہ کشتہ مرجان 3 سے 5 کلو دودھ ہضم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے

حکماء کرام اس کو دیگر امراض پر بھی مناسب بدرقہ سے استعمال کر سکتے ہیں

آپ کی دعاؤں کا طالب

عبدالکریم آزاد


03 *کشتہ شاخ مرجان*


24 *گرام مرجان*

60 *گرام مکھن یا سردیوں میں گھی گائے*

01 *عدد تازہ مغز بکرا بغیر آب لگا ہوا*

60 *گرام بادام روغنی*

60 *گرام مغز اخروٹ*

01 *عدد چینی مٹی کا کپ*


01 *ترکیب تیاری*

چینی مٹی کے کپ میں مرجان رکھیں اس پر 60 گرام مکھن یا گھی گائے رکھ کر بند گل کرکے خشک ہونے پر 7 کلو صحرائی اپلوں کی آگ دیں سرد ہونے پر نکالیں اچھی طرح کھرل کریں


02 *ترکیب تیاری*

تازہ مغز کو باریک کاٹ کر نصف کپ میں رکھیں اس کے اوپر تمام تیار کیا گیا مرجان رکھیں باقی نصف مغز بکرا رکھ کر بند گل کرکے خشک ہونے پر 7 کلو اپلوں کی آگ دیں سرد ہونے پر نکالیں اچھی طرح کھرل کریں


03 *ترکیب تیاری*


60 گرام بادام روغنی

60 گرام مغز اخروٹ

دونوں کا باریک سفوف بناکر پھر مکس کرکے نصف کپ میں رکھیں اس کے اوپر تیار مرجان رکھیں باقی نصف مغزیات کا سفوف دے کر بند گل کرکے خشک ہونے پر 7 کلو اپلوں کی آگ دیں سرد ہونے پر نکالیں برنگ سفید کشتہ ملے گا اچھی طرح کھرل کرکے محفوظ رکھیں


*استعمال خوراک*

ایک چاول سے ایک رتی ہمراہ شہد مکھن بالائی دودھ گھی یا مناسب معجون یا بدرقہ سے استعمال کریں


*فوائد*

*قوت باہ*

*اعصابی کمزوری*

*نیند کا وقت پر نا آنا*

*کانوں میں طرح طرح کے آواز آنا*

*دل کی کمزوری*

*بیچینی خوف*

*گھبراہٹ*

*بیخوابی*

*مرگی*

*جریان احتلام سرعت انزال*

*مغلظ ومولد منی*

*اسپرم گروتھ*

*سیلانِ رحم*

*ماہواری کی زیادتی*

*ہائی بلیڈپریشر کے لئے مفید ہے* 


*آپ کی دعاؤں کا طالب*

عبدالکریم آزاد


04 ایک سوال کا جواب

مرجان کشتہ ہونے پر ہمیشہ کم ہوجاتا ہے

مثلاً اگر آپ ایک کلو مرجان کشتہ بناتے ہیں تو کم از کم 250 گرام وزن کم ہوگا

آپ کی دعاؤں کا طالب

عبدالکریم آزاد

Tuesday, October 12, 2021

ڈینگی بخار اور علاج|Dangue Fever

 ۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Dangue Fever

۔۔۔۔ ڈینگی بخار اور علاج ۔۔۔۔۔۔۔۔

 ڈینگی بخار کے بارے مین بڑی تفصیل کے ساتھ پہلے بھی کافی مضامین لکھ چکا ھون ڈینگی بخار مین سب سے بڑا مسئلہ یہ ھے کہ جسم کے اندرمدافعتی نظام بری طرح متاثر ھوتاھے جسم مین خشکی اور گرمی شدید بڑھتی ھے وائٹ سیل ختم ھونا شروع ھوجاتےھین اس مرض کا اثر دماغ کی طرف زیادہ ھوتاھے شدید دباؤ کی صورت مین کان اور آنکھون سےناک سے خون بہنا شروع ھوجاتاھے جوڑون مین شدید درد ھوسکتاھے 

یہ دو اقسام پہ مشتمل مرض ھے 

پہلی قسم۔۔۔ جسم پہ الرجی 

بخار

جوڑون مین درد کی شکایت

تھکاوٹ 

سر اور آنکھون مین شدید درد بلکہ الٹی آسکتی ھے 

اسکی مناسب دیکھ بھال اور علاج سے فوری قابل علاج ھے سمجھ لین کہ مچھر نے صرف ایک دفعہ کاٹاھے

اب دوسری قسم

اس صورت مین ھیمبیریجک بخار یا ڈینگی شاک کا بخار ھوتاھے اس مین مدافعتی نظام بالکل تباہ ھوجاتاھے 

جسم اور جوڑون مین شدید درد کمزوری 

خون کے سفید ذرات اور خون بہنے کو روکنے والے ذرات کی کمی ھوجاتی ھے وٹامن کے کی بھی کمی ھوجاتی ھے

آنکھ ناک کان سے خون بہنا شروع ھوجاتا ھے اب اس بات سے موت واقع ھوجاتی ھے خون صرف باھر ان اعضاء سے ھی نہین بہتا بلکہ اندرونی طور پہ بھی مختلف اعضاء سے خون رسنا شروع ھوجاتاھے 

اب علاج کی طرف آتے ھین 

یاد رکھین دنیا کے ھروائرس کو ختم کیا جاسکتاھے خوف کرنا چھوڑیے یاد رکھین شہد کے چھتہ مین ایک جالا ھوتاھے اسے پروپیس کہتے ھین یاد رکھین اللہ تعالی نے ٹنوں کے حساب سے اس مین شفا رکھی ھے یہ دنیا کی سب سے بڑی زھر کش اثرات رکھنے والی دوا ھے 

شہد کے چھتہ مین موجود عنصر پروپسPROPUS نہایت ھی جراثیم کش دوا ھے آپ بے شک اکیلے موم کی باریک چنے برابر گولیان بناکر جراثیم کش یعنی بطوراینٹی بائیوٹک استعمال کرسکتے ھین ھان یہ توسب ھی اتفاق کرتے ھین کہ شہد بذات خود دنیا کی سب سے بہترین اینٹی بائیوٹک دوا ھے 

اب ڈینگی بخار مین شہد کا استعمال اسطرح کرین کہ ایک گلاس پانی مین چار چمچ خالص شہد حل کرکے تھوڑا نیم گرم کرین اور گھونٹ گھونٹ کرکے پی لین بلکہ اس کے ساتھ مندرجہ ذیل دوا بناکر کھالین فوری طور پر ھردوقسم کے ڈینگی مین شفایابی ملے گی

سفید مرچ 10گرام 

سوڈابائی کارب 30گرام 

پپیتہ کے پتون کا پانی کوٹ کردس گرام نکال کر پہلی دودواؤن کوپیس کر اس مین کھرل کرین اور چنے برابروزن گولیان بنالین دودوگولی دن مین تین بار شہد کے شربت کے ھمراہ دین 

اب آپ یون بھی استعمال کرسکتے ھین 

برگ پپتہ تین عدد مرچ سفید آٹھ عدد ادرک ماشہ سونف ماشہ کالی مرچ آٹھ عدد کا تین کپ پانی مین جوشاندہ بناکر چھان لین اور چینی کی جگہ شہد تین چمچ ڈال لین اب تھوڑاتھوڑا کرکے ایک وقت مین پی جائین یہی عمل دن مین تین بار کرین 

یہ دوا بھی مفید ھے

چھلکا جڑ مدارسایہ مین خشک شدہ دس گرام

مرچ سیاہ دوگرام

ملٹھی دس گرام سونف دس گرام ریوندخطائی دس گرام ھلدی دس گرام پیس کرسفوف بنالین ایک ایک ماشہ دن مین تین بار پانی سے دین اسکے ساتھ ب مذید بہتر رزلٹ لینے کےلئے اکسیر پانچ رتی بھر ملا لیا کرین 

ڈینگی عضلاتی غدی بخار ھے غدی اعصابی دوائین بہترانداز مین استعمال کرین اور غذا بھی یہی استعمال کرین باقی اپنے اردگرد صفائی کا خاص خیال رکھین محمودبھٹہ گروپ مطب کامل

Sunday, October 10, 2021

روغن نیلا

 ۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔

۔۔۔۔ روغن نیلا ۔۔۔۔۔۔

بہت پہلے بھی اس تیل پہ ایک پوسٹ لکھی تھی آج دوبارہ ایک نئے انداز مین لکھ رھا ھون 

لکھنے کو تو بہت کچھ اسی ایک مضمون کےلئے بھی مواد ھے لیکن اتنی تفصیل سے مضامین لکھنا کچھ عرصہ کےلئے موقوف کررکھے ھین وجہ سب ھی جانتے ھین خیر کوشش کروں گا کہ بہت کچھ بتادیا جاۓ لیکن بتانے سے پہلے مین کچھ باتین کرنا چاھتا ھون 

پہلی بات ھم قدیم اطباء کو بالکل بھول چکے ھین ان کی محنت اور انکی تحقیقات کومکمل طور پر چھوڑ چکے ھین طب تمام طریقہ علاج کی ماں ھے باقی سب طریقہ علاج طب سے ھی نکلےھین طب کی عمرھزاروں سال پہ محیط ھےجبکہ ایلوپیتھی ھیوموپیتھی جیسےعلاج کی عمر سوسال سےکچھ اوپر ھے 

دوسری بات ایک سوال کی شکل مین ھے کبھی اطباء نے سوچا ھے کہ سینکڑوں سال پہلےجب یہ جدید طریقہ علاج نہین تھے اس وقت جنگین بھی تلوار نیزے اور تیر سے لڑی جاتی تھی ھاتھ پاؤن کٹ جاتے تھے لمبے لمبے بدن پہ گھاؤ آجایا کرتے تھے اب ایسے تمام زندہ رہ جانے والے فوجیون کا علاج ھوا کرتا تھا ھرفوج کے ساتھ طبیب حضرات کا ایک پورا پینل ھوا کرتا تھا اپنے وقت کے یہ لوگ بہترین سرجن ھوا کرتے تھے بس اس زمانے مین انہین جراح پکارا جاتا تھا تو آج سرجن کہا جاتا ھے التصریف جیسی کتاب پڑھین تاکہ آپکو علم ھو کہ آج بھی جراحی کے جوآلات استعمال ھوتے ھین ان کی شکل وھی ڈیزائن وھی ھے جو التصریف مین دکھائی گئی ھے کوئی نئی شکل مین ابھی تک اپریشن کے لیے اوزار نہین آیاھےاب حکماء سےسوال ھےوہ زخمون کوبھرنےکےلئےایسی کون کونسی ادویات استعمال کرتےتھےجن کےاستعمال سےدوچارروزمین زخمی بھلاچنگاھوجایاکرتاتھاتاریخ گواہ ھےبعض زخمی فوجی دوسرےتیسرےروزدوبارہ میدان جنگ مین جانےکوتیارھوتےتھےایسی کیاادویات ھوتی تھین جن کےاستعمال سےزخمی تندرست ھوجاتےتھےآئیے آج ان مین سےایک دواکاذکرتفصیل سےکیےدیتےھین 

اس دور کے حکماء روغن نیلا وافر مقدار مین بنایا کرتے تھے خیر آج سو مین شاید ایک طبیب اس دوا کو بنا سکے کیونکہ محنت کرنا اس دور مین معیوب خیال کیاجاتاھے 

میرے ایک شاگرد حکیم کلیم اللہ صاحب آف لاھورسے ھین اکثر انکا ذکرکرتا رھتا ھون عشق کی حد تک فن طب سے محبت رکھتےھین بیس سال پہلے انہون نے فاضل طب وجراحت کی ڈگری حاصل کرلی تھی لیکن آج بھی ایک ماہ مین دوبار میرے پاس حاضری دینا فرض سمجھتے ھین چند روز ھوۓ کلیم اللہ صاحب نے ایک مریضہ کی ٹانگون کی تصاویر بھیج کر بتایا کہ ڈاکٹر حضرات ٹانگ کاٹنے کا مشورہ دے رھے ھین ایلوپیتھی مین لمباعرصہ علاج کے بعد ڈاکٹر مکمل مایوس ھوچکے ھین آپ کے مشاھدہ کےلئے مین وہ تصاویر اسی پوسٹ مین ساتھ لگا رھا ھون مین نے ایک ھفتہ روغن نیلا لگانے کا مشورہ دیااور بہتری آنے پہ مذید علاج جاری رکھنے کا مشورہ دیا صرف چار روز روغن نیلا لگانے کے بعد جو رزلٹ ملا اسکی بھی تصاویر ساتھ ھی لگارھا ھون باقی زخم مکمل کتنے عرصہ مین ٹھیک ھوگا آگاہ کردیاجاۓ گا آج صرف روغن نیلا نکالنے کا طریقہ کار سے آگاہ کرنے لگا ھون بس مستند حکماء حضرات ھی بنائین 

آپ جانتے ھین نیلاتھوتھا اورتانبہ کا چولی دامن کا ساتھ ھے

سب سے پہلے تانبہ کابرتن جسے ھم پتیلا یا بڑی ھانڈی کی شکل مین اسے حاصل کرین اب پتیلا کے پیندے مین ایک چوکور پتھر کاٹکڑا رکھین جیسے چھوٹی سی کٹی پتھر کی ٹائل مل سکتی ھے اس پتھر کے ٹکڑے کی سطح ھموار ھونی چاھیے اسکے اوپر سٹیل کا پیالہ رکھ دین اب پہلے پیالہ ھٹا لین اور پتیلا کے پورے پیندے مین آدھا کلو گندم کے آٹے سےنکلا ھوا چھان پچھادین اس چھان کے اوپر چھوٹےچھوٹےٹکڑون کی شکل مین ایک کلو نیلا تھوتھا پچھا دین اب درمیان مین رکھےپتھرکےٹکڑے پہ ایک پیالہ سٹیل کا رکھ دین اور اب بڑی احتیاط سے پتیلا کےمنہ کے کنارون پہ گوندھا ھوا آٹا لگا دین اوراب پتیلا کے منہ پہ ایک تغاری رکھ کر منہ بندکردین اب اسے بڑی احتیاط سےچولہےپہ رکھ دین اور اوپر تغاری مین پانی ڈال دین اور نیچے آگ جلا دین بس آنچ دھیمی رکھین اب آپ کو پانی کی طرف توجہ رکھنی ھے جیسے ھی پانی گرم ھو اس پانی کو نکال دینا ھے اور ٹھنڈے پانی سے تغاری دوبارہ بھردین پھر جب پانی گرم ھو بدل دین اسی طرح سات تا آٹھ بار پانی بدلنے کے بعد آگ موقوف کرین اور احتیاط سے تغاری پتیلے کے منہ سے جداکرین اب آپ نے سٹیل کا جوپیالیہ پتیلے مین رکھا تھا اس مین موجود تیل کسی دوسرے برتن مین انڈیل کر محفوظ کرلین اگر آپ کوشک ھو کہ نیلاتھوتھا مین ابھی کچھ کچا نیلا بچ چکا ھے تو دوبارہ نئے سرے سے آٹالگا کر دوبارہ عمل کرین تاکہ بچاکچھا تیل بھی نکل آۓ بس یہی تیل زخمون کوبھرتا ھے خواہ وہ تازہ زخم ھون یا پھوڑے پھنسی والے زخم ھون سب کےلئے کارآمدھے محمودبھٹہ گروپ مطب کامل

نوٹ۔۔۔ اس تیل کا جتنا رزلٹ ملتا رھےگاآپ کوآگاہ بھی کیاجاۓگا

Friday, September 24, 2021

نکچھکنی بوٹی 2

 ۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔ نکچھکنی بوٹی ۔۔۔۔۔۔دوسری و آخری قسط

ایک سو پندرہ سال پہلے یعنی 1905کے زمانہ مین رسالہ اخبار الحکمت ورسالہ الکیمیاء ورفیق اطباء جیسے رسالے جو کثیر تعداد مین پندرہ روزہ اشاعت رکھتے تھے ان مین پورے صفحہ کا ایک تہلکہ خیز اشتہار چھپا کرتا تھا کیمیاۓ عشرت یا اکسیر احمدی کے نام سے ایک دوا کا جو قوت باہ کی اپنے دور مین بے مثال دوا سمجھی جاتی تھی پھر بہت سے حکماء کے مجبور کرنے پہ اس دواکا نسخہ بھی من وعن لکھ دیا گیا اس دوا کا ایک جزو خاص یہی نکچھکنی بوٹی بھی ھے یہ نسخہ گروپ مطب کامل مین ھی پہلے سے لکھ چکا ھون بلکہ اس نسخہ کو مین نے خود تیار کرکے دیکھا ھے بہت ھی اعلی ھے ایک تجربہ کار طبیب ھی اسے بناۓ اور اسکے خالص اجزاء مارکیٹ سے حاصل کرے یعنی جسے اجزاء کی پہچان نہین ھے وہ نہ بناۓ یاد رھے ان تمام دواؤن مین اکسیری فوائد رکھنے والی سفید پھول والی نکچکھنی ھے زرد پھول والی کے اثرات نہین ھین یہ سفید پھول والی نگچھکنی کیمیاء گری کی جان ھے کشتہ سازی مین بے مثال ھے ھیرے تک کا کشتہ کرنے مین نہایت اعلی ھے اگر ھیرا ایک کیرٹ کا ھو تو اس بوٹی مین اگر کشتہ کیا جاۓ تو ھیرا پھول کر دس گنا زیادہ نظر آۓ گا خیر کیمیاء گری ھمارا موضوع نہین ھے 

ایک آسان نسخہ جو حقیقت مین کیمیاۓ عشرت کا ھی حصہ ھے یعنی اس سے ملتا جلتا ھے وہ لکھے دیتا ھون

ریگ ماھی ۔ مازو ۔ قرنفل ۔ شنگرف مالکنگنی مین کشتہ شدہ ھرایک دوا چار حصہ یعنی چار ماشہ ھر دوا

زعفران افیون مشک خالص ھرایک دوا ماشہ ماشہ نکچھکنی تین ماشہ ورق طلا ماشہ کاۓ پھل دارچینی ورق نقرہ ھر ایک سات ماشہ سب ادویہ کو پیس کر شہد کی مدد سے گندم دانہ برابر گولیان بنا لین ایک گولی روزانہ ھمراہ دودھ استعمال کرین اب کیمیاۓ عشرت مین سم الفار زرد کو پیاز کے پانی مین کھرل کیا جاتا ھے اور اسی دوا مین شامل کیاجاتا ھے 

آپ قوت باہ کےلئے اسے مندرجہ ذیل انداز مین استعمال کرین یہ طریقہ سستا بھی ھے اور آسان بھی ھے

نکچھکنی سفید پھول والی خشک شدہ چار رتی سنڈھ کا کوٹ کر صرف پوڈر سا نکال لین ریشہ شامل نہ ھو یہ دورتی لین جائفل ایک رتی سیماب اور گندھک آملہ سار کی برابروزن مین کجلی تیار شدہ ھو یہ دورتی شامل کرین سب دواؤن کو اکھٹا کرکے کھرل کرلین پھر ایک نر چھوھارے کی گھٹلی نکال کر اس گھٹلی کی جگہ اس ساری دوا کو بھر کر اوپر دھاگہ مضبوطی سے لپیٹ دین اور آدھ کلو دودھ مین دوتولہ شہد شامل کرین اور مذکورہ چھوھارا اسی دودھ مین ڈال کر دھیمی آنچ پہ رکھ دین آھستہ آھستہ یہ دودھ جب کھوۓ کی شکل بن جاۓ تو نیچے اتار کر سرد کرکے بمعہ کھویا یہ تمام کھا لین اور کچھ اوپر سے بھی پی سکتے ھین یہ روزانہ صبح کے وقت عمل کرین چالیس دن کے عمل سے ساری اگلی پچھلی کسر نکل جاتی ھے 

اب ایک نہایت ھی اعلی اور آسان کشتہ لکھنے لگا ھون 

مین نے گروپ مطب کامل مین ھی کشتہ فولاد ھیرا کسیس اور سوڈابائی کارب سے ایک گھنٹہ مین تیار کرنے کا طریقہ لکھ رکھا ھے یہی کشتہ فولاد لین اور اسی نکچھکنی کے پانی مین تین دفعہ تر وخشک کرین  پھر تین دفعہ دھی ترش کا پانی حاصل کرکے اس کشتہ کو تروخشک کرکے پیس کر محفوظ کرلین نہایت ھی اعلی درجہ کا مقوی بھی ھوگا خون تیزی سے پیدا کرے گا بھوک بہت لگاتا ھے کمزوری رفع کرنے مین اعلی ترین ھے مقدار خوراک رتی تک صبح شام دے سکتے ھین اجازت چاھون گا محمودبھٹہ گروپ مطب کامل وگروپ خزائن المفردات

نوٹ۔۔۔ بعض ممبران کے مطالبہ پہ جناب منصورالحق صاحب نے کمنٹس مین نزدیک کی تصاویر لگائی تھین وھی مین نے اس دوسری قسط مین شیئر کردی ھین مذید آپ کی دلچسپی کےلئے 1905 کا شائع شدہ اشتہار بھی لگا دیا ھے

Thursday, September 23, 2021

اک نسخہ، باد کے چوراسی امراض کے لیے

 امراض ریح بادی 


اک نسخہ،  باد کے چوراسی امراض کے لیے:-

کاش البرنی رحمتہ اللہ علیہ کا خاندان روحانیت کے سمندر میں کافی گہرائی تک غوطہ زن دکھائی دیتا ھے، علم طب پر ایک نایاب عمل پیش کرتا ھوں،  یہ وہ نسخہ ھے کہ عام لوگوں کو اس کا علم نہ ھونے کی وجہ سے ھزاروں عامل کامل اور معالج سادہ لوح لوگوں سے لاکھوں روپے بٹور رھے ھیں،  جو بھی علاج کو آیا اُسے کہہ دیا کہ آپ پر جادو کیا گیا ھے اور مریض بیچارہ گھر کی ساری پونجی ان کے قدموں پر نچاور کر دیتا ھے،  مگر ان کے جادو کا علاج کبھی ختم ھی نہیں ھوتا مسلسل چلتا ھی رھتا ھے۔

دراصل ریح والی بادی کا مکمل علاج نہ ھونے سے مریض یہ سمجھ لیتا ھے کہ مجھ پر کسی نےجادو کر دیا ھے،  مگر آپ ایک ھفتہ یہ نسخہ کسی سحر زدہ مریض پر استعمال کریں تو وہ یہ اقرار کریگا کہ میرا جادو ختم ھو گیا ھے۔

باد سے ایسے ایسے امراض پیدا ھو رھے ھیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ھے، فالج بھی باد سے ھی پیدا ھوتا ھے،  الغرض اس کے استعمال سے جسم کے چوراسی امراض و دردیں ٹھیک ھو جاتی ھیں۔ اس نسخہ کا چند یوم کا استعمال جسم کو ایسا کر دیتا ھے کہ جیسے انسان جسم کے بغیر ھی چل رھا ھو. 

ھوالشافی

سونٹھ

سھاگہ

کالا نمک

ھینگ

یہ سب اجزاء ھم وزن لے کر کوٹ لیں سہانجنہ کے پانی سے فلفل گرد کے برابر گولی تیار کر کے کھانے کے بعد سادہ پانی سے تین ٹائم  کھا لیں۔ دیکھیں جادو کیسے ختم ھوتا ھے. 

اصل نسخہ کی عبارت کچھ یوں ھے.  

سونٹھ سہاگہ سونچل گاندھی

وچ سہانجنہ گولی باندھی

سونچل،  کالے نمک کو اور گاندھی ھینگ کو کہتے ھیں

منقول  

کاش البرنی رحمتہ اللہ علیہ

Wednesday, September 22, 2021

نک چھکنی بوٹی

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔ نک چھکنی بوٹی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قسط 1

عجیب الفوائد کی حامل بوٹی ھے کثیر الفوائد کی حامل بوٹی ھے حکماء حضرات اسے بہت کم استعمال کرتے ھین لیکن جو طبیب اسے جانتے ھین وہ بکثرت استعمال کرتے ھین اگر مین اس کے فوائد تفصیلا لکھنے شروع کرون تو میرے خیال مین پانچ چھ طویل پوسٹین بن جائین اور یہ کام آجکل میرے بس کا نہین ھے خیر مختصر اور جامع انداز مین لکھون گا بس تھوڑے آپ کے دماغ پہ زور ڈالنے والی بات ھوگی 

اگر کتابون کی بات کی جاۓ تو قریب قریب سب متفق نظر آتے ھین کہ مزاجا خشک گرم دوا ھے بس بعض نے اسے گرم خشک لکھا ھے لیکن صحیح مزاج خشک گرم ھی بنتا ھے ایک بات اس بوٹی کے بارے مین سب نے متفق ھوکر لکھی ھے بلکہ الفاظ ھی دہراۓ ھین یعنی ایک دوسرے سے نقل کیے ھین کہ بلغمی امراض مین نافع ھے اور مجھے نہایت افسوس اس وقت ھوتا ھے جب مفردات پہ مشتمل مختلف کتب کا مطالعہ کیا جاۓ تو صاف نظر آرھا ھوتا ھے کہ ھرکسی نے نقل کرنے پہ زور دیا ھے باقی تحقیق نام کی کوئی بھی چیز نہین ھوتی نہ ھی مشاھدہ ھوتا ھے اور نہ ھی تجربہ نظر آتا ھے یہی وہ باتین ھین جو طب کے زوال کا سبب بنی ھین اگر کسی کے پاس کسی بھی نباتات کے خاص فائدے تجربہ مین مل گئے ھین تو وہ اپنے ساتھ قبر مین ھی لے گیا ھے چلین آج اسی بوٹی کی تھوڑی وضاحت کیے دیتا ھون تقریبا دوماہ پہلے مجھے ڈاکٹر وحکیم منصورالحق صاحب آف میر پور آزاد کشمیر نے نکچھکنی کی ایک خاص نسل تحفتا ارسال فرمائی ان دنوں مین آنکھ کا پہلا ودوسرا اپریشن کروا چکا تھا اب دعا فرمائین دوھفتہ تک چوتھا اور آخری اپریشن ھونے والا ھے خیر مین اتنا مجبور ھوا اس نک چھکنی کے تازہ پودے حاصل کرنے اور اسکی ماھیت سائز اور جاۓ پیدائش کی زیارت کرنے خود میرپور منصورالحق صاحب کے پاس پہنچ گیا اور منصورالحق صاحب کے ساتھ اس جگہ جاکر خود پودے اکھاڑے اور گملوں مین منتقل کرواۓ اللہ تعالی منصورالحق کو روبصحت رکھے اور طویل زندگی عطافرمائے درویش ھین انتہائی مخلص سادہ مزاج اور اخلاص سے بھرپور انسان ھین 

خیر اب موضوع کی طرف چلتے ھین

پہلی بات نک چھکنی کے سفوف کو سونگھنے سے چھنکیں شروع ھوجاتی ھین ذائقہ تیز بدمزہ اور قدرے تلخ ھوتاھے دریاؤن کے کنارے اور نم دار مقام پہ پیدا ھوتی ھے پھول پیلا یا سفید رنگ ھوتا ھے پیلا یعنی زرد رنگ پھول والی عام پائی جاتی ھے اور یہ بھی دوقسموں کی ھوتی ھے ایک مفروش اور ایک بالشت بھر کھڑی ھوتی ھے یہ پیلے رنگ کے پھول مین دستیاب ھے دونون کے سونگھنے سے چھینکین ضرور آتی ھین لیکن فوائد مین دونون قسمین کچھ خاص خوبیان اپنے اندر نہین رکھتی بس دماغ مین جمے نزلہ کو نکالنے مین اچھی ھین یا اسے مصفی دماغ اور دافع امراض بلغمیہ کےلئے بہترین کہہ سکتے ھین ان دونون قسمون مین بھی مفروش اعلی ھے کھڑی پھر بھی ناقص ھے

اب جو نکچھکنی مفروش ھے خواہ پیلا پھول رکھتی ھے یا سفید پھول والی ھے انکی شکل شباھت ایک جیسی ھے اسکے پتے ھالون کے پتون کی طرح کٹےھوۓجیسےھوتےھین  شاخین باریک اورپھول کی شکل عورتون کےناک مین لگانےوالےلونگ جیسی ھوتی ھے

نوٹ۔یہان ایک نکتہ لکھ دون ھالون اور ھلیون دو الگ الگ نباتات ھین بعض لوگ اسے بھی ایک ھی نباتات سمجھتے ھین

خیر کتب کی رو سے مندرجہ ذیل خوبیوں کی حامل بوٹی ھے

عطاس۔۔ مصفی دماغ ۔۔ دافع امراض بلغمیہ ۔ محرک ومقوی غدد ومخرش

یاد رکھین یہ بوٹی مادہ بلغم کوختم کرتی ھےلیکن ساتھ ساتھ سودا بھی پیدا کرتی ھے اور سودا کو بدن سے خارج بھی خود ھی کرتی ھے بدن کا مستقل حصہ نہین بننے دیتی بس سوداپیدا کرکے اپنا کام لیتی ھے اور پھر سودا کو بھی نکال باھر پھینکتی ھے اسکاایک ماشہ گھوٹ کرپلانےسےجوڑون کے بلغمی دردفورا رک جاتےھین 

تلی کےامراض مین بہت ھی مفید ھےاگرصلابت طحال ھو یاعظم طحال ھو اسکے استعمال سے چند روز مین ھی اپنی اصل حالت مین تلی آجایا کرتی ھےاسکی مقدارخوراک چاررتی تا دوماشہ تک ھے زھریلے اثرات قطعا نہین رکھتی مخرش ھونے کے باعث سیاہ داغ دھبےچھائیان اور چہرے کی کدورت دورکرنے مین بہترین دوا ھے مین آپ لوگون کوبہترین مشورہ یہ دونگا اسکا رب نکال کر پیٹرولیم جیل مین شامل کرلین یا سادہ کریم مین شامل کرکے چہرے کی چھائیان داغ اور یہان تک کہ چہرے پہ پیدا ھونے والے دانے جو اکثرجوان لڑکیون اورلڑکون کےچہرے پہ پیداھوکر بدنماچہرہ کردیتےھین اس بوٹی کا رب نکال کر سادہ کریم مین شامل کرین اور چہرہ پہ لگائین دانے بھی ٹھیک ھوجائین گےاور دانون سے پیداشدہ بدنما داغ بھی اپنے مخرش ھونے کی خوبی کی وجہ سے چہرہ ملائم داغ دھبون سے پاک کردےگی اور ریشون کی تعمیر کرکے چہرے کے ڈینٹ نکال کر چہرہ بھردےگی یاد رکھین ان تمام خوبیوں کو حاصل کرنے کےلئے سفید پھول والی بہت ھی کارآمد ھے 

اب اگلی قسط مین یہ مضمون لکھین گےانتہائی مقوی باہ بوٹی ھےکایاکلپ بھی ھے

Tuesday, September 21, 2021

ڈیلہ گھاس یا ناگر موتھا یا سعد کوفی

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Nagar motha

۔۔۔۔۔ ڈیلہ گھاس یا ناگر موتھا یا سعد کوفی ۔۔۔۔۔۔۔

 مشہورعام  تین نام لکھ دیے ھین ایک اور نام بھی لکھے دیتا ھون وہ ھےــــــ مشک زیر زمین، بعض لوگ اسی نام کی وجہ سے غلط فہمی کا شکار ھوجاتے ھین اور سمجھتے ھین کہ شاید یہ بھی کستوری کی کوئی قسم ھے جو زمین کے اندر ھوتی ھے یا یہ بھی سمجھ سکتے ھین کہ شاید کستوری جیسی تاثیر رکھنے والی دوا ھے پھر جب کتابون مین یہ پڑھتے ھین کہ یہ طاقتور دوا ھے تو اگلا مطلب اخذ کرنا عام سی بات ھے اور پھر ڈنڈے سوٹے لے کر اس کا پیچھا کرنا اور وہ بھی صرف لفظون مین ھمارا عام شوق ھے یہ سب مین اس لیے کہہ رھا ھون کہ چند دن پہلے اس بوٹی کو بانس پہ چڑھایا گیا ھے اور بعض ممبران اسکی تصویر لگا کر پوچھ رھے ھین کہ یہ کیا ھے آئیے آپ کو حقائق سے آگاہ کرتے ھین 

اس بوٹی کو عرف عام مین پنجابی زبان مین ڈیلا یا ڈیلہ کہتے ھین ناگر موتھا اردو نام ھے جب کہ عربی مین سعد کوفی کہتے ھین اور فارسی مین مشک زیر زمین کہتے ھین پنجاب مین دیہات مین بسنے والے لوگ سب اسے جانتے ھین اور ھرجگہ پائی جاتی ھے خاص کر ریتلے اور پانی والے علاقون مین بہت زیادہ ھوتی ھے اور اسکی جڑ بطور دوا استعمال ھوتی ھے پنسار سے بھی عام اور ھرجگہ مل جاتی ھے اسکی جڑ سیاہ اور گرہ دار ھوتی ھے منہ مین ڈال کر چبانے سے تلخ اور خوشبودار ھوتی ھے مزاج کے لحاظ سے غدی عضلاتی ھے یعنی گرم خشک تاثیر کی حامل ھے یہ طاقتور ضرور ھے لیکن دماغ اعصاب کےلئے ھے یاپھر دل کو طاقتور بناتی ھے دیہاتی لوگ اس کی یہ خوبی جانتے ھین اور اسے راہ گزرتے ھوۓ اگر نم دار جگہ مل جاۓ تو کھینچ کر نکال لیتے ھین اور صاف کرکے ویسے ھی چبا کر کھاجاتے ھین میرے اپنے علاقہ مین کافی مقدار مین یہ گھاس پایا جاتا ھے معدہ کےلئے بہترین دوا ھے کاسرریاح ھے یعنی گیس بننے سے روکتی ھے اور معدہ کو طاقتور کرتا ھے اسکا کھانا مقوی معدہ مقوی دماغ مقوی قلب ھے یاد رھے ھیضہ کی صورت مین پودینہ اور ناگر موتھا کا جوشاندہ دینا نہایت مفید رھتا ھے 

اب بعض لوگ دماغ اور دل کو طاقتور کرنے کی خوبی کی وجہ سے اسے مقوی باہ سمجھتے ھین اور یاد رکھین سمجھنے سے کچھ فرق نہین پڑتا یہ مقوی باہ دوا نہین ھے جیسا کہ ھمارے گروپ مین ایک ممبر نے پوسٹ بھیج دی تھی کہ کچھ لوگ کہہ رھے ھین کہ اسکی ایک گانٹھ چبا لینے سے رات بھر امساک رھتا ھے جبکہ یہ مسکن خوبی نہین رکھتی 

یورپ مین بھی اس کا استعمال خوب ھوتاھے یورپ مین اس کی گرہ دار جڑ مین سے خوشبو نکالتے ھین اور یہ خوشبو گلاب کی خوشبو سے ملتی جلتی ھے اور کافی مہنگی فروخت ھوتی ھے یاد رھے پیاس کی شدت کم کرتی ھے اور بخار اتارنے کےلئے اسکا جوشاندہ دینا مفید ھے پسینہ کھل کر لاتی ھے 

ایک آخری خوبی بیان کر دون اسکی جڑ تازہ کو پیس کر پستانون پہ لیپ کرنے سے پستانون مین دودھ کی مقدار بڑھ جاتی ھے اور پستان بھی بڑھ جاتے ھین