Tuesday, April 10, 2018

فالج پہ تحقیقی مضامین کا سلسلہ|paralysis

۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔ فالج پہ تحقیقی مضامین کا سلسلہ۔۔۔۔۔۔۔
Faleg|paralysis
ذاتی مصروفیات کی وجہ سے کافی روز گروپ سے غیر حاضر رھا الحمداللہ کافی حد تک مصروفیات ختم ھو گئی ھین ایک آدھ رہ گئی ھے وہ عام نارمل ھے
آج الحمداللہ اپنے محترم بزرگ سید ادریس گیلانی صاحب سے فون پہ تفصیلی گفتگو ھوئی جس مین ان کے فرمان کے مطابق فالج پہ تفصیلی مضامین کا سلسلہ شروع کرنے کا حکم ملا ھے ان مضامین کی شدید ضرورت بھی اس لئے محسوس کی ھے کہ بہت سے حکماء جو نظریہ مفرد اعضاء کے اصولون کے مطابق اس مرض پہ اپنے آپ کو حرف آخر سمجھتے ھین ھمیشہ کی طرح وہ بھی لکیر کے فقیر بن گئے صرف چند باتون کا علم ھوا اور اپنے آپ کو سمندر سے تشبیح دے ڈالی صرف دایان فالج بایان فالج اور نچلے دھڑ کا فالج اور پھر کہانی ختم
اور جب عملی واسطہ مریض سے پڑتا ھے تو آئین بائین شائین کے علاوہ کچھ بھی پتہ نہین ھوتا کہین تکا لگ گیا تو مغلوں کے دربار والا منظر دیکھنے مین آتا ھے اور کئی کئی سال تک واہ واہ کی آوازین آتی رھتی ھین آج محترم سید ادریس گیلانی صاحب نے میری کمر پہ تھپکی لگائی ھے اور ھمت دلائی ھے اور بہت سون کی بولتی بند کرنے کا حکم صاد ھوا ھے تو انشاءاللہ سید کے دست شفقت سے منزل بھی سر کر لین گے آپ دوستون کی دعائین بھی شامل حال رھنی چاھیے میرا مقصد کسی پہ تنقید نہین ھے بس صرف دلائل اور تجربات سے اغلاط کی اصلاح ھے یا پھر صرف کتابی حکیمون کو کچھ اور سکھانا بھی ھے
دوستو میری باتون کا برا محسوس نہ کرنا یقین جانین مجھے اعتراف ھے مین ایک کم علم یا انپڑھ سا بندہ ھون غلطی مجھ سے بھی ھو سکتی ھے اور ضرور ھوتی ھو گی اور جو لوگ مجھے بہت تعلیم یافتہ سمجھتے ھوۓ میرے پوسٹ پہ ڈنڈے سوٹے لے آن دھمکتے ھین اور میری ھڈیان سیکنا چاھتے ھین وہ اس غلط فہمی کو دور کر لین مین عام سا بندہ ھون جس کے پاس علم کا فقدان ھے
ھان یاد رھے مضمون جدید طبی تحقیقات اور قدیم طبی تحقات نظریہ مفرد اعضاء اور کوشش ھو گی ھوموپیتھی کو بھی درمیان مین تھوڑا گھسیٹ لون فیصلہ آپ کے ھاتھ مین ھو گا
بس آپ ذرا کانون کی میل کچیل نکال کر صاف کر لین پھر نہ کہنا خبر نہ ھوئی تھی یاد رھے مجھے دعاؤن مین ھی یاد رکھنا ھے دل سے بغض دور کرکے ۔۔۔۔۔۔۔ یہ بڑی بری چیز ھے نامراد بغض بھی ذرا نکالیے اور مسکراتے ھوۓ اجازت
آپ سب کا اپنا محمود بھٹہ

No comments:

Post a Comment