Monday, August 13, 2018

تشخیص امراض ومزاج 18

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔تشخیص امراض ومزاج ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قسط نمبر 18۔۔۔۔۔
آج مضمون کا وہ حصہ شروع ھے جو بہت ھی اھم ھے اسے بڑے غور سے بار بار پڑھین اور سمجھین اب مضمون مین مسلسل بہت سے نکات کا انکشاف ھو گا یہی باتین سمجھنے کے لئے ایک حکیم زندگی بھر کوشش کرتا رھتا ھے سمجھ پھر بھی نہین آتی بعض لوگون مین خداداد صلاحیت ھوتی ھے وہ بات کو فورا سمجھ لیتے ھین یا پھر یون کہہ لین ان پہ اللہ تعالی کا خاص فضل وکرم ھوتا ھے انہین سمجھ آجاتی ھے بعض لوگ پوری زندگی سمجھتے رھتے ھین لیکن بات سمجھنا ان کے بس کی بات نہین ھوتی مین کوشش کرون گا کہ آپ کو سمجھا سکون آگے آپ کے مقدر ھین کہ بات سمجھ سکے یا نہین سمجھ سکے خیر آئیے پہلا سبق بتاتا ھون سب سے پہلی بات جو سمجھنے والی ھے وہ ھے مزاج اور خلط مین فرق سمجھنے والی بات
خلط ۔۔۔آسان الفاط مین تو بات کچھ یون ھے حقیقت مین دونون لفظ ایک ھی ھین لیکن اصطلاح مین علیحدہ علیحدہ استعمال ھوتے ھین خلط جمع اخلاط یعنی جن سے انسان تخلیق ھوا وہ مادے ھین قدیم طب مین ان کی تعداد چار سمجھی جاتی ھے اور یہ وہ مادے ھین جن کی مقدار کم یا زیادہ ھے یعنی یہ برابر مقدار مین جسم انسانی مین موجود نہین ھین ان مین کوئی مادہ زیادہ مقدار مین ھے تو کوئی کم مقدار مین ھے آپ کو بتا رھا تھا چار مادے جنہین طب قدیم تسلیم کرتی ھے کہ ان سے انسان تخلیق ھوا ھے
آگ
ھوا
مٹی
پانی
یہ سب نظریات اس دور کے ھین جب ھمارے پاس تجزیہ اور تجربہ کرنے کے لئے وسیع ذرائع نہین تھے جتنے اس وقت ھین اب ھم آگ ۔۔ھوا۔۔ مٹی ۔۔پانی ۔۔کا با آسانی تجزیہ کر سکتے ھین اب ھم سب سے پہلے مٹی کو لیتے ھین
مٹی۔۔ جتنے بھی نباتات معدنیات ھین خود ھی سوچ لین سب ھی مٹی سے ھین نا؟
کیا آپ سمجھتے ھین جس انسان کو اللہ تعالی نے اشرف المخلوقات بنایا ھے کیا کسی ندی کنارے سے یا عام ھی مٹی لے کر بنا دیا؟ نہین قطعی نہین بلکہ اللہ ﷻ نے پوری کائینات جس جس ذرے سے تخلیق کی ھر اس ذرے کا ذرہ انسانی تخلیق مین لگایا یعنی جتنی کائینات پوری ھے اتنی کائینات ایک انسانی جسم کے اندر بھی موجود ھے ایک بات اچھی طرح سمجھ لین اس وقت تک دنیا مین کوئی بھی سائینسدان ڈاکٹر یا طبیب یہ دعوہ نہین کرسکتا کہ اس نے پورے انسانی جسم مین لگے تمام نظامون کو سمجھ لیا ھے قطعی نہین بلکہ یہ سمجھ لین کچھ نظامات کے بارے مین اللہ تعالی نے نسان کو علم دے دیا ھے بہت کچھ کے بارے مین ابھی تک کسی کو بھی پتہ نہین ھے یہان تک کہ ایک سیل کی پوری تشریح ابھی تک ممکن نہین ھو سکی آج تک معلومہ جتنے بھی ایلیمنٹ یا عنصر جو انسانی جسم کے اندر پاۓ گئے ھین ان کی تعداد غالبا ایک سو بارہ ھے یا ممکن ھے کچھ زیادہ ھو چکے ھون یہ سب مٹی کی شکل ھین ان سب کو آپ مٹی کہہ سکتے ھین میری بات کرنے کا مقصد یہ ھے کہ آپ کو دلائل سے بتا سکون کہ مٹی ایک مفرد چیز کا نام نہین ھے بلکہ مرکب ھے اسی طرح ھوا کے بارے مین بھی آپ جانتے ھی ھین کہ وہ بھی مرکب ھے جو انسانی جسم مین موجود ھے اور کچھ نہین تو دو کا تو یقین آپ کو ھے ھی ایک آکسیجن دوسری کاربن ڈائی آکسائیڈ جس مین آپ آکسیجن کو زندگی سمجھتے ھین اپنی غذا سمجھتے ھین جس کے بغیر آپ پانچ منٹ بھی زندہ نہین رہ سکتے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو آپ فضلہ یا موت سمجھ لین کیا آپ جانتے ھین ایٹم بم سےلوگ کیسے مرتے ھین نہین جانتے تو سمجھین۔۔ ایٹم بم سے موت ھونے کا جو سب سے اھم عمل ھے وہ ھے فضاء مین سے آکسیجن کا ختم کرنا اس کے علاوہ کچھ بھی نہین باقی تمام عمل آکسیجن کے ختم ھونے سے پیدا ھوتے ھین ایٹم بم جب پھٹتا ھے تو بہت وسیع رقبے مین یکلخت آکسیجن کو جلا کر ختم کردیتا ھے جس سے آگ کا ایک بہت بڑا گولا بنتا ھے اب کچھ لوگ آکسیجن کی کمی سے کچھ اس آگ سے باقی عمارتین اور لوگ جب فضا مین بہت بڑے حصہ مین آکسجن جل جانے سے خلا بنتا ھے جسے بیرونی ھوا پُر کرنے کے لئے تیزی سے اندر داخل ھوتی ھے اب اس سے دھماکہ بھی پیدا ھوتا ھے باقی ھوا کے پریشر سے عمارتین گر جاتی ھین تابکاری کا عمل بعد مین ھوتا ھے جس سے باقی مانندہ لوگ بھی جاتے رھتے ھین میرا مقصد یہ تھا ھوا بھی مرکب ھے جو انسان کی ضرورت ھے اب سانس لیتے وقت صرف آکسیجن ھی انسانی جسم مین نہین جاتی کچھ اور بھی گیسین جاتی ھین پانی کی تفصیل تو ایک چھوٹا بچہ بھی جانتا ھے H2O یعنی دو گیسون کے ملاپ سے پانی بن جاتا ھے یہ بھی ایک مرکب ھے ان تشریحات کا جو مقصد ھے وہ یہ ھے تخلیق مین بظاھر ھمین چند ایک اشیاء ھی نظر آتین ھین جبکہ ایسی بات نہین انسانی جسم ایک بہت ھی بڑی تخلیق ھے اور بے شمار اجزاء کا مرکب ھے جسے جدید نظریات نے بہت سوچ سمجھ کر تین حصون مین بانٹ دیا ھے جن مین ایک حصہ بلغم کا ھے ھر رطوبت رکھنے والا مادہ بلغم سے متعلق ھے اسے انسانی جسم مین سٹور کہہ لین یا رھنے کی جگہ یا گھر کہہ لین دماغ ھے باقی آئیندہ

Sunday, August 12, 2018

تشخیص امراض وعلامات 17


۔۔ مطب کامل ۔۔۔
۔۔تشخیص امراض وعلامات۔قسط نمبر17۔۔۔
پچھلی قسط مین بات کہ مریض کچھ کہتا ھے اور نبض اظہار کچھ اورکررھی ھوتی ھے ایسے مین ایک مریض حکیم سے توقع یہ بھی کررھا ھوتا ھے کہ وہ اس کی نبض دیکھ کر اس کی خفیہ اور خفتہ و ظاھری و باطنی و ماضی و مستقبل کی علامات کو بھی طشت ازبام کردے گا لیکن ایسا ممکن نہین رھا یہان تک کہ علم قیافہ اور علم غیوب کے ماھرون کا فن بھی سپرانداز ھوجاتا ھے اس سے بڑے بڑے ماھر نبض شناس و صاحب علم و فن کی شہرت کو بھی بٹہ لگ جاتا ھے اب اس کی سب سے بڑی وجہ تو یہ ھے کہ لوگ ھی مرض اور علامات کی تعریف نہین جانتے ھوتے اورنہ ھی بتاتے ھین اس تعلیم یافتہ دور مین بھی صورت حال یہ ھے کہ لوگ اپنی مرض کبھی بھی مکمل طور پر نہین بتائین گے اس کاایک تجربہ مجھے اپنے اس گروپ مطب کامل مین بھی اکثر ھوتا ھے آپ بے شک خود دیکھ لینا اب اندازکیا ھوتا ھے ایک شخص پوسٹ لکھ دے گا لین جی مجھے سر درد بہت پرانا ھو گیا ھے بے شمار دوائین کھا چکا ھون سر درد جانے کا نام بھی نہین لیتا کوئی مجرب نسخہ لکھ دین تھوڑی دیر مین حکماء سو دوسو نسخے درج کردیتے ھین مین سب کچھ دیکھ رھا ھوتا ھون اور مین سر اپنے کو درد کر بیٹھتا ھون کیونکہ سردرد کی موٹی موٹی ٣٣وجوھات ھین اب اتنی پرانی جس کودردھے وہ بیماری لکھنے مین کنجوسی کررھا ھے لیکن حکیم صاحبان بے دریغ اپنا علم دکھا رھے ھوتے ھین بھلا اب دونون سے پوچھین کیا آپ نے تشخیص کر لیا کہ کس وجہ سے سردرد ھورھا ھے پھر دوا بھی لکھ دین تب تو درست بات ھو گئی اگر تشخیص ھی نہین ھوئی کہ کس وجہ سے سردرد شروع ھوا تو جو آپ نے دوا تجویز کی ھے وہ اگر مریض کھائے گا تو ممکن ھے دارفانی سے کوچ کرجاۓ اس لئے پہلے تشخیص فرض ھے کیسے کرنی ھے یہی تو سمجھا رھا ھون
مین بات کررھا تھا کہ لوگ مرض کی تعریف نہین جانتے اب ایک حکیم کا فرض بنتا ھے وہ اپنے تجربہ اور علم سے لا حق ھونے والی مرض کی ٹوہ تو لگا سکتا ھے مگر پھر بھی اس مرض سے پیدا ھونے والی علامات کو بتانا پھر بھی ناممکن ھوتا ھے اس لئے کہ ھر مرض کی کئی طرحین ھوتی ھین اور کئی کئی انداز ھوتے ھین اب دیکھین اعصاب عضلات اور غدد تو پورے بدن مین پھیلے ھوۓ ھین اب ایک اعصابی نبض بدن مین ظاھر ھونے والی کون کونسی علامات کو بتلاۓ گی اسی طرح دیگر مرضون آور علامات کااحوال آپ بخوبی جانتے ھین اب ایک بات ھمیشہ یاد رکھین مرض ایک مفرد عضو مین لا حق ھوتی ھے مگر علامات ھمیشہ مرکب اعضاء پہ ظاھر ھوا کرتی ھین کیسے اور کس طرح ؟ یہی آپ نے سمجھنا ھے
اب ایک اور بات سمجھین ایک بات آپ کے بھی روز مرہ مشاھدے مین گزرتی ھے کہ ایسے حضرات جنہون نے اپریشن کروا رکھے ھوتے ھین ان کی حرکات نبض اور حرکات جسم مین بہت فرق ھوتا ھے یعنی ٹرانس پلانٹیشن کے مریض گرافٹنگ کے مریض انجیو پلاسٹی کے مریض ایک گردہ والے پیس میکر والے جن کا اپریشن کے ذریعے پتہ نکل چکا ھو تلی نکل چکی ھو جن کا رحم نکل چکا ھو خصیتہ الرحم کے بغیر عورتین مسلسل ادویہ کا استعمال کرنے والے شوگراوربلڈ پریشر کی دوائین کھانے والے سٹیرائیڈ کھانے والے اورالسرکی دوائین کھانے والے ۔۔۔۔۔ ایسے سب حضرات کی نبض دیکھ کر آپ کو کچھ پتہ نہین چلتا کہ مریض کو کیا مرض ھے اب نبض کچھ بولتی ھے اور مریض کچھ اور کہانی سناتا ھے مین یہ سب کچھ تفصیل سے اسی لئے بتا رھا ھون کہ آپ نے ان حالات کی درست تشخیص بھی سیکھنی ھے کیونکہ ایسے حالات مین نبض دیکھ کر بہت کچھ بتلانے والون کی عزت پہ بن جاتی ھے ان آن بان شان پہ حرف اجایا کرتا ھے اورمریض کی توقعات اعتماد اوریقین مایوسی کی اتھاہ گہرائیوں مین بدل جایاکرتاھے
اب جیسا کی مین پہلے بتا چکا ھون ادھوری علامات بتانے کو بھی مریض تیار نہین ھوتا لیکن آپ ایک آپ ھین کہ بغیر سوچے سمجھے فتوہ بھی لگا دیتے ھین جیسا پچھلی پوسٹ مین اپنے ھی گروپ مطب کامل مین لوگون کی لکھی پوسٹون اور حکماء کے دوا بتلانے کے طریقہ کا ذکر کرچکا ھون جبکہ اس وقت سب سے زیادہ علمی طور پہ مطب کامل گروپ سب سے آگے ھے جسے پوری دنیا مین بہت سی زبانون مین تراجم کرکے پڑھا جاتا ھے اسی لئے مین کہا کرتا ھون اب تشخیص یون ھی نہ کیا کرین یہ غلط بات ھے بلکہ نبض اورحالات بدن بیان مریض قارورہ اور دیگر تشخیصی مراحل کے گزارنے کے بعد حکم کادرجہ لگانا چاھیے جملہ شرائط تشخیص کاایک دوسرے سے تطابق مریض کے لئے شفا کی راھین کھول دیتا ھے اب حکیم صاحب کی حذاقت مآبی کا بھرم رہ جاۓ گا
یہ سب کچھ لکھنے کا ایک مقصد یہ بھی ھے کہ نبض کے بارے مین سیکھنا آسان بھی نہ لین مین تو آسان الفاط مین سمجھاؤن گا لیکن آپ کو پھر بھی سمجھنے کے لئے لنگوٹ کسنا ھو گااب اس مضمون کااحاطہ کرنے کے لئے پہلے کچھ طبی اصولون سے آپ کو آگاہ کرون گا جن مین پہلے مشینی اورکیماوی تحریک پھر تحریک تحلیل اورتسکین کی وضاحت باقی آئیندہ قسط مین

Saturday, August 11, 2018

تشخیص امراض وعلامات 16

۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔ تشخیص امراض وعلامات۔۔۔۔قسط نمبر 16۔۔۔
۔۔ کچھ ابتدائیہ نبض کے بارے مین ۔۔۔۔
نبض حالات بدن کے قلبی ربط کو جانچنے ک ایک آلہ ھے جس کو بالوضع بالکیمیت اور بالکیفیت محسوس کیا جاتا ھے میرے الفاط کچھ مشکل تو نہین لگے آپ کو ۔۔۔اچھا نہین لگے تو سمجھین پھر بات کو ۔۔یعنی کلائی کی شریان کی تڑپ کا احساس اس کا ذریعہ ھے جس کے العاد ثلاثہ سے نبض کے ذریعے حالات بدن کو محسوس کیا جاتا ھے میرا خیال اب آپ کو سمجھنے مین مشکل پیش آرھی ھے لین اب اپنی زبان مین تفصیل کر لیتے ھین
پہلی بات نبض شریان ھے ورید نہین ھے یعنی یہ ایک ایسی شریان ھے جس کی تڑپ یعنی اوپر نیچے حرکت اور پھیلنے سکڑنے کی حرکت لمبائی اور چھوٹائی کی کیفیت یعنی جو لفظ مین نے العاد ثلاثہ لکھا ھے اس کا مطلب ھوتا ھے نبض کی لمبائی چوڑانی اور گہرائی
یہی نبض کا ذاتی جسم اور ذاتی فعل ھوتا ھے جس کو مقام مقدار اور قوام محسوس کرکے جانچا جاتا ھے نبض کی باقی اجناس حالات قلب کی نمائندہ ھین مفرد نبض کے بارے مین تو جملہ متعلقین قانون مفرد اعضاء اچھی طرح واقف ھین مگر نبض مرکب کے بارے مین اس زمانہ مین قدیم والے رھے تو ایک طرف اب جدید نظریہ والے بھی پوری طرح آگاہ نہین ھین یہ بہت مشکل کام ھے یہ سمجھنا ھی اصل کام ھے اب دیکھین بنیادی طور پر تو نبض کی چھ جنسیں ھین یعنی ۔۔قوام نبض مقام نبض ۔۔مقدار نبض ۔۔ رفتار نبض ۔۔قرع نبض یعنی نبض کی ٹھوکر۔۔اور تنظیم نبض ۔۔۔ اگر ان چھ جنسوں کا اختلاف دیکھا جاۓ تو مرکب نبض کی تعداد 36 بنتی ھے اگر ھر ایک جنس کا ھر دوسری جنس کے ھر ھر جز کا اختلاف دیکھا جاۓ تو نبضون کی کل تعداد 216 بنتی ھے یہ مین چھوٹی سی تقسیم کررھا ھون اگر پوری تقسیم کرون تو ایک مقام پہ تعداد چھ ھزار سے اوپر چلی جاۓ گی جو آج تک کسی بھی کتاب مین درج یا لکھی نہین گئی نہ ھی اتنی تقسیم کا فن کسی نے سمجھا اور نہ ھی کوشش کی ھے ھان چند ایک حکماء کے بارے مین میرا ذاتی نظریہ بلکہ پختہ یقین ھے وہ اس فن پہ مکمل عبور یہان تک رکھتے تھے جن مین میرے خاندان کے کچھ بڑے حکماء ھو گزرے ھین جن کا نام آج بھی تاریخ مین سنہری حروف مین درج ھے کچھ لوگ میرے خاندان سے باھر کے ھین جن مین قابل ذکر نام ماضی قریب کے حکیم اجمل خان حکیم ابراھیم نابینا صاحب کے ھین لیکن افسوس پردہ کسی نے بھی نہین اٹھایا انشاءاللہ آپ سے وعدہ ھے ان باتون سے پردہ اٹھا دونگا اب دو سو سولہ تعداد کو بھی یاد رکھنا مشکل کام ھے لیکن مین آپ کو ھزارون کی تعداد مین بنتی نبضین بھی گھول کر پلا دونگا آگے آپ کے اپنے اعمال ھونگے کہ کتنا اس فن سے عہد وفاداری نبھاتے ھین یاد رکھین فن طب کا جو سب سے پہلا سبق ھے وہ ھے عاجزی انکساری کبھی بھی اپنے آپ کو اس فن کا ماھر نہ سمجھ لینا ورنہ ایسا امتحان آپ کے سامنے آ کھڑا ھو گا جو آپ کو بالکل ننگا کردے گا تکبر اور غرور انسانی صفات ھی نہین جو انسان کر بیٹھتا ھے کیونکہ انسان کے اندر بنیادی طور پہ نو سوراخ ھین دو کان دو آنکھین منہ ناک کے دوسوراخ اور باقی فضلے کو خارج کرنے کے سوراخ سب سے گندگی ھی نکلتی ھے باقی بے شمار مسام موجود ھین جن سے پسینہ خارج ھوتا ھے یہ پسینہ بھی تو پیشاب کی ھی ایک قسم ھے اب بندہ تو پیدا بھی گندگی سے اور پیدائش بھی گندگی والے راستہ سے اور خود بھی گندگی کا ڈھیر ھے جہان بھی کٹ لگائین متعفن مادہ نکلے گا پھر تکبر کیسا غرور کیسا یہ صفات صرف اللہ تعالی کی ھین جو ان سب اشیاء سے پاک ھے یہ تو اس رحمن نے فضل ھے شکر ادا اس رب کائینات کا کرنا چاھیے جس نے پھر بھی تمام مخلوقات مین افضل مقام انسان کو دے دیا مجھے بہت سے لوگ کہتے ھین کہ تیرے اندر بڑا ھی تکبر ھے مین ھنس دیتا ھون اور اللہ کا شکر بجا لاتا ھون جب اپنی ذات یعنی جسم پہ نظر ڈالتا ھون
مین بات کررھا تھا ان نبض کی حرکات کوجانچنا پرکھنا ھر سطحی نظر رکھنے والے کے لئے تو مشکل کام ھے بلکہ ناممکن لیکن نظر تھوڑی گہری رکھین گے تو کچھ بھی مشکل نہین ھے
دوسری اور اھم بات۔۔اس زمانے مین جبکہ کیمیکل کے بے تحاشہ استعمال نے لوگون کے مزاج کو واقعی مختل کردیا ھے جس کی وجہ سے حرکات نبض اپنی موضوعہ شرائط کے مطابق نہین رھین پیدائشی طور پر کسی کو کیمیکل کھلائے جاتے ھین کسی بھی عضو کو بلاوجہ تیز کردیا جاتا ھے تو کسی عضو کو بلاوجہ سست کردیا جاتا ھے اب اینٹی بائیوٹک اینٹی الرجی اینٹی ھسٹامن وٹامنز منرلز وغیرہ بطور خوراک کے طور پر استعمال ھورھےھین انسانی طبیعت کی بنیادین ھلا کررکھ دی ھین یعنی متاثر ھورھی ھین جس کا تجربہ اب ھر طبیب کررھا ھے ھردوطرح سے یعنی کچھ کھلا رھے ھین کچھ ان معاملات سے پریشان کن صورت حال سے گزرتے ھین یعنی بے اصولی کو اصول بنا لیا گیا ھے اب ان حالات کی وجہ سے نبضین جھوٹی ھو گئین ھین مریض اپنی کیفیت کچھ بتاتا ھے نبض کچھ اور کہہ رھی ھوتی ھے باقی آئندہ

Thursday, August 9, 2018

تیزابیت معدہ کے عجیب الاثر دو نسخے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔ تیزابیت معدہ کے عجیب الاثر دو نسخے ۔۔۔۔۔
آج وقت نہین مل سکا اس لئے سلسلہ وار پوسٹ نہین لکھ سکا یہ کل ایک صاحب سے وعدہ کیا تھا تیزابیت معدہ پہ کچھ دوائین لکھ دونگا اس لئے آج لاثانی قسم کی دوائین جو فوری الاثر بھی ھین حاضر ھین استعمال کیجئے اور تیزابیت کا ناس کیجئے
پہلی دوا۔۔۔ کشنیز بیس گرام ۔۔۔مغز بادیان بیس گرام ۔۔الائچی خورد ایک ماشہ ۔۔۔ سوڈا خوردنی ماشہ ۔۔۔ست پودینہ ڈیڑھ رتی ۔۔۔ ملٹھی ماشہ ۔۔۔ کوزہ مصری پچاس گرام پیس کر سفوف بنا لین اور ست پودینہ کو آخر مین شامل کرین مزاج تر گرم ھے ایک ماشہ خوراک دن مین تین تا چار بار دین
معدہ کی جلن ۔۔ گیس ۔۔تیزابیت ۔۔ بھوک نہ لگنا ۔۔کھٹے ڈکار آنا ۔۔معدے کا ورم اور منہ کا پک جانا اور ھائی بلڈ پریشر کے مریضون کو مفید ھے
دوسری دوا۔۔۔ حب زرد چوب۔۔۔ برگ مدار تازہ ایک پاؤ زرد چوب ڈیڑھ تولہ زرد چوب کو بھی باریک کھرل کر لین پتون کو بھی رگڑ کر باریک پیسٹ سا بنا کر اب زرد چوب شامل کرکے حب نخودی بنا لین دو دو گولی تین وقت ھمراہ پانی دین مزاج کے اعتبار سے یہ بھی تر گرم ھین
تیزابیت معدہ اور یورک ایسڈ کا ستیاناس کردیتی ھے اور یاد رکھین صفراوی دمہ کے لئے اس سے بڑھ کر کوئی دوا نہین ھے
فوری اثر دوائین ھین اب اجازت دین مجھے انگلینڈ سے آئے اپنے بھائی سے ابھی لڑنا بھڑنا ھے یعنی پیاری پیاری باتین کرین گے اللہ حافظ

Wednesday, August 8, 2018

تشخیص امراض ومزاج 15

۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔تشخیص امراض ومزاج۔۔۔۔قسط نمبر 15۔۔۔
حکم نمبر١٤۔۔اگر کسی مریض کے بائین کان کے پیچھے دانہ نخود کی مانند سخت پھنسی پیدا ھو جاۓ تو جان لینا چاھیے ایسا مریض بیس روز کے اندر مرجاۓ گا اور بالکل اسی وقت یا ساعت مین ھلاک ھو گا جس وقت پہ پھنسی ظاھر ھوئی تھی اب اس کی علامت یہ بھی ھو گی کہ مریض کوپیشاب بہت زیادہ آئے گا اب جدید تشریح مختصر انداز مین۔۔۔۔
یہ کان کے پیچھے والے عصب کا ورم ھے اس مین اعصابی تحریک شدید ھوتی ھے جس کا اثر گردون پہ بھی ھوتا ھے اس وجہ سے مریض کو پیشاب کثرت سے آۓ گا
حکم نمر١٥۔۔۔اگر کسی مریض کے بائین کان کے پیچھے سیاہ رنگ کی پھنسی پیدا ھو جاۓ تو سمجھ لین ابتداۓ مرض سے چوبیس دن کے اندر مریض ھلاک ھو گا اب اس کی علامت یہ ھو گی کہ مریض بار بار سرد پانی پینے کی خواھش کرے گا
اب جدید تشریح ۔۔۔ یہ پھنسی بھی کسی عصب کے ورم سے پیدا ھو گی اس وجہ سے ھی مریض بار بار پانی پانی کا اشتیاق کرے گا
حکم نمبر ١٦۔۔اگر کسی مریض کے دائین کان کے پیچھے سرخ اور تیز (حاد) پھنسی نکل آۓ جو آگ سے جلنے کی مانند ھو اور دانہ باقلہ کے برابر بڑی ھو اس مین علامت یہ ھو کہ مریض کو بار بار قے بہت زیادہ آۓ یہ بھی بیس روز مین ھلاکت متوقع ھے اب جدید تشریح ۔۔یہ بھی اعصاب کی ھی سوزش ھے جہان تک آگ کی طرح کا ذکر ھے تو سمجھ لین یہ بالکل آتشک کی طرح ھے یاد رکھین جب اعصاب مین خون کی زیادتی بڑھتی ھے فورا ھی مقام ماؤف پہ حساسیت زیادہ ھو جایا کرتی ھے اس لئے جب خون کے اجتماع سے حرارت بڑھتی ھے اس لئے مریض کو آگ کی سی جلن محسوس ھوتی ھے اور یہ بات بھی یاد رکھین اعصابی تحریک مین معدہ مین رطوبات کا زیادہ ترشح ھوتا ھے اس لئے قے بار بار ھوتی ھے اس زمانے مین اس علامت سے موت شاید ھی آتی ھو کیونکہ اب علاج کے مواقع وسیع ھین
حکم نمبر ١٧۔۔ اگر کسی مریض کے دائین طرف سیاہ رنگ کی پھنسی پیدا ھو جاۓ اور اس کی علامات مین اسے جمائیان بہت زیادہ آئین تو یہ مریض ابتداۓ مرض سے نو روز مین ھلاک ھوگا جدید تشریح ۔۔یہ پھنسی عضلاتی غدی ھے شروع مرض مین جمائیان اس لئے آتی ھین کیونکہ سردی خشکی کی کیفیت توڑنے کی جدوجہد جمائیون سے شروع ھوتی ھے یہ بالکل ایسی ھی صورت ھے جیسی بخار چڑھنے سے قبل ھوا کرتی ھے جب بخار چڑھ جاتا ھے تو آپ کو بھی علم ھے پھر جمائیان بند ھو جاتی ھین اب جلد موت واقع ھونے کا جو سبب نظر آتا ھے وہ یہ ھے کہ اس تحریک کا ورم شدید اور درد ناک ھوا کرتا ھے
حکم نمبر١٨۔۔۔ اگر کسی مریض کی بائین بغل مین سفر جل یعنی بہی کے برابر پھوڑا نکل آۓ اور اس مین علامت یہ ھو گی کہ مریض کو گہری نیند بہت زیادہ آۓ تو مریض ابتداۓ مرض سے پچیس روز کے اندر ھلاک ھو جاۓ گا اب جسم بہت زیادہ سست رھے گا مریض کا اور نیند بھی زیادہ رھے گی
اب جدید تشریح ۔۔یہ غدی عضلاتی ورم ھے جس مین درد بھی بہت کم ھو گا جب ورم مکمل ھو گا تو موت واقع ھو جاۓ گی نیند زیادہ آنے کی وجہ غدی عضلاتی تحریک کی صورت مین دماغ واعصاب مین تسکین واقع ھو جاتی ھے
حکم نمبر١٩۔۔۔ اگر کسی مریض کے ٹخنے پر سیاہ رنگ کی کئی پھنسیان نکل آئین تو سمجھ لین تو مریض بیس روز مین ھلاک ھو جاۓ گا اب اس مین علامت یہ ھو گی کہ مریض ٹھنڈی غذا اور ٹھنڈی ھوا کا اسرار کرے گا
جدید تشریح مین یہ عضلاتی اعصابی تحریک کی پھنسیان ھین اس مین جسم مین سوداویت کی کثرت ھوتی ھے اس وجہ سے رنگ بھی سیاہ ھوتا ھے ابتدا مین ان مین درد نہین ھو گا بلکہ ھلکی ھلکی خارش ھو گی چونکہ ابھی تحریک کی ابتدا ھی ھے اس لئے سرد ھوا اور ٹھنڈی غذا کھانے کو دل کرتا ھے
حکم نمبر ٢٠۔۔اگر کسی مریض کی بائین کنپٹی پر سرخ زردی مائل پھنسی پیدا ھو جاۓ تو سمجھ لینا چاھیے کہ وہ مریض ابتداۓ مرض سے چار روز کے اندر ھلاک ھو جاۓ گا علامت ساتھ یہ ھو گی کہ ابتداۓ مرض سے ھی مریض کی آنکھ مین شدید خارش لا حق ھو گی جس کو آرام نہین آۓ گا
جدید تحقیق۔۔یہ پھنسی عضلاتی غدی تحریک مین ھو گی جس کا رنگ سرخ زردی مائل ھو گا اب اس تحریک مین سودا کی مقدار زیادہ ھوتی ھے لہذا اس ورم مین خارش شدید ھوتی ھے اب فوری موت ھونے کی وجہ صرف یہ ھے کہ ورم دماغ کے بالکل قریب ھے جس کا اثر دماغ پہ لازمی ھوتا ھے اور دماغ مین شدید تحلیل ھو کر موت واقع ھوسکتی ھے
حکم نمبر٢١۔۔اگر کسی مریض کی چٹیا یا چندیا سمجھ لین یعنی وسط سر مین اخروٹ کی مانند ورم پیدا ھوجاۓ جو ملائم ھو اور اس مین درد نہ ھو تو سمجھ لین ابتداۓ مرض سے نوے روز مین ھلاکت ھے اس مین ساتھ علامت یہ ھوگی کہ مریض کو نیند بہت زیادہ اور گہری آۓ گی پیشاب کثرت سے آۓ گا خربوزہ کھانے کو جی کرے گا
جدید تشخیص مین یہ ورم غدی عضلاتی تحریک سے ھے چونکہ ورم نامکمل ھے اس لئے درد نہین ھو گا یا بہت ھی کم ھو گا اب ورم ملائم ھونے کی وجہ یہ ھے کہ ورم مین خون نہ ھونے کے برابر ھو گا اب یہ بات یاد رکھین اعصاب ودماغ مین سکون ھو گا اس لئے مریض کو نیند کچھ زیادہ ھی آۓ گی اگر خربوزہ کو جی کرتا ھے تو خربوزہ بھی تو غدی مزاج ھی رکھتا ھے اور مدر بول بھی ھے اگر کھانے کو مل گیا تو لازمی طور پہ پہلے ھی پیشاب زیادہ ھے اب اور زیادہ ھوجاۓگا آخری بات اب ورم بہت دیر سے مکمل ھو گا اس لئے ھلاکت بھی اسی وقت ھوتی ھے جب ورم مکمل ھو جاۓ
حکم نمبر٢٢۔۔۔اگر کسی مریض کی کنپٹی پہ مچھر کی مانند نہایت سیاہ ورم پیدا ھو جاۓ تو سمجھ لین ابتداۓ مرض سے لے کر تین ماہ مین ھلاکت متوقع ھے اس کی بھی علامت یہی ھے کہ مریض خربوزہ اور تربوزہ کھانے کی خواھش کرتا ھے اور ٹھنڈاپانی پینے کا خواھشمند ھوتا ھے اس کو ترکاری کھانے والے شخص کی طرح پیشاب زیادہ آۓ گا
جدید تشخیص مین یہ یہ ورم عضلاتی اعصابی ھے اس مین بھی درد نہ ھونے کے برابر ھوتا ھےکیونکہ جسم مین سردی خشکی بڑھ جاتی ھے اس لئے طبعی طور پر ٹھنڈی چیزین کھانے کو دل کرتا ھے اب لازم ھے کہ پیشاب مین بھی کثرت ھو گی
حکم نمبر٢٣۔۔اگر کسی شخص کی گردن کے نیچے اور بائین آنکھ کے زیرین پپوٹے پر سیاہ پھنسی پیدا ھو جاۓ تو سمجھ لین ابتداۓ مرض سے لے کر اکیس روز مین موت واقع ھو سکتی ھے اس مین خاص علامت یہ ھے کہ مریض کو ابتداۓ مرض مین شیرین اور ردی کھانے کھانے کی شدید خواھش ھوتی ھے
حکم نمبر ٢٤۔۔ اگر ٹھوڑی کے نیچے دانہ باقلہ کے برابرسرخ رنگ کی پھنسی نکل آۓ تو ایسا بندہ بانون٥٢۔۔ روز مین ھلاک ھو گا خاص علامت بہت زیادہ تھوک آۓ گی اور منہ سے بکثرت بلغم نکلے گی
جدید تشخیص مین اعصابی تحریک کی سوزش ھے چونکہ مرض مشینی تحریک کی صورت اختیار کرچکا ھے اس لئے رطوبت بکثرت ھوگی جس کا اخرج منہ کے راستہ تھوک اور بلغم کی شکل مین نکلے گا اب یہ ورم قلب سے بہت دور ھے اس لئے متاثر کم ھو گا جب طویل عرصہ گزرنے سے مرض مین شدت آجاۓ گی تو پھر قلب متاثر ھو کر قلبی حرکات روک دے گا اس لئے موت دیر سے آۓ گی
حکم نمبر ٢٥۔۔یہ آخری حکم ھے کل کی پوسٹ مین وعدہ کیا تھا مضمون رسالہ قبریہ پہ مکمل کردونگا کیونکہ تشخیص امراض کا اصل مضمون تو بہت آگے چل کر شروع ھونا ھے اس لئے اس باب کو سمیٹ دیا ھے اب اس مین جن علامات کا ذکر ھے یہ بالکل اسی طرح ھی آج بھی پیدا ھوتی ھین لیکن بہت ھی کم مریض دیکھنے کو ملین گے اس کا سبب یہ ھے ایک تو لوگون کے علاقائی طور پہ مزاج مخصوص ھو چکے ھین جیسے ضلع منڈی بہاوالدین اور سیالکوٹ شیخوپورہ سرگودھا جھنگ جیسے اضلاع مین عضلاتی یا سوداوی مزاج کہہ لین سو مین اسّی لوگون کا ھو چکا ھے یہ سب پانی اور غذا کے اثرات ھین باقی ملک مین بھی بہت کثرت سے سوداوی مزاج کے لوگ ھین الحمداللہ کسی بھی شخص کی لکھی تحریر سے ھی کافی حد تک اس کے مزاج کا اندازہ ھو جایا کرتا ھے یہ باتین آگلی قسطون مین لکھین گے اب رسالہ قبریہ آج کی پوسٹ مین مکمل کرنا ھے تو آئین دیکھین حکم نمبر ٢٥کیا ھے اگر کسی شخص کے حشفہ مین شدید درد پیدا ھو جاۓ بات سمجھ رھے ھین یعنی جان گئے ھین کہ حشفہ کسے کہتے ھین اگر یہ درد پیدا ھوجاۓ اور ساتھ ساتھ ھاتھ کی کہنی پہ سیاہ رنگ کی پھنسی پیدا ھوجاۓتوایسا مریض پانچ روز مین ھلاک ھوجاۓ گا اب اس کی علامت یہ ھو گی کہ شراب پینے کی خواھش بہت زیادہ ھوگی ایک بات یاد رکھین حشفہ تو ایک اسفنج نما گوشت کا بنا ھوتا ھے جس کا اپنا مزاج عضلاتی ھوتا ھے اب اس کے بیرونی حصہ مین اعصاب کا جال پچھا ھوتا ھے اب نقطہ سمجھ لین اب اس کی مین تفصیلا تشریح اس لئے کررھا ھون آپ کو بھی سب سے زیادہ دلچسپی مردانہ امراض یا عضوتناسل کے امراض سے ھی ھوتی ھے اب بات سمجھین کہ اگر پھنسی بیرونی حصہ پہ نکلی ھوئی ھے تو یہ بلغمی مادے یا اعصابی سوزش سے پیدا شدہ پھنسی ھے اس مین بھی شرط یہ ھے کہ اس پھنسی مین خارش نہ ھو اب یاد رکھین بغیر خارش کے اور آگ کی طرح جلنے والی پھنسی آتشک کی پھنسی کہلاتی ھے ورنہ عضلاتی تحریک سے ھے اگر تمام حشفہ مین درد ھو تو یہ عضلات کی سوزش سے ھوتی ھے اگر یہی سوزش باقی جسم پہ بھی اثرانداز ھو جاۓ تو وھان بھی سیاہ رنگ کی پھنسیان نکل آتی ھین اب سمجھین جب حشفہ مین درد ھو اور کہنی پہ پھنسی پیدا ھوتی ھے تو اس کا رنگ سیاہ ھوجاتا ھے تو سمجھ لین یہ عضلاتی تحریک کا کمال ھے اور بندہ غذا بھی سوداوی مزاج کی حامل ھی طلب کرے گا اب ان سب علامات مین عارضی سکون دینے والی چیز شراب ھے اس لئے طبیعت مدبرہ شراب کی طلب پیدا کرتی ھے اب بات کو سمجھین مریض کو ایک طرف ورم اور پھنسی کی شدید تکلیف ھوتی ھے تو دوسری طرف شراب جیسی زھریلی چیز کی خواھش کا ابھرنا یہ دونون اشیاءمل کر ھلاکت کا سبب بنتی ھین اب لازما مریض چند روز کا ھی مہمان ھوتا ھے
یہ تھے سب حکم نامے اس رسالہ قبریہ کے موت کی علامات پہ مجھے امید ھے بات کی سمجھ آگئی ھو گی یہ بات بھی یاد رکھین اب ان علامات سے شایدھی کوئی مرتا ھوباقی مضمون اگلی قسط مین

Tuesday, August 7, 2018

تشخیص امراض ومزاج 14

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔تشخیص امراض ومزاج ۔۔۔۔قسط نمبر 14۔۔۔۔
آج بات کرتے ھین حکم نمبر ١١کی
حکم نمبر ١١۔۔۔۔اگر دونون آنکھون کے کسی ایک پپوٹہ پر اخروٹ کی مانند سیاہ رنگ کی پھنسی پیدا ھو جاۓ تو سمجھ لین مریض ابتداۓ مرض سے دوروز مین ھلاک ھو جاۓ گا اب اس کی علامات مین نیند کا غلبہ بہت زیادہ ھو گا یہ لکھا ھے جدید تحقیق مین یہ بھی عضلاتی غدی تحریک کی پیداوار ھے اب نیند کا غلبہ دماغ کے مفلوج ھو جانے سے ھوتا ھے اب بہت سون کے دماغ مین یہ سوال ضرور ھے اب دائین آنکھ تو فلان مزاج مین آتی ھے اور بائین آنکھ فلان مزاج مین آتی ھے آپ کثرت مطالعہ کیا کرین یاد رکھین اب جو علامت لکھی ھے کہ نیند کا غلبہ بہت زیادہ ھو گا تو دوستو عضلاتی غدی ھی تحریک مین دماغ مین شدید تحلیل ھوا کرتی ھے موت تو اس وجہ سے ھو رھی ھے انشاءاللہ آگے چل کر دائین اور بائین تحریک کی ھم اور جدید طریقہ سے تشریح کرین گے جو بہت سے لوگون کی آنکھین کھول دی جائین گی جو نظریہ کی بھی غلط انداز مین آج تک تشریح کرتے رھے ھین مین نے دیکھا ھے بہت سے لوگون نے نظریہ مین بھی شدید ابہام پیدا کیے ھین تاکہ نہ کوئی سمجھے نہ ھمین خود سمجھ آئے ایسے لوگ بڑے ھی شریف ھوا کرتے ھین خیر روز محشر مین حساب کتاب ھوتا رھے گا
حکم نمبر ١٢۔۔۔ اگر کسی شخص کے دونون نتھنون سے سرخ زردی مائل خون بہے اور اس کے دائین ھاتھ مین سفیدی مائل پھنسی پیدا ھو جاۓ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(یاد رکھین طب قدیم مین اسے مرض سقروس کہتے ھین اور یہ بلغمی ورم کہلاتی ھے) ۔۔۔۔۔۔۔اور اس پھنسی مین درد بھی نہ ھو تو سمجھ لین مریض ابتداۓ مرض کے دن سے لے کر تین روز مین مرجاۓ گا اور اس کی علامت یہ ھوتی ھے کہ مریض کو ابتداۓ مرض سے ھی کھانے کی خواھش نہین رھتی
ان جدید تشریح کچھ یون ھے ایسا مریض جس کو خون معدہ کے اوپر والے اعضاء سے آتا ھے تو یہ عضلاتی اعصابی تحریک ھوتی ھے ویسے بھی جو ظاھری تقسیم جسم انسانی کی ھے اس کی رو سے دائین بازو مین بھی عضلاتی اعصابی ھی تحریک ھوا کرتی ھے آپ کو یہ تو علم ھو گا ھی کہ عضلاتی اعصابی تحریک کیمیاوی تحریک ھوا کرتی ھے اور اس مین شدت نہین ھوا کرتی تو لازما اس تحریک سے پیدا شدہ ورم یا پھنسی مین درد نہین ھوا کرتا اب خود ھی غور کر لین کہ کیا ھزارون سال پہلے واقعی حکم بقراط جدید طبی بنیاد کو جانتا سمجھتا تھا اگر میری بات دلائل سے آپ کو درست لگے تو یہ آج کے بستہ ۔۔ب ۔۔ کے حکماء کیسے اس کی مخالفت کرتے ھین سچ مین کہین تو لازما فہم فراست اور طب پہ عبور یا علمی قابلیت یا مطالعہ مین شدید کمی ھی وجہ ھو سکتی ھے ان انگریز کی ایک ادا سے مین بہت ھی الفت رکھتا ھون کوئی بھی شخص کسی بھی مخصوص جگہ پہ کھڑا ھوکر اپنی تقریر مین اپنا نظریہ پیش کرے خواہ مکمل طور پہ وہ شخص غلط بات کررھا ھون تو سامعین خاموشی سے اس کی بات سنین گے اور اسے کبھی بھی برا یا بھلا نہین کہین گے بلکہ اپنے اپنے راستہ پہ ھو لین گے اب گھر جاکر وہ لوگ سکون سے اس کی باتون پہ غور کرین گے اگر بات درست ھوئی تو اسی مقام پہ آکر بلاجھجھک اس کے نظریات اور عقائد سے متفق ھونے کا اعلان کرین گے اگر غلط بات ھے تب بھی وہ اسے غلط نہین کہین گے بلکہ سوالات کرین اور اپنے دلائل اور اس کے دلائل سے فیصلہ کرین گے ھماری قوم کا المیہ ھے بغیر سوچے سمجھے اگلے کا سر کلہاڑی سے دو ٹکڑے کردیتے ھین
بات کررھا تھا اس پھنسی مین درد نہین ھوتایاد رکھین یہ بالکل اسی طرح کی پھنسی ھے جیسے خارش یا چنبل مین ھوتی ھے اس مین قدرے سفیدی ھوتی ھے ھان درد کے بجائے ان مین لذت ھوتی ھے اور یاد رھے بندہ پھنسی کی وجہ نہین مرتا بلکہ اخراج خون کی وجہ سے مرتا ھے بشرطیکہ کوئی انتظام خون روکنے کا نہ ھو
حکم نمبر ١٣۔۔۔اگر کسی مریض کی بائین طرف ران مین شدید سرخی پیدا ھو جاۓ اور اس مین درد نہ ھو اور اس کی لمبائی تین انگل ھو تو سمجھ لین مریض ابتداۓ مرض سے پچیس روز کے اندر ھلاک ھو جاۓ گا اس کی خاص علامت یہ ھے کہ ابتدا مرض مین مریض کو شدید خارش ھوگی ساگ پات اور ترکاریان کھانے کی خواھش کرے گا
اب جدید تشریح ۔۔کسی جگہ کا شدید سرخ ھوجانا عضلاتی غدی تحریک مین ھوا کرتا ھے اس تحریک کی شدت سے کسی بھی مقام سے شریان پھٹ سکتی ھے انہی شریانون کا نکلا ھوا خون اس مقام کو سرخ کردیتا ھے اب اس مقام پہ ورم تو ھوتا نہین اس لئے درد بھی نہین ھوا کرتا اس تحریک مین خشکی کی شدت ھوتی ھے اس لئے مریض کوشدید خارش ھوا کرتی ھے اب ساگ اور اس جیسی کچی ترکاریان سوداوی اثرات کی حامل ھوتی ھین اس لئے مریض ان کو کھانے کی طبعی خواھش کرتا ھے
باقی مضمون انشاءاللہ اگلی قسط مین آپکا خادم محمود بھٹہ

Monday, August 6, 2018

کشتہ مرگانگ| kushta margang|kushta murgang

۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔ کشتہ مرگانگ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Kushta margang|kushta murgang
چند روز سے ایک دوست مسلسل فرمائش کشتہ مرگانگ کی کررھے تھے کہ آسان ترین بھی ھو اور موثر بھی ھو یہ دونون باتین میری سمجھ سے بالا تر تھین کیونکہ نہ تو کشتہ مرگانگ بنانا مشکل ھے چند گھنٹون مین تیار ھو جاتا ھے بلکہ دوگھنٹہ سے زیادہ ٹائم تو بالکل نہین لگتا اور رھی بات فائدہ حاصل کرنے کی تو جس نے بھی اس کا سوچ سمجھ کر استعمال کیا وہ فائدہ حاصل کر لیتا ھے لیکن اگر یہ سمجھ کر کہ اس کا رنگ سونے کی طرح بالکل ھو بہو ھے اور اسے کشتہ سونا ھی سمجھ کر یا لوگون کو بتا کراستعمال کیا ھے تو سمجھ لین ذرا بھر بھی فائدہ حاصل نہ کرسکا کبھی بھی دوا کے معاملہ مین جھوٹ نہ بولین ورنہ شفا کی امید کبھی بھی نہ رکھین
قلعی۔۔۔ پارہ مصفی۔۔۔۔ گندھک آملہ سار ۔۔۔ نوشادر ٹھیکری برابر وزن لے لین اب قلعی کو گلا کر سیماب سے عقد یا چھلبند کردین اس کے بعد باقی دونون اجزاء کے ساتھ کھرل کردین خوب کھرل کرنے کے بعد اسے کسی آتشی شیشی مین ڈال کر شیشی کے باھر والی سطح کو کپڑ روٹی کردین اور یاد رکھین شیشی کا منہ کھلا ھی رکھین اب کسی سٹینڈ مین شیشی پھنسا کر کوئلون کی آگ پہ شیشی کو رکھ دین توشیشی سے سیاہ رنگ کا دھوان نکلنا شروع ھو جاۓ گا اگر شیشی کے منہ کا سوراخ بند ھونے لگے تو کسی لوھے کی سلاخ کی مدد سے کھول دیا کرین جب شیشی کے منہ سے سفید رنگ کا دھوان شروع ھو جاۓ تو آگ بند کردین ٹھنڈا ھونے پہ شیشی کے اپنا کشتہ نکال لین بالکل سونے رنگ مین چمک دار کشتہ برآمد ھو گا اسے ھی کشتہ مرگانگ کہتے ھین فوائد کا سب حکماء کو علم ھے یہ مجھے لکھنے کی ضرورت نہین پوسٹ بھی صرف حکماء کے لئے ھی تو ھے

تشخیص مزاج و امراض 13

۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔ تشخیص مزاج و امراض ۔۔۔۔ قسط نمبر 13۔۔۔۔
حکم نمبر ٩۔۔۔ یہ حکم کچھ اس طرح ھے کہ مریض کے دونون پاؤن کے انگوٹھون پہ شدید خارش پیدا ھو اور گردن کا رنگ سیاہ ھو جاۓ تو سمجھ لین کہ مریض ابتداۓ مرض سے لے کر پانچوین روز کی شام تک یا غروب آفتاب سے بھی بیشتر ھلاک ھو جاۓ گا اب اس کی علامت یہ ھو گی کہ مریض کو پیشاب بہت زیادہ آۓ گا اب اس کی تشریح کرتے ھین کہ یہ حکم کس طرح درست ھو سکتا ھے تو سمجھین ۔۔۔
یہ دوستو عضلاتی اعصابی شدید تحریک کا نتیجہ ھین یعنی یہ سب سوداویت بڑھ جانے کی علامات ھین اب ایک بات یاد رکھین یہ علامات دائین طرف سے شروع ھونگی پہلے پہل گردن کا دایان حصہ سیاہ ھو گا پھر گلے مین شدید خشکی بڑھ جاۓ گی مین حیران ھوتا ھون کس طرح صدیون پہلے اتنی درست تشخیص علماۓ طب نے کی اور حیرت اس بات پہ ھے انہین درست انداز مین سمجھا کسی نے نہین اور نہ ھی کسی کتاب مین ان علامات کی تشریح آئی کیا حکماء نے اپنا علم چھپانے کی کوشش نہین کی اور ایسا کیون کیا ؟اس بات کی سمجھ نہین آئی خیر اس بات کو چھوڑتے ھین اپنے موضوع ھی طرف رخ رکھتے ھین اب بہت سے لوگون کے ذھنون مین ایک سوال اٹھ رھا ھو گا کہ مین تحریک عضلاتی اعصابی بتا رھا ھون جبکہ حکیم بقراط نے اپنے اس حکم مین جو مرض کی علامت بتائی ھے وہ ھے کثرت پیشاب کی ۔۔۔ تو دوستو اب ذرا اس پہ بھی تشریح کر لیتے ھین یہ وضاحت کرنے کی ضرورت بھی محسوس کرتا ھون کیونکہ دو روز پہلے مین نے ایک پوسٹ بواسیر کے علاج پہ لکھی تھی جس پہ ایک حکیم صاحب نے بڑے طنزیہ انداز مین فتوہ صادر کیا تھا کہ مرض بھی عضلاتی اور دوا بھی عضلاتی لکھ دی ھے جبکہ نسخہ مین صاف اور سیدھی سیدھی مین نے کھار ڈالی تھی اور کھار کا مزاج کیا بنتا ھے یہ سب جانتے ھین بس بہت افسوس ھوتا ھے کم سے کم کمنٹس تو درست اور مہذب انداز مین ھی بندہ کردے مین نے انہین اور کچھ بھی نہین کہا صرف جواب لکھ دیا انداز میرا بھی تھوڑا مختلف تھا دوستو مین بھی انسان ھی ھون اور کبھی بھی میرا دعوہ بھی یہ نہین رھا کہ بہت ھی پڑھا لکھا بندہ ھون بس آپ جیسا ھی عام سا چھوٹا سا انسان ھون یہ الگ بات ھے کہ آپ لوگ میری عزت کرتے ھین اس پہ آپ کا اور اپنے اللہ کا شکر ادا کرتا ھون ۔۔۔۔
ھم بات کررھے تھے عضلاتی اعصابی تحریک مین پیشاب کی کثرت کیسے ھو سکتی ھے تو میرے دوستو یہ بات یاد رکھین یہ عضلاتی اعصابی تحریک مین سوداویت ضرورت سے زیادہ خون مین جمع ھو جاۓ تو طبیعت براستہ بول خون سے جذب کرکے بصورت پیشاب خارج کرنا شروع کردیتی ھے لیکن یاد رکھین اس وقت پیشاب کا رنگ بالکل سیاہ رنگ کا ھوگا اب آپ کے ذھن مین یہ بات لازما ھے جب سودا خود ھی زیادہ ھے تو پیشاب کیسے زیادہ ھو سکتا ھے اس مین تو پیشاب بالکل ھی کم ھوجانا چاھیے کیونکہ سودا کا خاصہ تو یہ ھے کہ وہ رطوبات کو خشک کرکے پیشاب کم کردیتی ھے
اب بات کو سمجھین یہ عمل بالکل اسی طرح ھے جیسے بلغمی رطوبات کی زیادتی سے دست آنے شروع ھوجاتے ھین یا ھم یہ کرتے ھین کہ کسی مسہل دوا سے اعصاب کے فعل مین تیزی پیدا کرتے ھین جس سے مسہل آنے شروع ھو جاتے ھین اور آپ یہ بھی جانتے ھین ھر کیمیائی اور مشینی تحریک کے لئے الگ الگ مسہل دوا ھوتی ھے یا یون بھی کہہ سکتے ھین کہ ھر مزاج کے لئے اللہ تعالی نے الگ الگ مسہل دوا پیدا کررکھی ھے اور بالکل ھوتی ھے اسلئے ھم جب چاھتےھین کسی بھی عضو کا یامزاج کا مسہل دے کر اس خلط ی مادےکا اخراج بذریعہ اسہال کردیتے ھین بالکل یہی صورت اس مین ھوتی ھے عضلاتی اعصابی مین جب گردون مین شدید مشینی تحریک پیدا ھوجاتی ھے جس سے وہ براہ بول سودا کو خارج کرناشروع کرتی ھے تو مریض کو سیاہ رنگ کا پیشاب کثرت سے آنا شروع ھوجاتا ھے اب اگلا سوال آپ یہ بھی جانتے ھین قلب عضلات کی مشینی تحریک کی انتہا پاؤن کے انگوٹھے تک ھے اس لئے سب سے پہلے مریض کے دائین انگوٹھے پہ پہلے خارش شروع ھوگی پھر تحریک بڑھ کر بائین انگوٹھے مین شدید خارش شروع ھوجائے گی اب اس بات کو بھی یاد رکھین کہ مریض پاؤن کے انگوٹھون کی خارش سے نہین مرتا بلکہ گلے مین شدید خشکی اور پیشاب کے ذریعے کثرت سے سوداوی مادے کے اخراج کی وجہ مرتا ھے اب اس موضوع پہ آخری بات سن لین اب ایسے مریض شاید ھی مرتے ھون کیونکہ اب تشریحات اور ادویات کا اتنا وسع علم ھم رکھتے ھین کہ اب ایسے مریض کا ایک چھوٹا سابھی حکیم مسہل پانچ دے کر مریض کی جان بچا سکتا ھے
امید ھے کافی وضاحت اس حکم پہ کردی ھے بات سمجھ آگئی ھو گی اب چلتے ھین اگلے حکم کی طرف
حکم نمبر ١٠۔۔ اگر مریض کے پپوٹہ پر تین پھنسیان نکل آئین جن مین ایک پھنسی سیاہ اور باقی دو اشقر یعنی سرخ زردی مائل ھون تو ایسا مریض سات روز مین ھلاک ھو جاۓ گا اس مین علامت یہ ھو گی کہ مرض کی ابتدا مین تھوک بہت زیادہ آئے گا
اب تشریح تودوستو یہ عضلاتی تحریک کی پیداوار ھین اوّل سیاہ پھنسی پھر سرخ پھنسیان چونکہ یہ دماغ کے بالکل قریب ھوتی ھین اس لئے موت واقع ھو سکتی ھے پچھلے احکامات مین اس طرح کی تشریح کرچکا ھون
ایک اھم بات۔۔۔ میری ذاتی کچھ مصروفیات آجکل کچھ اس طرح کی ھین کہ جس مین پوسٹ لکھنا ممکن نہین ھوتا آج بھی تین روز بعد پوسٹ لکھ سکا ھون تحقیقی پوسٹ لکھنا آسان کام نہین ھوتا اور نہ ھی یہ ایک دو کتابون سے نقل کر کے لکھی جا سکتی ھے ذھن کو یکسو اور حاضر رکھ کر بہت سی یاداشتون کے سہارے اور بے شمار مطالعہ اور تجربات کے سہارے سب کچھ لکھنا پڑتا ھے جس مین بےشمار نقاط اور دلائل دینے پڑتے ھین اور بہت سوچ سمجھ کر لکھنا پڑتا ھے شاید آپ کو اندازہ بھی نہ ھو کہ صرف ھمارے گروپ مطب کامل کو دنیا کے 197 ممالک مین پڑھا جاتا ھے باقی کسی کو یہ اعزاز حاصل نہین اس وجہ صرف اور صرف تحقیقی مضامین ھین اسی لئے سرمد صاحب بے شمار غیر علمی پوسٹین اپروو نہین کرتے اور نہ غیر طبی پوسٹون کولگایا جاتا ھے اسی لئے حکماء سے گزارش کرتا رھتا ھون کہ تحقیقی مضامین خود لکھا کرین نیٹ سے ھی اٹھا کر نہ لگادیا کرین اور ھروقت صرف مردانہ کمزوری کی ھی پوسٹین نہ لکھا کرین باقی جسم بھی آپ کا اپنا ھی ھے وہ بھی بیمار ھوتا ھے مین موضوع دیتا ھون آپ لکھین اس وقت ھمارے ملک پاکستان مین کانگو وائرس کا بہت زیادہ خطرہ ھے آئین لکھین اور بتائین عوام کو یہ بخار کیا ھے اور کیا کیا علامات مرض ھین اب طب مین اس کا علاج کیا ھے لکھین بسم اللہ کرین

عرق النساء

 عرق النساء ۔۔

برائے مخصوص مستند اطبائے کاملین ۔۔

از حکیم سید ادریس گیلانی ۔۔

عرق النساء ایک رگ کا نام ھے جس کی فصد مختلف عوارض کے انسداد و تدارک کیلئے کی جاتی ھے ۔۔ جب یہ رگ فقرہ میں دب کر یا بھی وجہ سے اس میں درد شروع ھو جائے تو بڑے بڑے معالج اسے عرق النساء کہتے ھیں ۔۔ حالانکہ وجع العرق النساء کہنا انسب ھے ۔۔ 

علاج بغیر دوائی ۔۔

جس ٹانگ میں ھو اس ٹانگ کو دو تین جگہ سے کس کر باندھ دیں ۔۔ چھوٹی اور ساتھ والی انگلی کے درمیان جو رگ ابھرے گی وھی عرق النساء ھے ۔۔ اسکی فصد بذریعہ نشتر یا بذریعہ سرنج دو تین سی سی خون نکال لیں اور مریض کو زبردستی تیز چلائیں ۔۔ درد ختم اور شفاء حاصل ھوگی ۔۔ ان شاء اللہ المستعان دوبارہ درد نہ ھوگی ۔۔ اس پر اللہ ج کا شکر ادا کریں ۔۔ اس خاکسار حکیم سید ادریس گیلانی کو اپنی۔دعاوں میں یاد رکھئے ۔۔ آمین ۔۔

Friday, August 3, 2018

تشخیص امراض و مزاج 12

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔تشخیص امراض و مزاج ۔۔۔۔۔۔قسط نمبر 12۔۔۔
ذاتی مصروفیت کی وجہ سے دودن مضمون نہ لکھ سکا اور تقریبا گروپ سے بھی غیر حاضررھا آج بات کرتے ھین حکم نمبر سات کی اور کوشش ھو گی تواتر برقرار رھے
حکم نمبر ٧۔۔۔اگر دائین پاؤن کی درمیانی انگلی پر سنارون کے ذنبور کی مانند رنگین سونے کی مانند چمک دار پھنسی پیدا ھو جاۓ تو سمجھ لینا چاھیے کہ مرض کے پیدا ھونے کے بارہ دن کے اندر اندر مریض ھلاک ھو جاۓ گا اب اس کی ایک علامت یہ بھی ھو گی مرض شروع ھوتے ھی مریض کو تیز چرپری چیزین کھانے کی شدید خواھش کرے گا اب ھم جدید تحقیق پیش کرین گے تو دوستو یہ غدی اعصابی تحریک کی پیداوار ھے کیونکہ یہ تو آپ جانتے ھی ھین اب زرد رنگ ھی سونے جیسا ھے اور زرد رنگ ھی صفرا کا رنگ ھے یہ زرد رنگ کی رطوبت دراصل جگر کی پیدا کردا ھے اور یہ بھی آپ جانتے ھین چرپری چیزین جگر کی غذا مین شامل ھین یہ بات بھی یادرکھین جب بھی غدی اعصابی تحریک سے کسی عضو مین سوزش ھو کر ورم پیدا ھوتی ھے تو اس وقت پورے جسم کے مخرج صفرا کو بہت زیادہ خارج کرتے ھین اور اس تحریک مین صفرا کی پیدائش کم ھوتی ھے اور جب خارج بہت زیادہ ھو رھی ھوتی ھے تو موت کا سبب بن جاتی ھے اگر پھنسی جلدی تحلیل ھو جاۓ تب تو درست ھو گیا ورنہ مریض سے تحلیل عضلات زیادہ دیر برداشت نہین ھو سکتا اور بندہ اگلے جہان کوچ کرجاتا ھے امید ھے بات سمجھ آگئی ھو گی اور ایک بات اور بھی ذھن نشین کر لین یہ احکامات جب لکھے گئے تھے اس زمانہ مین ابھی طب پر اتنی وسیع تحقیقات نہین ھوئی تھی آج کے دور مین انہی علامات کا بڑی حد تک علاج ممکن ھے جیسا کہ آپ کو ساتھ ساتھ بتا رھا ھون اب آپ کو علم ھو گیا ھے نا غدی اعصابی تحریک پیدا ھوئی تو کونسا علاج کرنا ھے آپ فورا جواب مین کہین گے اعصابی غدی اور اعصابی عضلاتی سے عضلاتی اعصابی تک آپ جوش و خروش سے بتا دین گے
دوسری اور اھم بات جو مین کرنے لگا ھون اسے بہت غور سے پڑھنا کل یا پرسون کسی گروپ ممبر نے مجھے سکرین شارٹ بھیجا جس مین نظریہ مفرد اعضاء کو گالیان تک نکالی گئی تھی ایسی پوسٹین مین پہلے بھی پڑھ چکا ھون اور نظر انداز کردیا کرتا ھون اس کی وجہ بھی بتاۓ دیتا ھون ایک تو پوسٹ لکھنے والے کی علمی وسعت کا خوب اندازہ ھورھا ھوتا ھے بحث ھمیشہ کسی ایسے انسان سے کی جاتی ھے جو کم سے کم آپ کی بات کا جواب دینے کا اھل ھو اگر مینڈک اپنی زندگی کنوین مین ھی گزار دے تو اس کی ساری کائینات وھی کنوان ھی ھوتا ھے ایک دیوار سے اچھلتے کودتے وہ دوسری دیوار تک پہنچتا ھے تو سمجھتا ھے مین نے پورا سمندر عبور کرلیا ھے اگر اسے کنوین سے نکال کر سچی مچی اصل سمندر مین ڈال دیا جاۓ اور کہا جاۓ لے اب سرحد عبور کر تو آگے آپ بھی سمجھتے ھین اس کے ساتھ کیا بیتے گی دوسری بات بہت سے لوگون کے ذھن مین ایک اور بات بھی بسی ھوئی ھے کہ نظریہ مفرد اعضاء کے موجد حضرت دوست محمد صابر ملتانیؒ ھین مجھے اس بات سے بھی اختلاف ھے اس بارے مین میری لمبی گفتگو سید ادریس گیلانی صاحب سے بھی ھوتی رھتی ھے اور اس بات کو مین چند منٹ مین ثابت بھی کردونگا دوست محمد صابر ملتانی نے طب کو سمجھا اور آسان الفاط مین تشریحات کردین اس مین پہلا قدم حکیم احمد دین صاحب نے اٹھایا دوسرا قدم دوست محمد صابر ملتانی صاحب نے اٹھایا ان صاحبان نے تشریحات کی ھین اور دنیاۓ طب پہ احسان کیا ھے لیکن آپ غور کرین گے تو آپ کو صدیون پہلے لکھے بقراط کے ان احکامات مین بھی نظریہ کی حقیقت نظر آجاۓ گی بشرطیکہ آپ نے غور سے پڑھا تب ۔۔۔۔ پہلے ھوتا یہی رھا ھے کہ طب کو اتنے مشکل انداز مین بیان کیا گیا ھے جسے سمجھنا ھر کسی کے بس کی بات ھی نہین ھے اور جو آج بھی طب کی حقیقی کتابین ھین ان کو سمجھنا ھزار مین سے پانچ طبیب سمجھ سکتے ھین ورنہ ممکن نہین ھے اور جو نصاب کالجون مین پڑھایا جاتا ھے وہ انتہائی آسان ھے لیکن وہ بھی کسی چارسالہ ڈپلومہ ھولڈر کے پلے نہین پڑتا اگر اصل کتابین اس طالب علم کے سامنے رکھ دی جائین تو یقین جانین کچھ بھی نہ سمجھ سکے اب یہی وجہ ھے کہ جو لوگ علم طب مین دلچسپی رکھتے ھین وہ لازما نظریہ کی طرف آتے ھین جو لوگ اس کی مخالفت مین ھین ان کا کردار سواۓ طب کو زوال پذیر کرنے کے علاوہ کچھ بھی نہین آئین اب اگلا حکم سمجھین
حکم نمبر٨۔۔ اگر انگلیون کے ناخنون کا رنگ سیاہ ھو جاۓ اور پیشانی پہ خونی پھنسی پیدا ھوجاۓتو جان لین مرض کی ابتدا سے مریض چار روز کے اندر مرجاۓ گا اس کی علامت یہ ھے کہ مریض چھینکین اور جمائیان بہت زیادہ آئین گی اب جدید تشریح کرتے ھین آپ جانتے ھین سیاہ رنگ سودا کی زیادتی سے پیدا ھوتا ھے اب وہ اعضاء جہان سوداوی مادے کا اجتماع ھو جاۓ اور سودا کا تعلق عضلات قلب سے ھے اب سرخ ورم جسے آپ قدیم طب کی رو سے دموی ورم کہتے ھین اس کا تعلق بھی عضلات سے ھی ھے اور یہ ورم اس وقت پیدا ھوتی ھے جب قلب عضلات کی مشینی تحریک عضلاتی غدی پیدا ھوجاۓ چونکہ یہ ورم ایک حیاتی عضو دماغ کے بالکل قریب ھوئی ھے جس کی اذیت دماغ کے لئے ناقابل برداشت ھوتی ھے اب دوسری طرف دماغ کی طرف دوران خون بہت تیز ھو کر شدید تحلیل ھو جاتی ھے جس سے جلد موت واقع ھوجاتی ھے مریض کو جمائیان آنا عضلات کے تشنج کی علامت ھے اور چھینکین آنا دماغ کی طرف دوران خون بڑھ جانے کی علامت ھے آج کے لئے اتنا ھی کافی ھے اب آپ نے ان علامات کو غور سے پڑھنا ھے آپ کو نظر آۓ گا باقائدہ طور پہ بقراط نے جسمی تقسیم کی ھے یا تو علامات کا دائین سائیڈ ذکر کیا ھے یا بائین سائیڈ ذکر کیا ھے اسی طرح اوپر نیچے بھی تقسیم کررکھی ھے بے شک ان علماۓ طب کے پاس سہولیات کا فقدان تھا لیکن علم موجود تھا جب تک علم یونان مین تھا اسے بہت عروج دیا گیا پھر جب مسلمانون کے ھاتھ آیا تو شروع مین بہت عروج ملا پھر جب مسلمان شراب شباب اور کباب مین ڈوب کر اقتدار کی جنگ مین لڑا اور آپس کی ان جنگون نے زوال کا دروازہ کھولا اور چنگیز آندھی اور طوفان کی طرح آیا اور بغدار کے کتب خانے دریا برد کردیے وہ دن ھے اور یہ دن ھے حالات آپ کے سامنے ھین کسی بھی علمی میدان مین مسلمانون نے عروج حاصل نہین کیا اب یہ بحث میرے مضمون کا حصہ نہین ھے نہین تو بہت کچھ لکھ دیتا اللہ تعالی ھمارے حال پہ رحم فرمائے نیک تمناؤن کے ساتھ اجازت محمود بھٹہ
اب ایک آخری بات یاد آگئی وہ کر ھی لون تو بہتر ھے
بہت سے لوگ پوسٹ چوری کرکے پھر اپنے پیج یا گروپ مین اپنے نام کے ساتھ لگاتے ھین مجھے کوئی نہ کوئی دوست اس بارے مین بتا ھی دیتا ھے لیکن انہین مین کہتا کچھ بھی نہین اب ان کے لئے ایک بات پریشانی والی بننے والی ھے اس مضمون کا آگے چل کر بہت سا حصہ مجھے اپنے ھاتھون سے نقشے بنا کر پھر تصویر بنا کر سمجھانا پڑے گا اب اس کے بغیر یہ ممکن ھی نہین مضمون مکمل کر سکون اور آپ کی وجہ سے مین ان نقشون پہ اپنا نام لازما لکھون گا اب آپ کو پریشانی بنے گی اس لئے بہتر یہی ھے جیسے دوسرے بہت سے دوست میرا مضمون شیئر کرلیتے ھین یا میرے ھی نام سے لگاتے ھین آپ بھی یا تو یہی طریقہ اختیار کرین اور گناہ سے بھی بچ جائین گے اور علم بھی پھیل جاۓ گا یا چوری کا کوئی طریقہ سوچ لین یا چوری چھوڑ دین آپ کو یہ بھی بتا دون میرا لکھنے کا مخصوص انداز ھے جسے اپنانا بہت ھی مشکل کام ھے ھر شخص کی تحریر اسی طرح پہچانی جا سکتی ھے جب آپ لگاتے ھین تو لوگ پھر بھی انداز تحریر سے پہچان لیتے ھین اور جب آپ اپنے گروپ مین خود سے لکھتے ھین جیسے ۔۔۔۔۔ موجھے عردو پار موکمل ابور حصل ھے ۔۔۔ تو اس طرح کے انتہائی عمیق اور دقیق الفاظ اور فقرون سے لوگ آپ کی شخصیت پہچان جانتے ھین اس لئے بہتر سے بہتری کی طرف آئین

دواۓ بواسیر لازوال|Piles

 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 Piles |Treatment of Piles
۔۔۔۔۔ دواۓ بواسیر لازوال ۔۔۔۔۔۔۔
روزانہ کوئی نہ کوئی میسج یا کمنٹس یا پوسٹ بواسیر کے مسئلہ پہ آئی ھی ھوتی ھے بہت زیادہ اس موضوع یا مرض کہہ لین ا پہ نسخے لکھ چکا ھون جو سب کے سب سوفیصد رزلٹ والے ھین آج کا لکھا نسخہ دو سو فیصد رزلٹ دے گا لیجئے بنانا آپ نے ھے کھانا بھی آپ نے ھے مجھے بواسیری علامت کوئی بھی نہین ھے سب سے پہلے آپ بکائن کے تخم لے لین کلو دو کلو خواہ مرضی ھو تو پانچ دس کلو لے لین ان کو کسی بڑے تسلے مین رکھ کر جلا لین اور یہ بات یاد رکھین راکھ سفید کرنی ھے اگر راکھ سیاہ ھے تو تسلے کے نیچے آگ جلا دین جس سے راکھ دوبارہ کوئلہ کی طرح ھو جاۓ گی جیسے ھی راکھ دھک جاۓ آگ بند کردین اور انتظار کرین جب ٹھنڈی ھو جاۓ تو دیکھین راکھ سفید ھو گئی ھے یا نہین اگر نہین ھوئی تو دوبارہ یہی عمل دوھرائین یعنی پھر راکھ کو دہکا دین اب راکھ لازما سفید ھو جاۓ گی ھان یاد رھے اگر تخم بکائن جلنے کے بعد بھی ثابت رھین تو ڈنڈے کونڈےمین پیس کر باریک کر لین پھر جلا کر سفید کرین جلدی ھو جاۓ گی اب اس راکھ مین چھ گنا زیادہ پانی ڈالکر کسی چمچے سے ھلا دین دو دو گھنٹہ بعد اس پانی کو ھلاتے رھین پھر روئی کی مدد سے معروف طریقہ سے مقطر لے کر اس مقطر شدہ پانی کو آگ پہ رکھ کر پانی کو جلا دین اور نیچے آپ کا تخم بکائن کا نمک حاصل ھو جاۓ گا اب یہ نمک بکائن دس گرام رسونت بیس گرام ھلیلہ سیاہ کو بھی گھی مین بریان کر لین یہ بریان شدہ ھلیلہ سیاہ بیس گرام اب تینون دواؤن کو باریک پیس لین خواہ بڑے کیپسول بھر لین یا سفوف ھی رکھ لین یہ آپ کی مرضی ھو گی بس دوا اتنی ھی کھانی ھے جتنی کیپسول بڑے سائز مین آجاتی ھے تین وقت کھا لین ھمراہ خمیرہ گاؤزبان کے ساتھ اس دوا سے مسون سے خون آنا بھی بند ھو جاۓ گا اور مسے کا ورم اتر کر نام ونشان مٹ جاۓ گا اب بے شک آپ اسے یہ کہہ لین مسے جھڑ گئے یا جاتے رھے اب بہت سے لوگ یہ سوال داغ دیتے ھین کتنے دن دوا کھانی ھے تو دوستو جب مرض ٹھیک ھو جاۓ تو چھوڑ دین یہی کوئی پندرہ سے بیس روز ھی کھانے سے اب اس سے اگلا سوال یہ آتاھے کہ یہ دوا کہان سے تیار ملے گی خود سے دوا کبھی بھی تیار نہ کیا کرین کسی بھی طبیب سے جو آپ کے قریب رھتا ھے تسلی سے پاس بیٹھ کر تیار کروا لین یا پھر گروپ مین آپ کے بے شمار جاننے والے آپ کی قریب رھنے والے حکیم بھی ھین ان سے مدد لے لین بہرحال دوا کھائین اور مصیبت اپنی دور کرین پریشان نہین ھونا بے شک دوا بے ضرر ھے لیکن جس کا کام اسی کو ساجھے ۔۔۔۔جزاک اللہ