Monday, August 13, 2018

تشخیص امراض ومزاج 18

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔تشخیص امراض ومزاج ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قسط نمبر 18۔۔۔۔۔
آج مضمون کا وہ حصہ شروع ھے جو بہت ھی اھم ھے اسے بڑے غور سے بار بار پڑھین اور سمجھین اب مضمون مین مسلسل بہت سے نکات کا انکشاف ھو گا یہی باتین سمجھنے کے لئے ایک حکیم زندگی بھر کوشش کرتا رھتا ھے سمجھ پھر بھی نہین آتی بعض لوگون مین خداداد صلاحیت ھوتی ھے وہ بات کو فورا سمجھ لیتے ھین یا پھر یون کہہ لین ان پہ اللہ تعالی کا خاص فضل وکرم ھوتا ھے انہین سمجھ آجاتی ھے بعض لوگ پوری زندگی سمجھتے رھتے ھین لیکن بات سمجھنا ان کے بس کی بات نہین ھوتی مین کوشش کرون گا کہ آپ کو سمجھا سکون آگے آپ کے مقدر ھین کہ بات سمجھ سکے یا نہین سمجھ سکے خیر آئیے پہلا سبق بتاتا ھون سب سے پہلی بات جو سمجھنے والی ھے وہ ھے مزاج اور خلط مین فرق سمجھنے والی بات
خلط ۔۔۔آسان الفاط مین تو بات کچھ یون ھے حقیقت مین دونون لفظ ایک ھی ھین لیکن اصطلاح مین علیحدہ علیحدہ استعمال ھوتے ھین خلط جمع اخلاط یعنی جن سے انسان تخلیق ھوا وہ مادے ھین قدیم طب مین ان کی تعداد چار سمجھی جاتی ھے اور یہ وہ مادے ھین جن کی مقدار کم یا زیادہ ھے یعنی یہ برابر مقدار مین جسم انسانی مین موجود نہین ھین ان مین کوئی مادہ زیادہ مقدار مین ھے تو کوئی کم مقدار مین ھے آپ کو بتا رھا تھا چار مادے جنہین طب قدیم تسلیم کرتی ھے کہ ان سے انسان تخلیق ھوا ھے
آگ
ھوا
مٹی
پانی
یہ سب نظریات اس دور کے ھین جب ھمارے پاس تجزیہ اور تجربہ کرنے کے لئے وسیع ذرائع نہین تھے جتنے اس وقت ھین اب ھم آگ ۔۔ھوا۔۔ مٹی ۔۔پانی ۔۔کا با آسانی تجزیہ کر سکتے ھین اب ھم سب سے پہلے مٹی کو لیتے ھین
مٹی۔۔ جتنے بھی نباتات معدنیات ھین خود ھی سوچ لین سب ھی مٹی سے ھین نا؟
کیا آپ سمجھتے ھین جس انسان کو اللہ تعالی نے اشرف المخلوقات بنایا ھے کیا کسی ندی کنارے سے یا عام ھی مٹی لے کر بنا دیا؟ نہین قطعی نہین بلکہ اللہ ﷻ نے پوری کائینات جس جس ذرے سے تخلیق کی ھر اس ذرے کا ذرہ انسانی تخلیق مین لگایا یعنی جتنی کائینات پوری ھے اتنی کائینات ایک انسانی جسم کے اندر بھی موجود ھے ایک بات اچھی طرح سمجھ لین اس وقت تک دنیا مین کوئی بھی سائینسدان ڈاکٹر یا طبیب یہ دعوہ نہین کرسکتا کہ اس نے پورے انسانی جسم مین لگے تمام نظامون کو سمجھ لیا ھے قطعی نہین بلکہ یہ سمجھ لین کچھ نظامات کے بارے مین اللہ تعالی نے نسان کو علم دے دیا ھے بہت کچھ کے بارے مین ابھی تک کسی کو بھی پتہ نہین ھے یہان تک کہ ایک سیل کی پوری تشریح ابھی تک ممکن نہین ھو سکی آج تک معلومہ جتنے بھی ایلیمنٹ یا عنصر جو انسانی جسم کے اندر پاۓ گئے ھین ان کی تعداد غالبا ایک سو بارہ ھے یا ممکن ھے کچھ زیادہ ھو چکے ھون یہ سب مٹی کی شکل ھین ان سب کو آپ مٹی کہہ سکتے ھین میری بات کرنے کا مقصد یہ ھے کہ آپ کو دلائل سے بتا سکون کہ مٹی ایک مفرد چیز کا نام نہین ھے بلکہ مرکب ھے اسی طرح ھوا کے بارے مین بھی آپ جانتے ھی ھین کہ وہ بھی مرکب ھے جو انسانی جسم مین موجود ھے اور کچھ نہین تو دو کا تو یقین آپ کو ھے ھی ایک آکسیجن دوسری کاربن ڈائی آکسائیڈ جس مین آپ آکسیجن کو زندگی سمجھتے ھین اپنی غذا سمجھتے ھین جس کے بغیر آپ پانچ منٹ بھی زندہ نہین رہ سکتے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو آپ فضلہ یا موت سمجھ لین کیا آپ جانتے ھین ایٹم بم سےلوگ کیسے مرتے ھین نہین جانتے تو سمجھین۔۔ ایٹم بم سے موت ھونے کا جو سب سے اھم عمل ھے وہ ھے فضاء مین سے آکسیجن کا ختم کرنا اس کے علاوہ کچھ بھی نہین باقی تمام عمل آکسیجن کے ختم ھونے سے پیدا ھوتے ھین ایٹم بم جب پھٹتا ھے تو بہت وسیع رقبے مین یکلخت آکسیجن کو جلا کر ختم کردیتا ھے جس سے آگ کا ایک بہت بڑا گولا بنتا ھے اب کچھ لوگ آکسیجن کی کمی سے کچھ اس آگ سے باقی عمارتین اور لوگ جب فضا مین بہت بڑے حصہ مین آکسجن جل جانے سے خلا بنتا ھے جسے بیرونی ھوا پُر کرنے کے لئے تیزی سے اندر داخل ھوتی ھے اب اس سے دھماکہ بھی پیدا ھوتا ھے باقی ھوا کے پریشر سے عمارتین گر جاتی ھین تابکاری کا عمل بعد مین ھوتا ھے جس سے باقی مانندہ لوگ بھی جاتے رھتے ھین میرا مقصد یہ تھا ھوا بھی مرکب ھے جو انسان کی ضرورت ھے اب سانس لیتے وقت صرف آکسیجن ھی انسانی جسم مین نہین جاتی کچھ اور بھی گیسین جاتی ھین پانی کی تفصیل تو ایک چھوٹا بچہ بھی جانتا ھے H2O یعنی دو گیسون کے ملاپ سے پانی بن جاتا ھے یہ بھی ایک مرکب ھے ان تشریحات کا جو مقصد ھے وہ یہ ھے تخلیق مین بظاھر ھمین چند ایک اشیاء ھی نظر آتین ھین جبکہ ایسی بات نہین انسانی جسم ایک بہت ھی بڑی تخلیق ھے اور بے شمار اجزاء کا مرکب ھے جسے جدید نظریات نے بہت سوچ سمجھ کر تین حصون مین بانٹ دیا ھے جن مین ایک حصہ بلغم کا ھے ھر رطوبت رکھنے والا مادہ بلغم سے متعلق ھے اسے انسانی جسم مین سٹور کہہ لین یا رھنے کی جگہ یا گھر کہہ لین دماغ ھے باقی آئیندہ

No comments:

Post a Comment