Tuesday, March 5, 2019

چہرے کی جھریوں کا علاج

۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔چہرے کی جھریوں کا علاج۔۔۔
پہلی بات ۔۔آج الحمدللہ اپنے دوسرے گروپ جو صرف مفردات پہ مشتمل ھے جس کا نام بھی آپ کو کل بتایا تھا خزائن المفردات جسے غلطی سے خزائین المفردات لکھا گیا ھے خیر یہ غلطی جلد دور ھو جائے گی آج الحمدللہ اس گروپ میں پہلی تفصیلی پوسٹ مال کنگنی کے بارے میں لکھی ھے دوست دیکھ سکتے ھیں اور گروپ جوائن کرسکتے ھیں اب بات کرتے ھیں موجودگی پوسٹ کے بارے میں ۔۔
گندھک آملہ سار ۔ 50گرام ۔۔۔ان بجھ چونا 10گرام ۔۔پانی دو کلو
گندھک کو باریک پیس کر ان بجھ چونا کو ساتھ ملا کر پانی میں ملا دیں اب رات بھر رکھ دیں صبح تک چونا پانی میں تحلیل ھو چکا ھو گا اب کسی دیگچی میں ڈال کر چند جوش دیں دوسرے دن صبح متھرا ھوا پانی فلٹر کر لیں اور اسے بوتل میں محفوظ کر لیں بس دوا تیار ھے
مقدار خوراک 4تا8قطرے صبح شام پلا دیں مزاج کے اعتبار سے غدی اعصابی ھے بڑھاپے سے قبل جسم اور چہرے پہ جھریاں بن جانے کے لئے انتہائی اعلی دوا ھے

Sunday, March 3, 2019

توجہ طلب بات

۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔ توجہ طلب بات ۔۔۔۔۔۔۔
ھمارے ملک کا بلکہ شعبہ طب کا سب سے بڑا المیہ یہ ھے کہ پنسارسے ادویات لیتے وقت بندہ پریشان ھو جاتا ھے یقین کرنا مشکل ھو جاتا ھے کہ دوا یعنی جڑی بوٹی جو لے رھا ھوں آیا یہ درست ھے یا زائد المعیاد ھو چکی ھے آپ کچھ بھی یقین سے نہیں کہہ سکتے جبکہ اصل حقیقت یہ ھے کہ کثیر تعداد میں ادویات کو جڑی بوٹی کی شکل میں ھیں۔۔ کی مدت استعمال ایک سال تک ھوتی ھے اور بہت کم مفردات کی مدت استعمال دو سال تک ھوتی ھے کچھ کی پانچ سال تک ھے اب افیون کی مدت استعمال 45سال تک ھے اور شہد ھزار سال تک بھی خراب نہیں ھوتی یہ تجربہ اھرام مصر سے نکلنے والی شہد پہ ھو چکا ھے خیر میرا موضوع مقصود کچھ اور ھے کل میں نے پوسٹ اپنی ضروت کی لگائی تھی جس میں شہد کی طلب اور کریر کے پھول تھے آج اس بارے میں بہت سوچا تو ایک لائحہ عمل ذھن میں بنایا کہ کیوں نہ ھم پاکستان میں ملنے والی جڑی بوٹیوں کی ایک فہرست ترتیب دیں کل کچھ دوستوں نے کمنٹس میں مختلف جڑی بوٹیوں کا ذکر کیا جو ان کے علاقہ میں پیدا ھوتی ھیں اب بہت سی بوٹیاں مختلف علاقوں میں ایسی بھی پیدا ھوتی ھیں جن کے بارے میں مقامی حضرات قطعی نہیں جانتے اگر ان کو تصاویر دکھائیں تو فورا پکار اٹھیں گے کہ یہ تو ھمارے علاقہ میں وافر مقدار میں ھوتی ھے میں چاھتا ھوں ایسی تازہ ادویات اور صاف ستھری ادویات حاصل کی جائیں اور ان کو استعمال میں لایا جائے تاکہ رزلٹ بھی بہتر ملے اس کے لئے ایک لائحہ عمل تیار کیا جائے جس میں گروپ ممبران کے بھی مشورے مطلوب ھیں حکماء حضرات اس سلسلے میں مشورہ دیں
ایک آخری بات کل کی پوسٹ پہ بھی کمنٹس میں ایک صاحب نے اپنا فون نمبر دیا ھوا تھا اب یہ غلطی نہ کریں آپ کے پاس انباکس موجود ھے وھان جا کر ایک دوسرے سے نمبر لیا کریں بہت نوازش ھو گی نئے آنے والے گروپ ممبران لازماً گروپ رولز پڑھیں دیگرے کوشش ھو گی کل ایک فہرست ایسی ادویات کی لکھی جائے جو ھمارے ملک میں میسر ھین اب ان کی تصاویر پہچان کے لئے جو پھول پتے شاخ جڑ پہ مشتمل ھو یہ لگانے کے لئے بھی کچھ دوستوں کی مدد چاھیے جو ان کا نام بھی لکھ سکیں ساتھ ! وہ فہرست جاری ھونے کے بعد تصاویر بشکل پوسٹ لگائیں

Saturday, March 2, 2019

حب منقٰی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔ حب منقٰی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گندھک آملہ سار 50گرام
سیماب مصفی10گرام
پہلے ان دونوں کی کجلی تیار کریں پھر
مغز جمالگوٹہ 20گرام
تارا میرا 40گرام
اب جمالگوٹہ کا مغز نکال کر اسے کھرل کریں جب ویزلین کی طرح بن جائے تو اس میں پہلے سے تیار شدہ کجلی شامل کر لیں اور پھر تارا میرا کو بھی پیس کر اس میں شامل کر لیں اب دانہ مسور برابر گولیاں بنا لیں
اب مقدار خوراک ایک گولی بطور مقوی دیں
دو گولی بطور ملین دیں
تین تا چار گولی بطور مسہل دیں
مزاج غدی عضلاتی ھے
مندرجہ ذیل امراض میں نہایت ھی مفید ھے
امراض دوران خون اور فساد خون
امراض تنفس اور امراض مفاصل و امراض نظام انہظام
مجلہ امراض جلد و امراض تناسل مردانہ میں بہترین دوا ھے
اب طبیب حضرات خود ھی فیصلہ فرما لیں کب اور کیسے استعمال کرنی ھے کبھی طبی کتب میں لکھاحب مسکین نواز کا نسخہ ھر مطب کی زینت بنا یہ دوا بھی بالکل ایسے ھی ھے اب مطب کی زینت بنا لیں ایک اچھا طبیب تو اس سے بے شمار فائدے حاصل کرسکتا ھے یہ پوسٹ حکماء کے لئے ھے

توجہ کرین

🌕🌕🌕🌕🌕توجہ کرین🌕🌕🌕🌕🌕
پہلی بات جن جن علاقوں سے قلمی شورہ نکلتا ھے وہ آگاہ کریں
مجھے کریر کے پھول کی ضرورت ھےچند روز تک یہ کھلنے والے ھیں کیا کوئی دوست مجھے فراھم کرسکتا ھے
چھوٹا شہد تسلی بخش کون کون میسر کر سکتا ھے فارمی نہ ھو بلکہ جنگلی ھو یاد رھے میری ضروت کثیر مقدار میں ھے
آخری بات کس کس دوست کے ھاں کونسی کونسی بوٹی پیدا ھوتی ھے بہار کے موسم میں
کمنٹس میں لکھیں رابطہ میں خود ھی کرلوں گا جزاک اللہ

Friday, March 1, 2019

کشتہ تانبہ سفید|kushta tanba sufaid

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔ کشتہ تانبہ سفید ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Kushta tanba safeed |copper
بہت عرصہ گزر چکا ھے کشتہ جات پہ پوسٹ لکھے ھوئے آج دلیل آئی تو لکھ بھی دی بلکہ چند روز قبل کسی نے گروپ میں سوال بھی لکھا تھا کہ تانبہ پہ پوسٹ لکھیں عرصہ پہلے میں نے ایک پوسٹ تانبہ پہ لکھی تھی جس میں مین نے بتایا تھا کہ لاجونتی بوٹی کا ایک چھٹانک نگدہ اور گلگل میں سوراخ کر کے اس میں آدھا نگدہ رکھ کر تانبہ مصفی رکھ کر باقی ماندہ نگدہ رکھ کر اسے گل حکمت کریں اور بیس سیر جڑ کیکر کی آگ دیں کشتہ برنگ سفید برآمد ھو گا چند روز پہلے ایک دوست تنویر صاحب ملکوال سے آئے ھوئے تھے گپ شپ ھو رھی تھی انہوں نے ایک بوٹی کا ذکر کیا جس میں تانبہ برنگ سفید پھول کر کشتہ ھوجاتا ھے یہ ان کا بارھا دفعہ کا تجربہ ھے انتہائی بہترین اور نفیس کشتہ بنتا ھے اب میں ان کی اجازت کے بغیر اسے تو نہیں لکھ سکتا لیکن ایک تجربہ میرا بھی ھے اسے ضرور لکھے دیتا ھوں بالائی علاقہ میں ایک بوٹی ھوتی ھے جس کے ساتھ 🍆 بینگن کی طرح کا پھل لگتا ھے اور پتے بھی بالکل بینگن جسے ھی ھوتے ھیں اب سنیاسی لوگ اسے جمالگوٹہ کا پودہ کہتے ھیں جبکہ حقیقت میں یہ جنگلی بینگن ھوتا ھے اسے بعض طبی کتب میں بڑی مہوکڑی کے نام سے بھی لکھتے ھیں اب اس کا ایک یا دو پتے لے کر ان مین تانبہ کا پیسہ لیپٹ لیں یا پھر اس پتہ کو منہ میں ڈال کر پیسٹ سا بنا کر تانبہ کے اوپر لگا دیں اب اسے بے شک چھٹانک بھر آگ دیں یا تازہ حقہ کی آگ میں رکھ دیں پانچ منٹ میں برنگ سفید ھاتھ سے پس جانے والا کشتہ ھو جائے گا

Thursday, February 28, 2019

ناف کا ٹلنا اور علاج

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔ ناف کا ٹلنا اور علاج ۔۔۔۔۔۔
یہ سوال بہت دفعہ گروپ میں آچکا ھے جہاں تک مجھے یاد ھے بہت عرصہ پہلے بھی اس پہ پوسٹ لکھ چکا ھوں خیر دوبارہ لکھتے ھیں عضلاتی اعصابی تحریک پیدا ھونے سے یہ عارضہ پیدا ھوتا ھے آج تک مجھے جو سمجھ آئی ھے عضلاتی اعصابی غذائیں کھانے کے شوقین حضرات تو لازماً اس مرض کا شکار ھوتے ھیں لیکن وہ لوگ جو نہار منہ ٹھنڈا پانی پینے یا پھر کھانے کے ساتھ بھی انتہائی ٹھنڈا پانی پینے یا ساتھ کوک سپرائیٹ یا کوئی بھی سافٹ ڈرنک پینے والے اس کا شکار ھوتے ھیں دو دن پہلے ایک شخص نے پوسٹ بھیجی ھوئی تھی بار بار ناف کا ٹلنا کیا وجوہات ھیں ایسے سوال سے مجھے بڑی حیرت ھوتی ھے ایسا مریض اس بات پہ توجہ کیون نہیں دیتا کہ میں کیا کھاتا ھوں تو مجھے یہ علامات پیدا ھوتی ھے ایسا غور کرنے سے اسباب کا پتہ چل جاتا ھے
یہ عارضہ حقیقت میں پورے بدن کو متاثر کرتا ھے تاھم اس کا اظہار مقامی اعتبار سے پیٹ پہ ھوتا ھے
اس مرض میں آنتوں میں عضلاتی سکیڑ پیدا ھو کر ھضم کا عمل متاثر ھوتا ھے غذا جزو بدن نہیں بنتی اس لئے مسلسل کمزوری لاحق ھو جاتی ھے پورے بدن کے عضلات خصوصاًmuscular joints سکڑ جاتے ھیں ھر وقت تھکاوٹ اور درد کی کیفیت ھوتی ھے بھوک نہیں لگتی اگر بھوک لگ بھی جائے تو کھایا پیا نہیں جاتا قبض ھو جاتی ھے یا اچانک پیٹ خراب ھو جاتا ھے بعض اوقات مروڑ سے پاخانہ آیا کرتا ھے مگر تھوڑا تھوڑا آتا ھے ۔ پیشاب بھی عضلاتی ھوتا ھے اور کھل کر نہیں آتا
اگر آنتوں کی یہ عضلاتی سوزش کافی عرصہ رھے تو پھر ارد گرد کی شریانیں بھی متاثر ھو جایا کرتی ھیں خاص طور پر شریان بطنی جس کا تعلق براہ راست دل سے ھوتا ھے۔ یہ بھی حرکت قلب کے ساتھ ساتھ دھڑکتی ھے اور پیٹ پہ ھاتھ رکھیں تو اس کی دھڑکن کو اچھی طرح محسوس کیا جا سکتا ھے۔ اب مریض کہتا ھے یا تو میرا دل پیٹ میں اتر گیا ھے یا پھر دو دل دھڑک رھے ھیں شریان میں رکاوٹ کی وجہ سے خون کی سپلائی متاثر ھوتی ھے ایسا محسوس ھوتا ھے کہ پیٹ اور ناف کے عضلاتی انسجہ ایک بنیادی عضلاتی مرکز ھیں یاد رکھیں یہ ایک انتہائی عسر العلاج مرض ھے جو مریض اور معالج دونوں کو تنگ کرتی ھے مریض اکثر پتلے جسم کا ھوتا ھے اس کی نبض مشرف ھوتی ھے چار انگلیوں سے بھی تجاوز کر جاتی ھے ۔ اور ریاح سے پر ھوتی ھے اب نبض سے سوزشی اور ورمی کیفیت بالکل واضح ھوتی ھے آنتوں سے ریاح کی گڑگڑاہٹ واضح سنائی دیتی ھے ۔ ٹانگوں میں درد اور تھکاوٹ ھوتی ھے خصوصاً عقب ران اور ساقین کے پچھلے مسلز میں خوب درد ھوتا ھے ۔
ھاں یاد رھے اس میں کچھ اور لوگ بھی شکار ھوتے ھیں وہ لوگ جو محرقہ بطنی کا شکار ھو چکے ھوں اور ان کا علاج غلط ھوا ھو وہ لازماً اس مرض ناف کا پھر شکار بنتے ھیں اور زندگی بھر پھر مریض رھتے ھیں اور وہ لوگ جو ماھر مشت زن ھوں یا لواطت کے شکار ھوں یاد رھے یہ مرض حقیقت میں حرارت کی کمی کے سبب سے ھوا کرتی ھے لیکن مریض کچھ ایسا محسوس کرتا ھے جیسے میرے بدن میں حرارت بڑھ چکی ھے اس لئے بار بار وھی غلطی دھراتا ھے یعنی ٹھنڈی اشیاء کا طلب گار ھوتا ھے یاد رکھیں ٹھنڈا پانی خالی پیٹ پینا سرد غذاؤں کا کھانا اس مرض کا سب سے بڑا سبب ھے اب علاج کے لئے تریاق تبخیر جس کا نسخہ بار بار لکھا جا چکا ھے وہ دیں اور ساتھ جوارش جالینوس کھلائیں اور تیزپات پودینہ اجوائن دیسی کرفس ھر ایک ماشہ ماشہ کا قہوہ بنا کر صبح شام پلا دیں اور یہ بات بھی یاد رکھیں مریض کو دیسی گھی کھلائیں اب جونہی حرارت پیدا ھو گی اور خشکی ختم ھو گی تو یقیناً مرض بھی جاتی رھے گی

Tuesday, February 26, 2019

تحقیقات جدید طب اور قدیم طب

۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔ تحقیقات جدید طب اور قدیم طب ۔۔۔۔۔۔
آج موسم پھر سے ٹھنڈا ھو گیا ھے کل دوپہر ڈھلے سے بارش شروع ھو کر شام تک رھی اور آج نماز فجر کے بعد موضوع بھی قدیم طب اور جدید سائنس کی تحقیقات کا تقابلی جائزہ لینے سے شروع کیا ھے کبھی کبھی ذھن اس طرف ضرور جاتا ھے کہ کیا جدید تحقیق درست ھے یا قدیم طب کی باتیں ھی درست ھیں درمیان میں قدرت کا بھی خیال ذھن میں رھتا ھے پھر بے شمار سوالات اٹھتے ھیں چلیے آج فیصلہ اس مختصر پوسٹ میں آپ سے کرواتے ھیں جدید سائنس کسی بھی نباتات سے اجزائے مؤثرہ الگ کرکے استعمال میں لے آتی ھے جبکہ قدیم سائنس یا طب اجزائے مؤثرہ الگ نہیں کرتی بلکہ ایک نبات کا مکمل استعمال ھی بہتر خیال کرتی ھے
اب تھوڑا سا تعارف یا تاریخ اجزائے مؤثرہ کے الگ کرنے کے بارے میں بھی آپ کو بتا دوں یاد رھے طب یونانی اور ایلوپیتھی میں اختلاف ادویہ کا ایک سب سے بڑا سبب یہ بھی ھے
یورپ میں اجزائے مؤثرہ کو الگ کرنے کا نظریہ اور طریقہ کار یا کیمسٹری کی بنیاد ڈاکٹر براکلیوس نے ڈالی اب یورپ کی اندھا دھند فریفتگی اس نظریہ Active Ingredients کو جب پیش کیا ۔ اس نظریے نے یورپ کے مادی ذہن کے سامنے تیز رفتاری کے نئے نئے راستے وا کیے درحقیقت سچ یہ تھا طب یونانی کے اطباء اور سائنسدان اس سے بخوبی آگاہ تھے لیکن وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ ایک مفرد دوا اپنی اصلی اور قدرتی حالت میں خاص کیفیت پیدا کرتی ھے اب ضروری نہیں کہ اجزائے مؤثرہ بھی ویسی کیفیت پیدا کرسکے
اب جدید کیمسٹری کسی جڑی بوٹی سے جن جن اجزاء کو فضول جان کر خارج کردیتی ھے وہ اکثر حالتوں میں ایک خاص مزاجی کیمیت کا موجب بنتی ھے یا اسی ھی نباتات کے مضر اثرات کو زائل کرنے یا اصلاح کرنے کا سبب بنتے ھیں جیسے بلادر ھے یہ مکمل حالت میں جتنا نفع بخش ھے صدیاں اس کے تجربات اور نفع کی گواہ ھیں ھاں اس کا ایک جزو جسم پہ شدید خارش اور سوزش پیدا کرتا ھے لیکن اس کے اندر ھی دوسرا جزو اسی خارش اور سوزش کا تریاق بھی ھے جو اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر ھی پیدا کردیا ھے اور یہ دونوں جزو اس ایک نبات کے اندر ھی رہ کر اس کے نفع کو برقرار رکھتے ھیں اور اس کے مضر اثرات کو بھی زائل رکھتے ھیں بشرطیکہ استعمال کرنے والا طبیب یا سائنسدان اسے مکمل سمجھتا تو ھو اسی طرح ایک اور بوٹی سوما کلپا ھے اسے کھانسی کے شربتوں میں ایلوپیتھی بہت زیادہ استعمال کرتی ھے یاد رھے کچھ عرصہ پہلے شاید آپ کو یاد آجائے ایک بہت بڑا وبال موت کی صورت میں اسی بوٹی کے ایک جوھر کی وجہ سے سامنے آیا تھا اب بات آگے بڑھاتے ھیں تو بات آپ کو سمجھ آجائے گی
سوما کلپا بوٹی سے ایلوپیتھی دو اجزائے مؤثرہ الگ الگ کرکے اپنے استعمال میں لاتی ھے جو کھانسی کے شربتوں میں ایلوپیتھی استعمال کرتی ھے اس میں ایک کا نام ایفیڈرین اور دوسرے کا نام سوڈو ایفیڈرین ھے خود ایلوپیتھی کہتی ھے کہ یہ دونوں اجزاء مؤثرہ بلڈ پریشر بڑھاتے ھیں لیکن اگر سوما کلپا کو اصل حالت میں بطور جوشاندہ استعمال کیا جائے تو کسی صورت بلڈ پریشر نہیں بڑھتا اب کیون نہیں بڑھتا اس کی وجہ بھی بیان کرتا ھوں اسی جڑی بوٹی سوما کلپا سے سائنسدانوں نے ایک تیسرا جزو مؤثرہ بھی الگ کیا ھے جس کا نام ایفی ڈی نین سے منسوب کیا گیا ھے اب اس کی سب سے بڑی خاصیت یہ ھے کہ یہ بلڈ پریشر کم کرتی ھے یعنی قدرت نے جو ایک سالم بوٹی سوما کلپا بنائی تو اس میں خاصیت کھانسی کو درست کرنے کی رکھی تو یہ کھانسی دور کرنی والے اجزاء بلڈ پریشر بڑھاتے کا بھی کام کرتے ھیں تو قدرت نے اس کا بھی سدباب کیا یعنی اس کے اندر بلڈ پریشر نارمل رکھنے کا یعنی مضر اثرات نہ ھونے دینے کا بھی جزو ساتھ رکھ کر ایک مکمل علاج کے لئے ایک نبات کو پیدا کردیا یعنی ایک مکمل مفردات قدرت کاملہ ھوئی جبکہ آپ نے جب بھی الگ کیا نقصانات ساتھ ھی لے آئے اب آپ فیصلہ کریں درست کون ھے؟
دوستو بے شمار مثالیں دی جا سکتی ھیں اب جانتے ھیں کہ جو کچھ فطرت میں ھوتا ھے اس کا مقابلہ مصنوعی حسن پیدا کرکے نہیں کیا جا سکتا

Monday, February 25, 2019

بھوک بہت زیادہ لگنے کے دو انداز

۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔ بھوک بہت زیادہ لگنے کے دو انداز۔۔۔۔۔۔
طبی کتب میں اس مرض کو دو علیحدہ علیحدہ ناموں سے واضح کیا گیا ھے لیکن وضاحت اس انداز میں لکھی ھے جسے عام طبیب کسی طور نہیں سمجھ سکتا!
پہلے ناموں کو لکھتے ھیں
ایک مرض کو جوع البقر کہتے ھیں یعنی گائے جیسی بھوک
جبکہ دوسری کو جوع الکلب کہتے ھیں یعنی کتے جیسی بھوک
لفظ جوع کے معنی بھوک کے ھیں جبکہ بقر گائے کو اور کلب کتے کو کہتے ھیں
اب اگلی وضاحت کرتے ھیں
ایک بھوک وہ ھوتی ھے جب لگتی ھے تو بندہ بے صبرا ھو جاتا ھے اور اس کا احساس اتنا شدید ھوتا ھے کہ بندہ بے حال ھو جاتا ھے اس بھوک کو انگریزی میں Scratching Hungerکہتے ھیں یعنی ایسے محسوس ھوتا ھے جیسے معدہ کے پرت کھرچے جا رھے ھیں اب اس بات کو یاد رکھیں یہ کیفیت اس وقت پیدا ھوتی ھے جب سودا اور ترشی کی کثرت ھو اور وہ اپنی تیزی اور تندی سے خالی معدہ کی جھلیوں پر اثرانداز ھوتی ھے تو شدید احساس پیدا ھوتا ھے بھوک شدید کے احساس کو مٹانے کے لیئے کھایا بھی زیادہ جاتا ھے یاد رکھیں یہ سب عضلاتی اعصابی تحریک کا کمال ھوتا ھے اسے جوع الکلب کہتے ہیں
علاج کے لیے بڑا ھی آسان کام ھے آپ مریض کے جسم میں عضلاتی غدی اور پھر غدی عضلاتی تحریک پیدا کریں گے حرارت بدن بھی بڑھے گی تو مرض جاتی رھے گی اس کے لئے پہلے سے تریاق تبخیر اور تریاق معدہ بہترین دوائیں ھیں ساتھ لونگ جاوتری دارچینی کا قہوہ بنا کر دیں یا پھر تیز پات پودینہ اجوائن دیسی اور کرفس کا جوشاندہ دیں جوارش جالینوس کھلائیں دوالمسک جواھردار دیں انشاء اللہ تعالیٰ مرض جاتی رھے گی
اب بات کرتے ھیں جوع البقر مرض کی
یہ بھوک معدہ میں غدی سوزش کی وجہ سے پیدا ھوتی ھے اب تھوڑی ھی مقدار میں کھا لینے سے بھوک مٹ جایا کرتی ھے چونکہ اس میں صفرا کی کثرت ھوتی ھے اس لئے جلد ھی کھایا تحلیل ھو جاتا ھے اور دوبارہ سے بھوک لگ جایا کرتی ھے اب پھر تھوڑا کھانا کھانے سے بھوک مٹ جاتی ھے تھوڑی ھی دیر بعد پھر لگ جاتی ھے یعنی تھوڑا تھوڑا کر کے بندہ دن میں کئی بار کھاتا ھے یعنی بالکل گائے جیسی بھوک لگتی ھے وہ بھی تو اسی طرح کرتی ھے اب دوستو یہ غدی اعصابی تحریک ھوتی ھے اور اسے جوع البقر مرض کا نام دیا گیا ھے اب صاف ظاھر ھے آپ اعصابی غدی تحریک سے اعصابی عضلاتی تحریک پیدا کریں گے تو یہ مرض جاتی رھے گی آپ قبض کی صورت میں ملینات دیں باقی شدید محرک ادویات دے لیں ھضم نمبر چھ دیں یہ سب نسخہ جات پہلے سے گروپ مطب کامل میں موجود ھیں یعنی لکھے جا چکے ھیں اب ایک نقطہ بھی بتا رھا ھوں اور ایک تیسری مرض کی بھی نشاندھی کررھا ھوں ایک مرض ھوا کرتی ھے سقوط اشتہاء یعنی بھوک کا بالکل ھی نہ لگنا یا بھوک کا احساس ھی نہیں ھوتا کہ آیا بھوک لگی بھی ھے یا نہیں معدہ خالی ھے یا کچھ خوراک معدہ میں موجود ھے یعنی احساس کا بطلان ھوجاتا ھے یہ سوال کمنٹس میں ضرور آنا تھا تو دوستو یاد رکھیں اعصابی تحریک میں سقوط اشتہاء کا مرض لاحق ھوا کرتا ھے اب سیدھی سی بات ھے آپ عضلاتی تحریک پیدا کریں گے یعنی سودا اور ترشی جسم میں بڑھائیں گے تو بھوک لگنے لگے گی وھی لکڑ ھضم پتھر ھضم سنڈھ کلو نمک سیاہ نمک سفید ھر ایک پاؤ پاؤ قرنفل،فلفل دراز،گندھک آملہ سار ھر ایک بیس بیس گرام، الائچی خورد بھی بیس گرام اب سب دوائیں پیس کر لیمن کے پانی میں تر کریں اور پھر خشک کریں پھر لیمن کے پانی میں تر خشک کریں یہ عمل سات بار کریں اور پھر گولیاں نخودی بنا کر ایک تا چار گولی تک غذا کے بعد استعمال کریں اب گندھک کو مدبر کر لیں تو بہتر نہ کریں تو حرج نہیں ھے میرا خیال ھے اب سوالوں کی گنجائش نہیں رھی

Saturday, February 23, 2019

جوارش پیاز زعفرانی

۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔ جوارش پیاز زعفرانی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اجزاء اور نام سے بہت کچھ علم ھو جاتا ھے آج فوائد نہیں لکھوں گا یہ آج گروپ کے حکماء نے بتانا ھے مزاج اور کب اور کہاں اور کتنا فایدہ ھو گا
زعفران ،لونگ ، جاوتری ، عقرقرحا ، دارچینی ، سنڈھ ، ھر ایک تولہ شکر دس تولہ آب پیاز حسب ضرورت
تمام ادویات کا سفوف بنا کر شکر میں پیاز کا پانی ڈالیں اور قوام پہ لے آئیں اور ادویات شامل کرکے جوارش بنا لیں مذید بہتر کرنے کے لئے ورق طلا پانچ عدد بڑے سائز شامل کر لیں
مقدار خوراک ۔۔۔ تین تا چھ ماشہ ھمراہ دودھ
صاف ظاھر ھے دوا محرک ھے مقوی باہ ھے حرارت پیدا کرنے میں بے مثل ھے لذت بھی شدید اور انتشار بھی شدید دوا مزاج کے اعتبار سے کیا ھے یہ تجویز حکماء کردیں

Wednesday, February 20, 2019

اونٹ کٹارا اور جگر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔ اونٹ کٹارا اور جگر ۔۔۔۔۔۔۔۔
دو دن پہلے کی میری پوسٹ جو ھیپاٹائٹس پہ تھی اس میں ایک سوال جگر کی اصلاح پہ بھی تھا بہت سوں نے ایک سوال یہ بھی کیا تھا کہ کیا یہ دوائیں جگر کے ھر مرض کو درست کریں گی اس سوال کا کئی دفعہ سامنا کرنا پڑتا ھے اور حیران ھوتا رھتا ھوں ھزار دفعہ ایک بات آپ بے شک سمجھا لیں لیکن اپنا سوال پھر بھی آتا رھے گا اب ایک بات یاد رھے پورے بدن میں جب بھی کوئی اعضاء بیمار ھوتا ھے تو اس کی بیماریاں کئی اقسام کی ھو سکتی ھیں اب ھر مرض علیحدہ علیحدہ مزاج میں آیا کرتی ھے یعنی ھر مرض ایک ھی خلط کے بگاڑ کا نتیجہ نہیں ھوتی جیسے بیماریاں بہت سے تحقیق شدہ ھیں اس طرح علاج بھی ھر مرض کا الگ الگ ھوتا ھے اب ایک ھی دوا سے ھر بیماری کا علاج ناممکن بات ھے ھاں ایک بات ممکن ھے ایک دوا کافی امراض میں اپنی افادیت کے لحاظ سے کافی اچھی رھے لیکن ھوتا پھر بھی یہی ھے کہ اس مفرد دوا کے مزاج کے مطابق اس دور میں اس کی متعلقہ امراض کا شکار عام دنیا ھوتی ھے جس کی وجہ سے وہ دوا متبرک سمجھی جاتی ھے جیسے میری نظروں میں اس دور میں تین دواؤں کی بڑی اھمیت ھے بلکہ دوائیں تو کچھ اور بھی ھیں لیکن تین اھم نباتات ھین جن میں ایک اونٹ کٹارا ھے بلکہ اونٹ کٹارا اس وقت پوری دنیا میں ھر شہر میں باآسانی دستیاب ھوتا ھے ھربل اور نیچرل دوائیں جہاں بھی دستیاب ھیں وھاں اونٹ کٹارا لازماً دستیاب ھے اب کیوں دستیاب ھے اس کی وجہ بھی بتائے دیتا ھوں کچھ اسلامی ممالک کو چھوڑ کر پوری دنیا میں شراب پینے پہ تو پابندی نہیں ھے اب یہ الگ بات ھے کہ وھاں بھی کثیر تعداد میں لوگ موجود ھیں جو اس امرت کو نجس یا بدن کے لئے اپنی صحت کے لئے مضر سمجھتے ھیں اب جو لوگ اسے زندگی کا حصہ سمجھتے ھیں یا جن کا روانہ کا دھندا ھی اسے پینا ھے تو ان کے جسم میں ایک علامت پیدا ھوتی ھے جسے ھم اپنی زبان میں بادی کہہ سکتے ھیں جبکہ یورپین اسے( اوک) کا نام دیتے ھیں یہ جگر کا فعل خراب ھونے سے ھوا کرتی ھے یعنی ان کا جگر نہایت ھی سست ھو جایا کرتا ھے اپنا فعل سرانجام دینے سے انکاری ھو جاتا ھے بدن میں تعفن بدبو سستی خمیر کی زیادتی خارش جیسی علامات غذا کا ھضم ھونے سے انکار عام ھو جایا کرتا ھے جگر سکڑنا شروع ھو جاتا ھے اب سب علامات کو مٹانے کے لئے بھی ان کے پاس توڑ ھے ھفتہ دس روز بعد وہ ایک جوشاندہ یا چائے سمجھ لیں وہ ایک گلاس لازماً پیتے ھیں جبکہ روسی لوگ ھر تیسرے روز اسے پینا صحت کے لیے نہایت مفید سمجھتے ھیں اور یہ چائے اونٹ کٹارا کے پھول ھوتے ھیں جسے ھم اونٹ کٹارا یا اشتر خار یعنی اونٹوں کی مرغوب غذا سمجھتے ھیں انگریزی میں اسے ملک تھیسٹل کہتے ھیں اب یورپ نے اس نبات پہ مذید ایک قدم آگے بڑھایا اور اس سے ایک جزو الگ گیا جسے سیلی ماہرین کہتے ھیں اب یہ دوا ھیپاٹائٹس کی سب سے بہترین دوا تجویز ھوئی اب چائینا نے اس کا ایک جزو جسے وہ ھوواشو کہتے ھیں اسے جگر کے سکڑنے اور صلابت جگر وھیپاٹائی ٹس کا آخری علاج بتایا اب ایک دوا جو ٹیبلٹ کی صورت میں کافی ممالک میں بکتی رھی اسے ھیپاٹائٹس کا مکمل علاج سمجھا گیا دوستو یقین جانیں اس مین تخم کاسنی اور اونٹ کٹارا کا جوھر ھی تھا قدیم طبی کتب میں اونٹ کٹارا کو جگر میں انتہائی مفید دوا لکھا گیا اس کے ساتھ ساتھ اسے مقوی باہ تک لکھا گیا ھے کبھی آپ کی طرح مجھے بھی مقوی باہ دواؤں سے بڑی دلچسپی ھوا کرتی تھی جیسے آج کل آپ ھر روز سینہ کے اسرار اٹھا کر لے آتے ھیں بلکہ سینہ کے کسی اندرونی خانہ سے بڑی مشکل سے وہ راز نکال کر لکھتے ھیں مجھے بھی لا علمی کے زمانہ میں ایسی تحریروں میں بڑی کشش لگا کرتی تھی جب علم ھو گیا تو کھودا پہاڑ اور نکلا چوھا والی بات تھی اب مجھے علم ھے کہ قوت باہ کسے کہتے ھیں خیر چھوڑیں اس بات کو ھم بات کرتے تھے اونٹ کٹارا کی
تو دوستو اس کی جڑکا چھلکا واقعی مقوی باہ ھے اور مقوی بدن بھی ھے یعنی سیدھی سی بات ھے اب جگر کا فعل بگڑنے سے باہ کی جو علامات مرض پیدا ھوتی ھیں انہیں تیزی سے درستکرنے میں اسکی جڑ کا چھلکا نہایت ھی مفید ھے ھاں ایک اور بات بھی تجربہ سے گزری ھے جڑ کا چھلکا اور مغز ریٹھا ملا کر کیپسول بڑے سائز کے بھر لیں بواسیر کا ستیاناس کردیں گے بڑی تیزی سے بواسیر ختم ھوتی ھے اس کے پھول کا جوشاندہ میں نے خارش بدن میں آج تک خطا ھوتے نہیں دیکھا ھان ساتھ دھماسہ ضرور ملاتا ھوں یعنی دونوں دوائیں ماشہ ماشہ لے کر جوشاندہ بنا کر دو وقت پلا دیں جلدی کینسر تک مین مین استعمال کرچکا ھوں اور شفائی اثرات سوفیصد ھیں میں حکماء کو اس کے استعمال کا ایک بہترین طریقہ بھی بتائے دیتا ھوں آج کل اونٹ کٹارا وافر پیدا ھو چکا ھے چند روز پہلے مین نے فٹ بھر پودے دیکھے تھے کم سے کم اڑھائی تین فٹ تک ھونے دیں تب استعمال کریں کافی مقدار میں اکٹھا کرکے اس کا (رٌب)نکالیں اور اسے استعمال کریں یعنی عصارہ تیار کریں اب یہ مقدار میں بھی کم استعمال کرنا پڑے گا اور اثرات میں بھی تیز ھو گا میرا خیال ھے مضمون کافی ھو گیا ھے اجازت دیں دعاؤں میں یاد رکھیے گا محمود بھٹہ







Monday, February 18, 2019

ھیپاٹائیٹس اور اس کا علاج

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔ھیپاٹائیٹس اور اس کا علاج۔۔۔۔۔
میں کافی پوسٹین اس ھیپاٹائٹس پہ لکھ چکا ھوں پھر بھی کچھ عرصہ بعد کسی نہ کسی پوسٹ میں اس مرض پہ لکھنے کے بارے میں کہا جاتا ھے ھر نیا آنے والا قاری شاید یہ مطالبہ کرتا ھے جبکہ ھونا تو یہ چاھیے پہلے گروپ مطب کامل میں لکھی گئی میری تمام پوسٹین بغور پڑھیں جن کی تعداد سینکڑوں میں ھے بے شمار امراض پہ مکمل مضامین بمعہ علاج لکھ چکا ھوں اسی طرح ھیپاٹائٹس پہ بھی مضمون لکھ چکا ھوں مختصر عرض کردوں ھیپاٹائٹس صرف غدی سوزش ھوتی ھے جگر صلابت کی حالت میں چلا جاتا ھے سکڑ کر اصل حالت سے چھوٹا ھوجاتا ھے مرض کی شدت میں کینسر تک کی شکل اختیار کرلیتا ھے ایلوپیتھی میں اس کا علاج سوائے اس کے کہ وائرس کو سلا دیا جاتا ھے یعنی نیند کی حالت میں چلا جاتا ھے یعنی ایکٹو نہیں رھتا اب اس کے سوا کوئی علاج نہیں ھے جبکہ طب میں یہ علاج ھے کہ اسے جسم سے ھی باھر خارج کردیا جائے یعنی ایسی دوائیں استعمال کی جائیں جن سے یہ بدن سے نکل بھاگے جب یہ وائرس بدن میں موجود ھی نہیں رھے گا تو مرض کیسے رھے گا اب ایلوپیتھی میں اگر جگر بالکل ھی ناکارہ ھو جائے یعنی مکمل سکڑ کر اپنا فعل سرانجام دینے سے مکمل طور پر معذور ھو چکا ھو تو اس کا حل جگر کی تبدیلی ھی ھے یعنی ٹرانسپلانٹیشن ھی ھے الحمداللہ رب العالمین اب طب میں اس کا بھی علاج موجود ھے اب مجھے زیب تو نہیں دیتا کہ ایسی باتیں کروں پھر بھی آپ لوگوں کو حوالہ دینے حوصلہ دینے کے لئے دوچار روز پہلے کا ایک واقعہ تحریر میں لاتا ھوں ھمارے گروپ ممبر بھی ھیں ایک انتہائی معتبر شخصیت پیر مخدوم اویس علی چشتی صاحب سجادہ نشین پیر جہانیاں شریف ایک عالم دین بھی ھیں بہترین طبیب بھی ھیں اور گدی نشین بھی ھیں ان کے مریدین سندھ سے لے کر پنجاب میرے علاقہ تک موجود ھیں آج رات ھی ان سے ایک تفصیلی گفتگو کی نشست رھی میں ان سے گزارش کروں گا کہ وہ آپ کو اصل تمام صورتحال سے آگاہ کریں کبھی مین نے ھی ان کو ایک شربت کا نسخہ بتایا تھا جو جگر کے لئے اعلی مقام رکھتا ھے خاص کر ھیپاٹائٹس اور جگر کے سکڑ جانے کی حالت کے لئے بہت ھی اکسیری خواص کا حامل ھے اب اسی شربت کو سید علی اکبر صاحب آف نواب شاہ نے بہت زیادہ استعمال کرکے تجربات کیے ھیں رزلٹ سوفیصد ملا اب پیر مخدوم اویس علی چشتی صاحب سجادہ نشیں پیر جہانیاں شریف سے گزارش کروں گا کہ شربت کے استعمال سے مریض کی کیفیت اور ڈاکٹر حضرات کا فرمان لکھ دیں بشکل پوسٹ لکھ دیں ساتھ شربت کا نسخہ بھی اپنے دست مبارک سے لکھیں باقی ھیپاٹائٹس کا ایک بہترین علاج میں لکھے دیتا ھوں
تازہ برگ مدار پاؤ زرد چوب ڈیڑھ تولہ کا سفوف بنا کر ایک ایک پتہ کھرل کرنا شروع کردیں ( یاد رھے زرد چوب ھلدی کو کہتے ھیں)جب گولی بنانے کے قابل ھو جائے تو نخودی گولیاں بنا لیں دو دو گولی یا حسب ضرورت پانی سے دن میں تین بار دیں
ھلدی 5تولہ ریوند خطائی 5تولہ دونوں کا سفوف بنا لیں نصف تا ایک ماشہ ساتھ غدی اعصابی اکسیر ایک رتی دن میں تین بار ھمراہ پانی یا عرق کاسنی دیں یہ دوا ھیپاٹائٹسABCکا مفید علاج ھے اس کے علاوہ سوزش جگر زینہ میں جلن پیشاب کا جل کے آنا البیومن کا آنا منی میں پیپ کا آنا میں بھی مفید ھے
اس جوشاندہ سے بھی آپ ھیپاٹائٹس کو بھگا سکتے ھیں گل سرخ،گل بنفشہ، گل نیلوفر، بیخ کاسنی، شاھترہ، خطمی، آلوبخارا، عناب، مکو، ھر دوا تولہ تولہ پانی دو کلو میں مٹی کے برتن میں رات بھر بھگو رکھیں صبح جوش دے لیں اب اس میں سے ایک گلاس نکالیں اور بے شک اس میں اور پانی شامل کر لیں یعنی اس جوشاندہ میں اور پانی ڈال دیں سارا دن یہ پانی استعمال کریں دوسرےدن کے لئے نیا تیار کرلیں چالیس روز کے استعمال کے بعد ھیپاٹائٹس چیک کرائیں اگر ضرورت ھوئی تو کچھ روز اور استعمال کر لیں وگرنہ انشاء اللہ شفاء پا چکے ھونگے یہ ھیپاٹائٹس بی سی اور یرقان کے لئے از حد مفید ھے دوستو صرف ھیپاٹائٹس پہ آپ کو سیکنڑوں کے حساب سے دوائیں لکھ سکتا ھوں سب دوائیں رزلٹ سوفیصد دیں گی لیکن دوا اتنی ھی کافی ھوتی ھے جب مرض ٹھیک کرنا مقصود ھو نیک تمناؤں سے اجازت محمود بھٹہ