Thursday, March 14, 2019

اکسیر لیکوریا دوا

۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔ اکسیر لیکوریا دوا۔۔۔۔۔
یہ تو تفصیل لکھنے کی ضرورت نہیں ھے کہ لیکوریا کیسی مرض ھے تقریباً سب کو علم ھے یا پھر آپ یوں سمجھ لیں مردوں کے بالمقابل جریان کا مرض عورتوں میں لیکوریا کا مرض ھوتا ھے خیر مرد اتنے جریان مرض میں مبتلا نہیں ھوتے جتنی عورتیں لیکوریا میں مبتلا دیکھنے میں آتی ھیں اس میں مزاج کا فرق اور غذا کا مسئلہ سب سے اھم ھے حقیقت میں وہ غذا جو مردوں کو میسر ھے خواتین کے حصہ میں نہیں آتی خیر یہ الگ موضوع ھے خیال رکھا کریں بہتر سے بہتر خوراک خواتین کو مہیا کیا کریں
آئیے آج آپ کو ایک ٹانک کی شکل میں انتہائی اعلی دوا برائے لیکوریا سے متعارف کرواتے ھیں یہ نسخہ صرف اس صورت میں یاد آیا کہ ایک مطب میں گیا تو وھاں حکیم صاحب نے اسی مرض کے متعلق ایک دوا تیار کررکھی تھی دوا کچھ یوں تھی
ان بجھ چونا پاؤ میں ایک کلو دودھ بھیڑ کھرل کرکے دانہ مونگ برابر گولیاں بنا رکھی تھی رزلٹ واقعی بہترین ھو گا لیکن مجھے اس سے بھی اعلی دوا یاد آگئی جو میرے اپنے تجربہ میں بارھا دفعہ آئی آپ بھی اس سے فایدہ اٹھا لیں
نسخہ۔۔۔ کشتہ فولاد جو خود سے تیار کریں ھیرا کسیس والا یہ دس تولہ لیں اور پھٹکڑی سفید بھی دس تولہ لیں اور بھیڑ کا دودھ ایک کلو لے کر ان دونوں میں کھرل کرکے خشک کریں اور گولا سا بنا کر اس پہ کپڑ روٹی کرکے دس کلو اوپلوں کی آگ دے دیں سرد ھونے پہ نکال کر پیس لیں اب آپ کی مرضی ھے خواہ بڑے سائز کے کیپسول بھر لیں یا پھر ماشہ مقدار رکھ کر صبح شام ھمراہ دودھ دیں لیکوریا کے لئے انتہائی اعلی دوا ھے باقی مطالب حکماء خود نکال لیں گے محمود بھٹہ گروپ مطب کامل

Tuesday, March 12, 2019

طلا کی حقیقت اور طلا کی تیاری 4|tila oil

۔۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔ طلا کی حقیقت میں کچھ سوالوں کے جوابات اور اضافہ۔۔۔
پہلی بات پوسٹ کے عنوان سے ھی ظاھر تھا کہ حکماء کرام کے لئے ھے اب شاید ھی کسی طبیب نے سوال کیا ھو اس سے پتا چلتا ھے سب کو سمجھ آگئی اب وہ لوگ جنہیں بھڑ کا پتہ نہیں اور کجلی کا علم نہیں یہ عام ناظرین اور قارئین ھیں اب بہت سے لوگوں نے کمنٹس میں ان دونوں باتوں کے متعلق بتا بھی دیا لیکن ھر نیا کمنٹس پھر انہیں دو سوالوں کے بارے میں آیا
آپ لوگ اگر پوسٹ پڑھتے ھیں تو سوال لکھنے سے پہلے کم سے کم کمنٹس ضرور دیکھ لیا کریں کہ شاید کسی اور نے بھی یہ سوال لکھا ھو اور اسے جواب بھی لکھ دیا گیا ھو افسوس ھوتا ھے ایسی باتوں پہ اور بھڑ کو بعض نے خود ساختہ تشریح کر کے یا تو بوھڑ یعنی برگد اور بعض نے بھیڑ بنا دیا اب فردا فردا تو جواب لکھنا ممکن نہیں ھوتا لیجئے بات سمجھ لیں بھڑ جسے
زنبور بھی کہتے ھیں یہ پیلے رنگ کا ھوتا ھے اور گرمی کے موسم میں عام ھوتے ھیں سردی میں یہ چھپ جاتے ھیں بڑے زور سے کاٹتے ھیں جہان کاٹ لیں وھاں شدید درد اور جلن اور آخرکار سوج چڑھ جایا کرتی ھے اسے پنجابی میں ڈیمو کہتے ھیں اور اس سے جو تیل آپ بنائیں گے یہ عارضی فایدہ دیتا ھے مستقل طور پہ نہیں
یہ بات بھی صاف لکھی تھی پھر بھی سوال آیا کہ یہ مستقل فائدہ دے گا یا عارضی دے گا
دوسرا سوال کجلی کے بارے میں تھا اسے کئی ایک نے کجھلی لکھ کر پوچھا ھے اب کہیں کھرلی نہ لکھ دینا
کجلی وید طریقہ علاج کی سب سے بڑی دوا جسے رسائن بھی کہا جاتا ھے اسے تیار پارہ صاف شدہ ایک تولہ گندھک آملہ سار سات تولہ ملا کر کم سے کم چار گھنٹہ کھرل کریں تب جاکر تیار ھوتی ھے جو بالکل سیاہ رنگ کا پاؤڈر سا بن جائے گا اس کی رنگت کی وجہ سے کجلی کہا جاتا ھے کجلی لفظ کاجل سے مشتق ھے اب علاج ضعف قلب کا
تو دوستو ضعف قلب کے علاج کے لئے تو بے شمار مرکبات سب کو یاد ھونگے اب ان مرکبات کا ذکر کرنے سے پہلے آپ کو ایک بات اور بتائے دیتا ھوں ایک دوا جو بشکل گولی دستیاب ھے جس کا نام آپ سب نے ضرور سنا ھو گا( ویاگرا ) اب چند باتیں بڑے غور سے سن اور سمجھ لیں جہاں تک میں سمجھتا ھوں اصل دوا ھماری مارکیٹ میں دستیاب ھی نہیں اس نام سے ملتی جلتی یا پھر اسی نام سے نقل دوا ھمارے یہاں دستیاب ھے جو بہت ھی زیادہ نقصان دہ ھے باقی استعمال کرنے والے اور استعمال کرانے والے دونوں اس دوا کو قطعی نہیں سمجھتے اس لئے نقصان اٹھاتے ہیں یورپ یا دیگر ممالک میں اس کا استعمال ڈاکٹر کی تجویز کے بغیر قطعی نہیں کیا جاسکتا یہ دوا دراصل دل کے امراض کے لئے بنائی گئی تھی ۔۔ خاص کر جن کا بلڈ پریشر عام طور پہ ڈاؤن رھتا ھے لیکن جب یہ تجربات کے مراحل سے گزری تو اس کی ایک خوبی یہ سامنے آئی کہ یہ انتشار شدید لاتی ھے جسے ھم عام فہم زبان میں یوں سمجھ سکتے ھیں کہ دوا تو حقیقت میں ضعف قلب کو دور کرنے کے لئے تھی لیکن یار لوگوں نے اس کا تماشہ بنا دیا اب بغیر سوچے سمجھے وہ لوگ بھی اسے استعمال کرنے لگے جن کا بلڈ پریشر پہلے ھی زیادہ ھوتا تھا ایسے لوگ اسے استعمال کرکے زندگی کی بازی ھار گئے ایک بات اور بھی یاد رکھیں جہاں یہ دوا تیار ھوئی تھی یعنی فائزر کمپنی امریکہ میں وھاں آپ کسی بھی دوا کو ایسے ھی مارکیٹ میں نہیں لا سکتے وھان دوا مارکیٹ میں لانے سے پہلے بے شمار مراحل ایسے آتے ھیں جن میں اس کی باقاعدہ تصدیق ھوتی ھے کہ یہ دوا صحت کے لئے فایدہ مند ھے اور یہ نقصانات ھیں اگر اسے غلط طریقہ سے استعمال کیا جاتا ھے وھاں طبی ادارے مذاق نہیں ھیں جیسے یہاں بیڑا غرق ھے خیر چھوڑیں اس بات کو اب آتے ھیں اپنے موضوع کی طرف ضعف قلب دوستو سرد مزاج اور گرم مزاج میں ھو سکتا ھے اب اس کا علاج بغیر تشخیص کیے نہیں کرنا چاھیے بعض اوقات دوالمسک جواھردار کھلانے سے مرض جاتی ھے تو بعض اوقات مربہ سیب کھلانے سے افاقہ ھوتا ھے مشک عنبر زعفران مروارید بھی ضعف قلب کے لئے ھی مستعمل ھیں تو کبھی حنظل یعنی تمہ ھی استعمال کرانے سے دل کی رطوبتیں نچڑ کر ضعف قلب دور کردیتی ھیں یعنی مختلف مراحل میں مختلف علاج ھے جبکہ ھمارا موضوع صرف بیرونی استعمال طلا کے بارے میں تھا یہ سوال اس پوسٹ پہ آتا ھی نہیں تھا ضعف قلب پہ پھر کبھی قلم اٹھا لیں گے جب تک اس کی تشریح نہ ھو کہ ضعف قلب ھوتا کیسے ھے؟ جواب کیسے لکھا جاسکتا ھے بہتر ھے اچھی کتب کا مطالعہ کرکے سوال حل کریں میرے خیال میں اب سوال کوئی نہیں رہ گیا اجازت چاھوں گا محمود بھٹہ گروپ مطب کامل

Sunday, March 10, 2019

طلا کی حقیقت اور طلا کی تیاری 3|tila oil

۔۔۔
۔۔۔۔۔طلا کی حقیقت اور طلا کی تیاری۔۔۔تیسرا حصہ۔۔
Tila oil
دوستو اب ھمارا مضمون تقریبا اختتام پذیر ھونے والا ھے ھم بات کررھے تھے کہ طب میں ان نالیوں کی مرمت کا علاج ھے اب یہاں طلا کی ضرورت ھے اور طلا بھی ھم نے عقل ودلائل اور تشریح کرکے سوچ سمجھ کے بنانا ھے لیکن اس سے پہلے میں ایک اور بات کی تشریح کرنا چاھتا ھوں انتشار شدید پیدا کرنے کے ایک چیز بھی بہت ھی اھم ھے وہ ھے دل کا قوی ھونا اب جتنا دل طاقت ور ھو گا وہ اتنی ھی طاقت سے خون کو پمپ کرے گا یعنی قوت حیوانیہ کو بڑھانا بھی بہت ضروری ھے
اب بات طلا کی کرتے ھیں تو طلا ھمیں ایسا چاھیے جو مقامی طور پہ ایسی تحریک پیدا کرے جس سے خون کا دورہ بڑھے
اور طلا ایسا بھی ھونا چاھیے جو مضروب شدہ نالیوں کو بھی درست کرے
اور طلا ایسا بھی ھونا چاھیے جو عضلات میں مقامی تحریک پیدا کرسکے آئیے اب ھم ان ادویات پہ بحث کرتے ھیں جو اس ضمن میں آتی ھیں اور پھر دیکھتے ھیں کہ ان میں سے ھماری مطلوبہ دوائیں کون کون سی ھو سکتی ھیں جو ھمارا مسئلہ بھی حل کردیں
یہ بھی یاد رھے آج میں لمبی بحث نہیں کروں گا صرف ان ادویات کا ذکر کروں گا جو آپ کی مطلوبہ ھیں اگر تمام ادویات جو طلاؤں میں مستعمل ھیں ان سب پہ بحث کروں تو یقین جانیں یہ بحث مہینہ بھر جاری رھے اب اس موضوع پہ اتنی لمبی بحث کرنا اچھا نہیں ھے پہلے ھی ماھر امراض مخصوصہ کی بھر مار ھے کم از کم ھمیں دیگر امراض بے شمار ھیں ان پہ توجہ دینی چاھیے
میں نے چند روز پہلے گروپ خزائن المفردات میں پوسٹ مال کنگنی پہ لکھی تھی تو دوستو تفصیل تو آپ کچھ اس پوسٹ میں بھی پڑھ سکتے ھیں لیکن ایک بات یہاں بھی لکھ دون مالکنگنی کا تیل بدن کے کسی بھی مقامی حصہ میں دوران خون تیز کرنے کی سب سے اعلی دوا سمجھی جاتی ھے اب ھمیں بھی عضوتناسل میں دوران خون تیز کرنا ھے ھمیں ضروت پڑ گئی ھے تو ھم کیوں نہ بے ضرر دوا جس کے مضر اثرات بھی نہ ھوں اس سے کام لیں بے شک سم الفار مقامی انتشار بڑی تیزی سے کرتا ھے لیکن ایک بات یاد رکھیں لوگ اسے سنکھیا کے نام سے جانتے ھیں یہ بہت بڑی زھر بھی ھے اگر ذرا سی بھی بداحتیاطی ھو گئی تو موت کے منہ میں بطور روغن مالش بھی لے جاسکتا ھے یعنی اگر عضوخاص پہ کوئی زخم ھے اور آپ روغن سم الفار لگا رھے ھیں تو لازما زھر آپ کے خون میں کچھ نہ کچھ مقدار میں چلی جائے گی اور کچھ ھو نہ ھو بعض اوقات بذریعہ نالی پیشاب سے روغن مثانہ تک جا سکتا ھے جو آپ کے مثانہ میں زخم پیدا کرسکتا ھے اور کبھی جا کر گردوں تک کو متاثر کرسکتا ھے اب اس سے بہتر مال کنگنی ثابت ھو گی اب سم الفار سے بہتر کچلہ کا استعمال ھے اگر کچلہ کو روغن زیتون میں جلا لیں تو کام مقامی انتشار کا کرے گا اب یہ شدید حرارت غریزی مقامی طور پر پیدا کرکے کچھ نہ کچھ بڑھوتری کی طرف بھی مائل کرے گا لیکن اس سے پھر بھی مالکنگنی زیادہ بہتر ثابت ھو گی اب دوسری بات تھی عضلات کی شدید مضبوطی کی بھی ضرورت ھوتی ھے تو دوستو اس بارے میں سب سے بہترین دوا روغن سانڈھا ھے بشرطیکہ آپ خالص خود حاصل کر سکیں اور یہ کوئی مشکل کام نہیں ھے آپ بازار میں جا کر ان لوگوں سے جو زندہ سانڈھے لے کر بیٹھے ھوتے ھیں اپنی آنکھوں کے سامنے ان سے تیل نکلوا لیں کوئی اور تیل شامل نہ کرنے دیں یہ فورا جذب ھونے کی بھی خوبی رکھتا ھے یہ بھی انتشار پیدا کرنے مضبوطی اور طوالت اور فربہی میں کچھ نہ کچھ معاونت کرے گا اب بعض حکماء کجی کی حالت میں پہلے ضماد کو بہتر خیال کرتے ھیں جس سے مقامی طور پہ ایسی دوائیں استعمال کی جاتی ھیں جو عضوتناسل پہ چھالے نکال دیا کرتی ھے اس بارے جمالگوٹہ مغز پانچ تولہ صابن سن لائٹ یا پیلے رنگ کا آج بھی کپڑے دھونے والا ایک صابن بازار سے ملتا ھے جس میں کاربالک شامل ھوتا ھے یہ حاصل کرلیں ڈیڑھ سوگرام سندھور پانچ تولہ تیل کنجد دس تولہ کاربالک تین تولہ آب جمالگوٹہ کو پہلے رگڑ کر پھر باقی ادویات خوب باریک کرکے سب کو اکٹھے کھرل کر لیتے ھیں بس ضماد یا طلا تیار ھے ایک دوبار بطور ضماد لگانا کافی ھوتا ھے عضوخاص کو چھیل کر رکھ دے گا میرے خیال میں اسے لگانے کی ضرورت نہیں ھوتی بلکہ کسی سوتی کپڑے سے اچھی طرح زور سے صاف کرکے طلا استعمال کر لیں اب بات مختصر کرتا ھوں جو طلا بے ضرر اور نہایت ھی کثیر فوائد حاصل کرنے میں میں تجویز کروں گا وہ مندرجہ ذیل ھے روغن مالکنگنی روغن سانڈھا روغن لونگ ھر ایک بیس گرام اب ان میں بیس گرام بیر بہوٹی اچھی طرح کھرل کردیں پھر اسے کسی شیشی میں بند کرکے تین دن دھوپ میں رکھ دیں بس طلا تیار ھے فورا انتشار لائے گا مضبوطی یعنی قوی یعنی ضعف دور کرے گا باقی وہ کام بھی بڑی حد تک کرے گا جو آپ سوچ رھے ھیں کیونکہ اس کا مزاج عضلاتی غدی بنے گا یعنی طوالت کچھ نہ کچھ ضرور ھو گی ایک آخری نقطہ بتائے دیتا ھوں عضو میں طوالت حرارت سے پیدا کی جا سکتی ھے جبکہ اگر موٹائی پیدا کرنی ھو تو پھر اس میں رطوبت بھرنے کی ضرورت ھوتی ھے رطوبت پیدا کرنے کےلئے آپ کو مقامی طور پہ بلغمی مزاج پیدا کرنا پڑے گا یعنی ایک وقت میں ایک ھی کام ھو سکتا ھے یا تو لمبائی پیدا کی جاسکتی ھے یا پھر موٹائی پیدا کی جاسکتی ھے دونوں کام ایک ساتھ نہیں کیے جاسکتے اگر ایسی دوائیں اکٹھی ملا کر استعمال کریں گے تو سوائے بگاڑ پیدا کرنے کے اور کچھ بھی نہ کرسکیں گے یہ ایسی ھی بات ھے جیسے آگ اور پانی کو ایک برتن میں قید کرسکتے ھون پھر پانی کی شکل میں تو پٹرول بھی ھے اگر پٹرول اور آگ آپ ایک برتن میں رکھ سکتے ھیں تو یہ کام بھی کرسکتے ھیں ھاں وقتی کمال ضرور کیا جا سکتا ھے لیکن یہ بھی نقصان دہ ھی ھوتا ھے اب ایک طریقہ بتائے دیتا ھوں آپ آزما کر دیکھ لیں پہلی بھڑ جس کا موسم ابھی آدھا ھے برابر وزن تیل سرسوں میں ڈال کر جلا لیں جب جل کر کوئلہ ھو جائیں تو اسے تیل سے چھان کر الگ کر لیں اب اس روغن کی مالش کرکے دیکھ لیں آپ کا عضو تناسل آپ کی سوچ سے بھی زیادہ فورا سے پہلے فربہ اور کچھ لمبا ھو جائے گا بے شک وہ خواتین جن کے پستان سائز میں چھوٹے ھوتے ھیں وہ لگا کر تجربہ کرلیں ایک گھنٹہ کے اندر ھی پستان کا سائز 32 سے 58 ھو جائے گا باقی فربہی کرنے کے لئے آپ کافور تولہ کجلی 5تولہ ویزلین 6تولہ اچھی طرح کھرل کر لیں پہلے کجلی اور کافور کو اچھی طرح رگڑیں پھر ویزلین یعنی پیٹرولیم جیل شامل کریں بس طلا تیار ھو گیا دن میں ایک دوبار عضو تناسل پہ مالش کیا کریں اب یہ دبلاپن کے ساتھ ساتھ ذکاوت حس سرعت اور کجی بھی دور کرے گا میرا خیال ھے اتنا ھی مضمون کافی ھے باقی باتیں اور بحثیں پھر کبھی سہی مجھے امید ھے آپ بہت کچھ سمجھ گئے ھیں کہ کیسے طلا تیار کرنا ھے لمبے گورکھ دھندے سے بچیں اور آگ اور پانی کو اکھٹا نہ کیا کریں یہ اللہ کی مخلوق پہ آپ کا احسان ھو گا باقی میرے کسی الفاظ سے کسی کی دل آزاری ھو تو معذرت خواہ ھوں جن کو سمجھ آگئی ھو وہ دعا کردیا کریں اب اجازت چاھوں گا نیک تمناؤں کے ساتھ اللہ حافظ محمود بھٹہ گروپ مطب کامل
نوٹ۔۔ بعض لوگ مخاطب کرتے وقت میرے نام کی مٹی پلید کرکے رکھ دیتے ھیں براہ کرم نام تو کم سے کم درست لکھا کریں

Saturday, March 9, 2019

طلا کی حقیقت اور طلا کی تیاری 2|tila oil



۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Tila oil
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ طلا کی حقیقت اور طلا کی تیاری۔۔۔دوسرا حصہ۔۔۔
پہلے حصہ میں دو باتیں مین نے واضح کی ھیں
نمبر ایک۔۔۔ کہ عضوتناسل کا سائز بڑھانا فطرت سے ھٹ کر عمل ھے جب آپ نے فطرت کو چھوڑ دیا تو عضو تناسل بھی فطرت سے کنارہ کش ھو جاتا ھے
دوسری بات۔۔ سائز بڑھانا ساتھ ھی تندرستی اور صحت بھی قائم رکھنا ناممکن عمل ھے بشرطیکہ آپ نے سائز بڑھا لیا
تیسری بات۔۔۔ سائز بڑھایا جا سکتا ھے لیکن شرط یہ ھے کہ آپ مقامی طور پر ایسی ادویات استعمال کریں جس سے مرض فیل پاء جیسی علامات پیدا کرسکیں
اب اس ساری بات کا لب لباب یہ ھوا کہ یہ کام کسی حد تک درست نہیں ھے
اور ایک بات کی بھی مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی کہ چند دوائیں جو ھر کوئی طلاؤں میں استعمال کرتا ھے وھی دوائیں بدل بدل کے نت نئے فوائد کے ساتھ کتب میں بھی اور نیٹ پوسٹوں پہ بھی لکھی جاتی ھیں جن میں کچھ کا ذکر میں کیے دیتا ھوں سم الفار۔۔ شنگرف۔۔ پارہ ۔۔دارچکنا۔۔رسکپور۔۔۔میٹھا تیلیہ۔۔ چربی شیر۔۔ چربی ریچھ۔۔ چربی بطخ۔۔ چربی مرغ۔۔ روغن لونگ۔۔جائفل۔۔جلوتری۔۔ عقرقرحا۔۔۔ روغن زیتون۔۔ چنبیلی کا تیل ۔۔گدھے یا گھوڑے کے پاؤں کے ناخن۔۔ گنڈوئے۔۔ جونک۔۔ مغز چڑا۔۔ مغز کوا۔۔ مغز گدھا۔۔ پتہ نہیں کیا کیا استعمال میں مذید لائیں گے بعض نے تو جذبات میں طلاؤں میں کستوری ، زعفران، عنبر تک لکھا ھوتا ھے خواہ پوری زندگی کستوری عنبر دیکھا بھی نہ ھو لیکن دوا میں بے شک پاؤ شامل کردیں یہ سب کچھ دوستو کتابوں میں لکھا ھوا ھے۔۔ بھری پڑی ھیں کتابیں ایسی کہانیوں سے اور ھمارے کچھ معصوم دوست آنکھیں بند کرکے وھی کچھ یہاں بھی لکھنا اپنا فرض سمجھتے ھیں اب کتابوں میں جو کچھ لکھا ھوتا ھے اسے اکثریت لوگوں کی درست سمجھ لیتی ھے اور اس پہ ایمان کی حد تک یقین بھی کرلیتے ھیں بعض معصوم لوگ تو ان میں سے بہت سے نسخے بناتے بھی ھیں اور جب رزلٹ کے طلب گار ھوتے ھیں تو نہیں ملتا پھر بھی وہ یہی سمجھتے ھیں کہ شاید میرے بنانے میں کچھ غلطی ھو گئی ھے حقیقت میں ھوتا یہ ھے کہ اپنی کم علمی میں وہ سب مار کھا رھا ھوتا ھے جبکہ بندے کو پہلے یہ بات سمجھنی ضروری ھوتی ھے کہ آیا جو جو اجزاء میں استعمال کررھا ھوں اب ان اجزاء کا اپنا انفرادی فعل کیا کیا ھے ان کا مزاج کیا کیا ھے
آئیے اب میں آپ کو عضوخاص کی وہ خوبیاں جو صحت کی حالت میں اس کے اندر ھونی چاھیے ان سے آگاہ کرتا ھوں
عضو تناسل کا سیدھا ھونا
عضو تناسل کا سخت ھونا
عضو تناسل میں شدید تناؤ ھونا
علاقائی موسمی ماحول کے مطابق فطری لمبائی ھونا
اب پہلی بات سیدھا ھونا سے مراد یہ ھے کہ اس میں کجی نہ ھو یعنی بندہ مشت زنی اور لواطت سے بچا رھے اس سے اعصاب مجروح ھو جاتے ھیں اور یہ سختی پیدا نہیں کرنے دیتے
اب دوسری اور تیسری صفت حقیقت میں ایک ھی ھیں سخت ایسا کہ جیسے لکڑی ھو تناؤ سے مراد یہ ھے جوش کی حالت میں اپنی ھیئت سے بڑھ چکا ھو
اب آخری بات سے مراد یہ ھے کہ ایشاء میں بھی ماحول اور موسمی تغیر کے سبب مختلف ممالک میں عضو تناسل کا سائز مختلف ھے جیسے عرب میں سائز ھم سے لمبا ھے اور افریقی ممالک میں تو سائز خوفناک حد تک بڑھ جاتا ھے باقی وہ لوگ جو پر مشقت زندگی گزارتے ھیں ان کا سائز ان سے بہتر ھوتا ھے جو زندگی عیش وعشرت میں گزارتے ھیں اب ایک اھم نقطہ اور آپ کو بتانے لگا ھوں یہ بات تو سب ھی جانتے ھیں کہ عضوتناسل میں کوئی ھڈی تو ھوتی نہیں ھے صرف انتشار کے وقت خون کا دوران عضوخاص میں بڑھ جایا کرتا ھے جس سے اس میں سختی آجایا کرتی ھے اب آپ ھی بتائیں اگر خون وھاں جائے ھی نہیں تو کیا آپ کا عضو تناسل انتشاری حالت میں آئے گا تو آپ کا جواب ھو گا نہیں آئے گا ؟ اب آپ نے دوران خون کے عمل کو سمجھنا اور سوچنا ھے اس بارے میں تشریحات آپ کتب میں پڑھیں کہ کیسے خون کا نظام پورے بدن میں ھے میں آپ کو سادہ الفاظ میں بس ایک نقطہ بتائے دیتا ھوں وہ بھی دلائل سے۔۔
عضو تناسل میں باریک باریک سی رگیں ھوتی ھیں جن میں وقت خاص کے وقت خون دوڑتا ھے اگر آپ کے خون کا قوام پتلا ھوا تو تیزی کے ساتھ ان رگوں میں خون دوڑے گا اگر آپ کا خون گاڑھا ھوتا ھے تو انتہائی سست روی سے ان رگوں میں خون جائے گا ممکن ھے آپ کو خون اتنا گاڑھا ھو چکا ھو جو ان رگوں میں دورہ کرھی نہ سکتا ھو اب خون کا قوام سمجھنے کے لئے آپ اپنے ذھن میں موبل آئل پیٹرول اور مٹی کے تیل کو ذھن میں رکھیں ان تیلوں کے گاڑھے پن اور پتلے قوام کو سامنے رکھیں اور باریک نالیوں سے گزاریں بات سمجھ آجائے گی یعنی اصل حقیقت جو ھمارے سامنے واضح ھوئی وہ یہ ھے کہ اگر خون کا قوام پتلا ھو گا تو عضو تناسل میں تیزی سے اور بھر پور خون کا دوران ھو گا جس سے اکڑاھٹ یعنی سختی یعنی انتشار انتہائی شدت سے ھو گا اب ثابت ھوا کہ جو لوگ کمی انتشار کا شکار ھوتے ھے ان کے خون کا قوام پتلا کرنا ضروری ھے ھاں تو دوستو خون کا گاڑھا پن کولسٹرول کی وجہ سے ھوا کرتا ھے آپ پہلے مریض کا کولسٹرول چیک کرائیں اگر وہ بڑھ چکا ھے تو اس کا علاج کریں اب ایک اور مسئلہ بھی ھوا کرتا ھے اگر بدن میں خون ھی نہ ھو تو بھی انتشار کم ھو گا اگر کمی خون ھے تو اسے دور کریں اب ایک اور بھی کیفیت ھوتی ھے یعنی وہ لوگ جو مشت زنی کا شکار رھے یا وہ لوگ جو لواطت کا شکار رھے ھیں ان کی باریک وہ نالیاں جو عضوخاص کے اوپر ھیں یا پھر جڑ کے شروع میں ھیں وہ مجروح ھو چکی ھوتی ھیں اب ایلوپیتھی میں تو شاید ھمارے ملک میں نہیں بلکہ یورپ اور بعض دیگر ممالک میں ان کا ایک ھی حل آسان طریقہ سے انہوں نے نکالا ھوا ھے ایک آپریشن کرکے بڑی خون کی رگوں کو ان چھوٹی رگوں سے ڈائریکٹ کر دیا جاتا ھے تاکہ خون کا دورہ بھر پور اور شدید ھو جائے لیکن طب میں اس کا علاج ایسی ادویات ھیں جو ان نالیوں کو مرمت کردیا کرتی ھیں اس بارے میں اگلی پوسٹ میں بحث کریں گے

Friday, March 8, 2019

طلا کی حقیقت اور طلا کی تیاری 1|tila oil

۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Tila oil
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ طلا کی حقیقت اور طلا کی تیاری۔۔۔پہلا حصہ۔۔۔۔
دو دن سے میں سوچ رھا تھا کہ کچھ تحقیق پہ مبنی مضمون لکھا جائے روزانہ نت نئی پوسٹ طلا پہ آئی ھوتی ھے ھر ایک بڑھ چڑھ کے لکھتا ھے عمومآ نتائج کے اعتبار سے غلط ھوتی ھیں جب اجزاء دیکھے جاتے ھیں اور نیچے فوائد لکھے دیکھے جاتے ھیں تو بہت تضاد ھوتا ھے آسمان تک قلابے ملائے جاتے ھیں جبکہ ایسا کچھ بھی نہیں ھوتا اس موضوع پہ شاید دو پوسٹیں بن جائیں کوشش ھو گی ایک ھی پوسٹ میں مضمون مکمل کردیا جائے تو آئیے آج ھم بہت سی باتوں کی اصلاح کر لیتے ھیں اور بے جا محنت سے بھی بچ جائیں گے اس پوسٹ میں شاید کچھ الفاظ مجھے بے شرمی کی حد تک لکھنے پر جائیں ان پہ معذرت چاھوں گا
اب پہلی بات طلا کب اور کیسے اثر انداز ھوتا ھے پہلے اس بات پہ بحث کر لیتے ھیں
آپ سے میرا سوال ھے کہ انسان کا جسم قدرتی طور پر کب تک بڑھتا رھتا ھے ؟
قانون فطرت ھے کہ ایک مخصوص عمر کی حد ھوتی ھے جب تک انسان کا قد بڑھ سکتا ھے پس ! وہ عمر گزر جاتی ھے تو فطرت کا وہ نظام جو قد بڑھانے کا کام کرتا ھے اب اپنا کام روک دیتا ھے اس کے بعد انسان کو صرف تعمیر بدن کی ضرورت ھوتی ھے پھر آپ جو غذا کھاتے ھیں اس سے صرف تعمیر بدن ھوتی ھے جو جو خلیات ضائع ھوتے رھتے ھیں وھان نئے خلیے بنتے رھتے ھیں اور بدن کی ضرورت پوری ھوتی رھتی ھے
پچیس سال تک بندے کا قد بڑھتا ھے اب کچھ لوگوں کے ھارمون 28سال کی عمر تک کام کرتے رھتے ھیں اب بعض لوگ لاکھوں میں ایسے بھی ھوتے ھیں جن کا قد چالیس سال تک بھی بڑھتا ھے وہ حقیقت میں ہارمونز کی خرابی کے ایسے مرض کا شکار ھوتے ھیں کہ ان کا بے جا اور بے ڈھنگا قد بڑھ جاتا ھے ان لوگوں کی عمریں مختصر ھوا کرتی ھیں کیونکہ یہ بہت سی ایسی امراض کا شکار ھوتے ھیں جو انہیں جلد ھی اس دار فانی سے لے جاتی ھیں اب ایک بالکل اسی طرح کی ایک مرض ھے جسے ایگرو میگلی کہتے ھیں اس مرض میں گردن بڑھ جانا یا کوئی اعضاء غیر فطری انداز میں بڑھ جاتا ھے باقی بدن پورا رھتا ھے پہلے تو یہ مرض بہت ھی کم دیکھنے میں آتی تھی جب سے ایٹم کو چھیڑا گیا ھے یا مختلف کیمیکل تیار ھوئے اور مختلف ممالک میں جنگوں میں ان کا بے دریغ استعمال ھوا تو ان کیمیکل کا اثر وھاں تک محدود نہیں رھا جہاں انہیں استعمال کیا گیا بلکہ ھوا کے ساتھ یہ اثرات پوری دنیا پہ پھیلے ھیں خیر چھوڑیں یہ ھمارا موضوع نہیں ھے بات کہاں سے شروع ھوئی کہاں نکل گئی بات کررھے تھے کہ جب بدن کی بڑھوتری فطری طور پہ رک جاتی ھے تو اسے غیر فطری طور پہ بڑھانا یعنی ادویات کا سہارا لے کر ھارمونز کو متحرک کرنا ھمیشہ مختلف قسم کے امراض کا باعث بنا کرتا ھے بالکل یہی قانون عضو تناسل پہ لاگو ھوتا ھے کیونکہ یہ بھی آپ کے جسم کا حصہ ھے لیکن ایک فرق ھے کہ عضوتناسل کو بڑھانے کے لئے حکماء مقامی ادویات یعنی طلا اور ضماد کا سہارا لیتے ھیں جبکہ پورے جسم کو بڑھانے کے لئے اندرونی ادویات کا سہارا لیا جاتا ھے اب مقامی طور پہ بھی اگر آپ طلا اور ضماد کرتے ھیں تو سوائے نفس کا نقصان کرنے کے اور کچھ بھی فایدہ نہیں کرتے اب میں اس کی چند مثالیں دیتا ھوں ایک طریقہ بڑا ھی معروف ھے ڈویلپر کا استعمال؟
اس سے سوائے عضو کو کھینچنے کے اور کچھ بھی نہیں کیا جاتا اب اس کے بداثرات بعد میں یہ ھوتے ھیں کہ عضو کی تھیں اور اعصاب مکمل طور پہ کمزور ھو جایا کرتے ھیں جس کی وجہ سے یہ اپنا فطری فعل سرانجام دینے میں ناکارہ یا انتہائی سست ھو جاتا ھے بالکل ڈھیلا جس میں انتشار آئے بھی تو خون اس رفتار سے دورہ نہیں کرسکتا جتنا فطری انداز میں کرسکتا ھے اب ایک شخص کو مین نے دیکھا جسے حکیم صاحب نے عضو تناسل سے وزن بندھوا دیا تھا اب اس کے پیڑو کے اعصاب انتہائی مخدوش ھو چکے تھے عضو تو بڑھ گیا بے ڈھنگے انداز میں لیکن پیڑو کا درد نہیں جارھا تھا سمجھ لیں اگر عضو کا رعب داب بن بھی گیا ھے تو حقیقت میں ناکارہ ھی ھے اب ظہور صاحب نے ایک دفعہ ایک سوال کیا کہ عضو کو بڑھانے میں کوئی ایسی ادویات بھی ھیں جو سوفیصد رزلٹ دے سکیں میں نے کہا بالکل ایسی دوائیں ھیں بس ایک نقطہ بتائے دیتا ھوں حل آپ ھی کر لیں بالکل آج آپ کو بھی وہ نقطہ بتا دیتا ھوں لیکن پہلے ایک بات میری سمجھ لیں میں نے بے شمار پوسٹوں میں یہ بات لکھی ھے اب بھی اسی پوسٹ میں لکھی ھے کہ عضو تناسل ادویات سے لمبا نہیں ھو سکتا کبھی آپ نے غور کیا کہ ایسا کیوں لکھتا ھوں جبکہ آج یہ بھی کہہ رھا ھوں کہ لمبا ھو سکتا ھے تو دوستو میری اس بات کے پیچھے جو فلسفہ ھے اس کا اظہار آج کیے دیتا ھوں
عضوتناسل بڑھ ضرور جاتا ھے لیکن یہ عمل غیر فطری ھوتا ھے اب اس طرح بڑھایا گیا عضو تناسل وہ وظیفہ ادا نہیں کرسکتا جو اسے ادا کرنا چاھیے انتہائی کمزور اور مختلف مسائل کا شکار رھتا ھے آج آپ کو ایک سادہ اور آسان طریقہ ضرور بتاؤں گا جس سے نقصانات انتہائی کم ھوتے ھیں لیکن کچھ نہ کچھ عضو بڑھ بھی جاتا ھے جس سے آپ مطمئن ھو سکیں
اب نقطہ بتانے سے پہلے ایک اور بات بھی آپ کو بتانا چاھتا ھوں بعض لوگ یہ شکایت کرتے ھیں کہ میرا عضو تناسل پہلے تو بالکل درست سائز میں تھا جبکہ اب چھوٹا ھو گیا ھے اب ایسے مریض کو طلا لگوانے سے زیادہ اندر دوا کھانے کی ضرورت ھوتی ھے مقامی طور پہ صرف ایسا طلا استعمال کیا جا سکتا ھے جس سے حرارت غریزی مقامی طور پر بڑھ سکے اب اندورنی طور پر بھی ایسی دوائیں کھلائیں جس سے حرارت غریزی پیدا ھو تو عضوخاص کا سائز بڑھ جائے گا یہ الگ مرض ھے اس کا علاج عمر کے ھر حصہ میں کیا جا سکتا ھے
اب نقطہ بیان کرتا ھوں ایک مرض ھوتی ھے جسے فیل پاء کے نام سے جانا جاتا ھے اس مرض میں مریض کی ایک ٹانگ یا مرض کی شدت آنے پہ دوسری ٹانگ پہ بھی حملہ ھو جایا کرتا ھے اب ایک ٹانگ غیر فطری انداز میں بڑھ کر ھاتھی کے پاؤں جیسی ھو جاتی ھے انتہائی موٹی اور سائز میں بھی کچھ بڑھ چکی ھوتی ھے مریض کو اسے اٹھا کر چلنا دوبھر ھو جاتا ھے اب حکماء جانیں اور ان کا کام جانیں اب جس مزاج کے بگڑنے سے یہ مرض پیدا ھوتی ھے اب وھی مزاج یعنی اسی مزاج کی ادویہ کا عضوخاص پہ لیپ کیا جائے تو عضوخاص غیر فطری انداز میں مقامی طور پر اتنا بڑھایا جا سکتا ھے جیسے ٹانگ بڑھ جاتی ھے اب میں نے نقطہ ھی بتانا تھا وہ بتا دیا ھے نہ مزاج مرض بتاؤں گا نہ ھی ایسی ادویات بتاؤں گا جو طب پہ عبور رکھتے ھیں وہ فورا سے پہلے بات کی تہہ تک پہنچ چکے ھونگے باقی کمنٹس میں صرف سمجھنے والے اظہار کرسکتے ھیں عام آدمی سوال سے گریز کریں
اب بات کرتے ھیں ایسی ادویات پہ جو نقصان بھی نہ کریں اور کچھ نہ کچھ فایدہ بھی ضرور دیں اب اس موضوع پہ اور انتشار مقامی کیسے پیدا کیا جائے اور کجی کس طرح دور کی جا سکتی ھے کیسے طلا تیار کرکے استعمال کرنا چاھیے اس کے لئے اگلی پوسٹ کا انتظار کریں

Wednesday, March 6, 2019

گل لالہ

یہ پوسٹ اصل میں دوسرے گروپ خزائن المفردات میں لگائی گئی ھے جبکہ آج بطور نمونہ گروپ مطب کامل میں لگائی ھے اگر آپ کو مفردات کی اس نہج پہ لکھی گئی پوسٹوں سے دلچسپی ھے تو یہ آپ کو آئیندہ صرف گروپ خزائن المفردات میں ھی ملیں گی اس کا لنک سرمد صاحب نے اس گروپ میں لگا دیا ھے آپ اسے جوائن کرسکتے ھیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خزائن المفردات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔گل لالہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مشہور عام بوٹی ھے زیبائش کے لئے ھر جگہ ھر نرسری سے مل جاتی ھے خوبصورت پھول ھونے کی وجہ سے ھر ایک پسند کرتا ھے لیکن فوائد شاید چند ایک ھی جانتے ھوں اسے انگریزی میں ونڈر فلاور اور لاطینی میں پل سے ٹلا کہتے ھیں جبکہ عربی نام شقایق نعمانی ھے ھاں فارسی میں گل لالہ کہتے ھیں
مزے کی بات ھے اس کے پھول پھل مکمل پوست یعنی خشخاش سے ملتے جلتے ھیں لیکن قدرے چھوٹے ھوتے ھیں جب پھول گرتے ھیں تو ڈوڈے نکلنے شروع ھو جاتے ھیں جن میں سیاہ رنگ کے تخم نکلتے ھیں پھول سرخ رنگ کا ھوتا ھے بلکہ ارغوانی رنگ ھوتا ھے ۔۔۔۔نوٹ۔۔۔ گل لالہ کی ویسے تو پچاس کے قریب اقسام ملتی ھیں اتنی اقسام پاکستان میں مل رھی ھیں لیکن طبی فوائد میں صرف لال رنگ والی ھی ھے
ذائقہ میں قدرے تلخ ھوتا ھے
پیدائش یورپ افریقہ پاکستان ھر جگہ ھوتی ھے
مقدار خوراک۔۔۔دو ماشہ تک
مزاج خشک گرم یعنی عضلاتی غدی ھے
افعال۔۔۔محرک عضلات محلل اعصاب اور مقوی جگر ھے سودا کو صفرا میں بدلنے کی قوت رکھتا ھے یاد رھے جس مقام پہ بھی لگایا جائے آبلہ ضرور ڈالتا ھے لیکن تھوڑی مقدار میں کھلانے سے تمام گندے مواد بذریعہ پاخانہ خارج کردیتا ھے
خواص۔۔ جالی آبلہ انگیز ۔ ملطف۔ مدر حیض۔ مسکن ۔ مخدر ۔ منوم
فائدے۔۔ بہت ھی قدیم کتب سے بھی اس کے فوائد کا علم ھوتا ھے یعنی قدیم حکماء حضرات اسے بطور دوا استعمال کیا کرتے تھے لیکن آج کل کے دور میں شاید اسے بطور دوا استعمال کم ھی کیا جاتا ھے کیونکہ درست معلومات نہ ھونے کے سبب اس کا استعمال کم ھو گیا ھے مزے کی بات ھے ایلوپیتھی آج بھی بطور دوا اسے استعمال کرتی ھے اور ھومیوپیتھی بھی اسے استعمال کرتی ھے حکماء اس سے دور ھو چکے ھیں آج میں اس کے چند ایک تجربات آپ کو بتاتا ھوں آپ یہ تجربات کریں فورا رزلٹ ملے گا
یہ جو روزانہ نت نئے طلا کے تجربات بتائے جاتے ھیں آج ڈائرکٹ اسے بھی استعمال کرکے دیکھیں مشت زنی سے پیدا شدہ کجی اس کے پھول پیس کر لیپ عضو تناسل پر کریں اس سے عضو تناسل میں یکلخت دوران خون تیز ھو گا اور کجی دور کرنے میں معاون ھو گا لیکن یاد رھے آبلہ پڑتا ھے اس سے پریشان نہیں ھونا اب دوسرا طریقہ اس کے تخم کا تیل نکال لیں اور اسے بطور طلا سارا سال استعمال میں لائیں اور جن لوگوں کے جوڑ پتھرا گئے ھون وہ لوگ اسکے پھولوں کا لیپ یا بیجوں کا تیل لگائیں انشاء اللہ تعالیٰ جوڑ کھل جائیں گے اگر بدن کے بیرونی مقام پہ کہیں بھی رسولیاں ھوں اس کے تخم کا تیل لگانے سے رسولیاں جاتی رھتی ھیں اور وہ اعضاء کو سن ھو جائیں ان پہ اس کا روغن بیس گرام روغن زیتون سوگرام میں شامل کرکے مالش کریں چند روز میں سن پن دور کردے گا پرانے حکماء اسے مدر حیض دوا کے طور پر اس طرح استعمال کیا کرتے تھے کہ اس کے پھولوں کو مسل کر پیسٹ بنا کر اندر رحم میں رکھوایا کرتے تھے جس سے فورا خون جاری ھو جایا کرتا تھا لیکن میں اسے خطرناک تصور کرتا ھوں کیونکہ اس میں صفت آبلہ انگیزی کی بہت شدید ھے اور رحم کاا ندرونی حصہ بہت ھی نرم نازک ھوتا ھے یہ جلا کر رکھ دیتا ھو گا اس لئے میں اسے ناقص سمجھتا ھوں ھاں ایک صفت بہترین ھے کہ کیمیاوی طور پر اس کے اندر فولاد کی کافی مقدار موجود ھے اس لئے یہ بال سیاہ کرنے میں بہترین ھے آپ 28تولہ گل لالہ لیں اور اخروٹ کے تازہ چھلکے یعنی ھرے چھلکے 14تولہ لیں اب ان کو توڑ مروڑ کر ایک بڑی بوتل شیشہ کی میں بند کرکے کسی اروڑی میں دفن کردیں چالیس روز بعد نکال لیں اب اسے تھوڑا سا بالوں پہ لگائیں بال خوب سیاہ اور گھنے کردیتا ھے یاد رھے یہ مستقل سیاہ نہیں ھوتے ھاں اس مرکب کا ایک فایدہ مستقل ھے کہ چیچک اور برص کے داغ مستقل طور پہ ختم کردیتا ھے کیونکہ اس کی صفت مخرش ھے اس لئے جس مقام پہ لگایا جائے وھاں دوران خون تو اس نے تیز کرنا ھی ھے جس سے مرض کا قلع قمع کرنا بڑا ھی آسان ھے بالکل آپ اسی طرح اس کے پھول کسی روغن میں جلا کر بطور مالش خارش کے لئے استعمال کریں اور یہی تیل آپ اگر کثرت رطوبات کی وجہ سے بہرہ پن ھو گیا ھو تو استعمال کرنے سے آرام آتا ھے
شروع میں مین نے ایک صفت اور بھی لکھی تھی کہ یہ مسکن بھی ھے اس لئے شدید تشنج کی حالت میں دینے سے فورا دورہ رک جاتا ھے کالی کھانسی میں بھی بہت فایدہ مند ھے
اب ایک آخری بات جو بہت اھم بھی ھے اس کے ڈوڈوں سے ایک قسم کی افیون نما چیز نکالی جاتی ھے یہ نہایت نشہ آور ھے یہ نشہ لاتی ھے اور سن بھی کرتی ھے بات سمجھ رھے ھیں آپ یعنی اگر باقی اجزاء استعمال کیے جائیں تو سن پن دور ھوتا ھے لیکن اگر اس کی افیون استعمال کی جائے تو سن پن پیدا کرتی ھے بالکل افیون کی طرح لہذا اس کا استعمال بہت احتیاط سے کرنا چاھیے اور بڑی احتیاط کرنی چاھیے ھان موسم تو لکھا ھی نہیں تو دوستو یہ گندم کی کاشت کے زمانہ میں ھی اگتی ھے آج کل اس کا عروج کا زمانہ ھے

Tuesday, March 5, 2019

چہرے کی جھریوں کا علاج

۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔چہرے کی جھریوں کا علاج۔۔۔
پہلی بات ۔۔آج الحمدللہ اپنے دوسرے گروپ جو صرف مفردات پہ مشتمل ھے جس کا نام بھی آپ کو کل بتایا تھا خزائن المفردات جسے غلطی سے خزائین المفردات لکھا گیا ھے خیر یہ غلطی جلد دور ھو جائے گی آج الحمدللہ اس گروپ میں پہلی تفصیلی پوسٹ مال کنگنی کے بارے میں لکھی ھے دوست دیکھ سکتے ھیں اور گروپ جوائن کرسکتے ھیں اب بات کرتے ھیں موجودگی پوسٹ کے بارے میں ۔۔
گندھک آملہ سار ۔ 50گرام ۔۔۔ان بجھ چونا 10گرام ۔۔پانی دو کلو
گندھک کو باریک پیس کر ان بجھ چونا کو ساتھ ملا کر پانی میں ملا دیں اب رات بھر رکھ دیں صبح تک چونا پانی میں تحلیل ھو چکا ھو گا اب کسی دیگچی میں ڈال کر چند جوش دیں دوسرے دن صبح متھرا ھوا پانی فلٹر کر لیں اور اسے بوتل میں محفوظ کر لیں بس دوا تیار ھے
مقدار خوراک 4تا8قطرے صبح شام پلا دیں مزاج کے اعتبار سے غدی اعصابی ھے بڑھاپے سے قبل جسم اور چہرے پہ جھریاں بن جانے کے لئے انتہائی اعلی دوا ھے

Sunday, March 3, 2019

توجہ طلب بات

۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔ توجہ طلب بات ۔۔۔۔۔۔۔
ھمارے ملک کا بلکہ شعبہ طب کا سب سے بڑا المیہ یہ ھے کہ پنسارسے ادویات لیتے وقت بندہ پریشان ھو جاتا ھے یقین کرنا مشکل ھو جاتا ھے کہ دوا یعنی جڑی بوٹی جو لے رھا ھوں آیا یہ درست ھے یا زائد المعیاد ھو چکی ھے آپ کچھ بھی یقین سے نہیں کہہ سکتے جبکہ اصل حقیقت یہ ھے کہ کثیر تعداد میں ادویات کو جڑی بوٹی کی شکل میں ھیں۔۔ کی مدت استعمال ایک سال تک ھوتی ھے اور بہت کم مفردات کی مدت استعمال دو سال تک ھوتی ھے کچھ کی پانچ سال تک ھے اب افیون کی مدت استعمال 45سال تک ھے اور شہد ھزار سال تک بھی خراب نہیں ھوتی یہ تجربہ اھرام مصر سے نکلنے والی شہد پہ ھو چکا ھے خیر میرا موضوع مقصود کچھ اور ھے کل میں نے پوسٹ اپنی ضروت کی لگائی تھی جس میں شہد کی طلب اور کریر کے پھول تھے آج اس بارے میں بہت سوچا تو ایک لائحہ عمل ذھن میں بنایا کہ کیوں نہ ھم پاکستان میں ملنے والی جڑی بوٹیوں کی ایک فہرست ترتیب دیں کل کچھ دوستوں نے کمنٹس میں مختلف جڑی بوٹیوں کا ذکر کیا جو ان کے علاقہ میں پیدا ھوتی ھیں اب بہت سی بوٹیاں مختلف علاقوں میں ایسی بھی پیدا ھوتی ھیں جن کے بارے میں مقامی حضرات قطعی نہیں جانتے اگر ان کو تصاویر دکھائیں تو فورا پکار اٹھیں گے کہ یہ تو ھمارے علاقہ میں وافر مقدار میں ھوتی ھے میں چاھتا ھوں ایسی تازہ ادویات اور صاف ستھری ادویات حاصل کی جائیں اور ان کو استعمال میں لایا جائے تاکہ رزلٹ بھی بہتر ملے اس کے لئے ایک لائحہ عمل تیار کیا جائے جس میں گروپ ممبران کے بھی مشورے مطلوب ھیں حکماء حضرات اس سلسلے میں مشورہ دیں
ایک آخری بات کل کی پوسٹ پہ بھی کمنٹس میں ایک صاحب نے اپنا فون نمبر دیا ھوا تھا اب یہ غلطی نہ کریں آپ کے پاس انباکس موجود ھے وھان جا کر ایک دوسرے سے نمبر لیا کریں بہت نوازش ھو گی نئے آنے والے گروپ ممبران لازماً گروپ رولز پڑھیں دیگرے کوشش ھو گی کل ایک فہرست ایسی ادویات کی لکھی جائے جو ھمارے ملک میں میسر ھین اب ان کی تصاویر پہچان کے لئے جو پھول پتے شاخ جڑ پہ مشتمل ھو یہ لگانے کے لئے بھی کچھ دوستوں کی مدد چاھیے جو ان کا نام بھی لکھ سکیں ساتھ ! وہ فہرست جاری ھونے کے بعد تصاویر بشکل پوسٹ لگائیں

Saturday, March 2, 2019

حب منقٰی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔ حب منقٰی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گندھک آملہ سار 50گرام
سیماب مصفی10گرام
پہلے ان دونوں کی کجلی تیار کریں پھر
مغز جمالگوٹہ 20گرام
تارا میرا 40گرام
اب جمالگوٹہ کا مغز نکال کر اسے کھرل کریں جب ویزلین کی طرح بن جائے تو اس میں پہلے سے تیار شدہ کجلی شامل کر لیں اور پھر تارا میرا کو بھی پیس کر اس میں شامل کر لیں اب دانہ مسور برابر گولیاں بنا لیں
اب مقدار خوراک ایک گولی بطور مقوی دیں
دو گولی بطور ملین دیں
تین تا چار گولی بطور مسہل دیں
مزاج غدی عضلاتی ھے
مندرجہ ذیل امراض میں نہایت ھی مفید ھے
امراض دوران خون اور فساد خون
امراض تنفس اور امراض مفاصل و امراض نظام انہظام
مجلہ امراض جلد و امراض تناسل مردانہ میں بہترین دوا ھے
اب طبیب حضرات خود ھی فیصلہ فرما لیں کب اور کیسے استعمال کرنی ھے کبھی طبی کتب میں لکھاحب مسکین نواز کا نسخہ ھر مطب کی زینت بنا یہ دوا بھی بالکل ایسے ھی ھے اب مطب کی زینت بنا لیں ایک اچھا طبیب تو اس سے بے شمار فائدے حاصل کرسکتا ھے یہ پوسٹ حکماء کے لئے ھے

توجہ کرین

🌕🌕🌕🌕🌕توجہ کرین🌕🌕🌕🌕🌕
پہلی بات جن جن علاقوں سے قلمی شورہ نکلتا ھے وہ آگاہ کریں
مجھے کریر کے پھول کی ضرورت ھےچند روز تک یہ کھلنے والے ھیں کیا کوئی دوست مجھے فراھم کرسکتا ھے
چھوٹا شہد تسلی بخش کون کون میسر کر سکتا ھے فارمی نہ ھو بلکہ جنگلی ھو یاد رھے میری ضروت کثیر مقدار میں ھے
آخری بات کس کس دوست کے ھاں کونسی کونسی بوٹی پیدا ھوتی ھے بہار کے موسم میں
کمنٹس میں لکھیں رابطہ میں خود ھی کرلوں گا جزاک اللہ

Friday, March 1, 2019

کشتہ تانبہ سفید|kushta tanba sufaid

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔ کشتہ تانبہ سفید ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Kushta tanba safeed |copper
بہت عرصہ گزر چکا ھے کشتہ جات پہ پوسٹ لکھے ھوئے آج دلیل آئی تو لکھ بھی دی بلکہ چند روز قبل کسی نے گروپ میں سوال بھی لکھا تھا کہ تانبہ پہ پوسٹ لکھیں عرصہ پہلے میں نے ایک پوسٹ تانبہ پہ لکھی تھی جس میں مین نے بتایا تھا کہ لاجونتی بوٹی کا ایک چھٹانک نگدہ اور گلگل میں سوراخ کر کے اس میں آدھا نگدہ رکھ کر تانبہ مصفی رکھ کر باقی ماندہ نگدہ رکھ کر اسے گل حکمت کریں اور بیس سیر جڑ کیکر کی آگ دیں کشتہ برنگ سفید برآمد ھو گا چند روز پہلے ایک دوست تنویر صاحب ملکوال سے آئے ھوئے تھے گپ شپ ھو رھی تھی انہوں نے ایک بوٹی کا ذکر کیا جس میں تانبہ برنگ سفید پھول کر کشتہ ھوجاتا ھے یہ ان کا بارھا دفعہ کا تجربہ ھے انتہائی بہترین اور نفیس کشتہ بنتا ھے اب میں ان کی اجازت کے بغیر اسے تو نہیں لکھ سکتا لیکن ایک تجربہ میرا بھی ھے اسے ضرور لکھے دیتا ھوں بالائی علاقہ میں ایک بوٹی ھوتی ھے جس کے ساتھ 🍆 بینگن کی طرح کا پھل لگتا ھے اور پتے بھی بالکل بینگن جسے ھی ھوتے ھیں اب سنیاسی لوگ اسے جمالگوٹہ کا پودہ کہتے ھیں جبکہ حقیقت میں یہ جنگلی بینگن ھوتا ھے اسے بعض طبی کتب میں بڑی مہوکڑی کے نام سے بھی لکھتے ھیں اب اس کا ایک یا دو پتے لے کر ان مین تانبہ کا پیسہ لیپٹ لیں یا پھر اس پتہ کو منہ میں ڈال کر پیسٹ سا بنا کر تانبہ کے اوپر لگا دیں اب اسے بے شک چھٹانک بھر آگ دیں یا تازہ حقہ کی آگ میں رکھ دیں پانچ منٹ میں برنگ سفید ھاتھ سے پس جانے والا کشتہ ھو جائے گا