Saturday, September 8, 2018

۔۔مزمن

 سرفہء مزمن ۔۔

برائے مخصوص مستند اطبائے کاملین ۔۔

ھوالشافی ۔۔

ازراقی بریاں 1 جزو ۔۔ کسیس سبز محروقہ 2 جزو ۔۔ نربسی 1 جزو ۔۔ فلفل گرد 6 جزو ۔۔ نخود بریاں 12 جزو ۔۔ 250 ملی۔گرام کیپسول بنا لیں ۔۔ 1+1+1 کھانے سے ایک گھنٹہ بعد بر رائے طبیب ۔۔ ان شاء اللہ خیر ھوگی ۔۔ خاکسار حکیم سید ادریس گیلانی کو اپنی ادعیہ متبرکہ میں یاد رکھئے گا ۔۔P

Friday, September 7, 2018

تشخیص امراض وعلامات 31

مطب کامل ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔تشخیص امراض وعلامات۔۔قسط نمبر 31۔۔۔
آج ھمارا موضوع ھے جتنے بھی طریقہ علاج ھین وہ مرض کا کیا تصور پیش کرتے ھین ایک بات تو صاف ھے جب مرض پیدا ھو تو صحت کے قانون کے خلاف ھی ھوگی یاد رکھین برائی کبھی بھی قانون کے ماتحت نہین ھوتی بلکہ برائی نیکی اور بھلائی کی خلاف ورزی کو کہتے ھین اسی طرح مرض کبھی بھی قانون کے تحت پیدا نہین ھوتی بلکہ صحت کے اصول کی خلاف ورزی ھوتی ھے تو مرض پیدا ھوتا ھے اس لئے یہ بات تو حقیقت ھے دنیا مین جس قدر طریقہ علاج رائج ھین سب کے سب ایک بات پہ متفق ھین کہ مرض صحت کے قوانین کی خلاف ورزی سے پیدا ھوتی ھے تو آئیے دیکھین تمام طریقہ ھاۓ علاج کیا کہتے ھین سب سے پہلے
آیورویدک اور پیدائش مرض۔۔آیورویدک مین مرض کی پیدائش دوشون یعنی اخلاط اور پرکرتیون یعنی کیفیات کے اعتدال پہ رکھی گئی ھے جب بھی ان مین کمی بیشی یا خرابی ونقص یا ان کے مقام کی تبدیلی پیدا ھوجاۓ تو اس حالت کو مرض قرار دیتے ھین اور مرض کا پتہ اس وقت چلتا ھے جب بے اعتدالی کا اثر اعضاء کے فعل مین ظاھر ھوتا ھے
یونانی طب اور پیدائش مرض۔۔۔ طب یونانی مین مرض کی پیدائش اخلاط خون بلغم صفرا اور سودا اور کیفیات گرمی سردی خشکی اورتری کے اعتدال پر رکھی گئی ھے جب ان مین اعتدال قائم نہین رھتا تو تین حالتین پیدا ھوتی ھین ۔۔۔۔۔۔ کمی بیشی واقع ھوجاتی ھے ۔۔۔۔۔۔ مزاج مین خرابی ونقص پیدا ھوتا ھے ۔۔۔ان کے اپنے مقام مین تبدیلی پیدا ھوتی ھے یعنی خلط اپنے صحیح مقام سے اخراج پانے کے بجائے دیگر مقام پہ چلی جاۓ مثلا صفرا جگر سے اخراج کے بجائے خون مین شامل ھوکر دیگر اعضاء پر اثرانداز ھو یعنی حالت مرض کا اظہار اسی وقت ھوگا جب اعضاء ے افعال مین اعتدال بگڑ جاۓ گا یہی بے اعتدالی مرض قرار دی جاۓ گی
ایلوپیتھی اور پیدائش مرض ۔۔ایلوپیتھی چار اخلاط اور چار کیفیات کو تسلیم ھی نہین کرتی وہ صرف ایک خون کو تسلیم کرتی ھے البتہ وہ یہ تسلیم کرتی ھے خون مین کم وبیش بارہ عناصر موجود ھین جن سے خون مرکب ھے اب ان عناصر کی کمی بیشی سے یا ان مین نقص یا خرابی پیدا ھو تو مرض پیدا ھوتی ھے جس کا اظہار اعضاء کی بے اعتدالی سے ھوتا ھے البتہ جب جراثیم تھیوری پیش کی گئی اس وقت سے یہ تسلیم کیا گیا کہ یہی اعضاء کے افعال اور خون کا سبب ھوتے ھین لیکن پھر یہ حقیقت ھے کہ جب تک اعضاء کے افعال اور خون کے مرکب مین بے اعتدالی واقع نہ ھو اس وقت تک مرض کی صورت کا اظہار نہین ھوسکتایعنی صحت کےاصول کی بے اعتدالی کانام مرض ھے
ھیوموپیتھی اور مرض کی پیدائش ۔۔ ھیوموپیتھی علاج بالمثل تسلیم کرتی ھے یعنی اول روح بیمار ھوتی ھے اور پھر اس کا اثر جسم وخون پہ پڑتا ھے اور اعضاء کے افعال بگڑ جاتے ھین اور مرض کی صورت پیدا ھوجاتی ھے یا رکھین روح سے مراد وائٹل فورس ھے
بایو کیمک اور پیدائش مرض ۔۔جسم اور خون بارہ چودہ نمکیات سے مرکب ھے جبان مین سے کسی نمک مین کمی یا خرابی آجاۓ تو مرض پیدا ھوتی ھے ایلوپیتھی اور بایوکیمک مین یہ فرق ھے کہ ایلوپیتھی عناصر جو خون مین پاۓ جاتے ھین ان کو مفرد تسلیم کرتی ھے جبکہ بایوکیمک اپنے نمکیات کو مرکب تسلیم کرتی ھے
ھائیڈو پیتھی اور پیدائش مرض ۔۔جسم اور خون کے فارن میٹرز ایسے گندے مادے جن کو خارج ھونا چاھیے اور یہ جب جسم مین رک جاتے ھین تو ان کا اثر اعضاء کے افعال پہ پڑتا ھے اور اس سے مرض پیدا ھوجاتی ھے
سائیکو پیتھی اور پیدائش مرض ۔۔علم نفسیات یہ تسلیم کرتا ھے کہ انسان مین جسم اور روح کے علاوہ جذبات بھی پاۓ جاتے ھین جب ان جذبات مین کمی بیشی یا خرابی پیدا یا نقص پیدا ھوجاتا ھے تو اس کا اثر اعضاء کے افعال پر پڑتا ھے اور مرض کی صورت پیدا ھوجاتی ھے اب جذبات کو سمجھنے کے لئے وائٹل فورس اورطبی روح کو مد نظر رکھنا پڑتا ھے ان کے باھمی فرق کو سمجھین
مندرجہ بالا سات طریقہ علاج کے علاوہ بھی طریقہ علاج ھین یعنی ۔۔١۔کروپیتھی رنگون سے علاج ۔۔٢۔الیکٹرو پیتھی۔۔٣۔۔علاج بالغذا ۔۔٤۔طب روحانی ۔۔٥۔۔ علاج بالموسیقی ۔۔٦۔۔فزیکل پیتھی یعنی مالش اور امالہ سے علاج یا دوسرے لفظون مین مساج سے علاج ۔مساج کرانے کے لئے ھانگ کانگ کا رخ پوری دنیا سے کیا جاتا ھے مین نے کرایا تھا واقعی جسم کو فریش کردیتا ھے اورکچھ امراض پہ اثر انداز ھے۔٧۔ تعویز گنڈہ سے علاج یہ روحانی اور نفسیاتی علاج کی ھی ایک شاخ ھے
یہ چودہ طریقہ علاج شاید دنیا مین رائج ھین لیکن دو باتین بالکل سچ ھین پہلی بات مرض الموت کا علاج ان مین کوئی بھی دریافت نہ کرسکا دوسری بات ان سب طریقہ علاج کے تانے بانے آخر کار طب سے ھی جاکر ملتے ھین طب ھی سب سے اچھا اور پائیدار اور حقیقی طریقہ علاج ھے یہ سب علاج کے طریقے مختلف اوقات مین وقت کے سیانون نے اختراع پیدا کرکے کیے ھین ان کا سب سے بڑا سبب جو مجھے نظر آیا ھےطب کو چھپایا گیا اس علم کو ظاھر کرناجرم سمجھا گیا باقی آئیندہ

کیمیاء

 آج کی بات ۔۔

طبیبوں کی بہت بڑی تعداد کیمیاء کے خبط میں مبتلا ھے ۔۔ یہ حضرات ھر جگہ وافر تعداد میں پائے جاتے ھیں ۔۔

ریگزاروں ، میدانوں ، سواحل اور کوہسار سب ھی ان کے قدوم میمنت لزوم سے تمسک حاصل کرکے ان کی ھمت کی داد دیتے نظر آتے ھیں ۔۔ کاغان میں ھم موھری بوٹی کی تلاش میں تھے کہ ایک مقامی طبیب جو مبتلائے کیمیاء تھے وارد ھو گئے ۔۔ سلام و دعاء کے بعد فرمانے لگے کہ خاندانی حکیم اور ان کے دادا کیمیاء گر تھے جو تانبہ کا سونا بناتے تھے مگر بتا کر نہیں گئے ۔۔ انہوں نے گھر جانے کا اصرار کیا تو ان کے ساتھ ان کے گھر چلے گئے ۔۔ دیوان خانہ میں بیٹھ کر انکی باتیں سنتے رھے ۔۔ پھر انہوں نے اپنا شوق خانہ دکھایا ۔۔ بھٹی ۔۔ ھاتھ کا پنکھا ۔۔ لکڑی اور پتھر کا کوئلہ ۔۔ تیزابات اور دیگر لوازمات تجربات کیمیاء سب موجود تھے ۔۔ ان کا دعوی تھا کہ بس وہ کامیابی کے آخری کنارے پر کھڑے ھیں ۔۔ لیکن آپ یقین مانئے کہ اسے کیمیاء کی ابجد کا بھی علم نہ تھا ۔۔ میرے عاشق زار اور ساتھی نواب عبدالحمید جو خود بہت بڑے اور کامیاب کیمیاء گر ھیں ۔۔ اس شخص کے دعوے سن سن کر میری طرف معنی خیز مسکراہٹ سے دیکھ رھے تھے ۔۔ اس نے کہا کہ وہ اپنا فن دکھانا چاہتا ھے ۔۔ اس نے بھٹی سلگائی اور ھمیں سیدھا سادھا سمجھکر متاثر کرنے کیلئے تانبہ پر جست ڈالکر پیتل بنا دکھایا کہ یہ سونے میں برابر مل سکتا ھے ۔۔ نواب صاحب نے مجھ سے پوچھا کہ چٹکی مار دوں ۔۔ لیکن میں نے منع کر دیا ۔۔ کیمیاء ھر کسی کے بس کا روگ نہیں ۔۔ بیماریوں کے اچھے اور کامیاب نسخے بن جائیں تو وھی سب سے بڑی کیمیاء ھے ۔۔ اللہ ھم سب کو ھدایت نصیب فرمائے ۔۔ آمین ۔۔

Thursday, September 6, 2018

تشخيص امراض وعلامات 30



۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔تشخيص امراض وعلامات ۔۔۔۔۔۔قسط نمبر 30۔۔۔۔
کل کے اقوال کی مختصر تشریح کچھ یون ھے قرشی صاحب نے بڑی سادگی سے دل کا فعل لکھ دیا اور یہ بھی بتا دیا باقی اعضائے رئیسہ کا اثر بھی دل پہ اور نبض کی حرکات پہ پڑتا ھے جبکہ مسیح الملک حافظ اجمل خان صاحب نے واضح طور پہ بتایا کہ دماغ کی تیزی اور سستی دیکھیے جسے نظریہ نے مذید تشریح کرتے ھوۓ تحلیل تحریک اور تسکین دماغ کی وضاحت کردی اسی طرح جب انہون نے فرمایا آلات ھضم اور کبد کے ضعف تو بھی جگر کی سستی اور تیزی کے بارے مین کہا ھے اسی طرح واضح طور پہ قلب کی سستی اور تیزی کی وضاحت فرمائی ھے یعنی یہان بھی تحریک تحلیل اور تسکین کی بات کررھے تھے دوستو واضح طور پہ تشریح نبض پہ کسی بھی حکماء متقدمین نے نہین لکھا جبکہ ان کی تحریون سے یہ واضح اشارے ملتے ھین کہ وہ جانتے سب کچھ تھے لیکن وضاحت نہین لکھتے تھے اور جو کچھ لکھا ھے اس مین اتنی فلاسفی ھے جسے سمجھنا ھر کسی کے بس مین نہین ھے آج مین کچھ قدیم تصاویر بھی ساتھ لگا رھا ھون یہ قلمی کتاب ھے عمر اس کتاب کی سینکڑون سال ھے اب ان خاندانی نسل در نسل چلنے والی کتابون مین طب کی تشریحات کچھ اور انداز سے ھین جہان تک مین نے آج تک سمجھا ھے مجھے ایک ھی بات کی سمجھ آئی ھے وہ یہ کہ ھندوستان کے چند خاندانون نے طب کو قید کر لیا اس کی تشریحات اور حقائق ظاھر نہین ھونے دیے شاھی طبیب مقرر ھونا ان ھی خاندانون کے اندر رھا ھے معذرت کے ساتھ میرا خاندان بھی اس مین شامل رھا ھے اس سے پہلے بھی مسلمانون نے طب کی زیادہ تشریح قطعی نہین کی یہ خلافت کا دور رھا ھے بوعلی سینا نے تقریبا سات سوسال پہلے القانون لکھی جس کا مقصد اور اظہاریہ ھے صحت ومرض قدرت اور فطرت ھی ھین بالکل اصول وقائدون اور ترتیب کے مطابق عمل کرتے ھین روزانہ زندگی کے تجربات ومشاھدات کے اصولون کے تحت القانون کتاب لکھی اور بتادیا کہ یہی علم فن طب کے بنیادی قوانین ھین ترتیب کمال کی ھے اس مین دوستو صرف یہی کتاب جو حقیقی تھی یورپ کے ھتھے چڑی تھی وہ چھ سوسال تک من وعن اپنی درس گاھون مین اسے پڑھاتے رھے باقی طب کا کوئی خاص راز یورپ کے ھتھے نہ چڑھ سکا پھر انہون نے اپنی خوب محنت کی اور بدلہ ھم آج تک دے رھے ھین اب تھوڑی وضاحت کہ شریان کی تڑپ کیسے پیدا ھوتی ھے شریان کے پھیلاؤ اور سکڑاؤ کی وضاحت تو کردی لیکن تڑپتی کیسے ھے ؟
پہلے شریان کی مختصر ساخت بتاتا ھون یاد رکھین شریان کی بناوٹ قریب قریب دل کی بناوٹ کی طرح ھے لچکدار نالی ھوتی ھے ھر شریان کی ساخت مین تین پردے یا طبقے ھوتے ھین شریان کا اندرونی پردہ نہایت لچکدار اور پتلا یا باریک ھوتا ھے یہ انڈوتھیلم نازک جھلی سے بنا ھوتا ھے یہ جھلی دل کے اندرونی حصہ مین لگی ھوتی ھے اور بیرونی تہہ لچکدار ریشون سے بنی ھوتی ھے اب ان دونون کے درمیان بھی ایک تہہ ھے جو موٹی اور سرخی مائل ھوتی ھے یاد رکھین شریان کی بناوٹ مین لحمی وتری اور رباطی ریشے ھوتے ھین اور جب دل سکڑتا ھے تو شریانون مین خون جاتا ھے تب شریانون مین حرکت وتڑپ پیدا ھوتی ھے اور جب خون واپس آتا ھے تو شریانین سکڑتی ھین اب شریانون کی اس اچھل کود اور تڑپ کو ھی نبض مین دیکھا جاتا ھے تاکہ علم ھو سکے دل یا باقی مفرد عضو کا کیا حال ھے
اب نبض کا صحیح تصور جو طبیب کے ذھن مین ھونا چاھیے وہ ھے نبض مین خون کا دباؤ وخون کی رطوبات و خون وجسم مین حرارت کا توازن معلوم کرنا
اب مرض کی حالت مین خون کا دباؤ ورطوبت اور حرارت جسم بدلتی رھتی ھین یہی چانچنا کہ کیا کیا تبدیلیان واقع ھوئی ھین ا سے مرض کا پتہ چلتا ھے
اب تھوڑا بات کو سمجھین یہ تو آپ کو پتہ ھے دل ایک عضلاتی عضو ھے مگر اس پہ دوعدد پردے چڑھے ھوۓ ھین اب دل کے اوپر کا پردہ غشاۓ مخاطی اور غدی ھے اور اس کے اوپر بلغمی یا اعصابی پردہ ھے جو شریانین دل اور اس کے دونون پردون کو غذا پہنچاتی ھین اگر ان مین تحریک یا سوزش آجاۓ جس سے ان مین تیزی آجاۓ اب اس کا اثر حرکات قلب اور افعال شریان پہ پڑتا ھے جس سے ان مین خون کے دباؤ اور خون کی رطوبت اور خون کی حرارت مین کمی بیشی آجاتی ھے اب اس بات کو دماغ مین بٹھا لین
جب شریان مین خون کا دباؤ قلب کی تحریک سے ھوتا ھے تو یہ اس کی ذاتی اور عضلاتی تحریک ھے
خون کی رطوبت کی زیادتی دل کے بلغمی پردون کی تحریک ھوتی ھے
اسی طرح خون کی حرارت دل کے غشاۓ غدی پردے مین تحریک ھوتی ھے
یعنی سب سے پہلا کام جو نبض سے ھم نے دیکھنا ھے وہ یہ ھے کہ اس وقت کیا جسم مین قوت کی زیادتی ھے یا حرکت کی زیادتی ھے یا حرارت کی زیادتی ھے اب ابتدائی ان ھی چیزون کے نوٹ کرنے سے ھمین دل کی حالت جگر کی حالت اور دماغ کی حالت کا پتہ چل جاتا ھے
اب بات کرتے ھین نبض کس مقام سے دیکھنا افضل ھے تو اس پہ تمام حکماء نے کلائی سے نبض دیکھناافضل گردانا ھے باقی آئیندہ



Wednesday, September 5, 2018

تشخيص امراض ومزاج 29

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔تشخيص امراض ومزاج ۔۔۔۔۔ قسط نمبر 29۔۔۔
بات ھورھی تھی شریان کے پھیلنے اور سکڑنے کی تو ایک مثال آپ کے لئے میرے ذھن مین آئی ایک پلاسٹک کے پائپ کو پانی کے نل کے ساتھ لگائین اور یکلخت اس مین پانی چھوڑین اور آپ دیکھین گے پائپ مین پانی داخل ھوتے ھی پائپ نے پھولنا اور دباؤ سے جو کیفیت اس پائپ مین آپ کو نظر آۓ گی یہی سمجھ لین جب دل سکڑتا ھے تو اس کا مقصد دباؤ یعنی پریشر سے خون کو آگے روانہ کرنا ھوتا ھے اب یقینی بات ھے شریانین مین خون داخل ھوگا تو وہ پھیلین گی یعنی ثابت ھوا جب دل انقباضی حالت مین ھوتا ھے تو شریانین پھیلتی ھین بات تو آپ کو سمجھ آگئی ھو گی اب سمجھین کہ حکماء متقدمین نے اس پہ کیا فرمایا ھے علامہ حکیم کبیرالدین نے اپنی کتاب النبض مین علامہ علاؤالدین قرشی کا قول نقل کیا ھے اور اسے درست قرار دیا یاد رھے متقدمین حکماء مین سے سب کے اپنے اپنے خیالات اور نظریات اس پہ موجود ھین لیکن سب سے درست قرشی صاحب نے لکھا وہ فرماتے ھین
کہ قلب کے پھیلنے کے وقت شریانین سکڑتی ھین جب قلب سکڑتا ھے تو شریانین پھیلتی ھین اب وہ اس کی تشریح کچھ اس طرح کرتے ھین ۔۔۔جب قلب سکڑتا ھے تو روح اپنے شریانی خون کے ساتھ شریانون کے طرف قہراً و جبراً دفع کرتی ھے اور دھکلیتی ھے جس سے شریانین پھیلنے پہ مجبور ھوجاتی ھین اور یہ خون اس ترتیب سے آگے بڑھتا ھے کہ پہلے بڑی شریان سے چھوٹی شریانون مین اور پھر چھوٹی شریانون سے عروق شعریہ مین روانہ ھوتا ھے جس سے شریان پھر اپنے اصلی حجم پہ آجاتی ھین یعنی جب شریان سے خون آگے روانہ ھوتا ھے تو لازمی بات ھے شریان مین دباؤ کم ھوگا اور وہ اپنی پہلی پوزیشن پہ آجاتی ھے اب آگے لکھتے ھین
خون اور روح کی اس روانگی مین قلب کے انقباض اور اس کے زورکےعلاوہ یہ امر بھی اعانت کرتا ھے کہ شریانون کی لچکدار نالیان جن سے خون دب کر آگے روانہ ھونے پہ مجبور ھوتا ھے اور پھر جب قلب پھیلتا ھے تو خون کی دوسری طرف متصلہ شریانون اور رگون سے خون اور روح دوڑ کر قلب کی طرف آتا ھے اور اس کے خلا کو بھردیتا ھے یہ عمل پچکاری یعنی مرزقہ سے نہایت مشابہت رکھتا ھے الغرض قلب کے پھیلنے کے وقت شریانین سکڑتی ھین اور سکڑنے کے وقت پھیلتی ھین ا سے ثابت ھوا نبض کی حرکت قلب کی حرکت کے تابع ھے۔۔۔۔ میرا خیال ھے قرشی کی لکھی بات آپ قطعی نہین سمجھ سکے ھونگے کہ کیا لکھتا ھے یاد رکھین سب سے درست بات لکھی بھی قرشی ھی نے ھے لیکن یہ طبی الفاظ سمجھنا ھرایک کے بس کی بات نہین ھے اب آگے پڑھین قرشی صاحب کیا فرماتے ھین
کہ قلب کی حرکت اور اس کا انقباض وانبساط تو قلب کی ذاتی قوت سے وابستہ ھے جسکو اطبا قوت حیوانیہ سے یاد کرتے ھین اگرچہ اس کی یہ قوت محرکہ دیگر امور سے بھی متاثر ھوا کرتی ھے
مثلا جب آنکھون کے سامنے کوئی ڈراؤنی صورت آجاۓ تو دماغ واعصاب کے توسط سے قلب متاثر ھوتا ھے اور اس سے قلب کی حرکت مین ایک خاص تغیر آجاتا ھے یہی حال دیگر انفعالات نفسانیہ کا ھے
اسی طرح آلات ھاضمہ (جگر غدد) کے امراض واغراض سے اور دوسرے اعضاء کے دکھ درد سے بھی قلب کم وبیش متاثر ھوا کرتا ھے
چونکہ نبض کی حرکت قلب کے تابع ھوا کرتی ھے اس لئے ان تمام صورتون مین قلب کےاثرات کے تناسب سے نبض کی چال بھی طبعی رفتار سے بدل جایا کرتی ھے
اب مسیح الملک حافظ اجمل خان صاحب کا قول
فرماتے ھین نبض بھی تشخیص کے لئے ضروری چیز ھے ڈاکٹرون کا یہ خیال غلط ھے کہ نبض سےسواۓ حالات قلب کے اور کچھ بھی معلوم نہین کیا جا سکتا ساتھ ھی فرماتے ھین اور یہ قول بھی غلط ھے کہ نبض سے سب امراض کا پتہ لگایا جا سکتا ھے بلکہ حق یہ ھے کہ ھر شخص اپنے تجربے کے موافق نبض سے امراض کی نوعیت معلوم کرسکتا ھے بعض کو دس امراض کا تجربہ ھوتا ھے اب بعض کو بارہ کا اور بعض کو اس سے بھی زیادہ کا
اس کا انحصار مشق اور تجربہ پر ھے بلکہ بسا اوقات مریض کے بیان کی تردید محض نبض کی حالت سے ھی کی جاسکتی ھے
اب آگے فرماتے ھین اگر نبض کی تین چیزون پہ ھمیشہ دھیان رکھا جاۓ تو ھر مرض کی درست تشخیص ھو سکتی ھے
١۔اعصابی ودماغی کمزوری
٢۔ آلات ھضم اور کبد کا ضعف
٣۔ قلب کی حالت
دوستو یہ تھی سب سے درست بات اور یہان سے ھی آھستہ آھستہ راز کھلنے شروع ھوۓ اب ایک بات آپ کو بتا دون حکیم حافظ محمد اجمل خانصاحب حکیم احمد دین لاھوری حکیم محمد ابراھیم نابینا صاحب ایک ھی زمانہ مین ھوۓ ھین میرے پاس الحمداللہ اس دور کے شائع شدہ طبی مباحثہ جات جو پندرہ روز بعد شائع ھو کر پورے ھند مین بھیجے جاتے تھے تمام حکماء کے پاس ان مین ایک ایک جلد آج بھی میرے پاس محفوظ ھے اگر آپ مین سے کچھ نے یہ سمجھا ھو کہ مین بھی اس وقت موجود تھا تو آپ غلط سمجھے یہ دور میرے پردادا کا تھا سو سال پرانی بات ھے خیر اب تشریح اگلی قسط مین کرین گے انتظار فرمائین

جوڑون کا درد۔۔۔۔۔۔۔صرف حکماء کے لئے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔ جوڑون کا درد۔۔۔۔۔۔۔صرف حکماء کے لئے
جوڑون مین درد کی بہت سی وجوھات ھین سب کی الگ الگ تشخيص اور علاج بھی الگ الگ ھی ھے لیکن ایک مسئلہ پہ آج میری پوسٹ مین کمنٹس کی صورت مین کہا گیا ھے چند روز قبل لاھور مین مین اس شخص کے پاس ھی بیٹھا رھا ان صاحب سے تعلق داری ھے جو لاھور مین نئے جوڑ سپلائی کرتے ھین وھان جوڑون کا بغور مشاھدہ بھی کرنے کا موقعہ ملا غریب آدمی کے بس کا کام ھی نہین کہ نیا جوڑ لگوا سکے خیر یہ الگ موضوع ھے یہ مرض ھے جوڑون کا گھس جانا پھر شدید درد ھونا دراصل جوڑ کے اندر رطوبت ھوتی ھے وہ خشک ھو جاتی ھے تو جوڑ مین رگڑ ھوکر درد پیدا ھوتا ھے اس کا علاج جوڑ مین رطوبت پیدا کرنا ھے بے شمار پوسٹون مین قانون کا نقطہ نظر سمجھا چکا ھون رطوبت پیدا کرنے کے لئے کھار پیدا کرنا ضروری ھے اب بالمزاج کھار پہلے تیار کرین وہ بھی درد کش متعلقہ ادویات سے سرنجان شیرین تین کلو کو جلا کر راکھ بنائین جب راکھ سفید بن جاۓ تو پانی مین بھگو دین فلٹر کرکے پانی کو بخارات مین اڑادین باقی کھار بچ جاۓ گی اسی طرح تمہ کی بھی کھار اور مدار کی بھی کھار بنا لین اب سرنجان کی کھار 50گرام مدار کی کھار 100گرام تمہ کی کھار سوگرام اب برگ تھوھر سوکھا ھوا سوگرام سب کا سفوف بنا لین اور باریک دانہ مسور سے بھی چھوٹی گولی بنا لین تین وقت پانی سے دین جوڑون کے درد اور گھنٹیا مین بھی بہت مفید ھے یہ پوسٹ صرف حکما کے لئے ھے باقی لوگ سوال جواب قطعی نہ کرین کھار بنانے کا طریقہ سب طبیب جانتے ھین اگر سرنجان کا ست بنا لین تو وہ اس سے بھی زیادہ بہتر ھے

Tuesday, September 4, 2018

تشخيص امراض وعلامات 28

۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔تشخيص امراض وعلامات ۔۔۔۔۔قسط نمبر 28۔۔۔۔۔۔
کل ایک شخص کے کمنٹس تھے مین پوسٹ کہانی کی شکل مین لکھتا ھون آج میرے ایک دوست کلیم اللہ صاحب لاھور سے بھی فون پہ بات کرتے ھوۓ مجھے بتا رھے تھے کہ آپ کی لکھی پوسٹ بس ایک دفعہ پڑھنے سے یاد ھوجاتی ھے دوستو اصل بات یہ ھے یہ انداز یا صلاحیت اللہ تعالی کی طرف سے انسان کو ملتی ھے یہ اس کا خاص کرم ھو تب ھی انسان کے اندر یہ صلاحیت پیدا ھوتی ھے ورنہ طب جس زبان مین لکھی ھوئی ھے اسے پڑھنا اور سمجھنا ھرکسی کے بس کی بات نہین ھے مین اگر وھی زبان لکھون تب شاید دوچار ھی ڈکشنریان الٹ پلٹ کر ترجمہ کرلین گے باقی ھاتھ ملنے کے سوا کچھ بھی نہ کرین گے چلین اپنی ھی تعریف مین کافی الفاظ لکھ لئے اب بات کرتے ھین دل کی جس پہ پوسٹ سابقہ کا خاتمہ ھواتھا
لمبائی پانچ انچ موٹائی اڑھائی انچ مردون مین اور وزن مردون مین ڈیڑھ پاؤ سے سوا پاؤ تک عورتون مینایک پاؤ سے ڈیڑھ پاؤ تک ھوتا ھے دوران خون کا مرکز دل ھے مخروطی شکل کا جوفدار عضلاتی عضو ھے یہ اپنے غلاف مین ملفوف سینے مین دونون پھیپھڑوں کے درمیان ھوتا ھے یہ ھے دوستو دل کا تعارف
مزے کی بات ھے دل واحد عضو ھے جو بڑھاپے تک بڑھتا رھتا ھے دماغ چالیس سال کے بعد گھٹنا شروع ھوجاتا ھے لیکن یہ بڑھتا رھتا ھے اس کے اندر کی جانب ایک جھلی لگی ھوتی ھے جو شریانون کی اندرونی جھلی کے ساتھ ملی ھوتی ھے اسے طبی زبان مین غشا مستبطن القلب کہتے ھین اور آپ انگریزی مین اسے انڈوکارڈیم کہتے ھین
دل کے حصے دو ھوتے ھین لیکن خانے چار ھوتے ھین اب بات کو سمجھین جو دوحصے ھوتے ھین ان مین سے ایک کو دایان اور دوسرے کو بایان حصہ کہتے ھین ان دونون حصوں کے درمیان دیوار ھوتی ھے علیحدہ علیحدہ رکھنے کے لئے ۔۔۔اب ان دونون حصون مین دو دو خانے بنے ھوۓ ھین ان مین ایک خانہ چھوٹا اور ایک خانہ سائز مین بڑا ھوتا ھے
اب اوپر والا خانہ چھوٹا ھوتا ھے دوستو اب اس کو طبی زبان مین اذن القلب یعنی دل کاکان کہتے ھین اور انگریزی مین آریکل کہتے ھین اب نچلے اور موٹے یعنی بڑے خانے کو طبی زبان مین بطن القلب اور انگریزی مین وینڑیکل کہتے ھین دائین طرف کے دونون چھوٹے اور بڑے خانے ایک سوراخ کے ذریعے ملے ھوتے ھین یاد رکھین ان کے درمیان خون سیاہ ھوتا ھے اب بائین طرف کے دونون خانے بھی ایک سوراخ کے ذریعے سے آپس مین ملے ھوۓ ھوتے ھین یادرکھین ان کے درمیان سرخ خون ھوتا ھے
اب ان خانون کے درمیان ایک قسم کی کواڑیان لگی ھوتی ھین ان کی خوبی یہ ھے یہ صرف ایک طرف کو ھی کھلتی ھین ان سے خون گزر کر دوسرے خانے مین جاتا ھے لیکن مجال ھے جو خون کو واپس جانے دین ایک ذرہ برابر بھی خون واپس نہین لوٹتا اگر خون دباؤ دے کر واپس جانے کی کوشش بھی کرے تو یہ بند ھوجاتی ھین یہ خوبی ھے ان کواڑیون کی
اب دل کا اصل کام یہ ھے کہ وہ اپنی انقباضی حرکت سے خون کو دھکیل کر شریانون مین پہنچاتا ھے جو پورے بدن کی سیر کرتا ھے اب سوال اٹھتا ھے کہ دل خون دھکیلتا کس طرح سے ھے یہ اس طرح ممکن ھوتا ھے دوستو کہ دل کی عضلات سے تعمیر شدہ دیوارین پے درپے سکڑتی اور پھیلتی رھتی ھین جس سے دل متواتر سکڑتا اور پھیلتا رھتا ھے چنانچہ دل کے دونون اذن ایک ھی وقت مین پھیلتے ھین اور دونون بطن ایک ھی وقت مین سکڑتے ھین
جب دونون اذن پھیلتے ھین تو یادرھے دائین اذن مین اجوف ساعد اور نازل وریدون کے ذریعے جسم کا کثیف اور سیاھی مائل خون آتا ھے اور بائین اذن مین پھیپھڑوں کی وریدون کے ذریعے سےصاف شدہ خون آتا ھے
پھر دائین اذن کا کثیف خون درمیانی سوراخون کے ذریعے دائین بطن مین اور بائین اذن کا لطیف خون بائین بطن مین چلاجاتا ھے اب جب دونون بطن سکڑتے ھین تو دائین بطن کا کثیف خون یعنی گندہ خون یا کاربن ملا خون بذریعہ شریان ریوی پھیپھڑوں مین صفائی کے لئے جاتا ھے اور بائین بطن کاخون بذریعہ شریان اعظم یعنی اے آرٹا سے تمام بدن مین پرورش کے لئے چلاجاتا ھے
یاد رکھین دل کی یہ سکڑنے اور پھیلنے کی یہ حرکت ایک لمحہ سے بھی کم عرصہ مین مکمل ھوجاتی ھے دل کی ھر سکڑنے کی حرکت مین تقریبا ڈیڑھ چھٹانک خون شریانون یا ورید شریانی مین چلا جاتا ھے
یہ تھی مختصر تشریح دل کے فعل اور بناوٹ اور کام کے بارے مین اب تھوڑی وضاحت کہ جب دل سکڑتا ھے تو کیا شریانین بھی اسی وقت سکڑتی ھین یا جب دل پھیلتا ھے توشریانین اس وقت سکڑتی یا پھیلتی ھے کب کس کا کیا عمل ھوتا ھے اس کی وضاحت اگلی قسط مین دوستو

Sunday, September 2, 2018

تشخيص امراض وعلامات 27

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔ تشخيص امراض وعلامات۔۔۔قسط نمبر 27۔۔۔۔۔
نبض۔۔۔۔یہ علم انسان کے پاس ھزارون سال سے ھے بڑا ھی عجیب وغریب علم ھے جسے علم نہین اس کے لئے صرف شریان کی پھڑکن کا نام نبض ھے جسے اس فن کا علم ھوگیا اس کے لئے کائینات کے رازون مین سے ایک راز کا جاننا ھے بڑا ھی گہرائی رکھنے والا علم ھے طب کاانحصار تو سچ سمجھین پورے کا پورا فن نبض پہ ھے یا قارورہ لیکن ایلوپیتھک مین کچھ حصہ نبض کا سمجھا گیا ھے جیسے ای سی جی یا بلڈ پریشر چیک کرنا نبض کی رفتار یا بندہ زندہ ھے یا مردہ اس کے لئے گردن سے نبض کی حرکت محسوس کرنا
لیکن طب مین نبض کی حرکت کلائیون سے دیکھی جاتی ھے لیکن ایک بات یاد رکھین ھر طبقہ یا فرقہ یعنی ھر طریقہ علاج آخر مین زندگی کی تلاش نبض سے ھی کرتا ھے ایک طبیب یہ کرتا ھے پہلے ھی روز سے مرض کی تلاش نبض سے کرتا ھے بے شمار ٹیسٹ کروا لین ٹیسٹ غلط ھو سکتے ھین لیکن نبض غلط نہین ھو سکتی اب اس پہ ایک چھوٹی سی مثال سمجھ لین آپ لیبارٹری تشریف لے گئے ٹیسٹ ھوۓ انہون نے ھیپاٹاٹس نکال دیا میرے بھیجے ھوۓ مریض کے تین دن بعد پھر ٹیسٹ کروا لین کلیر آجائین گے ھوتاکیا ھے ؟ لوھے کو لوھے سے کاٹ دیتا ھون یہ کام اللہ گواہ ھے مین نے غریب اور بے بس وہ لوگ جو عرب مزدوری کے لئے جاتے تھے سب جمع پونجی داؤ پہ لگا کے عربون کی نوکریان کرنے چلے جاتے تھے انہون نے لیب ٹیسٹون کی شرط لگا دی اب یہان بہت سی لیب نے ان کے سفارتخانوں سے اپنی لیبارٹریون کے ٹیسٹ منظور کروا کے ان غریبون کو لوٹنا شروع کردیا اگر ٹیسٹ تھوڑا بھی مشکوک ھوا اسے کلیر کرنے کے ان لیبون نے لاکھ روپیہ ریٹ رکھ دیا اب جس کے پاس لاکھ نہین وہ حکیمون اور ڈاکٹرون سے رگڑے لگوا کر تھک ھار کر سب کچھ لٹا کر گھر بیٹھ جاتا یہی کیس ایک میرے پاس آیا ساتھ شرط بھی یہ تھی صرف پندرہ دن رہ گئے ویزہ ختم ھوجانا ھے مین نے کافی دیر سوچا اللہ تعالی نے دماغ روشن کردیا یاد رکھین مین نے اس شخص تو کیا ۔۔۔ کسی بھی سعودیہ جانے والے ان لاچار لوگون سے دس روپیہ بھی وصول نہین کیے ایک حکیم جو شرط ھے واقعی حکیم ھو اسے میری بات سمجھنے مین چند سیکنڈ لگین گے ھیپاٹاٹس کا شکار مریض کے جسم مین اگر کھار بننی شروع ھو جاۓ تو ھیپاٹاٹس ختم ھوجاتا ھے وائرس کی ایسی کم تیسی ایک منٹ بھی وھان رہ سکے ایلوپیتھی کا ایک پکا نظریہ ھے کہ وائرس کو ختم نہین کیا جا سکتا کوئی ایسی زھر نہین جو انسان کو بھی زندہ رھنے دے اور وائرس کو بھی ختم کردے لیکن میرے بھائیو ایک بات یاد رکھین طب مین ایسی تین زھرین موجود ھین جن سے ھرقسم کا وائرس ختم کیا جا سکتا ھے اور بدن پہ زرہ بھی خراش تک نہین آتی اب ھیپاٹاٹس کے وائرس کو کھار پیدا کرکے ختم کیا جا سکتا ھے لیکن جس کھار کا مین ذکر کرنے لگا ھون یہ کیمیکلی ھے عارضی چیز ھے مستقل علاج نہین ھے ھان جو بات میرے دل مین اللہ ﷻ نے ڈالی وہ یہ تھی کہ اس بندے کے جسم مین عارضی طور پہ اتنی کھار بھر دو کہ لیبارٹری کے سب کمپیوٹر اور کٹس بے وقوف بن جائین مین نے اس شخص کو سوڈامنٹ کی پانچ پانچ گولیان دن مین تین بار پانچ روز کھلائین پھر علاقہ کی اچھی لیب سے ٹیسٹ کروایا جو کلیر آیا اور مریض کو گولیان نہین چھوڑنے دین مسلسل کھلوائین چند روز بعد متعلقہ لیب سے ٹیسٹ ھوا اور کلیر آیا بس پھر کیا تھا یہ جا وہ جا بندہ سعودیہ پہنچ گیا یاد رکھین راز تو مین کھول دیااب اگر کسی نے اسے غلط استعمال کیا یا کسی مریض کو یہ کھلا کر لوٹا تو میری دعا ھے اللہ تعالی اسے سیدھا جہنم لے جاۓاوردنیا مین عبرت ناک انجام کاحق دارٹھہرے اس بات کو علم کی حد تک امانت سمجھین
یہ مثال تھی لیبارٹری ٹیسٹون کی توسچ کیاھےنبض؟
بے شمار حکماء نے اپنےاپنےانداز مین نبض کی تعریف لکھی ھے متفقہ الیہ حکماءفرماتے ھین ۔
نبض شریان کی اس حرکت کانام ھے جو دل کے انقباض یعنی دل کا سکڑنا اور انبساط یعنی دل کے پھیلنے کے ساتھ ان مین جو خون پھیکنے سے جو حرکت پیدا ھوتی ھے اسے نبض کہتے ھین اور یہ حرکت جسم کی تمام شریائن پیدا کرتی ھین وریدین نہین ۔۔لیکن یہان پہ ان مخصوص شریائن کی بات ھورھی ھے جو بعض مقامات یعنی انسانی جسم مین بعض جگہوں پہ واضح طورھوتی ھین اورانگلیان رکھنے پہ ان کی تڑپ محسوس ھوتی ھے ان مین زیادہ ترکلائی کنپٹی ٹخنے گردن کی شریائن ھین لیکن زیادہ تر نبض بلکہ حکماء متفقہ الیہ کلائی کی نبض کو ترجیح دیتے ھین ۔لیکن دوستو نبض کی تعریف کے ساتھ ھی ایک سوال پیدا ھوتا ھے وہ عضو جو نبض مین انقباض وانبساط پیدا کرتا ھے اس کی حقیقت سمجھین گے تو نبض کے اصل مفہوم کی سمجھ آۓ گی اب ایک بات توواضح ھے کہ نبض کی تڑپ دل کے پھیلنے اور سکڑنے سے پیدا ھوتی ھے تو وہ عضو تو دل ھی ھوا نا جس کی تشریح اور توضیح سمجھے بغیر آپ نبض کی تشریح نہین سمجھ سکین گے
دل جسے شاعرون نے بڑا ذلیل کیا باقی آئیندہ

Saturday, September 1, 2018

چند اھم گزارشات

۔۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔ چند اھم گزارشات ۔۔۔۔۔۔۔
پہلی بات۔۔۔الحمداللہ تشخيص امراض وعلامات پہ تشریحات کی 26 اقساط لکھی جا چکی ھین اب آگے مضمون نبض کی تشریحات کے متعلق ھوگا انشاءاللہ آج سے نبض پہ مضمون چلنا شروع ھوجاۓ گا
دوسری بات۔۔ کل ایک پوسٹ کینسر کے علاج پہ لکھی تھی انشاءاللہ ایک دن بعد یا روزانہ کے حساب سے باقی کینسرون کے علاج پہ بھی ضرور لکھ دونگا لیکن یاد رکھیے ھردوا کو کسی بھی اپنے قریبی حکیم سے بنوا لین
تیسری بات۔۔۔ بہت سے دوستون نے انباکس میسج کیا ھے کیا اس دوا کو کیمیاء مین استعمال کیا جا سکتا ھے کچھ راز سے پردہ اٹھا دین تھوڑی دیر مین وہ پردہ اٹھا دونگا
چوتھی بات۔۔۔ ھر نیا ممبر آتے ھی مجھ سے کسی نہ کسی مرض پہ لکھنے کی فرمائش کردیتا ھے ھر نیا آنے والا ممبر میری کسی بھی پوسٹ پہ لگی میری چھوٹی سی تصویر پہ کلک کیا کرین میری ساری پوسٹین اس کے سامنے کھل جائین گی پہلے وہ ان مین سے متعلقہ مرض کی پوسٹ دیکھے نوے فیصد لوگون کو متعلقہ مرض کی پوسٹ ضرور مل جاۓ گی دوبارہ سے لکھنا ممکن نہین ھوتا بہت زیادہ امراض پہ مضامین قسط وار لکھے جا چکے ھین اگر دوبارہ سے اسی مرض پہ لکھون تو باقی امراض پہ لکھنا ممکن نہین رھتا براہ کرم پہلے گروپ مین دیکھا کرین

کیمیاء گرون کا تیل

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیمیاء گرون کا تیل ۔۔۔۔۔۔
بہت سے لوگون نے انباکس رابطہ کرکے مجھے کہا کہ جو پوسٹ آپ نے کل کینسر کے لئے لکھی ھے اس مین کیمیاء کا کوئی نہ کوئی راز ضرور ھے آپ اس راز کو بھی لکھین مین چند الفاظ مین ایک بات بتاۓ دیتا ھون آگے آپ لوگون کاکام ھے میرا نہین تو سمجھین
جب پھٹکڑی کو آگ پہ رکھین تو پہلے نہین رکھنا بلکہ پہلے عرق ھلدی ڈالنا ھے پھر پھٹکڑی ڈالین عرق سوکھنے نہین دینا آھستہ آھستہ سب عرق ڈالکر ختم کرین یہ بات بھی یاد رکھنی ھے آپ نے یہ عمل کسی تغاری مین ریت ڈال کر اس مین پھٹکڑی اور عرق والا برتن رکھنا ھے جب سب عرق استعمال ھوجاۓ تو آخری مرحلہ پھٹکڑی خشک ھونے سے پہلے آگ سے اتار لین اور اسے دھوپ مین سکھا لین جب اچھی طرح سوکھ جاۓ تو کسی شیشے کے بڑے جار مین ڈال کر اس تیار شدہ پھٹکڑی کے برابر وزن یوریا کھاد شامل کرکے منہ بند کرکے گھنٹہ دو گھنٹہ دھوپ مین رکھ دین پھٹکڑی کا تیل ھو جاۓ گا کچھ لوگ ویسے ھی پھٹکڑی کو تھوڑا باریک کرکے کھاد ڈال کر تیل بناتے ھین لیکن کسی کام کا نہین ھے پھر اس کا عمل شنگرف سے کرتے ھین اور ناکام رھتے ھین اسی طرح گندھک کا بھی اور دیگر کچھ اشیاء کا تیل بنایا جا سکتا ھے اور بن جاتا ھے اس سے آگے آپ جانین اور آپ کاکام جانے

Friday, August 31, 2018

تشخيص امراض وعلامات 26

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔تشخيص امراض وعلامات۔۔۔۔قسط نمبر 26۔۔۔۔۔
کل کی قسط مین ھم بات کررھے تھے تحلیل کی
تحلیل۔۔۔۔۔۔تحلیل مین آپ کو بتارھا تھا جب کوئی بھی عضو حالت فساد کو ختم کرنے کے لئے مسلسل کوشان رھے چاھے اس کی اپنی ساخت کو ھی کیون نہ نقصان پہنچ جاۓ جس سے اس کے اپنے اندر ضعف اور کمزوری پیدا ھوتی چلی جاۓ
یاد رکھین حالت تحریک مین عضو کے اندر خون کا اجتماع ھوجاتا ھے اور عضو جسمی طور پر سکڑ جاتا ھے
اور حالت تسکین مین عضو کے اندر رطوبات کا اجتماع ھوجاتا ھے اور وہ پھول جاتا ھے
اور حالت تحلیل مین عضو کے اندر انتشار مواد ھوتا ھے اور وہ جسمی طور پر پھیل جاتا ھے
کیمیائی محلول ھون یا عناصر کیفیات ھون یا اخلاط جب بھی کسی ایک شے کی زیادتی ھو گی تو از خود دوسری شے کی کمی ھوجائے گی یہ ایک پکا یا مسلمہ سائینسی اصول بھی ھے اور فطری قانون کی حیثت سے جانا جاتا ھے بدن مین موجود مواد کی جسمانی وکیمیائی نوعیت تین طرح کی ھوتی ھے
نمبر١ـــ رطوبات ھین
نمبر٢ـ۔ نمکیات یا حل پذیر مادے ھین
نمبر٣ــ ٹھوس غیر حل پذیر مادے ھین
جاننا چاھیے کہ ٹھوس مواد جب تک نمک کی صورت اختیار نہین کرتا حل نہین ھو سکتا اور حل ھوۓ بغیر جزو بدن نہین بن سکتا
یہ وہ کام ھے جو بدن کے اندر جگر وغدد سرانجام دیتے ھین یہ ھر ٹھوس مادے کو محلول کرلیتے ھین اور جو مواد محلول نہین بن سکتا وہ فضلہ ھوتا ھے اس کا اخراج ضروری ھوتا ھے جیسا کہ مین عرض کرچکا ھون جسمی طور پر بدنی مواد کی تین اقسام ھوتی ھین ان کا مناسب توازن اور اعتدال افعال بدن کی بجا آوری کے لئے ضروری ھے اگر کوئی بھی مواد زیادہ ھوگا تو اس کا نتیجہ بھی آپ کو بتایا ھے دوسرا مواد کم ھو گا خواہ وہ بدن کے لئے کتنا ھی ضروری کیون نہ ھو یادرکھین کسی عضو کا قوت پانا بہت ھی اچھی بات ھے لیکن اگر غیر ضروری یا اعتدال سے بڑھ کر کسی عضو مین قوت آجاۓ تو یاد رکھین دوسرے عضو مین لازما ضعف اور کمزوری آۓ گی اس فلسفہ کی اگر آپ کو سمجھ آجاۓ تو سمجھ لین جیسے قوی انتشار اور امساک کے لئے شدید محرک اور ممسک ادویات کھائی اور کھلائی جاتی ھین مجھے آج تک کوئی ایک مثال بتا دین وہ شخص زیادہ عرصہ زندہ رھا ھون دوچار پانچ دس سال کے اندر موت واقع ھوجاتی ھے اس کی جگہ دوسرا بندہ یہی کچھ کھانا شروع کردیتا ھے اس سے دوسرے اعضاء کمزور ھو کر موت کا سبب بنتے ھین خیر یہ ایک علیحدہ موضوع ھے آپ کو صرف مثال دینا مقصود تھا
جب افعال کی موزونیت اور معقول تناسب جسم مین اعضاء کے ضعف کی وجہ سے نہین رھے گا تو لازماً موت کے اندھیرے قریب ھی ھین اس لئے یاد رکھین اعضاء کی درستگی کے لئے یا صحت کے لئے ضروری ھے ھر خلط اعتدال پہ رھے یا رکھی جاۓ
اب دیکھین مواد کی نوعیت کے لحاظ سے اگر بدن مین پانی ھی زیادہ ھوجاتا ھے تو سارے حل پذیر مادے حل ھوجائین گے لیکن ناحل پذیر مادے پانی مین ڈوب ھی جائین گے اگر ناحل پذیر مواد زیادہ ھوگا تو نمکیات نہین بن سکین گے اگر نمکیات زیادہ ھو گئے تو پانی ناکافی ھو گا ۔۔۔اسی طرح بدنی رطوبات کا اعتدال ختم ھوجاۓ گا جو باآلاخر فعلی اعتدال کے خاتمے پر منتہج ھوگا اگر یہ حالت پیدا ھوجاۓ تو اس کا تدراک اس طرح کیا جاۓ کہ جب رطوبات زیادہ ھوجائین تو انہین بستہ کیاجاۓ یعنی جمادیا جاۓ تاکہ وہ ناحل پذیر ھوجائین مین اب دوسرے لفظون مین سمجھاتا ھون یعنی بلغم کو سودا مین بدل دیا جاۓ ھان اگر سودا زیادہ ھوجاۓ اور ناحل پذیر مواد کی کثرت ھوجاۓ تو اس کو حل پذیر نمکیات مین بدل دیا جاۓ یعنی سودا کو صفرا مین بدل دیا جاۓ اگر نمکیات زیادہ ھوجائین تو انہین پانی زیادہ پیدا کرکے حل کردیا جاۓ یعنی صفرا کو بلغم مین بدل دین
کیفیات کے حوالے سے یہ ترتیب کچھ یون رھے گی
یعنی اگر تری بڑھ جاۓ تو اسے خشکی مین تبدیل کردیا جاۓ اگر خشکی زیادہ ھو گئی ھے تو اسے گرم رطوبت مین بدل دیا جاۓ اور اگر حرارت زیادہ بڑھ جاۓ تو اسے سرد رطوبت سے ختم کیا جاۓ یہ کیفیات مین رطوبت یبوست حار بارد کا قانون آپ کو بتایا ھے
یادرکھین تحریک تحلیل تسکین کاپیدا ھونا ایک بہت ھی بڑا خودکار نظام ھے جونہین کسی عضو مین تحریک پیدا ھوتی ھے تو فورا ھی دوسرے عضو مین تحلیل اور تیسرے مین تسکین واقع ھوجاتی ھے یادرکھین یہ وہ عمل ھے جس سے طبیعت بدنی کیفیاتی اور مادی تناسب واعتدال کو بحال کرتی رھتی ھے
یادرھے طب کی ھر کتاب مین یہ بات تودرج ھے طبیعت ازخود مرض کا علاج کرتی ھے طبیب صرف طبیعت کی معاونت کرتا ھے لیکن افسوس یہ بات کسی نے بھی نہین بتائی یا لکھی کہ کیسے طبیعت علاج کرتی ھے اور کیسے طبیب معاونت کرتا ھے یہ آج آپکو پتہ چلا ھوگا کہ قوت کیا ھوتی ھے اور کیسے پیدا ھوتی ھے ضعف کیا ھوتا ھے اور کیسے ھوتا ھے افعال کی سستی کیا ھوتی ھے اور کیسے وارد ھوتی ھے باقی مضمون اگلی قسط مین