Tuesday, November 16, 2021

ہریڑ کی ایک خاص ترکیب

 ہریڑ . مخفی و مجرب کایا پلٹ نسخہ خاص الخاص 

________________________________________

ہریڑ کی ایک خاص ترکیب 

«««««««««««««««««««««««««««««««««««»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»۔     

اور اسطرح ہریڑ استعمال کرنے سے پہلے مہینے معدہ اور آنتوں کے امراض کو فائدہ ہوتا ھے، دوسرے ماہ جگر، تیسرے ماہ گردے اور مثانہ، چوتھے ماہ آنکھ کی روشنی بڑھ جاتی ہے، پانچ ماہ بعد دل کے امراض، چھٹے ماہ جوڑوں کے امراض، ساتویں ماہ جریان اور منی کے امراض، آٹھویں ماہ قوت حافظہ،نو ماہ بعد سفید بال سیاہ ہونا شروع ہوجاتے ھیں، دس ماہ بعد طبیعت میں جوش و ولولہ، گیارہ ماہ بعد روحانی لطافت اور بارہ ماہ کے بعد کایا پلٹ مکمل ہو جاتی ھے.

کالی ہریڑ ایک سو پچاس گرام کا سفوف کر کے دیسی گھی یا روغن بادام سے چرب کرلیں اور ساتھ جو کچھ ملانا ھوگا اسکی تفصیل نیچے لکھ رہا ہوں. یہ ایک سو پچاس گرام سفوف دو ماہ چلے گا. پھر نیا بنا کر جس موسم کی چیز لکھی ھے وہ ملا لیا کریں. پورا ایک سال استعمال کر کے پورے جسم کی کایا پلٹ جاتی ھے.

سفوف کو چرب کرنے کا طریقہ.

دیسی گھی یا خالص روغن بادام کو ہاتھوں کی ہتھیلیوں پر لگا کر دونوں ہاتھوں سے سفوف کو ملیں، اسی طرح دوتین بار کریں تا کہ گھی یا روغن کی وجہ سے سفوف میں چکنائی آ جائے. بہت زیادہ مقدار میں گھی نہ ڈالیں، بس ھلکا سا تا کہ سفوف، سفوف ھی رھے صرف اس میں چکنائی کا اثر آ جائے.

1- چیت اور بیساکھ میں 150 گرام سفوف میں 150 گرام شہد ملا کر پانچ گرام روزانہ

2- جیٹھ اور ہاڑ میں 150 گرام سفوف میں 150 گرام گڑ ملا کر پانچ گرام روزانہ

3- ساون اور بھادوں میں 150 گرام سفوف میں 150 گرام نمک سیاہ ملا کر پانچ گرام روزانہ

4- اسوج اور کاتک میں 150 گرام سفوف میں 150 گرام مصری ملا کر پانچ گرام روزانہ

5- مگھر اور پوہ میں 150 گرام سفوف میں 150 گرام سونٹھ کا سفوف ملا کر پانچ گرام روزانہ

6- ماگھ اور پھاگن میں 150 گرام سفوف میں 150 گرام فلفل دراز کا سفوف ملا کر پانچ گرام روزانہ

.

* نوٹ *

ایک سو پچاس گرام کالی ہریڑ کا چرب شدہ سفوف ہو اور ایک سو پچاس گرام ساتھ جو چیز ملائی جائیگی تو وزن تین سو گرام ھو جائے گا اور پانچ گرام روزانہ لینے سے دو ماہ نکال جائے گا.

دو ماہ بعد نیا سفوف بنا کر چرب کر کے موسم کے لحاظ سے جو چیز لکھی ہو وہ ملا لیا کریں. اور ھندی مہینے جنتری یا اخبار سے دیکھ لیا کریں.

مثال کے طور پر اب "پوہ" کا مہینہ جا رھا ھے تو سفوف ھریڑ کے ساتھ سونٹھ کا پاؤڈر ملا کر پانچ گرام روزانہ لے کریں

اس ترکیب میں آسانی یہ ھے کہ سال کے جس مہینے سے مرضی ھو شروع کر سکتے ھیں.

HAKIM ABDULLAH

Sunday, November 14, 2021

ڈینگی بخار کا منفرد علاج

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔ ڈینگی بخار کا منفرد علاج ۔۔۔۔۔۔۔

صبح صبح مین نے خبرین سنین کہ لاھور مین ڈینگی بہت تیزی سے پھیل گیاھے پھر تھوڑی دیر بعد مجھے حکیم کلیم اللہ صاحب نے فون کیا کہ لاھور مین ھمارے آس پاس پوری پوری فیملیان ڈینگی مین مبتلاھوچکی ھین کوئی انوکھی دوا بتلائین 

حکماء حضرات ایک بات یاد رکھین کہ ڈینگی بخار مین نبض عضلاتی غدی ھواکرتی ھے بعض مریضون مین غدی عضلاتی نبض ھوچکی ھوتی ھے یعنی مرض آگے بڑھ چکی ھوتی ھے مندرجہ ذیل دوا بنائین اور استعمال کرین اللہ تعالی سب کو شفادے 

اکسیر بادیان کانام توسب نے سن رکھاھے بلکہ آپ نے بنابھی رکھا ھوگا اسے مکمل نسخہ سے بنائین 

یعنی

 سونف 100گرام 

ملٹھی سوگرام

ھلدی سوگرام

ریوندخطائی تین سوگرام

پیس کر باریک سفوف بناکر اس مین تین سوگرام پیپتہ کے پتون کاپانی شامل کرکے شامل کرکے نخودی حب بنالین دودوگولی دن مین تین بار ھمراہ پانی دین

دواسازی-13

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔ دواسازی کیسےکی جاۓ۔۔۔۔۔قسط۔13۔۔۔۔۔۔

ایک بات ھمیشہ یاد رکھین نباتات اوردیگرادویات جوکہ اصلی حالت مین استعمال کی جاتی ھین ان کےاثرات آھستہ  آھستہ رونما ھوتےھین اورانکے مضرات یا توھوتےھی نہین یاپھر نہ ھونےکےبرابرھوتےھین اورجودوائین بدن مین داخل ھونےکےبعد حرارت غریزی سےمتاثرھونےکےبعداپنےاثرات ظاھرکرتی ھین یہ اثرات بالکیفیت ھوتےھین اور کچھ ادویات اپنی تیزی کی وجہ سے براہ راست اثراندازھوتی ھین یاد رکھین کشتہ جات بھی انہی ادویات مین آتےھین لیکن ان کے ساتھ ایک خطرہ بھی لازمی ھوتاھے وہ خطرہ اسکے مضراثرات کی امکانات بہت زیادہ ھوتےھین پچھلی قسطون مین آپکو یہ بات بتاچکاھون کہ ایلوپیتھی ادویات تقریبا کشتہ جات طرز پہ ھی بنائی جاتی ھین اسی لیے ان کے مضراثرات لازما ھوتےھین لیکن ان ادویات کے تیار کرنے والے انسانون کووہ دوا تب کھلاتےھین جب وہ مکمل طور کے ھر اچھے اور برے فائدہ کے بارے مین جان چکے ھوتےھین ھمیشہ ھردوا کے ساتھ ایک لٹریچر موجودھوتاھے جس مین اسکے دوا کے مضراثرات اوراچھے اثرات کی مکمل آگاھی لکھی ھوتی ھے بلکہ یہ بھی لکھاھوتاھے کہ آپ اس دوا کے ساتھ فلاں فلاں کیٹاگری کی ادویات کسی صورت استعمال نہین کرسکتے ورنہ ان دوادویات کے ملنے سے بدن انسانی پہ فلاں اثرات ھوسکتےھین اب یہ ڈاکٹرکی نااھلی ھوتی ھے جو ایسی ادویات کے کمبینیشن بناکرتجویز کردے یہ بھی ڈاکٹر کی نااھلی ھوتی ھے جو بغیرسمجھے کہ اس دوا کی مقدارخوراک کیاھے کس کس مرض مین کب اور کیسے استعمال کی جاسکتی ھے اور کن امراض کےھونے کی صورت مین اس دوا کوکسی صورت استعمال نہین کرنا بالکل اسی طرح طب مین تیار شدہ کشتہ جات کے بارے مین جب تک طبیب کو اس کشتہ کے مکمل افعال کے بارے مین علم نہ ھوکہ یہ کشتہ جسم پہ کون سے اچھے اثرات اور کونسے برے اثرات جسم پہ چھوڑتاھے اس وقت تک اس طبیب کوکسی صورت کشتہ جات کے نزدیک بھی نہین جاناچاھیے اس وقت نہایت ھی افسوس ھوتاھے جب یارلوگ بے دھڑک سم الفار کے استعمال کرنے اور اسکے ساتھ بغیر سوچے سمجھے ایسی ایسی ادویات ملاکرمرکبات بتاتےھین جن کی تمہید اسراری یا صدری یاسینہ پھاڑ راز سے شروع ھوتی ھے لیکن انہین قطعی علم نہین ھوتا کہ مین کیالکھ رھا ھون اور جودوائین اسکے ساتھ ملاکر مرکب بنارھاھون کیا انہین ملانا بھی چاھیے ؟

خیر یہ بات نہین ھے کہ طبیب کشتہ جات کااستعمال نہ کرین بلکہ ضرور کرین لیکن پہلے کشتہ کی ماھیت کوضرور سمجھین یہ بھی حقیقت ھے اکثریت نباتات ضعیف الاثرھوتی ھین اور معدنیات قوی الاثر ھوتی ھین اور پھر کشتہ جات سریع النفوذ ھوتےھین بقراط کی مترجم کتاب الامراض الدخلیہ مین تحریر ھے ان المرض القوی یحتاج الدواءالقوی یعنی قوی مرض قوی دواکامحتاج ھوتاھے اسی لیے ھمیشہ سے مہلک امراض مین اطباء کرام نے قوی دوائین تجویز کی ھوتی ھین یادرکھین ایسا نہین ھے کہ معدنیات کے علاوہ قوی دوائین نہین ھین بالکل ھین جس مین زعفران کستوری عنبر جیسی ادویات شامل ھین کم قیمت ادویات مین رائی اسگندھ جیسی ادویات نہایت ھی قوی ادویات ھین یہ نکتہ بھی ذھن نشین کرلین مرض جب بھی جسم پہ غلبہ کررھی ھوتی ھے توحرارت غریزی فنا ھورھی ھوتی ھے اب اطباء کرام یہاں ھمیشہ سے قوی الاثر دواؤن مین مشک یا زعفران ضرور تجویز کرتےھین خیر بات کشتہ جات پہ ھی کرتےھین جب بھی ھم لفظ کشتہ استعمال کرتےھین تو ھمیشہ معدنیات کوھی کشتہ سمجھتےھین لیکن یادرکھین نباتات کوبھی کشتہ کی شکل دی جاسکتی ھے اور دوسری بات یہ ھے کہ صرف کشتہ جات ھی سریع الاثر نہین ھوتے بلکہ کسی بھی دوا کا جوھر کشتہ سےبھی زیادہ سریع الاثر ھوسکتاھے اور جو جوھر بنانے کاطریقہ آپ جسے سمجھتےھین یہ محض ابتدائی شکل ھے جوھر کی ایک قسم خاص الجوھر ھے انشاءاللہ اگلی قسط اسی پہ لکھون گااور آپ انشاءاللہ حیران رہ جائین گے آج کا مضمون یہین پہ ختم کرتاھون دعاؤن مین یادرکھیے اللہ حافظ محمودبھٹہ گروپ مطب کامل

Saturday, November 13, 2021

دواسازی-12

 ۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔ دواسازی کیسےکی جاۓ۔۔۔۔۔قسط 12۔۔۔

گل حکمت ۔۔۔۔اگر لفظ گل حکمت کے لفظی معنی یا تعریف لکھی جاۓ تو گل بمعنی مٹی کےھین یعنی کسی بھی مطلوبہ کشتہ کرنےوالی دوا کو آگ دینےسےپہلےمٹی ایسی لگانا کہ جس سے دوا کی روح اور کیمیائی اجزاء ضائع نہ ھون بلکہ محفوظ رھین مٹی لگانےکافن یہ ھوناچاھیے کہ آگ سے مٹی پھٹے نہین اس مین دراڑین نہ آئین اس مقصد کےلئے کئی طرح کی مٹی تیارکی جاتی ھے عام اور معروف طریقہ یہ ھے کہ مٹی کےاندر روئی شامل کی جاتی ھے اب جتنی زیادہ روئی شامل ھوگی مٹی اتنی ھی بہترین رھے گی اس پہ آگ خواہ من یا دومن بھی دے دی جاۓ یا کئی روز آگ جاری رھے تب بھی دراڑین نہین آتی بعض دفعہ مٹی کی تیاری مین گڑ شامل کیاجاتاھے یا روئی اور گڑ دونوں شامل کیے جاتےھین خیر بہترین طریقہ یہی ھے ضرورت کےمطابق مٹی لین ھاں یادرھے مٹی کامعیار وھی ھوناچاھیے جو کمہار مٹی کےبرتن بناتے وقت استعمال کرتےھین یعنی مٹی سرخ ھوجوچیکنی کہلاتی ھے اب اس مین معمولی مقدار مین باریک ریت شامل کرین اب اس مٹی کو گڑ کے شیرہ سے گوندھ لین جیسے روٹی پکانےکےلیےآٹا گوندھاجاتاھے اب اس گندھی مٹی کے چارون طرف روئی کی باریک لیر چپکائین اور مٹی کودونون ھاتھون سے کھینچناشروع کردین باربار کھینچنےوالا عمل کرین تاکہ مٹی مین روئی اچھی طرح شامل ھوجاۓ جب یہ شامل ھوچکے تومذید روئی مٹی کے ساتھ چپکالین اور یہی عمل دہراکرروئی شامل کرتےجائین تھوڑے ھی وقت مین اب اچھی خاصی روئی مٹی مین شامل کرچکے ھونگے اب دوا خواہ آپ نے کسی ڈولی مین ڈالی ھے یادوپیالون مین رکھی ھے اس مٹی سے صرف سوراخ ھی بندنہ کرین بلکہ پورے برتن پہ باریک سی تہہ لگائین تاکہ برتن بھی نہ پھٹ سکے عموما شدید آگ مین مٹی کابرتن پھٹ جایاکرتاھے اگر کپڑ روٹی کرنا مقصود ھو تو پہلے سوتی کپڑا اتنے سائز کالین جس مین کانگدہ مکمل آجاۓ پھر اس کپڑے کو کیچڑ کی شکل مین مٹی سے اچھی طرح لتھڑ لین اور نگدہ کےچاروں طرف لپیٹ کراچھی طرح چڑھا دین اور اسے دھوپ مین رکھ دین جب یہ سوکھنےکےبالکل قریب ھوجاۓ تو پھر یہی تیار شدہ گلحکمت والی مٹی کی باریک تہہ تمام کپڑروٹی کے اوپر چڑھا دین اب اسے دھوپ مین خشک کرکے حوالہ آگ کرین یہ کسی صورت پھٹے گانہین اوردوا محفوظ رھے گی دوستو یہ سب طریقہ جات طب سے منسلک ھین جوھرزمانہ یا دور مین انتہائی کسمپرسی یاعسرتانہ ماحول مین نہایت نفاست سے انجام دی جاتی رھی لیکن جدید سائینس یہی عوامل شیشے کے اوزاروں سے انجام دے رھےھین یہی عمل دھون بوتلوں ریٹارٹ کیف جو آتشین یعنی آگ سے نہ پھٹنے والے شیشے کے برتنون مین بناۓ جاتےھین اس طریقہ مین ایک اچھائی یہ بھی ھوتی ھے کہ دوا کاساراعمل صاف نظر بھی آرھاھوتاھے لیکن ان تمام سہولیات سےاستفادہ حاصل کرنےکےلئے اسی معیار کی تعلیم ھونابھی ضروری ھے اور سرمایہ ھونابھی ضروری ھے اس لیے آپ کےلئے بہترین طریقہ یہی ھے کہ قدیم طریقہ کار کو تھوڑا جدت سے اور نفاست سے استعمال کرین بعض حکماء نے آگ کو جدید انداز مین دینے کا یہ طریقہ کار بھی اخذ کررکھا ھے اور اسکی ویڈیوکلپ بناکر بھیج رکھے ھوتےھین اس مین زرگروں کے استعمال والا برنل ھاتھ مین پکڑ کر جواھرات کوآگ دے کر جلاکر بھسم کررھے ھوتےھین اوربڑے ماھرانہ اندازاختیارکررکھے ھوتےھین اس مین بس انکے بیٹھنےکاانداز ماھرانہ ھوتاھے جبکہ دوا کاانداز بڑا ھی عاجزانہ ھوتاھے کیونکہ دوا کوعلم ھوتاھے کہ جسصاحب کے ھتھے مین چڑھ چکی ھون انہون نے مجھے خاک نشین ھی کردینا ھے حکیم صاحب کوعلم ھی نہین ھوتا کہ کس جواھر کو مین کتنے ڈگری آگ دے رھا ھون اور دینی کتنی آگ ھے سواۓ راکھ کرنےکےوہ کچھ بھی نہین کررھےھوتے إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعون یاد رکھین کشتہ سازی بڑاھی فن لطیف ھے بڑی ھی مہارت چاھیے جولوگ فن کشتہ سازی سمجھتےھین وہ سوئی گیس سےآگ دینےسے کتراتےھین کچھ عرصہ پہلے مین نے ایک تجربہ کیاھے کہ کیسے سوئی گیس سے آگ دی جاسکتی ھے اب یہ ندازہ لگانے مین کافی دقت اور پریشانی کاسامنا کرنا پڑا کہ گیس کاشعلہ کتنا ھو ٹمپریچر کی صورت حال اور وقت کا حساب برقرار رکھنے اور سمجھنے مین کافی پریشانی آئی خیر کامیابی ضرور ملی لیکن کئی دن کے مشوروں کے بعد اب جن دوستوں سے مین نے مشورہ کرنا تھا یہ سب تجربے مین یکتاتھے خیر باھم مشورہ سے ھم نے اکھٹے بیٹھ کرآگ دی پل پل کی خبررکھی تب جاکرکامیابی ملی اور مطلوبہ رزلٹ مل سکا خیر یہ تجربہ کافی آگے چل کر لکھاجاۓ گا یہاں آپ کو گل حکمت کرنا اور آگ کے قدیم قدیم طریقہ کار سے آگاھی دینا تھی 

نوٹ۔۔ایک بات پچھلی قسط مین رہ گئی تھی کہ نگدہ ھمیشہ تازہ بوٹی کادین جس مین رس ھو اور بوٹی کواتنا نہ کوٹین کہ بوٹی کاپانی باھرنکل جاۓ بس نگدہ بنانےکےقابل ھوجائے اور نگدہ کےسنٹرمین دوارکھی جاتی ھے

Saturday, November 6, 2021

کستوری کانعم البدل

 نافہ کستوری یعنی مشک خالص کانعم البدل۔

قارئین کرام اکثر نسخہ جات میں مشک خالص یعنی کستوری شامل کرنےکالکھاھوتاھےجوکمیاب ھونےکی وجہ سےکافی مہنگی ھےھربندہ خریدنہیں سکتاجس وجہ سےاکثرحکماءاورعوام پریشان ھوتےھیں اس لئےصرف اورصرف مفادعامہ کےلئےایک سربستہ رازکوعیاں کرنےجارھاھوں میں عرصہ بیس سال سےطب سےوابستہ ھوں میراتجربہ ھےکہ یہ چیز70فیصدمشک خالص کامتبادل ثابت ھوئی ھےاس حساب سےوزن زیادہ کرلیں مثلااگرکہیں مشک خالص آدھاتولہ لکھاھوتوآپ یہ چیز8یا9گرام شامل کرلیں انشاءاللہ اثرات میں کسی صورت بھی نافہ کستوری سےکم نہ پائیں گے۔

یہ نسخہ کسی سےسنانہیں نہ کسی کتاب میں پڑھاھےیہاں ایک سےبڑھ کرایک صاحبان علم وفن موجودھیں اگراصلاح کی ضرورت ھوتوضرورراھنمائی فرمائیں میری اس گروپ میں یہ پہلی پوسٹ ھے۔

نسخہ

لونگ دیسی قلاہ دار۔50گرام

جائیفل۔50گرام

جاوتری۔50گرام

تینوں چیزوں کوکوٹ کرباریک کرلیں اورکسی برتن میں ڈالیں یادرھےان کوموٹاموٹاپیسناھے زیادہ پاوڈرنہیں کرنااب جوان نربکراکوذبح کرتےوقت جوپہلاگرم خون کافوارہ نکلےوہ زمین پرنہ گرےان اشیاء پرڈالیں کہ یہ اچھی طرح خون میں ڈوب جائیں تھوڑی دیررکھ کرھاتھ سےاچھی طرح ملیں کہ یہ دوائیاں خون میں لت پت ھوجائیں۔بکرےکی کھال کاگول ٹکڑاکاٹ کراس پریہ آمیزہ رکھیں اب اس کی پوٹلی بناکراوپرسےرسی باندھ دیں۔اب اس کومکھیوں سےمحفوظ سایہ داراورھواداجگہ جہاں گردوغباراوردھوپ کاامکان نہ ھووھاں چھت کےساتھ لٹکادیں اس کادورانیہ 3ماہ ھےاس کے بعد اتارکرپوٹلی سے جاکچھ برآمد ھواسےپیس کرکام میں لائیں۔

میراشب وروزکامجرب ھے۔اب پتہ نہیں استاذان کرام کس نظرسےدیکھتےھیں اس کو۔

اللہ حافظ

ڈاکٹروحکیم محمدفیض الرسول

Wednesday, November 3, 2021

دوا سازی-11

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔دوا سازی کیسےکی جاۓ۔۔۔۔۔۔۔قسط11۔۔۔۔

کشتہ سازی کرنےکےلئے اھم نقاط

 ناکام کیمیاء گر ساری زندگی  ایک بات پہ لمبی سانس کھینچتارھتاھے کہ بس معمولی آگ کی کسر رہ گئی تھی درحقیقت اس سے بڑا آگ کا ماھرکوئی نہین ھوتا جتنی احتیاط سے وہ آگ دیتاھے کوئی اور نہین دے سکتا آگ دینے والے کی مہارت یہ ھونی چاھیے اگر بیس سیر اوپلوں کی آگ ھے اسے ایک ماھر اسی بیس سیر وزن مین چاھیے توایک گھنٹہ مین پھونک دے یعنی ایک گھنٹہ مین یہی آگ جل کرٹھنڈی بھی ھوجاۓ اگر چاھے تویہی بیس سیر کی آگ بیس دن تک جلتی رھے یہ ساراکام مہارت اور تجربہ سےآتاھے اسے محض کتابوں سے پڑھ لینے سے آپ کامیاب نہین ھوسکتےبلکہ باربارتجربات سے گزرنےکےبعداس فن مین مہارت ھوتی ھے کتابون مین اگراتنا پڑھ لیاجاۓ کہ آگ گجپٹ دینی ھے سنپٹ دینی ھے اوپردینی ھے یاگڑھےمین دینی ھے آگ دیتے وقت اوپلے کیسے ھونے چاھیے کیاھاتھوں سے بنے ٹھوس اوپلے ھونے چاھیے یا پھر جنگل مین چرتے جانورون کے قدرتی نرم اوپلے ھونا ضروری ھین پھر اوپلون کاسائز کیسا ھوناضروری ھے کیا بڑےسائزھوں یاپھرباریک چھوٹے ٹکڑے ھوں یعنی ان تمام باتون کاخیال کرنانہایت ضروری ھوتاھے اور یہ سب تجربات کی بھٹی سے گزرنےکےبعدآتاھے یہ کام آپ لوگ ایسے کررھے ھوتےھین کہ پڑوسی سے چھری دم کروا کے جانورکاگلاکاٹ دینے سےجانورذبح نہین ھوجاتابلکہ جانورکےگلےپہ چھری چلاتے وقت تکبیرات کاپڑھنابھی لازم ھوتاھے خیرآجکل ایک سوال باربارآرھاھے کہ اوپلوں کادور توجاتارھا اب گیس استعمال کی جاسکتی ھے تو کس طرح گیس مین دوارکھ کر اور کتنی مقدار مین کیسے آگ دی جاۓ تو کشتہ معیاری بن سکے یادرکھین کسی بھی چیز کو آگ مین جلاکر مکمل بھسم کردینا اور پیس لیناکشتہ سازی نہین ھے آپ کشتہ اسے ھی کہہ سکتےھین کہ کشتہ شدہ دواکواگر ماءالحیات دیاجاۓ تووہ دوبارہ اپنی اصل کی طرف لوٹ آۓ یعنی زندہ ھوجاۓ اگر کشتہ شدہ دوا کی روح اسکے اندر موجود ھی نہین رھی یعنی مکمل راکھ ھوچکی تویادرکھین یہ محض راکھ ھے یہ کسی کام کانہین رھا اس ساری بحث سے بس ایک ھی مراد ھے کہ ھردوا کوآگ دینے کا طریقہ الگ الگ ھے یعنی ھردھات کے پگلھنے کا درجہ حرارت سمجھنا ھوگا جب درجہ پگھلاؤ سمجھ آجاۓ تو جس نباتات مین رکھ کر اس دھات کوآگ دی گئی اس دھات کا اس نباتات کے ساتھ کیمیائی عمل کب اورکیسے ھوگا اس وقت اسکا درجہ حرارت کیا ھوگا کیا محض اس بوٹی کا رس حاصل کرکے مذکورہ دھات کشتہ کی حالت مین جارھی ھے یا اس بوٹی کے مکمل جلنےکےبعداسکے نمک کے ساتھ مل کر کیمیائی عمل کرکے بشکل کشتہ شکل اختیارکررھی ھے اب ایک تیسری پوزیشن بھی ھے کہ کیا اس نباتات سے خارج شدہ حرارے دھات کے اختیار شدہ حراروں کے ساتھ مل کر بھاری ھوکرباربار گل حکمت شدہ ھانڈی کی دیواروں سے ٹکراکربھاری ھوکر تہہ نشین ھوکر بشکل کشتہ بن رھےھین ان سب باتوں کااگر کشتہ سازکوعلم ھی نہین ھوگاتوکشتہ وہ کیاخاک کرے گا یادرکھین بہت سے کشتے محض کھرل کرکے کھرل کی رگڑائی سے پیداشدہ حرارت سے ھوجاتےھین یعنی آگ دینے کا عمل کھرل سے شروع ھوتاھے بعض دھاتون کو پہلے مختلف کیمیائی اعمال سےگزاراجاتاھے جیسے فولاد کوھی لےلین اسے کئی نباتات کے پانی مین ڈبوکررکھ دیاجاتاھے اب ان نباتات کے پانیون سے مل کر یہ فولاد آکسائیڈ ھوتارھتاھے اب یہ تقسیم نہایت ضروری ھوتی ھے کہ جس نباتات کا پانی دیاجارھاھے کیا وہ الکلی کے اثرات رکھتی ھے یا اساسی ھے یا تیزابی اثرات رکھتی ھے جیسا کہ فولاد کو ھمیشہ ترش بوٹیون کا پانی یعنی تیزابی اثرات رکھنے والی نباتات کاپانی دیاجانا بہترھوتاھے جیسے لیمن ھے کھٹی ھے گلگل ھے جامن ھے اب اس عمل کے بعد فولاد کم درجہ حرارت پہ کشتہ ھوجاتاھے یعنی آپ نے اسے پہلے ھی ادھ مراکردیاھے دوستو مختلف دھاتوں کادرجہ پگھلاؤ مختلف ھے جیسےسوناھےتو1063ڈگری آگ پہ پانی ھوتاھے توپارہ کتنے درجہ حرارت پہ بھاگتاھے یہ سب ھی جانتےھونگے آخر پارہ بھی توایک دھات ھی ھے 

بعض کشتون کوآگ لکڑی کی بعض کوکوئلہ کی بعض کومیگنیون کی توبعض کواوپلوں کی آگ دینا کیوں لکھاجاتاھے یہ سب سمجھنے کےلئے عقل کی گہرائیوں مین گھوڑے دوراڑنے ضروری ھین اب ان ساری باتون سے پہلے گل حکمت کو سمجھنا نہایت ضروری ھے یہ ا نشاءاللہ اگلی قسط مین اب شاید دوچار روز مین لکھ نہ سکون کوشش ھوگی کہ کل قسط لکھ دی جاۓ باوجود اس کے کہ کل صبح آٹھ بجے اسلام آباد آنکھ مین لیزر لگوانی ھے اسلیے دوچارروز لکھنےسےگریز کرونگا اللہ حافظ

گروپ مطب کامل محمودبھٹہ

Monday, November 1, 2021

کوکونٹ برفی مقوی

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔ کوکونٹ برفی مقوی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ناریل پاؤ

پستہ پاؤ

چینی آدھ کلو

ورق چاندی حسب ضرورت

پہلے ناریل کوباریک کرلین پھر پستہ الگ سے باریک کوٹ لین پھر چینی کاقوام کرکے دونون باریک شدہ اس قوام مین ملادین تیار ھونے پہ کسی تھال مین ڈال کر ٹھنڈاھونے دین پھر اور ورق نقرہ لگا لین اور پھر ٹکڑون کی شکل مین کاٹ کر برفی بنالین 

مقدار خوراک ایک تولہ سے پانچ تولہ تک یعنی پچاس ساٹھ گرام تک کھاسکتےھین

چار فائدے نہایت اعلی ھین

مردوں مین جریان کےلئے مفیدھے

خواتین مین لیکوریا کےلئے مفیدھے

مقوی دماغ ھےدماغی کام کرنےوالون کےلئے نہایت مفیدھے

مقوی باہ ھے 

مختصر ترین بنانے مین بہت آسان خاص کر نوجوان طبقہ جوتعلیم حاصل کررھے ھون دماغی تھکاوٹ محسوس کرتےھون اسے بناکراستعمال کیاکرین محمودبھٹہ گروپ مطب کامل

Sunday, October 31, 2021

دواسازی-10

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔دواسازی کیسےکی جاۓ۔۔۔۔۔۔قسط 10۔۔۔۔

فن کشتہ سازی۔۔۔

کشتہ سازی دوا سازی کانہایت اھم حصہ ھے درحقیقت یہ فن طب یونانی کاحصہ نہین ھے نہ ھی قدیم یونانی کتب مین اس کاذکرملتاھے یونانی طب مین نباتات کاھی عمل دخل تھالیکن جب طب برصغیر مین داخل ھوتی ھے تویہان کشتہ سازی فن طب کےاھم حصہ کی شکل مین ملتی ھے اب مسلمان جب ھندوستان مین آۓ توساتھ طب یونانی لاۓ جبکہ ھندوستان کی قدیم تہذیبون کے پاس علاج معالجہ کی شکل مین آیورویدک تھی آیورویدک حقیقت مین ھندوؤن کی مذھبی کتابوں کاحصہ رھی ھے اور یہین سے فن کشتہ سازی کاانکشاف ھوا وید کی سب سے بڑی دوا جسے ھردوا کی قوت بڑھانے اور ھردواکواکسیربنانےکیلئےاستعمال کیاجاتاتھا اسے رس کہاجاتاتھااسے زندگی کانام دیاجاتاتھا یہ دواجزاء پہ مشتمل دواھے گندھک اورپارہ کی مختلف الوزن مین ملاکرکجلی تیارکرکے کسی بھی دوامین شامل کرنا اس دوا کی شفائی طاقت دس بیس گناہ بڑھ جانےکےبرابرسمجھاجاتاتھا پارہ جوپانی کی شکل مین ایک دھات ھے اسے ھندوامرت جل کی ایک شکل بھی سمجھتے تھے خیر جب مسلمان ھندوستان مین آۓ تووہ طب یونانی جو حقیقت مین طب یونانی نہین بلکہ طب عرب تھی کیونکہ یونان سے مسلمان چند کتب ساتھ لاۓ تھے یہ نامکمل فلسفہ طب تھا جسے مسلمان حکماء نے انتھک محنت جدید شکل دی فلاسفی کو ایک اٹل قانون کی شکل مین ترتیب دیا جسے آج بھی یورپ وایشاء اٹل حقیقت سمجھتاھے القانون کی شکل مین ایک لازوال کتاب ترتیب دی خیر دوستو تاریخ طب توبہت طویل ھے بس یہ بات یاد رکھین ھندوستان سے فن کشتہ سازی اور باقی پوری دنیا سے فن نباتات اور نباتات کے استعمالات کی جدید شکل مین بناکر پھر کشتہ جات کو نباتات کے ساتھ ملاکراستعمال کرنےکےفن کوجدید شکل سب مسلمانون کےکارنامےھین اگر مسلمان یہ محنت نہ کرتے تویقین جانین آج بھی نہ ھی ایلوپیتھی اور نہ ھی ھیوموپیتھی کا کوئی وجودھی نہ ھوتادنیاکوشعبہ طب مین مسلمانون کایہ احسان نہین بھولناچاھیے یہ مختصر تاریخ سے آپ کوآگاہ کرنا اسلیےبھی ضروری تھا کہ ایک طبیب کوسرجھکانا نہین بلکہ سراٹھاکرچلناچاھیےچلین اب کچھ فن کشتہ سازی کی تعریف مین بات کرتےھین

کشتہ سازی جسے ھم فن قلزات یعنی دھاتون اور ذوالارواح کوجلاکرآسانی سے پیسنے کے قابل بناسکتےھین اس عمل کوآپ عمل تکلیس بھی کہتےھین تکلیس یعنی چونا بنانا اور ھرچونا سفیدنہین بنتا مختلف رنگوں مین ھوتاھے

سوناچاندی تانبا لوھا جست قلعی اورسیسہ یہ سات دھاتین کہلاتی ھین پارہ گندھک ھڑتال سنکھیا شنگرف دارچکنا رسکپور کوذوی الارواح یعنی روح والی کہتےھین کیونکہ یہ چیزین تیزآگ پہ اڑتی ھین اسلیے انہین ذوی الارواح کہاجاتاھے بسد حجرالیہود زمرد سنگ جراحت صدف مرجان مروارید یاقوت نیلم فیروزہ لعل یا ھیرا یہ سب حجریات یعنی پتھرون مین شمارھوتےھین

فن کشتہ سازی نہایت ھی لطیف فن ھے اسکے بہت تجربہ اور مشاقی کی ضرورت ھوتی ھے معمولی بات کی ناواقفیت یا ذرا سی بھول چوک سےیہ عمل خراب ھوجاتاھے جسکی وجہ سے مذکورہ کشتہ کی طاقت جاتی رھتی ھے کسی بھی چیز کوراکھ کردینا کشتہ سازی نہین ھے یعنی کسی بھی چیز کوگلحکمت کرکےآگ دےکر جلاکربھسم کرکے پیس لیناکشتہ سازی نہین ھےکشہ تیارکرنےکی بہت سی ھدایات ھین جن پہ عمل کرناھی کشتہ بنانے کی منزل ھے صبرآزما طریقہ سے کشتہ سازی ممکن ھوتی ھے انشااللہ کل تمام اھم نکات جوکشتہ کرنےمین انتہائی ضروری ھین ان سےآگاہ کیاجاۓگا

Thursday, October 28, 2021

دوا سازی-9

 ۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔ دوا سازی کیسےکی جاۓ۔۔۔۔۔۔قسط 9۔۔۔۔۔

کچھ باتین اور کچھ سوالات ایسے ھوتےھین جن کاکرناعام سٹیج پہ درست نہین ھوتاانسانی ذھن مین کئی ایسے سوالات اٹھتے رھتےھین جن مین اکثریت کارجحان منفی ھوتاھے خیر یہ سارے سوالات علم منطق سے متعلقہ ھوتےھین علم منطق پڑھناآسان کام نہین ھے اور یہ علم پڑھنے کےبعدمثبت سوچ رکھنابڑاھی مشکل کام ھے خیر منطقی سوالات عام ذھن مین بھی آسکتےھین اس سےزیادہ مین کچھ نہین کہون گا جن دوستوں نے یہ علم پڑھ رکھاھے وہ میری بات سمجھ رھےھونگے اور تائیدبھی کرین 

کل ایک سوال پوسٹ کے آخر مین مین نے خود چھوڑا بھی تھا اور ایک دوکمنٹس مین اسے بڑا حساس بناکر سوال کیاگیا سوال اتنا ھی تھاکہ وٹامن والی چیزوں کولوھےاورتانبہ سےبچاناچاھیے ورنہ یہ ضائع ھوجاتےھین اب سوال تھا کہ ایلوپیتھی میڈیسن مین کیسے فولاد اور وٹامن اکھٹے ڈال دیے جاتے ھین تو دوستو ان مین پہلے فولاد کو مخصوص شکل دی جاتی ھے یا فولاد کا وہ جزو ڈالین گے جو وٹامن کے ساتھ ری ایکشن نہین کرے گا جیسے فولک ایسڈ کووٹامن کے ساتھ ملاکرگولی یا کیپسول کی شکل مین بنالیاجاتاھے باقی سوال تھا کہ انسانی جسم مین ایک وقت مین کئی قسم کے وٹامن تانبہ سونا چاندی لوھا سب کچھ موجود ھےاب ان مین کیا ری ایکشن نہین ھوتا آپ خود دیکھ لین اللہ تعالی نے ایک ھی برتن یعنی انسانی وجودمین آگ ھوا مٹی پانی ملاکررکھ دی ھے یہ سب چیزین غالب اور مغلوب ھین اورایک دوسرے کی مخالف ھین اگرآپ ایک برتن مین آگ رکھ لین پھر اس مین پانی شامل کرلین تو ایک ھی چیز بچے گی یا پانی یا پھرآگ یعنی یہ چاروں اشیاء ایک دوسرےکی مخالف ھین اللہ تعالی قادر ھین اسکے بناۓ نظام سے تقابل کرنا انسانی کام نہین ھے بس ایک توازن سے سب کچھ انسانی جسم کےاندرموجودھوتاھے وافرمقدار مین فاسفورس بھی ھے کیلشیم بھی ھے کوئی ایسا عنصر جسکا انسان کو علم ھوچکاھو وہ انسان کے بدن کےاندربھی موجود ھے

 آج سے سوسال پہلے تک بارہ ایلیمنٹ کاذکر انسانی وجودمین ماناجاتاتھا  سوسال گزرنے پہ جوتحقیقات سامنے آئی ایلیمنٹ بارہ سے بڑھ کر ایک سوبارہ ھوگئے ھین بس وقت گزرنے کے ساتھ تحقیق جاری ھے خیر اس موضوع کو یہین بند کررھاھون یہ تخلیق انسانی کاموضوع ھے جبکہ ھم ادویات کے بکھیڑے مین الجھے ھوۓھین ادویات کی تجزیاتی رپورٹ یا اس بارے مین کوئی تحقیق آج تک پاکستان مین تو نہین ھوئی خیر انڈیا مین حکومتی سرپرستی مین ایک کتاب مرتب ھے آپ اسے پڑھین بہت کچھ علم ھوگا کتاب کانام WEALTH OF INDIA ھے اسکی پی ڈی ایف فائل ممکن ھے نیٹ سے آپکو مل جاۓ اگر نہین ھے توجودوست انڈیا سے ھمارے گروپ مین موجود ھین یہ ان کی ذمہ داری ھے وہ گروپ مین اس کتاب کی پی ڈی ایف فائل لگائین 

باقی آج بات کچھ عرقیات کے موضوع پہ کرتےھین 

دوستو یہان عرق بنانے کا طریقہ لکھنے کی ضرورت نہین سمجھتا تقریبا سب ھی جانتے ھین لیکن پرانا طریقہ ھی سمجھتےھین یعنی قرع انبیق سےیاناڑی جنتر سےعرق کشید کرنا لیکن کچھ عرصہ بعد اس عرق مین جالا بنتا ھے جس سےعرق خراب ھوجاتا ھےاب جن دوستو کی مجبوری قرع انبیق سے عرق نکالنےکی ھےوہ عرق نکالنےکےبعداس مین سوڈیم بنزوویٹ شامل کردیا کرین پھرجالایاخراب نہین ھوگاباقی عرق جدیدپلانٹ جسےڈسٹلیشن پلانٹ کہتےھین اس سےنکالنا بہترھےیہ چھوٹےسائز مین ملتاھےیادرکھین اس سےدواکےاجزاءضائع نہین ھوتےاس طریقہ سےجن دواؤن کاعرق کشیدکرنامطلوب ھوتاھےان کوسٹیم جیکٹیڈڈسٹلیشن پلانٹ کےبرتن مین شام کےوقت بھگوکرجیکٹیڈحصہ مین 80۔۔90ڈگری سینٹی گریڈتک گرم کرلیتےھین اورتمام رات بھگوۓرکھتےھین اس اسٹیم جکٹیڈمین دوطرح کی اسٹیم دی جاتی ھے ایک ایک جیکٹیڈجواندرکےپانی کوگرم کرتی ھےدوسری ڈائریکٹ جودواؤں پرڈائریکٹ اثراندازھوتی ھےدوسرےدن صبح کوجیکٹیڈحصہ مین اسٹیم جاری کرکےدواؤن کوجوش دیتےھین اورجیکٹیڈحصہ مین اسٹیشن 2کےمخرج کوبندکردیتےھین اور برتن کےاندردس پونڈبھاپ کاپریشرپیداکردیتےھین تاکہ دوائین اچھی طرح پک جائین اسکےبعدمخرج کوتھوڑاتھوڑاکھولتےھین ریلٹبوکولرکنڈنسرمین ٹھنڈاپانی جاری کردیتےھین اسکےبعددوائین 3سے5پونڈپریشربھاپ پرپکاتےھین ساتھ ھی ڈائریکٹ اسٹیم نمبر2مین کھول دیتےھین اس طرح دواؤن کےبخارات کنڈنسرکےذریعےٹھنڈےھوکرعرق کی شکل اختیارکرلیتےھین جوایک پائپ کےذریعےنکل کرایک برتن مین جمع ھوتارھتاھے عرق نکالنےکےبعددوآؤں کاجوشاندہ نیچےکےمخرج سےنکال کرپلانٹ صاف کرلیاجاتاھے

نوٹ۔۔کل ایک گروپ ممبرکافون آیاتھااس نے میرے بتاۓطریقہ کےمطابق عرق کشیدکیاتب روغن بھی نکل آیاانتہائی سادہ طریقہ استعمال کیاگیاایک سٹیل کےڈول مین پانی ڈالکراوپرچھاننی فٹ کرکےاس مین دوائین رکھکربھاپ دی گئی پھراوپر ریٹارٹ لگادیاگیا جس سےعرق کشیدھوگیااورروغن بھی نکل آیا انتہائی تیزخوشبواورتیزذائقہ کاعرق نکلااسی ممبر سےدرخواست کرونگا کہ وہ مفصل پوسٹ لکھےاللہ حافظ

Tuesday, October 26, 2021

دوا سازی-8

 ۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔ دوا سازی کیسے کیجاۓ ۔۔۔۔۔۔۔قسط 8۔۔۔۔۔

کل کی پوسٹ پہ تیزرفتار کمنٹس یہ تھا کہ جالینوس کاجومختصر ترین نسخہ بن سکتاھے وہ لکھین تو دوستو نسخہ جات ضرور لکھے جائین گے لیکن ابھی پہلی جماعت توپاس کرلین نسخہ مختصر ھو یا وسیع عریض ھو اسکے ھر اجزاء کو جانچنا مقصد ھے اور آپ میری بات کل کی پوسٹ والی کسی صورت نہین سمجھ پاۓ آپ نے یہ بالکل نہین سوچا کہ قدیم اطباۓ کرام نے بعض مرکبات مین چالیس پچاس دوائین کیون شامل کررکھی ھین کیا وہ دوا کی ترتیب کرنے کی اھلیت نہین رکھتےتھے یاوہ بغیر سوچے سمجھے یا وہ یہ سوچ کر کہ چلو ان مین کوئی نہ کوئی دوا تو فائدہ کرے گی اس لیے اتنی دوائیں اکھٹی کرکے ایک مرکب کی شکل دے دیتے تھے یاد رکھین وہ لوگ ھم سےزیادہ ذھین اور محنت کرنےوالے لوگ تھے آپ لوگوں نے کبھی غور کیاھوتا تو ان کی محنت وعظمت وذھانت ایک ایک لفظ سے ٹپکتی نظرآۓ گی سب سے پہلے جب جالینوس کوھی ترتیب دیاگیاتھا تو الگ دوا تھی وقت گزرنے کے ساتھ حسب ضرورت اپنے اپنے دور مین اطباء ان نسخہ جات مین کمی بیشی کرتے رھے دقیق قسم کی مرکبات کی کتابون کااگر مطالعہ کیاجائے تو پھر سمجھ آتی ھے پھر آپ کو جالینوس ھو یا کوئی دواھو اسکے مختلف اجزاء پہ مشتمل پانچ دس نسخے ملین گے جن مین آپ کو تفریق کرنا مشکل ھوجائے گا کہ ان مین کونسا نسخہ درست ھے اور کونسا غلط ھے اب یہ بھی یاد رھے ان مین کوئی بھی نسخہ شاذ ھی غلط ھو تقریبا سب ھی درست ھین بس وہ وقت اور ادوار کی میسر دواؤن پہ دی گئی ترتیبات ھین کیونکہ ماضی قریب مین ھی ادویات کےتمام جزو کاایک پنساری سے ملنا ممکن نہین تھا ھاں یہ بات ضرورتھی کہ اس وقت ایمان زندہ تھا جوبھی دوا مارکیٹ سے ملتی تھی وہ خالص حالت مین ملتی تھی آج کے دور مین ھردوا مل جاتی ھے لیکن خالص ملنا محال ھے ایک ایک دوا کی دس دس ورائٹیان ملین گی وہ بھی نقل معمولی دوائین جن کی کوئی زیادہ قیمت نہین ھوتی ان کی بھی نقل عام بات ھے کچھ عرصہ پہلے ایک پنساری مجھے اپنی چالاکی بتارھاتھا اس نے لاھورکی مارکیٹ سے بیر بہوٹی خریدی وہ خودکوچالاک سمجھ رھاتھا کہ لاھورمین پنساری کوریٹ کا پتہ نہین تھا مین اس سےسستے داموں یہ خرید لایا ھون بڑا خوش تھا اب اس نے مجھے دکھائی تومین لاھوریون کی چالاکی پہ عش عش کراٹھا آگلے الفاظ مین استعمال نہین کرونگا آپ بھی دل ھی دل مین نتیجہ اخذ کرلین وہ اتنی خوبصورتی سے بنولے رنگے ھوۓ تھے پتہ نہین کونسا کیمکل لگارکھاتھا بنولہ پہ کہ پتہ ھی نہین چل رھاتھا کہ نقل بیر بہوٹی ھے جب مین نے پنساری کوبتایا کہ چالاک تونہین ھے وہ لاھور مارکیٹ مین بیٹھا پنساری ھے اور یہ بنولے ھین انتہائی نرم کررکھے ھین کسی کیمیکل کی مددسے اور کچھ ماہ بعد وہ خراب بھی ھوگئے تو دوستو ھماری پہلی ضرورت ھے اصل اجزاء کی تلاش اس مین مندرجہ ذیل اصول ھونے ضروری ھین

یونانی فنی نام

بوٹونیکل نام

ھندی اردو یاویدک نام یادیگر علاقائی نام جن سے پہچان ممکن ھوسکے جوملک کے مختلف حصوں مین رائج ھین

مقام پیدائش

مقام حصول

نسل یا خاندان 

اسکی مختلف اقسام

قابل ملاوٹ یا دوسری مماثل ادویہ کی شکل

مزاج

مقدارخوراک زیادہ سےزیادہ

مضراثرات

مصلح 

بدل 

مختصر دوا کے فوائد 

طریق عمل

نباتاتی کیمیائی اجزاء جو اب تک معلوم ھوں

فارماکولوجی

فارماکوگنوسی دیگر تفصیلات کےساتھ

اسکے بعد آپ کو ادویات کا مرکبات کی شکل مین ایکشن وری ایکشن کا علم ھونا بہت ضروری ھے

1۔۔تیزابی دواکےساتھ ایسی دوا کسی صورت نہ ملائین جن کا آپس مین ری ایکشن ھو جیسے سرکہ مین سوڈابائی کارب ملانےسےسرکہ کے بنیادی اثرات ختم ھوجاتےھین

2۔۔۔وہ اجزاء جن مین ٹینک ایسڈپاۓجاتےھین ان کے ساتھ لوھےکو یالوھےکےھاون دستہ مین کسی صورت نہ ملانا ھے اور نہ کوٹنا ھےورنہ وہ آئرن ٹینٹ بن جاۓ گا اور آپ کی دوا کا رنگ سیاہ ھوجائے گا کئی ایک طبیب حضرات نے دیکھاھوگا کہ دواسیاہ ھوجاتی ھے جبکہ آپکی نظرمین مفردات کی شکل مین کسی بھی دواکارنگ سیاہ نہین تھا اب یادرکھین آئرن ٹینٹ زھر ھوتاھے آپکی دوا قابل استعمال نہین رھی 

3۔۔۔چاندی کے کسی بھی محلول کونمک کےتیزاب مین نہین ملاناچاھیے یاد رکھین اس سے چاندی معدنی شکل اختیارکرجاتی ھے اوریہ سلورکلورائیڈ بن جاتاھے جوجسم انسانی مین غیر محلول ھے یعنی حل یا جزو بدن نہین بنتی اور یہ نکتہ میرے کیمیاء گر دوستون کےلئے بھی ھےآپ اسے چاندی کا ماءالحیات سمجھ لین ویسے تو ماءالحیات سہاگہ شہد گھی ھے

4۔۔جن اشیاءمین الکلائیڈ پاۓجاتےھین ان کوبھاری معدنیات مین جیسے لوھا سکہ وغیرہ ھے ان کےساتھ نہین ملاناچاھیے ورنہ یادرکھین وہ معدنیات غیرحل پذیرھوجائین گی یہ نکتہ بھی کیمیاء گر دوستوکےلیے بھی اھم ھے

اب آخری بات وٹامن والی چیزون کوتانبہ اور لوھے سے بچاناچاھیے ورنہ وٹامن ضائع ھوجاتےھین 

جبکہ بعض ایلوپیتھی دوائین فولاداوروٹامن اکھٹےھوتےھین کیون؟

Monday, October 25, 2021

دواسازی-7

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔ دواسازی کیسے کیجاۓ ۔۔۔۔۔۔قسط 7۔۔۔۔۔۔۔۔

اس تمام مسئلہ کا حل یہ ھے کہ ھم اپنی ادویات کے ایکسٹریکٹ بنائین یا پھر ان روح حاصل کرلین اگر شربت بنانا ھےتو چینی کا قوام کرین اور جب قوام مناسب درجہ حرارت پہ آجاۓ یعنی شربت سادہ تیار کیاجائے اور آگ سے الگ کرکے ٹھنڈا کرین جب کچھ گرم ھو باقی ٹھنڈا ھوچکا ھوتوایکسٹریکٹ شامل کردین یہ فوائد کےلحاظ سے انتہائی تیزاثرھوگااب آپ اسی عصارہ یعنی ایکسٹریکٹ سے گولیان یاکیپسول بھی تیارکرسکتے ھین جیسے ایلوپیتھی طریقہ کار کے مطابق ایک ھی دوا بطور شربت بھی ملتی ھے تو اسی دوا کی گولی بھی مل جاتی ھے جیسے پیراسٹامول دوا شربت اور گولی دونون شکلون مین دستیاب ھے اسی طرح آپ بھی ایک ھی دوا کو مختلف شکلون مین تیار کرسکتےھین ضروری نہین شربت دینار کی شربت کی شکل ھی ضرور برضرور دینی ھے آپ عصارہ بناکر اسے حب دینار کے نام سے بھی متعارف کرواسکتے ھین اسی طرح ضروری نہین ھے آپ معجون دبیدالورد کو صرف معجون کی ھی شکل دینی ھے کیون نہ ھم عصارہ بناکر اسے حب دبیدالورد بنالین ھم اکثر شربت بناتے وقت دوا کے اجزاء کوابالنے کےبعد جب چھان لیتےھین تو ھم باقی بچی دوا جونباتات کی شکل مین ابالنے کےبعد ضائع کردیتےھین جبکہ اس دوا مین کافی سارے موثر اجزاء جن کا ھمین علم ھی نہین ھوتا وہ بھی ضائع کردیتےھین دوستو آجکل شیشے کی ساخت ایسے جار وآلات ملتے ھین جن مین ھم ان کوڈال کر گرم پانی مین بھگوکریا روح الخمر مین بھگوکران آلات کی مدد سے موثراجزاء کوالگ کیاجاسکتاھے ان سے ھم عصارہ اورست بھی تیارکرسکتےھین لیکن یہ سب کچھ کرنےکےلئے ھمین ایک لیب کی ضرورت پڑتی ھے انشاءاللہ ایک دن ھم اس منزل تک بھی پہنچ جائین گے ھونا تو یہ چاھیے کہ ھماری طبی کونسل  اس سلسلے مین قدم اٹھاۓ اور اپنے سر یہ سہرا سجا لے مین قومی طبی کونسل کے تمام ممبران کو دعوت فکردیتاھون کہ وہ غورکرین خیر یہ باتین ھوتی رھین گی 

علامہ اقبال ؒکا ایک شعر یادآگیا

یہ بزم مےھےیاں کوتاہ دستی مین ھےمحرومی

بڑھا  کر جو اٹھالے  ھاتھ  مین مینا  اسی کا  ھے

فارماکوپیا درست انداز مین ترتیب دینا بھی جس کا تخیل بھی ابھی پیش نہین ھوسکا اس سے پہلے درست انداز مین نباتات کی ترتیبات جن مین کچھ باتون کاذکر مین پچھلی اقساط مین کرچکا ھون پھر ان نباتات کی مقدار خوراک بھی درست مقررنہین ھے پھر نسخہ جات کے کل اجزاء مین کیاکیاھوناچاھیے یہ بھی علم نہین ھے دوستو آج کا دور تحقیقی ھےاور قرابادینی نسخہ جات کی تحقیق چاھتاھے اس مین آپ چندباتون کا خیال رکھین

1۔۔کسی بھی مریض کی چوبیس گھنٹےمین دواکی مقدار کہ کتنی ھونی چاھیے

دوااپنی ساخت کےاعتبارسےمعدہ اور دوسرے اعضائے بدن مین 24گھنٹہ مین کس قدرتحلیل پذیرھے 

دواکی کٹائی چھنائی مین اصل دواکی مقدارکیارہ جاتی ھے

مضردوا کی جو مقدارمریض کی ضرورت ھے وہ مرکب دوا کی کس مقدار سے حاصل ھوگی

مرکب دوا جس مرض کےلئے مستعمل ھے اس کی ضرورت کےاعتبارسےکیانسخہ کی تمام ادویہ منفعت بخش ھین یا کچھ فالتو ھین اور یہ بھی دھیان رکھا کرین کہ کونسی دوا منفعت بخش اور کونسی معاون اورکونسی دافع مضراثرات ھین 

پرانے سب نسخہ جات مین بے شمار مفردات اکھٹےکرکےایک مرکب بنادیتے تھے ماشأاﷲ سے پورا پنسار ٹھاٹھيں ماررھاھوتاھے موجودہ دور واقعی ایک تحقیق کا دور ھے لیکن نہایت افسوس ھوتاھے ان بےشمار مفردات کی تحقیق کرنےکی کسی کوبھی توفیق نہین ھوئی کہ ان مین فلاں فلاں دوا کیون ھے اور حقیقت مین کونسی دوا اس مین موثر ھے اصل جزو کونسا ھے اب ھوناتویہ چاھیے تھا کہ موثراجزاء چھوڑکرباقی نسخہ سے الگ یعنی نکال دیےجائین بس مکھی پہ مکھی مارکے ھی کام چلایاجارھاھے یادرکھین جتنے کم اجزاء ھونگے دوا اتنی ھی موثر ھوگی بنانی بھی آسان رھتی ھے چلین یہ ھی دیکھ لین جوارش جالینوس جوکہ معدہ وجگرواعصاب کی بہترین دواھے کیا آپ کوپتہ ھے اس کے وسیع نسخہ مین کونسے اجزاء موثرھین یاھم محض اب مجموعی مرکب کی مجموعی فوائد ھی جانتےھین باقی باتین اگلی پوسٹ مین ھونگی محمودبھٹہ گروپ مطب کامل