Friday, August 3, 2018

تشخیص امراض و مزاج 12

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔تشخیص امراض و مزاج ۔۔۔۔۔۔قسط نمبر 12۔۔۔
ذاتی مصروفیت کی وجہ سے دودن مضمون نہ لکھ سکا اور تقریبا گروپ سے بھی غیر حاضررھا آج بات کرتے ھین حکم نمبر سات کی اور کوشش ھو گی تواتر برقرار رھے
حکم نمبر ٧۔۔۔اگر دائین پاؤن کی درمیانی انگلی پر سنارون کے ذنبور کی مانند رنگین سونے کی مانند چمک دار پھنسی پیدا ھو جاۓ تو سمجھ لینا چاھیے کہ مرض کے پیدا ھونے کے بارہ دن کے اندر اندر مریض ھلاک ھو جاۓ گا اب اس کی ایک علامت یہ بھی ھو گی مرض شروع ھوتے ھی مریض کو تیز چرپری چیزین کھانے کی شدید خواھش کرے گا اب ھم جدید تحقیق پیش کرین گے تو دوستو یہ غدی اعصابی تحریک کی پیداوار ھے کیونکہ یہ تو آپ جانتے ھی ھین اب زرد رنگ ھی سونے جیسا ھے اور زرد رنگ ھی صفرا کا رنگ ھے یہ زرد رنگ کی رطوبت دراصل جگر کی پیدا کردا ھے اور یہ بھی آپ جانتے ھین چرپری چیزین جگر کی غذا مین شامل ھین یہ بات بھی یادرکھین جب بھی غدی اعصابی تحریک سے کسی عضو مین سوزش ھو کر ورم پیدا ھوتی ھے تو اس وقت پورے جسم کے مخرج صفرا کو بہت زیادہ خارج کرتے ھین اور اس تحریک مین صفرا کی پیدائش کم ھوتی ھے اور جب خارج بہت زیادہ ھو رھی ھوتی ھے تو موت کا سبب بن جاتی ھے اگر پھنسی جلدی تحلیل ھو جاۓ تب تو درست ھو گیا ورنہ مریض سے تحلیل عضلات زیادہ دیر برداشت نہین ھو سکتا اور بندہ اگلے جہان کوچ کرجاتا ھے امید ھے بات سمجھ آگئی ھو گی اور ایک بات اور بھی ذھن نشین کر لین یہ احکامات جب لکھے گئے تھے اس زمانہ مین ابھی طب پر اتنی وسیع تحقیقات نہین ھوئی تھی آج کے دور مین انہی علامات کا بڑی حد تک علاج ممکن ھے جیسا کہ آپ کو ساتھ ساتھ بتا رھا ھون اب آپ کو علم ھو گیا ھے نا غدی اعصابی تحریک پیدا ھوئی تو کونسا علاج کرنا ھے آپ فورا جواب مین کہین گے اعصابی غدی اور اعصابی عضلاتی سے عضلاتی اعصابی تک آپ جوش و خروش سے بتا دین گے
دوسری اور اھم بات جو مین کرنے لگا ھون اسے بہت غور سے پڑھنا کل یا پرسون کسی گروپ ممبر نے مجھے سکرین شارٹ بھیجا جس مین نظریہ مفرد اعضاء کو گالیان تک نکالی گئی تھی ایسی پوسٹین مین پہلے بھی پڑھ چکا ھون اور نظر انداز کردیا کرتا ھون اس کی وجہ بھی بتاۓ دیتا ھون ایک تو پوسٹ لکھنے والے کی علمی وسعت کا خوب اندازہ ھورھا ھوتا ھے بحث ھمیشہ کسی ایسے انسان سے کی جاتی ھے جو کم سے کم آپ کی بات کا جواب دینے کا اھل ھو اگر مینڈک اپنی زندگی کنوین مین ھی گزار دے تو اس کی ساری کائینات وھی کنوان ھی ھوتا ھے ایک دیوار سے اچھلتے کودتے وہ دوسری دیوار تک پہنچتا ھے تو سمجھتا ھے مین نے پورا سمندر عبور کرلیا ھے اگر اسے کنوین سے نکال کر سچی مچی اصل سمندر مین ڈال دیا جاۓ اور کہا جاۓ لے اب سرحد عبور کر تو آگے آپ بھی سمجھتے ھین اس کے ساتھ کیا بیتے گی دوسری بات بہت سے لوگون کے ذھن مین ایک اور بات بھی بسی ھوئی ھے کہ نظریہ مفرد اعضاء کے موجد حضرت دوست محمد صابر ملتانیؒ ھین مجھے اس بات سے بھی اختلاف ھے اس بارے مین میری لمبی گفتگو سید ادریس گیلانی صاحب سے بھی ھوتی رھتی ھے اور اس بات کو مین چند منٹ مین ثابت بھی کردونگا دوست محمد صابر ملتانی نے طب کو سمجھا اور آسان الفاط مین تشریحات کردین اس مین پہلا قدم حکیم احمد دین صاحب نے اٹھایا دوسرا قدم دوست محمد صابر ملتانی صاحب نے اٹھایا ان صاحبان نے تشریحات کی ھین اور دنیاۓ طب پہ احسان کیا ھے لیکن آپ غور کرین گے تو آپ کو صدیون پہلے لکھے بقراط کے ان احکامات مین بھی نظریہ کی حقیقت نظر آجاۓ گی بشرطیکہ آپ نے غور سے پڑھا تب ۔۔۔۔ پہلے ھوتا یہی رھا ھے کہ طب کو اتنے مشکل انداز مین بیان کیا گیا ھے جسے سمجھنا ھر کسی کے بس کی بات ھی نہین ھے اور جو آج بھی طب کی حقیقی کتابین ھین ان کو سمجھنا ھزار مین سے پانچ طبیب سمجھ سکتے ھین ورنہ ممکن نہین ھے اور جو نصاب کالجون مین پڑھایا جاتا ھے وہ انتہائی آسان ھے لیکن وہ بھی کسی چارسالہ ڈپلومہ ھولڈر کے پلے نہین پڑتا اگر اصل کتابین اس طالب علم کے سامنے رکھ دی جائین تو یقین جانین کچھ بھی نہ سمجھ سکے اب یہی وجہ ھے کہ جو لوگ علم طب مین دلچسپی رکھتے ھین وہ لازما نظریہ کی طرف آتے ھین جو لوگ اس کی مخالفت مین ھین ان کا کردار سواۓ طب کو زوال پذیر کرنے کے علاوہ کچھ بھی نہین آئین اب اگلا حکم سمجھین
حکم نمبر٨۔۔ اگر انگلیون کے ناخنون کا رنگ سیاہ ھو جاۓ اور پیشانی پہ خونی پھنسی پیدا ھوجاۓتو جان لین مرض کی ابتدا سے مریض چار روز کے اندر مرجاۓ گا اس کی علامت یہ ھے کہ مریض چھینکین اور جمائیان بہت زیادہ آئین گی اب جدید تشریح کرتے ھین آپ جانتے ھین سیاہ رنگ سودا کی زیادتی سے پیدا ھوتا ھے اب وہ اعضاء جہان سوداوی مادے کا اجتماع ھو جاۓ اور سودا کا تعلق عضلات قلب سے ھے اب سرخ ورم جسے آپ قدیم طب کی رو سے دموی ورم کہتے ھین اس کا تعلق بھی عضلات سے ھی ھے اور یہ ورم اس وقت پیدا ھوتی ھے جب قلب عضلات کی مشینی تحریک عضلاتی غدی پیدا ھوجاۓ چونکہ یہ ورم ایک حیاتی عضو دماغ کے بالکل قریب ھوئی ھے جس کی اذیت دماغ کے لئے ناقابل برداشت ھوتی ھے اب دوسری طرف دماغ کی طرف دوران خون بہت تیز ھو کر شدید تحلیل ھو جاتی ھے جس سے جلد موت واقع ھوجاتی ھے مریض کو جمائیان آنا عضلات کے تشنج کی علامت ھے اور چھینکین آنا دماغ کی طرف دوران خون بڑھ جانے کی علامت ھے آج کے لئے اتنا ھی کافی ھے اب آپ نے ان علامات کو غور سے پڑھنا ھے آپ کو نظر آۓ گا باقائدہ طور پہ بقراط نے جسمی تقسیم کی ھے یا تو علامات کا دائین سائیڈ ذکر کیا ھے یا بائین سائیڈ ذکر کیا ھے اسی طرح اوپر نیچے بھی تقسیم کررکھی ھے بے شک ان علماۓ طب کے پاس سہولیات کا فقدان تھا لیکن علم موجود تھا جب تک علم یونان مین تھا اسے بہت عروج دیا گیا پھر جب مسلمانون کے ھاتھ آیا تو شروع مین بہت عروج ملا پھر جب مسلمان شراب شباب اور کباب مین ڈوب کر اقتدار کی جنگ مین لڑا اور آپس کی ان جنگون نے زوال کا دروازہ کھولا اور چنگیز آندھی اور طوفان کی طرح آیا اور بغدار کے کتب خانے دریا برد کردیے وہ دن ھے اور یہ دن ھے حالات آپ کے سامنے ھین کسی بھی علمی میدان مین مسلمانون نے عروج حاصل نہین کیا اب یہ بحث میرے مضمون کا حصہ نہین ھے نہین تو بہت کچھ لکھ دیتا اللہ تعالی ھمارے حال پہ رحم فرمائے نیک تمناؤن کے ساتھ اجازت محمود بھٹہ
اب ایک آخری بات یاد آگئی وہ کر ھی لون تو بہتر ھے
بہت سے لوگ پوسٹ چوری کرکے پھر اپنے پیج یا گروپ مین اپنے نام کے ساتھ لگاتے ھین مجھے کوئی نہ کوئی دوست اس بارے مین بتا ھی دیتا ھے لیکن انہین مین کہتا کچھ بھی نہین اب ان کے لئے ایک بات پریشانی والی بننے والی ھے اس مضمون کا آگے چل کر بہت سا حصہ مجھے اپنے ھاتھون سے نقشے بنا کر پھر تصویر بنا کر سمجھانا پڑے گا اب اس کے بغیر یہ ممکن ھی نہین مضمون مکمل کر سکون اور آپ کی وجہ سے مین ان نقشون پہ اپنا نام لازما لکھون گا اب آپ کو پریشانی بنے گی اس لئے بہتر یہی ھے جیسے دوسرے بہت سے دوست میرا مضمون شیئر کرلیتے ھین یا میرے ھی نام سے لگاتے ھین آپ بھی یا تو یہی طریقہ اختیار کرین اور گناہ سے بھی بچ جائین گے اور علم بھی پھیل جاۓ گا یا چوری کا کوئی طریقہ سوچ لین یا چوری چھوڑ دین آپ کو یہ بھی بتا دون میرا لکھنے کا مخصوص انداز ھے جسے اپنانا بہت ھی مشکل کام ھے ھر شخص کی تحریر اسی طرح پہچانی جا سکتی ھے جب آپ لگاتے ھین تو لوگ پھر بھی انداز تحریر سے پہچان لیتے ھین اور جب آپ اپنے گروپ مین خود سے لکھتے ھین جیسے ۔۔۔۔۔ موجھے عردو پار موکمل ابور حصل ھے ۔۔۔ تو اس طرح کے انتہائی عمیق اور دقیق الفاظ اور فقرون سے لوگ آپ کی شخصیت پہچان جانتے ھین اس لئے بہتر سے بہتری کی طرف آئین

دواۓ بواسیر لازوال|Piles

 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 Piles |Treatment of Piles
۔۔۔۔۔ دواۓ بواسیر لازوال ۔۔۔۔۔۔۔
روزانہ کوئی نہ کوئی میسج یا کمنٹس یا پوسٹ بواسیر کے مسئلہ پہ آئی ھی ھوتی ھے بہت زیادہ اس موضوع یا مرض کہہ لین ا پہ نسخے لکھ چکا ھون جو سب کے سب سوفیصد رزلٹ والے ھین آج کا لکھا نسخہ دو سو فیصد رزلٹ دے گا لیجئے بنانا آپ نے ھے کھانا بھی آپ نے ھے مجھے بواسیری علامت کوئی بھی نہین ھے سب سے پہلے آپ بکائن کے تخم لے لین کلو دو کلو خواہ مرضی ھو تو پانچ دس کلو لے لین ان کو کسی بڑے تسلے مین رکھ کر جلا لین اور یہ بات یاد رکھین راکھ سفید کرنی ھے اگر راکھ سیاہ ھے تو تسلے کے نیچے آگ جلا دین جس سے راکھ دوبارہ کوئلہ کی طرح ھو جاۓ گی جیسے ھی راکھ دھک جاۓ آگ بند کردین اور انتظار کرین جب ٹھنڈی ھو جاۓ تو دیکھین راکھ سفید ھو گئی ھے یا نہین اگر نہین ھوئی تو دوبارہ یہی عمل دوھرائین یعنی پھر راکھ کو دہکا دین اب راکھ لازما سفید ھو جاۓ گی ھان یاد رھے اگر تخم بکائن جلنے کے بعد بھی ثابت رھین تو ڈنڈے کونڈےمین پیس کر باریک کر لین پھر جلا کر سفید کرین جلدی ھو جاۓ گی اب اس راکھ مین چھ گنا زیادہ پانی ڈالکر کسی چمچے سے ھلا دین دو دو گھنٹہ بعد اس پانی کو ھلاتے رھین پھر روئی کی مدد سے معروف طریقہ سے مقطر لے کر اس مقطر شدہ پانی کو آگ پہ رکھ کر پانی کو جلا دین اور نیچے آپ کا تخم بکائن کا نمک حاصل ھو جاۓ گا اب یہ نمک بکائن دس گرام رسونت بیس گرام ھلیلہ سیاہ کو بھی گھی مین بریان کر لین یہ بریان شدہ ھلیلہ سیاہ بیس گرام اب تینون دواؤن کو باریک پیس لین خواہ بڑے کیپسول بھر لین یا سفوف ھی رکھ لین یہ آپ کی مرضی ھو گی بس دوا اتنی ھی کھانی ھے جتنی کیپسول بڑے سائز مین آجاتی ھے تین وقت کھا لین ھمراہ خمیرہ گاؤزبان کے ساتھ اس دوا سے مسون سے خون آنا بھی بند ھو جاۓ گا اور مسے کا ورم اتر کر نام ونشان مٹ جاۓ گا اب بے شک آپ اسے یہ کہہ لین مسے جھڑ گئے یا جاتے رھے اب بہت سے لوگ یہ سوال داغ دیتے ھین کتنے دن دوا کھانی ھے تو دوستو جب مرض ٹھیک ھو جاۓ تو چھوڑ دین یہی کوئی پندرہ سے بیس روز ھی کھانے سے اب اس سے اگلا سوال یہ آتاھے کہ یہ دوا کہان سے تیار ملے گی خود سے دوا کبھی بھی تیار نہ کیا کرین کسی بھی طبیب سے جو آپ کے قریب رھتا ھے تسلی سے پاس بیٹھ کر تیار کروا لین یا پھر گروپ مین آپ کے بے شمار جاننے والے آپ کی قریب رھنے والے حکیم بھی ھین ان سے مدد لے لین بہرحال دوا کھائین اور مصیبت اپنی دور کرین پریشان نہین ھونا بے شک دوا بے ضرر ھے لیکن جس کا کام اسی کو ساجھے ۔۔۔۔جزاک اللہ

Tuesday, July 31, 2018

تشخیص امراض ومزاج 11

۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔
۔۔۔تشخیص امراض ومزاج۔۔قسط نمبر11۔۔۔۔
مضمون کوآگے بڑھانے کامنصوبہ تھالیکن زیادہ تر لوگون کی خواھش تھی کہ مین رسالہ قبریہ کے وہ پچیس حکم ضرور لکھون چلوآپ دل پشوری کرلین اسے بھی مضمون کاحصہ بنا دیتے ھین تو لین اب سمجھین پہلا حکم کیا لگایا تھا بقراط نے
حکم نمبر١۔اگر مریض کے چہرے پہ ایسا ورم پیدا ھو جاۓ کہ بظاھر اس کی کوئی وجہ نہ معلوم ھو اور مریض اپنا بایان ھاتھ اکثر سینہ پر رکھا رھے اورابتداۓ ورم مین مریض اپنے ناک سے شغل کرتا رھے کبھی انگلی بتڈالے کبھی کجھلاۓ یا سہلاتا رھے تو سمجھ لین ورم پیدا ھونےکے تیرہ روز کے اندراندر مریض مرجاۓ گا اب جدید تحقیق بھی سمجھ لین یہ بلغمی مزاج مین ورم ھوا کرتا ھے جب قلب مین انتہائی سکون ھو یعنی اعصابی عضلاتی تحریک ھو گی ناک کجھلانے کی وجہ یہ ھوتی ھے جب چہرے پہ ورم آیا تو دوران خون کازور تو چہرے کی طرف ھو گیا ابتدا مین جب ورم پیدا ھونا شروع ھوتا ھے تو ناک پہ ورم آنے پہ کجھلی ھواکرتی ھے اب قلب مین سکون کی وجہ سے دل ڈوبتا ھے تو مریض اپنے ڈوبتے دل کو سہارا دینے کے لئے ھاتھ دل پہ رکھ لیتا ھے امید ھے بات سمجھ آگئی ھو گی اور پہ بھی یاد رکھین اس دور مین اس مرض مین مبتلا مریض اکثر شفایاب ھو جاتے ھین
حکم نمبر٢ ۔اگر کسی مریض کے گھٹنون پہ اچانک شدید ورم آجاۓ تو مریض تین دن کےاندراندر مر جاۓ گا خاص کر وہ مریض جس کو ساتھ پسینہ بہت زیادہ آرھا ھواب اس کی بھی تھوڑی جدید تشریح کیے دیتاھون یہ صفراوی یاغدی ورم ھوتا ھے بلکہ غدی اعصابی مزاج مین پیداھواکرتا ھے اس مین عضلات مین تحلیل شروع ھوجاتی ھے تو غدد ناقلہ رطوبات کااخراج زیادہ کرنے لگتے ھین اوراس مین حرارت غریزی کااخراج ضرورت سے زیادہ ھونا شروع ھوجاتا ھے اورساتھ ساتھ ورم کاشدید دردشروع ھوجاتا ھے ناقابل برداشت درداورورم سے اورحرارت کااخراج اوررطوبت کازیادہ اخراج موت کاسبب بنتے ھین
حکم نمبر٣۔۔اگرمریض کی گردن کی نیند پیداکرنے والی رگ پہ چھوٹی چھوٹی پھنسیان مچھر کی مانند پیداھو جائین تو سمجھ لین یہ مریض باون دن کے اندراندر ھلاک ھوجانے گا اس مین خاص علامت پیاس مین بہت شدت ھو گی یہ جناب اعصابی تحریک سے حرارت کی شدید کمی اوررطوبات کی زیادتی سے پیدا شدہ مرض ھے سمجھ لین یہ کاربنکل کی ھی ایک قسم ھے اس مین شوگر عموما لازمی ھوا کرتی ھے اس مین بھی پیاس کی شدت ھوتی ھے یہ مرض عضلات کو مشینی تحریک دینے سے ٹھیک ھوجایا کرتی ھے
حکم نمبر٤۔۔۔اگر کسی کی زبان پہ تغرہ ھوجاۓ یاد رھے تغرہ کتے مکھی کو کہتے ھین اور یہ کتے مکھی جیسی شکل کی پھنسی سی زبان پہ نکل آۓ تو مریض اسی روز ھی فوت ھوجایا کرتا ھے اس مین مریض کا گرم اشیاء کھانے کو بہت دل کرتا ھے
یہ غدد کا ورم ھوتا ھے یاد رکھین یہ دماغ کے قریب ترین ورم پیدا ھوا ھے اس لئے یہ پھنسی نکلتے ھی دماغ کے غدی پردے مین بھی فورا ورم آجایا کرتا ھے جس کی وجہ سے مریض تو تڑپ اٹھتاھے ساتھ ھی ضعف قلب ھوجایا کرتا ھے دل کی حرکات بہت ھی ضعیف ھوجایا کرتی ھین بس بار بار دل فیل ھوتا ھے بلکہ حرکات قلب رک جایا کرتی ھین اور موت واقع ھوجایا کرتی ھےیاد رکھین گلے کے غشاۓ مخاطی مین بھی اسی وقت ورم آجایا کرتا ھے جس سے گلاھی بندھوجاتا ھے ان تمام وجوھات سے فوراموت واقع ھوجایا کرتی ھے
حکم نمبر٥۔۔۔اگر بعض انگلیون پر مٹر کے دانہ کے مشابہ دانے جیسی سیاہ رنگ کی پھنسی پیدا ھوجاۓاوراس کی وجہ سے انگلیون مین درد بھی ھو تو مریض ابتداۓ مرض سے دو دن کے اندر مرجاۓ گا یہ لازم ھے مریض کو ساتھ ھذیان واختلاط عقل ھوجاۓ گایعنی پاگل بھی ھو جاۓ گا اورلوگون کومارنے جھگڑنے کی کوشش کرے گا اب بات تو آپ سمجھ ھی گئے ھونگے کہ یہ سوداوی مادے سے پیدا شدہ ورم ھے یعنی عضلاتی ورم ھے سودا کی وجہ سے ھی اس کارنگ سیاھی مائل تھا اب سوداوی تحریک کی وجہ سے دماغی اعضاء مین تحلیل ھو جاتی ھے جس کی وجہ سے اختلاط دماغ پیداھوجاتا ھے یادرکھین ایسی پھنسیان واقعی اگر دائین ھاتھ کی انگلیون پہ نکل آئین تو جلد موت واقع ھوجاتی ھے
حکم نمبر٦۔۔اگر بائین ھاتھ یا بائین پاؤن کےانگوٹھے پر دانہ باقلہ کے مشابہ خشک پھنسی پیداھو جاۓاوراس کارنگ نیلا ھواور یہ دردناک نہ ھو یعنی درد تو ھو لیکن اتنا شدید نہ ھو تو جان لین مریض ابتداۓ مرض سے لے کر چھ روز کے اندرمرجاۓ گااب اس مین خاص علامت یہ بھی ھے کہ مریض کوابتداۓ مرض سے مختلف رنگ کے بکثرت پاخانےآنے شروع ھو جائین گے
اب ذراھماری جدید تشریح اس پہ کر لین تو یہ بلغمی ورم ھے شدت کی وجہ سے اس کا رنگ نیلا ھوجاتا ھے دستون کی رنگت تبدیل کیسے ھوئی تو پہلے بلغم کے ساتھ صفراتھی اس وجہ سے پیلے دست شروع ھوۓ پھر خالص بلغمی مادہ رہ گیا تودستون کا رنگ سفید ھو گیا اب دستونم مین حرارت غریزی کے ساتھ رطوبت غریزی کابھی اخراج ھوجاتا ھے باقی آئیندہ قسط مین

سنکھ|

 اندھیری جگہ پر روزانہ بلا ناغہ رات کو یہ آیت مبارکہ بلا کمی بیشی 117 مرتبہ 40 یوم تک پڑھا کریں ۔۔ عامل ھو جائیں گے ۔۔ پھر روزانہ سات مرتبہ پڑھ لیا کریں تاکہ عمل قائم رھے ۔۔ کوئی بھی کتنا ھی زھریلا کیڑا کاٹ لے ۔۔ کاٹی ھوئ جگہ کے گرد انگشت شہادت گھماتے رھیں اور ھر مرتبہ گھمانے کے ساتھ آیت پڑھتے رھیں ۔۔ ایک سانس میں سات مرتبہ پڑھیں اور سات مرتبہ انگلی گھمانی ھے ۔۔ باذن اللہ اسی وقت ٹھیک ھو جائیگا ۔۔ آیت مبارکہ یہ ھے ۔۔

و اذا بطشتم بطشتم جبارین ۔۔

( دوائی کا نسخہ ) 

سنکھ کو کوئلوں کی آگ سے کشتہ کر لیں ۔۔ جس قدر سنکھ ھو اس سے نصف نوشادر باریک کیا ھوا لیں ۔۔ مٹی کا ایسا کوزہ لیں جس میں یہ مصالحہ پورا فٹ آجائے ۔۔ اگر خلا رھے تو مزید کشتہ سنکھ سے پر کر دیں ۔۔ نصف سنکھ نیچے اوپر نوشادر پھر نصف سنکھ اوپر دیکر منہ پر ٹھیکری دیکر اچھی طرح گلحکمت کرکے خشک ھونے پر گڑھے میں پندرہ کلو اوپلوں کی آگ دیں ۔۔ سرد ھونے پر نکالکر کسی پلاسٹک ، شیشہ یا چینی کے برتن میں ڈالکر قدرے ٹیڑھا کر کے رکھ دیں ۔۔ ھوائ روغن بننا شروع ھو جائیگا ۔۔ اس روغن کو علیحدہ محفوظ کرلیں ۔۔ ایک قطرہ ڈسے مقام پر لگائیں اور 2 قطرے پلائیں ۔۔ ان شاء اللہ خیر ھوگی ۔۔

بچا ھوا سنکھ کا کشتہ 2 تا 4 چاول دمہ ، کھانسی ، عظم الکبد و فیٹی لیور  اور بزرگئ سپرز یعنی عظم الطحال کیلئے دیں ۔۔ ان شاء اللہ المستعان جلد خیر ھوگی ۔۔ براہ کرم ھدیہ نہ لیں تو بہتر ۔۔ اگر اپنی خوشی سے کوئی کچھ بھی دے تو اول انکار کرے ۔۔ اگر معطی اصرار کرے تو قبول کرلے لیکن خود طلب نہ کرے ۔۔ شکریہ ۔۔

Monday, July 30, 2018

تشریح نسخہ جگر کی چربی کولسٹرول اور پتہ کی پتھری

۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔ تشریح نسخہ جگر کی چربی کولسٹرول اور پتہ کی پتھری۔۔۔۔۔
یہ پوسٹ مین بہت پہلے لکھ چکا ھون اس مین بہت حد تک تفصیل بھی لکھی ھوئی ھے آج احسان صاحب نے میری یہ پوسٹ دوبارہ لگائی تو احساس ھوا وہ پوسٹ کو لکھنے مین بہت سی غلطیان کر گئے ھین جن کی اصلاح ضروری ھو گئی تھی تو اس دوا کو بنانے کا طریقہ سمجھین سیپیان کلو لین ان کو پہلے گل حکمت کرکے یا کسی برتن مین بند کرکے آگ مین رکھ دین جو کم سے کم دو گھنٹے آگ مین رکھین تاکہ سیپیان آسانی سے پس جائین اب اس مین نوشادر ٹھیکری آدھ کلو کھرل کر کے اچھی طرح ملا لین اب اس سفوف شدہ دوا کو کسی ڈولی مین بند کرکے گل حکمت کر لین اور گڑھے مین بیس کلو اوپلون کی آگ دے دین جب آگ ٹھنڈی ھو جاۓ تو اس سفوف کو نکال کر پانچ سیر پانی مین حل کردین چوبیس گھنٹے پڑا رھنے دین گاھے بگاھے اس کو کسی چمچے کی مدد سے ھلا دیا کرین اب چوبیس گھنٹے بعد اس کا روئی کی لمبی پونی کی مدد سے فلٹر شدہ پانی حاصل کرین اب اس فلٹر شدہ پانی کو آگ پہ کسی سٹیل کے بڑے برتن مین ڈالکر رکھ دین آنچ ھلکی ھی رکھین اور سب پانی آگ پہ اسی طرح خشک کردین کافی مقدار مین نیچے سالٹ ملے گا اب اس سالٹ کو آپ کھلے برتن یا اسی برتن مین جس مین پانی خشک کیا تھا اسے کھلی فضاء مین رکھ دین چوبیس گھنٹے مین یہ آپ کا نوشادر کا ھوائی تیل تیار ھو چکا ھو گا اسے سنبھال لین یہی دوا ھے اب اس کے پانچ چھ قطرے روزانہ مریض کو پلا دین جگر پہ چڑھی ھوئی چربی جسے آپ فیٹی لیور کہتے ھین ٹھیک کرے گا پتہ کی پتھری مین مفید ھے کولسٹرول کا ستیاناس کرنے کی شوقین دوا ھے بڑھی ھوئی تلی مین بھی موثر ھے یہ میرا ذاتی معمول مطب ھے انتہائی موثر دوا ھے سانس پھولنا ان امراض کی وجہ سے تو دو دن مین ھی مکمل ٹھیک کردیتی ھے جب بھی پوسٹ لکھتا ھون تو بہت سے لوگ انباکس دوڑے ھوۓ ھوتے ھین وہ مذید موثر دوا اور ذاتی خاص صدری یا وہ کیا کہتے ھین سینہ کا راز یا پتہ نہین قبر کا راز پوچھتے آجاتے ھین تو دوستو یہ سب راز مین گروپ مطب کامل مین ھی لکھتا ھون صرف آپکے لئے اسے اپنے پاس محفوظ کر لیا کرین

Sunday, July 29, 2018

امراض تشخیص ومزاج 9

۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔ امراض تشخیص ومزاج ۔۔۔۔قسط نمبر 9۔۔۔
پچھلی قسط مین بات کررھے تھے ھاتھ پاؤن چہرے کی بناوٹ اور ساتھ ھی لمبائی چوڑائی و خدوخال اور ساتھ ھی عضو کا کشادہ یا تنگ ھونا اور خاص کر چہرے پہ مسے پھنسیان اور دانے وغیرہ کا نکلنا اس کے علاوہ باقی جسم کی بناوٹ اور خدوخال ڈھال چال یا بدن کا کسی طرف جھکاؤ یا جسم کا جھٹک کر چلنا یا اسی قسم کی کو ئی بے ترتیبی جو جسم مین نظر آۓ اب ان تمام چیزون کو مدنظر رکھا جاتا ھے اس کے علاوہ بھی بندے کی ذھنی کیفیت اس کے جذبات غم غصہ خوف یا ندامت مسرت وشادمانی یعنی خوش طبع ھونا ان تمام علامتون پہ نظر رکھنی چاھیے ان سب پہ بحث کرتے ھین
یاد رکھین احساسات کا تعلق دماغ سے ھوتا ھے اور رطوبات کی کمی بیشی جگر غدد اور گردون سے متعلق ھے اور پھر آپ ان علامات کو رنگون کے ساتھ ملائین اگر مطابق ھین یعنی چہرے اور ظاھری علامات مل گئی ھین تو مرض پہ حکم لگایا جا سکتا ھے اب چہرے اور ظاھری علامتین جو بھی ظاھر ھوتی ھین آئیے ان پہ بات کرتے ھین اب سب سے پہلے ھم گالون پہ بات کرین گے
گال۔۔۔۔اگر گالون پہ سرخی اور غیر معمولی تمازت اور چمک ھے اور ساتھ ساتھ آپ کو چہرے کا رنگ اڑا اڑا سا لگے اور گھبراھٹ کے بھی آثار ھون تو دو مین سے کوئی ایک مرض ھو سکتی ھے نمبر ایک۔۔پھیپھڑوں کا ورم ھو سکتا ھے نمبر دو۔۔۔۔اختلاج قلب ھو سکتا ھے
مردون کے چہرے پہ سیاہ نشان یعنی گالون پہ سیاہ نشان سوزش گردہ یا مثانہ کی مرض ھونے کی علامت ھے یا پھر خصیون کی مرض ھو سکتی ھے
عورتون کے گالون پہ چھائیون کا پڑجانا سوزش خصیتہ الرحم یا خرابی حیض اور سیلان الرحم کی نشانی ھے
اگر کسی کے ایک گال پہ سرخی ھے دوسرے طرف سرخی نہین ھے تو جس طرف سرخی ھے اس طرف کے پھیپھڑے مین ورم ھے
اب ھونٹون پہ بات کرتے ھین۔۔۔۔ھونٹون کا موٹا ھو جانا تبخیر جسم وسوزش اعصاب کی علامت ھے
اور ھونٹون پہ سرخ سیاھی مائل پھنسی سوزش دماغ کی علامت ھے
ھونٹون کی گہری چمک دار سرخی تپ دق کی نشانی ھے
ھونٹون کا سفید ھونا کمی خون اور بخار کی نشانی ھے
اگر ھونٹ بہت ھی سرخ لگتے ھین تو یاد رکھین اندرونی جسم کی سوزش ھے
اب ھونٹون پہ زردی صفرا کی زیادتی کی علامت ھے یا صفرا کے متعلقہ امراض ھونے کی علامت ھے خاص کر الٹی آنے کی بھی علامت ھے
ھونٹون کا خشک رھنا سوزش معدہ اور مالیخولیا کی علامت ھے
اب ھونٹون پہ اگر سفید رنگ کی تہہ چڑھ جاۓ جسے عرف عام مین پپڑیان بن جانا بھی کہتے ھین یہ جوڑون کی خرابی جلن یا پھر بخار کی علامت ھے یاد رکھین بخار مین ھونٹون پہ پپڑیان بننے کے ساتھ خشکی زیادہ ھوتی ھے جوڑون مین سوزش پہ پپڑیون کے ساتھ ھلکی تری رھتی ھے اب ایک اور بات بھی یاد رکھین سرسام اور پھیپھڑون کے اورام مین بھی خشک قسم کی پپڑیان بن جاتی ھین
ھونٹون کا پورے طور پہ بند نہ ھونا لقوہ کی علامت ھے
اب ھونٹون کا لٹک جانا بھی فالج اور ضعف جگر کی علامت ھو سکتے ھین
ھونٹون پہ کیڑیان سی چلتی محسوس کرنا شوگر کی علامت ھین یا پھر گندے کولسٹرول گلیسرائیڈ مین بھی ھونٹ سن ھونا اور کیڑیان لڑتی سی محسوس ھوا کرتی ھین
منہ کی علامتین۔۔۔۔۔منہ کا کھلا رھنا ضعف قلب اور پھیپھڑون کی کمزوری کی علامت ھے
اگر منہ سختی سے بند ھے تو تشنج ورم دماغ یا غشی کی علامت ھے
منہ سے رال ٹپکنا دماغی اور اعصابی سوزش کی علامت ھے بعض لوگون کو دن مین بھی رال بہتی ھے اور زیادہ تر رات سوتے وقت رال بھی بہتی ھے پیٹ کے کیڑون کی علامت ھے اور یہ رال بہنا شدید تبخیر معدہ مین بھی ھو سکتا ھے
منہ سے لیس دار پانی آنا تھائی رائیڈ گلینڈکی خرابی مین بھی ھوت ھے یا شدید خمیر معدہ پیدا ھو چکا ھو تب بھی یہ علامت ھوتی ھے دماغ مین ٹیومر ھونے پہ بھی رال آتی ھے
اب آنکھ کی علامات۔۔۔۔آنکھ کی زردی صفراوی امراض مثلا یرقان سوالقینہ اور استسقاء کی علامت ھے
اب آنکھ کی سرخی سر درد کی علامت ھے
سفیدی نزلہ وزکام کی علامت ھے اور درد سر جس کے ساتھ سوزش اعصاب ھو اس کی علامت ھے
سیاھی بلغم کی غلظت اور خون کی خرابی یا کولسٹرول بڑھنے کی علامت ھے
آنکھ کے پپوٹون کی پھنسیان اعصابی سوزش کی علامت ھین
آنکھ کے گرد گڑھے بن جانا خاص کر بچون مین اعصاب اور آنتون کی سوزش کی علامت ھے۔اس مین پیاس اور اسہال کی شدت ھوتی ھے
اب ایک اھم علامت کہ آنکھ کے گرد سیاہ حلقے بن جانا امراض گردہ ۔۔ و امعاء اور بواسیر اور خون مین تیزابیت پیدا ھونے کی علامت ھے
آنکھ مین اداسی پایا جانا ضعف باہ اور جنسی امراض کی طرف اشارہ کرتی ھے
آنکھین اندر دھنسی معلوم ھونا خاص کر نوجوان طبقہ مین یہ لوگ مشت زنی کا شکار ھوتے ھین یا احتلام کے مریض ھوتے ھین ویسے وقتی طور پہ کسی کی آنکھین اندر دھنسی محسوس ھون ان مین بچے عموما شکار ھوتے ھین یہ شدید اسہال قے کی شکل مین پانی کی کمی کی علامت ھے
باقی مضمون انشاء اللہ اگلی قسط مین

تشخیص امراض ومزاج 10

۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔ تشخیص امراض ومزاج ۔۔۔۔ قسط نمبر 10۔۔
اب بہت سی علامات ایسی بھی ھین جو جسم کے مختلف حصون پہ پائی جاتی ھین مثلا چہرہ کے کسی مقام پہ ھونٹ ناک کان وغیرہ پہ سوزش یا ناک کی سرخی یا ناک کی سیاھی مائل پھوڑا یا پھنسی کا نکل آنا مریض کے حق مین خطرناک ھوتا ھے ایسے مریض کا علاج بہت ھی سوچ سمجھ کر کرنا چاھیے اکثر دیکھا گیا ھے ایسے مریض کا بچنا بہت ھی مشکل ھوتا ھے کیونکہ یہ علامتین سوزش اور ورم اور کینسر دماغ کی علامتین ھین اگر ایسے مریض کو ساتھ ھچکی بھی لگ جاۓ تو چند فیصد چانس ھوتا ھے بہتری کا ورنہ مریض اگلے جہان سدھار جاتا ھے
اگر لیٹے ھوئے مریض کے گھٹنے پیٹ کی طرف اکھٹے ھون تو درد گردہ ھو سکتا ھے یا فالج کی شکایت ھے
اگر مریض چلتے وقت اپنے پاؤن کو جھٹکا دے کر چلے تو لازما گردون مین خرابی ھوتی ھے
یا رھے جب بھی مریض گھٹنون مین درد کی شکایت یا ٹانگون مین درد کی شکایت کرے لازمی طور پہ امراض گردہ کا شکار ھے
اب ایسی بہت سی علامات کا مین ذکر نہین کررھا جس کا تقریبا عام آدمی کو بھی پتہ ھے جیسے بائین بازو مین درد کی شکایت یا بائین طرف سینہ مین درد کی شکایت دل کی امراض کی علامت ھے یا پھر شدید تبخیر معدہ ھو سکتا ھے اب ایسی علامتین چھوڑ رھا ھون جیسے بخار بھی تو ایک ظاھری ھی علامت ھے اب ان کی تشریح ممکن نہین ھے بخار تقریبا تین سو وجوھات سے ھوا کرتا ھے یہ بھی علامت کہ جب ہاؤن کی انگلیان سن ھو جانا وھان خون کا دورہ کم ھے یا ھاتھ پاؤن کا سن ھو جانا خون کے گاڑھا پن کولسٹرول کے بڑھ جانے کی علامت ھے مزید شدید کمی خون مین بھی یہ علامتین ھوا کرتی ھین اب ایک اور بھی ظاھری علامت کہ پیٹ کا اچانک چند روز مین بڑھ جانا پیٹ پہ چمک کا آجانا اب پیٹ پہ معمولی ضرب لگانے سے لہر سی اٹھتی محسوس ھونا یہ سب پیٹ مین پانی بن جانے کی علامتین اب ایسی تمام علامتون کو موقوف کرتا ھون ذرا ان علامتون پہ توجہ دے لیتے ھین جو مرض الموت مین پیدا ھوا کرتی ھین یعنی جب موت قریب آجاۓ تو مریض مین کیا کیا ظاھری علامات پیدا ھوتی ھین ویسے نبض سے تو فورا حکم لگایا جا سکتا ھے لیکن وہ آگے نبض کے باب مین بیان کرین گے
موت کے قریب آنے پہ ظاھر ھونے والی علامات۔۔۔۔۔۔۔
١۔۔منہ کا کھلا ھونا
٢۔ آنکھون کا پتھرا جانا یا پتھرایا ھوا معلوم ھونا
٣۔ناک کا مڑ جانا
٤۔چہرے پر پریشانی کے آثار پیدا ھونا
٥۔سینے پہ بلغم کی زیادتی بلکہ کھڑکھڑاھٹ کی آوازین یا گھنگھرو کی سی آواز کا پیدا ھونا اور بلغم کا اخراج بھی نہ ھونا
٦۔مریض کا بے ربط باتین کرنا
٧۔ ھاتھ پاؤن مین کھنچاؤ پیدا ھونا لیکن سکت ذرا سی بھی نہین پیدا ھوتی
٨۔ نبض کا اتنا یہان بتا دیتا ھون تفصیل پھر بھی آگے بیان کرون گا نبض نملی ھو جاتی ھے اور قارورہ کا رنگ سیاھی مائل ھوجاتا ھے یہ سب انتہائی خطرناک علامات ھین
یاد رکھین ان سب علامات کو دیکھنے کے باوجود بھی آپ کو فورا موت آنے کا حکم نہین لگانا چاھیے بلکہ صرف خطرے کا اظہار کرین کیونکہ زندگی اور موت صرف اللہ جلّہ شانہ کے اختیار مین ھے مین نے خود ایک مریض مین ھر علامت موت کی دیکھی لیکن اس کا علاج بھی مین نے خود کیا اور وہ شخص سات سال بعد حادثاتی موت مرا اس لئے کبھی بھی فتوہ نہ لگائین اللہ بڑے رحمن ھین وہ موت کو بھی زندگی مین بدلنے کی قدرت رکھتا ھے اس کے بعد مین نے آج تک فتوہ نہین لگایا یاد رکھین کوئی بھی بیماری خواہ معمولی سر درد ھی کیون نہ ھو بذات خود موت کی علامت ھے ۔۔المرض علامت الموت ۔۔۔۔۔ ھان آپ نبض قارورہ ظاھری علامتین دیکھین اگر ایک بھی علامت موجود ھے تو بس خطرے کا اظہار کرین
ایک کتاب جس کا نام رسالہ قبریہ ھے اس مین 25 حکم موت کے بارے مین لکھے ھین حکماء حضرات ان پہ بھی بہت بھروسہ کرتے ھین کیا آپ جانتے ھین کہ یہ رسالہ قبریہ کونسی اور کس کی کتاب ھے تو سنین یہ بقراط نے نے لکھی تھی مرتے وقت اس کتاب کو اس کی قبر مین دفن کردیا گیا بقراط یونان کا ایک بہت بڑا عالم تھا اس کی موت کے سوسال بعد اس کی قبر کو مرمت کرنے کے دوران یہ کتاب ملی اور مسلمانون کے خلیفہ مامون الرشید کو یہ یونان کے خزانہ سے ملی اور خلیفہ نے اس کا ترجمہ حسنین ابن اسحاق سے یونانی سے عربی مین کروایا اب یہ پچیس حکم قانونچہ مترجم علامہ حکیم کبیرالدین مین درج ھین اگر آپ کہین گے تو یہ حکم نامہ رسالہ قبریہ یہان لکھ دونگا باقی باتین انشاءاللہ اگلی پوسٹ مین کرین گے محمود بھٹہ دعاؤن کا طلب گار

Friday, July 27, 2018

امراض تشخیص ومزاج 8

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔ امراض تشخیص ومزاج ۔۔۔۔۔۔۔۔قسط نمبر8۔۔
پچھلی پوسٹ مین ایک عجیب سا سوال کسی نے کررکھا تھا کہ کسی خلط کے بڑھ جانے سے ھی مرض پیدا ھوتی ھے تو کیسے پتا چلے کہ کونسی خلط بڑھ گئی ھے ایک اور عقلمند نے اخلاق سے ھٹ کر اس کے نیچے کمنٹس دے رکھے تھےجس کا ترجمہ یہ ھے کہ بڑے بڑے حکیمون کا اس سوال پہ منہ بند ھو جاتا ھے مجھے بڑی ھنسی آئی کہ اس سوال پہ تو کسی چھوٹے سے چھوٹے بھی حکیم کا منہ بند نہین ھوتا پہلے کمنٹس پہ ایک لطیفہ یاد آیا جب ایک پٹھان ساری رات ھیر وارث شاہ سننے پہ بہت آزردہ نظر آیا تو کسی نے پوچھا خان صاحب کیا ھوا ؟ خان صاحب فرمانے لگے بھئی ان دونون بہن بھائی کا داستان بہت درد ناک ھے ۔۔بہت سے دوستون سے معذرت۔۔۔ اب بات بھی سمجھ لین اس مضمون کا مقصد ایک یہ بھی ھے کہ جو خلط بڑھی ھے اس کی پہچان کیسے ھو اگر اس کی پہچان ھو گئی تو مرض پہچاننا آسان ھو جاتا ھے اب ایک چھوٹے سے بھی حکیم کو اس بات کا علم ھوتا ھے کسی بھی خلط کے بڑھنے یا کمی ھونے سے مرض پیدا ھوتی ھے اعتدال صحت کی علامت ھے اگر مضمون غور سے پڑھا ھوتا تو یہی کچھ تو زیر بحث ھے خیر اب ھم اپنے مضمون کی طرف چلتے ھین بات کررھے تھے رنگون سے مزاج کی پہچان کیسے کی جاتی ھے جس مین دموی مزاج پہ پچھلی قسط مین لکھ چکا ھون اب آتے ھین صفراوی مزاج کی طرف
زرد رنگ صفرا کی پہچان ھے صفرا کی زیادتی اور جگر و غدد کے فعل مین تیزی کو ظاھر کرتا ھے
اب سفید رنگ بلغم کی کثرت اور دماغ اعصاب کی تیزی کو ظاھر کرتا ھے
اسی طرح سیاہ رنگ سوداویت کی تیزی اور غدد جاذبہ کے فعل و اثرات کو نمایان کرتا ھے
جب ان رنگون کا علم ھو گیا کہ اگر یہ رنگ جسم پہ ظاھر ھون تو فلان مادہ مین تیزی ھے تو اگلا سوال یہ پیدا ھوتا ھے یہ رنگ پیدا کہان ھوتے ھین اور صاف کہان ھوتے ھین یعنی کس اعضاء مین یہ پیدا ھوتے ھین یعنی اخلاط پیدا ھوتے ھین صاف بھی ھوتے ھین اور اخراج کیسے پاتے ھین یہ سب سوال بہت اھم ھین اور یہ بات بھی ذھن مین لازمی آتی ھے اب ان رنگون سے ایک طرف خون کی کیمیائی حالت سمجھ آتی ھے تو دوسری طرف ان اعضاء کی طرف بھی اشارہ واضح ھوتا ھے جن کی حالت غیر طبعی ھونے سے ان مین اخلاط کی کمی بیشی سے یہ رنگ پیدا ھوتے ھین ۔۔اب ان دونون صورتون کو سامنے رکھ کر ذھن مین مرض کا خیال ابھرتا ھے اب چہرے اور باقی جسم کی علامات دیکھنے کے بعد اس کے یقین کی حد تک مرض کی پہچان ھو جاتی ھے لیکن ایک بات یاد رکھین جب کسی ایک رنگ کو دیکھنے کے بعد اس کے متعلقہ عضو کی طرف توجہ جاۓ تو ساتھ ھی دیگر اخلاط اور ان کے اعضاء کی کمی بیشی اور ان کے افعال کو بھی لازما مد نظر رکھ لینا چاھیے کسی بھی مرض کا فتوہ لگانے سے پہلے انکی حالت کو لازما مدنظر رکھنا ضروری ھے
٢۔ ھیئت۔۔۔۔ اس سے مراد چہرے اور جسم کا دبلا پن یا موٹا ھونا اور اس مین کمی بیشی یا جسم مین رطوبت کی زیادتی یا اعصاب کے فعل مین تیزی کی علامت کو سامنے رکھ کر اس مین عصبی امراض کو مد نظر رکھنا شامل ھے
اگر چہرہ خوش رنگ ھے چمک دار ھے اور اس مین کساد ھو تو یقینی بات ھے کہ چربی کی زیادتی ھے
اگر چہرہ پھیکا ھو دھبے ھون یا ڈھیلا پن ھو تو پانی کی کثرت ھے
اگر جسم مین گوشت کی زیادتی تو جگر اور گردون کے فعل مین تیزی ھے
اگر چہرے پہ تازگی اور چمک ھو تو جگر مین تیزی اور حرارت مین زیادتی ھے
اگر چہرہ مرجھایا ھوا ھو اس پہ داغ دھبے ھون تو گردون کے فعل مین تیزی ھے
نوٹ۔۔ ایک بات جسے مین نے بہت آگے چل کے لکھنا تھا درمیان مین ھی لکھنے کو جی چاھا یہ بات بھی اچھی طرح نوٹ کر لین
کہ اگر ناک پہ سیاھی مائل پیلاھٹ لیے مردنی سے آگئی ھو جس مین ناک پہ بڑی خشکی بھی نظر آتی ھے تو فتوہ لگا دین گردے بالکل سکڑ گئے ھین مریض شدید بلڈ یوریا اور کریاٹی نین کا شکار ھو چکا ھے یہ اس لئے لکھا ھے کہ یہ مرض بہت ھی عام ھو چکی ھے اور مریض پہ یہ نشانی بہت عرصہ پہلے ظاھر ھو جایا کرتی ھے اور مریض کو اپنی مرض کا علم بھی نہین ھوتا اگر اس وقت آپ متعلقہ ٹیسٹ کروائین گے تو فورا یہ مرض تشخیص ھو جاۓ گی اور علاج کیا جا سکتا ھے اور سو فیصد مریض تندرست ھوجایا کرتے ھین اب آگے چلتے ھین
اگر چہرہ اندر کی طرف پچکا ھوا ھے اور جسم دبلا پتلا ھے تو دل کے فعل مین تیزی ھے اگر ساتھ چہرہ پہ تازگی ھے تو خون کی پیدائش ھے
اگر چہرہ پہ چھائیان اور داغ ھون تو سوداوی مادہ کی زیادتی ھے اس مین لازما معدہ اور طحال کو مدنظر رکھین
اب بات کرتے ھین ظاھری علامات کی
اب ظاھری علامات بے ھوش مریض نشے مین مدھوش مریض یا بچون مین یا نیند کی حالت مین زیادہ کام آتی ھین اس کے علاوہ دیگر مریضون پہ بھی اسی طرح کام آتی ھین
ظاھری علامات مین انسان کے قد کی لمبائی یا پستی جسم کی ساخت بالون کا زیادہ یا کم ھونا سر آنکھ کان ناک ھونٹ ھاتھ پاؤن کی بناوٹ ۔۔ باقی مضمون اگلی قسط مین

Wednesday, July 25, 2018

تشخیص امراض و علامات 7

۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔ تشخیص امراض و علامات۔۔۔قسط نمبر7۔۔۔
سب سے پہلے بلغم کی زیادتی کی علامات
بدن کا رنگ سفید ھونا
بدن کا ڈھیلا ھونا
بدن کا ملائم اور سرد ھونا
لعاب دھن کا بکثرت ھونا
پیاس کی کمی ھونا لیکن جب بلغم کے ساتھ صفرا ملا ھو تو پیاس زیادہ لگتی ھے
کھاری ذائقہ ھوتا ھے
بلغم کا ویسے ذائقہ نمکین ھوتا ھے
ڈکارین اور نیند کی زیادتی
اب صفرا کی زیادتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بدن اور آنکھ کی زردی
زبان کا ذائقہ تلخ اور زبان کا کھردرا ھونا
منہ اور نتھنون کی خشکی
پیاس کی بہت زیادتی
ضعف اشتہا متلی اور پھریری سی محسوس ھونا یعنی کپکی سی آتی ھے
اب سودا کی زیادتی۔۔۔۔۔
جسم مین لاغری پن اور نیلا ھونا
خون کی سیاھی اور گاڑھا پن
غور و فکر کی کثرت
معدہ کی جلن اور ترش ڈکارین آنا اب لازمی طور پہ منہ کا ذائقہ بھی ترش ھی ھوتا ھے
اشتہاۓ کاذب یعنی جھوٹ موٹ کی بھوک لگنا
قارورہ بھی سرخ سیاھی مائل یا اکثر سرخ اور غلیظ ھوتا ھے بدن کا رنگ سیاھی مائل ھوتا ھے
اب ایک اور بات بھی سمجھ لین طب قدیم مین خون کی بھی زیادتی کو لکھا گیا ھے وہ بھی سمجھ لین ۔۔۔
سر کی گرانی انگڑائی جمائی اونگھ اور حواس کی کدورت کند ذھنی زبان کا ذائقہ شیرین ھونا بدن کااور زبان کا رنگ سرخ ھونا باقی اس مضمون کی تشریح بہت کچھ کرنی باقی ھے جس مین آنکھ گال ھونٹ اور چہرے کی رنگت بھی شامل ھین ۔
ایک بات اور بھی ذھن نشین کر لین جس طرح اخلاط کے ذائقے لکھے بالکل اسی ھی طرح اخلاط کی بو بھی ھوتی ھے کھٹی بو یا ترش میٹھی بو کڑوی بو یہ جب مریض کپڑے پہنتا ھے تو چند گھنٹے بعد وھی کپڑے بے شک مریض اتار دے لازما ان مین بو رچ جایا کرتی ھے اب جو لوگ کپڑا سونگھ کر تشخیص کردیا کرتے ھین وہ بے شمار کپڑون کی بو سونگھنے کے بعد تجربات کرکے اس اھل ھو جایا کرتے ھین مزاج تو رھا مزاج اب اس مزاج مین پیدا شدہ امراض بھی تو کافی ھوا کرتی ھین لیکن وہ ھر مشہور مرض کی بو الگ سے پہچاننے کی صلاحیت رکھتے ھین اور یہ صلاحیت بہت زیادہ محنت کرنے سے پیدا ھوتی ھے آپ بھی بے شک اس پہ محنت کرین ایک ھی مرض کے شکار چند مریضون کے کپڑے سونگھ کر ان کی بو کو اچھی طرح پہچان لین اسی طرح دوسری مرض کے مریضون کے کپڑون سے بو سونگھ کر پہچان کرین دو چاردن کی کوشش سے آپ اچھی اس بو کی پہچان پہ عبور حاصل کر لین گے اب آپ علیحدہ کمرے مین بیٹھ جائین اور کسی کو کہہ کر ان امراض کے متعلقہ کپڑے منگوائین اور ان کو سونگھ کر آپ آسانی سے بتا دین گے کہ یہ جس کے کپڑے ھین یہ فلان مرض مین مبتلا ھے اور آپ کا رزلٹ بالکل درست ھو گا یہ تجربات کرنے کے لئے آپ کسی بھی بڑے ھسپتال چلے جائین جہان ایک مرض کے مریضون کے پورے پورے وارڈ مختص ھین اگر کوئی ڈاکٹر اس فن کو اپناۓ تو بہت جلد عبور حاصل کرسکتا ھے کیونکہ اس کے پاس مواقع زیادہ ھوتے ھین اب بات کو آگے بڑھاتے ھین اب آپ کو بتاتے ھین چہرہ اور باقی جسم سے ظاھری تشخیص کس طرح ممکن ھے
یادرھے چہرے اور جسم سے ظاھری علامات تو بے شمار ھوتی ھین ان سے کچھ تو اتنی عام ھوتی ھین جن کے بارے مین ھر کوئی جانتا اور سمجھتا ھے لیکن چند ایک مراحل مشکل ضرور ھین لیکن ناممکن نہین ھین تھوڑی محنت سے ھی یہ علم بھی پورے طور پہ حاصل ھو سکتا ھے ایلوپیتھک مین اس بارے مین بہت سی امراض کی تشخیص اسی طرح کی جاتی ھے پھر متعلقہ ٹیسٹ کروا کر مہر لگائی جاتی ھے آپ بھی ھمت اور کوشش کرین تو کچھ بھی مشکل نہین ھے اگر آپ اس پہ عبور حاصل کر لیتے ھین تو یقین جانین آپ کے ھی عزت اور وقار مین اضافہ ھو گاجیسے جیسے آپ ان تمام تشخیصی ذرائع پہ غور وفکر کرتے جائین گے آپ کے دماغ مین روشنی پھیلتی جاۓ گی مجھے انتہائی افسوس سے ایک بات کہنی پڑ رھی ھے پورے ملک مین کسی بھی طبیہ کالج مین تشخیص کا فن نہ تو سکھایا جاتا ھے اور نہ ھی پڑھایا جاتا ھے کیونکہ پڑھانے والے خود بھی اس فن کے اھل نہین ھوتے مین نے بڑے بڑے پروفیسر حضرات جن کے نام کے ساتھ پروفیسر لگا ھوتا ھے اگر پروفیسر کی ھی تعریف پوچھ لی جاۓ تو ایک ھی جواب آتا ھے چھڈو بھٹہ صاحب مٹی پاؤ آگے مین آپ کو نہین بتاؤن گا مزید کیا فرماتے ھین خیر اس موضوع پہ پھر کبھی تفصیلی گفتگو کرین گے اب سنین تین چیزون کو ذھن مین رکھین اور حکم لگانے مین ماھر ھو جائین گے نمبر ایک چہرے اور جسم کی رنگت
نمبر دو۔۔ چہرے اور جسم کی ھیئیت
نمبر تین۔۔۔چہرے اور جسم کی علامات
اب پہلا نمبر رنگت کا۔۔۔یاد رھے کسی بھی خلط کا رنگ چہرے پہ ضرور ظاھر ھوا کرتا ھے قارورہ مین بھی ظاھر ھوا کرتا ھے لیکن وہ قارورہ کے باب مین اس کا ذکر کرین گے
سرخ رنگ قلب عضلات کی تیزی پہ دلالت کرتا ھے جسے آپ دموی مزاج کہتے ھین لیکن مین اس کی آگے چل کر ضرور تشریح کرون گا کہ دموی مزاج حقیقت مین نظریہ کی کونسی تحریک مین ھوا کرتا ھے اب زرد رنگ صفراوی مزاج کی نشاندھی کرتا ھے باقی مضمون آئیندہ

Sunday, July 22, 2018

تشخیص مزاج وامراض 6

۔۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔تشخیص مزاج وامراض ۔۔۔۔قسط 6۔۔۔۔۔
اللہ بڑے ھی رحمان ھین انسان کو عقل ودانش سے نواز دیا دوستو مضمون انتہائی ھی طویل ھے بہت ھی مختصر کرون تو شاید سو قسطون مین مکمل ھو جاۓ ھان اگر آپ گھبرا گئے تو بتانا مضمون کلوز کردین گے پچھلی قسط مین کسی نے کمنٹس مین مضمون کو بڑا ھی خشک مضمون لکھا تھا مجھے علم ھے آپ کے لئے تر مضمون صرف اور صرف قوت باہ کی پوسٹ ھوتی ھے اب اس پہ کہون گا کچھ بھی نہین صرف اتنا ھی کہون گا کہ یہ مضمون آپ کے لئے نہین ھے اسے نظر انداز کرین اور آپ صرف تر پوسٹین پڑھا کرین یہ پوسٹین جستجو رکھنے والے اور علم کے پیاسون کے ھوتین ھین
وعدہ تو مین نے تحریک تحلیل اور تسکین پہ لکھنے کا کیا تھا لیکن درمیان مین کچھ اور باتین یاد آگئین کہ آیا جب انسان کے جسم مین کسی بھی خلط کا اضافہ ھوتا ھے تو لازم بات ھے کہ اس کے جسم پہ بھی کچھ نہ کچھ علامات ظاھر ھوتی ھونگی تھوڑی تشریح اس پہ بھی کردی جاۓ ورنہ مضمون کی روح گہنا جاۓ گی اب سب سے پہلے بات کرین گے ذائقہ کے بارے مین تو آئیے سب سے پہلے زبان اور ذائقے پہ بات کرتے ھین
ذائقہ اور زبان۔۔۔۔یادرھے ویسے تو زبان ایک عضلاتی عضو ھے اور اللہ تبارک تعالی نے عین اس مقام پہ اسے لگایا جسے آپ غذائی دھلیز کہہ سکتے ھین یعنی اس سے ٹکراۓ بغیر کوئی بھی دوا غذا آپ کے جزو بدن نہین بن سکتی اب یار دوستون نے دوا کوتو کیپسول مین بند کردیا کہ ذائقہ محسوس نہ ھو لیکن سچ یہ ھے کیپسول معدہ مین کھلنے کے بعد بھی ذائقہ زبان کو منتقل ضرور کرتا ھے اب قدرت نے اس کے ذمہ کچھ اور بھی کام لگاۓ ھین جس مین اھم ڈیوٹی غذا کو چبانے مین مدد دینا چوسنے چاشنی لذت محسوس کرنا حیران کن بات یہ بھی ھے کہ اگر آپ ھزارون لاکھون ذائقے چکھتے ھین ھر ایک کا علیحدہ علیحدہ محسوس کروانا بھی اسی کی ذمہ داری ھے بے شک یہ عضلاتی عضو ھے لیکن اعصابی اور غدی ذائقے بھی محسوس کرنا اسی کی ذمہ داری ھے اگر آپ تھوڑا سا بھی اپنے ذھن پہ زور دین گے تو سوچین ھے کوئی دنیا مین کوئی ایسی مشین جسے انسان نے تیار کیا ھو اور اتنے ذائقوں مین تفریق کر سکے یقینا آپ کا سر نفی مین ھی گھومے گا صرف اللہ ﷻ نے آپ کو ایسی مشین عطا کی اب انسان ھے کہ اس کا شکر گزار ھی نہین اب مزید سنین یہ وہ مشین ھے جس کا وزن تو چھٹانک بھر بھی نہین لیکن آپ اس کے بغیر متکلم ھو ھی نہین سکتے اپنا مدعا بیان ھی نہین کرسکتے اب اس زبان سے چاھیے تو یہ تھا کہ ھم اس زبان سے رب کائینات کو ھر وقت یاد کرتے اس کی تعریف اور حمد ثنا مین رھتے لیکن ھم نے سواۓ جھوٹ بداخلاقی گالم گلوچ کے اس کا اور استعمال کرتے ھی نہین ھان اگر یہ مفلوج ھو جاۓ گفتگو کرنے کے اھل نہ رھے تو پھر اللہ بھی یاد آتا ھے اس کی رحمت بھی یاد آتی ھے کیون نہ ھم پہلے ھی انسانیت کے دائرے مین رھین آئین آج محمود بھٹہ کے ساتھ مل کر وعدہ کرین کہ ھم آئیندہ اس زبان کا استعمال رب کائینات کی خوشنودگی مین ھی رکھین گے اب دیکھین اس زبان کو احساس ذوق بھی عطا کیا اب اس سے گزر کر جانے والی ھر چیز کا خوشگوار یا ناخوشگوار احساس کو بھی آپ کے دماغ تک منتقل کرتی ھے یاد رکھین انسانی جسم مین اور کوئی بھی اعضاء اتنا کثیر المقاصد نہین ھے جتنی زبان ھے یہ ایسا عضو ھے جو احساس بھی کرتا ھے اور اظہار بھی کرتا ھے آپ کی اندرونی کیفیات وواردات کا بھی ترجمان ھے لذت کام ودھن کا بھی انتظام کرتا ھے اور قلبی تصدیقات کا بھی اقرار اسی کے ذریعے ھوتا ھے یہ زبان جنت بھی لے جاتی ھے اور جہنم بھی لے جاتی ھے یہ پھنساتی بھی ھے رھا بھی کروا دیتی ھے اور یاد رکھین جرم آپ کی زبان کرتی ھے پٹائی اور تڑوانے مین بدن کے دوسرے اعضاء کی شامت آتی ھے خیر اب ھم ذرا طبی موضوع کی طرف رخ موڑ لیتے ھین
مین بتا رھا تھا کہ ایک عضلاتی عضو ھے لیکن زبان کی اوپری سطح پہ ایک بلغمی مادے کی جھلی ۔۔ میوکس ممبرین کے استر سے ڈھکی ھوتی ھے اب اس کے ساتھ دماغ کے پانچوین عصب سے نکلنے والی مین شاخین زبان پہ پھیلی ھوتی ھین ان مین سے دو تو ذائقہ کا احساس کرتی ھین اور ایک زبان کے نچلے حصہ کے عضلات مین پھیل کر اس کو حرکت کی انگیخت دیتی ھین اس کے ساتھ زبان پہ چھوٹے چھوٹے ابھار ھوتے ھین جو حقیقت مین غدی خلیات یعنی ایپی تھیلیل سیلز کے مجموعے ھوتے ھین یاد رکھین انہی مین حسی اعصاب کی شاخین آکر ختم ھوتی ھین جن کی تحریک کے ذریعے دماغ ذائقہ کا احساس کرتا ھے اب ذائقہ کا انحصار اس بات پہ ھے کہ اعصاب متحرک ھون اور کوئی مہیج ان کو آکر چھوۓ جو یا تو خود ھی محلول حالت مین ھو یا مقامی غدد سے نکلنے والی رطوبات سے منہ مین حل ھو کر محلول بنے اب آپ کو اس بات کا پتہ چل گیا ھو گا کہ ذائقہ کا احساس اعصابی تحریک سے ھوتا ھے اب بات کرتے ھین مختلف مزاجون مین کیا ذائقے اور چہرے یا بدن پہ کیا علامات ظہور ھوتی ھین

Friday, July 20, 2018

تشخیص مزاج وتشخیص امراض 5

۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔
۔۔ تشخیص مزاج وتشخیص امراض۔۔قسط نمبر5۔۔۔
ھر تحریک مین سردی کی وجہ سے سکیڑ اوررطوبت سے پھلاؤ اور تحلیل کے مقام پہ ضعف اور گرمی کی وجہ سے پھلاؤ ھوگا اب ان مقامات کی حالت آپ نے تھرمامیٹر سے معلوم کرنی ھے آپ یون بھی سمجھ سکتے ھین کہ تحریک کے مقام پہ سردی تسکین کے مقام پہ درمیانی حالت اور تحلیل کے مقام پہ گرمی ھوتی ھے اب ان کی چیزون کو ذھن مین رکھ کر آپ نے تحریک تحلیل اور تسکین نوٹ کرنی ھین
ایک بات یہ بھی یاد رکھین صحت کی حالت مین نارمل ٹمپریچر
98-6F یا
37ڈگری سینٹی گریڈ ھوتا ھے
اب چند باتین اور نوٹ کر لین اعصابی تحریک یعنی بلغمی مزاج مین یہ ٹمپریچر کم ھو گا
اب ایک کام آپ خود کر لین مین نے جن جن مقامات کا ٹمپریچر لینے کا ذکر کیا ھے یہی ترتیب نظریہ مفرد اعضاء مین تحاریک کے حساب سے ھے آپ انہین بالترتیب ایک دو تین نمبر دے لین اب مین انہین نمبرون کے حساب سے وضاحت کرون گا آپ بھی یاد رکھنے کی کوشش کرین اب وہ لوگ جہنون نے نظریہ پڑھا ھوا ھے ان کے لئے تو کچھ بھی مشکل نہین ھے صرف نئے اور مبتدی حضرات کے لئے یہ سب کہہ رھا ھون
اب ایک اور بات بھی یاد رکھ لین پچھلی پوسٹ مین بہت سے کمنٹس مین وقت ٹمپریچر کا پوچھا گیا تو وہ کم سے کم ایک منٹ ھوتا ھے اگر زیادہ دیر بھی تھرمامیٹر آپ رکھے رھین گے تو فرق کچھ بھی نہین پڑتا کیونکہ تھرمامیٹر نے تو درجہ حرارت مقام کا وھی بتانا ھے جو اس وقت ھے لہذا سوال غیر عقلی تھا اب ایک اور بات بہت سے لوگون نے نبض کی فی منٹ رفتار دیکھ کر لکھی ھوئی تھی اور پھر پوچھ بھی رھے تھے بتائین اب کیا مزاج ھے یا پھر کچھ لوگون نے آگے مزاج بھی لکھا ھوا تھا اب تشخيص کی فرمائش کررھے تھے یہ سب بات غلط ھے میرا اصول قطعی نہین ھے کہ ایک کی مرض دوسرے کے سامنے یون سرعام رکھی جاۓ اب ایک صاحب نے رفتار نبض لکھ کر تشخيص پہ زور دے رکھا تھا جبکہ مجھے علم تھا کہ موصوف شدید نفسیاتی مریض ھین اب تفصیل بیان کرتا تو عزت نفس مجروح ھوتا اور آخری بات سوالات لکھتے رھے جب مضمون کا ایک حصہ مکمل ھو تب اس پہ سوالات بھی کر لیا کرین انشاء اللہ جوابات لکھون گا اب مضمون کی طرف چلتے ھین
اب آپ کو بتا چکا ھون مقام نمبر ایک پہ ٹمپریچر کم ھو گا یہ بلغمی مزاج والا مقام ھے اب آتے ھین سوداوی مزاج کی طرف
تو اسے آپ عضلاتی تحریک بھی کہتے ھین اس مین تحریک نمبر دو اور نمبر تین کے مقام پہ ٹمپریچر کم ھو گا جبکہ نمبر ایک اور مقام نمبر چھ پہ ٹمپریچر چیک کرین گے تو تحلیل کی گرمی کی وجہ سے ان مقامات پہ ٹمپریچر زیادہ ھو گا اب آتے ھین صفراوی مزاج کی طرف یعنی غدی تحریک کی طرف تو دوستو اس تحریک مین مقام نمبر چار اور مقام نمبر پانچ پر ٹمپریچر کم ھو گا اور مقام نمبر دو اور تین پر تحلیل کی وجہ سے ٹمپریچر زیادہ ھو گا اب دیکھ لین مین نے ھر مزاج کی علیحدہ علیحدہ پہچان کتنی آسانی سے کرنے کی ترتیب آپ کو سمجھا دی ھے ساتھ ساتھ آپ کو شفا کا نقطہ بھی سمجھا دون یا یہ کہہ لین اس ٹمپریچر کو نارمل کرنے کا طریقہ بھی بتاۓ دیتا ھون اب غور سے پڑھین اور سمجھین مسکن عضوکو تحریک دے دین رطوبات یہان سے نکل کر تحلیل والے عضو مین تسکین اور تحلیل والے مقام کی گرمی تحریک والے مقام پر منتقل ھو جاۓ گی اور سکیڑ کو ختم کرکے صحت بحال کردے گی
اب چند چیزون کی اصولی طور پہ آپ کو خود خیال کرنا پڑے گا یعنی مرض کی تشخيص کرتے وقت عمر موسم وقت اور جنس کا خیال رکھنا پڑے گا وھی اصول اور قانون قائدے اپنانے ھونگے جو تشخيص مین طب مین رائج ھین جس طرح کھانے کے بعد حرارت جسم کم اور خالی پیٹ زیادہ ھوتی ھے یہ تجربہ آپ کو روزہ کی حالت مین ضرور ھوتا ھے اور دوسری بات جیسے بخار کی حالت مین پورے جسم مین حرارت زیادہ ھوتی ھے لیکن اس کے باوجود بھی ان مقامات کی جن کی آپ کو نشاندھی کی ھے جس ترتیب سے آگاہ کیاھے اسی ترتیب سے ٹمپریچرکم یازیادہ ھو گا یعنی تحریک کا پھر بھی تعین ضرور ھو جاۓ گااب مثال دے کےآپ کو بتاتا ھون عضلاتی غدی تحریک مین بخار کی حالت مین عضلاتی اعصابی مقام پہ تحلیل سے ٹمپریچر زیادہ ھو گا آپ اسی طرح مسلسل خود چیک کرکے تجربات کرکےاس فن پہ عبور حاصل کرلین گےآپ یون بھی کرسکتے ھین کہ ان تمام تحریکون کے مقامات جس ترتیب سے بتاۓ ھین اب ان کے مقامات مین تھوڑا ردو بدل بھی کر سکتے ھین جیسے دائین طرف والے حصون مین دائین جبڑے کے نیچے دائین بغل مین اور دائین سائیڈ کے چڈے یاگھٹنے کے جوڑ مین کے نیچے ٹانگ موڑ کر بھی ٹمپریچر لے سکتے ھین اس سے مذید آسانی بھی رھے گی
اب ایک اھم سوال ضرور آنا چاھیے تھا لیکن آج تک آپ مین سے کسی نے بھی نہین کیا وہ سوال تھا کہ تحریک تحلیل اورتسکین کیا ھین یادرھے مذکورہ مضمون کی تحقیقات بہت عرصہ پہلے ھو چکی ھین مین نے صرف تجربات سے اس کے درست ھونے اور اپنے تجربہ سے تشریحات کی ھین باقی مضمون آئیندہ