Sunday, September 30, 2018

مردہ سپرم کی جگہ نئے سپرم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔مردہ سپرم کی جگہ نئے سپرم ۔۔۔۔۔۔۔۔
کل کی پوسٹ مین وعدہ کیا تھا کہ آج ایک حیرت انگیز پوسٹ لکھی جاۓ گی یہ پوسٹ کیسی ھو گی یہ تو عنوان سے ھی ظاھر ھے قوت باہ پہ حکماء کا اتنا زور ھے کہ تصور سے باھر۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ سب کو علم ھے کہ مین ایسی پوسٹین لکھنے سے گریز کرتا ھون لیکن جو مسائل ھوتے ھین ان پہ لکھنا بھی ضروری سمجھتا ھون اور کوشش ھوتی ھے آسان ترین لکھا جاۓ اور بے ضرر لکھا جاۓ آج کا نسخہ بھی اسی فہرست مین شامل ھے سب سے پہلے مین آپ کو کھار بنانے کا اصول بتاتا ھون
کسی بھی پودے کو جلا کر اس کی سفید راکھ بنائی جاتی ھے اور اس راکھ کو سات آٹھ گنا پانی مین حل کیا جاتا ھے جسے تھوڑی تھوڑی دیر بعد کسی ڈنڈے کی مدد سے پانی مین ھلا کر حل کیا جاتا ھے چوبیس گھنٹہ بعد اس پانی کو فلٹر کر لیا جاتا ھے بہترین اور سادہ طریقہ روئی کی لمبی پونی لگا کر فلٹر کرنا بہترین ھے جن لوگون نے کم سے کم میٹرک تعلیم بھی سائنس سے حاصل کررکھی ھے اس عمل کا پتہ ھوتا ھے اسے مقطر کرنا بھی کہا جاتا ھے اب اس پانی کو آگ پہ رکھا جاتا ھے اور پانی بخارات بن کے اڑ جاتا ھے اور نیچے نمک سا بیٹھ جاتا ھے اسے ھی بوٹی کی کھار کہا جاتا ھے اب کھار نکالنے کا ایک اور طریقہ بھی ھے اسے رھنے دین تو دوستو آپ نے گھاس تڑ والا کا اسی طریقہ سے کھار نکال لینا ھے یہ گھاس بھی باھر مضافات مین عام ھوتا ھے دیہاتی لوگ اسے بخوبی جانتے ھین دوسری دوا شیر برگد آپ نے حاصل کرنی ھے تیسری دوا کشتہ فولاد آپ نے خود ھی بنانا ھے اس پہ مین عرصہ پہلے پوسٹ لکھ چکا ھون جس مین آپ دو تین گھنٹہ مین کشتہ فولاد خود سے تیار کرسکتے ھین گروپ مطب کامل مین نئے شامل ھونے والے حضرات مجھ سے سوال کرنے سے پہلے کم سے کم میری پوسٹون کا پہلے مطالعہ کر لیا کرین تقریبا ھر سوال کا جواب مل جاتا ھے اگر میری کوئی پوسٹ کسی کو نہین مل رھی تو آپ سرمد صاحب سے رابطہ کیا کرین وہ انشاءاللہ آپ کو لنک ضرور دے دین گے اب نسخہ کی ترتیب سمجھین
گھاس تڑ والا کی کھار ۔۔کشتہ فولاد ۔۔شیر برگد برابروزن کھرل کرکے نخودی گولیان بنا لین ایک گولی صبح شام ھمراہ دودھ دین مردہ سپرم کی جگہ نئے سپرم پیدا ھو جائین گے اور اگر سیمن کی مقدار کم ھے تو وہ بھی بڑھ جاۓ گی اگر سیمن پتلا ھے تو گاڑھا بھی ھو جاۓ گا ھان ایک بات آپ کو بتا دون ھمیشہ یہ بات ذھن مین رکھین کسی نہ کسی زھریلے مادے کی وجہ سے سپرم مردہ ھوا کرتے ھین اس زھر کا اخراج بدن سے بہت ضروری ھوتا ھے اسے جانچ کر بدن سے خارج کرین انشاءاللہ شفا ھو گی

Saturday, September 29, 2018

تشخيص امراض وعلامات 40

۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔تشخيص امراض وعلامات۔۔۔۔قسط نمبر40۔۔۔
مرکب نبضون کی اقسام مین اگلی قسم نبض معتدل کی ھے
نبض معتدل ۔۔۔ایسی نبض جس مین حرارت ۔۔۔ قوت۔۔۔۔اور رطوبت یعنی سب کچھ ایک جیسا برابر یعنی اعتدال پہ ھو وہ نبض معتدل کہلاتی ھے اب تشریح کرتے ھین
سب وہ دوست جنہون نے طب قدیم پڑھی ھوئی ھے وہ سب جانتے ھین کہ جب نبض کی گردان پڑھی جاتی ھے تو آخری گردان نبض ۔۔۔معتدل معتدل معتدل لکھی ھوئی ھے یعنی نہ تو نبض طویل نہ مشرف نہ ضیق نہ ھی عریض نہ ھی قصیر یعنی ھر لحاظ سے اعتدال ھو تو نبض کو آپ معتدل معتدل معتدل کہہ سکتے ھین مین نے زندگی بھر ایسی نبض نہین دیکھی ھزارون بلکہ لاکھون لوگون کی نبضین دیکھ چکا ھون اور یہ نبض دیکھنے مین کبھی نہین آئی اور نہ ھی یہ بات ممکن ھے کہ انسان کا اتنا معتدل مزاج ھو سکے ھان ایک بات پہ میری سوئی اٹکتی ھے کائینات مین ایک شخصیت کا اتنا معتدل مزاج ضرور ھوا ھے وہ شخصیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس ھے باقی کسی کا یہ مزاج نہین ھو سکتا
مین اس پہلے بھی اس بات کی تشریح کرچکا ھون کہ انسانی جسم مین مٹی پانی آگ ھوا کی کیا کیا مقدار ھے یہ کم بیش ھے جب یہ مادے کم و بیش ھین تو لازمی بات ھے مزاج مین بھی اعتدال نہین آسکتا امید ھے بات سمجھ آگئی ھو گی ممکن ھے مین غلط ھو سکتا ھون اگر کسی دوست کے پاس اس کی کوئی اور تشریح ھے تو لازمی مجھے دلائل سے بتاۓ نوازش ھو گی اگر اتفاق کرتے ھین تب بھی مجھے بتائین تاکہ علم ھو کتنے لوگون کا نظریہ میرے ساتھ ملا ھے
اب اگلی نبض کی بات کرتے ھین
نبض غلیظ ۔۔۔ایسی نبض جو چوڑائی یعنی عریض ھو اور بلندی یعنی شرف مین زیادہ ھو ایسی نبض خشکی اور سردی پر دلالت کرتی ھے یہان تک بات درست ھے یعنی سوداوی غلبہ شروع ھوا تو نبض غلیظ ھو گئی آگے تشریح کچھ یون ھے جب نبض کا قرع سکڑا ھوا ھو اور کلائی کی ھڈی کے پاس ایک انگلی پہ محسوس ھو تو سردی تری کی علامت ھے یہ بات بھی درست ھے لیکن یہان ایک تشریح قطعی نہین لکھی گئی جس لکھنا بہت ھی ضروری تھا بلکہ مین سمجھتا ھون بڑے بڑے حکماء اسے سمجھنے مین غلطی کرسکتے ھین اب میری بات سمجھین جہان یہ لکھا ھے قرع سکڑا ھوا ھو اور نبض کلائی کی ھڈی کے پاس صرف ایک انگلی پہ محسوس ھو تو ساتھ یہ وضاحت ھونی چاھیے تھی نبض برابر ھو یعنی یہ نہین ھونا چاھیے ھتھیلی کی طرف سے موٹی اور دوسری طرف سے باریک محسوس ھو یعنی چوھے کی دم کی طرح اگر ایسی محسوس ھو تو اسے نبض ذنب الفار کہتے ھین اس کی آگے تشریح کرون گا نبض برابر لیکن ایک انگلی پہ ھو تب نبض غلیظ سردی تری کی علامت ھے اس مین بلغم غلیظ ھوئی ھے
غزالی نبض ۔۔۔۔ ایسی نبض جو نباض کی انگلیون کے پورون کو ایک ٹھوکر لگانے کے بعد دوسری ٹھوکر اتنی جلدی لگاۓ کہ اس کا لوٹنا اور سکون کرنا محسوس تک نہ ھو دوستو لفظ غزال کے لفظی معنی ھرن کے ھین اس نبض کی چال بالکل ھرنی کے بچے جیسی ھوتی ھے آپ سب کے پاس نیٹ کی سہولت موجود ھے اس مین ھرنی کے بچے کی ویڈیو نکالین اور اس کی چال کو بار بار غور سے دیکھین اندازہ اندازہ ھو جاۓ تو بات کو ذھن مین بٹھا لین
تشریح ۔۔یہ نبض اس بات پہ دلالت کرتی ھے جب حرکات کی کثرت ھوتی ھے تو کاربن ڈائی آکسائیڈ اور ریاح کی شدت ھوا کرتی ھے اور آکسیجن کی کمی ھوا کرتی ھے اس کا فلسفہ مین پہلے سمجھا چکا ھون نظریہ مفرداعضاء مین یہ نبض عضلاتی غدی تحریک مین ھوا کرتی ھے اب اگلی نبض دقیق پہ بات کرنی ھے یہ بحث ذرا لمبی کرنے کو ارادہ ھے کیونکہ بے شمار اس مین غلطیون کی نشاندھی کرنی ھے وہ انشاءاللہ اگلے مضمون مین کرین گے کل انشاءاللہ ایک ایسی پوسٹ گروپ مطب کامل مین لکھون گا جس کا بہت سے لوگ شاید شدت سے انتظار کررھے ھون یہ سپرم کی کمی پہ ھو گی اور آپ کو ایک نایاب اور انتہائی آسان اور حیرت انگیز نسخہ سے آگاہ کرون گا جسے تیار کرنے مین پیسہ کی ضرورت نہین جتنی عقل اور تجربہ کی ضرورت ھو گی منتظر رھین دعاؤن مین یاد رکھین اللہ تعالی آپ کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور مجھے سمجھانے کی توفیق عطا فرمائے اللہ تعالی ھم سب کا حامی وناصر ھو خدا حافظ

Friday, September 28, 2018

مقوی بصر یعنی عینک اتار سرمہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔ مقوی بصر یعنی عینک اتار سرمہ ۔۔۔۔۔
بنانا آپ نے خود ھی ھے یا کسی سرمہ ساز کی خدمات حاصل کر لین نظر درست ھونے کے ساتھ ساتھ بے شمار آنکھون کے دیگر امراض مین نافع ھے نظر قریب و دور دونون مین نافع ھے بس تھوڑی محنت بھی ھے ھےاور تھوڑا خرچہ بھی ھے سرمہ تیار کرنے مین کچھ بھی خاص خرچہ نہین ھے بس سرمہ لگانے مین خرچہ ھے کیونکہ سرمہ چاندی کی سلائی سے آنکھون مین لگانا ھے وہ آپ کو کسی زرگر سے بنوانی پڑے گی
خیر سرمہ بنانا بھی سمجھ لین باقی جس کو خواھش ھوئی وہ تیار کرھی لے گا
سرمہ سیاہ دوتولہ کی ڈلی لین اور اسے گرم کرکےعرق سونف مین سو دفعہ بھجائین یعنی غوطہ دین اس کے بعد اسے کھرل کر کے ایک طرف رکھ دین اب تخم سرس لین ان کو کوٹ کر ان سے چار ماشہ آٹا نکال لین سرد چینی بھی چار ماشہ اور دانہ ھیل خورد بھی چار ماشہ لے کر ان تینون دواؤن کو کوٹ پیس کر نہایت باریک سفوف بنا لین جو کپڑے سے چھنا ھو اب عرق گلاب سہ آتشہ تیس تولہ مین سرمہ اور باقی تینون دواؤن کو ملا کر اس عرق کو تھوڑا تھوڑا ڈال کر کھرل کرین سب عرق کھرل ھونے پہ تیار ھے
صبح شام سلائی سے آنکھون مین لگائین اس کے مسلسل استعمال سے عینک اترتی ھے باقی آنکھون کے جملہ امراض مین استعمال کرین نزول الماء مین بہت مفید ھے

Thursday, September 27, 2018

تشخيص امراض وعلامات 39

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔تشخيص امراض وعلامات۔۔۔۔۔قسط نمبر 39۔۔۔
آج ھم تشریح کرین گے مرکب نبضون کی اقسام پہ
سب سے پہلے قسم نبض عظیم سے شروع کرتے ھین
عظیم نبض۔۔
یہ ایسی نبض ھوتی ھے جو طویل بھی ھو عریض بھی ھو اور شرف مین بھی زیادہ ھو جسم مین قوت حرارت اور رطوبت کی کثرت پہ دلالت کرتی ھو اسے طب قدیم مین طویل نبض کہا گیا ھے آپ کو یاد ھے نا مین نے پچھلی اقساط مین طویل عریض اور مشرف کی تشریح اور بحث کر چکا ھو اب ان باتون کو ذھن مین رکھین گے تو آپ کو علم ھو گا اس نبض کا نام ھی غلط تجویز کیا گیا ھے کیون؟؟؟
اب اس کیون کا جواب یہ ھے کہ ھم پہلے پڑھ چکے ھین کہ طویل نبض اس کو کہتے ھین جو طبعی حالت سے زیادہ لمبی ھو یعنی یہ نبض معتدل شخص کی نبض کی نسبت زیادہ لمبی ھوتی ھے اور یہ نبض حس اور حرارت کی زیادتی کا اظہار کرتی ھے اب آپ کی آسانی کے لئے کچھ جدید نظریہ کے مطابق بتاۓ دیتا ھون دوستو یہ نبض عموما عضلاتی غدی ھوا کرتی ھے کیونکہ نظریہ مفرداعضاء مین طویل نبض عضلاتی تحریک کا اظہار کیا کرتی ھے یاد رکھین دل کا مزاج خشک ھے کیونکہ جب قلب کے فعل مین تیزی ھوتی ھے تو جسم مین خشکی کی زیادتی اور رطوبت حرارت کی کمی واقع ھو جاتی ھے اب دوسرے لفظون مین بات یون سمجھ لین عضلات رطوبات کی کمی کی وجہ سے بچکے ھوۓ گال ھوتے ھین اور سارا جسم ھی مریض کا دبلا پتلا نظر آتا ھے اب چونکہ کلائی پہ بھی باقی جسم کی نسبت گوشت کم ھی نظر آتا ھے جس کی وجہ سے نبض دبی ھوئی نیچے نہین بلکہ اوپر نظر آتی ھے اور چار انگلیون سے زیادہ نبض ھوتی ھے بلکہ بعض اوقات شدت مزاج مین سات آٹھ انگلیون تک محسوس ھو جاتی ھے اب یہ بات بھی سمجھ ھی لین کہ نظریہ مفرداعضاء کے تحت طویل نبض کی دو ھی اقسام ھین
عضلاتی اعصابی
عضلاتی غدی
چونکہ عضلاتی اعصابی مین ابھی کچھ نہ کچھ رطوبت باقی ھوتی ھے اس لئے عضلاتی غدی کی نسبت قدرے موٹی ھوتی ھے اور لمبائی مین بھی اس سے کم ھوتی ھے یعنی عضلاتی غدی تمام نبضون سے لمبی ھوتی ھے
تو دوستو اب نبض قدیم مین جب کسی نے اصطلاحاً عضیم نبض کی تشریح تعریف لکھی تو سراسر ھی غلط وضاحتین ھوئی ھین اب سوچنے سمجھنے والا بندہ الجھن کا شدید شکار ھو جاتا ھے جب آگ پانی اور مٹی کو ایک برتن مین بند کرنے کی خود ھی ھی کوشش کرتے ھین یاد رکھین ایک وقت مین شدید حرارت شدید رطوبت شدید قوی عریض بھی طویل بھی اور شرف بھی نہین ھو سکتا ھان کسی دوست کی سمجھ مین ھو تو بسم اللہ وضاحت کرکے مجھے بھی سمجھا دے یہ صرف اللہ کی صفت ھے کہ اس نے ایک برتن یعنی جسم انسانی مین آگ بھی مٹی بھی اور پانی بھی قید اعتدال سے کررکھے ھین لیکن اسی رب کائینات نے جسم انسانی مین قانون بھی وضع کردیے ھین یعنی جب خشکی بڑھے گی تو نبض طویل ھوتی جاۓ گی اور جب تری بڑھے گی تو نبض طوالت مین چھوٹی ھوتی جاۓ گی قدرت نے تو ھمیشہ سب کچھ ایک مخصوص گردش مین سارے نظام رکھ دیے ھین سب نظام کائینات ایک مخصوص محور مین گھوم وگردش کررھے ھین جب ستارون کی گردش مین گڑ بڑ ھو گی سورج مغرب سے طلوع ھو گا تو سب جانتے ھین قیامت آجاۓ گی تو یاد رکھین بالکل اسی طرح رب رحیم نے انسانی جسم مین گردش صحت مرض کی دے رکھی ھے اور ایک فطرت کا مخصوص اعتدال اور بے اعتدالی کا نظام بنا دیا ھے اب اس سے ھٹ کر کچھ بھی نہین ھو سکتا سواۓ موت کے
یاد رکھین نبض طویل شدید ھو ساتھ تری ممکن نہین ھے اس لئے یہ نبض عظیم کسی شاعر کی اختراع تو ھو سکتی ھے کسی طبیب کی نہین
ھان شاعر سب مرچ مصالحہ ایک جگہ جمع کرسکتا ھے وہ عشق حقیقی اور عشق مجازی سے ھٹ کر آجکل عشق کی ایک تیسری قسم جس کا نام مین رکھے دیتا ھون عشق غلیظ قوام وعشق مشت ودشت بھی رکھ سکتا ھے اپنے شاعر بھائیون سے معذرت کے ساتھ
اب بات دوسری مرکب نبض
نبض صغیر۔۔۔دوستو یہ نبض بالکل نبض عظیم کے متضاد ھے یہ واقعی حرارت کی کمی کا اظہار کرتی ھے
انشاءاللہ باقی مضمون اگلی قسط مین

Tuesday, September 25, 2018

نیند کی حالت مین چلنا اور فلسفہ نیند

۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔ نیند کی حالت مین چلنا اور فلسفہ نیند ۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ مرض بھی بہت عام ھے مزے کی بات ھے کچھ عرصہ پہلے ایک دن مین خود نیند مین کافی پیدل چلا ھون یہ علم بھی ھو گیا کہ مین نیند مین چل رھا ھون پہلا موقعہ تھا صبح ھی مین نے سدباب کیا کچھ روز دوا کھائی الحمداللہ اس کے بعد یہ عارضہ نہین ھوا بہرحال یہ ایک خطرناک صورت حال ھوتی ھے اس پہ بحث کی ضرورت ھی نہین ھے کہ کیسے خطرناک ھوتی ھے بہرحال کچھ بھی حادثہ یا واقعہ ھو سکتا ھے جس کے بے شمار رخ ھین اب اصل بات کی طرف آتے ھین
نیند اس وقت آتی ھے جب دماغ کو خون کی رسد پوری طرح پہنچتی رھے اور اس کے ھر حصہ کو وافر غذا اور تقویت ملے لیکن بعض اوقات یہ بھی ھوتا ھے کہ دماغ کے کسی حصہ مین خون زیادہ ھوجاتا ھے تو کسی حصہ کی سپلائی کم ھو جاتی ھے یون جس حصہ مین خون پوری مقدار مین جاتا ھے وھان پہ اعصابی تحریک کما حقہ منعقدھو جاتی ھے لیکن جس حصہ مین خون کم مقدار مین پہنچتا ھے یا کم ھوجاتا ھے وہ حصہ نہ تو پوری طرح اعصابی ھوتا ھے اور نہ ھی عضلاتی ھوتا ھے بلکہ یہ حصہ جن عضلات کو کنٹرول کرتا ھے وہ پوری طرح اس کے زیر اثر رھتے ھی نہین اور متحرک ھوتے ھین آئین آج آپ کو ذرا نرالے انداز مین قانون طب کے مطابق بتاتا ھون ذرا اس زبان اور انداز کا بھی ذائقہ چکھ لین بلکہ کچھ عادت ڈالین صرف آسان زبان نہ سیکھین کچھ تھوڑی مشکل بھی اپنائین اوربات کو سمجھ کر کمنٹس مین لکھین
اب قانون کی زبان مین اس کی تشریح کچھ اس طرح ھے کہ مقدم دماغ سے بیدار تحریکات موخر دماغ کے عصبی مرکز سے منعکس ھو کر عضلاتی حرکات سرزد کرواتی ھے کیونکہ عضلاتی تحریک کا مرکز مقدم حصہ دماغ ھے ۔ایسی حالت مین جو تخیلات و تصورات دماغ مین پیدا ھوتے ھین عضلاتی حسیات کے مراکزان سے عضلاتی حرکات سرزد کرواتے ھین ۔ روح حیوانی کو انہی تخیلاتی لہرون سے فعل کی انگیخت ملتی ھے ۔ یہ دماغ کی ایک غیر طبعی حالت ھے جس مین قوی نفسانیہ کی حسیات لا علم ھوتی ھین وہ یون کہ مخیّلہ اور واھمہ مرکز دماغ سے تحریکات وصول کرتی ھین لیکن حافظہ اور متسرفہ بالکل بے تعلق ھوتی ھین اور مجموعی طور پر حس مشترکہ خوابیدہ ھوتی ھے
اب اصل بات تو یہ ھے کہ اس کا سبب یا تو دماغ کے بطون کے بعض حصون مین سدے ھوتے ھین یا پھر غلیظ بخارات ھوتے ھین اور یاد رکھین یہ سب معدے کے تعفن سے ھوتا ھے امید ھے آج میرا انداز آپ پسند کرین گے اب علاج لکھے دیتا ھون
حب صابر ایک گولی دو وقت
تریاق تبخیر ۔۔شنگرف رومی تولہ جائفل دوتولہ ۔۔قرنفل دوتولہ۔۔۔دارچینی دوتولہ ۔۔عقرقرحا دوتولہ ۔ فلفل دراز دوتولہ ۔۔ سنڈھ دوتولہ ۔۔ آب لہسن 24 تولہ ۔۔شنگرف کو پہلے کم سے کم چھ گھنٹہ کھرل کرکے چمک ختم پھر باقی ادویات بھی پیس کر شنگرف مین یکجان کرکے لہسن کا پانی ڈال کر کھرل کرین جب گولی بنانے کے قابل ھو جاۓ تو نخودی گولیان بنا لین دو دو گولی تین وقت
حب اسطخدوس ۔۔۔اسطخدوس دوتولہ ۔۔ حنظل دوتولہ ۔۔رائی چار تولہ پیس کر نخودی گولیان بنا لین ایک ایک گولی تین وقت ھمراہ پانی
یہ تینون دوائین ایک ساتھ کھلائین انشاءاللہ فوری اثر ھو کر مرض ٹھیک ھو جاۓ گا
تمام اعصابی غذائین بند کردین

Monday, September 24, 2018

تشخيص امراض وعلامات 38

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔تشخيص امراض وعلامات۔۔۔قسط نمبر 38۔۔۔۔
چند روز اس موضوع پہ کچھ بھی نہ لکھ سکا مصروفیات کا آپ کو علم تھا معاشرہ وقت اور حکومت آپ پہ کچھ بھی ذمہ داری ڈال سکتی ھے اسے نبھانا آپ پہ فرض ھوتا ھے یہی اچھی قومون کی پہچان ھوتی ھے اسی طرح مجھ پہ بھی ایک ذمہ داری ھے جسے نبھانا سب کام چھوڑ کے بھی فرض ھوتا ھے لیکن اس کے ساتھ ساتھ گروپ کی بھی یعنی آپ کے ساتھ بھی رسم نبھانی تھی اس لئے دیگر مضمون لکھ کر آپ کو اپنے ھونے کا احساس دلاتا رھا یہ مضمون اس لئے ساکن کیا کہ اس کے لئے بہت زیادہ توجہ اور ارتکاز کی ضرورت ھوتی ھے خیر آج سے مضمون شروع ھے ساتھ ساتھ کچھ دیگر مضمون بھی لکھتا رھون گا ھم پچھلی قسط مین نبض کی وزن حرکت پہ پہنچے تھے جس مین خارج الوزن ۔۔۔ردی الوزن ۔۔۔جیدالوزن تین قسمین تھین جس مین خارج الوزن کی وضاحت کردی تھی باقی دو کی وضاحت باقی تھی جس مین ردی الوزن پہ مضمون کلوز کیا تھا
ردی الوزن۔۔۔۔یہ اس نبض کو کہتے ھین جو عمر کے لحاظ سے اپنا صحیح یعنی درست وزن ظاھر نہ کرے یعنی بچہ بوڑھا اور جوان کی نبض اپنی عمر اور طاقت کا درست تعین نہ کرے بچے کی نبض ایسے محسوس ھو جیسے جوان ھے یا بوڑھا آدمی ھے اسی طرح جوان کی نبض بوڑھے والی یا بچے والی ظاھر ھو
جید الوزن۔۔۔۔یہ ایسی نبض ھے جس کا انبساط اور انقباض مساوی ھو یعنی اس کے پھیلنے اور سکڑنے کا زمانہ یا وقت اعتدال پہ ھو بالکل برابر ھو ی نبض صفراوی ھوتی ھے اور اسے طبی زبان مین معتدل نبض کہتے ھین
اب ان نبضون کی تشریح کرتے ھین
طبیب نے حسب دستور نبض پہ انگلیان رکھین اور نبض کے انقباض اور انبساط کا مطالعہ شروع کیا یعنی نبض کے سکڑنے اور پھیلنے کی مہلت کتنی ھے یہ دیکھنے شروع کی یاد رکھین عمر کے لحاظ سے نبض کا انقباض اور انبساط بدلتا رھتا ھے بچے کا زمانہ حرکت اور جوان کا اور بوڑھے کا زمانہ وزن حرکت اور ھوتا ھے اس بات کو بھیبذھن مین رکھین یہ انقباض اور انبساط کی کیفیت تقریبا جوانی مین برابر ھوتی ھے بچپن اور بڑھاپے مین نہین ھوتی
اب آپ نے بچے جوان اور بوڑھے کی نبض مسلسل دیکھنی ھے تو اس بات کا تجربہ ھونا ھے اب اس بض کوسمجھنے کےلئے کہ یہ انقباض اور انبساط ھوتا کیسے ھے اس کا آسان طریقہ سمجھاۓ دیتا ھون اب اسے سمجھین
ایک ربڑ کا ٹکڑا لین اور اس کے دونون سرے کسی اور شخص کو پکڑا دین اور اسے کہین اس ربڑ کو زور زور سے کھینچے اور آھستہ آھستہ اسے ڈھیلا کرے اور اپنی حالت پہ واپس لاۓ جب وہ بار بار ایسا کرے آپ اپنی انگلیون کے پورے اس ربڑ پہ رکھین اس کے کھنچاؤ اور سکڑاؤ کو محسوس کرنا شروع کردین یعنی جب دوسرا بندہ ربڑ کھینچتا ھے تو کیسا محسوس ھوتا ھے جب ربڑ واپس اپنی حالت پہ آتا ھے یعنی اسے ڈھیلا کرتا ھے تو کیسا محسوس ھوتا ھے اب بالکل یہی صورت حال آپ کو نبض مین محسوس ھوگی اب اسی کیفیت کو وزن نبض کہتے ھین اب یہی صورت حال نبض مین آپ بوڑھون جوانون اور بچون مین نبض دیکھ کر محسوس کرین یا رکھین یہ تجربہ کم سے کم پہلے تندرست لوگون پہ کرین پھر بعد مین بیمارون پہ کرین تو آپ کو اندازہ ھو جاۓ گا کہ کس طرح تندرست اور بیمار بچے بوڑھے اور جوان کی نبضون کا آپس مین فرق ھوتا ھے پہلے جوان کا جوان کے ساتھ جانچین بچے کا بچے کے ساتھ بوڑھے کا بوڑھے کے ساتھ
اب آپ کو اندازہ ھوجانا چاھیے کہ ایک تندرست بچے کی نبض کیسے ھوتی ھے تو ایک بیمار بچے کی نبض مین کیا فرق ھے اسی طرح جوان اور بوڑھے کی نبضون مین بھی فرق کا پتہ چل جاۓ گا پھر اب آپ کو یہ بھی پتہ چل جاۓ گا کہ کہین ایک بچے کی نبض جوان جیسی تو نہین ھو گئی تو ظاھر تو جنسیات کے بارے مین جان چکا ھے اور کچھ نہ کچھ ایسی جنسی حرکات کرتا ھے جب جوان کی نبض بوڑھےجیسے ھو چکی ھے تو وہ اپنا بیڑا غرق کرچکا ھے اب نوبت یہان پہنچ چکی ھے جہان بوڑھے کے بارے مین کہتے ھین ایہدی منجی ڈیرے تے رکھو باقی آپ خود سیانے ھین بات سمجھ گئے ھون گے
اب اس نبض کا سمجھنا اور قوی ضعیف اور معتدل نبض کا سمجھنا قوت باہ کا صرف علاج کرنے والون کے لئے بہت ھی ضروری ھوتا ھے یعنی پوشیدہ امراض کے ماھرین اسے لازمی سمجھین ایک طبیب کے لئے تو سب کا سمجھنا ضروری ھوتا ھے
مجھے امید ھے اب آپ کو جیدالوزن یعنی حسن الوزن اور ردی الوزن اور خارج الوزن نبضون کا علم ھو گیا ھو گا
اب اگلے قانون نبض استواء واختلاف نبض کی طرف چلتے ھین
استواء واختلاف نبض۔۔۔۔۔سچ مین یہ قانون کوئی قانون ھے ھی نہین یہ دراصل نبض کی صرف اصطلاح ھے یعنی گزشتہ تمام نبضون کی اصطلاحات اور کیفیات کا مواخذہ پیش کرنے کے لئے مستعمل ھے یعنی اگر نبض تمام اطوار مین معتدل یا عمدہ ھے تو آپ اسے نبض استواء کہین گے اگر نبض ایک یا دو بھی یا اس سے زائد اصولون یا قوانین مین بےاعتدالی پائی جاۓ تو نبض اختلاف کہلاۓ گی یعنی یہ باقی تمام نبضون پہ اکھٹا اور آخری فیصلہ لکھا گیا ھے
اب ھم آخری قانون یعنی دسوین قانون کی طرف چلتے ھین جسے نظم نبض کہتے ھین
نبض نظم ۔۔۔یہ بھی استواء اوراختلاف نبض کی طرح ھے یعنی نبض تندرست بندے کی ھے یا بیمار کی ھے اس لئے اس کی بھی تشریح فضول ھی ھے باقی مضمون اگلی قسط مین محمود بھٹہ کو اجازت دین انشاءاللہ اگلی قسط مین مرکب نبضون کی تشریحات گروپ مطب کامل مین لکھی جائین گی اللہ حافظ

Sunday, September 23, 2018

طب اور دیسی پیرا سٹامول

۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔ طب اور دیسی پیرا سٹامول ۔۔۔۔۔۔
اکثر حکماء اس پریشانی مین مبتلا ھوتے ھین کہ کاش طب مین بھی ایسی ادویات تیار ھو سکتین جیسی ایلوپیتھی مین ھین درد کش اور جراثیم کش وغیرہ وغیرہ اور مجھے افسوس ھوتا ھے ان کی لاعلمی یا کم علمی پہ جبکہ طب مین ایسی ھرقسم کی دوا اصول اور ضابطے کے ساتھ موجود ھے جبکہ بہت سے طبیب حضرات کو مین نے ایلوپیتھی کا سہارا لیتے دیکھا ھے جبکہ سچ یہ ھے کم علمی کی وجہ وہ ایسا کرتے ھین الحمداللہ ھماری طب مین جہان ھمارے پاس وسائل کی بے شمار کمی بھی ھے ھر سطح پہ طب کی حوصلہ شکنی بھی کی جاتی رھی ھے اور کیون حوصلہ شکنی کی جاتی ھے بہت سون کو علم بھی ھے اگر میرے الفاظ کسی کو برے لگین تو مین پہلے سے معذرت خواہ ھون ۔۔۔۔ اب مین ایک راز کی بات آپ کو بتاتا ھون بلکہ اصل حقیقت آپ کو بتاتا ھون حکیم صاحب کی دوکان کے باھر بورڈ لگا ھوتا ھے مردانہ امراض کے ماھر لیکن حکیم صاحب مرتے دم تک خود قوت باہ کی اس آخری دوا کی تلاش مین رھتے ھین جس کے بعد کسی اور دوا کی ضرورت نہ رھے یہ مین نے خود بہت سے حضرات کا انٹرویو لیا ھے اس لئے بتا رھا ھون بس پوری زندگی متلاشی رھتے ھین لیکن یقین جانین معمولی سی دوا جس سے آپ بخار اتار لین اسکے بارے مین بھی علم نہین ھوتا انتہائی افسوس کا مقام ھے اللہ تعالی ھمارے حال پہ رحم فرمائے
خیر دوستو گروپ مطب کو یہ فخر حاصل ھے کہ اس گروپ مین بے شمار امراض پہ تحقیقاتی مضامین لکھے جا چکے ھین اور یہ مضامین نیٹ سے اٹھا کر نہین لگاۓ جاتے اور نہ ھمارا گروپ نیٹ کا اس بارے مین محتاج ھے بلکہ نیٹ ھمارا محتاج ھے جس پہ اس گروپ کے مضامین کو فائل کیا جاتا ھے انشاءاللہ گروپ مطب کامل مین مختلف امراض پہ مضامین کا یہ سلسلہ جاری رھے گا اور یہ بات بھی باعث فخر ھے کہ اس گروپ مین اچھے حکماء کرام موجود ھین اب ایک آخری بات یہ بھی لکھ دون بہت سے لوگون نے مجھ سے انباکس خواھش کی ایک پوسٹ مین قوت باہ کی لازوال یعنی آخری دوا جسے آپ کایا کلپ یا آب حیات کا نام دے سکتے ھین پوچھنے کی کوشش کرتے ھین مین آپ سے وعدہ کرتا ھون ابھی ھمارے گروپ کے ممبران کی تعداد پچاس ھزار کا ھندسہ چھونے والی ھے جب ممبران کی تعداد لاکھ ھو جاۓ گی تو ایک جشن جو گروپ مین ھی منایا جاۓ گا انشاءاللہ وہ تحقیق گروپ مطب کامل مین لکھ دی جاۓ گی باقی باتین پھر کبھی سہی آئیے آج آپ کو طبی پیراسٹامول سے آگاہ کرتے ھین
نسخہ ۔۔۔۔ نوشادر تولہ ۔۔۔قلمی شورہ تین ماشہ ۔۔گل ارمنی آدھا ماشہ
تینون کو پیس کر سفوف بنا لین رتی تا دو رتی مقدار خوراک ھے اب خواہ سفوف رکھین یا کیپسول بھر کے کھلا لین جب بخار ھو تو ایک خوراک دین پندرہ منٹ سے لے کر ایک گھنٹہ تک بخار اتر جاۓ گا ورنہ گھنٹہ بعد دوسری خوراک دے دین اب اس سے زیادہ دوا کی ضرورت نہین ھے انشاءاللہ بخار اتر جاۓ گا دوستو چوبیس گھنٹہ مین دو ھی خوراکین کافی ھوتی ھین زیادہ کی ضرورت نہین ھے دوا دینی بھی پانی کے ساتھ ھے
لیکن ایک بات مین آپ کو بتا دون اجزاء نمبر ایک ھون دوائین بالکل کم قیمت ھین چند روپون مین تیار ھونی والی لیکن مزے کی بات ھے اجزاء خالص حاصل پھر بھی نہین ھوتے نہ ھی قلمی شورہ اصل آرھا ھے نہ ھی گل ارمنی جبکہ یہ چیزین خالص ترین بھی پچاس سو مین کلو ملتی ھین ھر چیز مین ملاوٹ کردی گئی ھے پتہ نہین اس سے پنساری کو کیا فائدہ ھوتا ھے کتنا نفع مل جاتا ھے دعا کرین اللہ تعالی سب کو ھدایت دے

Saturday, September 22, 2018

رحم کے منہ مین پانی کی رسولیان

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔رحم کے منہ مین پانی کی رسولیان ۔۔۔۔۔۔۔
دو دن پہلے میری ھی پوسٹ غالبا کینسر معدہ یا کسی اور پوسٹ مین اس مرض کے بارے مین سوال لکھا تھا مین شاید اس سے پہلے بھی شاید ایک دفعہ تفصیل سے اس مرض پہ لکھ چکا ھون کہ رحم کے منہ پہ پانی کی تھیلیان یا رسولیان بننا غدی عضلاتی تحریک کا شاخسانہ ھے اس کا علاج بھی کچھ مشکل نہین ھے مندرجہ ذیل دوائین میری لکھی ترتیب سے بنا کر استعمال کرین انشاءاللہ چند روز مین پانی کی رسولیان درست ھو جائین گی
پہلی دوا۔۔۔
غدی اعصابی اکسیر۔۔۔ھڑتال ورقی ایک تولہ۔۔۔۔سنڈھ چار تولہ مرچ سیاہ تین تولہ پہلے ھڑتال ورقی کو تین گھنٹہ کھرل کرین زور دار ھاتھ سے
پھر مرچ سیاہ اور سنڈھ پیس کر ملا کر کم سے کم دو گھنٹہ کھرل کرین دوا تیار ھے ایک تا دو رتی اس دوا سے تین وقت ھمراہ پانی دین
اکسیر ورم ۔۔۔ھلدی تولہ ملٹھی تولہ سونف تولہ ریوندخطائی تین تولہ باریک پیس کر سفوف بنا لین ایک ماشہ دوا تین وقت ھمراہ پانی دین
دواۓ خاص۔۔۔۔برگ مدار تازہ سوگرام ھلدی خالص پییس لین پچاس گرام
اب ھلدی مین ایک ایک پتہ ڈال کر کھرل کرتے جائین جب قوام گولی بنانے والا ھو جاۓ تو دو رتی برابر گولیان بنا لین ایک ایک گولی تین وقت ھمراہ پانی دین
اس دوا کو اس وقت تک استعمال کرین جب تک رسولیون کا نام نشان نہ مٹ جاۓ بہت سے لوگ یہ سوال ضرور کرتے ھین کتنا عرصہ دوا کھلائین میرے دوستو یہ تو مرض پہ منحصر ھوتا ھے اب کسی کو معمولی تکلیف تو کسی کو بہت زیادہ اب دوا بھی مرض کتنی ھے اتنا ھی عرصہ کھانی پڑتی ھے
ایک آخری اور اھم بات بھی بتا دون پانی کی رسولیان اولاد پیدا کرنے مین رکاوٹ نہین ھوتی بے شمار خواتین کو دیکھا ھے جنہین پانی کی رسولیان بھی تھین اور صاحب اولاد بھی تھین بہرحال مرض ھے اس لئے علاج ضرور کرنا چاھیے تاکہ صحت بحال رھے
ایک اور اھم بات انشاءاللہ صبح سویرے سویرے آپ کو پیراسٹامول پہ پوسٹ پڑھنے کو ملے گی جے آپ انتہائی آسانی سے خود تیار کر لین گے اور زیادہ سے زیادہ پندرہ منٹ سے لے کر ایک گھنٹہ کے اندر بخار اتار دے گی اور جو مکمل طور پہ طبی ادویات پہ مشتمل ھو گی

Thursday, September 20, 2018

اکسیر کینسر معدہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔اکسیر کینسر معدہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج کا بھی نسخہ ایسا ھی لکھ رھا ھون جسے بنانا ھرشخص کے لئے فوری طور پر ممکن ھے یہ تو سب ھی جانتے ھین جب کینسر کا نام آۓ تو خوف کی ایک سرد لہر سی پورے جسم مین اٹھ جاتی ھے یہ خوف حقیقت مین موت کا خوف ھوتا ھے جب بھی پتہ چلتا ھے کہ فلان کو کینسر ھو گیا ھے تو سننے والا خیالو ن ھی خیالون مین آخری رسومات تک چلا جاتا ھے تو ایک سرد لہر سی اٹھتی محسوس کرتا ھے آج سے چند دہائیان پیچھے چلے جائین تو دو کام تھے پہلی بات کینسر کی اتنی اقسام کے بارے مین معلومات نہین تھی جہان کسی کو خطرناک پھوڑا نکل آیا جو ٹھیک ھونے کی بجاۓ بڑھتا رھے اسے کینسر کہتے تھے بلکہ گاؤن دیہات مین دیہاتی نام کیسری پھوڑا کے نام سے یاد کرتے تھے یہ بات نہین کہ پہلے طب قدیم کو اس پہ علم نہین تھا طب نے ھی اس مرض کا بڑی سوچ سمجھ کے بعد اس مرض کانام سرطان رکھا تھا جو آج بھی رائج ھے حقیقت مین سرطان ایک سمندری کیکڑے کا نام ھے جو سوکھی شکل مین پنسار سے بھی مل جاتا ھے جبکہ تازہ سمندری ساحلی شہرون مین مل جایا کرتا ھے یورپ کے بعض ممالک یا دیگر دنیا کے ممالک جہان سی فوڈ کو بڑے شوق سے کھایا جاتا ھے اسے بھی بڑے شوق سے کھاتے ھین جو سوکھی شکل مین پنسار سے ملتا ھے یہ دواؤن مین مستعمل ھے اب اس کی بے شمار ٹانگین ھوتی ھین اب اس کیکڑے سرطان کی ٹانگون سے ھی نسبت لے کر اس انسانی مرض کو بھی سرطان کے نام سے پکارا جانے لگا اور اسی سرطان کیکڑے کو انگریزی مین کینسر کہتے ھین تو مغرب مین بھی اس مرض کو اسی نام سے آج تک لکھا جانا جاتا ھے
حکماء کے لئے بھی اور دیگر طب کو سمجھنے والے دوستو کو آگاہ کردون یہ مرض طبی لحاظ سے سوداوی مزاج کی مرض ھے مرض سوداوی ھی ھے اب جسم مین اس کے اثرات ماحول کے مطابق ھوتے ھین اگر گلے مین تو اسے اور ماحول ملا ھے اگر معدہ مین ھے تو اور ماحول ملا ھے اگر جگر مین ھے تواسے مختلف ماحول مل گیا یہی صورت حال پورے انسانی بدن کی ھے علاج کی صورت مین آپ علاج تو سوداوی مادے کا ھی کرین گے لیکن ساتھ ساتھ مقام مرض کی نسبت سے اور مرض کی شدت کے لحاظ سے اس کا علاج کرین گے جیسے آپکی معلومات کے لئے مثال دے کر واضح کرتا ھون مثلا چائینا نے ایک موبائل تیار کیا اب اس ماڈل مین کم سے کم تین کوالٹیان تیار کرے گا پہلی مہنگی کوالٹی ھو گی یہ نمبر ون کوالٹی ھوگی اسے وہ ان ممالک مین بھیجے گا جو ترقی یافتہ ھین پھر نمبر دو کوالٹی مین وھی چیز تیار شدہ ترقی پذیر ممالک مین بھیجنے کے لئے تیار کرے گا اب تیسری نمبر کی کوالٹی بھی بناۓ گا کام فنکشن وھی لیکن کارکردگی بہت ھی ھلکی اب یہ ماڈل وہ غریب ممالک مین بھیجے گا اب ان کی قیمتین بھی کوالٹی کے لحاظ سے ھی ھوتی ھین پوری دنیا اب اپنی اپنی جیب کی اسطاعت کے مطابق وھی ماڈل خرید کر کرمزے لے رھی ھے اسی طرح مرض بھی جسم مین جب ایک مقام پہ آتی ھے تو اس کی شدت بھی کم و بیش ھوتی ھے مقام نازک ھے اور مرض تو علاج بھی مشکل ھوتاھے
آج عام فہم انداز مین آپ کو کینسر پہ کافی کچھ بتا دیا ھے آج ھمارے موضوع مین کینسر معدہ ھے اس کا سب سے بہترین علاج جو طب مین ھے اور آپ کے لئے آسان بھی ھے وہ بتاتا ھون
دوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ برگ مہندی یعنی مہندی کے پتے ۔۔۔۔۔قسط شیرین ۔۔۔۔کلونجی برابر وزن پیس لین ایک چاۓ کے چمچ کے برابر صبح شام اس قہوہ سے لین دھماسہ بوٹی 20گرام روغن کلونجی چار قطرے
اب دھماسہ کو دو کپ پانی مین جوش دین جب جوشاندہ تیار ھو جاۓ تو چاۓ کی پونی سے ھی پن لین یعنی چھان لین اب اس مین چار قطرے روغن کلونجی ڈال کر مذکورہ دوا کے ساتھ پی جائین نہ ھی مہنگا اور نہ ھی محنت طلب انشاءاللہ شفا ھو گی

Wednesday, September 19, 2018

مادہ منویہ کا پتلا ھونا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔مادہ منویہ کا پتلا ھونا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاھد بشیر راجہ صاحب نے شکوہ کررکھا تھا شکوہ بھی بجا تھا کافی دیر سوچا مین نے ان کے کمنٹس پڑھ کے پھر سمجھ آیا غلطی واقعی میری ھے مجھے ڈر ھے کچھ حکماء علم کی انتہا کو چھو کر اس قسم کے نسخے نہ لکھنا شروع کردین ملاحظہ کرین اسیسزسری کا اندرونی جوھر L E D کا مین آئی سی چیلنجر سٹیلائٹ کا کچھ بچا کچھا حصہ اب اپالو گیارہ خلائی مشن سے نکلی کاربن سے بنے کھرل مین ان کو کھرل کرنا ھے پھر خلا مین ھی دوھزار کلو میٹر کی بلندی پہ جا کرسورج کی شعاعون سے خشک کرین اور جب گولی بنانے کے قابل ھوجائین تو پھر گولیان بنا کر دادا کے تمباکو والے ڈبے مین محفوظ کر لین رات کے اندھیرے مین ایک گولی آب طنخ یعنی جُناب سے کھا لینی ھے چودہ طبق روشن ھو جائین گے چاھے تومحلہ دارون کو بجلی دے لین اتنی روشنی ھو گی یہ تو بڑے لوگونکی بڑی باتین ھین اب محمود بھٹہ کی سن لین جس نے آپکی ڈھکی چھپی بات سن اور سمجھ لی
شاھد بشیر صاحب ھم تو ٹھہرے کم علم اور سادہ سے لوگ اب مین دعوت دونگا اپنے غریب اور تھوڑے پڑھے لکھے یا جن کا طب سے کوئی تعلق نہین ھے بڑی آسانی سے بغیر کسی پریشانی کے چند منٹ محنت کرین خود دوا تیار کرین شاھد بشیر نہ ھی کوئی زھر نہ ھی کوئی سائیڈ ایفیکٹ بےدھڑک بنائین بات سب سمجھاۓ دیتا ھون اب ذرا کان دھر کے بات سنین اور سمجھین
برگ گاؤزبان ۔۔۔چھلکا اسپغول ۔۔۔تخم ریحان ۔۔۔۔گوند کتیرا ۔۔گوند کیکر ھر ایک دوا پچاس گرام چینی آدھا کلو سب کو باریک پیس کر سفوف بنا لین ایک ماشہ تک گرم دودھ کے ساتھ صبح شام کھائین یہ صفرا یعنی گرمی کی وجہ سے جن کا مادہ منویہ پتلا ھوجاتا ھے ان کے لئے ھے بے حد مقوی مغلظ ھے گرمی دور کرکے مادہ کو گاڑھا کرتی ھے
اب دوسوال اکثر لوگ کرتے ھین کیا شوگر والے کھا سکتے ھین اب ان کا سوال بنتا ھی نہین چینی شامل ھے دوسرا سوال پھر وہ کیا کرین تو جناب آسان سی بات ھے یا تو خاموش ھوجائین اللہ اللہ کرین یا پھر چینی شامل نہ کرین باقی دوائین پیس کر سفوف بنا لین اور آدھی مقدار سے بھی کم کھائین اور ایک سوال کیا بلڈ پریشر والے کھا سکتے ھین لین جی جتنا مرضی کھائین انہین کچھ نہین ھو گا بلکہ بی پی نارمل کردے گی اب اس سے زیادہ آسان کیسے لکھون اور آخری بات سو ڈیڑھ سو مین دوا تیار ھو جاۓ گی اب بتائین کچھ اور پوچھنا ھے

Tuesday, September 18, 2018

بچون کا نمونیا اور کھانسی

۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔بچون کا نمونیا اور کھانسی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تھوڑا وقت ملا ھے مختصر اور بامعنی حاضری دینے لگا ھون یاد رکھین جب بچون کے نمونیا مین ان کے پھیپھڑے جام ھو چکے ھون سانس لینا بھی دشوار ھورھا ھو چھاتی پہ بلغم چکا ھو بچے کی سانسین ٹھنڈی آتی ھون جہان ایلوپیتھی میڈیسن اپنا اثر چھوڑ چکی ھون کوئی چارہ نہ رھے بسم اللہ پڑھ کے پہلی خوراک دین انشاءاللہ چار پانچ منٹ مین بچے کی طبیعت سنبھلنا شروع ھوجاۓ گی فوری آرام آۓ گا بے ضرر دوا ھے بچے کے لئے
ھان اگر دوا دینے کے فورا بعد یا کچھ دیر بعد الٹی آجاتی ھے تو بھی اللہ کا شکر ادا کرین لیسدار گاڑھا بلغم نکلے گا اگر الٹی نہین آتی بچہ دوا ھضم کر جاتا ھے تب بھی اللہ کا ھی شکر گزار ھون انشاءاللہ مرض فورا کم ھوجاۓ گا طبیعت بہتر ھونا شروع ھو جاۓ گی بچہ سکون آنے پہ سوجاۓ گا زیادہ تر حکماء حضرات بہتر علاج کشتہ بارہ سنگا سمجھتے ھین شہد مین ملا کر چٹانا لیکن میری نسلون کا آزمودہ اور سب سے زیادہ قابل اعتبار نسخہ یہی ھے جسے لکھنے لگا ھون تو دوستو سہاگہ تولہ بریان نہین کرنا مرمکی تولہ ۔ مصبر تولہ پرانا گڑ چار تولہ پیس کر ملا لین اگر کھلے برتن مین رکھین گے تو یہ نمی لے کر معجون سی بن جاتی ھے اگر کسی مضبوط بند جار مین رکھین تب نمی کم ھی لیتا ھے سال تک کے بچے کو دانہ مسور کے برابر سال سے بڑا ھے تو دانہ گندم سے پھر بھی کم ھی خوراک دین زیادہ سے زیادہ دووقت دوا دین ورنہ ایک ٹائم دو تین خوراک ھی انشاءاللہ کافی ھو جائین گی مزید دوا کھلانے کی ضرورت نہین دوسری اور اھم بات یہ دوا میرے خیال مین آج بھی چالیس پچاس روپے مین تیار ھوجاۓ گی بنانا بھی کونسا مشکل کام ھے پانچ منٹ کاکام ھے یہ کم سے کم سو بچے کی دوا بن جاۓ گی براہ کرم دوا مفت دین صدقہ جاریہ سمجھ کر بہت نوازش ھوگی یہ بات بھی ذھن مین رکھین ایک چھوٹے سے معصوم کی جان بچارھے ھین ڈھیرون دعائین ملین گی جزاک اللہ دوستو