Saturday, June 1, 2019

تشخيص امراض وعلامات-95

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔تشخيص امراض وعلامات ۔۔۔قسط 95۔۔۔۔
آج ھم نظریہ مفرداعضاء کے تحت خالصتا قارورہ سے تشخیص کی وضاحت کرین گے لیجۓ سمجھین
نظریہ کے تحت ھم مختصر رنگ مقدار قوام بو رسوب جھاگ ردعمل خلطی حالت حکم تحریک تک لکھین گے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اعصابی عضلاتی ۔۔۔۔۔۔۔۔
پہلی تحریک ھے
قارورہ کا رنگ۔۔۔مثل آب آسمانی
مقدار۔۔۔ بہت زیادہ
قوام۔۔۔رقیق تر
بو۔۔۔۔سوزش مین کائی جیسی بو اس کے علاوہ بے بو
رسوب۔۔۔زلالی سفیدی مائل سطح پہ تیرتا رسوب
جھاگ۔۔۔کم جھاگ بلبلے بہت چھوٹے
ردعمل یعنی PH۔۔اساسی نائل بہ تیزابی
خلطی حالت۔۔۔ رقیق بلغمی رطوبات کی کثرت واخراج
مزاج ترسرد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عضلاتی اعصابی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسری تحریک ھے
قارورہ کا رنگ۔۔سرخ مائل بہ سیاھی
مقدار۔۔۔۔کم
قوام۔۔۔گاڑھا
بو۔۔۔۔ ترش بو مانند سرکہ عفونتی
رسوب۔۔۔سرخی مائل تہہ نشین بھاری رسوب
جھاگ۔۔۔بڑے اور غلیظ بلبلے تادیر قائم رھتے ھین
ردعمل یعنی پی ایچ۔۔۔۔تیزابی مائل بہ اساسی
خلطی حالت۔۔خشکی وسودا اور حبس وریاح کی کثرت
مزاج۔۔۔سرد خشک
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عضلاتی غدی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ تیسری تحریک ھے
قارورہ کا رنگ۔۔۔۔مائل بہ زردی
مقدار پیشاب ۔۔۔۔۔ بہت کم
قوام پیشاب ۔۔۔۔تیل کی طرح گاڑھا
بو۔۔۔ کم بو
رسوب۔۔۔۔سرخی مائل تہہ نشین ذرا کم بھاری رسوب
جھاگ۔۔۔ بڑے بلبلے کچھ دیر تک قائم رھتے ھین
ردعمل یعنی پی ایچ۔۔۔ تیزابی مائل بہ تعدیلی
خلطی حالت۔۔۔خشکی سودا اور ریاح کی کثرت واخراج
مزاج۔۔۔خشک گرم
آج مین نے تین مزاجون کی پہچان لکھ دی ھے مجھے امید ھے آپ کو سمجھنے مین بہت ھی آسانی رھے گی ان باتون کو ذھن نشین کر لین کل ایک گروپ ممبر نے سوال انباکس کررکھا تھا کہ مجھے کچھ کتابون کی نشاندھی کرین جو نظریہ سے متعلق ھون مین نے صابرؒکی کتابون کا حوالہ لکھا وہ فرمانے لگے کہ نظریہ پہ مین نے بے شمار کتابین پڑھ رکھی ھین لیکن مجھے ایسی کتابین بتائین جن مین آپ کی لکھی تشریح کی طرح تشریح لکھی گئی ھو یہ سب پڑھ کے سچی بات ھے مجھے نہایت ھی افسوس ھوا بے شمار حکماء نے اپنا اپنا حصہ بقدر جثہ کچھ یون ڈالا ھے کہ بس کتابون کی ایک دوسرے سے نقل کررکھی ھے جب ایک نیا بندہ علم کی تلاش مین نکلتا ھے اسے طلب ھوتی ھے کہ وہ سب کچھ جان سکے اب وہ ھر مصنف کی لکھی کتابین پڑھنے کی کوشش کرتا ھے اسے نیا کچھ نہین ملتا تو وہ دل ھی دل کے اندر جو شکوہ کرے گا اس کا اندازہ خود ھی لگا لین مجھ سے بہت سے لوگون نے یہ سوال کیا ھے لیکن مین کیا جواب لکھون مین لوگون مین علم کی پیاس دیکھتا ھون لیکن انہین کتابون مین ملتا کچھ نہین تو ان پہ مایوسی طاری ھوتی ھے دوستو جب تک زندگی ھے مین لکھون گا آپ پڑھتے رھین انشااللہ آپ کو قانون طب مین سب کچھ نیا ملے گا اس دوست کو بھی جواب مین یہی لکھا ھے بس مجھے پڑھتے رھین مین اس کے سوا کچھ بھی نہین کرسکتا
اب آخری بات۔۔۔ کچھ پچھلی قسطون مین ایک دو دوستو نے یہ سوال کررکھا تھا کہ مجھے پیشاب مین لسی کی شکل کا مادہ آرھا ھے کسی اور کچھ اور طرح کی نشاندھی کررکھی تھی انہین لکھا تھا کہ انتظار کرین آگے جواب لکھون گا یہ اس پوسٹ مین جہان لفظ رسوب لکھا ھے یہ وھی مادے ھین جو مختلف رنگون مین پیشاب مین آتے ھین تین کی آج تشریح کردی ھے باقی تین کی کل کردین گے الحمداللہ ایک ایک بات کی وضاحت لکھ دی ھے جو باقی رھین گی ان کی بھی لکھ دونگا

Thursday, May 30, 2019

تشخيص امراض وعلامات- 94

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔تشخيص امراض وعلامات ۔۔۔قسط94۔۔
آج ھمارا موضوع زرد رنگ کے قارورہ سے شروع ھوتا ھے
زرد رنگ کا قارورہ یعنی غدی قارورہ
ھر ایک کو علم ھے کہ زرد رنگ آگ اور گرمی کی علامت ھے
غدد اور جگر کی صفراوی رطوبت مین کیمیائی اعمال سے کئی تغیر رونما ھوتے ھین اب ان تغیرات کی عکاسی قارورے کے رنگ مین بھی عیان ھوتی ھے اس لئے طب مین زرد رنگ کے قارورے کی چھ اقسام بیان کی گئی ھین جو درجہ بہ درجہ جگر کی حالت کو ظاھر کرتی ھین
آپ نے آگ کے مختلف رنگ کے شعلے تو دیکھے ھی ھونگے اب شعلون کے یہ رنگ آگ کی گرمی کی شدت وخفت کو ظاھر کرتے ھین
اگر زردی رنگ کے غلبے کے ساتھ قارورہ مین سرخی شامل ھو تو لازما آپ کا خیال غدی عضلاتی تحریک کی طرف جائے گا اور اگر زردی کے ساتھ سفیدی زیادہ پائی جاۓ تو تحریک غدی اعصابی ھوگی
اب یہ بات بھی یاد رکھین کہ ایک صحت مند انسان کے قارورے کا رنگ ھلکا زردی مائل ھوتا ھے یہ بات بھی یاد رکھین جہان کہین بھی طب مین لفظ معتدل آتا ھے یعنی مزاج کے بارے مین لکھا ھوتا ھے یا جب نبض کی گردان پڑھتے ھین تو آخری نبض معتدل معتدل معتدل لکھی ھوتی ھے یعنی ھرلحاظ سے عریض شرف ضیق عمیق یعنی چارون طرف سے معتدل نبض لکھی ھوتی ھے کیا آپ جانتے ھین کہ یہ کس نبض کو کہتے ھین دوستو یہ غدی اعصابی نبض ھوتی ھے جب قارورہ کا رنگ بھی ھلکا زردی مائل ھو تو بندہ صحت مند ھے
اگر یہ رنگ گلابی یا پیازی یعنی تھوڑا سرخی مائل ھو تو ایسا بندہ فطری طور پہ عضلاتی مزاج رکھتا ھے یہ تحریک بھی بہ مائل اعتدال کے ھے یعنی اس سے آگے تو مزاج غدی ھی آئے گا یہ مزاج بھی نارمل حالت مین کسی فساد کا سبب نہین بنتامطلب یہ ھے کہ عضلات وقلب بھی اچھے طریقہ سے کام کررھے ھین
اور اگر قارورے کا رنگ ترنج کے چھلکے کی طرح ھے یعنی قدرے زرد ھو تویہ جگر وغدد کے عمدہ فعل کی پہچان ھے ایسا شخص لازما غدی تحریک کا ھوگا اور نارمل ھوگا
اب تھوڑی سی بات مقدار کے بارے مین
نارمل حالت مین چوبیس گھنٹے مین تقریباً ڈیڑھ کلو پیشاب خارج ھوتا ھے جس طرح قارورے کا رنگ ھلکا زردی مائل ھونے پہ صحت کی نشاندھی کرتا ھے بالکل اسی طرح مقدار قارورہ بھی صحت کی نشاندھی کرتی ھے
اب ایک بات کسی شخص نے گرمی کے موسم مین پانی ھی کم پیا ھے یا پھر روزہ کی حالت مین بھی تو پیشاب کم ھی آیا کرتا ھے یا پھر گرمی اور پسینہ کی شدت سے بھی مقدار پیشاب کم ھوجاتی ھے اب ایسی حالتون مین ضروری نہین ھے کہ بندہ بیمار ھوگیا ھے یا کسی مرض مین مبتلا ھے دراصل یہ غیر معمولی حالات ھین اس لئے معتدل مقدار قارورہ کی تعریف کے ساتھ لفظ نارمل حالات کا بھی اضافہ کرلین
اگر قارورہ کی مقدار معتدل سے زیادہ آرھی ھے تو لازما اعضاء اصلیہ کے گھلنے یا فاضل رطوبات اور خوراک کے ھضم نہ ھونے کی وجہ سے یہ کیفیت ھواکرتی ھے یعنی اعضاء بول کمزور ھوچکے ھین یا پھر ذیابیطس مین بھی پیشاب کی مقدار زیادہ ھوا کرتی ھے اب خود ھی دیکھ لین کہ بندہ اس مین گھلتا ھی جاتا ھے ھراعضائے رئیسہ کمزور ھوتاجاتا ھے درصل یہ اعصابی قارورہ ھوتا ھے اور شوگر عموما اعصاب کی سوزش کی وجہ سے ھی ھوا کرتی ھے جبکہ بعض کو غدی سوزش مین بھی شوگر ھوتی ھے
اب چندباتین نوٹ کرلین
گردون کے ذریعے جوپانی اورنمکیات خون سےخارج ھوتے ھین وہ پیشاب کہلاتے ھین
خارج شدہ پیشاب تیزابی خواص رکھتا ھے
رسوب سے مراد وہ مادے جو پیشاب مین یا تیرتے ھین یا معلق رھتے ھین یا نیچے بیٹھ جاتے ھین ان کی تشریح پہلے ھی کرچکا ھون
عضلاتی تحریک مین پیشاب یا تو کم ھوجاتا ھے یا بالکل ھی بندھوجاتاھے
غدی تحریک مین پیشاب جلن کے ساتھ تھوڑاتھوڑا قطرہ قطرہ آتا ھے
اعصابی تحریک وسوزش مین پیشاب بہت زیادہ مقدار مین آتاھےاوربغیرتکلیف کےآتاھے
یعنی عضلات کےتحت ہیشاب بنتا ھے
غدد کےتحت رکتا اورصاف ھوتا ھے
اعصاب کے تحت خارج ھوتا ھے
باقی مضمون انشااللہ اگلی قسط مین محمود بھٹہ گروپ مطب کامل

Wednesday, May 29, 2019

کوڑ تمہ کے مجربات|| andrain||tuma

۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔ کوڑ تمہ کے مجربات ۔۔۔۔۔۔
Kor tuma,andrain,hanzel
آج صبح ھی صبح جناب اصغر خان چانڈیہ صاحب کا پیغام ملا موصوف فرما رھے تھے ھمارا علاقہ اس وقت تمہ کی فصل سے بھرا پڑا ھے ھر طرف تمہ ھی تمہ نظر آرھا ھے آپ تھوڑا سا قلم کو حرکت ذرا اس کی شان مین دین ۔۔واہ کیا بات ھے بہت ھی کڑوی نباتات پہ حرکت قلم خود بخود ھی ھوجاتی ھے بشرطیکہ اگر اسے کھا لیا جاۓ سبحان اللہ کیا مروڑ اٹھتے ھین پیٹ مین اور کیا صفائی ھوتی ھے پیٹ کی ۔۔سب کچھ کھرچ کے نکالنے مین ماھر نباتات ھے خواہ جانور ھون یا انسان ھرایک کے علاج مین اس کو فضلیت ضرور ھے گھوڑون کے لئے ایک مصالحہ بنایا کرتے تھے جسے بارہ اشیاء کا مرکب ھونے کا مرتبہ حاصل تھا اس مین کنوار گندل تمہ زیری سیاہ اجوائن دیسی نمک سیاہ پودینہ اناردانہ ۔سونف ۔ کوڑ ۔ ھریڑ ۔ سنڈھ ۔ پیاز ۔ اشیاء کا مرکب ھواکرتا تھا یہ خاص گھوڑون کے لئے مصالحہ ھے کسی دور مین تانگے عام تھے تو گھوڑے بھی عام تھے تو اسے بنا کر عام استعمال کیاجاتا تھا مجھے ایک لطیفہ آج بھی یاد ھے ھمارے علاقہ کے ایک کوچوان کے تانگے پہ سواری کم بیٹھا کرتی تھی وجہ اس کا لڑن جھگڑنا تھی آخرکار اس نے تانگہ چھوڑ کر پکوڑے بنانے کی سوجھی اب جو بھی پکوڑے چھکتا وہ تھو تھو کرکے پھینک دیتا اور اسے گالیان نکالتا اپنے راستہ پہ ھولیتا وہ غریب لوگون کو پاگل کہتا ساتھ قسمین اٹھاتا کہ مین نے پورے بارہ مصالحے ڈال کر پکوڑے بنائے ھین آخر شرم کی بھی کوئی حد ھوتی ھے مین نے اتنی محنت اور تسلی سے پکوڑے بناۓ ھین اور یہ سب دشمنی پہ اتر آۓ ھین آخرکار اس سے پوچھا گیا کہ تم نے پکوڑون مین کونسے بارہ مصالحے ڈالے ھین اب اس کا جواب بڑا ھی معصوميت والا تھا وہ جناب گھوڑون والے بارہ مصالحے ؟؟؟اب کیا تھا سب کی ھنسی چھوٹ گئی پھر اسے گھوڑے اور بندے کا فرق سمجھایا اور پکوڑے نکالنے کا طریقہ بھی سمجھایا گیا غریب بندہ تھا لوگوں نے تعاون کیا کہین ایسا نہ کرنا کہ تمہ کے ساتھ بارہ مصالحے شامل کرکے ھاضمہ تیز کرنے کےلئے پکوڑے نہ کھانا ورنہ لگ پتا جاۓ گا خیر اب سنجیدگی سے تمہ کی فضلیت پہ بات کرتے ھین
پہلی بات اس کا مزاج گرم خشک لکھا ھوتا ھے جو کہ قطعی غلط بات ھے حقیقت مین اس کا مزاج خشک گرم ھے کیونکہ یہ مولد صفرا بھی ھے اگر اس مین گرمی زیادہ اور خشکی کم سمجھ لی جاۓ تو مولد صفرا نہین ھوسکتا یہ گرم دوسرے درجہ مین اور خشک تیسرے درجہ مین ھے اس لئے مزاج خشک گرم ھی ھے اور مولد صفرا بھی ھے یعنی اس کا مزاج عضلاتی غدی بنا اور یہ عضاتی غدی مسہل ھے یہ مخرج بلغم اور سودا ھے کیمیائی طور پر ترشی بڑھا کر مزاج کو صفرا مین بدل دیتا ھے لیکن یہ زھریلی دوا نہین ھے جیسے کچلہ بھی بہت کڑوا ھے لیکن زھریلا ھے نام اس کے کافی ھین تمہ ۔ حنظل ۔ اندرائن ۔ کوڑ تمہ ۔ خرپزہ تلخ ۔ ٹوہ
۔ آپ سب کو علم ھے نظریہ مفرداعضاء کی مشہور دوا حب صابر اس کے بغیر مکمل نہین ھوتی جس کا نسخہ گندھک آملہ سار تمہ رائی برابروزن پیس کر نخودی حب بنا لیتے ھین بلغم سودا کو خارج کرنے مین بہترین ھے ساتھ ساتھ موٹاپا اور غیر ضروری رطوبات جسم سے نچوڑ دیتی ھے اب ایک اس بھی اعلی دوا بتاۓ دیتا ھون تازہ تمہ ایک پاؤ کو چیر کر سرکہ انگوری آدھ کلو مین بھگو دین بارہ گھنٹہ بعد اسے تین چار ابال دین مل چھان کر اس مین تین پاؤ چینی ڈال کر قوام کرکے شربت بنا لین دو چمچ تک رات سوتے وقت ایک گلاس دودھ کے ساتھ پی لین یعنی چمچ منہ مین ڈالین اوراوپر سے دودھ پی لین اب اس کی خاص خوبی بلغم کی زیادتی سے جوڑون مین درد یا جسم مین ریح کے درد جیسی مرض کاچند دن مین ستیاناس کردیتی ھے موٹے بندے کو چند دن مین سمارٹ بنا دے گی کبھی بھی پتلے وجود کا بندہ اسے بغیر معالج کے مشورہ کے استعمال نہ کرے کہین ایسا نہ ھو کہ ھوا کا جھونکا آۓ اور بندہ پرواز شروع کردے دوسری خوبی اس مین سرکہ کی شکل مین ڈائریکٹ ترشی شامل ھے سوداوی مادے کو صفرا مین بدلنا اس سے بہت ھی آسان ھوجاتا ھے بشرطیکہ مزاج عضلاتی اعصابی ھی ھو
اگر شوگر اعصابی سوزش سے ھے تو بھی تمہ بہت اعلی ھے مندرجہ ذیل دوا بنا کر دین تمہ ۔۔۔۔ اندرجوتلخ ۔۔۔ گھٹلی کجھور ۔ تخم جامن برابروزن پیس کر بڑے سائز کیسول بھر لین ایک روزانہ صبح شام دین ایک ماہ کی استعمال کے بعد چھوڑ دین سال بھر بعد دوبارہ دے لین اس دوران ضرورت نہین پڑے گی بعض لوگ خشکی کم کرنے کے لئے شوگر کا نسخہ مندرجہ ذیل بھی بناتے ھین فائدہ مند ھے۔۔۔۔۔۔ تمہ ۔۔ چنے بجھے ھوئے ۔ اندرجو تلخ ۔ گری بادام برابروزن پیس کر چمچ چمچ دن مین دوبار
اب بعض نے ڈرتے ڈرتے اس مین اختراع کی اور تمہ کا وزن چھٹانک اندر جو تلخ کا وزن چھٹانک گری بادام پاؤ اور چنے بجھے ھوئے پاؤ ڈال لیتے ھین ھردوطرح فائدہ دیتا ھے اب ایک اور دوا جو نہایت ھی تیز ھے اسے صرف وہ لوگ استعمال کرین جن کی شوگر کسی صورت کم نہین ھوتی تخم کریلا ۔ تمہ ۔۔ اندرجو تلخ ۔ گھٹلی کھجور ۔ گھٹلی آم ۔ گھٹلی جامن برابروزن پیس کر ماشہ تک روزانہ کسی ایک وقت کھالین شوگر کنٹرول ھوجائے گی میرا خیال ھے اتنا ھی کافی ھے

تشخيص امراض وعلامات 93

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔ تشخيص امراض وعلامات ۔۔۔قسط 93۔۔۔
پچھلی قسط مین بہت سے لوگون نے اچھے اچھے سوالات کررکھے تھے اس سے ایک بات خاص طور سے محسوس ھوئی کہ گروپ مین کافی لوگون بیدار مغزی سے مضمون پڑھ رھے ھین زیادہ سوالات وہ تھے جن کا ذکر آگے چل کے مضمون مین آئے گا اور کچھ سوالات ان لوگون کے تھے جنہون نے سابقہ اقساط کا مطالعہ نہین کررکھا دوستو مضمون کے ایک ایک جزو کو سمجھنے کے لئے ضروری ھے کہ سابقہ اقساط لازما پڑھین خیر آئیے آج کچھ دوسرے رنگون پہ بات کرتے ھین پہلے نمبر پہ سفید رنگ تھا اور اب سرخ رنگ کی بات کرتے ھین
سرخ رنگ کا قارورہ یعنی عضلاتی قارورہ۔۔۔۔۔۔
یہ تو اب آپ کو معلوم ھو ھی گیا ھے کہ سرخ رنگ خون کا ھے یا پھر عضلات کا ھے چنانچہ پیشاب مین فطری سرخی عضلاتی تحریک کا مظہر ھے
اب یہ سرخی سفیدی مائل یا پھر گلابی رنگ کی ھو تو طب قدیم مین اسے غلبہ خون کہتے ھین جبکہ طب جدید مین سرخ سفیدی مائل پیشاب سے عضلاتی اعصابی تحریک کی نشاندھی ھوتی ھے
لیکن اگر سرخی مین سیاھی ھو تو سودا نے خون مین فسادیا بگاڑ برپا کیا ھے اب سرخ زردی مائل پیشاب عضلاتی غدی تحریک کی نشاندھی ھے بس ایک بات ذھن نشین کرلین کسی بھی رنگ کے ساتھ اگر غلبہ سرخ رنگ کا ھے تو تحریک یقینی طور پہ عضلاتی ھی ھے اب آپ نے یہ خود پہچان کرنی ھے کہ آیا اس مین سفیدی زیادہ شامل ھے تو عضلاتی اعصابی ھے اگر زردی شامل ھے تو عضلاتی غدی تحریک ھے
ایک بڑا ھی آسان طریقہ ھے آپ تین چار برتنون مین علیحدہ علیحدہ سرخ زرد اور سیاہ رنگ پتلے سے حل کر لین اب سرخ رنگ والے پانی کا کچھ حصہ علیحدہ برتن مین ڈال لین اور اس مین تھوڑا سا زرد رنگ والا پانی ڈال کر دیکھین یا پھر سفید پانی شامل کرکے دیکھین یا پھر سیاہ پانی ڈال کردیکھین سب شیڈ بن جائین گے اور اس سے آپ کو تجربہ بھی ھوجاۓ گا کہ کونسا رنگ کس تحریک کی نشاندھی کررھا ھے ایسا تجربہ بارھا کرین بلکہ دوچار طبیب اکھٹے مل کے یہ تجربہ کرین اور ایک دوسرے سے پوچھین کہ ھان بھئی بتاؤ اس مین کس تحریک ک غلبہ ھے بلکہ آپ گروپ مطب کامل مین ایسے رنگون کے شیڈ بنا کر ان کی تصویرین لگائین اور دوسرے جواب دین مین خاموشی سے دیکھون گا فیصلہ بھی آپ خود کرلین گے یہ بھی آسان طریقہ ھے لیکن یہ سب اس وقت کرین جب مین مکمل رنگون کی وضاحت لکھ دون آئیے اب ذرا سیاہ رنگ پہ بھی روشنی ڈالین ذرا یہ بھی پتہ چلے کہ سیاہ رنگ پہ روشنی کیسے ڈالی جاتی ھے
سیاہ رنگ۔۔۔
ھمارے غیر حیاتی اعضاء یعنی بنیادی اعضاء تینون اخلاط یعنی فعلی اعضاء سے بنتے ھین اور ان ھی کے تابع ھین یا اس بات کو یون سمجھ لین کہ تینون حیاتی اعضاء ۔۔۔دل ۔۔۔دماغ ۔۔۔جگر۔۔۔سے متعلقہ اخلاط کا مجموعہ ھین جبکہ بنیادی اعضاء کو ھم سودا سے متعلق کرتے ھین
یعنی سودا کوئی مفرد رنگ نہین ھے بلکہ مختلف رنگون کا مجموعہ یا ترتیب پاتا ھے اب ان رنگون کی کمی بیشی سے اس رنگ کے درجے متعین ھوتے ھین ھر درجہ شدت اور خفت کو ظاھر کرتا ھے
چنانچہ سیاھی مائل قارورہ خشک گرم مزاج رکھتا ھے صفرا جل کر سودا بن رھا ھے
سیاہ سبزی مائل خالص خون رسنے کی علامت ھے
بعض اوقات آلات بول مین چوٹ زخم پتھری وغیرہ سے بھی پیشاب کا رنگ سرخ یا سیاھی مائل ھوتا ھے
چوٹ یا زخم اگر مجری البول مین یا مثانہ مین ھوگا توپیشاب مین تازہ خون کی سرخی ھوگی
لیکن یہ اگر دور گردے یا حالبین یعنی پیشاب کی نالیان مین ھوگا تو خون رس کر مثانے مین زیادہ دیر ٹھہرنے کی وجہ سےسیاھی مین بدل جائے گا ایسا ھرتحریک مین ھوسکتا ھے کیونکہ یہ حادثاتی مرض ھے
کئی بار خون پتلا کرنے والی ادویات کے استعمال سے پیشاب مین خالص خون آنا شروع ھوجاتا ھے
گردے مین پیشاب فلٹر کرنے والی نالیون مین سے رقیق خون بھی نکل جاتا ھے ایسے کئی مریض دیکھے ھین جن کے ساتھ یہ مسئلہ ھے یہ خالص اعصابی تحریک ھوتی ھے خون مین فائبرین( خون جمانے والے عنصر)کی کمی ھوجاتی ھے
عضلاتی اعصابی خاص طور پر مانع خون ادویات دینی پڑتی ھین پلیٹ لیس کی کمی کا بھی نتیجہ یہی ھے
آج کا مضمون اتنا ھی کافی ھے کل انشااللہ زرد رنگ پہ بات کرین گے

Monday, May 27, 2019

تشخیص امراض وعلامات 92

۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔تشخیص امراض وعلامات ۔۔۔۔قسط 92۔۔
سفید رنگ کا قارورہ
یاد رکھین جب بھی قارورے مین سفیدی کا غلبہ ھوگا تو جسم مین تری کی کثرت اور اعصاب مین مرض ظاھر ھوگا
اگر سفیدی کے ساتھ ساتھ کچھ زردی کی جھلک پائی جائے یعنی سفیدی زیادہ ھوگی اور زردی کم ھوگی تو یہ یقینا اعصابی غدی تحریک ھوگی اس سے مراد یہ ھے کہ ابھی تری کا تعلق گرمی کے ساتھ ھے اگر قارورہ نیلاھٹ لیے ھوۓ ھو یا اس مین کچھ سرخی کا رنگ پایا جائے تو تحریک اعصابی عضلاتی ھوگی یعنی پیشاب مین سفید رنگ درحقیقت اپنی اصل کثرت رطوبت وبرودت کو ظاھر کرتا ھے یہ ضعف غدد کی وجہ سے خوراک درست طور پر ھضم نہین ھوسکی
باقی زردی یا سرخی رنگ کا شیڈ اس مین تحریک غدی کے ساتھ یا عضلاتی کے ساتھ رابطے کو ظاھر کررھا ھے اگر بالکل ھی شفاف پانی کی طرح یعنی نیلاھٹ بھی ظاھر کررھا ھو تب بھی آپ نے اسے اعصابی عضلاتی تحریک ھی سمجھنا ھے
اب بعض اوقات اسی تحریک مین پیشاب بالکل دودھ کی طرح یا پانی مین گھلے چونے کی مانند آتا ھے اب اس کی دووجوھات ھین اؤل جب جسم مین فاسفیٹ کی زیادتی ھوجائے تو اس کی زائد مقدار پیشاب کے ساتھ شامل ھوکر اسے دودھیا کردیتی ھے کشتہ زمرد ودیگر عضلاتی ادویات سے یہ مرض درست ھوجاتی ھے اب دوسری وجہ مین یا تو چربی یا پھر اعضائے اصلیہ کے گھل کرآنے کی وجہ سے ھوتا ھے جیسے تپ دق کی مرض جب آخری درجہ مین داخل ھوجائے تو قارورے کا رنگ دودھیا ھوا کرتا ھے
اگر قارورہ کا رنگ بالکل ھی پانی جیسا ھو تو عضلات مین انتہائی تسکین ظاھر ھورھی ھے طبیعت پانی کو استعمال ھی نہین کررھی ۔ قوت ماسکہ وجاذبہ بہت ھی زیادہ کمزور ھوچکی ھین اسی وجہ سے پانی پیتے ھی جسم سے نکل جایا کرتا ھے یعنی حرارت کی شدید کمی ھے اور بلڈ پریشر بھی بہت کم ھوجایا کرتا ھے اب سستی کاھلی اور دیگر اعصابی علامات بھی آجایا کرتی ھین
نوٹ۔۔ ایک دفعہ مین خود بھی اس کیفیت سے گزر چکا ھون یہ تقریبا آج سے ایک سال پہلے کی بات ھے مین ان دنون بھی گروپ مین لکھ رھا تھا عرصہ گزر گیا ھے لکھتے ھوئے صرف یہان گروپ مین نہین بلکہ اس وقت صرف قلم سے نشتر زنی کی جاتی تھی کیا کیا اور کہان کہان لکھا ھے یہ الگ موضوع ھے اسے چھوڑ دین آپ لوگون نے اکثر محسوس کیا ھوگا کہ میرے الفاظ نشتر جیسے ھوتے ھین اب لوگ مجھے بہت زیادہ غصہ ور اور بعض تو متکبر تک بنادیتے ھین ان دنون ایک حکیم صاحب نے میری تحریرون سے میرے مزاج کی تشخیص کی اور فرمایا بہت ھی جلالی مزاج ھے بلکہ شاید غدی عضلاتی کہا یا شاید عضلاتی غدی فرمایا جبکہ اس وقت میری صحت کےلئے مجھے یہ مزاج چاھیے تھا بحرحال ان کی کوشش اچھی تھی اور آپ لوگون کو یہ بھی بتادون کہ مین مزاجا نرم طبیعت کا مالک ھون کسی غریب کو بھی آج تک گالی نہین نکالی آپ لوگ اپنی غلط فہمی دور کرلین بہت ٹھنڈا مزاج رکھتا ھون قلم سے کاٹ عادت ثانیہ ھے بس ایک تسلسل سے لکھنے کی وجہ ھے شاید
اب آتے ھین دوبارہ موضوع کی طرف
اگر انڈے کی سفیدی جیسا مواد قارورے مین معلق ھو یعنی جب آپ قارورہ کو کسی برتن مین ڈال کررکھتے ھین تو درمیان مین یہ انڈے کی سفیدی جیسا مواد تیرتا نظر آۓ اور پیشاب کی مقدار بھی کم ھو اور اس مین سفیدی کے ساتھ زردی بھی ھو تو دوستو کسی غلط فہمی مین نہ پڑین یہ سیدھی سیدھی غدی تحریک ھے اور یہ سوزش گردہ کی علامت ھے اگر معلق مواد کے ساتھ پیشاب زیادہ آرھا ھے تو اعصابی تحریک پہ مہر لگادین
اب ایک بات اور یاد کرلین زردی اور نیلاھٹ سے سبز رنگ وجود پاتا ھے یہ بات ھمیشہ یاد رکھین سبزی اور نیلاھٹ سخت سردی کی نمائندگی کرتی ھین یہ کبھی باھر فطری مناظر بھی دیکھ لین تو یہی کچھ نظر آۓ گا اگر کہین سبزہ زیادہ ھے جیسے جنگل وغیرہ تو گرمی کم ھوگی اور وھان بارشین بھی زیادہ ھونگی اور فضاءبھی صاف ھوگی آکسیجن وافر ھوگی نیلاھٹ آپ کو سمندر مین اچھی طرح یا پھر گہرے پانی مین نظر آئے گی یا پھر نیسلے کی پانی کی بوتل مین نظر آۓ گی کیون کہ بوتل کے اپنے مواد مین ھلکا نیلا رنگ ڈال رکھا ھے خوبصورتی اور پانی کااصل شیڈ دینے کے لئے
باقی مضمون اگلی قسط مین

Sunday, May 26, 2019

تشخیص امراض وعلامات 91

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔تشخیص امراض وعلامات ۔۔۔قسط91۔۔۔۔
خاص شرائط پہ چھ چیزون کو مدنظر رکھنا چاھیے یہی اصول قدیم حکماء کا رھا ھے
١۔۔رنگ ٢۔۔مقدار ٣۔۔قوام ٤۔۔بو ٥۔۔۔رسوب ٦۔۔ جھاگ
آئیے اب ان کو سمجھتے ھین
اس مین پہلی جز رنگ کے بارے مین ھے
رنگ۔۔۔۔۔۔نارمل پیشاب یعنی صحت مندانسان کا پیشاب ھلکا زردی مائل ھوتا ھے اگر اس مین دائمی تبدیلی پائی جائے تو یہ مختلف امراض وعلامات کی دلیل ھین یاد رکھین فطری رنگ تین ھین باقی تمام رنگ انہی سے بنتے ھین
١۔۔۔ نیلا ٢۔۔۔۔سرخ ٣۔۔۔۔۔زرد
نیلا رنگ۔۔۔۔ نیلا رنگ تری کی علامت ھے ۔ شفاف پانی بے رنگ ھوتا ھے ۔ جب بڑی مقدار مین کہین جمع ھوجائے تو بادی النظر مین نیلا نظر آتا ھے ۔کائینات مین پانی ایک نہایت موثر اور متحرک عامل ھے ۔ جواپنی بہتات سے ماحول اور جسم مین کئی تبدیلیان پیدا کرتا ھے ۔ پیشاب مین نیلاھٹ یا سفیدی جسم انسانی مین تری کی کثرت اور مفرد حیاتی عضو واعصاب ودماغ کی تیزی کو ظاھر کرتی ھے ۔ تری گرمی کو معتدل کہا جاتا ھے
سرخ رنگ۔۔۔۔سرخ رنگ خشکی کی علامت ھے مٹی پانی کو جذب وٹھنڈا کرکے تری کےاثرات کو کم یا ختم کرتی ھے ۔ جبکہ ھوا گرمی سے مل کر پانی کو خشک کردیتی ھے ۔ بالکل اسی طرح جسم مین عضلات وقلب اپنی تیزی سے جسمانی رطوبات کو کم کرتے اور خشکی پیدا کرتے ھین
زرد رنگ۔۔۔ زرد رنگ آگ سورج اور گرمی کی علامت ھے کائینات اور جسم مین گرمی بھی بہت سی تبدیلیون کا باعث بنتی ھے روز مرہ کا مشاھدہ ھے کہ گرمی ھی خشکی کے اثرات کو کم یا ختم کرتی ھے ۔۔اب مفرد عضو غدد وجگر جسمانی گرمی کا مرکز ھین زرد گرم صفراوی رطوبت کا تعلق اسی عضو کے ساتھ ھے پتھر لوھے اور تحجرالمفاصل کے مادے کو گرمی سے پگھلایا جاتا ھے
جہان اکبر اور جہان اصغر مین ھرطرح کی مثبت اور منفی تبدیلیان اسی طریقے سے پیدا ھوتی ھین کرہ ارض پر اگر کہین مستقل خشکی ھوجائے تو وھان قحط اور خوراک کی کمی کی حالت پیدا ھوجاتی ھے جبکہ پانی کی کثرت سے ھر چیز نرم کمزور اور گل جائے گی حجم مین بڑھ جائے گی جبکہ گرمی سے جل بھن جائے گی جسم مین تری خشکی اور گرمی کی شدت سے غیر طبعی حالت پیدا ھوجاتی ھے جسے پیشاب کے رنگ سے جانچا یا پہچانا جا سکتا ھے میری ان باتون کو اچھی طرح ذھن مین بٹھا لین تب جاکر آپ قارورہ کو درست طریقہ سے پہچان کرسکین گے ھان ایک بات یاد رھے قارورہ کے دیگر سب رنگ انہی تین رنگون سے ھی ترتیب پاتے ھین جو اپنے ھونے یا مدھم ھوجانے سے حالت بدن کا اظہار کرتے ھین کہ آیا اس مین شدت ھے یا کہ خفت ھے
اب ھم مذید چار رنگون کی تشریح ھلکی پھلکی کرین گے جو قارورہ کے مشہور رنگ ھین جن مین سفید قارورہ اور سیاہ قارورہ سرخ قارورہ اور زرد قارورہ ھین اس پہ بات کل کرین گے آج اتنا ھی کافی ھے

Saturday, May 25, 2019

تشخیص امراض وعلامات 90

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔تشخیص امراض وعلامات ۔۔۔۔۔۔۔قسط 90۔۔۔۔
حسب وعدہ آج ھم قارورہ سے بات شروع کرین گے لیکن اس سے پہلے مین تعارف قارورہ مین ایک آنکھون دیکھا واقعہ سنانا چاھون گا نبض اور قارورہ کے جو میرے استاد تھے وہ میرے چچا بھی تھے اپنے وقت کے بہت مشہور حکیم تھےان کا نام حکیم محمد صادق تھا ضلع منڈی بہاوالدین اور منڈی بہاوالدین سے جڑواں تمام اضلاع انہین بڑی اچھی طرح جانتے تھے بڑی بڑی دور سے لوگ صبح صبح ھی آجایا کرتے تھے جو مریض نہین آسکتا تھا اس کا قارورہ لے کرلوگ آیا کرتے تھے خیر اس موضوع پہ واقعات تو بےشمار ھین لیکن ایک شخص لالہ موسی سے مریض کا قارورہ ھی کے کرآیا اب چچا صاحب نے قارورہ کی بوتل اسے دھوپ مین سامنے رکھنے کو کہا اور بغیر کوئی بات کیے دوا لکھی اور پرچی بندے کے ھاتھ مین تھمائی اور دوا لینے کا حکم دے دیا تھوڑی دیر بعد دوا لے کر بندہ دوبارہ چچا صاحب کے پاس آیا اور کہا حکیم صاحب مجھے کم سے کم مریض کی مرض ھی بتا دین نہ آپ نے کچھ پوچھا نہ مین نے کچھ بتایا بس آپ نے دوا لکھ دی اور مین نے لے لی مین بڑا پریشان ھون کچھ مطمئن کرین اب چچا صاحب نے فرمایا بیٹے قارورہ عورت کا ھے اور اسے سینہ پہ بائین سائیڈ پھوڑا ھے اور کینسر نہین ھے اگر یہ ھی مرض ھے تو دوا بھی مین نے اسی کی دی ھے تو اس شخص نے شکریہ ادا کیا اور اعتراف کیا بالکل یہی تکلیف ھے میری بیوی کو ھم بڑے پریشان تھے ڈاکٹروں نے کینسر کاشک ڈالا ھوا تھا یہ تھی قارورہ سے تشخيص مرض۔۔۔
اور انتہائی افسوس کے ساتھ اعتراف کررھا ھون یہ قارورہ کی تشخیص مرض مین اس حد تک نہ سیکھ سکا بس نبض ھی سیکھی باوجود اسکے اس وقت میرے ذھن پہ یہ بات سوار رھتی تھی کہ کہان لوگون کے پیشاب سونگھتا رھون اب وہ وقت ھاتھ نہین آتا اس وقت بھی ماہ رمضان کا پہلا جمعہ تھا کہ اچانک چچا صاحب یہ دار فانی چھوڑ گئے إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعون
آئیے اب ھم موضوع کی طرف چلتے ھین
پہلی بات قارورہ اس پیشاب کو کہتے ھین جو کسی معمل گاہ یعنی لیبارٹری مین ٹیسٹ یعنی کسی مرض کی تشخیص کے معائینے کے لئے یا پھر کسی طبیب وحکیم کے پاس نظری معائینہ یعنی طبی معائینے کے لئے لایاجاۓ
اب قارورہ دیکھنے کی چند شرائط بھی ھین انہین لازما مدنظر رکھین
قارورہ صبح کا ھونا چاھیے یعنی جب مریض سوکراٹھے اور جو پہلا پیشاب کرے اسے لانا چاھیے لیکن اگر کوئی شخص رات کو بھی پیشاب کرنے کا عادی ھو تووہ رات کا کھانا کھانے کے بعد پانچ گھنٹے بعد والا اپنا پیشاب جمع کرلے اب اسے دکھانا چاھیے
لایا جانے والا قارورہ کرتے وقت ضائع نہ ھو
وہ برتن جس مین قارورہ لایا جائے ھر قسم کی آلائشون کیمیائی اجزا سے پاک دھلا ھوا اور صاف ستھرا ھونا چاھیے اور برتن رنگ دار نہین ھوناچاھیے بلکہ شیشہ کا ھونا چاھیے تاکہ تمام اجزاء رنگ قوام وغیرہ بآسانی دیکھے جا سکین
قارورہ سردیون مین تین گھنٹہ اور گرمیون مین دوگھنٹہ سے زیادہ پرانا نہین ھونا چاھیے اس مدت کے بعد دراصل اس مین ظاھری اور کیمیائی تبدیلیان شروع ھوجاتی ھین
مریض نے اس رات معمول سے ھٹ کر ماکول مشروبات یا دواکی صورت مین کوئی نئی شے نہ کھائی ھو نہ ھی استعمال کی ھو مثلا اگر رات مریض نے سربیکس گولی کھالی ھو توصبح پیشاب کا رنگ بالکل زرد ھوگا یعنی یہ سربیکس گولی کا رنگ پیشاب مین آگیا ھے اس لئے طبیب دھوکہ کھا جائے گا اسی طرح اگر مریض نے رات کو سٹرالکا شربت جو کہ ایک کھارا شربت ھے یہ پی لیا تو پھر بھی معالج رنگ اور قوام مین دھوکہ کھاجاۓ گا یہ شربت گردون کے اعصابی پردے پہ براہ راست عمل کرتا ھے جبکہ خون مین کوئی تبدیلی نہ آئی ھوگی اس لئے ایسی باتون پہ خیال کرنا چاھیے بلکہ معالج کا فرض ھے کہ وہ مریض کو پہلے ایسی ھدایات دے دے ۔ یا اگر لے کر بندہ آگیا ھے تو اس سے ایسی باتین پوچھ لے
اب معمولات سے مریض کو منع نہ کرین جو وہ روز مرہ ادا کرتا ھے یا جو کچھ وہ روزانہ معمول کے مطابق کھاتا پیتا ھے تاکہ درست تصویر مرض سامنے آسکے ممکن ھے روز مرہ استعمال کی جانے والی ا شیاء ھی باعث مرض ھون یا یہی اشیاء اسکی شفا مین رکاوٹ بن رھی ھون اب پیشاب مین ان کا اثر ھوگا تو آپ پہچان بھی سکین گے
معائینہ سے پہلے قارورہ کو کچھ دیر کے لئے رکھ دین تاآنکہ رسوب نیچے بیٹھ جائین تیرنے والے مادے اوپر اور معلق ھونے والے مادے درمیان مین ٹھہرجائین
اب سوال یہ ھے کہ صبح کا قارورہ ھی کیون لیاجائے یا اس مین کیا حکمت کارفرما ھے کہ جوکچھ رات کا کھایا پیا گیاتھا بقیہ وقفہ مین اس مین ھضم وجذب اور کیمیائی تبدیلیون کے بعد جوفاضل رطوبت اور باعث مرض مواد ھوتا ھے گردے بشکل پیشاب مثانہ مین دھکیل دیتے ھین
یاد رھے بعض دفعہ موقعہ پہ ھی مریض کا قارورہ دیکھنے مین بھی حرج نہین ھے اس طرح بہت سی معلومات ھوجایا کرتی ھین
باقی مضمون خاص شرائط اگلی قسط مین

Thursday, May 23, 2019

تشخیص امراض وعلامات 89


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔تشخیص امراض وعلامات ۔۔۔۔۔۔قسط89۔۔۔۔
پچھلی قسط مین بات ھورھی تھی کہ غدی تسکین کی وجہ سے غیر منہضم وزنی ٹھوس مادے یورک ایسڈ وغیرہ واپس آنے مشکل ھوتے ھین یہ کچھ جوڑون مین اکھٹے ھوجاتے ھین اور کچھ گہرائیوں مین زھرون مین تبدیل ھوکر گہرے امراض پیدا کرتے ھین غددجاذبہ سستی کی وجہ سے انہین قبول کرنے سے قاصر ھوتے ھین چنانچہ جذب ھوئے بغیرغددناقلہ کی طرف منتقل نہین ھوتے تو خون زھریلے مرکبات سے بھرجاتا ھے اور گاڑھے پن اور عضلاتی سکیڑ کی وجہ سے بعض اوقات بننا ھی بند ھوجاتا ھے
عضلات کی مشینی تحریک مین جونہی غددجاذبہ کو تحریک ملنے سے تھوڑی تقویت ملتی ھے اور خون مین گرمی بڑھتی ھے تو مواد گاڑھی شکل مین خارج ھونا شروع ھوجاتا ھے اس لئے تحریک مین پیشاب بہت گاڑھا اور بعض اوقات تیل کی مانند ھوتا ھے۔
غدی تحریک مین دوران خون غدد کی طرف زیادہ ھوتا ھے عضلات مین تحليل اوراعصاب مین تسکین ھوتی ھے گردون کی نیفرونزاور مثانے مین اعصاب کا اثر کم ھوجاتا ھے۔ پیشاب پوری طرح خارج نہین ھوتا اور خون مین شامل ھوکر اسے زھریلا کرتا رھتا ھے ۔ جوخارج ھوتا ھے تو سوزشی اور جلن دار ھوتا ھے ۔ مثانے مین زیادہ دیر ٹھہرنےسےورم ھوجاتا ھے ۔ جسے مثانہ برداشت نہین کرتا ایسا بندہ زیادہ دیر پیشاب نہین روک سکتا اور تھوڑا تھوڑا خارج کرتا رھتا ھے اسی طرح کی ایک صورت اعصابی تحریک مین بھی پیدا ھوتی ھے عضلات مین تسکین کی وجہ سے پیشاب پہ زیادہ دیر قابو نہین پایا جاسکتا لیکن دونون مین فرق اس طرح کرین کہ غدی تحریک کا پیشاب سوزشی اور جلن پیدا کرتا ھے اور زرد رنگ کا اور تھوڑا تھوڑا آتا ھے دیگر رطوبات بھی سوزش جرتی ھوئی خارج ھوتی ھین جبکہ اعصابی پیشاب مقدار مین زیادہ ھوتا ھے
غدی سوزش سے صفرا خارج نہین ھوتا ۔زھریلے مرکبات گردون مین رک کر ان کی ساخت وعمل بدل دیتے ھین پھر یہ کام کرنا بند کردیتے ھین اسی تحریک مین اگر سوزش کا مرکز جگر ھو تو جگر مین بھی تبدیلیان ھوتی ھین اور وہ فیل ھوجاتا ھے اور آپ اسے ھیپاٹاٹس کہتے ھین
اب حقیقت مین ھوتا کیا ھے آئیے اس عمل کو سمجھتے ھین؟؟؟
پہلی بات پیشاب علیحدہ کرنے والی اس نالی کو چار حصون مین تقسیم کیا جاتا ھے یاد رکھین ھرحصہ مین اعصاب بھی ھین عضلات بھی ھین اور غدد بھی ھین ان سب کے اثرات علیحدہ علیحدہ ھین
یہ نالی فلٹریٹ یعنی ابتدائی پیشاب مین سے مفید اجزاء کوجذب کرکے یعنی نتھار کرواپس خون مین بھیجتی اور پیشاب کوآگے حوض گردہ پیلوس مین پاس کردیتی ھے اس کا بس یہی کام ھے اسے ھم صفائی بول کہتے ھین یاد رھے کہ یہ غدی مادے کی بنی ھوئی ھے اس لئے ھم یقین سے کہہ سکتے ھین کہ غدد ھی پیشاب صاف کرتے ھین
اب آگے سمجھین۔۔اس کا پہلا حصہ یومین پیالہ ھے ۔ گردے کا باھر والا حصہ کارنیکس انہی پیالون اور شریانی گچھون گلومیرولس پر مشتمل ھے ایک بات یہ بھی یاد رکھین اس حصہ مین سوزش کو گلومیرلونیفرائیٹس کہتے ھین ۔۔عضلات خون مین سے اس شریانی گچھے کے ذریعے یومین پیالے مین اجزائے بولیہ چھانتے اور گراتے ھین اس بات سے ثابت ھوا کہ عضلات پیشاب لاتے اور بناتے ھین
اب مذید اگلی بات سمجھین ۔۔۔اس پیالے مین کافی سارا پانی اور کچھ مفیداجزاء پروٹین شکر امینوایسڈ وغیرہ بھی خون مین نکل کرگرجاتے ھین ۔ پیالے مین یہ گرنے کے بعد یہ مائع جب نیفرونز کےاگلے بل دار حصے مین داخل ھوتا ھے توزائد پانی مفیداجزاء کےسالمے نیفرونز کی دیوارون جن کے سوراخ بڑے ھوتے ھین ان سے ٹکرا کر باھرنکل جاتے ھین ۔ جنہین نیفرونز پر لپٹی ھوئی خون کی نالیان دوبارہ خون مین لےجاتی ھین ۔۔ یہان بقیہ مواد نیفرون مین چلتا ھوا( U )شکل والے حصے مین پہنچتا ھے تو بھاری گاڑھا مواد نیچے بیٹھ جاتا ھے ۔ مفید مائع اور بقیہ مفیداجزاء نتھر کراگلے بل دار حصے مین پہنچ کر پھر باھر نکل کر خون مین شامل ھوجاتے ھین اور گاڑھا مواد پیشاب کی شکل مین دباؤ سےآگے بڑھتا رھتا ھے اور اس کے بعد پیشاب اکٹھا کرنے والی نالیون کے ذریعے حوض گردہ اور وھان سے حالبین کے ذریعے مثانہ مین چلا جاتا ھے
نیفرونز کے آخری حصہ مین اگر پیشاب گاڑھا ھو تواعصاب کے زیراثر خون کی نالیون مین سے پانی نکل کر نیفرونز مین داخل ھوتا ھے اوراگر پتلاھوتوپانی باھر نکل جاتا ھے ۔۔اسی طرح یہان پر سوڈیم اور پوٹاشیم کا تبادلہ ھوتا ھے اب اس عمل کوکہا جاتا ھے کہ پیشاب یوریا مین تبدیل ھوگیا ھے
اب آپ نے ایک بات یہ بھی یاد رکھنی ھے غدی تحریک وسوزش مین عضلاتی تحلیل سے پروٹین ۔البیومن اوراجزائے بولی کافی مقدار مین خون مین شامل ھوتے ھین اس وجہ سے خون نسبتا گاڑھا ھوتا ھے عضلاتی کمزوری سے مواد پوری طرح چھنتا نہین قوت جاذبہ زیادہ ھوتی ھےچنانچہ خون مین رھتاھےنالیون یعنی نیفرونز مین سکیڑ سوزش ورم سےپیشاب پوری طرح خارج نہین ھوتا البتہ البیومن پگھے ھونے اورواپس جذب ھونے سےکافی خارج ھوتی ھے کیلشیم بھی خون مین کافی ھوتا ھے یہ مادے نالیون مین اورباھر اکٹھے اور جمع ھوسکتے ھین مرحلہ بہ مرحلہ کئی علامات استسقاء ۔ دل اور دماغ کے پردون مین پانی جمع ھوجانا اور گردون مین عضوی تبدیلی ھوکر گردون کا فیل ھوجانا شامل ھے یوریمیا ھوجاتا ھے اس طریقے سے غدی فیلیر کا علاج مشکل ضرور ھے لیکن ناممکن نہین ھے
انشااللہ اگلی قسط ھم قارورہ سے قدیم انداز مین تشخیص پہ شروع کرین گے اب جدید طریقہ سے قارورہ کے بارے مین آپ و کافی کچھ بتادیا ھے اور مضمون ختم ھونے کے بعد آپ کو مختلف لیبارٹری ٹیسٹون پہ مشتمل مضامین بھی کبھی کبھار لکھتے رھین گے لیکن ان کو سمجھنے کے لئے شرط یہی ھے کہ آپ یہ مکمل مضمون ذھن مین رکھین گے تب سمجھ آئے گی ورنہ بات وھی ھوگی کہ آپ سوال کرتے پھرین کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اجی محترم ذرا بتائیے گا کہ یہ ھریڑ کیا چیز ھوتی ھے اور کہان سے مل سکتی ھے اور کتنے کی ملتی ھے اور مین جواب لکھون کہ جناب ھریڑ ایک مٹھائی کانام ھے جو لاطینی امریکہ مین پیدا ھونے والے ایک فروٹ سے تیار ھوتی ھے اور یہ مٹھائی بھی وھین جنگلی تیار کرتے ھین وھان کسی بھی جنگلی سٹور سے خریدی جاسکتی ھے یا پھر پاکستان مین اکبری منڈی لاھور مین کسی ریڑھی والے سے مل جائے گی باقی مضمون آئیندہ قسط مین آخری بات کو نظرانداز بھی کیا جاسکتا ھے محمودبھٹہ گروپ مطب کامل

Tuesday, May 21, 2019

تشخیص امراض وعلامات 88

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔ تشخیص امراض وعلامات ۔۔۔۔قسط 88۔۔۔۔۔
آھستہ آھستہ ھم قارورہ سے تشخیص امراض یعنی طب کے اصل اصول قارورہ کی طرف آرھے ھین کہ کیسے حکماء قارورہ دیکھ کر امراض کی تشخيص کرتے ھین لیکن اس سے پہلے ذرا قارورہ کے بارے مین تھوڑی تشریح کہ یہ کیا اور اس کی پیدائش کیسے ھے
خون جسم کی تمام بافتون کو غذا ۔ آکسیجن ۔اینزائم اور ھارمون پہنچاتا اور گندے ٹھوس اجزاء فالتو پانی اور گیس وغیرہ کو بدن سے خارج کرنے مین مدددیتا ھے خون کی رسد اور واپسی کا کام قلب وعضلات کرتے ھین
خون جسم کی غذا بننے کے ساتھ ساتھ مختلف اعضاء مین صاف ھوتا ھے گردون مین پہنچتا ھے تو گردے فالتو فاسد مادون کو گھلے ھوئے مائع کی صورت مین خون سے کھینچ لیتے ھین یعنی خون اور فاسد مواد علیحدہ علیحدہ ھوجاتے ھین یاد رھے خون کی یہ صفائی کا ذمہ جگر وغدد کی ذمہ داری ھے
یہ مواد پیشاب کی صورت مین گردون کے اسٹور مثانہ مین جمع ھوتا رھتا ھے ایک حد کے بعد اعصاب اسے محسوس کر کے ارادی عضلات کے ذریعے غدد ناقلہ مین سے باھر خارج کردہتے ھین
یعنی پیشاب بنانے صاف کرنے اور باھر خارج کرنے مین تینون مفرداعضاء حصہ لیتے ھین جیسے بتایا ھے
خون کی رسد وسپلائی دل کے ذمہ ھے
اب اس خون مین سے صفائی کی ذمہ داری جگر کے ذمہ ھے
اب خون صاف ھونے کے بعد فاسد مواد جو پیشاب کی صورت مین مثانہ مین اکٹھا ھوگیا تھا اسے باھر خارج کرنا دماغ کی ذمہ داری ھے یعنی یہ بات ثابت ھوگئی کہ پیشاب بنانے ۔۔صاف کرنے۔۔اور باھر خارج کرنے مین تینون مفرداعضاء یعنی اعضائے ریئسہ کا کام ھے اگر ان اعضاء مین یہ اشتراکی توازن برقرار نہ رھے توامراض نظام بول یا باقی بدن مین بھی امراض پیدا ھوسکتے ھین یعنی ایسی صورت مین کسی ایک مفردعضو کا فعل تیز ھوتاھے اور دوسرے مین تحلیل اور تیسرے مین تسکین واقع ھوجاتی ھے
مثلا۔۔اگراعصاب مین تحریک پیدا ھوجائے تو غدد مین تحلیل سے کمزوری اور عضلات مین تسکین سے سستی پیدا ھوجائے گی یعنی پیشاب کثرت سے اور باربار آنا شروع ھوجائے گا
اب اگر غدد مین تحریک پیدا ھوجائے تو پیشاب مین کمی اور جلن سے آنا شروع ھوجائے گااور ساتھ ساتھ البیومن بھی آئے گی
اگر عضلات مین تحریک پیدا ھوجائے تو پیشاب کی مقدار انتہائی کم یا پیدائش ھی بندھوجاۓگی۔۔ساری باتین ایک طرف لیکن اصل سوال اب یہ ھے کہ آیا پیشاب کی پیدائش ھوتی کیسے ھے آئیے اب اس پہ بات کرتے ھین
پیدائش بول۔۔۔تحریک اعصاب سے دوران خون گردون مین انتہائی سست ھوجاتا ھے خون مین شکری نشاستہ دار رطوبات زیادہ ھین۔ غددجاذبہ کی کمزوری سے ان مین مناسب کیمیاوی تبدیلی نہین آتی۔اس لئے خون میٹھا ھوسکتا ھے ۔۔عضلات مین تسکین ھوتی ھے اور وہ رطوبات کوسنبھال نہین سکتے اس وجہ سے بڑے پیمانے پہ گردون سے نچڑتی ھین اور زیادہ پیشاب کی صورت مین باربار خارج ھوتی ھین
اگراعصاب کی مشینی تحریک شروع ھوجائے تو تحلیل سے ایک طرف غددناقلہ کے منہ کھل جاتے ھین اور دوسری طرف ارادی عضلات مین تسکین سے ان کی گرفت اور فعل سست ھوجاتا ھے چنانچہ غیرارادی عضلات سےجڑتے ھی نچوڑنا شروع کردیتے ھین ارادی عضلات سے انہین روکا نہین جاسکتا ۔قے آنسو اور دیگرمجاری کے ساتھ پیشاب بھی کثرت سے خارج ھوتا ھے اور اگر یہ سلسلہ چلتا رھے تو جسم سے پانی کی مقدار بہت کم ھوجاتی ھے بلڈ ہریشر گرجاتا ھے گردون مین کچھ خارج نہین ھوتا اب ھم کہتے ھین کہ پیشاب بننا بند ھوگیا ھے (ھیضہ مین مشاھدہ کرلین )
اعصاب کی کیمیاوی تحریک مین رطوبات جذب ھوکر اعصاب مین اعصاب مین ھونے کے لئے جسم مین اوپر کی طرف سفر کرتی ھین اگریہ دباؤ جاری رھے تو خمیر وتعفن کے بعد چھالون کی شکل مین جلد سے باھر نکلتی ھین۔گردون کے اوپر چڑھا ھوا اور مثانے کا عضلہ تسکین سے کمزور ھوجاتا ھے اس لئے اعصابی تحریک مین سلسل بول اور بول فی الفراش اور دیگر کئی علامات وشکایات بھی پیدا ھوتی ھین
عضلات کی تحریک مین نائٹروجنی پروٹینی لحمی اجزاء خون مین زیادہ ھوتے ھین اعصاب مین تحلیل سےتری کم اور ضعف ھوتا ھے ۔غددجاذبہ مین تسکین اور گردون کی شریانوں مین خون کا دباؤ زیادہ ھوتا ھے گلومیرولس کے سوراخ عضلاتی سکیڑ سے تنگ ھوجاتے ھین چنانچہ چھاننی کے سوراخ تنگ ھونے اورزیادہ پریشرسےخون بولیہ مادون سمیت آگےچلاجاتاھے پیالےمین اجزائےبول گرتےنہین چنانچہ یہ خون مین گردش کرتےرھتےھین یاپھر شریانون اوروریدون کےمقام اتصال مین جمع ھوکرپتھری کی شکل اختیارکرلیتےھین اس تحریک مین اسی وجہ سےپتھریان زیادہ بنتی ھین عضلاتی تحریک مین خون کادباؤ نیچےعضلات کی طرف زیادہ ھوتا ھےکیونکہ یہ خوراک عضلات مین زیادہ صرف ھوتی ھے۔لحمی مادون کےصرف اورعضلات کےکام کرنےکےبعدھی زیادہ زھریلےمرکبات بنتےھین۔غدی تسکین سےغیرمنہضم یہ وزنی ٹھوس مادےیورک ایسڈوغیرہ واپس آنےمشکل ھوتےھین۔باقی آئیندہ محمودبھٹہ گروپ مطب کامل

Monday, May 20, 2019

مہرون کا درد و یورک ایسڈ اور باقی جوڑون کا درد

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مہرون کا درد و یورک ایسڈ اور باقی جوڑون کا درد۔۔۔۔۔
آج مین تشخیص امراض وعلامات پہ پوسٹ نہین لکھ سکا کل روزہ رکھ کر کامونکی اور پھر لاھور کا بھی سفر کیا واپسی پہ افطاری کنارہ ھوٹل پہ ھوئی اور پھر شدید طوفان بادوباران جھیلتے ھوئے رات نوبجے گھر پہنچ سکا گاڑی کی تھوڑی سی بھی سپیڈ بڑھانے پہ محسوس ھوتا تھا کہ گاڑی ھوا مین اڑجائے گی سرمد بار بار فون پہ سپیڈ کم کرنے کی ھدایات دے رھا تھا جبکہ اسے علم نہین تھا کہ سپیڈ توپہلے ھی بہت کم ھے دراصل مین اسے لائیو طوفان کا نظارہ کروارھا تھا وہ سمجھ رھا تھا شاید گاڑی تیز رفتار ھے جبکہ طوفان تیز رفتار تھا کافی درخت زمین بوس ھوئے بجلی کی تارین ٹوٹ گئین بارش تو رات ھی رک گئی تھی جبکہ بجلی دن گیارہ بجے بحال ھوسکی اب ان تمام معاملات مین ساتھ تھکاوٹ کو بھی شامل کرلین اس لئے سلسلہ وار قسط نہین لکھ سکا لیکن آج جو بات بتا رھا ھون جس جس نے اس پہ عمل کر لیا اسے بہت بڑی کامیابی مل جائے گی آپ کو علم ھوگا کچھ عرصہ سے پوسٹون مین گاھے بگاھے مین کریر کا ذکر کررھا ھون پھر میری اپیل پہ دو دوستون نے جن مین ایک محمد جاوید صاحب ھین ایک شاھد مسعود صاحب ھین ان دوصاحبان نے مجھے کریر کے پھول بھیجے تھے ان پھولون کا مین نے نمک تیار کیا تھا یہ میری اپنی پیدا کردہ جدت تھی جبکہ ان پھولون کا استعمال کسی اورانداز مین بھی کیاجاسکتا ھے مزاج کے اعتبار سے کریر خشک گرم مزاج رکھتا ھے نمک بننے پہ گرم خشک ھوگیا ھے ایک بات سب حکماء جانتے ھین کہ نمک کے پاس یا فضاء مین اگر نمی کی مقدار بڑھ جائے تو نمک نمی کو تیزی سے جذب کرکے پانی کی شکل اختیار کرتا ھے اور کچھ نہین تو اس کی سطح لازما گیلی نظر آۓ گی جبکہ کریر کا نمک بے شک جتنا مرضی پانی یا نمی کے قریب رکھین یہ خشک کا خشک ھی رھتا ھے یہ کبھی بھی نمی لے کر گیلا نہین ھوتا جانتے ھین اسکی اس خوبی کی وجہ سے یہ کیمیا گری کی بھی جان ھے سم الفار اس مین اس غضب کا بنتا ھے جو واقعی قلعی کا پانی خشک کرتا ھے سیماب کو اس نمک سے بہت ھی کامل بنایا جاسکتا ھے لیکن یہ میرا موضوع نہین ھے اور نہ ھی مین اس پہ کچھ کہنا یا لکھنا چاھتا ھون بس سمجھ لین آپ نے دوا لازوال قسم کی بنا لی تو سمجھ لین سونا بنا لیا تو آئیے لازوال دوا بناتے ھین
دوستو ایک بات پہلے ھی تجربہ سے گزر چکی تھی کہ کریر کے پھول اگر تازہ مل جائین تب تو ان کی گلقند بنا لین وہ بھی شہد مین اگر تازہ نہین ملے سوکھے ھوئے پھول میسر ھین تو ان کو پیس کر تین گناہ شہد لے کرقوام بنا کر پسے ھوۓ پھول ملا کر معجون بنا لین ھردوحالت مین آدھی چھوٹی چمچ ھمراہ دودھ استعمال کرین مہرون کی خرابی کا نام ونشان نہین رھتا ھڈیون کے درد اور جوڑون کے درد مین بہت ھی اعلی دوا ھے لیکن اب آپ نے اس کا نمک تیار کرلیا ھے ایک چاول تک نمک کھلائین مہرون کی خرابی اور جوڑون کا جڑ جانا جسے طبی زبان مین تحجر المفاصل کہاجاتا ھے یعنی جوڑون کا پتھرا جانا یورک ایسڈ بلکہ یہ نمک بہت ھی اعلی کاسرریاح ھے یہ سمجھ لین ان امراض کا آخری علاج ھے ایسی بےشمار دوائین موجود ھین جن سے آپ وقتی فائدہ ضرور حاصل کرسکتے ھین لیکن یہ ایک ایسی دوا ھے جس سے آپ مستقل فائدہ حاصل کرسکتے ھین


Sunday, May 19, 2019

تشخیص امراض وعلامات 87

۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تشخیص امراض وعلامات ۔۔۔۔۔۔قسط 87۔۔۔۔
نظام بول کے حصے گردے حالبین مثانہ اور مجری البول بھی مرکب اعضاء ھین گردون مین خون لے جانی والی شریان اور واپس لانے والی ورید دونون حجم مین بڑی ھین اس لئے خون زیادہ پریشر اور مقدار مین داخل ھوکر بیس لاکھ سے زیادہ باریک نالیون یعنی نیفرون مین سے چھنتا ھوا ورید گردہ سے واپس جسم مین چلا جاتا ھے تمام فاسد مادے گھلی ھوئی شکل مین نیفرون مین گرجاتے ھین جو پیچھے سے آنے والے دباؤ کی وجہ سے آگے چلتے رھتے ھین اور پیشاب کی صورت مین پہلے حوض گردہ مین پھر حالبین سے ھوتے ھوۓ مثانے مین جمع ھوتے ھین حالت صحت مین اسے دماغ 250 سے350ملی لٹر جمع ھونے پہ حسی اعصاب کی رپورٹ پر مثانے کے ارادی عضلات کے ذریعے مجری البول سے باھر خارج کردیتا ھے خون اگر صاف نہ ھو تو مضر مادے غیر طبعی حالت یعنی علامات پیدا کرکے جسم کو بیمار کردیتے ھین اس لئے گردون کو بدن کا فلٹر کہا جاتا ھے
حالت صحت اور حالت مرض دونون صورتون مین ھروقت مفرداعضاء کی تحریکات جاری رھتی ھین یعنی افعال زندگی کی ادائیگی کے لئے مفرداعضاء مشترک عمل جاری رکھتے ھین تندرستی مین تحریکات کا ھمین احساس تک نہین ھوتا اس لئے بدنی ضروریاتکے مطابق یہ خودکار طریقے سے بدلتی رھتی ھین لیکن اگر کسی مفرداعضاء کے کام مین رکاوٹ سے تحریک وتیزی پیدا ھوجائے تو بدن کے کارخانے کا نظام تلپٹ ھوکررہ جاتا ھے اب اس کا اثر تحلیل اور تسکین کی صورت مین دیگر مفرداعضاء پربھی پڑتا ھے
اب نتیجہ یہ نکلتا ھے کہ کئی جگہ احساسات ترسیل خوراک انجذاب اور اخراج فضلات کے مسائل پیدا ھوکرمرحلہ بہ مرحلہ خلطی کیمیاوی عضوی تبدیلیان شروع ھوجاتی ھین یاد رکھین تحریک جس حصہ بدن مین رکتی ھے وہ مرکز مرض کہلاتا ھے
اب تھوڑی سی بحث تحاریک پہ کرتے ھین بلکہ کل کی پوسٹ مین جو نقشہ دیا تھا اس مین تحاریک کی نشاندھی کی تھی اب مختصر بحث کہ تحاریک کیون اور کیسے ھین اور ان سے کیا کیا مادے وجود مین آتے ھین
١۔۔اعصابی عضلاتی تری سردی۔۔۔دماغ واعصاب کی مشینی تحریک ھے ۔ پوٹاشیم ۔کھار یعنی الکلی ۔ تری ۔ بلغم ۔ نشاستہ کاربوھائیڈریٹ کااخراج ھورھا ھے ۔شرمندگی کا غلبہ اور حکم رسان اعصاب مین تیزی ھے ۔ ترسرد موسم مین علامات مین اضافہ ھوتا ھے
غددناقلہ مین تحلیل اور ارادی عضلات مین تسکین ھوتی ھے سفید نیلگون رنگ کا پیشاب کثرت سے اخراج اور اس وجہ سے پیدائش بند
٢۔عضلاتی اعصابی۔ خشکی سردی دل وعضلات کی کیمیائی تحریک ھے ۔ رطوبات خشکی سردی سے کثیف اور سودا مین بدل کر مجتمع ھورھی ھین لذت کے جذبات کی زیادتی اور کیلشیم تیزابی ۔ پروٹینی اغذیہ کا انجذاب وغیرارادی عضلات کا فعل تیز ھے ۔ خشک سرد موسم تکلیف دہ ھوتا ھے بندش بول زیادہ پتھریان بننا پیشاب کا رنگ سرخ سفیدی مائل کم قلب وعضلات کی کیمیائی تحریک ھے قلب وعضلات کا عمل تیز جبکہ خبررسان اعصاب مین تحلیل اور غددجاذبہ مین تسکین پیدا ھوجاتی ھے
٣۔عضلاتی غدی۔۔خشکی گرمی دل وعضلات کی مشینی تحریک ھے ۔خشکی گرمی سے سودا لطیف ھوکر ریاح کی صورت مین خارج ظاھر ھورھا ھے۔ مسرت کے جذبات داری عضلات کے افعال بڑھے ھوئے ھین کیلشیم تیزابیت۔ پروٹین کا اخراج ۔ متعلقہ موسم تکلیف دہ ھوتا ھے پیشاب کا رنگ مانند تیل سرخ زردی مائل ھوتا ھے حکم رسان اعصاب مین تحلیل اور غدد ناقلہ مین تسکین ھوتی ھے
٤۔۔غدی عضلاتی۔۔۔گرمی خشکی ۔ جگر وغدد کی کیمیائی تحریک ھے گرمی ۔ سوڈیم روغنی اغذیہ ۔صفرا جسم مین اکھٹا ھورھا ھے غصے کی کیفیتوغددجازبہ مین تیزی ھے گرم خشک موسم مین تنگی ھوتی ھے البیومن کا اخراج سوزاک پیشاب کا رنگ زرد سرخی مائل جلن سے اکثر آتا ھے ۔ غدد جاذبہ مین تیزی اور غیرارادی عضلات مین تحلیل اور حسی اعصاب مین تسکین ھوتی ھے
٥۔۔غدی اعصابی۔۔گرمی تری ۔ جگر غدد کی مشینی تحریک ھے گرمی ۔سوڈیم صفرا اور لیپڈز کا اخراج ھورھا ھے غم کا اظہار۔ پیشاب کا رنگ زرد سفیدی مائل لیکن کبھی جلن کے ساتھ رک رک کرآتا ھے غددناقلہ مین تحریک اور ارادی عضلات مین تحلیل اور حکم رسان اعصاب مین تسکین ھوتی ھے
٦۔۔اعصابی غدی ۔تری گرمی۔ یہ جگر غدد کی کیمیائی تحریک ھے خوف کے جذبات اور پوٹاشیم مین اضافہ صفراوی رطوبات تری وبلغم مین تبدیل ھورھی ھین کاربوہائڈریٹ کےانجذاب اور حسی اعصاب کی تحریک غدد جاذبہ مین تحلیل اور غیرارادی عضلات مین تسکین اور پیشاب کا رنگ سفید زردی مائل ھوتا ھے
آج کا مضمون اتنا ھی کیونکہ مجھے ابھی کامونکی ایمبرجنسی مین جانا پڑگیا ھے انشااللہ باقی کل کی قسط مین محمودبھٹہ گروپ مطب کامل