Thursday, February 14, 2019

قبض تمام مرضوں کی ماں ھے 7


۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔ قبض تمام مرضوں کی ماں ھے۔۔۔قسط(7)
پس جو لوگ کھانا پوری طرح نہیں چباتے اور نگل جانے میں جلدی کرتے ھیں وہ لوگ بہت جلد ضعف امعاء کے شکار ھوتے ھیں
اب آہستہ آہستہ علاج کی طرف آتے ھیں پوسٹ لکھتے ھوئے چند باتیں بہت ذیادہ محسوس ھوئیں پہلی قسط شروع کرتے ھی کافی لوگوں کا ایک ھی مطالبہ تھا کہ علاج بتا دیا جائے باقی بات چھوڑیں اب کچھ لوگوں نے اپنی اپنی مرض کے بارے میں کمنٹس میں لکھ رکھا تھا اور ساتھ علاج کے بارے میں بھی ھدایات تھیں اپنی اپنی تکالیف کی علیحدہ علیحدہ پوسٹ پوری تفصیل سے لکھا کریں تاکہ درست دوا تجویز کی جاسکے اب کسی بھی مریض کی پوسٹ پہ دوا صرف مستند حکماء حضرات ھی لکھا کریں باقی اجتناب کیا کریں کل ایک صاحب نے کمنٹس میں یہاں تک لکھا ھوا تھا کہ اگر تم اتنے ھی قابل حکیم ھو تو میرے گنج پن کا علاج بتاؤ تو میرے دوست تیرے گنجے سر پہ مجھے اپنی قابلیت ظاھر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ھے اور نہ ھی میں خود کو اس کا اھل سمجھتا ھوں معذرت۔۔
علاج کی صورت میں زیادہ مسہل آور ادویہ سے پرھیز کرنا چاھیے اب جو لوگ قبض دور کرنے کے لئے فوری طور پہ مسہل یا قبض کشا ادویہ استعمال کرتے ہیں یاد رکھیں وہ سخت غلطی پر ھیں الٹا نقصان ھوا کرتا ھے گو وقتی فایدہ ضرور حاصل ھوتا ھے لیکن بعد میں یہ عارضہ مستقل کرنے میں یہی دوائیں مدد گار ھوتی ھیں یعنی انہی دواؤں سے آپ مکمل مریض بن جاتے ھیں جان البتہ سخت اور شدید تکلیف میں فوری ریلیف کے لئے مسہل آور دوا استعمال کی جا سکتی ھے بلکہ ایسی صورت میں تو حقنہ بھی استعمال کیا جا سکتا ھے حقنہ یعنی انیمیا کا استعمال صرف شدید صورتوں میں ھی کرنا چاھیے عام عادت نہیں بنانی چاھیے جیسے یورپ میں آجکل اس کا بے جا استعمال ھوتا ھے ایلوپیتھی میں پہلے صرف بچوں اور کچھ بڑے لوگوں کے لئے سپاٹریز ملا کرتی تھیں جو لائم گلیسرین سے بنی ھوتی تھیں اور ڈاکٹر مجبوری کی حالت میں ھی استعمال کرتے تھے یہ بھی ایک طرح کا انیما ھوتا ھے لیکن یورپ میں کافی عرصہ سے ایک اور دوا بھی مستعمل ھے نہ دوا کھانے کا مسئلہ اور نہ ھی انتظار بس ایک کیپسول چکنا سا ملتا ھے اسے براستہ مقعد نگل لیتے ھیں اور قبض سے جان چھڑا لیتے ھیں لیکن ایسی دواؤں کے استعمال سے شقاق المقعد کا خطرہ شدید ھوتا ھے اور ایسی دواؤں کے استعمال سے یورپ میں جوڑوں کے درد کے شکار عام ھیں مجھے حیرت ھوتی ھے جب اپنے ملک کے ماڈرن گھرانوں کے بچوں کے ھاتھ میں شدید گرمی کے موسم میں چاکلیٹ دیکھتا ھوں یہ لوگ ماڈرن تو ھو گئے لیکن علم نہیں چاکلیٹ کس لئے اور کب یورپی کھاتے ھیں دوستو چاکلیٹ درحقیقت ایک قبض کشا غذا سمجھیں جاتی ھے اور یہ مزاج کے اعتبار سے گرم بھی ھوتی ھے اس کا استعمال یورپی سردی کے موسم میں کرتے ھیں ایک سردی دور کرتی ھے دوسری قبض سے نجات ملتی ھے آپ اسے ملین دوا بھی کہہ سکتے ھیں اس میں ضرر رساں اثرات نہ ھونے کے برابر ھیں لیکن استعمال سردی کے موسم میں ھی کرنا چاھیے یاد رھے شقاق المقعد میں مبتلا ھو ھزاروں لوگ چل بستے ھیں
اب ھزاروں کے حساب سے قبض دور کرنے کی دوائیں ھر طریقہ علاج کی بازار میں عام دستیاب ہیں آپ مجھے ایک بھی دوا دکھا دیں جس سے قبض جیسی مرض سے مکمل نجات مل سکے کوئی بھی نہیں ملے گی اب آپ سوچ رھے ھونگے پھر اسے ٹھیک کیسے کیا جائے تو دوستو سب سے اچھا طریقہ تو غذا پہ زور دینا ھے یعنی غذا درست کریں جب تک غذا ٹھیک نہیں ھو گی آپ بے شک قیمتی سے قیمتی دوائیں کھا لیں قبض جیسی مرض سے مکمل نجات نہیں ملے گی دنیا کا سب سے بہترین علاج رس دار پھلوں کا استعمال ھے اور رس دار سبزیوں کا استعمال ھے
دوائیں لکھنے سے پہلے ایک بات یاد آگئی جس کے بغیر شاید یہ مضمون مکمل نہ ھوتا یہ بات صرف حکماء کے لئے ھے طب قدیم کی کتب میں ایک بات کی وضاحت قطعی نہیں ھے کہ معدہ جو ھماری غذا کا سٹور ھے اس کا اپنا مزاج کیا ھے تو دوستو معدہ میں عضلات سب سے زیادہ ھیں عدد غشا مخاطی ان سے کم ھیں اور اعصاب جنہوں نے بھوک کا احساس دلانا ھوتا ھے یہ سب سے کم ھیں چونکہ معدہ میں عضلات اور عضلاتی مادہ کی کثرت ھے اور عدد غشا اس سے کم ھیں لہذا معدہ کا اپنا مزاج خشک گرم عضلاتی غدی قرار پاتا ھے
بالکل اسی طرح آنتوں کے نام کے ساتھ ساتھ ان کے مزاج بھی ھیں مثلاً اثنا عشری ھے اس کا مزاج اعصابی عضلاتی ھے صائم یعنی خالی آنت کا مزاج اعصابی غدی ھے پیچیدہ آنت کا مزاج غدی عضلاتی اور کانی آنت کا مزاج غدی اعصابی قولون آنت کا مزاج عضلاتی اعصابی اب سیدھی آنت مستقیم کا مزاج عضلاتی غدی ھے اب جس طرح آنتوں کی بالمزاج تقسیم کردی ھے اسی طرح ان میں جس آنت کا جیسا مزاج لکھ دیا ھے اسی کے مطابق مرض پیدا ھوتی ھے مثلا آنتوں کے اعصابی حصہ میں شدید تحریک پیدا ھو تو دست آتے ھیں قولون میں یا مستقیم مین تحریک سے جو پیدا ھوتا ھے وہ اگلی قسط میں

No comments:

Post a Comment