Monday, September 19, 2022

سانپ کے زھرکاعلاج

 Snake Bite

۔۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔ سانپ کے زھرکاعلاج ۔۔۔۔۔۔۔۔۔


آجکل سندھ مین سیلاب زدگان کوایک بڑامسئلہ سانپ کاٹنےکاھے سانپ کےکاٹنےسے آدھا بندہ زھرسے مرتاھے توآدھا خوف سے مرتاھے دوستو سانپ کازھر مزاجا عضلاتی غدی ھوتاھے یہ چارانداز مین انسانی جسم پہ علامات چھوڑتاھے
پہلے نمبر پہ نیوروٹاکسین یعنی عصبی زھرکی علامات پیداھوتی ھین یہ جسم کےخلیات مین سکون پیداکرکےانہین بے حس وحرکت کردیتاھے نظام تنفس متاثرھوتاھے اور دوسری طرف جگروغدد مین تیزی آنےکی وجہ سے جسم مین گرمی کی علامات ظاھرھوناشروع ھوجاتی ھین بالکل ھیروئن کے نشئ والی کیفیت ھے
دوسرے نمبر پہ گلوٹے نین ھے یہ سرخ خلیات کومنجمدکرتاھےاسکا علاج پچھلی قسط مین ایک حب نقرس کےنام سے لکھ چکا ھون ھرپندرہ منٹ بعد دوادین چندخوراک دینےسے کلاٹClot بننے اور RBCکے جمنےکاعمل رک جاۓ گااورزھرکےاثرات بھی جاتے رھتےھین
 تیسرے نمبر پہ سائیٹولاسین یعنی محلل خلیات مادہ ھے جسم سے مختلف خلیات بلکہ خون مین سرخ وسفید خلیات بھی تحلیل ھوناشروع ھوجاتےھین اس سے جسم گلنا سڑنا شروع ھوجاتاھے ایسی سانپ کی زھر میرے خیال مین پاکستان مین موجودنہین ھے
اینٹی ظابرین یہ بھی خون کوھی جماتی ھے
خیر سانپ کےکاٹنےسے اکثریت عمل رطوبات کی کمی تحلیل کاعمل شروع ھوتاھے اور اکثرمندرجہ ذیل علامات پیداھوتی ھین
کاٹے ھوۓ مقام پہ چھالا بننا پھر جب سانپ کازھر پھیلتاھے تومتاثرہ مقام پہ درد سرچکرانا جسم پہ خارش یاسوئیان چھبنا سینہ مین جلن خفقان قلب کی شکایت اور آھستہ آھستہ نیندکاغلبہ شروع ھوجاتاھے جسم سے تمام رطوبات کااخراج بند اور خون نکلنے لگتاھے بعض لوگون کے جسم پہ سوج پیداھوتی ھے اور جسم پھٹنے لگتاھے مجھے اچھی طرح یادھے 1971مین سیلاب آیاتھا پنجاب مین بڑی تباہ اریان ھوئی تھین خاص کردریاۓ چناب کےباسیون کےساتھ سیلاب مین ایک قسم کاسانپ آگیا جس کاسائز بالشت بھرتھا سرگول روپیہ جیساتھا جسے کاٹ لیتا وہ مریض آٹھ دن بڑے خوفناک گزارتا یاتوجسم سے اخراج خون ھوکر موت واقع ھوجاتی اگر آٹھ روز بندہ زندہ رہ جاتا تب بچنے کی امید یقینی ھوتی تھی
خیر دوستو علاج سمجھ لین سب سے پہلا عمل یہ کرناچاھیے کہ جہان سانپ کاٹ لے اور سے اوپر والے حصہ کورسی سے فورا مضبوطی سے باندھ کر کسی بلیڈسے ضرب یاجمع کے نشان جیسا کٹ لگادین تاکہ اس جگہ سے ساراخون اچھی طرح خارج ھوجاۓ قدیم حکماۓ کرام اورسنیاسی حضرات کاطریقہ یہ ھوتاتھا کہ جوان مرغ لےکر اسکا مقعد بالون سے صاف کرکے مقعد کو کٹ والی جگہ پہ چپکاکردباۓ رکھتے اگر مرغا مرجاتاتونیا مرغ اسی طرح لگادیتے جب مرغا نہین مرتاتب سمجھ لیاجاتاکہ زھرختم ھوچکاھے یہ ایک پیمانہ تھا زھر ختم ھونے کا خیر آپ کٹ لگاکر سائیڈون سے دبائین اوراچھی طرح خون نکالین اسکے بعد اگر میسر ھوتو ریٹھاکاکپڑچھان کرکے تھوڑاپانی ملاکراوپر لیپ لگادین ساتھ کشتہ حلزون سات حصہ دودھ مدار ایک حصہ مین کھرل کرکے ایک ایک رتی دن مین چارباردین ساتھ حب بندق یعنی ریٹھا رائی اور گندھک آملہ سار برابروزن پیس کرنخودی حب بنالین بہتر ھے کہ اس مین دسوان حصہ قلمی شورہ شامل کرکے گولیان بنالین دودوگولی چاربار دین
اگر کوئی اور دوا میسر نہ ھوتب آک کی کونپلین ایک ایک کرکے کھلانا شروع کردین جب تک منہ کڑوا نہ ھوجائے اس وقت تک کھلاتے رھین ساری زھر خارج ھوجاتی ھے غدی اعصابی مسہل دین تاکہ مسہل آکرزھر خارج ھو محمودبھٹہ گروپ مطب کامل

No comments:

Post a Comment