Thursday, July 12, 2018

آپکی اپنی پیدا شدہ ذھنی تحریک

۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔ آپکی اپنی پیدا شدہ ذھنی تحریک۔۔۔۔۔۔
ھر شخص ایک بات اچھی طرح جانتا ھے کہ جب بھی آپ کسی دوست سے ملتے ھین تو آپ اس کا صرف چہرہ دیکھ کر ھی بخوبی اندازہ لگا لیتے ھین کہ آپ کادوست اس وقت کس پوزیشن یا کیفیت مین ھے یا تو آپ کہین گے خیریت تو ھے بڑے پریشان لگ رھے ھو یا پھر آپ اسے کہین گے جناب آج کونسا خزانہ ھاتھ لگا ھے بڑے خوش خوش نظر آرھے ھین جناب یا پھر آپ یہ بھی سوال کردیتے ھین خیریت تو ھے کس سے لڑائی ھوئی ھے بڑے غصہ مین لگ رھے ھو یعنی آپ کسی کا بھی چہرہ دیکھ کر خوشی غم و غصہ افسردگی یا بیماری کا اندازہ یا قیافہ لگا لیتے ھین اسے دوسرے لفظون مین قیافہ شناسی بھی کہہ سکتے ھین یعنی ایک حس ایسی بھی آپ کے اندر موجود ھے جس سے کسی بھی انسان سے سوچنے کے انداز کا آپ پتہ لگا لیتے ھین اسے آپ ابتدائی ٹیلی پیتھی بھی کہہ سکتے ھین حقیقت یہ ھے کہ ھمارا جسم اپنے خیال کے تابع ھے جو کچھ بھی ھم سوچتے ھین اس کا اظہار چہرے اور ھمارے جسم کی حرکات سے ھوتا ھے اگر ھم منفی یا مایوس کن باتین سوچ رھے ھین تو ھمارے چہرے پہ افسردگی دکھائی دے گی اور ھم اپنا جو بھی کام کرین گے زبردستی ھی کرین گے دل لگا کر خوشی خوشی نہین کرین گے جس کی وجہ سے ھم اس کام سے جلد ھی اکتا جاتے ھین یعنی بور ھو جاتے ھین اب ان تمام باتون سے یہ بات بھی ثابت ھوتی ھے کہ ھمارے بیمار ھونے مین ھمارے خیالات کا بھی بہت کچھ حصہ ھوتا ھے
اگر ھم اپنے ذہن کو یہ تحریک دین گے کہ مین یہ کام نہین کر سکون گا کیونکہ میری طبیعت ٹھیک نہین ھے تو لازماًوہ کام کبھی بھی سرانجام نہین دے سکین گے وہ ادھورا ھی رہ جاۓ گا
اسی طرح اگر ھم روز سوچین کہ مین اپنے آپ کو پہلے سے بہتر محسوس کررھا ھون تو ھمارا جسم جلد ھی اس خیال سے فوری متاثر ھوگا اور ھم جلد ھی اپنے اندر صحت مندی کی لہرین محسوس کرنے لگین گے
اب آپ کو ذرا نفسیات کے اصول سے بات سمجھاتا ھون۔۔ اس ذاتی ذھنی تحریک کے نفسیاتی اصول کی بنیاد دراصل یہ ھے کہ جس وقت قوت ارادی اور تصورات مین تصادم ھوتا ھے تو یہ بات یاد رکھین فتح ھمیشہ تصورات کی ھی ھوتی ھے قوت ارادی دھری کی دھری رہ جاتی ھے اور تصورات اتنے مضبوط ھوتے ھین جس کا آپکو اندازہ نہین ھے ذھن یکسو کرنا مسلسل ایک ھی بات سوچنا ۔۔خواہ وہ سوچ منفی ھے یا مثبت ھمشہ پورے جسم پہ حاوی ھوجاتے ھین
جب انسان اس نظریہ کو سمجھ لیتا ھے اور اس مین جو قوتین شامل ھین ان کو صحيح طرح استعمال کرتا ھے تو پھر وہ اپنی دنیاۓ خیالات کو منظم کرنے لگتا ھے اس کا نتیجہ یہ نکلتا ھے کہ بندے کے ھر قول فعل مین اس کے خیالات کا اثر پڑتا ھے اور اس کے تمام تعلقات بھی اس سے متاثر ھوتے ھین
یہ بات بھی یادرکھین کہ یہ ذاتی ذھنی تحریک کی کاروائی ھروقت جاری رھتی ھے اب انسان کا کام یہ ھے کہ ھم کوشش کرین کہ یہ کاروائی ھمیشہ بھلائی کے سلسلے مین استعمال ھو اور ھمارے مفاد کے خلاف نہ جانے پائے
اب جو لوگ غمگین رھتے ھین جن مین خوداعتمادی کم ھوتی ھے یا وہ لوگ جو ھمیشہ اپنی صحت کے بارے مین پریشان رھتے ھین وہ لوگ اس ذھنی تحریک سے کوئی فائدہ حاصل نہین کرسکتے کیونکہ اپنے لا شعور مین وہ لوگ منفی خیالات کو اکھٹے کرتے رھتے ھین جب بہت دنون تک یہی صورت حال رھتی ھے تو اس کے اثرات اپنا رنگ دکھانا شروع کردیتے ھین اور ان لوگون کے تمام نظریات انہی سانچون مین ڈھل جاتے ھین
کبھی کبھی ایسے لوگ یہ کوشش کرتے ھین کہ اپنے اس انداز فکر مین تبدیلی پیدا کرین لیکن اپنی قوت ارادی کو ان تباہ کن اثرات سے نہین بچاسکتے کیونکہ قوت ارادی جب تصورات کی تباہ کن طاقت سے ٹکراتی ھے تو قوت ارادی زائل ھو کر سواۓ مایوسی ناامیدی اور اداسی کی خوفناک تصویر سامنے لا کھڑا کرتی ھے لہذا کوشش بیکار جاتی ھے
اب اس نقطہ کو ذھن مین رکھین ایسے حالات مین قوت ارادی باآلاخر بالکل ختم ھو کر الٹا نقصان کا باعث بن جاتی ھے بلکہ یہ سمجھ لین بندہ جتنی کوشش کرتا ھے اتنا ھی زیادہ مایوس اور غم زدہ ھوتا جاتا ھے
اب سوچنے والی بات تو یہ ھے کہ آخر اس تخریبی قوت سے جان کیسے چھڑائی جاۓ جس کی وجہ سے شخصیت تباہ ھورھی ھے اب ایسے لوگ عموما برے حالات کا ھی شکار ھوتے ھین جسمانی حالات کے ساتھ ساتھ مالی حالات گھریلو حالات بعض لوگ تو بڑے ھی متشدد لیکن اندر سے بزدل واقع ھوتے ھین یا دوسرے لفظون مین منفی اور ھمت شکن نظریات سے خود خوف زدہ بھی رھتے ھین ھمیشہ شکست کا خوف انکے اندر رھتا ھے
ایک بات یہ بھی ذھن نشین کر لین اس وقت دنیا مین 95فیصد لوگ اس مرض کا شکار ھو چکے ھین اور یہ لوگ دنیا کے ھر معاملہ مین ناکام لوگ ھین صرف پانچ فیصد لوگ جن کی سوچ مثبت ھے اصل مین وھی لوگ پوری دنیا پہ حکمرانی کررھے ھین اور تو اور پوری دنیا کی دولت بھی انہی لوگون کے پاس ھے اور باقی لوگ ھی مسائل اور بیماریون کا شکار ھین
تاریخ اٹھا کردیکھ لین بڑے بڑے لوگ جنہوں نے معرکے سر کیے ھین صدیان گزرنے کے باوجود آج بھی تاریخ کے اوراق مین زندہ ھین ان کی کامیابیان ان کے اس ذھنی تخیل پہ ھی مبنی تھی جو شروع سے ان کے ذھن مین پختہ ھو چکے تھے اب انہون نے اپنے خیالات کو عملی شکل دے کر اصلی صورت مین دنیا کے سامنے لے آئے اب انہون نے جستجو ھمت کو سینے سے لگاۓ رکھا اور اپنے نظریات کو عملی جامہ پہنا کردنیا کے سامنے لائے اور یاد رکھین ایسے لوگ ضروری نہین امیر طبقہ یا اعلی طبقہ سے ھی تعلق رکھتے ھون بلکہ ایک غریب سے غریب تر انسان کی بھی سوچ مثبت ھو سکتی ھے ھال کل کلان کو وہ اپنی لگن اور محنت اور اچھی سوچ کے بل بوتے امیر ھو جاۓ تو کوئی انوکھی بات نہین بلکہ جستجو اور لگن اور بہتر سوچ کا ھونا ضروری ھے جیسے ایک کردار آج بھی زندہ آپ کے سامنے ھے جس کا نام بل گیٹس ھے ایک وقت تھا جب انتہائی غریب آدمی تھا پھر دنیا نے دیکھا سب سے امیر آدمی کے روپ مین بھی
اب اپنی بات کی طرف آتے ھین اس مرض سے جان چھڑانے کا ایک ھی طریقہ ھے اپنے ذھن مین لگی منفی سوچ کی تصویر پہ مثبت سوچ کی تصویر لگا دین اب دماغ کا پردہ ایسا ھے جس پر تصویر ھٹانے کی ضرورت نہین ھے بلکہ اس کے اوپر جب مثبت تصویر لگائین گے تو منفی تصویر خود ھی غائب ھو جاتی ھے اب اس بات پہ ڈٹ جائین تبھی ممکن ھے آپ کامیابی حاصل کر لین یعنی آپ کو مثبت سوچ پیدا کرنے کے لئے ضروری ھے نیت صاف ھونی چاھیے یعنی کسی کے لئے بغض عناد اور دوسرون کے بارے مین برا سوچنے سے پہلے بندہ اپنا محاسبہ کرے تو نیت بھی درست ھو جاتی ھے مین نے بزرگون سے ایک ھی بات سنی تھی جس پہ آج تک عمل کررھا ھون ۔۔۔نیت صاف تو کام راس۔۔۔۔اب اس بات پہ ھمارے دین مین بھی سختی سے حکم آیا ھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اعمال کا دارومدار نیت پر ھے یعنی آپ جو بھی بیج بوئین گے تو کاٹین گے بھی وھی تو
اب بات کرتے ھین اس مضمون کو کیون لکھا تو دوستو بے شمار جسمانی عارضے جو صحت کو خراب کرکے رکھ دیتے ھین جیسے جلق زندہ مثال ھے اسی طرح دیگر بری عادات مین مبتلا ھو کر پھر مستقل مریض بن جانا اب ایسی تمام حرکات وعادات جن سے اسلام اور معاشرہ اور آپ کے والدین منع کرتے ھین اب ان عادات کو ری ایکشن کی شکل مین اپنا لینا آپ کے منفی تصورات پسند ھونے کی دلیل ھین اب اگر انسان تھوڑا سا غور کر لے آخر مجھے منع کیون کیا جاتا ھے میری ھر بات پہ ولدین ردعمل کا اظہار کیون کرتے ھین تو میرا خیال ھے آپ بے شمار پریشانیون سے بچ جائین گے آخر والدین کے ذھن مین یا معاشرہ کسی بات پہ پابندی لگاتا ھے اس کے پیچھے کئی سالون کے تجربات ھوتے ھین یاد رکھین اگر آپ نے بدنی نفسیاتی روحانی امراض سے بچنا ھے تو اپنی سوچ کا رخ تبدیل کر لین اور اپنے اندر مثبت سوچ پیدا کرین اور اپنے اخلاقیات درست کرین ذھن کو پاکیزہ رکھین اور ذھن کو پاکیزہ رکھنے کا آسان حل اللہ تعالی سے قربت مین ھے اور اس قربت کے لئے نماز پڑھنا از حد ضروری ھے اللہ تعالی سب کو ھدایت نصیب فرمائے آخری بات
اب میرا مضمون ذرا گروپ کے دیگر مضامین سے ھٹ کر ھے سب دوست سوچ رھے ھون گے کہ آج محمود بھٹہ کےقلم کا رخ کدھر مڑ گیا کہان خالص طبی مضامین اور کہان فلسفہ اور نفسیات کا ملغوبہ پیش کردیا بہرحال مین نے اس مضمون کی شدید ضرورت محسوس کی جس کی وجہ سے لکھا اب کچھ دوستو کو اگر میرا مضمون پسند نہ آیا ھو یا علمی لحاظ سے کوئی جھول نظر آیا ھو تو مجھے جاھل اور میری غریب علمی سمجھ کے نظر انداز کردین یا سمجھا دین

Wednesday, July 11, 2018

احتلام اور اس کا غلط علاج اور غلط تشخیص 2

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قسط نمبر 2۔۔
۔۔۔۔۔احتلام اور اس کا غلط علاج اور غلط تشخیص ۔۔۔۔۔۔۔
اب صفراوی مزاج کی وجہ سے پیدا شدہ سوزش اور بگاڑ ٹھیک کرنے کے لئے آپ کو لازما بلغمی مزاج پیدا کرنے والی ادویات دینی پڑین گی اور مرض اپنے انجام کو پہنچ جاۓ گا
مین نے ایک تیر سے تین شکار کیے ھین اگر آپ نے دھیان رکھا ھے پوسٹ مین تو سمجھ گئے ھون گے یعنی ذکر تو شروع کیا تھا احتلام کا اور تشخیص آپ کو اور طریقہ علاج جریان اور سرعت انزال تک کا بتا دیا ھے اور کچھ تشخیصی نکات بھی بتا دیے ھین اب ھم بات صرف احتلام کی ھی کرین گے
اب ایک اور نقطہ بھی سمجھ لین اب احتلام کی ایک چوتھی شکل بھی آپ کو بتائے دیتا ھون یہ شکل ھے طبعی احتلام دوسری تینون شکلین غیر طبعی احتلام کی آپ کو بتائی ھین اگر طبعی احتلام کی آسان زبان مین تشریح کرون تو کچھ یون ھو گی جب کوئی بھی مرد سن بلوغت کی حد کراس کرتا ھے تو اب اس مین کوئی شک نہین رھا وہ اولاد پیدا کرنے اور جماع کے قابل ھو چکا ھے یعنی منی اپنے خزانہ کے اندر پیدا ھونی شروع ھو گئی ھے اب سامنے سے بند باندھے رکھین اور پچھے خزانہ مین مسلسل منی کی پیدائش جاری ھے تو اب امتلائے منی اس نوجوان کے لئے باعث تکلیف بن جاتی ھے اب اتنی مقدار مین پیدا شدہ منی کہان جاۓ گی سچ بات ھے طبیعت نے اب اس کا کوئی نہ کوئی حل تو کرنا ھی ھے اب طبیعت اسے احتلام کی شکل مین خارج کرتی ھے ورنہ انسان بہت سے عارضون مین مبتلا ھو سکتا ھے یعنی طبیعت نے خود ھی علاج کردیا ھے یہ کیفیت ماہ مین ایک دو دفعہ پیدا ھو سکتی ھے اب اس کا علاج دوا قطعی نہین ھے بلکہ اس کا علاج شادی ھے اسی لئے اسلام مین بالغ ھوتے ھی لڑکے اور لڑکی دونون کی شادی کا حکم دیا ھے اب بعض نوجوان جیسے ھی بالغ ھوتے ھین والدین ان کی شادی نہین کرتے تو 95فیصد نوجوان لڑکے اور لڑکیان جلق اغلام بازی کثرت جماع یعنی بدعادات کا شکار ھو کر اپنا آپ تباہ کرتے ھین اب سچی بات ھے ان سے زیادہ ان کے والدین مجرم ھین جہنون نے توجہ نہین دی مین آپ کو اپنی زندگی بھر کے تجربہ کی نظر سے یہ بات دعوے سے بتا رھا ھون کہ مذکورہ تعداد مین مذکر اور مونث دونون برابر مین جلق کا شکار ھین اگر کسی بھی عام قاری کی نظر سے میری پوسٹ گزرے تو کم سے کم اس بارے مین سوچین ضرور اور اپنے بچون پہ توجہ ضرور رکھین اس بارے مین مکمل معلومات حاصل کرنے کے لئے گروپ مطب کامل مین جلق کے اوپر میرا تفصیلی مضمون جو کہ سترہ قسطون پہ مشتمل ھے اسے ضرور پڑھین انشاء اللہ آپ اپنے بچون کی بہتر نگہداشت کر سکین گے خیر ھم اپنے موضوع کو آگے لئے چلتے ھین
اب تک کے مضمون مین آپ کو تفصیل سے مرض احتلام کے اسباب اور تشخیص کے بارے مین بتا دیا ھے اب ذرا بات ادویات پہ کرتے ھین
ادویات مین نظریہ مفرد اعضاء مین تو غدی عضلاتی اور غدی اعصابی علاج ھے جو بہت ھی بہترین ھے جس مین ایک دوا اکسیر احتلام کے نام سے مین پہلے بھی لکھ چکا ھون جس مین مغز جمالگوٹہ دس گرام نمک خوردنی ایک کلو مین اچھی طرح کھرل کرکے تیار ھو جاتا ھے انتہائی بہترین دوا ھے احتلام کے لئے
حب احتلام ۔۔۔۔تخم مولی دو حصے ریوند خطائی چار حصہ انزورت دو حصہ پیس کر نخودی گولیان بنا لین ایک ایک گولی دن مین تین باردین
اب آیوویدک کا یہ نسخہ بھی بہت ھی مفید ھے ترکٹہ سنڈھ مرچ سیاہ مگھان برابر وزن پیس کر دورتی تا چاررتی دن مین تین باردین بہت ھی مفید ھے
احتلام والے مریض کو بوقت عصر کھانا کھانے کی ھدایت کرین تاکہ کچھ پیدل چلے اور غذا کو ھضم کرے صبح کو بے شک مربہ گاجر اور بادام پیس کر برابر وزن مین ملا لین اور اس مین چھوٹی الائچی بھی دیسی گھی مین سرخ کرکے شامل کر لین یہ کھا لے اور شام گلقند چھٹانک بھر ضرور کھلادین تاکہ قبض کسی صورت نہ ھو اب ایک منفرد علاج بتاتا ھون مائین خورد پیس لین اور ایک ماشہ ھمراہ دودھ دن مین کھلا دین بس ایک ھی خوراک کافی ھے اگر ضرورت ھو تو ھفتہ بھر بعد ایک دفعہ پھر کھلا دین احتلام رک جاۓ گا باقی معدہ کی درستگی کے لئے دوا ضرور دین غدی عضلاتی ملین اور غدی اعصابی ملین بھی بہت منفرد علاج ھے احتلام کا
اب میرا خیال ھے کافی کچھ اس کے علاج کے لئے آسان ترین دوائیں لکھ دی ھین اجازت چاھون گا اللہ حافظ آپکی دعاؤن کا طلب گار محمود بھٹہ

Tuesday, July 10, 2018

احتلام اور اس کا غلط علاج اور غلط تشخیص 1

۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔ احتلام اور اس کا غلط علاج اور غلط تشخیص ۔۔۔۔۔
اس مرض پہ بے شمار سوالات اور مشکلات مریض اور طبیب دونوں کے ساتھ ھین مریض خوف کا شکار ۔۔ کہ پتہ نہین میرے ساتھ ایسی کون سی ڈائن چمٹ گئی ھے جو خواب تو سہانے دکھاتی ھے لیکن انجام بہت ھی غلط نکلتا ھے جس کے لئے انسان کبھی بھی تیار نہین ھوتا یہ خواب ٹوٹنے پہ بہت ھی افسردگی اور پچھتاوے کا شکار ھوتا ھے بعض تو خواب کو ھی گالیان نکالتے ھین اب بات کرتے ھین حکیم صاحب کی
بیماری کی تفصیل سنتے ھی اس بیماری کا ذمہ دار شیطان کو ٹھہرا دیا جاتا ھے صاف صاف شیطان کی کارستانی بنا دی جاتی ھے اور ساتھ ھی فتوہ لگ جاتا ھے کہ آپ کے مثانے مین شدید گرمی ھو چکی ھے اب علاج سے جب آرام نہ آئے تو بھی مجرم شیطان ھی ٹھہرتا ھے بلکہ شیطان کا شروع ھی سے اس علت کا عادی ھونے کا انکشاف کردیا جاتا ھے اور مریض اگلے حکیم کا یا کسی عامل سے شیطان بھگانے کا عمل لینے پہنچ جاتا ھے
دوستو شیطان کا عمل دخل ضرور ھے لیکن یہ ھے مرض اگر آپ مرض کا علاج کرین گے اس مرض کے اسباب کو سمجھ کر تو مرض لازمی ٹھیک ھو جاتا ھے سب سے بڑا مسئلہ ھوتا ھے تشخیص اگر تشخیص درست ھوتی ھے تو مرض بھی جاتی ھے اب سب سے پہلی بات سمجھتے ھین احتلام ھوتا کیون ھے؟؟؟
نیم خوابی کی حالت مین منی کا اخراج ھو جانا احتلام کہلاتا ھے اب ایک بات پلے باندھ لین گہری نیند مین شاذو نادر ھی منی کا اخراج ھوتا ھے اگر ایسا ھو تو شدید ضعف واقع ھو چکا ھے
عام طور پر جن لوگون کی یہ عادت ھوتی ھے کہ وہ سکون سے لیٹ کر تصورات مین حسین خواب دیکھنے کے عادی ھوتے ھین وہ لوگ لازما اس مرض کا شکار ھوتے ھین ایک بات اور بھی یاد رکھین نیم خوابی کی حالت مین خیالات پر انسان کا کافی حد تک کنٹرول ھوتا ھے اگر خواب حسین ھو تو اسے جاری رکھنے کو انسان کا دل کرتا ھے مزید اس خواب کو طویل کرنے کا خواھشمند ھوتا ھے ھاں اگر خواب ڈراؤنا شروع ھو جائے تو اس سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کرتا ھے آخر کوشش رنگ لاتی ھے اور انسان بہت جلد جاگ جاتا ھے پہلے والی صورت مین انسان جاگنے سے ھر صورت بچتا ھے کیونکہ اس مین لذت اور چاشنی تھی دوسری حالت مین ڈر اور خوف و گھبراھٹ
اب ایک تیسری بھی پوزیشن ھوتی ھے نہ خواب آتے ھین نہ پتہ چلتا ھے بس سوتے ھی احتلام ھوجایا کرتا ھے یہ کیفیت اس وقت پیدا ھوتی ھے جب انسان کو انتہائی ضعف واقع ھو چکا ھوتا ھے اس صورتحال سے اب انسان جان چھڑانے کی کوشش کرتا ھے لیکن جان چھوٹتی ذرا مشکل سے ھے یاد رکھین یہ بھی کوئی مشکل صورت نہین ھوتی بلکہ تھوڑا عرصہ زیادہ درکار ھوتا ھے اب کچھ بات کرتے ھین اس کے اسباب پہ
اس کے اسباب مین عشقیہ خیالات یا پراگندہ خیالات و تصورات غلط فلمون کا دیکھنا اور وھی خیالات ذھن مین رچ بس گئے ھون تیز مصالحہ جات چٹپٹی اشیاء کا استعمال مرغن و منشی اشیاء کا بکثرت استعمال سے بھی ھوتا ھے ایسی غذا اور اشیاء کا استعمال جن سے قبض ریاح اور تیزابیت پیدا ھوتی ھو پھر یہی ریاح دماغ مین عضلاتی پردون مین سوزش پیدا کردیتے ھین جس سے ذکاوت حس عروج پہ پہنچ کر نیند کی حالت مین انزال کردے ایک بات کو ھمیشہ یادرکھین احتلام کی مرض عضلات مین تحریک و سوزش سے ھوتی ھے خاص کر نیند کی حالت مین جب معدہ کے عضلات مین تحریک و سوزش ھوتی ھے تو اس کا اثر لازما جنسی اعضاء پر بھی پڑتا ھے اس طرح جنسی اعضاء کے عضلات مین لطیف سی سوزش اور پھر دغدغہ سا ھو کر نیم خوابی کی حالت مین احتلام ھو جایا کرتا ھے اب ایک نقطہ۔۔۔۔۔۔ اکثر طبیب حضرات اس غلط فہمی مین مبتلا ھین کہ احتلام جوش خون اور گرمی سے ھوا کرتا ھے اب جریان اور سرعت انزال کے بارے مین بھی یہی اسباب سمجھے جاتے ھین ان سب کا علاج ایک ھی طریقہ سے کیا جاتا ھے اور ھمیشہ ٹھنڈی اور سرد ادویات کا سہارہ لیا جاتا ھے جبکہ جریان اور سرعت انزال بالکل الگ الگ مزاج کی امراض ھین اسی طرح احتلام بھی الگ مزاج کا مرض ھے احتلام خشک گرم مزاج یا عضلاتی غدی مزاج کا مرض ھے اب اگر خشکی گرمی کا علاج آپ سرد ادویات سے کرین گے تو لازما ناکامی ھو گی اس کا بہترین علاج گرم خشک ادویات سے شروع کرین اور گرم تر ادویات پہ مکمل کر دین اللہ اللہ تے خیر صلا
اب نقطے کی بات۔۔۔۔۔ یاد رکھین جریان بلغمی یا اعصابی مزاج مین ھوتا ھے احتلام سوداوی مادہ کی وجہ سے ھوا کرت ھے اور سرعت انزال صفراوی مادے کا بگاڑ ھے اب ان تینون مادون مین سوزش پیدا ھونے سے یہ امراض وقوع پذیر ھوا کرتے ھین امید ھے بات کی سمجھ آھی گئی ھو گی اب بڑی اصولی سی بات ھے بلغمی مادے کی سوزش ختم کرنے کے لئے سوداوی مزاج کی ادویات دینے سے ٹھیک ھو جاۓ گی اور سوداوی مادے کی سوزش ختم کرنے کے لئے صفرا کا پیدا کرنا ضروری ھے لازما آپ کو صفراوی مزاج رکھنے والی ادویات دینی پڑین گی باقی مضمون اگلی قسط مین بمعہ علاج پڑھین

Monday, July 9, 2018

کشتہ جست بازاری اور خود ساختہ| kushta jast|zinc

۔۔۔۔۔ مطب کامل۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔ کشتہ جست بازاری اور خود ساختہ۔۔۔
Kushta jast | kushta zinc
چند روز ھوئے کسی نے ایک عجیب انکشاف کیا میرا اس طرف دھیان ھی نہین تھا اب کچھ پنسار والے بھی اس کام مین ملوث ھین جو بہت بڑا ظلم ھے
رنگ روغن کی دوکانون سے جست کا نرم اور سفید رنگ کاملائم سا پوڈر ملتا ھے جوکہ کیمیائی طور پہ جلایا ھوا زنک آکسائیڈ ھے جس کی کوئی قدروقیمت نہین ھے یہ پوڈر رنگ کرتے وقت بھرتی کا کام دیتا ھے اسے کسی تیل مین شامل کرکے لکڑی پہ استعمال کرتے ھین تاکہ زنگ نہ لگے البتہ سائیٹیفک سٹور سے زنک سلفیٹ کے نام سے ایک پوڈر ملتا ھے اسے بھی زیادہ سے زیادہ آنکھون کے امراض مین استعمال کیا جاسکتا ھے باقی امراض مین کھلانے کے لئے یہ بھی درست نہین ھے جبکہ پنساری اول الذکر زنک آکسائیڈکو بطورکشتہ جست لوگون کودے رھے ھین یہ ظلم ھے
اب یہ بات بھی سو فیصد درست ھے کہ جست ایک عنصر ھے اور ھمارے بدن مین پایا جاتا ھے بلکہ اس کی کمی سے اعضاء کی نشوونما رک جایا کرتی ھے جدید ترین تحقیقات سے ثابت ھے کہ انسانی جسم کی نشوونما بلکہ جسم کی بقا بلکہ ارتقا بھی جست سے ھوا کرتی ھے قد کارک جانا یعنی چھوٹا قد رہ جانے کا سبب بھی جست کی کمی سے ھی ھوتا ھے یہان تک کہ اس کا عمل دخل اور اثر پیدائشی عمل مین جین پر بھی ھوتا ھے اس سے بھی بڑھ کر آپ کی دماغی صلاحیتین بھی اس کی کمی سے متاثر ھوتی ھین اور تو اور جنسی طور پہ جنسی امراض بلکہ مادہ منویہ کے امراض بھی کشتہ جست کی شدید ضرورت ھے مختصر الفاظ مین آپ کو بہت کچھ آگاہ کردیا ھے پوسٹ بار بار پڑھین توجہ سے بہت کچھ سمجھ آئے گا اسے خود تیار کرین طریقہ لکھے دیتا ھون جدید تحقیقات کیا ھین اس کی تشریح پھر کبھی لکھین گے
125گرام جست لین اسے پگھلاکر اٹ سٹ بوٹی یا بکن بوٹی یا ھرن کھری جسے پنجابی مین لیلی کہتے ھین کسی بھی ایک بوٹی کا سفوف چٹکی چٹکی ڈالتے جائین ساتھ ساتھ نیم یا آک کے ڈنڈے سے ھلاتے جائین کچھ دیر بعد جست سفوف بن جائے گا اب اس مین دھی کا ترش پانی ڈال کر کھرل کرین پانی اتنا ھی دہی کا ڈالنا ھے جس سے کھرل ھو جائے اور پتلی سی ٹکیا بنا کر معروف طریقہ سے چھ کلو کی آگ دے دین انتہائی ملائم پھول کر کشتہ جست تیار ھو جائے گا یہ کشتہ مذکورہ افعال مین بے مثل ھے اپنے استعمال مین لاوین بازاری کشتہ جست سے بچین

Saturday, July 7, 2018

ھاتھ پاؤن کی جلن|Sugar Sideeffect

.... مطب کامل .........
#Sugar,#Diabetes
..... ھاتھ پاؤن کی جلن ......
آج بھی دو پوسٹین لگی ھوئی ھین کہ ھاتھ پاؤن کی جلن کا علاج بتائین یہ ھاتھ پاؤن مین جلن یا ساڑ پڑنا بعض اوقات یون محسوس ھوتا ھے کہ جوتے بھی جل جائین گے
بھئی اس مین علامات کے ساتھ کفس سوزاحراق کا انطباق کرین اور جلن دار مادے کا اخراج ھمیشہ بذریعہ پیشاب کرنا چاھیے بذریعہ پاخانہ نہین کرنا چاھیے آسان سا علاج ھوتا ھے اس کا کرین انشاء اللہ فورا شفا حاصل ھو گی حب بندق اعصابی ملین شورہ کبدی اور سفوف گاؤزبان دین پہلے روز ھی جلن رک جاۓ گی
حب بندق... چھلکا ریٹھا .. گندھک آملہ سار .. رائی برابر وزن پیس کر نخودی گولیان بنا لین ایک تا دوگولی دن مین تین بار
شورہ کبدی..مرچ سیاہ 50گرام پیس لین اور دو تولہ قلمی شورہ کو آگ پہ پگھلا کر چٹکی چٹکی ڈالکر سب مرچ ختم کر نیچے اتار کر پیس کر رکھ لین آدھی تا ایک رتی دن مین تین بار دین
اعصابی ملین...قلمی شورہ 30گرام .تخم کاسنی 50گرام . جوکھار50گرام . گل سرخ 80گرام پیس کر سفوف بنا لین ایک تادو ماشہ دن مین تین بار دین
سفوف گاؤزبان .. گاؤزبان 100گرام گلوکوز 100گرام گل سرخ 100گرام پیس لین ایک تا دو ماشہ دن مین تین بار دین
یاد رکھین مرض کی وجوھات تلاش کرنا از حد پھر بھی ضروری ھے کیونکہ بعض اعصابی یعنی بلغمی شوگر کے مریضون کے بھی پاؤن مین بڑی جلن ھوتی ھے اس کا سبب تسکین قلب ھوتا ھے کیونکہ وہ دور ترین علاقہ مین اپنی قوت نہین پہنچا سکتا اب اس کا علاج تسکین قلب کی صورت والا ھی کرین
مجھے آج تک اس بات کی سمجھ نہین آئی کہ مریض اپنی مرض کی سب علامات بتانے سے ھمیشہ گریز کیون کرتا ھے مرض کی تکلیف اور اذیت کے سبب سانس بھی نہین نکل رھا ھوتا بات پھر بھی نہین بتاۓ گا اب آج کی دونون پوسٹین خود ملاحظہ فرما لین جن مین ایک ھی فقرہ لکھا ھے کہ ھاتھ پاؤن کی جلن کا علاج بتا دین آگے کچھ بھی نہین لکھا اب آگے پیچھے کچھ بھی علم نہین ھے کہ ھاتھ پاؤن کیون جل رھے ھین باقی علامات کوئی بھی نہین لکھی ھین ھوسکتا ھے ان دونون نے سیدھے سیدھے پاؤن رکھے ھی دھکتے کوئلون پہ رکھے ھون اور اس وجہ سے جل رھے ھون تو بھائی پاؤن ھی آگ سے ھٹا لو جلن رک جاۓ گی میری مراد یہ بھی ھے اگر مریض ایسی خوراک یا کوئی ایسی دوا بھی پہلے سے کھا رھا ھو جس سے جلن دار مادہ پیدا ھوتا ھے وہ نہ بتاۓ گا نہ چھوڑے گا بس علاج ضرور پوچھے گا
اللہ تعالی سب کو ھدایت دے ھمیشہ پوسٹ لکھتے وقت پوری مرض لکھا کرین

Friday, July 6, 2018

تشریح معجون فلاسفہ کبیر


۔۔۔۔۔ تشریح معجون فلاسفہ کبیر ۔۔۔۔۔۔
چند روز پہلے مین نے معجون فلاسفہ کبیر کا نسخہ پوسٹ کیا تھا اب بعض دوستون نے مجھے انباکس میسج کیے کہ ھم نے یہ نسخہ بنایا ھے اور رزلٹ اتنا زیادہ ھے کہ ھم خود حیران رہ گئے ھین تصور اور سوچ سے زیادہ رزلٹ ملا ھے دو تین دوستون نے لکھا کہ ھم اسے پوری نہین کر پا رھے بعض نے لکھا ھماری روزی اسی دوا سے چل نکلی ھے رات بھی مجھے ایک دوست نے میسج کیا دوا کی تعریف کے ساتھ ساتھ مجھ سے وعدہ لے لیا کہ اس کے مذید فوائد سے آگاہ کرون
سب سن لین مہرون کے امراض مین اس سے بڑھ کر کوئی دوا نہین ھے اعصاب کے امراض مین سب سے اعلی دوا ھے جسمانی کمزوری مردانہ کمزوری جگر اور گردون کی کمزوری سب مین بہت ھی اعلی ھے کمی خون ھو تب بھی فوری اثر ھے جو لوگ چھڑی کے سہارے چلتے ھین یا جو کبڑے ھو گئے ھین وہ اسے کھائین گے تو چھڑی رکھ دین گے اور سیدھے ھو کر چلین گے دائمی نزلہ زکام سے ھمیشہ کے لئے جان چھوٹ جاتی ھے اب ان سب امراض مین فائدہ لینے کے لئے ضروری ھے دوا کو بنائین اسی طرح جیسے مین نے لکھ رکھا ھے انتہائی صفائی اور نفاست سے قانون اور قائدے کلیہ سے تیار دوا ھی رزلٹ بھی دیتی ھے
مذید اطلاع یہ بھی دونگا انشاء اللہ جیسے ھی میری صحت کچھ درست ھوتی ھے طویل تحقیقی مضامین کا سلسلہ پھر سے شروع کردیا جائے گا

Thursday, July 5, 2018

روغن وجع المفاصل

۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔ روغن وجع المفاصل۔۔۔۔
یہ دوا روغن سرخ کا نام سے بھی مشہور ھے تیار ھونے کے بعد بالکل برنگ سرخ نظر آتا ھے
فوائد کے اعتبار سے جوڑون کا درد نقرس عرق النساء اور کولہون کے درد مین بہت ھی مفید ھے مرکبات مین سے بہت مشہور نسخہ ھے کسی دور مین تو یہ ھر دواخانہ کی زینت تھا بس وقت کے ساتھ ساتھ طبیب حضرات نے دوا بنانے والی محنت چھوڑ دی
سنڈھ ۔۔ لونگ ۔۔جائفل۔۔عقرقرحا۔۔حرمل۔۔رائی۔۔رتن جوت۔۔ھر ایک 20گرام
رتن جوت کے سوا باقی ھر دوا کو توڑ پھوڑ کر تین گنا پانی مین بھگو دین صبح جوش دے کر پن لین پانی کے وزن کے برابرتلون کا تیل ڈال دین اور آگ پہ دوبارہ رکھ دین اور اس مین رتن جوت بھی ڈال دین جب سب پانی جل جائے باقی صرف تیل رہ جائے تو اتار کر فلٹر کر لین اور کسی شیشی مین محفوظ کر لین سرخ رنگ کا تیل بنے گا مزاج کے اعتبار سے خشک گرم ھے بلغمی اور ریحی دردون کے مریضون کو جن کے جوڑون مین شدید درد ھوتا ھے خاص کر جن کے جوڑون پہ سوجن نہ آتی ھواور درد بھی شدید ھوتا ھو جوڑون کے پتھرا جانے کی نوبت آچکی ھواللہ کا نام لے کر مالش کرین حیرت انگیز طور پر دوچار دن مین مکمل آرام آجائے گا20قطرے آپ لونگ دارچینی کے قہوہ سے ھر روز کھلا بھی دیا کرین بعض اطباء نے اس کا نام روغن عجیب رکھا تو بعض نے روغن مبارک رکھا اب آپ کا جی چاھے تو جو مرضی نام رکھ کر اپنے نام سے منسوب کر لین

Wednesday, July 4, 2018

مقوی باہ ممسک اور مبہی

.... مطب کامل ........
... مقوی باہ ممسک اور مبہی....
ھزارون کے حساب سے یار لوگون نے مقوی باہ پوسٹین لکھ دی ھین بلکہ عبادت سمجھ کے بڑھا چڑھا کے قسمین اٹھا کے دل کا راز بتا کے بعض اسے سینہ کا راز لکھے دیتے ھین
لاکھون نسخے صرف چند اشیاء کے گرد گھومتے ھین ھر نسخہ مین بڑی پراسراریت بڑی ھی خوفناکی بڑے الجھاؤ اور رمز پوشیدہ افشان کیے جاتے ھین نسخہ مین کستوری زعفران عنبر ورق طلا ورق نقرہ کشتہ ھیرا سونا چاندی مروارید لازمی ھوتے ھین کچھ مین اضافہ زھرون کا خاص کر سم الفار کا ھوتا ھے پتہ نہین حکیم صاحب نے کبھی ان چیزون کو زندگی مین دیکھا بھی کہ نہین دیکھا اب پژھنے والا صرف لذت حاصل کرتا ھے بنانا بہت ھی مشکل کام ھوتا ھے میرے دوستو ان چیزون کا استعمال افضل ترین ھے واقعی یہ دوائین لازوال ھین ان مین بعض اشیاء کا ذکر قرآن مجید مین بھی ھے جنتیون کے محلات کی تعمیر مین کستوری اور زعفران لگا ھے جب مقدس ترین کتاب مین ذکر ھے تو ان اشیاء کا لازمی بہت ھی بڑا مقام ھے لیکن جتنی بے دردی سے آپ لوگ نسخون مین استعمال کرتے ھین اب اتنی تعداد مین کستوری والے ھرن دنیا مین نہین ھین استعمال مین بھی کرتا ھون لیکن جب خریدتا ھون تو کانون سے دھواں سا نکلتا ھے
آج جو دوا لکھنے لگا ھون خالص غربا کے لئے ھے مین آج حقیقی حکماء کو بھی دعوت دونگا کہ آئین اور اس نسخہ کی افادیت ایمانداری سے بتائین اگر نسخہ مین میری لکھی صفات نہ ھون تو قابل حکماء اسے دلائل سے مسترد کرین اجزاء پژھین ان پہ بحث کرین کہ کہان تک موثر ھے اگر نہین ھے تو بھی لکھین اب ایسا کوئی بھی شخص جس کو طب کی الف .. ب.. کا بھی پتہ نہ ھو وہ کمنٹس مین افادیت پہ بحث نہ کرے ورنہ اس کی علمی قابلیت چیک کرنے کے لئے وھین طبی سوالات کرکے اس کی قابلت سب کے سامنے ظاھر کردی جاۓ گی آئیے اب دوا کی طرف چلتے ھین
کچلہ مدبر سو گرام ..فلفل دراز 50گرام .. فلفل سیاہ 50 گرام پیس کر ملا لین ایک تا دو رتی صبح شام ھمراہ مناسب بدرقہ
مقوی قلب مقوی باہ محرک باہ ممسک مبہی ھے

Tuesday, July 3, 2018

روغن جیبی طبیب یا امرت دھارا|amrat dhara

....... مطب کامل ..........
Amrat dhara
........ روغن جیبی طبیب یا امرت دھارا .........
یہ بات 1902 کی ھے یعنی آج سے 115سال پہلے کی .. جب اس روغن یا تیل کو تیار کیا گیا اور ایک دواخانہ ریاست مالیر کوٹلہ انڈیا..مین شفاخانہ شیروانی کے نام سے تھا تقریبا دس سال مسلسل اس دواخانہ نے پورے برصغیر مین جس مین آج کے ممالک نیپال بھوٹان برما بنگلہ دیش انڈیا پاکستان افغانستان تک شامل تھے .. اس تیل کو سونے کے بھاؤ فروخت کیا مین اس دور کا وہ اشتہار بھی لگاۓ دیتا ھون خود دیکھ لین قیمت دو روپے تین آنہ ھے جب کہ اس دور مین سونا 14 روپے فی تولہ تھا اب فی شیشی اس تیل کی قیمت خود ھی نکال لین اس دور مین بھی ایک شخص نے ایک سال مسلسل دواخانہ مین حکیم صاحب کی خدمت کرکے اس تیل کا راز حکیم صاحب سے اگلوا لیا اور نسخہ ایک پندرہ روزہ طبی اخبار مین من وعن لکھ دیا اور آج تک ثواب کمارھے ھین
نسخہ کچھ یون تھا
ست نوشادر یا جوھر نوشادر 3 ماشہ...کاربالک ایسڈ 3 ماشہ..کافور 15 ماشہ..پیپر منٹ 15 ماشہ..ست اجوائن 15 ماشہ
اب نوشادر کے جوھر یون تیار کیے جاتے نوشادر کو پہلے روز رس لیمن مین کھرل کرین دوسرے روز امبربیل کے پانی مین تیسرے روز اٹ سٹ کے پانی مین چھوتھے روز آب کیلا مین پانچوین دن پھر اٹ سٹ کے پانی مین کھرل کرکے دھوپ یا آگ پہ رکھ کر مکمل دوا کو خشک کرکے پھر ان کا معروف طریقہ سے جوھر دو پیالون مین اڑا لین ان یہ جوھر نوشادر استعمال کیا جاتا تھا اب اس تیل کو اس دور مین جیبی طبیب کہا جاتا تھا اور آج کے دور مین اسے یون تیار کیا جاتا ھے ست پودینہ ست اجوائن ست الائچی کافور اور کاربالک ایسڈ اور اس مین صرف نوشادر کا جوھر شامل نہین کیا جاتا اور فائدے وھی لئے جاتے ھین اس زمانے مین جب اس کی اخبار پہ مشہوری آتی تو پچاس بیماریون کا اس ایک دوا سے علاج بتایا جاتا آخر فائدہ ھوتا تھا تب ھی خریدا جاتا تھا اشتہار آپ خود ملاحظہ فرما لین


Monday, July 2, 2018

میٹھا تیلیہ مدبر کرنا اور کشتہ فولاد |very easy method to prepare kushta faulad

......... مطب کامل ........
...... میٹھا تیلیہ مدبر کرنا اور کشتہ فولاد بنانا.........
Very easy method to prepare kushta faulad|matha taliya|kushta faulad
کشتہ فولاد بنانے کی ترکیب تو بہت ھی پہلے مین بھی اور سید ادریس گیلانی صاحب بھی لکھ چکے ھین صرف تجدید کی غرض سے دوبارہ لکھ رھا ھون ھیرا کسیس اور سوڈابائی کارب برابر وزن کسی کھلے برتن مین ڈالکر آٹھ گنا زیادہ پانی ڈال دین اس مین ایک کیمیائی عمل شروع ھو جاۓ گا جیسے سوڈا واٹر کی بوتل کھولنے سے ھوتا ھے آپ برتن کی بیرونی سطح پہ ھاتھ لگائین گے تو وہ بہت ھی ٹھنڈی محسوس ھو گی یہ عمل چند منٹ جاری رھتا ھے آپ دو گھنٹہ بعد اس پانی کو آھستہ سے نتار کر نکال دین اور دوبارہ نیا پانی ڈالکر تھوڑی دیر بعد اسے بھی نتار کر پھینک دین باقی شدہ دوا کو آگ پہ رکھ دین جب پانی خشک ھو کر مرکب کا رنگ آپ کو سیاھی مائل سرخ نظر آنے لگے تو آگ بند کر دین یہ عمل زیادہ سے زیادہ گھنٹہ جاری رہ سکتا ھے ٹھنڈا ھونے پہ پیس کر کسی حار مین محفوظ کرلین برنگ سرخ انتہائی شوخ قسم کا کشتہ فولاد تیار ھے جہان بھی آپ استعمال کرنا ھو بلا جھجھک اسے استعمال کرین یہ اعلی کوالٹی کا کشتہ فولاد ھوتا ھے
اب بعض حکماء نے اسے یون بھی تیار کیا کہ سوڈا بائی کارب اور ھیرا کسیس کو ملا کر کسی ڈولی مین بند کرتے ھین اور دس کلو تا بیس کلو اوپلون کی آگ دے دیتے ھین پھر نکال کر. پانی مین دھو کر فولاد نکالتے ھین یہ طریقہ غلط ھے کیونکہ سوڈا بائی کارب آگ مین ڈائریکٹ جا کر کاسٹک سوڈے مین تبدیل ھو جاتا ھو اور یہ عمل ناقص ھے آپ کا کشتہ فولاد ضرور تیار ھو جاتا ھے لیکن جو کیمیائی عمل ھوتا اس کے بارے مین آپ کو علم نہین ھوتا بہت زیادہ حکماء کو تو یہ بھی علم نہین ھے ھیرا کسیس کیا چیز ھے آپ کو آسان زبان مین سمجھا دیتا ھون یہ خام فولاد ھے اگر سائینسی زبان مین سمجھاؤن گا تو آپ کے پلے کچھ بھی نہین پڑے گا جس دوست کا کل سوال تھا پتری فولاد کے بارے مین تو اسی کشتہ کو آپ استعمال کیا کرین پتری فولاد تیار کرنا آپ کے بس کی بات نہین ھے بازار سے اچھی کوالٹی مین لے لیا کرین کبھی اس پہ بھی تفصیلی پوسٹ لکھ دونگا
خیر اب مضمون کو آگے لئے چلتے ھین جس چیز کا آپ کو شدت سے انتظار ھے اب ھم اس کا ذکر شروع کرتے ھین وہ ھے میٹھا تیلیہ کو مدبر کرنے کا طریقہ
کل کی پوسٹ پہ مین نے ایک بات کی تھی جب بھی آپ ایسا کوئی عمل کرتے ھین جیسے کچلہ مدبر کرنے کا طریقہ لکھا تھا تو ساتھ یہ بھی بتایا تھا کہ کیا پیمانہ ھے کہ آپ کو یقین آ جاۓ کہ کچلہ مدبر ھو گیا ھے مین نے لکھا تھا جب آپ بھونین گا تو کچلہ کا دانہ پھول کر سائز مین بڑا ھو جاۓ گا پھر بھی ایک صاحب نے کمنٹس مین لکھ دیا کہ کچلہ کو چالیس روز دودھ مین ڈبونا ھے اور دودھ روزانہ تبدیل کرنا ھو اب یہ سب تو بہت سی کتابون مین لکھا ھے لیکن یہ کہین نہین لکھا کہ چالیس روز بعد کیسے پتہ چلے گا کہ کچلہ مدبر ھو چکا ھے اب طب خاموش ھے اور لکھنے والا بھی چپ ھے
اسی طرح آج آپ کو میٹھا تیلیہ بھی مدبر کرنے کا طریقہ بتا رھا ھون 50گرام میٹھا تیلیہ لین اور 50گرام ھی چاۓ کی پتی لین دو کلو پانی مین چاۓ کی پتی ڈالکر پانی کو آگ پہ رکھ دین جب پانی ابلنے لگے تو اس مین میٹھا تیلیہ کسی باریک ململ کے کپڑے مین باندھ کر لٹکا دین آنچ اتنی رکھین کہ پانی ھلکا ھلکا ابلتا رھے تیز ابال نہ آۓ آدھے گھنٹے بعد چیک کر لین ایک لمبی سی لوھے کی سوئی لین جو رضائیان سلائی کرنے کے کام آتی ھے اب اس سوئی کو میٹھے تیلیا مین چبھوئین اگر سوئی آسانی سے آرپار ھو گئی ھے تو الحمد اللہ آپ کا میٹھا تیلیہ مدبر ھو گیا ھے یاد رکھین یہ عمل 15 تا 30 منٹ مین مکمل ھو جاتا ھے آپ کو 30 منٹ اسی لئے کہا ھے کہ کچھ شک نہ رہ جاۓ ورنہ مدبر تو 15 منٹ مین ھو جاتا ھے ھان پانی زیادہ کم ھو جاۓ تو تھوڑا ڈال سکتے ھین اب بعض بہت ھی ذھین اور فطین لوگ یہ سوال ضرور کر سکتے ھین کہ کیا میٹھا تیلیہ پیس کر کپڑے مین باندھنا ھے یا ویسے ھی ثابت رکھنا ھے اب بتائین اس سوال کا کیا جواب لکھون کم سے کم پوسٹ ھی دو تین بار پڑھ لیا کرین اور اپنا لازوال قسم کا علم تو ظاھر نہ کیا کرین دعاؤن کا متمنی محمود بھٹہ

Sunday, July 1, 2018

مصبر بنانے کا طریقہ اور کچلہ مدبر کرنا

...... مطب کامل .........
...... مصبر بنانے کا طریقہ اور کچلہ مدبر کرنا.....
کل کی پوسٹ پہ یہ دو سوال عام آۓ اس سے پہلے بھی ایک پوسٹ لکھ چکا ھون کچلہ مدبر کرنا منٹون کا کام ھے کچلہ لین اور ریت کچھ مقدار مین کسی کھلے برتن مین ڈالکر آگ پہ رکھین جب ریت مکمل گرم ھو جاۓ تو اس مین کچلہ ڈالکر بھون لین جب پٹاخے چھوڑ کر موٹا ھو جاۓ تو کچلہ مدبر ھو چکا ھے اب جلا نہ دین نیچے اتار کر پیس لین جہان جس نسخہ مین استعمال کرنا ھو کر لین بہت سے لوگ کچلہ کے ساتھ بڑی پراسرار سی مہم جوئی شروع کردیتے ھین کوئی کنوار گندل کے پانی مین پہلے ڈبورھا ھے پھر کسی اور پانی مین ڈال رھا ھے اور کوہ قاف پہاڑ پہ بیٹھ کر بنانے کی بھی شرط ھوتی ھے مہینون انتظار کرنے کے بعد ایک جن آکر کچلہ مدبر ھوجانے کی سند دیتا ھے تب کچلہ مدبر ھوتا ھے بھئی اگر آپ نے کنوار گندل کا پانی شامل کرنا ھی ھے تو مصبر شامل کر لین وہ بھی تو کنوار گندل کا خشک شدہ پانی ھی ھے کیا فضولیات مین آپ پڑے ھین آپ نے تاثیر جب کچلہ کی لینی ھے تو اسے سیدھا سیدھا بھون لین بس کچلہ مدبر ھو گیا اب جو طریقے آپ استعمال کرتے ھین اگر آپ سے یہ پوچھا جاۓ کہ آپ کے پاس کیا پیمانہ ھے جس سے یہ تصدیق ھو جاۓ کہ اب کچلہ واقعی مدبر ھو چکا ھے تو آپ کو جواب دینا مشکل ھو جاۓ گا آپ کے پاس کوئی پیمانہ نہین ھے جس سے آپ کچلہ کے مدبر ھو جانے کی تصدیق کر سکین پھر کءون آپ اسے کبھی ناپاک گوبر مین دباتے ھین اور کنوار گندل کا رس پلا رھے ھین میرے بھائی آپ تو پہلے ھی اسے گوبر کا رس پلا چکے ھین کیا ھندووانہ طریقہ تلاش کیا آپ نے
اللہ کے بندے یہ غلیظ طریقے چھوڑ و اور سیدھا سیدھا بھون لین اب پیمانہ بھی ھے آپ کے پاس کہ جو دانہ بھن گیا ھے وہ نظر بھی آرھا ھوتا ھے بس وہ مدبر ھو گیا ھے طب کو پراسراریت سے باھر نکالین اب گوبر مین چھلانگ لگانے کی ضرورت نہین ھے
اب دوسرا سوال تھا کہ بازار سے مصبر اصل نہین ملتا تو اس مین پریشان ھونے والی تو کوئی بات ھی نہین آپ خود اصل مصبر بنا لین حسب ضرورت کنوار گندل لین پانی سے دھو کر مٹی صاف کردین اور پھر باریک باریک قیمہ کر لین پھر کسی تسلے مین ڈالکر دھیمی آنچ پہ آگ پہ رکھ دین آھستہ آھستہ چمچہ ھلاتے رھین جب سب پانی سوکھ کر مرکب سیاہ رنگ کی شکل اختیار کر جاۓ تو آگ سے نیچے اتار کر باقی ماندہ نمی دھوپ مین خشک کر لین مصبر تیار ھے جہان مرضی استعمال کرین
اگر آپ نے جوھر مصبر بنانا ھو تو پھر کنوار گندل کا وافر پانی نکال کر آگ پہ اسی طریقہ سے خشک کرین پانی نکالنا بھی مشکل نہین ھے کنوار گندل کے ٹکڑے کرکے کسی شاپر مین بند کرکے دھوپ مین رکھ دین برنگ سرخ پانی علیحدہ نکل آۓ گا بازار سے کچھ کمپنیان ملاوٹ شدہ ایلوویرہ یعنی کنوار گندل کا پانی بھی پیک شدہ حالت مین فروخت کرتی ھین جو کہ ناقص ھے معیاری نہین ھے کئی پراڈکٹ ایلوویرہ کے نام سے بازار مین ملتی ھین صابن اور ھیئر آئل تک ملتا ھے بس ایسینس شامل کیا اور پراڈکٹ بازار مین آگئی یورپ نے ھر چیز کا ایسینس نکال کر بڑی آسانیان پیدا کردی ھین اس کے علاوہ کچھ بھی نہین ھوتا ھر ھیئر آئل جو بازار سے ملتا ھے ان مین سواۓ ایسینس کے اور لیکوڈ پیرافین کے علاوہ کچھ بھی نہین ھوتا نام بڑے بڑے اور پیکنگ رعب داب والی قیمت آسمان کو چھوتی ھوئی کام کچھ بھی نہین ھے یہ ھے چمک کی دنیا
میرے خیال مین مضمون کافی ھو گیا ھے اجازت چاھون گا اللہ حافظ