Sunday, July 29, 2018

تشخیص امراض ومزاج 10

۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔ تشخیص امراض ومزاج ۔۔۔۔ قسط نمبر 10۔۔
اب بہت سی علامات ایسی بھی ھین جو جسم کے مختلف حصون پہ پائی جاتی ھین مثلا چہرہ کے کسی مقام پہ ھونٹ ناک کان وغیرہ پہ سوزش یا ناک کی سرخی یا ناک کی سیاھی مائل پھوڑا یا پھنسی کا نکل آنا مریض کے حق مین خطرناک ھوتا ھے ایسے مریض کا علاج بہت ھی سوچ سمجھ کر کرنا چاھیے اکثر دیکھا گیا ھے ایسے مریض کا بچنا بہت ھی مشکل ھوتا ھے کیونکہ یہ علامتین سوزش اور ورم اور کینسر دماغ کی علامتین ھین اگر ایسے مریض کو ساتھ ھچکی بھی لگ جاۓ تو چند فیصد چانس ھوتا ھے بہتری کا ورنہ مریض اگلے جہان سدھار جاتا ھے
اگر لیٹے ھوئے مریض کے گھٹنے پیٹ کی طرف اکھٹے ھون تو درد گردہ ھو سکتا ھے یا فالج کی شکایت ھے
اگر مریض چلتے وقت اپنے پاؤن کو جھٹکا دے کر چلے تو لازما گردون مین خرابی ھوتی ھے
یا رھے جب بھی مریض گھٹنون مین درد کی شکایت یا ٹانگون مین درد کی شکایت کرے لازمی طور پہ امراض گردہ کا شکار ھے
اب ایسی بہت سی علامات کا مین ذکر نہین کررھا جس کا تقریبا عام آدمی کو بھی پتہ ھے جیسے بائین بازو مین درد کی شکایت یا بائین طرف سینہ مین درد کی شکایت دل کی امراض کی علامت ھے یا پھر شدید تبخیر معدہ ھو سکتا ھے اب ایسی علامتین چھوڑ رھا ھون جیسے بخار بھی تو ایک ظاھری ھی علامت ھے اب ان کی تشریح ممکن نہین ھے بخار تقریبا تین سو وجوھات سے ھوا کرتا ھے یہ بھی علامت کہ جب ہاؤن کی انگلیان سن ھو جانا وھان خون کا دورہ کم ھے یا ھاتھ پاؤن کا سن ھو جانا خون کے گاڑھا پن کولسٹرول کے بڑھ جانے کی علامت ھے مزید شدید کمی خون مین بھی یہ علامتین ھوا کرتی ھین اب ایک اور بھی ظاھری علامت کہ پیٹ کا اچانک چند روز مین بڑھ جانا پیٹ پہ چمک کا آجانا اب پیٹ پہ معمولی ضرب لگانے سے لہر سی اٹھتی محسوس ھونا یہ سب پیٹ مین پانی بن جانے کی علامتین اب ایسی تمام علامتون کو موقوف کرتا ھون ذرا ان علامتون پہ توجہ دے لیتے ھین جو مرض الموت مین پیدا ھوا کرتی ھین یعنی جب موت قریب آجاۓ تو مریض مین کیا کیا ظاھری علامات پیدا ھوتی ھین ویسے نبض سے تو فورا حکم لگایا جا سکتا ھے لیکن وہ آگے نبض کے باب مین بیان کرین گے
موت کے قریب آنے پہ ظاھر ھونے والی علامات۔۔۔۔۔۔۔
١۔۔منہ کا کھلا ھونا
٢۔ آنکھون کا پتھرا جانا یا پتھرایا ھوا معلوم ھونا
٣۔ناک کا مڑ جانا
٤۔چہرے پر پریشانی کے آثار پیدا ھونا
٥۔سینے پہ بلغم کی زیادتی بلکہ کھڑکھڑاھٹ کی آوازین یا گھنگھرو کی سی آواز کا پیدا ھونا اور بلغم کا اخراج بھی نہ ھونا
٦۔مریض کا بے ربط باتین کرنا
٧۔ ھاتھ پاؤن مین کھنچاؤ پیدا ھونا لیکن سکت ذرا سی بھی نہین پیدا ھوتی
٨۔ نبض کا اتنا یہان بتا دیتا ھون تفصیل پھر بھی آگے بیان کرون گا نبض نملی ھو جاتی ھے اور قارورہ کا رنگ سیاھی مائل ھوجاتا ھے یہ سب انتہائی خطرناک علامات ھین
یاد رکھین ان سب علامات کو دیکھنے کے باوجود بھی آپ کو فورا موت آنے کا حکم نہین لگانا چاھیے بلکہ صرف خطرے کا اظہار کرین کیونکہ زندگی اور موت صرف اللہ جلّہ شانہ کے اختیار مین ھے مین نے خود ایک مریض مین ھر علامت موت کی دیکھی لیکن اس کا علاج بھی مین نے خود کیا اور وہ شخص سات سال بعد حادثاتی موت مرا اس لئے کبھی بھی فتوہ نہ لگائین اللہ بڑے رحمن ھین وہ موت کو بھی زندگی مین بدلنے کی قدرت رکھتا ھے اس کے بعد مین نے آج تک فتوہ نہین لگایا یاد رکھین کوئی بھی بیماری خواہ معمولی سر درد ھی کیون نہ ھو بذات خود موت کی علامت ھے ۔۔المرض علامت الموت ۔۔۔۔۔ ھان آپ نبض قارورہ ظاھری علامتین دیکھین اگر ایک بھی علامت موجود ھے تو بس خطرے کا اظہار کرین
ایک کتاب جس کا نام رسالہ قبریہ ھے اس مین 25 حکم موت کے بارے مین لکھے ھین حکماء حضرات ان پہ بھی بہت بھروسہ کرتے ھین کیا آپ جانتے ھین کہ یہ رسالہ قبریہ کونسی اور کس کی کتاب ھے تو سنین یہ بقراط نے نے لکھی تھی مرتے وقت اس کتاب کو اس کی قبر مین دفن کردیا گیا بقراط یونان کا ایک بہت بڑا عالم تھا اس کی موت کے سوسال بعد اس کی قبر کو مرمت کرنے کے دوران یہ کتاب ملی اور مسلمانون کے خلیفہ مامون الرشید کو یہ یونان کے خزانہ سے ملی اور خلیفہ نے اس کا ترجمہ حسنین ابن اسحاق سے یونانی سے عربی مین کروایا اب یہ پچیس حکم قانونچہ مترجم علامہ حکیم کبیرالدین مین درج ھین اگر آپ کہین گے تو یہ حکم نامہ رسالہ قبریہ یہان لکھ دونگا باقی باتین انشاءاللہ اگلی پوسٹ مین کرین گے محمود بھٹہ دعاؤن کا طلب گار

Friday, July 27, 2018

امراض تشخیص ومزاج 8

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔ امراض تشخیص ومزاج ۔۔۔۔۔۔۔۔قسط نمبر8۔۔
پچھلی پوسٹ مین ایک عجیب سا سوال کسی نے کررکھا تھا کہ کسی خلط کے بڑھ جانے سے ھی مرض پیدا ھوتی ھے تو کیسے پتا چلے کہ کونسی خلط بڑھ گئی ھے ایک اور عقلمند نے اخلاق سے ھٹ کر اس کے نیچے کمنٹس دے رکھے تھےجس کا ترجمہ یہ ھے کہ بڑے بڑے حکیمون کا اس سوال پہ منہ بند ھو جاتا ھے مجھے بڑی ھنسی آئی کہ اس سوال پہ تو کسی چھوٹے سے چھوٹے بھی حکیم کا منہ بند نہین ھوتا پہلے کمنٹس پہ ایک لطیفہ یاد آیا جب ایک پٹھان ساری رات ھیر وارث شاہ سننے پہ بہت آزردہ نظر آیا تو کسی نے پوچھا خان صاحب کیا ھوا ؟ خان صاحب فرمانے لگے بھئی ان دونون بہن بھائی کا داستان بہت درد ناک ھے ۔۔بہت سے دوستون سے معذرت۔۔۔ اب بات بھی سمجھ لین اس مضمون کا مقصد ایک یہ بھی ھے کہ جو خلط بڑھی ھے اس کی پہچان کیسے ھو اگر اس کی پہچان ھو گئی تو مرض پہچاننا آسان ھو جاتا ھے اب ایک چھوٹے سے بھی حکیم کو اس بات کا علم ھوتا ھے کسی بھی خلط کے بڑھنے یا کمی ھونے سے مرض پیدا ھوتی ھے اعتدال صحت کی علامت ھے اگر مضمون غور سے پڑھا ھوتا تو یہی کچھ تو زیر بحث ھے خیر اب ھم اپنے مضمون کی طرف چلتے ھین بات کررھے تھے رنگون سے مزاج کی پہچان کیسے کی جاتی ھے جس مین دموی مزاج پہ پچھلی قسط مین لکھ چکا ھون اب آتے ھین صفراوی مزاج کی طرف
زرد رنگ صفرا کی پہچان ھے صفرا کی زیادتی اور جگر و غدد کے فعل مین تیزی کو ظاھر کرتا ھے
اب سفید رنگ بلغم کی کثرت اور دماغ اعصاب کی تیزی کو ظاھر کرتا ھے
اسی طرح سیاہ رنگ سوداویت کی تیزی اور غدد جاذبہ کے فعل و اثرات کو نمایان کرتا ھے
جب ان رنگون کا علم ھو گیا کہ اگر یہ رنگ جسم پہ ظاھر ھون تو فلان مادہ مین تیزی ھے تو اگلا سوال یہ پیدا ھوتا ھے یہ رنگ پیدا کہان ھوتے ھین اور صاف کہان ھوتے ھین یعنی کس اعضاء مین یہ پیدا ھوتے ھین یعنی اخلاط پیدا ھوتے ھین صاف بھی ھوتے ھین اور اخراج کیسے پاتے ھین یہ سب سوال بہت اھم ھین اور یہ بات بھی ذھن مین لازمی آتی ھے اب ان رنگون سے ایک طرف خون کی کیمیائی حالت سمجھ آتی ھے تو دوسری طرف ان اعضاء کی طرف بھی اشارہ واضح ھوتا ھے جن کی حالت غیر طبعی ھونے سے ان مین اخلاط کی کمی بیشی سے یہ رنگ پیدا ھوتے ھین ۔۔اب ان دونون صورتون کو سامنے رکھ کر ذھن مین مرض کا خیال ابھرتا ھے اب چہرے اور باقی جسم کی علامات دیکھنے کے بعد اس کے یقین کی حد تک مرض کی پہچان ھو جاتی ھے لیکن ایک بات یاد رکھین جب کسی ایک رنگ کو دیکھنے کے بعد اس کے متعلقہ عضو کی طرف توجہ جاۓ تو ساتھ ھی دیگر اخلاط اور ان کے اعضاء کی کمی بیشی اور ان کے افعال کو بھی لازما مد نظر رکھ لینا چاھیے کسی بھی مرض کا فتوہ لگانے سے پہلے انکی حالت کو لازما مدنظر رکھنا ضروری ھے
٢۔ ھیئت۔۔۔۔ اس سے مراد چہرے اور جسم کا دبلا پن یا موٹا ھونا اور اس مین کمی بیشی یا جسم مین رطوبت کی زیادتی یا اعصاب کے فعل مین تیزی کی علامت کو سامنے رکھ کر اس مین عصبی امراض کو مد نظر رکھنا شامل ھے
اگر چہرہ خوش رنگ ھے چمک دار ھے اور اس مین کساد ھو تو یقینی بات ھے کہ چربی کی زیادتی ھے
اگر چہرہ پھیکا ھو دھبے ھون یا ڈھیلا پن ھو تو پانی کی کثرت ھے
اگر جسم مین گوشت کی زیادتی تو جگر اور گردون کے فعل مین تیزی ھے
اگر چہرے پہ تازگی اور چمک ھو تو جگر مین تیزی اور حرارت مین زیادتی ھے
اگر چہرہ مرجھایا ھوا ھو اس پہ داغ دھبے ھون تو گردون کے فعل مین تیزی ھے
نوٹ۔۔ ایک بات جسے مین نے بہت آگے چل کے لکھنا تھا درمیان مین ھی لکھنے کو جی چاھا یہ بات بھی اچھی طرح نوٹ کر لین
کہ اگر ناک پہ سیاھی مائل پیلاھٹ لیے مردنی سے آگئی ھو جس مین ناک پہ بڑی خشکی بھی نظر آتی ھے تو فتوہ لگا دین گردے بالکل سکڑ گئے ھین مریض شدید بلڈ یوریا اور کریاٹی نین کا شکار ھو چکا ھے یہ اس لئے لکھا ھے کہ یہ مرض بہت ھی عام ھو چکی ھے اور مریض پہ یہ نشانی بہت عرصہ پہلے ظاھر ھو جایا کرتی ھے اور مریض کو اپنی مرض کا علم بھی نہین ھوتا اگر اس وقت آپ متعلقہ ٹیسٹ کروائین گے تو فورا یہ مرض تشخیص ھو جاۓ گی اور علاج کیا جا سکتا ھے اور سو فیصد مریض تندرست ھوجایا کرتے ھین اب آگے چلتے ھین
اگر چہرہ اندر کی طرف پچکا ھوا ھے اور جسم دبلا پتلا ھے تو دل کے فعل مین تیزی ھے اگر ساتھ چہرہ پہ تازگی ھے تو خون کی پیدائش ھے
اگر چہرہ پہ چھائیان اور داغ ھون تو سوداوی مادہ کی زیادتی ھے اس مین لازما معدہ اور طحال کو مدنظر رکھین
اب بات کرتے ھین ظاھری علامات کی
اب ظاھری علامات بے ھوش مریض نشے مین مدھوش مریض یا بچون مین یا نیند کی حالت مین زیادہ کام آتی ھین اس کے علاوہ دیگر مریضون پہ بھی اسی طرح کام آتی ھین
ظاھری علامات مین انسان کے قد کی لمبائی یا پستی جسم کی ساخت بالون کا زیادہ یا کم ھونا سر آنکھ کان ناک ھونٹ ھاتھ پاؤن کی بناوٹ ۔۔ باقی مضمون اگلی قسط مین

Wednesday, July 25, 2018

تشخیص امراض و علامات 7

۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔ تشخیص امراض و علامات۔۔۔قسط نمبر7۔۔۔
سب سے پہلے بلغم کی زیادتی کی علامات
بدن کا رنگ سفید ھونا
بدن کا ڈھیلا ھونا
بدن کا ملائم اور سرد ھونا
لعاب دھن کا بکثرت ھونا
پیاس کی کمی ھونا لیکن جب بلغم کے ساتھ صفرا ملا ھو تو پیاس زیادہ لگتی ھے
کھاری ذائقہ ھوتا ھے
بلغم کا ویسے ذائقہ نمکین ھوتا ھے
ڈکارین اور نیند کی زیادتی
اب صفرا کی زیادتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بدن اور آنکھ کی زردی
زبان کا ذائقہ تلخ اور زبان کا کھردرا ھونا
منہ اور نتھنون کی خشکی
پیاس کی بہت زیادتی
ضعف اشتہا متلی اور پھریری سی محسوس ھونا یعنی کپکی سی آتی ھے
اب سودا کی زیادتی۔۔۔۔۔
جسم مین لاغری پن اور نیلا ھونا
خون کی سیاھی اور گاڑھا پن
غور و فکر کی کثرت
معدہ کی جلن اور ترش ڈکارین آنا اب لازمی طور پہ منہ کا ذائقہ بھی ترش ھی ھوتا ھے
اشتہاۓ کاذب یعنی جھوٹ موٹ کی بھوک لگنا
قارورہ بھی سرخ سیاھی مائل یا اکثر سرخ اور غلیظ ھوتا ھے بدن کا رنگ سیاھی مائل ھوتا ھے
اب ایک اور بات بھی سمجھ لین طب قدیم مین خون کی بھی زیادتی کو لکھا گیا ھے وہ بھی سمجھ لین ۔۔۔
سر کی گرانی انگڑائی جمائی اونگھ اور حواس کی کدورت کند ذھنی زبان کا ذائقہ شیرین ھونا بدن کااور زبان کا رنگ سرخ ھونا باقی اس مضمون کی تشریح بہت کچھ کرنی باقی ھے جس مین آنکھ گال ھونٹ اور چہرے کی رنگت بھی شامل ھین ۔
ایک بات اور بھی ذھن نشین کر لین جس طرح اخلاط کے ذائقے لکھے بالکل اسی ھی طرح اخلاط کی بو بھی ھوتی ھے کھٹی بو یا ترش میٹھی بو کڑوی بو یہ جب مریض کپڑے پہنتا ھے تو چند گھنٹے بعد وھی کپڑے بے شک مریض اتار دے لازما ان مین بو رچ جایا کرتی ھے اب جو لوگ کپڑا سونگھ کر تشخیص کردیا کرتے ھین وہ بے شمار کپڑون کی بو سونگھنے کے بعد تجربات کرکے اس اھل ھو جایا کرتے ھین مزاج تو رھا مزاج اب اس مزاج مین پیدا شدہ امراض بھی تو کافی ھوا کرتی ھین لیکن وہ ھر مشہور مرض کی بو الگ سے پہچاننے کی صلاحیت رکھتے ھین اور یہ صلاحیت بہت زیادہ محنت کرنے سے پیدا ھوتی ھے آپ بھی بے شک اس پہ محنت کرین ایک ھی مرض کے شکار چند مریضون کے کپڑے سونگھ کر ان کی بو کو اچھی طرح پہچان لین اسی طرح دوسری مرض کے مریضون کے کپڑون سے بو سونگھ کر پہچان کرین دو چاردن کی کوشش سے آپ اچھی اس بو کی پہچان پہ عبور حاصل کر لین گے اب آپ علیحدہ کمرے مین بیٹھ جائین اور کسی کو کہہ کر ان امراض کے متعلقہ کپڑے منگوائین اور ان کو سونگھ کر آپ آسانی سے بتا دین گے کہ یہ جس کے کپڑے ھین یہ فلان مرض مین مبتلا ھے اور آپ کا رزلٹ بالکل درست ھو گا یہ تجربات کرنے کے لئے آپ کسی بھی بڑے ھسپتال چلے جائین جہان ایک مرض کے مریضون کے پورے پورے وارڈ مختص ھین اگر کوئی ڈاکٹر اس فن کو اپناۓ تو بہت جلد عبور حاصل کرسکتا ھے کیونکہ اس کے پاس مواقع زیادہ ھوتے ھین اب بات کو آگے بڑھاتے ھین اب آپ کو بتاتے ھین چہرہ اور باقی جسم سے ظاھری تشخیص کس طرح ممکن ھے
یادرھے چہرے اور جسم سے ظاھری علامات تو بے شمار ھوتی ھین ان سے کچھ تو اتنی عام ھوتی ھین جن کے بارے مین ھر کوئی جانتا اور سمجھتا ھے لیکن چند ایک مراحل مشکل ضرور ھین لیکن ناممکن نہین ھین تھوڑی محنت سے ھی یہ علم بھی پورے طور پہ حاصل ھو سکتا ھے ایلوپیتھک مین اس بارے مین بہت سی امراض کی تشخیص اسی طرح کی جاتی ھے پھر متعلقہ ٹیسٹ کروا کر مہر لگائی جاتی ھے آپ بھی ھمت اور کوشش کرین تو کچھ بھی مشکل نہین ھے اگر آپ اس پہ عبور حاصل کر لیتے ھین تو یقین جانین آپ کے ھی عزت اور وقار مین اضافہ ھو گاجیسے جیسے آپ ان تمام تشخیصی ذرائع پہ غور وفکر کرتے جائین گے آپ کے دماغ مین روشنی پھیلتی جاۓ گی مجھے انتہائی افسوس سے ایک بات کہنی پڑ رھی ھے پورے ملک مین کسی بھی طبیہ کالج مین تشخیص کا فن نہ تو سکھایا جاتا ھے اور نہ ھی پڑھایا جاتا ھے کیونکہ پڑھانے والے خود بھی اس فن کے اھل نہین ھوتے مین نے بڑے بڑے پروفیسر حضرات جن کے نام کے ساتھ پروفیسر لگا ھوتا ھے اگر پروفیسر کی ھی تعریف پوچھ لی جاۓ تو ایک ھی جواب آتا ھے چھڈو بھٹہ صاحب مٹی پاؤ آگے مین آپ کو نہین بتاؤن گا مزید کیا فرماتے ھین خیر اس موضوع پہ پھر کبھی تفصیلی گفتگو کرین گے اب سنین تین چیزون کو ذھن مین رکھین اور حکم لگانے مین ماھر ھو جائین گے نمبر ایک چہرے اور جسم کی رنگت
نمبر دو۔۔ چہرے اور جسم کی ھیئیت
نمبر تین۔۔۔چہرے اور جسم کی علامات
اب پہلا نمبر رنگت کا۔۔۔یاد رھے کسی بھی خلط کا رنگ چہرے پہ ضرور ظاھر ھوا کرتا ھے قارورہ مین بھی ظاھر ھوا کرتا ھے لیکن وہ قارورہ کے باب مین اس کا ذکر کرین گے
سرخ رنگ قلب عضلات کی تیزی پہ دلالت کرتا ھے جسے آپ دموی مزاج کہتے ھین لیکن مین اس کی آگے چل کر ضرور تشریح کرون گا کہ دموی مزاج حقیقت مین نظریہ کی کونسی تحریک مین ھوا کرتا ھے اب زرد رنگ صفراوی مزاج کی نشاندھی کرتا ھے باقی مضمون آئیندہ

Sunday, July 22, 2018

تشخیص مزاج وامراض 6

۔۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔تشخیص مزاج وامراض ۔۔۔۔قسط 6۔۔۔۔۔
اللہ بڑے ھی رحمان ھین انسان کو عقل ودانش سے نواز دیا دوستو مضمون انتہائی ھی طویل ھے بہت ھی مختصر کرون تو شاید سو قسطون مین مکمل ھو جاۓ ھان اگر آپ گھبرا گئے تو بتانا مضمون کلوز کردین گے پچھلی قسط مین کسی نے کمنٹس مین مضمون کو بڑا ھی خشک مضمون لکھا تھا مجھے علم ھے آپ کے لئے تر مضمون صرف اور صرف قوت باہ کی پوسٹ ھوتی ھے اب اس پہ کہون گا کچھ بھی نہین صرف اتنا ھی کہون گا کہ یہ مضمون آپ کے لئے نہین ھے اسے نظر انداز کرین اور آپ صرف تر پوسٹین پڑھا کرین یہ پوسٹین جستجو رکھنے والے اور علم کے پیاسون کے ھوتین ھین
وعدہ تو مین نے تحریک تحلیل اور تسکین پہ لکھنے کا کیا تھا لیکن درمیان مین کچھ اور باتین یاد آگئین کہ آیا جب انسان کے جسم مین کسی بھی خلط کا اضافہ ھوتا ھے تو لازم بات ھے کہ اس کے جسم پہ بھی کچھ نہ کچھ علامات ظاھر ھوتی ھونگی تھوڑی تشریح اس پہ بھی کردی جاۓ ورنہ مضمون کی روح گہنا جاۓ گی اب سب سے پہلے بات کرین گے ذائقہ کے بارے مین تو آئیے سب سے پہلے زبان اور ذائقے پہ بات کرتے ھین
ذائقہ اور زبان۔۔۔۔یادرھے ویسے تو زبان ایک عضلاتی عضو ھے اور اللہ تبارک تعالی نے عین اس مقام پہ اسے لگایا جسے آپ غذائی دھلیز کہہ سکتے ھین یعنی اس سے ٹکراۓ بغیر کوئی بھی دوا غذا آپ کے جزو بدن نہین بن سکتی اب یار دوستون نے دوا کوتو کیپسول مین بند کردیا کہ ذائقہ محسوس نہ ھو لیکن سچ یہ ھے کیپسول معدہ مین کھلنے کے بعد بھی ذائقہ زبان کو منتقل ضرور کرتا ھے اب قدرت نے اس کے ذمہ کچھ اور بھی کام لگاۓ ھین جس مین اھم ڈیوٹی غذا کو چبانے مین مدد دینا چوسنے چاشنی لذت محسوس کرنا حیران کن بات یہ بھی ھے کہ اگر آپ ھزارون لاکھون ذائقے چکھتے ھین ھر ایک کا علیحدہ علیحدہ محسوس کروانا بھی اسی کی ذمہ داری ھے بے شک یہ عضلاتی عضو ھے لیکن اعصابی اور غدی ذائقے بھی محسوس کرنا اسی کی ذمہ داری ھے اگر آپ تھوڑا سا بھی اپنے ذھن پہ زور دین گے تو سوچین ھے کوئی دنیا مین کوئی ایسی مشین جسے انسان نے تیار کیا ھو اور اتنے ذائقوں مین تفریق کر سکے یقینا آپ کا سر نفی مین ھی گھومے گا صرف اللہ ﷻ نے آپ کو ایسی مشین عطا کی اب انسان ھے کہ اس کا شکر گزار ھی نہین اب مزید سنین یہ وہ مشین ھے جس کا وزن تو چھٹانک بھر بھی نہین لیکن آپ اس کے بغیر متکلم ھو ھی نہین سکتے اپنا مدعا بیان ھی نہین کرسکتے اب اس زبان سے چاھیے تو یہ تھا کہ ھم اس زبان سے رب کائینات کو ھر وقت یاد کرتے اس کی تعریف اور حمد ثنا مین رھتے لیکن ھم نے سواۓ جھوٹ بداخلاقی گالم گلوچ کے اس کا اور استعمال کرتے ھی نہین ھان اگر یہ مفلوج ھو جاۓ گفتگو کرنے کے اھل نہ رھے تو پھر اللہ بھی یاد آتا ھے اس کی رحمت بھی یاد آتی ھے کیون نہ ھم پہلے ھی انسانیت کے دائرے مین رھین آئین آج محمود بھٹہ کے ساتھ مل کر وعدہ کرین کہ ھم آئیندہ اس زبان کا استعمال رب کائینات کی خوشنودگی مین ھی رکھین گے اب دیکھین اس زبان کو احساس ذوق بھی عطا کیا اب اس سے گزر کر جانے والی ھر چیز کا خوشگوار یا ناخوشگوار احساس کو بھی آپ کے دماغ تک منتقل کرتی ھے یاد رکھین انسانی جسم مین اور کوئی بھی اعضاء اتنا کثیر المقاصد نہین ھے جتنی زبان ھے یہ ایسا عضو ھے جو احساس بھی کرتا ھے اور اظہار بھی کرتا ھے آپ کی اندرونی کیفیات وواردات کا بھی ترجمان ھے لذت کام ودھن کا بھی انتظام کرتا ھے اور قلبی تصدیقات کا بھی اقرار اسی کے ذریعے ھوتا ھے یہ زبان جنت بھی لے جاتی ھے اور جہنم بھی لے جاتی ھے یہ پھنساتی بھی ھے رھا بھی کروا دیتی ھے اور یاد رکھین جرم آپ کی زبان کرتی ھے پٹائی اور تڑوانے مین بدن کے دوسرے اعضاء کی شامت آتی ھے خیر اب ھم ذرا طبی موضوع کی طرف رخ موڑ لیتے ھین
مین بتا رھا تھا کہ ایک عضلاتی عضو ھے لیکن زبان کی اوپری سطح پہ ایک بلغمی مادے کی جھلی ۔۔ میوکس ممبرین کے استر سے ڈھکی ھوتی ھے اب اس کے ساتھ دماغ کے پانچوین عصب سے نکلنے والی مین شاخین زبان پہ پھیلی ھوتی ھین ان مین سے دو تو ذائقہ کا احساس کرتی ھین اور ایک زبان کے نچلے حصہ کے عضلات مین پھیل کر اس کو حرکت کی انگیخت دیتی ھین اس کے ساتھ زبان پہ چھوٹے چھوٹے ابھار ھوتے ھین جو حقیقت مین غدی خلیات یعنی ایپی تھیلیل سیلز کے مجموعے ھوتے ھین یاد رکھین انہی مین حسی اعصاب کی شاخین آکر ختم ھوتی ھین جن کی تحریک کے ذریعے دماغ ذائقہ کا احساس کرتا ھے اب ذائقہ کا انحصار اس بات پہ ھے کہ اعصاب متحرک ھون اور کوئی مہیج ان کو آکر چھوۓ جو یا تو خود ھی محلول حالت مین ھو یا مقامی غدد سے نکلنے والی رطوبات سے منہ مین حل ھو کر محلول بنے اب آپ کو اس بات کا پتہ چل گیا ھو گا کہ ذائقہ کا احساس اعصابی تحریک سے ھوتا ھے اب بات کرتے ھین مختلف مزاجون مین کیا ذائقے اور چہرے یا بدن پہ کیا علامات ظہور ھوتی ھین

Friday, July 20, 2018

تشخیص مزاج وتشخیص امراض 5

۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔
۔۔ تشخیص مزاج وتشخیص امراض۔۔قسط نمبر5۔۔۔
ھر تحریک مین سردی کی وجہ سے سکیڑ اوررطوبت سے پھلاؤ اور تحلیل کے مقام پہ ضعف اور گرمی کی وجہ سے پھلاؤ ھوگا اب ان مقامات کی حالت آپ نے تھرمامیٹر سے معلوم کرنی ھے آپ یون بھی سمجھ سکتے ھین کہ تحریک کے مقام پہ سردی تسکین کے مقام پہ درمیانی حالت اور تحلیل کے مقام پہ گرمی ھوتی ھے اب ان کی چیزون کو ذھن مین رکھ کر آپ نے تحریک تحلیل اور تسکین نوٹ کرنی ھین
ایک بات یہ بھی یاد رکھین صحت کی حالت مین نارمل ٹمپریچر
98-6F یا
37ڈگری سینٹی گریڈ ھوتا ھے
اب چند باتین اور نوٹ کر لین اعصابی تحریک یعنی بلغمی مزاج مین یہ ٹمپریچر کم ھو گا
اب ایک کام آپ خود کر لین مین نے جن جن مقامات کا ٹمپریچر لینے کا ذکر کیا ھے یہی ترتیب نظریہ مفرد اعضاء مین تحاریک کے حساب سے ھے آپ انہین بالترتیب ایک دو تین نمبر دے لین اب مین انہین نمبرون کے حساب سے وضاحت کرون گا آپ بھی یاد رکھنے کی کوشش کرین اب وہ لوگ جہنون نے نظریہ پڑھا ھوا ھے ان کے لئے تو کچھ بھی مشکل نہین ھے صرف نئے اور مبتدی حضرات کے لئے یہ سب کہہ رھا ھون
اب ایک اور بات بھی یاد رکھ لین پچھلی پوسٹ مین بہت سے کمنٹس مین وقت ٹمپریچر کا پوچھا گیا تو وہ کم سے کم ایک منٹ ھوتا ھے اگر زیادہ دیر بھی تھرمامیٹر آپ رکھے رھین گے تو فرق کچھ بھی نہین پڑتا کیونکہ تھرمامیٹر نے تو درجہ حرارت مقام کا وھی بتانا ھے جو اس وقت ھے لہذا سوال غیر عقلی تھا اب ایک اور بات بہت سے لوگون نے نبض کی فی منٹ رفتار دیکھ کر لکھی ھوئی تھی اور پھر پوچھ بھی رھے تھے بتائین اب کیا مزاج ھے یا پھر کچھ لوگون نے آگے مزاج بھی لکھا ھوا تھا اب تشخيص کی فرمائش کررھے تھے یہ سب بات غلط ھے میرا اصول قطعی نہین ھے کہ ایک کی مرض دوسرے کے سامنے یون سرعام رکھی جاۓ اب ایک صاحب نے رفتار نبض لکھ کر تشخيص پہ زور دے رکھا تھا جبکہ مجھے علم تھا کہ موصوف شدید نفسیاتی مریض ھین اب تفصیل بیان کرتا تو عزت نفس مجروح ھوتا اور آخری بات سوالات لکھتے رھے جب مضمون کا ایک حصہ مکمل ھو تب اس پہ سوالات بھی کر لیا کرین انشاء اللہ جوابات لکھون گا اب مضمون کی طرف چلتے ھین
اب آپ کو بتا چکا ھون مقام نمبر ایک پہ ٹمپریچر کم ھو گا یہ بلغمی مزاج والا مقام ھے اب آتے ھین سوداوی مزاج کی طرف
تو اسے آپ عضلاتی تحریک بھی کہتے ھین اس مین تحریک نمبر دو اور نمبر تین کے مقام پہ ٹمپریچر کم ھو گا جبکہ نمبر ایک اور مقام نمبر چھ پہ ٹمپریچر چیک کرین گے تو تحلیل کی گرمی کی وجہ سے ان مقامات پہ ٹمپریچر زیادہ ھو گا اب آتے ھین صفراوی مزاج کی طرف یعنی غدی تحریک کی طرف تو دوستو اس تحریک مین مقام نمبر چار اور مقام نمبر پانچ پر ٹمپریچر کم ھو گا اور مقام نمبر دو اور تین پر تحلیل کی وجہ سے ٹمپریچر زیادہ ھو گا اب دیکھ لین مین نے ھر مزاج کی علیحدہ علیحدہ پہچان کتنی آسانی سے کرنے کی ترتیب آپ کو سمجھا دی ھے ساتھ ساتھ آپ کو شفا کا نقطہ بھی سمجھا دون یا یہ کہہ لین اس ٹمپریچر کو نارمل کرنے کا طریقہ بھی بتاۓ دیتا ھون اب غور سے پڑھین اور سمجھین مسکن عضوکو تحریک دے دین رطوبات یہان سے نکل کر تحلیل والے عضو مین تسکین اور تحلیل والے مقام کی گرمی تحریک والے مقام پر منتقل ھو جاۓ گی اور سکیڑ کو ختم کرکے صحت بحال کردے گی
اب چند چیزون کی اصولی طور پہ آپ کو خود خیال کرنا پڑے گا یعنی مرض کی تشخيص کرتے وقت عمر موسم وقت اور جنس کا خیال رکھنا پڑے گا وھی اصول اور قانون قائدے اپنانے ھونگے جو تشخيص مین طب مین رائج ھین جس طرح کھانے کے بعد حرارت جسم کم اور خالی پیٹ زیادہ ھوتی ھے یہ تجربہ آپ کو روزہ کی حالت مین ضرور ھوتا ھے اور دوسری بات جیسے بخار کی حالت مین پورے جسم مین حرارت زیادہ ھوتی ھے لیکن اس کے باوجود بھی ان مقامات کی جن کی آپ کو نشاندھی کی ھے جس ترتیب سے آگاہ کیاھے اسی ترتیب سے ٹمپریچرکم یازیادہ ھو گا یعنی تحریک کا پھر بھی تعین ضرور ھو جاۓ گااب مثال دے کےآپ کو بتاتا ھون عضلاتی غدی تحریک مین بخار کی حالت مین عضلاتی اعصابی مقام پہ تحلیل سے ٹمپریچر زیادہ ھو گا آپ اسی طرح مسلسل خود چیک کرکے تجربات کرکےاس فن پہ عبور حاصل کرلین گےآپ یون بھی کرسکتے ھین کہ ان تمام تحریکون کے مقامات جس ترتیب سے بتاۓ ھین اب ان کے مقامات مین تھوڑا ردو بدل بھی کر سکتے ھین جیسے دائین طرف والے حصون مین دائین جبڑے کے نیچے دائین بغل مین اور دائین سائیڈ کے چڈے یاگھٹنے کے جوڑ مین کے نیچے ٹانگ موڑ کر بھی ٹمپریچر لے سکتے ھین اس سے مذید آسانی بھی رھے گی
اب ایک اھم سوال ضرور آنا چاھیے تھا لیکن آج تک آپ مین سے کسی نے بھی نہین کیا وہ سوال تھا کہ تحریک تحلیل اورتسکین کیا ھین یادرھے مذکورہ مضمون کی تحقیقات بہت عرصہ پہلے ھو چکی ھین مین نے صرف تجربات سے اس کے درست ھونے اور اپنے تجربہ سے تشریحات کی ھین باقی مضمون آئیندہ

Thursday, July 19, 2018

تشخیص مزاج و تشخیص مرض 4

۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔ تشخیص مزاج و تشخیص مرض ۔۔۔ قسط نمبر 4۔۔۔۔
آج ھمارے موضوع مین تشخیص کے ایسے طریقے شامل ھین جو اس سے پہلے آپ نے آزماۓ نہین ھونگے خیر ایک بات کو مین عرصہ پہلے بھی آپ کو بتا چکا ھون کہ نبض کی رفتار سے مزاج کی پہچان بڑی حد تک درست کی جا سکتی ھے آئیے آج نئے سرے سے لکھتے ھین تو سنین۔۔۔
بلغمی مزاج۔۔۔ اس مین نبض کی ڈھڑکن یا رفتار فی منٹ 65 تک اگر ھو تو سمجھ لین مزاج بلغمی یا اعصابی ھے
سوداوی مزاج ۔۔۔۔ اگر نبض 65 سے اوپر چلی گئی اور 105 کے درمیان یعنی ان لکھے گئے فگر کے درمیان کہین بھی نبض کی رفتار فی منٹ ھے تو مزاج سوداوی ھی ھے
صفراوی مزاج ۔۔۔ اگر نبض 105 سے زیادہ 106 بھی ھو گئی تو مزاج صفراوی ھے
اب بہت سے لوگون کے ذھن مین سوال پیدا ھوا ھو گا بعض اوقات انسان تیز دوڑ کر آتا ھے یا کسی کو شدید ڈر یا خوف یا کسی اچانک ایسے حادثے مین نبض کی رفتار بھی بڑھ جاتی ھے یا دل والی سائیڈ پہ کبھی کبھی ریاح پھنس کر تیز دھڑکن کا سبب بن جاتے ھین اور دل کی رفتار فی منٹ ڈیڑھ سو بھی ھو سکتی ھے تو دوستو یہ سب علامات عارضی یا حادثاتی ھین ان سے ھٹ کر نارمل حالت مین یا عام مرض کی حالت مین مذکورہ لکھی گئی فی منٹ رفتارین نوٹ کرکے مزاج کا صحیح فیصلہ کر سکتے ھین آھستہ آھستہ تجربہ ھو جانے پہ عبور حاصل ھو جاتا ھے اور اب اس تحقیق کی بات کرتے ھین جس کا آپ کو شدت سے انتظار ھے یعنی تھرمامیٹر سے مزاج کی درست پہچان لیکن مین آپ سے پھر بھی یہی کہون گا نبض کی طرف توجہ کرین اور قارورہ کی طرف توجہ کرین ھان کچھ لوگون نے اس پہ بڑے تضحیک والے مضمون بھی لکھے ھین کہ بھئی کہان لوگون کے پیشاب سونگھتے پھرین تو مجھے بچپن مین پڑھی ایک کہانی یاد آتی ھے جس کا عنوان تھا ۔۔۔ دی گریپ آر سوئر۔۔۔ یعنی انگور کھٹے ھین یہ امید ھے کہانی سب نے پڑھ رکھی ھو گی بات کچھ یون ھے کہ جب علم انسان کی سمجھ مین نہ آۓ یا کوئی صحیح طرح سے سمجھا نہ سکتا ھون تا لازم بات ھے اس علم پہ کوئی نہ کوئی الزام لگاکر اسے رد کرنا ھی دل مطمئن ھو سکتا ھے یعنی جب انگور اونچائی پہ تھے حاصل ھو نہین سکتے تھے بس دل کو سمجھانے کے لئے انہین کھٹے کہہ دیا بالکل کچھ علم طب کے نااھل حضرات نے طب کی تضحیک کرکے اسے رد کرنے کی کوشش کرتے ھین اس وقت یہ لوگ دو باتین بھول جاتے ھین ایک روزانہ اپنے قارورہ اور براز سے معطر ھونے والی بات شاید ان کے بول و براز سے کوئی صندلی مہک نکلتی ھو دوسری بات ایلوپیتھک لیب مین دن رات بول براز کے ھی ٹیسٹ کیے جاتے ھین اور بو رنگ تک رپورٹ مین لکھا جاتا ھے تو طب کیون اس طریقہ تشخیص کو چھوڑے اور یہ بات بھی یاد رکھین طب کے پاس وسائل کی کمی کے باوجود سب سے مستند اور آسان طریقہ تشخیص ھے بے شمار ایسے مریضون کی نشاندھی کر سکتا ھون کہ جن کی تشخیص کے بعد جو کچھ لکھ کر دیا وھی کچھ لاکھون روپیہ لگا کر ٹیسٹ کروانے پہ بھی نکلا خیر یہ سب کچھ تو بہت تجربہ ھوجانے کے بعد ھی آتا ھے راتون رات نہین آجاتا یہ بات بھی ذھن مین رھے کہ کبھی کبھی تشخیص مجھ سے بھی غلط ھو جایا کرتی ھے پل پل مین رب کائینات کی قدرت سامنے آتی رھتی ھے خیر موضوع کی طرف چلتے ھین
آپ یہ تو جانتے ھی ھین کائینات مین ھر چیز کی مقدار پیمائش کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی آلہ مقرر ھی ھے مثلا وزن ۔۔لمبائی چوڑائی بلکہ وقت تک پیمانہ جات مقرر ھین لیکن آپ کے پاس پیمائش مرض کے لئے کوئی بھی تو آلہ نہین ھے لین پھر آج آپ کو انتہائی چھوٹے سے ھی آلہ سے مزاج کی درست تشخیص کا طریقہ کار بتلاۓ دیتے ھین اس آلہ کو استعمال کرنے کا احسن طریقہ سمجھاۓ دیتا ھون پہلے آپ نبض اور مریض کی پوری مرض کی ھسٹری سنین اب آپ کو کچھ نہ کچھ یہ اندازہ تو ھو گیا ھو گا کہ کونسا مزاج ھو سکتا ھے تو آپ اس کے مطابق مطلوبہ مقام کا ٹمپریچر لے کر حتمی فیصلہ کر سکتے ھین
جیسے اگر آپ کے پاس ایک مریض آتا ھے اپنی تکلیف بیان کرتا ھے تو آپ کے دل مین یہ بات جاتی ھے کہ ھو سکتا ھے یہ شخص اعصابی عضلاتی مزاج رکھتا ھے تو اسے چیک کرنے کے لئے آپ کہ آیا واقعی یہ شخص بلغمی مزاج ھی رکھتا ھے تو دائین کان اور جبڑے کے ساتھ نرم جگہ پر تھرمامیٹر رکھ کر حرارت نوٹ کرین اسی طرح عضلاتی اعصابی مزاج چیک کرنے کی جگہ دائین بغل مین تھرمامیٹر رکھین اب عضلاتی غدی مزاج کے لئے دائین آخری پسلی سے کولہے کی ھڈی تک کسی بھی نرم جگہ سے ٹمپریچر لین اب غدی عضلاتی مزاج چیک کرنے کےلئے بایان کان اور جبڑے کی ھڈی کے ساتھ نرم جگہ پہ تھرمامیٹر لگائین اسی طرح غدی اعصابی مزاج چیک کرنے کے لئے بائین بغل مین اور اعصابی غدی کے لئے بائین پسلی اور کولہے تک کسی بھی نرم جگہ کا ٹمپریچر لین
اب آپ سوچ رھے ھون گے ٹمپریچر سے اب اندازہ کیسے کرین تو ھم ایک طبی قانون تو سب ھی جانتے ھین کہ ھر تحریک مین سردی کی وجہ سے سکیڑ ۔۔۔ باقی مضمون اگلی قسط مین

Tuesday, July 17, 2018

تشخيص مزاج وتشخیص امراض 3

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تشخيص مزاج وتشخیص امراض۔۔۔۔۔قسط نمبر3۔۔۔۔
کل پوسٹ نہین لکھ سکا تھا آپ بھی انتظار کرتے رھے ھون گے ھوا کچھ یون کہ مجھے کامونکی جانا مجبوری تھا صبح ناشتہ وھین کیا پھر لاھور شہر چھوٹے چھوٹے کام کرتے کرتے دوپہر کا کھانا لکشمی طباق مین سرمد اور مین نے اکھٹے کھایا پھر کھانا ھضم کرنے کے لئے ھم نے شاہ عالمی مارکیٹ کے باھر گاڑیان پارک کین پھر پیدل پوری شاہ عالمی پاپڑ منڈی اور رنگ محل جواھرات کی مارکیٹ تک گھومے پسینہ اور گرمی نے اچھی خاصی خیریت پوچھی خدا خدا کرکے شام کے قریب لاھور سے نکلا کچھ دیر گوجرانوالہ مین ٹھہر کے ھمارے دوست اسفند صاحب کے ھان دعوت مٹن کڑاھی سیخی کباب اور تکہ جات سے پرلطف دعوت اڑائی گیارہ بجے رات گھر پہنچ سکا آپ سوچ رھے ھون گے مین تو خود بیمار تھا پھر اتنا کھانا یقین جانین سب سرمد اور میرے چھوٹے بھائی نے کھایا مین صرف ساتھ تھا اب ویسے بھی صحت مند ھون۔۔گروپ کے سب دوستون نے میرے لئے خلوص دل سے دعائین کین تھین اللہ ﷻ نے صحت عطا فرمائی ویسے بھی صحت کی خرابی مسلسل لمبے سفر رات رات بھر سفر جگ رتے کافی کافی روز نیند کا پورا نہ ھونا صحت کی خرابی کا سبب بنا کل ست انشاء اللہ اس موضوع پہ حسب وعدہ تسلسل سے لکھین گے آج آپ کی دلچسپی کے لئے ناخنون سے کچھ امراض کی تشخيص لکھے دیتا ھون ویسے آپ کو ایک بات بتا دون ھاتھ کی لکیرون مین اعصابی لکیر عضلاتی اور غدی لکیر مزید جو آپ کے لئے سب سے دلچسپ لکیر ھو گی وہ ھے قوت مردانہ یا شہوت کی لکیر اور قوت مدافعت کی لکیر اور مذید دیگر امراض کے متعلق لکیرین ضرور بتاؤن گا لیکن یاد رکھین یہ سب آپ نے معلومات اور علم کے لئے پڑھنی ھین میرا اصل ارادہ پہلے کڑے کو سونگھنا اور نبض کی رفتار سے تشخیص کرنا اور پھر تھرمامیٹر سے ھر مزاج کی پہچان کرنا اور پھر نبض کے کلیات اور نبض سے تشخیص مزاج اور قارورہ سے تشخیص اور آخر مین لکیرون والے علم پہ لکھین گے وہ بھی صرف آپ کی دلچسپی کی وجہ سے ورنہ ایسے علوم کچھ سند نہین رکھتے تو آئیے اب موضوع ﷽زیر بحث لاتے ھین
ناخن سے بہت سی امراض کا پتہ چل سکتا ھے اس طریقہ کو اب ڈاکٹر حضرات بھی استعمال کرتے ھین ایک بات یہ بھی یاد رکھین ناخن صرف ان امراض کا ھی اظہار کرتے ھین جو بیماریان خاندانی وراثت مین ملی ھون جیسے دل پھیپھڑے اور گردون کے امراض۔۔اب ناخنون کو چار حصون مین تقسیم کیا جاتا ھے لمبے ناخن چوڑے ناخن چھوٹے ناخن اور تنگ ناخن
اب ان چارون کی تفصیل کر لیتے ھین پہلے لمبے ناخن
جب بھی کسی شخص کے ھاتھون کے ناخن زیادہ لمبے ھون اس کی صحت بھی زیادہ اچھی نہین ھوتی ایسے لوگ مندرجہ ذیل امراض مین مبتلا ھوتے ھین
لمبے ناخن عموما پھیپھڑوں کے مریضون کے ھوتے ھین
یہ لوگ چہرے پہ چھائیون کے شکار ھوتے ھین
لمبے ناخنون پہ اگر پسیلون کے نشان بھی ھون تو گلے کی بیماریون کے شکار ھوتے ھین
اگر لمبے ناخن نیلے نیلے بھی ھون تو سمجھ لین دوران خون قطعی درست نہین ھے اور مریض جسمانی لحاظ سے کمزور بھی ھوتا ھے
اب آتے ھین چھوٹے ناخن۔۔۔ اگر ناخن چھوٹے ھون اوپر چاند کا نشان بھی ھو یا نہ ھون ایسے شخص کے دل کی حرکت بہت کمزور ھوتی ھے
اگر ناخن چھوٹے بھی اور چوڑے بھی ھون اور سائیڈون سے جلد کے اندر دھنسے ھوۓ ھون تو ایسا مریض اعصابی امراض کا شکار ھے اگر ان ناخنون پہ پسلیون کی ھڈیون والے نشان ھون تو مذکورہ امراض مین شدت ھے
اب لمبے اور تنگ ناخن۔۔۔ناخن لمبے اور تنگ ھون تو دل کے امراض کا شکار ھے
اب چوڑے ناخن۔۔ناخن چوڑے بھی ھون اور درمیان سے ابھرے ھوۓ ھون تو یہ شخص کسی بھی وقت فالج کا شکار ھوسکتا ھے یہ خطرہ اس وقت اور بڑھ جاتا ھے جب آگے سے ناخن بندوق کی گولی کی طرح ھون یعنی آگے سے نوکدار ھون اگر ان پہ چاند کا بھی نشان ھون اور ان کا رنگ سفیدی مائل نیلا ھو تو فالج آچکا ھے اور بیماری پرانی ھو چکی ھے
چاند کے نشان اور ناخن۔
چاند کے نشان ھمیشہ تیز حرکت دل اور تیز دورہ خون کی علامت ھوتے ھین یہ عموما دل پہ بوجھ کی بھی نشاندھی کرتے ھین عموما ایسے لوگ زیادہ تر برین ھیمرج کا شکار ھوتے ھین
اگر چاند کے چھوٹے نشان ھون یہ خون کے سست دورے کی نشاندھی کرتے ھین اور کمزور حرکت قلب کی نشاندھی کرتے ھین یاد رکھین جب انسان مرنے کے قریب ھوتا ھے تو سب سے پہلے یہ چاند کا نشان نیلاھٹ کی شکل اختیار کرتے ھین اگر چاند کے نشان نیلے ھو جائین تو سمجھ لین بندہ کچھ ھی دیر مین مرنے والا ھے پھر بالکل ھی چند سانس باقی رہ گئے ھون تو بندے کے ناخن مکمل نیلے سیاھی مائل ھو جایا کرتے ھین آخری بات ناخنون پہ بے شمار ایسی تحقیقات لکھی جا چکی ھین جن مین کچھ صداقت ھے وہ مین نے آپ کو لکھ دین باقی مضمون آئیندہ قسط مین اللہ حافظ

Sunday, July 15, 2018

تشخیص مزاج وتشخیص امراض 1

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔ تشخیص مزاج وتشخیص امراض ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قسط1۔۔
آج میرے عزیز دوست میان احسن صاحب میرے پاس عیادت و خیریت ومزاج پرسی اور ھلکی پھلکی طبی گفتگو مین ان سے وعدہ کیا تھا کہ علم طب کے ان تاریک خانون سے بھی روشناس ضرور کرائین گے جن کا علم عام طبیب کو نہ ھو سکا اور ایسے رازون سے بھی پردہ اٹھائین گے جو ابھی تک اچھے اچھے طبیبون تک نہین پہنچ سکا ابتداء مین کچھ ماضی بعید اور کچھ ماضی قریب کی ایسی تحقیقات پہ روشنی ڈالتے ھین جو صرف نظریات تک ھی محدود رھی اور کچھ پہ بحث مباحثہ بھی چلتا رھا ۔۔۔۔ علوم کی اسراری شاخون مین مشہور ترین شاخین علم نجوم علم رمل علم الاعداد علم جعفر علم الاید یا پامسٹری چہرہ شناسی ان سب علوم کے ماھرین نے اپنی اپنی جگہ طب کے موضوع پہ بھی کچھ نہ کچھ سر دھنا ھے
مضمون کی تفصیل لکھنے سے پہلے مین چند دوستون کو جو راتون رات امیر ھونے کے خواب دیکھنے کے قائل ھین یا جن کا منشور یہ ھے کہ فورا اصل بات کا علم ھو جاۓ باقی چھوڑین ایسے تمام دوست میری کتاب تشخیص بذریعہ نبض پڑھین اور اپنا کام چلائیں اس کی پی ڈی ایف فائل نیٹ پہ موجود ھے اللہ اللہ تے خیر صلا ۔۔۔۔ مین نے مضمون بہت آرام سے اور مکمل احاطہ کرتے ھوۓ لکھنا ھے جو کافی قسطون مین آۓ گا صبر سے پڑھین گے تو وہ کچھ حاصل کر لین گے جس کا آپ نے تصور بھی نہین کیا ھو گا اس مضمون کو لکھنے کے لئے آزاد بھٹو صاحب عرصہ سے کہہ رھے تھے آج بھی آزاد بھٹو صاحب نے فون پہ یہی مطالبہ دھرایا پھر میان احسن صاحب نے بھی زوردیا تو ناسازی طبع کے باوجود قلم کا نشتر تیز کیا خیر اپنے موضوع کی طرف چلتے ھین مین بات اسراری علوم کی کررھا تھا ان سب علوم کی مستند کتابین اٹھا کردیکھ لین یا پھر گروپ مین کوئی دوست ان مین سے کسی بھی علم پہ عبور رکھتا ھو تو وہ میری بات کی تصدیق کردے گا بس مین مختصراً ھی آپ کو ان علوم مین طب کی تشریحات بتاؤن گا سب سے پہلے بات کرتے ھین علم نجوم پہ
علم نجوم یا علم فلکیات ستارون کی رفتار ان کی ایک دوسرے پہ نظرات جن مین نظر تثلیث نظر تسدیس اور نظر تنصیف کا عمل دخل رفتار کے درجات ثانیہ ثالثہ دقیقہ تک حساب پھر ستارہ کس گھر مین کس وقت ھے یعنی زائچہ کے بارہ گھر ھوتے ھین جو پیدائش سے شروع ھوتے ھین اب ان مین بیت سفر بیت الزوج بیت الموت تک سب کچھ ھوتا ھے اس مین تشخیص یہان تک ھے کہ ایک شخص کی پیدائش سے شروع ھوتے ھین اسے کیا کیا مرض آۓ گی اور کب کس تاریخ کس وقت یہ بیمار ھوگا اور موت کب کس سال کس دن کس وقت آئے گی اب بعض لوگون کے بارے مین علم نجوم بالکل درست تشخیص کردیتا ھے اس مین بھی اس شخص کی درست تاریخ پیدائش وقت پیدائش تک معلوم ھو البیرونی بیماری آنے پہ دوا تک علم نجوم سے تجویز کرتا تھا میری اس سب بحث سے مراد یہ ھے کہ ایک حکیم بننے کے لئے پھر ضروری ھے کہ آدمی کم سے کم البیرونی کے پاۓ کا پھر علم نجوم بھی ساتھ پڑھے جوکہ اس دور مین ناممکن ھے ھان ماضی قریب مین جب کوئی شخص عالم بننے کے لئےدرس نظامی پڑھتا تھا تو اس وقت تک اسے مکمل عالم نہین سمجھا جاتا تھا جب وہ دینی تعلیم دورہ حدیث اور دورہ قرآن کرنے کے علاوہ چند علوم نہین ہڑھتا تھا جس مین منطق بیست باب اورعلم طب پڑھاۓ جاتے تھے بیات باب مین اسطرلاب جو ایک گولے کی شکل مین ھوتا ھے زمین اور سورج اور دیگر ستارون کے درمیانی فاصلے ماپنے مین بھی مستعمل ھے اب اس مین کافی حد تک علم نجوم ضرور پڑھایا جاتا تھا علم رمل بھی ھندوؤآنہ فن پیش گوئی ھے جس مین پتریان پھینک کر مرض مصیبت اور ان کا حل بتایا جاتا ھے علم اعداد مین تو لمبے چوڑے باب ھین کیسے ایک شخص کے اعداد کس مرض اور یہ شخص کس مزاج سے تعلق رکھتا ھے کس طبیعت کا مالک ھے سب بتاتے ھین اس مین نو مزاجون کا ذکر ھے کونسا عدد کس پہ کب غالب ھے کب مغلوب ھے ابجد سے مدد لی جاتی ھے علم جعفر مین بھی ابجد سے ھی مدد لی جاتی ھے اب سب سے زیادہ تشریح طب کے موضوع پہ علم جعفر نے ھی کی ھے اس مین جدول بناۓ جاتے ھین جن کے مستحصلہ اور پھر ان کے استخراج کیے جاتے ھین یاد رکھین آپ نے ابجد کا صرف ایک قانون پڑھا ھوگا جو اس طرح ھے ابجد ھوز حطی کلمن سعفص قرشت ثخذ ضظغ لیکن علم جعفر مین 28اقسام کی ابجد سے کام لیا جاتا ھے جیسے حروف تہجی کی تعداد بھی 28 ھے اسی طرح ابجد کے قائدے بھی اٹھائیس ھی ھین مزے کی بات تشخیص مزاج تشخیص مرض اور تجویز دوا تک علم جعفر مین ھے مین یہ سب کچھ اس لئے لکھ رھا ھون تاکہ آپ آپکو علم ھو سکے کہ علم طب مین تشخیص مرض اور مزاج اور دواتک کے دیگر زرائع بھی ھین لیکن یہ سب ناقص التشریحات ھین آپ یقین سے اور درست تجویز ان سے پھر بھی نہین کرسکتے میرا موڈ تو نہین تھا یہ سب کچھ لکھنے کا کیونکہ جس کا آپ کو فائدہ نہین تو صرف آپ کااور اپنا ٹائم ھی ضائع کرناتھا اس کاآپ کو اتنا ھی فائدہ ھو گا باقی آئیندہ

تشخیص مزاج اور تشخیص امراض 2

۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔تشخیص مزاج اور تشخیص امراض ۔۔۔قسط2۔۔
اس کا آپ کو اتنا ھی فائدہ ھو گا غلط افواھون سے بچ سکین گے غلط تشریحات سے بچ سکین گے پچھلی پوسٹ مین کچھ لوگون نے کمنٹس دیے کہ یقین نہین ھونا چاھیے تو میرے بھائی اسی سردردی مین تو لگا ھون کہ سمجھ ضرور لین لیکن یقین نہ کرین ھمارا موضوع تشخیص مرض اور تشخیص مزاج ھے مین نے اب سب سے پہلے سرسری ذکر علم نجوم پہ کیا تو اس لئے کیا کہ علم نجوم مین زائچہ بنایا جاتا ھے تو اس کے بارہ گھر ھوتے ھین یا بارہ خانے ھوتے ھین اب ترتیب سے سب گھرون کے نام لکھے دیتا ھون ۔۔۔ بیت الطالع۔۔۔بیت المال ۔۔۔بیت الاقربا۔۔بیت الارض ۔۔بیت اولاد والعشق۔۔۔بیت الامرض ۔۔ بیت الزوج ۔۔۔بیت الخوف ۔۔۔بیت السفر ۔۔ بیت العزت ۔۔۔ بیت الامید ۔۔۔بیت الاعداء
اب دیکھ لین چھٹا گھر بیت الامرض کا ھے اس گھر مین مرض مزاج اورعلاج آتا ھے اسی طرح نجوم مین عمل دخل بروج اور ستارون کا ھے تو یاد رکھین نجوم مین بروج کے چار ھی مزاج ھین اب ھلکی سی یاداشت اس پہ بھی لکھے دیتا ھون
آتشی بروج۔۔۔حمل ۔۔اسد قوس۔۔مزاج گرم خشک یعنی صفراوی طبع آتشی ھے ان کا تعلق خونی امراض سے ھے
خاکی بروج۔۔۔ثور۔۔سنبلہ ۔۔جدی ۔۔مزاج سرد خشک یعنی سوداوی ھے طبع خاکی ھے پرانی اور دیرینہ امراض سے تعلق ھوتا ھے
بادی بروج۔۔جوزا۔۔۔میزان ۔۔۔دلو ۔۔۔مزاج گرم تر مزاج دموی طبع بادی ان کا تعلق پھیپھڑوں اور دل کے امراض سے ھے
آبی بروج ۔۔ سرطان ۔۔۔عقرب ۔۔حوت۔۔مزاج بلغمی سردتر طبع آبی ھوتی ھے پیشاب اور زکام اور رطوبتی امراض سے متعلق ھین
بس میری بحث کا تعلق صرف ان باتون سے ھے باقی علم نجوم کی پیش گوئی درست ھے یا غلط یہ ھمارا موضوع نہین ھے براہ کرم کمنٹس صرف متعلقہ موضوع پہ ھونگے تو بات درست ھو گی اس کے علاوہ باقی کمنٹس ڈلیٹ کردیے جائین گے جواب تو بہت دور کی بات ھے دوسری بات غلطی مجھ سے بھی ھو سکتی ھے مین بھی آپ جیسا ان پڑھ سا بندہ ھون میرا کونسا دعوہ ھے کہ عالم بےبدل ھون مجھے بھی طالب علم سمجھا کرین بھئی سچ تو یہ ھے اللہ کی کائینات مین میرے جیسون سے ھزارون سینئر بزرگ موجود ھین جن کے سامنے اپنی حیثیت طفل مکتب جیسی ھے خیر بات موضوع کی طرف موڑتے ھین جیسا کہ مین پہلے لکھ چکا ھون اسی طرح علم الاعداد مین بھی ھندسون کا مزاج اور تقسیم موجود ھے جس کی کچھ تشریح پچھلی پوسٹ مین کر چکا ھون اسی طرح پامسٹری مین بھی ھاتھ کی لیکرون سے اندازے لگاۓ جاتے ھین اب پامسٹری مین ایک نام بہت بڑا اور مشہور بھی ھے وہ ھے۔ کیرو۔اس شخص نے اس فن مین عمدہ تشریحات کی ھین لیکن سب سے زیادہ ھاتھ کی لکیرون سے تشخیص مزاج و مرض پہ ھندی طب آیورویدک نے کیا باقائدہ تشخیص بذریعہ ھاتھ کی لکیرون سے مکمل کتابین تک لکھی لیکن یہ بھی طریقہ ناکام رھااس سسٹم مین بہت کچھ عمل دخل بدھ مذھب کابھی رھا ھے اب یہ طریقہ بھی غلط اور نامکمل تھا اب کسی کے دونون ھاتھ ھی نہ ھون تو وہ تو گیاکام سے ۔۔۔ اب اسی طرح باقی طریقہ تشخیص جن کا ذکر ھو چکا ھے ان مین ابہام اور غلطیان بے شمار ھین جیسے کسی کی درست تاریخ پیدائش میسر نہین ھے تو صحیح تشخيص ممکن نہین ھے اب ایک گونگا کیسے اپنا نام بتاۓ یاتاریخ پیدائش بتاۓ یعنی ابہامات بہت زیادہ ھین اب ان سب مین معتبر طریقہ چہرہ شناسی ھے جس پہ طب نے باقائدہ دلائل سے زور بھی دیا ھے چہرہ دیکھ کر بے شمار طبیب بلکہ ھر بڑاطبیب کسی نہ کسی حد تک مرض کی تہہ تک پہنچ جاتاھے اب بعض بعض امراض مین تو اتنا تجربہ ھوجایا کرتا ھے کہ حکماءفتوہ تک لگا دیتے ھین اب ھمارے سید ادریس گیلانی صاحب اس فن مین بہت طاق ھین ان سے بھی درخواست کرون گاکہ وہ اس فن کی کچھ تشریحات کرین ھاتھ کی انگلیان اور پورے دیکھ کر بہت کچھ بتایا جا سکتا ھے لیکن اگر یہ کہاجاۓ کہ سرسے لے کر پاؤن تک ھر مرض کی تشخیص ممکن ھے تو قطعی نہین بلکہ چیدہ چیدہ امراض پہ ممکن ھے اب اس فن پہ سب طریقہ علاج یعنی ایلوپیتھک ھیوموپیتھی آیورویدک طب یونانی سب اس طریقہ تشخيص کو کچھ نہ کچھ استعمال ضرور کرتے ھین
لیکن یاد رکھین دو فن تشخیص براۓ مزاج و مرض جن کا وزن سب سے بھاری ھے جن کاآج تک کوئی مقابلہ نہ ھو سکا وہ ھے بذریعہ نبض اور بذریعہ قارورہ
لیکن اس کے باوجود تحقیق رکی نہین ھے نئی سے نئی تحقیقات حکماء کرام سامنے لاتے رھے جن مین کپڑاسونگھ کر مرض کابتانا بھی شامل ھے یہ طریقہ تشخیص بہت سے لوگون کے لئے بہت حیران کن ھو گا لیکن انشاء اللہ اگلی پوسٹ مین اس کی وضاحت مختصر تشریح سے کردونگا یہ کوئی مشکل یا پراسرار طریقہ نہین ھے بلکہ بہت سادہ سا سسٹم ھے باقی میرے پاس جو اب سے نیا طریقہ تشخيص مرض و مزاج ھے وہ ھے جسم کے مختلف حصون کاٹمپریچرلے کر تشخيص کرنا یا پھر ایک دوسرا طریقہ بھی ھے جس کے بارے مین عرصہ پہلے ایک پوسٹ بھی لکھ چکا ھون وہ ھے نبض کی رفتارسے مزاج کی پہچان باقی آئیندہ

Friday, July 13, 2018

انتشار کا ختم نہ ھونا ایک خوفناک مرض

۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔ انتشار کا ختم نہ ھونا ایک خوفناک مرض۔۔۔۔
غالبا تین یا چار روز ھوۓ ھمارے ایک گروپ ممبر نے فون پہ اپنی الم ناک داستان سنائی ان کی بات سن کے میرے دماغ کو حقیقی معنون مین شاک لگا طبیعت شدید بوجھل ھوئی
ھمارے گروپ ممبر ھین ان کا نام بھی نہین لکھا جا سکتا انتہائی شریف انسان ھین آپ کی عبرت کے لئے ان کی مرض آپ کو بتارھا ھون اب بات غور سے سنین مریض شادی شدہ اور ایک بچے کے باپ بھی ھین شادی کو تین چار گزرے ان کو معمولی سی ڈیپریشن کی شکایت ھوئی حالات وواقعات کے مطابق مسلسل تعلیمی مغز ماری یا کسی اھم ذمہ دار پوسٹ پہ فریضہ سرانجام دینے والے لوگ بہت ھی کم بچا کرتے ھین ڈیپریشن سے اب ان صاحب سے بھی کچھ معاملہ ایسا ھی تھا اب ان کا حقیقی علاج تو مقام کی تبدیلی کسی پرفضا مقام پہ چند روز آرام تھا لیکن قلت وقت کے باعث یا کسی دیگر مصروفیت کے باعث ایسا نہ کرسکے بلکہ سیدھا سیدھا ڈاکٹر سے جا ملاقات کی اور اب ڈاکٹر صاحب نے بھی بجائے مخلصانہ مشورہ دینے کے دوائیں تجویز کردین اب انہین یہ علم نہین تھا کہ ڈاکٹر نے کیا دوا لکھی ھے بس دوا کی پہلی خوراک کھانے کے بعد انہین انتشار شروع ھو گیا پہلے تو انہون نے صبر اور حوصلہ کیا لیکن جب انتشار نے ٹوٹنے کا نام نہ لیا تو موصوف نے پھر ڈاکٹرون سے رابطہ کیا بے شمار علاج معالجہ کے باوجود انتشار نہ ٹوٹا اسی طرح چالیس گھنٹے گزر گئے اب ڈاکٹر نے اپریشن کا فیصلہ کیا اور عضو تناسل کی طرف آنے والی خون کی نالیان جن مین خون کا دورہ تیز ھونے سے انتشار ھوا کرتا ھے ان نالیون کو کاٹ کر ٹانکے لگا دیے تب انتشار ختم ھوا اس اپریشن سے ان کی دنیا تاریک ھو گئی کیونکہ اب ان کو انتشار تو آسکتا ھی نہین اب انہون نے مجھ سے رابطہ کرکے مشورہ لیا تو مین صاف کہا دواؤن سے اب انتشار نہین آسکتا جب تک خون کی روانی بحال نہ ھو اس لئے دوبارہ سرجری کا مشورہ دیا جس مین مصنوعی نالیان ڈالکر گزارے لائق دوران خون بحال کیا جا سکتا ھے لیکن عرصہ بیس سال بعد دوبارہ نئے سرے سے نالیان لگوانی پڑتی ھین اس اپریشن پہ کم سے کم پانچ تاسات لاکھ خرچہ آتا ھے اللہ تعالی ان کو صحت عطا فرمائے
اب بات کرتے ھین کہ یہ مرض ھے کیا؟؟؟
اس مرض کو میرے دوستو ۔۔۔۔فریموس۔۔۔۔۔ کہتے ھین اس مرض مین بغیر شہوت کے بھی عضوتناسل ھر وقت ایستادہ ھی رھتا ھے بے شک انزال ھو جاۓ اس کے باوجود انتشار نہین ٹوٹتا بلکہ اس مین تمدد اور کھچاؤ برقرار رھتا ھے لازم بات ھے اس حالت مین انسان کو نہ تو چھوٹا پیشاب کرسکتا ھے بلکہ مقام انتشار پہ درد ھونا شروع ھو جاتا ھے اب اس حالت مرض کی تین کیفیتین ھین جن کو علیحدہ علیحدہ لکھتا ھون
پہلی صورت مین یہ ھو سکتا ھے کہ ریاح بہت زیادہ اکھٹے ھوکر عضوتناسل کے جوف مین خاصی مقدار مین اکھٹے ھو جائین جس سے عضوتناسل کی رگین پھولی رھین اور مسلسل ایستادگی بحال رکھتی ھین اس کا علاج ریاح کا اخراج ھے
دوسرا سبب۔۔۔ کثرت خون اور حرارت سے مسلسل حالت انتشار رہ سکتی ھے اس کا علاج دوران خون کے بہاؤ کو کم کرنا اور حدت کو کم کرنے سے مرض ٹھیک ھوا کرتی ھے مسہل نمبر پانچ دین ساتھ مدر ادویات کا سہارہ لین املی آلوبخارہ کا جوشاندہ بھی مفید رھتا ھے
اب تیسری حالت مین یہ ھوتا ھے منی کی پیدائش بہت زیادہ بڑھ جاۓ اور مسلسل انتشار آکر طبیعت مدبرہ اس کے اخراج پہ راضی رھے افسوس یہ کیفیت ھمارے آب وھوا مین بہت ھی مشکل ھے کبھی یہ علامت تھی اب نہین ھے بہرحال اس کا علاج سودا کا پیدا کرنا ھے یاد رکھین یہ آخری والی مرض کی علامات مرض عاقونہ سے بالکل مشابہہ ھوتی ھین لیکن مرض عاقونا مین خصتین پہ اور عضوتناسل تک آنے والی نالیون پہ ورم ھوا کرتا ھے تمام قدیم حکماء نے جب بھی کوئی ایسا ممسک نسخہ جو امساک کو انتہائی طویل کرتا ھو اس کے ساتھ نسخہ کی سند کے لئے یا نسخہ کا رعب بڑھانے کے لئے ھمیشہ ساتھ توڑ بھی لکھے ھین کہ اگر انتشار نہ ھی ٹوٹ رھا ھو تو آپ اچار کھائین یا نمک چاٹین یا لیمن کھائین اب اچار اور لیمن والی تو ایک ھی بات تھی یعنی کھٹائی کا استعمال اور آپ جانتے ھی ھین اس سے سودا پیدا ھوا کرتی ھے یہ اس حالت مین زیادہ فائدہ مند تھا جب منی کی مقدار بھی بہت زیادہ ھو اور گاڑھی سویان بن کر نکلتی ھو ایمانداری کی بات ھے یہ کیفیت آج سے سوسال پہلے یا کم سے کم ستر سال پہلے تک بالکل تھی اس کی وجہ تھی اس دور مین غذا بالکل خالص اور سادہ تھی لوگ جو بھی غذا کھاتے تھے اس سے صالح الکیموس ھی بنتا تھا اس زمانہ مین اگر غذا صالح الکیموس بھی کھائی جاۓ تو اندر جاکر قوام ردی الکیموس ھی بنتا ھے پھر کہان وہ منی کی پیدائش اور کہان وہ طاقت سب کچھ غلط ھو چکا مین گھر سے نکلون اور لاھور تک جاؤن تو کم سے کم ایک وقت کا کھانا ساتھ لے جاتا ھون اور ھر ممکن وھان کے کھانون سے بچتا ھون اگر زیادہ دن ٹھہرنا پڑ جاۓ تو مکمل انتظام کے ساتھ جاتا ھون باقی پریشانی نہین ھوتی وھان گھر اپنا ھے پورے لاھور مین خالص دودھ کی چاۓ ملنی ممکن نہین ھے کالے خان کی چاۓ لاھور مین بہت مشہور ھے مین نے بھی وھان ایک گھونٹ چاۓ پی ھے بس مزا آگیا کیا بتاؤن خیر اپنے موضوع پہ آتے ھین آپ سوچ رھے ھون گے نمک سے کیسے انتشار ختم کیا جا سکتا ھے تو دوستو نمک کے زیادہ مقدار مین کھانے سے دوران خون قلب مین دورہ زیادہ کردیتا ھے جس کی وجہ سے عضوتناسل کی نالیون مین خون کا دباؤ کم ھو کر انتشار ٹوٹ جاتا ھے خیر اس مرض فریموس کا علاج علامات اور مزاج کے مطابق کرین اگر ریاح غلیظہ ھین تو ھینگ ماشہ واؤوڑنگ تین ماشہ نمک سنگ تین ماشہ زیرہ سفید چار ماشہ سنڈھ پانچ ماشہ کالی مرچ دو ماشہ مگھان ماشہ قسط 8ماشہ زردچوب ٩ماشہ چترک 10ماشہ اجمود 11ماشہ قند سیاہ تولہ پیس کرسفوف بنا لین تین ماشہ تک کھائین امید ھے آپ مرض اور اس کا علاج سمجھ گئے ھونگے بس اتنا ھی کافی ھے
ایک اھم بات۔۔ میری کوشش ھوتی ھے کہ آسان سے آسان الفاظ اور عام فہم انداز مین لکھون تاکہ سب سمجھ لین دراصل طب کی جو اصل زبان ھے اس کو سمجھنا ھرایک کے بس کی بات نہین ھے اور یہ بات بھی یاد رکھا کرین کہ مضمون کی شکل مین پوسٹ ھمیشہ اطبا کے لئے ھوتی ھے بعض دفعہ اصطلاحات استعمال کرنی پڑتی ھین جس کے ایک لفظ مین بہت لمبی تشریح ھوا کرتی ھے جیسے مین نے آج کی پوسٹ مین دو لفظ صالح الکیموس اور ردّی الکیموس لکھے ھین انہین اطبا اچھی طرح سمجھتے ھین ایسے الفاط کا مفہوم طب پڑھے بغیر سمجھنا بہت ھی مشکل ھوتا ھے اس لئے عام قاری ایسے سوالات کمنٹس مین نہ کیا کرین جن کا مفہوم آپ کو سمجھانا ممکن نہین یا بندہ ایک ماہ مین سمجھاسکے کل کسی نے مجھ سے انباکس پوچھ رکھا تھا کہ یہ کچلہ مدبر کیا چیز ھوتا ھے اب اس سوال کے جواب کے لئے پہلے تو اسے مدبر کا مفہوم سمجھاؤن پھر کچلہ بتاؤن خود اندازہ کر لین یہ دوچار گھنٹہ کاکام ھے
دوسری بات اکثر یہ دیکھا ھے گروپ مین پوسٹ پہلے سے میری لکھی ھوتی ھے لوگ باربار پھر اسی مرض کا سوال کررھے ھوتے ھین براہ کرم جو بھی نیا قاری گروپ مین آۓ مجھ سے سوال کرنے سے پہلے میری پوسٹین گروپ مین سرچ کر لیا کرین مزید کسی بھی پوسٹ کا آپ کو اگر لنک چاھیے ھوتا ھے تو سرمد وقاص صاحب سے کہا کرین وہ انشاء اللہ آپ کو لنک ضرور دین گے باقی انباکس نسخہ جات پوچھنے کے بجائے گروپ مین پڑھا کرین میرا اصول ھے مین کبھی بھی فیک نسخے نہین لکھتا یہ آپ سے وعدہ ھے مخلوق خدا کی خدمت کرنی ھے اللہ گواہ ھے وہ دیکھ رھا ھے مین اپنی طرف سے ھردوا درست لکھتا ھون اس مین غلطی کا شائبہ تک نہین ھوتا شفا تو میرے اللہ نے دینی ھے انشاء اللہ جو بھی شخص میری لکھی دوا بناۓ گا رزلٹ ضرور ملے گا اور میری کوشش ھوتی ھے سادہ اور آسان دوائیں لکھون تاکہ ھر کوئی خود سے بنا لے مشکل مین نہ پڑے پھر بھی بات کی سمجھ نہ آۓ تو کوشش کیا کرین اپنے کسی بھی قریبی اچھے طبیب سے رابطہ کرکے پوچھ لین اگر کوئی چارہ نہ ھو تو مین بتاؤن گا یا گروپ مین ھمارا کوئی بھی طبیب آپ کی راھنمائی ضرور کرے گا اپنے سوالات پوسٹ کی شکل مین پوچھا کرین کمنٹس مین نہ پوچھا کرین آپکا انتہائی شکریہ جو آپ نے مجھے اتنی دیر پڑھا جزاک اللہ ۔۔۔۔ اللہ تعالی آپ پہ اپنی رحمتین نازل کرے ۔۔۔ آپ بہت ھی اچھے ھین۔۔میرے لئے بھی دعا کےلئے ھاتھ اٹھا دین

Thursday, July 12, 2018

ھنگو اشٹک چورن

۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔ھنگو اشٹک چورن ۔۔۔۔۔۔۔
سنڈھ ۔۔مرچ سیاہ ۔۔۔۔فلفل دراز۔۔۔اجوائن ۔۔۔ سیندھیا نمک ۔۔۔زیرہ سفید۔۔زیرہ سیاہ ۔۔ھینگ بریان۔۔۔ برابر وزن پیس کر سفوف بنا لین بعض حکماء اس مین باقی ادویات تولہ کے حساب سے اور ھینگ ڈیڑھ ماشہ بریان شدہ شامل کرتے ھین لیکن حقیقت مین ھینگ کی پوری مقدار ھی شامل کرنی چاھیے
یہ نسخہ اس لئے آپ کو لکھا ھے کہ یہ دوا ھر وید دواخانہ کی لازمی زینت ھوا کرتا ھے اور دید کی مشہور کتابین جن مین چکردت۔۔بھاوپرکاش ۔بھیشج رتناولی یوگ رتناکر اور یوگ چنٹا منٹری مین ان سب مین بہت ھی تعریف سے لکھا ھے
مقدار خوراک ماشہ تا تین ماشہ ھمراہ گرم پانی یا عرق سونف دین اب ان کتابون مین اسے کھانے کا نرالہ انداز لکھا ھے کھانا شروع کرتے ھی اس دوا کو گھی مین ملا کر پہلے لقمہ مین لپیٹ کر کھانے سے ھاضمہ بہت ھی تیز ھوتا ھے خیر آپ سادہ طریقہ سے ھی کھائین
فوائد ۔۔بدھضمی ۔پیٹ درد۔۔ نفرت طعام ۔اپھارہ ۔۔پیٹ مین گڑگڑ کی آوازین آنا ۔ رقیق دستون کا آنا۔۔درد ریح ۔۔ قولنج ۔ باؤگولہ ۔ نفخ شکم
یاد رکھین جن مریضون کو کھانا کھاتے ھی پاخانہ کی حاجت ھو جایا کرتی ھے وہ واقعی اسے چند روز گائے کے گھی مین چرب کرکے استعمال کرین مرض درست ھو جاۓ گی
ذاتی تجربہ کی بنا پرآپ کو بتارھا ھون کہ پیٹ درد مین فورا ھی فائدہ دیتا ھے
اب ایک راز بھی بتائے دیتا ھون بعض دواخانون نے اس مین دو چیزون کا اضافہ کرکے اس دوا کو مذید تیز تر کردیا تھا اور بہت ھی پیسہ کمایا ھے اب اس بات کو بہت ھی راز مین رکھا گیا ھے آپ اس راز سے بھی فائدہ اٹھا لین یہ دو دوائیں ھلیلہ زنگی اور سجی کھار تھین کچھ نے سجی کھار کی جگہ سوڈابائی کارب ملا کر وھی فائدہ لے رھے ھین اب ایک اور تجربہ بھی بتا رھا ھون کہ اگر مذکورہ دوا کی ایک خوراک مین رتی تا دورتی چھلکا جڑ مدار کا بھی پیس کر شامل کرین گے اور بے شک کیپسول بنا لین یا گولیون کی شکل دے لین پھر آپ بے شک ایلوپیتھک پیٹ درد کی ھر دوا جب کام نہ کر سکے یعنی پیٹ درد نہ روک سکے تو پھر اس دوا کو استعمال کرین منٹون مین پیٹ درد رفع ھو گا
اسے کہتے ھین تحقیق کرنا ۔۔۔۔ مداری کرنے کو تحقیق نہین کہتے