Monday, October 15, 2018

خارش بدن

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔خارش بدن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مختصر موثر دوا
سیماب صاف شدہ تولہ گندھک آملہ سار سات تولہ کی کجلی بنا لین پھر تخم بکائن دس تولہ کا سفوف بنا کر اس مین کھرل کر لین کم سے کم دو گھنٹے کھرل کرین اور حب نخودی بنا لین دن مین دو تا تین گولی تک ھمراہ پانی دے سکتے ھین اور دن مین تین بار دے سکتے ھین
مزاجا غدی عضلاتی یعنی گرم خشک دوا ھے
خارش تر وخشک دونون مین موثر ھے پہلے روز ھی انشاءاللہ آرام آنا شروع ھو جاتا ھے پاؤن کی انگلیون کے درمیانی حصہ مین ھونے والی خارش اور بدبو پاؤن کو بھی درست کرتی ھے
ھان یہ بھی یاد رھے بواسیر خونی اور بادی دونون مین بہت مفید ھے

Saturday, October 13, 2018

تشخيص امراض وعلامات 46

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔ تشخيص امراض وعلامات ۔۔۔۔۔۔قسط نمبر 46۔۔۔
آج ھم بات کرین گے مرکب نبضون پہ
آج ھم بات وھی کرین گے جو سب جانتے بھی ھین بلکہ کتابون مین پڑھ چکے ھونگے اسی کو آسان الفاظ مین لکھین گے پھر اسی کی تشریح کرین اس کے بعد اپنی تحقیقات لکھین گے
آئیے پہلے بات کرتے ھین عضلاتی اعصابی نبض کی
عضلاتی اعصابی نبض۔۔۔اگر کسی مریض کی نبض بالکل اوپر ھو رفتار مین تیز نہ ھو اور حجم مین پتلی نہ ھو بلکہ ھوا سے پھولی ھوئی ھو اور چار انگلی کے نیچے محسوس ھوتی ھو وہ نبض عضلاتی اعصابی ھو گی
عضلاتی غدی نبض ۔۔۔اگر یہی نبض چار انگلی سے زیادہ ھو اور بالکل اوپر ھو اور رفتار مین تیز ھو اور حجم مین قدرے کم ھو اور نبض سخت بھی لگے ایسی نبض عضلاتی غدی ھوگی
اب آپ دونون عضلاتی نبضون کا فرق سمجھ لین بڑی ھی آسان سی بات ھے چند نقاط پہ نظر رکھین
١۔ لمبائی پہ غور کرکے فرق محسوس کرین
٢۔رفتار پہ غور کرین
٣۔موٹائی پہ غور کرین
٤۔سختی اور نرمی پہ غور کرین
ان نقاط پہ غور کرکے آپ عضلاتی نبض کی دونون اقسام کا فرق سمجھ سکتے ھین
اب غدی نبضون پہ آجاتے ھین
غدی عضلاتی۔۔یہ نبض تھوڑی سی گہرائی مین تین انگلی تک معلوم ھو گی اور حجم مین تھوڑی سی موٹی البتہ رفتار مین سست ھو ایسی نبض غدی عضلاتی ھوتی ھے
غدی اعصابی۔۔یی نبض تین انگلی تک ھوتی ھے اور حجم مین پتلی ھو چکی ھوتی ھے اور رفتار مین سست ھو چکی ھوتی ھے تو ایسی نبض غدی اعصابی ھو گی
اب غدی نبض کی تفصیل پڑھتے ھوۓ بعض حاضر دماغ دوستون کو جھٹکا لگا ھو گا کہ یہ مین کیا لکھ رھا ھون رفتار مین بہت سست والی بات۔۔۔۔بھئی دوستو شروع پوسٹ مین مین نے لکھا ھے جو کچھ کتابون مین لکھا ھے وہ آسان زبان مین لکھون گا اب کتابون مین یہی کچھ لکھا ھے لیکن لکھنے والے حضرات تشریح کو صحیح انداز مین کسی طرح بھی نہین کر سکے خواہ الفاظ کے ذخیرے کی کمی تھی یا سمجھانے کا انداز نہین آتا تھا کل ایک دوست نے کمنٹس مین بھی اس سے ملتا جلتا سوال کررکھا تھا اس وقت مین درست سمجھ نہین سکا تھا اب اس سوال کی بابت بھی سمجھ گیا ھون اب دوستو غدی نبض سست نہین ھوا کرتی بلکہ رفتار مین تیز ھوا کرتی ھے حقیقت یہ ھوتی ھے کہ اس کے زمانہ حرکت مین کمی واقع ھو چکی ھوتی ھے جس کی وجہ سے نباض کو یہ احساس ھوتا ھے کہ نبض سست ھے بحث آگے چل کر کرین گے
اب اعصابی نبضین
اعصابی غدی۔۔جب نبض بہت گہرائی مین جا چکی ھو حجم مین موٹی پھولی ھوئی ھو اور نرم محسوس ھو دو انگلی کے نیچے بمشکل محسوس ھو ایسی نبض اعصابی غدی کہلاۓ گی
اعصابی عضلاتی۔۔اگر نبض گہرائی مین ھونے کے باوجود تین انگلی تک محسوس ھو نبض پھولی ھوئی اور اعصابی غدی کی نسبت ذرا رفتار مین تیز محسوس ھو اعصابی عضلاتی نبض کہلاتی ھے
اب نبض کی بھی کتابی تشریح مجھے امید ھے آپ کے پلے کچھ بھی نہ پڑا ھو گا مین حیران ھون کہ کسی بھی طبیب نے کبھی بھی ایسی غلطیون کی نشاندھی کیون نہین کی خوشی خوشی مین نبض لکھ تو دی خود سے پتہ نہین دوسرے کیا سمجھین گے یہان مین نے لکھا ھے نبض دو انگلی تک محسوس ھو
دوستو اعصابی نبضون کی تشریحات غور سے پڑھین اور پھر بات سمجھین گے قانون نبض طب قدیم مین اگر بہت سی غلطیان آپ کو نظر آئین گی تو بہت سے قانون اٹل حقیقت بھی نظر آئین گے مثلا نبض ذنب الفار والی بات کو آپ کبھی بھی غلط ثابت نہین کرسکتے اور یہ نبض نباض کو عموما دو انگلی کے نیچے ھی محسوس ھوتی ھے اور یہ نبض عضلاتی ھوا کرتی ھے اب ایک طالب علم کو جس کے پاس سواۓ کتاب کے کوئی استاد موجود نہین ھے کیسے سمجھا سکتے ھین کہ اعصابی نبض مین اور ذنب الفار مین کیسے پہچان یعنی عضلاتی نبض کے درمیان کیسے پہچان کرنی ھے کتب مین کہین بھی وضاحت نہین ھے انشاءاللہ کوشش ھو گی ان سب اغلاط کو درست کیا جاۓ اور درستگی آپ کو آخری اقساط مین ملے گی یہان صرف نشادھی کررھا ھون امید ھے بہت کچھ آپ خود ھی درست کر لین گے بس اب ذرا لکھے ھوۓ کا مواخذہ کرتے ھین
١۔۔اگر نبض انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی یعنی شروع کلائی سے پہلے والی انگلی پر نبض زور سے ٹھوکر لگاۓ اور باقی دونون انگلیون پر کم ٹھوکر لگاۓ تو سمجھ لو مفرداعضاء دماغ مین تیزی یا مرض پیدا ھو گئی ھے اس مین نبض کی رفتار75 سے بھی فی منٹ کم رفتار ھو گی باقی دونون انگلیون پر ٹھوکر یقینا کم ھو گی اس مین رطوبتی یعنی بلغمی مرض ھو گا اب چونکہ اعصاب سر سے پاؤن کی انگلی تک سارے جسم مین پھیلے ھین اس لئے کسی بھی مقام پہ مرض ھو سکتی ھے اسی طرح مرض وعلامات بے شمار ھو سکتی ھین لیکن مرض رطوبتی یعنی بلغمی ھی ھو گی یاد رکھین مریض کی موت تک مرض اسی اعصابی نسیج مین ھی رھے گی
٢۔۔اگر نبض انگوٹھے کے بعد والی دوسری انگلی یعنی سب سے بڑی انگلی پہ ٹھوکر زور سے لگاۓ تو سمجھ لین مفرد عضو جگر مبتلاۓ مرض ھے یقینا ایسی صورت مین مرض صفراوی ھی ھو گی یعنی غدی غشائی ھی مرض ھو گی اس مین نبض کی رفتار 105سے اوپر چلی جاۓ گی چونکہ غددو غشا پورے جسم مین پھیلے ھوۓ ھین اس لئے مرض کسی بھی مقام پہ ھو سکتی ھے لیکن وہ گرم اور صفراوی ھی مرض ھو گا اور موت تک مرض صفراوی ھی رھے گا
٣۔۔ اگر درمیانی بڑی انگلی کے بعد والی انگلی یعنی تیسری انگلی پہ ٹھوکر زور سے لگاۓ تو سمجھ لین مبتلاۓ مرض دل ھے یعنی مرض عضلاتی ھے اس صورت مین مادہ سوداوی ھی ھو گا اب عضلات سرتا پاؤن ھر جگہ پھیلے ھین اس لئے مرض کسی بھی مقام پہ ھو سکتا ھے لیکن یاد رھے مرض عضلاتی ھی ھے اور موت تک عضلاتی ھی رھے گا ریاحی امراض مین نبض کی رفتار75 سے لے کر 105تک ھو سکتی ھے دوستو آج تک لئے اتنا ھی کافی ھے انتظار کرین نظریہ مفرداعضاء پہ جدید تحقیقات جو کچھ تبدیلی کے ساتھ ھونگی انشاءاللہ اگلی قسط مین لکھی جائین گی دعاؤن مین یاد مجھے بھی اور اپنے گروپ مطب کامل کو بھی یاد رکھین اللہ حافظ

Thursday, October 11, 2018

تشخيص امراض وعلامات 45

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔تشخيص امراض وعلامات ۔۔۔۔قسط نمبر45۔۔۔
الحمداللہ آج سے مضمون بہت ھی اھم مقام مین داخل ھو گیا ھے یعنی آج تک جتنا بھی مضمون تھا سمجھ لین میری تمہید تھی یا یہ سمجھ لین طب قدیم بمطابق طب جدید ھلکی پھلکی تشریحات تھین آج سے مضمون نظریہ مفرد اعضاء کے تحت شروع ھوا ھے دوستو کوشش ھو گی کہ آپ کو وہ کچھ بھی بتا سکون جو نظریہ کی کتابون مین بھی درج نہین ھے بہت سے دوستون کے ذھن مین نظریہ نفرد اعضاء کے تحت قانون نبض پڑھنے کے باوجود بے شمار سوالات موجود رھتے ھین جن کا جواب کہین سے بھی نہین ملتا مثلا ایک طالب سوال کرتا ھے بول بستری اعصابی عضلاتی تحریک مین ھوتا ھے جب نبض دیکھی تو تحریک اعصابی عضلاتی تھی لیکن اعصابی عضلاتی تحریک مین تو بے شمار امراض پورے بدن مین آسکتی ھین ھمین کیسے پہچان ھو کہ تحریک بھی اعصابی عضلاتی ھی ھے اور اعصابی عضلاتی تحریک کی تمام امراض چھوڑ کے مریض کو اس وقت بول بستری کی شکایت ھے اس طرح کے اور بہت سے سوالات ھین جو نظریہ مفرد اعضاء بھی اپنی کتابون مین نہین دیتا اب سیکھنے والا پیاسا ھی رھتا ھے اب کوشش ھو گی کہ سب پیاس بجھا دی جاۓ اور ایک بات یہ بھی یاد رکھین نہ تو مین عالم فاضل ھون اور نہ ھی سند آخر ھون مین ایک لا علم سا طب کا خود طالب علم ھون طب کا علم بہت ھی وسیع ھے روزانہ کے حساب سے بے شمار نئی نئی تحقیقات سامنے آتی ھین ھر طبقہ فکر جس کا تعلق طب سے ھے اپنی اپنی جگہ اھم ھے جس مین ریسرچ سب سے زیادہ ایلوپیتھی نے کی اس کے باوجود کم وسائل اور حکومتی سر پرستی نہ ھونے کے باوجود طب قدیم نے یہ ترقی کی کہ طب کو ایک نئی جدت اور آسانی پیدا کردی جیسا کہ مین پہلے مضمون مین طب قدیم کی اصطلاحات لکھ چکا ھون ان بے شمار اصطلاحات کو مختصر کرکے چند ایک مین سمو دیا مزاج کے اعتبار سے تین مزاج کو اھمیت دی چوتھے مزاج کو دلائل اور تجربات سے ثابت کرکے اس کا وجود ختم کردیا اسی طرح نبض کی لمبی گردان کو مختصر کرکے چھ نبضون مین سمو دیا جب علاج معالجہ کی باری آئی تو بہت سی امراض کا علاج جیسے ٹی بی ھے کامیاب علاج کرکے دنیا کو حیرت مین ڈال دیا یاد رھے اس وقت ایلوپیتھی مین واقعی ٹی بی کا صحیح علاج دریافت نہین ھوا تھا ایلوپیتھی کے پاس اس وقت ٹی بی کی دو دوائین تھین ایک پی اے ایس گولی ایک آئی این ایچ گولی تھی ساتھ سٹیپٹرومائی سین انجیکشن تھا پھر کمبائیٹک ھاف گرام اور ون گرام انجیکشن بھی آۓ لیکن ٹی بی درست نہ ھوتی تھی پھر مائم بیوٹال گولی ذرا بہتر دوا آئی اور اس مرض کا کامیاب علاج ھونا شروع ھوا لیکن اس سے پہلے ھی حضرت صابر ملتانیؒ نے ھلدی سات حصہ اور آک کا دودھ ایک حصہ ملا کر دوا تیار کی اور ٹی بی کا کامیاب علاج کردیا لیکن جو غلطی انسان سے ھو جاۓ اب بڑائی اسی مین ھوتی ھے کہ بندہ مان لے کہ یہ غلطی ھو گئی ھے نہ ماننا بے وقوفی ھوتی ھے اس دور مین صابر صاحب کے ساتھ بھی چند بہت اچھے دیگر حکماء بھی تھے جن مین میرے چچا حکیم غلام رسول بھٹہ صاحب بھی تھے دوستو بات چھڑ گئی ھے تو سوچا آپ کو بھی آگاہ کردون الحمداللہ چچا صاحب اس وقت بھی روبصحت ھین میری ان کے ساتھ اس موضوع پہ تفصیلی گفتگو ھوتی رھی ھے چند ایک اطباء نے صابر ملتانی صاحب کو اکسا کر ایلوپیتھی کو چیلنج کروا دیا اور ایک آدھ نہین اٹھارہ چیلنج کروا دیے اور اخلاق سے ھٹ کر دیگر طریقہ علاج کو پکارا جانے لگا فرنگی طب جیسے نام دیے گئے ایلوپیتھی کو ۔۔۔علم کسی کی میراث نہین ھوتا اگر آپ مین اھلیت ھے تو آپ تحقیق کرکے اپنا نام تاریخ مین اچھے لفظون مین لکھوا سکتے ھین خیر ان چیلنج نے نفرت ک بیج بو دیا جس سے ھمارے اپنے بھی ھمارے خلاف ھو گئے آج اس بات کا نتیجہ ھم بھگت رھے ھین طب کو وھی مقام دے دیا گیا جو ھندو معاشرےمین ایک شودر اور ملیچھ کو دیاجاتا ھے جبکہ طب کا پہلا درس آواز اخلاق ھے یہ حکومتی پابندیان نت نئے قانون اور خاص کر طب جدید نشانہ بن گئی اس کے پیچھے بہت سے عوامل ھین
خیر آئیے ھم اپنے موضوع پہ آتے ھین
نظریہ مفرداعضاء کے تحت نبض کی کل تین مفرد تحریکین ھین اور پھر ھر ایک کی دو دو مرکب تحریکین ھین جس سے کل چھ تحریکین بنتی ھین آئیے پہلے ھم مفرد اعصابی ۔۔عضلاتی ۔۔اور غدی تحریک پہ بات کرین
مفرد نبض دیکھنے کا طریقہ
اعصابی۔۔وہ نبض جو انتہائی گہرائی مین ھو طب یونانی مین اسے منخفض اور نظریہ مین اعصابی کہتے ھین اس کی فی منٹ رفتار 70تا75بار دھڑکتی ھے یا اس سے کم ھو گی اعصابی نبض کہلاۓ گی
عضلاتی نبض۔۔جو نبض بالکل اوپر محسوس ھو وہ طب یونانی مین مشرف اور نظریہ مین عضلاتی کہلاۓ گی اس کی فی منٹ رفتار75 سے اوپر105بار تک ھو سکتی ھے
غدی۔۔جو مشرف اور منخفض کے درمیان ھو جسے طب یونانی معتدل کہتی ھے نظریہ غدی نبض کہتا ھے فی منٹ رفتار105 بارسےزیادہ ھوگی غدی کہلاتی ھے
اب مرکب نبضون کی تشریح آئیندہ

Tuesday, October 9, 2018

سرعت انزال

۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔سرعت انزال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج ایک پوسٹ پڑھی جس مین کسی صاحب نے سرعت انزال کی شکایت کررکھی تھی کمنٹس پڑھے تو بڑا ھی افسوس ھوا بعض نے تو نمبر دے رکھے تھے بعض نے لکھ رکھا تھا نسخہ موجود ھے بتاؤن گا نہین خیر مین کیا بتاؤن اب مجھے زیب نہین دیتا نہ ھی میری عادت ھے کسی کا نام تک لکھون بہرحال میری گزارش ھے اخلاق اور تہذیب کا دامن نہ چھوڑا کرین بلکہ اپنا وقار مقدم رکھین آپ لوگ طبیب ھین اس کا مقام بلند رکھین
آئیے مین آپ کو دنیا کی سب سے سستی اور اعلی دوا سے متعارف کرواتا ھون جسے بنانا ھر شخص کے بس کی بات ھے آپ نے خود ھی بنانا ھے ایک بات یاد رکھین کوئی بھی اب یہان کمنٹس یہ نہ لکھے بنی ھوئی مل سکتی ھے اگر آپ کو مرض ھے تو خود بنا لین اس دوا پہ کسی کی بھی مدد کی ضرورت نہین
سناء مکی سو گرام صاف ستھری لین جس مین تنکے وغیرہ نہ ھون صرف پتے ھون دو سو گرام بھیڑ کا دودھ لے لین اب سناء مکی کو پہلے پیس لین اور دودھ ڈال کر گھوٹنا شروع کردین جب گولی بنانے کے قابل ھو جاۓ تو چنے برابر گولیان بنا لین ایک تا دو گولی دن مین تین وقت کھا لین ھمراہ پانی
یہ دوا ھلکی ملین بھی ھے سوزش ختم کرکے سرعت دور کرے گی گرمی و حدت کو ختم کرتی ھے آنتون کی سوزش قبض اور بے شمار امراض مین فائدہ مند ھے آج پوسٹ تو کچھ اور لکھنی تھی بچون کا بستر پہ پیشاب کردینے کے بارے مین لیکن آج اسی پہ اکتفا کرین

طلا براۓ چنبل

۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔ طلا براۓ چنبل ۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ ابھی ھمارے گروپ مطب کامل کے ایک ممبر ثناء خان نے پوسٹ لکھی ھوئی تھی چنبل اور داد کا علاج بتا دین مین نے سوچا آج سب جواب ھی نقد لکھ دیتا ھون یاد رھے اس کے بعد نقد جواب نہین لکھ سکون گا لیجئے انتہائی اعلی علاج آج چنبل کا بھی سمجھ لین
رائی پانچ تولہ لے کر دھی کے پانی مین جو دھی جمنے کے ساتھ علیحدہ ھو جاتا ھے وہ حسب ضرورت لے لین اب رائی کو پہلے پیس لین اور دھی کا پانی ڈالکر کھرل کرتے جائین جب مرھم سی بن جاۓ تو تیار ھے اب اسے دن مین دوبار چنبل کے اوپر لگائین یعنی لیپ سا کردین اس کا مزاج غدی عضلاتی ھے تو کیا خیال ھے اگر ساتھ غدی عضلاتی ملین کھلائین گے تو سونے پہ سہاگہ ھو جاۓ گا اس کا نسخہ بارھا دفعہ لکھ چکا ھون اگر دوستو ساتھ حب بندق کھلا دی تو سمجھین چنبل کے علاج پہ آپ نے مہر لگا دی
حب بندق۔۔۔چھلکا ریٹھا ۔۔رائی اور گندھک آملہ سار برابروزن پیس کر نخودی گولیان بنا لین اور دو دو گولی دن مین تین بار ساتھ غدی عضلاتی ملین بھی دو دو گولیان دن مین تین بار ھی دین ھمراہ پانی دوا دین

Monday, October 8, 2018

تشخیص امراض وعلامات 44

۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کا مل ۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔ تشخیص امراض وعلامات ۔۔۔۔۔قسط نمبر 44۔۔۔
اختلاف نبض بالاطراف۔۔۔۔
اللہ جلّہ شانہ نے انسانی جسم کو ایک عمودی خط کے ذریعے تقسیم کر رکھا ھے اس تقسیم سے جسم دو حصون مین بٹ جاتا ھے اب اس تقسیم کی وضاحت سمجھین
سر کو سنٹر سے دو حصون مین تقسیم کرتے ھوۓ دونون آنکھون کا سنٹر لین پھر ناک آجاۓ گا تو ناک کو سنٹر سے تقسیم کرین تو ناک کا ایک نتھنا دائین اور ایک بائین الگ ھو جاۓ گا اسی طرح چہرے اور گردن کو تقسیم کرتے بات پیٹ اور کمر تک آگئی ھے اسے بھی بالکل سیدھے اسی طرح تقسیم کرتے جائین پیٹ کو بھی سنٹر سے اسی طرح تقسیم کرتے جائین ناف کو بھی سنٹر سے تقسیم کرتے بالکل سیدھا نیچے کی طرف تقسیم کردین
اب اس تقسیم پہ غور کرین اللہ تعالی نے انسان کے سر پہ فطری طور پہ بالکل درمیان مین مانگ کا خط رکھا ھے اب سر کے پچھلے حصہ کو غور سے دیکھین تو مہرون کے اوپر ایک لکیر سی نیچے کی طرف جاتی نظر آۓ گی سامنے پیٹ کی طرف نظر دوڑائین بالکل ایک خط نظر آۓ گا اس سب تقسیم مین اللہ تعالی نے بہت سے راز چھپا رکھے ھین اب آپ دونون کلائیون کی نبضین دیکھ لین دائین نبض اور بائین نبض ھمیشہ الگ الگ ھوتی ھین ایک جیسی کبھی بھی نہین ھو سکتی اگر ایک بندے کی دائین نبض قوی ھے تو بائین نبض ضعیف ھو گی اگر بائین قوی ھے تو دائین ضعیف ھو گی
ایسی صورت مین اگر کوئی خلقی وعارضی نقص مقامی طور پر نہ ھو تو یاد رکھین جس جانب کی نبض قوی ھو گی وہ جانب صحت مند اور قوی ھو گی جس شخص کی نبض داھنی قوی ھو گی اس شخص کے گردے جگر یعنی یعنی نظام غدد اور آلات تناسل بھی قوی ھونگے اب لازمی طور پہ اس بندے کی قوت مدافعت بھی زیادہ ھوگی اب اس بات کو بھی یاد رکھین قوی جانب کی نبض مشرف عریض اور عظیم ھو گی
اور ضعیف جانب کی نبض ضیق قصیر اور نستا منخفض ھو گی
اب اس بات کو بھی ذھن نشین کر لین کہ اگر دائین جانب کی غیر معمولی اور غیر طبعی طور پر قوی اور سریع ھو تو ایسے آدمی کو صفراوی ارتقا یعنی حرارت جگر حرقت البول اور سرعت انزال کا عارضہ لا حق ھو گا
اور اس نکتہ کو بھی یاد رکھین کہ جب دائین جانب کی نبض مشرف عریض قوی اور عظیم ھو گی تو صاحب نبض کا نچلا دھڑ قوی ھو گا بات کی سمجھ آرھی ھے نا؟
اگر دائین جانب کی نبض ضعیف ھو گی تو نصف زیرین حصہ کمزور اور بالائی حصہ قوی ھو گا اس بات کو اچھی طرح سمجھ لین کیونکہ آجکل کے طبیب حضرات کی تشخيص مین سب سے زیادہ ضرورت اسی بات کی رھتی ھے
اگر بالائی حصہ قوی اور زیرین نصف حصہ کمزور ھو گا تو ایسے مریض کی آنتین گردے اور اعضائے تناسل بھی کمزور ھوا کرتے ھین
اگر کسی شخص کی بائین ھاتھ کی نبض قوی ھو گی تو اس کے دل دماغ کی قوت کے ساتھ ساتھ حافظہ تیز اور ذھانت بھی عمدہ ھو گی پھپھڑے مضبوط اور اعصاب قوی ھونگے لیکن قوت تولیدیہ مین کمی کا رجحان ھو گا جگر وغدد کمزور خون کی کمی اور ضعف باہ لا حق ھو گی یاد رکھین بائین طرف عضلات کا مرکز قلب ھے اس لئے رطوبت حرارت غریزی بھی کم ھو گی
اب آخری بات سمجھ لین اگر غیر معمولی طور پہ بائین سائیڈ کی نبض کمزور بھی ھو اور قصیر بھی ھو تو یہ بانجھ پن کی علامت ھے
امید ھے اب نبض کی قسم اختلاف نبض بالاطراف سمجھ گئے ھونگے یعنی دونون کلائیون یا ھر دو اطراف کی نبض ایک دوسرے سے مختلف ھوتی ھے کبھی بھی ایک جیسی نہین ھو سکتی
اب بات کرتے ھین کہ مرد اور عورت کی نبض مین کیا فرق ھو سکتا ھے
۔مرد اور عورت کی نبض مین فرق ۔۔
پہلی بات تو یہ یاد رکھین مرد کا فطری طور پہ مزاج سوداوی ھوتا ھے جبکہ عورت کا فطری طور پہ مزاج صفراوی ھوا کرتا ھے اب بات کو یون سمجھ لین
مرد کی نبض عضلاتی یعنی مشرف ھوا کرتی ھے
اور عورت کی نبض غدی یعنی صفراوی اور مرد کی نسبت صغیر بھی ھوا کرتی ھے
اب بچپن جوانی اور بڑھاپے کی نبض سمجھتے ھین
۔۔بچپن ۔۔۔۔جوانی ۔۔۔بڑھاپا کی نبض مین فرق ۔
پہلے بچپن کی نبض ۔۔۔یہ نبض لین اور سریع ھوتی ھے
جوانی کی نبض ۔۔منشاری کسی قدر صلب اور رفتار مین کسی قدر تیزی ھوا کرتی ھے
بڑھاپے کی نبض۔ صلب اور بطی ھوا کرتی ھے قبض اکثر ھوتی ھے پیشاب کنٹرول ھوتا نہین ھے تھوڑا تھوڑا آتا ھے
۔ حاملہ عورت کی نبض
جوان عورت کی نبض سوداوی یعنی عضلاتی تحریک مین نہین ھوا کرتی اگر عضلاتی تحریک پیدا ھو جاۓ تو حمل ھو گیا ھے
یعنی اس کی کی نبض تین انگلی تک بڑی آسانی سے محسوس ھو گی لیکن اس مین شرف کے ساتھ قوت اور کسی قدر صلابت بھی پائی جاۓ گی چونکہ حمل کے دوران عضلاتی نبض ھو گی اس لئے اس کی نبض سریع قوی مشرف اور قریب بہ عظیم ھو گی یہ بات بھی یاد رکھین یہ حکم کل نہین ھے بعض اوقات چھوٹی عمر اور بڑھاپے مین یا کسی مرض کی وجہ سے بھی عضلاتی نبض ھو جایا کرتی ھے
جیسے چنبل خارش بھگندر اور گڑ ھر قسم کے پھوڑون مین ھوا کرتی ھے آپ ساتھ ابکائیان اوربندش حیض کو نگاہ رکھین باقی آئیندہ

Sunday, October 7, 2018

سائینوسائیٹس یعنی کیرا

۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔ سائینوسائیٹس یعنی کیرا۔۔۔۔۔۔۔
کافی دن سے کافی لوگون کی طرف سے یہ سوال گروپ مطب کامل مین آچکا ھے باقی گروپ مین بھی یہ سوال آچکا ھے تسلی بخش علاج تجویز کہین بھی نہ دیکھی بہت ھی مختصر پوسٹ لکھ رھا ھون
یہ عموما غدی عضلاتی سوزش ھوتی ھے نظام تنفس خصوصاً حلقوم کی جھلی سوزش ناک رھتی ھے سوزش اتارنے کے لئے ردعمل مین گاڑھی کبھی رقیق رطوبت پیدا ھوتی رھتی ھے غدد ناقلہ کی کمزوری سے فطری راستون سے اخراج پانے کے بجاۓ گلے مین گرتی رھتی ھے بعض اوقات سائینس یعنی تجاویف رطوبات سے بھر کر شدید درد کا بھی باعث بنتے ھین خون کی رکاوٹ سے دایان فالج اور درد شقیقہ ھو سکتا ھے علاج کے لئے غدد جاذبہ کی سوزش اتارنے کے لئے غدد ناقلہ کو متحرک کرنا پڑتا ھے علاج مندرجہ ذیل کرین
تریاق غدد۔۔گندھک آملہ سار ۔۔۔ گل عشر ۔۔سہاگہ بریان ھموزن دوائین پیس لین بڑے سائز مین کیپسول بھر لین تین وقت ھمراہ پانی دین
لعوق خیارشنبر دین لسوڑیان دس تولہ ۔۔مغز خیارشنبر پاؤ۔۔۔سناء مکی دس تولہ ۔۔گل سرخ دس تولہ ۔۔بنفشہ پانچ تولہ ۔۔سونف تین تولہ ۔۔منقہ پانچ تولہ ۔۔چینی تین کلو لعوق بنا لین بالمعروف طریقہ اب تولہ تولہ صبح شام دین
ساتھ برگ بانسہ خیارشنبر سونف سپستان کا قہوہ شہد ملا کر دین رات سوتے وقت گلقند تولہ دین صبح اکسیر صداع ۔۔کشنیز زیرہ سفید دو دو حصہ اسپرین پوڈر آدھا حصہ پیس کر کیپسول بھر لین ایک کیسول کھلا دین شام کو بادام گری گھی مین بھون کر دس کھلا دین
یہ ھے اصل علاج اب جو لوگ لعوق خیارشنبر نہین بنا سکتے وہ اجمل یا کسی اور کمپنی کی بنی ھوئ لے لین باقی ادویات خود سے تیار کرین بازار سے نہین ملین گی
مختصر پوسٹ اس لئے لکھی ھے آج نہایت ھی افسوس ناک اطلاع نماز فجر مین ملی ایک بہت بڑی شخصیت میرے استاد محترم وفات پا گئے ھین إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعون

Saturday, October 6, 2018

تشخيص امراض وعلامات 43

۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔تشخيص امراض وعلامات ۔۔قسط نمبر 43۔۔۔
نبض ذوالفترہ۔۔۔یہ وہ نبض ھے جو چلتے چلتے اچانک رک جاۓ پھر چلنے لگے یعنی ھوتا یہ ھے نبض چلتے چلتے ایسی جگہ ٹھہر جاۓ جہان اس کے چلنے کی توقع ھو یعنی چند ٹھوکر لگائی اور اچانک ٹھوکر لگنی بند وقفہ دے کر پھر حرکت مین نبض آجاۓ تو آپ اس نبض فترہ کہین گے
یہ نبض عموما دو تین انگلیون پہ محسوس ھوا کرتی ھے سات آٹھ ٹھوکر لگانے کے بعد رک جایا کرتی ھے یہ نبض یا تو غدی ھوا کرتی ھے یا پھر اعصابی ھوتی ھے
ایسا اکثر شریان مین سدہ آجانے سے ھوتا ھے اگر مریض کمزور بھی ھو تو نہایت ھی خطرناک بات ھوا کرتی ھے آجکل معدہ کے ورم اور ترشی کے باعث بھی یہ نبض دیکھنے مین آتی ھے جو علاج سے درست ھو جایا کرتی ھے نبض بہت قوی ھو یعنی انگلیون کے پورون کے ساتھ شدت سے ٹکراۓ اور کچھ نبضون کے بعد ٹھوکر لگاۓ تو پرانے حکماء کا قول ھے اب جتنی ٹھوکرون کے بعد نبض وقفہ دیتی ھے اتنے دن بعد موت واقع ھوجایا کرتی ھے اس اصول مین کچھ سچائی بھی ھے اور کچھ غلط بھی تشریح ھے یہ قانون میرے تجربہ مین صرف اس وقت لاگو ھوتا ھے وہ بھی صرف بائین نبض پہ جب مریض کی مرض آخری درجہ مین پہنچ چکی ھو لاغر ھو چکا ھو تب یہ قانون صادق آتا ھے اب یہ نہین کہ بندہ چل پھر کے اپنے کام سرانجام دے رھا ھے اسے یہ بھی پروا نہین کہ وہ بیمار ھے اور نبض مین فترہ بھی ھو اور آپ نبض مین فترہ دیکھ کر فتوہ لگا دین کہ بس اتنے دن کا مہمان ھے دوستو یہ عموما معدہ کے امراض مین آیا کرتا ھے اب مریض کو دوالمسک جواھر دار کھلانے سے چند گھنٹون مین یہ فترہ ختم ھوجایا کرتا ھے
کسی حکیم کے استاد نے تشخيص کے سلسلے اپنے شاگرد کو سمجھایا جب مریض کی تشخيص کرنے لگو تو مریض کی چارپائی کے آس پاس بھی نظر دوڑا لینا اندازہ ھوجایا کرتا ھے کہ مریض کیا کھا چکا ھے مثلا کیلا کھایا ھو تو اس کے چھلکے پڑے ھونگے اب حکیم صاحب ایک مریض دیکھنے گئے تو چارپائی کے قریب گھوڑے کی پیٹھ پہ ڈالنے کے لئے سپاٹ یا کاٹھی بھی کہتے ھین پڑی تھی اب اس مین ایک چیز کم تھی جسے پنجابی مین تو کھل گیر کہتے ھین اردو والا نام یاد نہین جب حکیم صاحب نے دیکھا کاٹھی تو پڑی ھے لیکن ساتھ کھل گیر نہین ھے فورا فتوہ لگایا کہ مریض کھل گیر کھا چکا ھے اور داد کے لئے لواحقین کی طرف دیکھا باقی کیا ھوا یہ سب چھوڑین
اب تشخيص کے معاملے مین آپ نے ایسا کچھ نہین کرنا بلکہ حقائق سے مرض کو جانین اور سمجھین
نبض واقع فی الوسط۔۔ یہ وہ نبض ھے جو اس جگہ رکتی ھے جہان اس کے ساکن ھونے کی توقع ھوتی ھے
یعنی ذوالفترہ کے مقابل نبض ھے فترہ وہ نبض ھے جہان نبض کو حرکت کرنی چاھیے تو وہ ساکن ھوجاتی ھے اور نبض واقع فی الوسط وہ ھے کہ جہان نبض کو ساکن ھو جانا چاھیے یہ وھان حرکت کرتی ھے
نبض مسلی۔۔۔یہ وہ نبض ھے جو دونون اطراف سے سوئے کی مانند ھوتی ھے یعنی جہان سے نبض شروع ھوتی ھے وھان سے بھی انتہائی باریک نوک بنی ھو اور جہان نبض کی آخری انگلی ھوتی ھے وھان سے بھی باریک سوئے کی مانند ھو اور درمیان سے موٹی ھو کبھی یہ کمی سے بتدریج زیادتی کی طرف جاتی ھے تو کبھی یہ زیادتی سے کمی کی طرف جاتی ھے یہ نبض قویٰ مین ضعف ھو جانے کی وجہ سے ھوتی ھے
نبض مرتعش۔۔۔ کانپنے والی نبض
اس نبض مین رعشہ کی سی کیفیت پائی جاتی ھے اور یہ نبض روح حیوانی کی شدت کا اظہار کرتی ھے اور کثرت کا بھی
یہ نبض عضلاتی تحریک کے مریضون مین دیکھنے کو اکثرملتی ھے
ملتوی نبض۔۔۔ یہ وہ نبض ھے جو بل کھاتی ھوئی جارھی ھو یعنی جیسے ایک رسی یا دھاگہ ھے جو بل کھاتا جارھا ھے
یہ نبض حرارت غریزی کی کمی اور ضعف پہ دلالت کرتی ھے یعنی ان کی جسم مین کمی واقع ھو چکی ھے اب انشاءاللہ باقی مضمون اگلی قسط مین آج اتنا ھی کافی ھے

Thursday, October 4, 2018

سپرم کا مردہ ھونے کا علاج||dead sperm||treatment of dead sperm

۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔سپرم کا مردہ ھونے کا علاج ۔۔۔۔۔۔
کل کسی دوست سے وعدہ کیا تھا کہ سپرم کی کمی اور مردہ ھونے یعنی ڈیڈ سپرم پہ مذید ایک پوسٹ لکھون گا ساتھ شرط یہ بھی تھی پہلے سے بھی آسان ھو گی
جیا پوتہ کے پانچوں اجزاء اور روغن اسپند برابروزن پیس کر نخودی حب تیار کرین گولی صبح شام ھمراہ دودھ دین اکیس روز استعمال کرین کرم منی کا کمزور ھونا اور مردہ کرم اکیس روز مین بہت حد تک درست ھو جاتے ھین اگر کوئی کمی بیشی رہ جاۓ تو چند روز اور استعمال کر لین
اب بے شمار اس طرح کے سوالات آئین گے
جناب یہ جیا پوتہ کا کوئی دوسرا نام
یہ جیا پوتہ کیا ھوتا ھے کہان سے ملے گا
یہ روغن اسپند کیا بلا ھے کہان سے ملے گا
اس کے پانچ اجزاء سے کیا مراد ھے
تو آئیے ان سب سوالون کی تفصیل کرتے ھین
پہلی بات مین ھمیشہ نسخہ تب لکھتا ھون جسے دوسرون کو بنانے کی دعوت دیتا ھون اور وہ لکھتا ھون جسے سب آسانی سے بنا لین
جیا پوتا ھندو پاک مین درخت پایا جاتا ھے ھندو لوگ اس کے پھلون کی مالا بنا کر گلے مین ڈالتے ھین یہ سدا بہار درخت ھے ھنگوٹ کے درخت سے ملتا جلتا ھے سندھی زبان مین اسے بھاگ بھری کہتے ھین تو پنجابی مین جیوا پتر کہتے ھین اس کی چھال جڑ پتے پھول اور پھل آپ نے لینے ھین یہ ھین اس کے پانچ اجزاء پھول گچھون کی شکل مین لمبوترے ھوتے ھین پھل نم کی نمولی کی مانند سپرم کی کمی یا مردہ سپرم مین اور عورتون کے بانجھ پن مین اس درخت کے اجزاء آج سے استعمال مین نہین آۓ بلکہ آپ پراچین اور وید پڑھین گے تو آپ کو پتا چلے گا کہ صدیون سے اس درخت کے اجزاء مردانہ اور زنانہ بانجھ پن مین مستعمل ھین جبکہ ھندو لوگون کا یہ بھی یقین ھوتا ھے کہ اس کی مالا پہننے سے کوئی بھی مرض قریب نہین آتی خیر اس بات پہ اتفاق نہین کیا جا سکتا کیونکہ امراض بالمزاج ھوا کرتی ھین اب تو نرسری مین عام مل سکتا ھے پنسار سے اس کے اجزاء مل جاتے ھین لیکن سارے شاید نہ ملین اگر پنساری سے کہین گے تو سب منگوا دے گا باقی روغن اسپند یہ عام چیز ھے پورے پاکستان مین ھر جگہ اس کے پودے خود رو ملتے ھین اور اسے عرف عام مین حرمل بھی کہتے ھین اس کے بیجون کا کسی تیل نکالنے والے سے تیل نکلوا لین شاید پنسار سے بھی مل جاۓ اگر کسی دوست کے پاس بادام روغن نکالنے والی مشین ھے تو اس بھی نکل جاتا ھے بیج پنسار سے بھی سستے دامون مل جایا کرتے ھین کوشش کرین سب اجزاء تازہ اور خود سے حاصل کرین کچھ مشکل نہین ھے درخت پنجاب اور سندھ مین کافی تعداد مین ھین ممکن ھے آپ کا علاقائی نام کچھ اور ھو اس لئے نیٹ سے سرچ کرکے تصویر دیکھ لین کوشش کرین بجاۓ پنسار سے حاصل کرنے کے باھر مضافات سے خود تازہ اجزاء حاصل کرین سیر بھی ھو جاۓ گی اور دوا بھی بن جاۓ گی نرسریون سے بھی یہ پودا مل جاۓ گا چھوٹے پودے کی چھال سفید ھوتی ھے جوان کی سیاھی مائل ھوجاتی ھے پتے بھی سیاھی مائل ھوتے ھین پنسار سے پتہ نہین کب کی پڑی ملے گی جو سڑ کر ضائع ھو چکی ھو گی اس لئے تازہ کی کوشش کرین بے ضرر اور انتہائی مفید دوا ھے

Wednesday, October 3, 2018

۔تشخيص امراض وعلامات 42

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تشخيص امراض وعلامات۔۔۔قسط نمبر 42۔۔۔۔۔
آج بات شروع کرتے ھین موجی نبض سے
موجی نبض ۔۔۔موجی نبض کے تحت شریان کہین سے عظیم اور کہین سے صغیر اور کہین سے بلند اور کہین سے پست کہین سے عریض اور کہین سے دقیق معلوم ھوتی ھے ایسا محسوس ھوتا ھے لہرین ھی لہرین ھین ایک لہر دوسری لہر کا تعاقب کر رھی ھوتی ھے کبھی آپ نے سمندر کی لہرون کو دیکھا ھے عجیب سا منظر ھوتا ھے ان لہرون کے تعاقب پہ غور کرلین بالکل یہی کیفیت نبض کی ھوتی ھے دوستو یہ نبض رطوبات کی کثرت کی وجہ سے ھوتی ھے صاف ظاھر ھے بلغمی مادہ یا اعصابی نبض ھوتی ھے یاد رھے کبھی کبھی کثرت تحلیل اور حرارت کی زیادتی سے بھی ایسی نبض ھو جایا کرتی ھے بہرحال یہ نبض عام طور پہ اعصابی ھی ھوا کرتی ھے استسقاء ۔۔فالج ۔۔ سکتہ وغیرہ کی نشاندھی کرتی ھے
دودی نبض۔۔۔ دود کے لفظی معنی کیڑے کو کہتے ھین یعنی دودی نبض ایسی نبض کو کہا جاتا ھے جس سے شریان کی حرکت بالکل کیڑے کی رفتار کی مانند ھو جیسے کیڑا غلاظت مین چلتا ھے بالکل وھی رفتار اور انداز نبض کا ھوتا ھے یہ نبض بلندی مین نبض موجی کی مانند مگر یہ عریض و امتلاء نہین ھوتی یعنی موجون کی تحریک مین ضعف ھوا کرتا ھے یہ جسم مین قوت کے ختم ھوجانے پہ دلالت کرتی ھے
نملی نبض۔۔۔نمل بھی کیڑی کو کہتے ھین جو گھرون مین پائی جاتی ھے اس نبض کی حرکت بالکل چھوٹی اور متواتر ھوتی ھے یہ عموما موت قریب آنے پہ ھوا کرتی ھے
منشاری نبض ۔۔منشار آری کی دندانون کو کہتے ھین یہ نبض بھی آری کے دندانون کی مانند ھوتی ھے یہ نبض بہت مشرف صلب متواتر اور سریع ھوا کرتی ھے اس کی بلندی اور ٹھوکر مین اختلاف ہایا جاتا ھے یعنی اوپر نیچے کبھی بہت سخت لگتی ھے کبھی تھوڑا نیچے لگتی ھے جیسے آری کے دندانے ھوا کرتے ھین عضو مین گرم ورم خاص کر پھیپھڑوں اور عضلات مین ورم کی نشاندھی کرتی ھے اور نبض عضلاتی ھوتی ھے
ذنب الفار نبض۔۔۔۔۔یعنی چوھے کی دم کی مانند ایک طرف سے موٹی اور دوسری طرف سے باریک ھوتی ھے اسے ذنب الفار نبض کہتے ھین اگر اس نبض مین فترہ پڑ جاۓ تو بہت ھی خطرناک ھوا کرتا ھے سمجھ لین موت آگئی ھے
اگر یہ نبض جڑ سے پتلی ھو اور بعد مین موٹی ھو یعنی ھاتھ کے انگوٹھے کی طرف سے پتلی ھو اور پھر آگے سے موٹی ھو جاۓ تو نبض عضلاتی غدی ھوتی ھے
اگر نبض جڑ سے موٹی ھو اور آگے پتلی ھو تو یہ نبض عضلاتی اعصابی ھوا کرتی ھے اس نقطہ کو یاد رکھین یہ اکثر مریضون کی آجکل یہی نبضین ھوا کرتی ھین
نبض مطرقی۔۔۔ مطرق ھتھوڑے کو کہتے ھین دوسرے لفظون آپ اسے نبض ھتھوڑا کہہ لین یعنی نباض کے پورون پہ ھتھوڑے کی طرح یکلخت دو ٹھوکرین لگاۓ کبھی آئرن پہ ھتھوڑا مارین اور ھاتھ ڈھیلا رکھین تو ایک ضرب تو آپ نے خود لگائی اور دوسری ضرب ذرا ھلکی ھتھوڑا خود ھی لگا جاتا ھے یہ نبض قوت مین زیادہ ھو چکی ھوتی ھے اس لئے یہ نبض قوت حیوانی اور عضلاتی غدی ھوا کرتی ھے اور ضعف پہ دلالت کرتی ھے
آج کے لئے بس اتنا ھی کافی ھے باقی انشاءاللہ کل کے مضمون مین

Monday, October 1, 2018

تشخيص امراض وعلامات 41

۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔تشخيص امراض وعلامات۔۔۔۔قسط نمبر41۔۔۔۔
آج تشریح ھے نبض دقیق کی
دقیق نبض۔۔۔ ایسی نبض جو چوڑائی مین کم ھو دقیق کہلاتی ھے جو حرارت کی کثرت سے ھوتی ھے
یہ الفاظ پڑھتے ھی طبیب سوچ مین پڑ جاتا ھے لیکن سوچ مین پڑھنے کی بجاۓ ھم پچھلی اقساط کو ذھن مین تازہ کرتے ھوۓ کچھ یاداشتین بحال کرتے ھین
یاداشت نمبر ١۔۔ رطوبت سے نبض پھیل جاتی ھے
ھوا سے بھی نبض پھول جاتی ھے یا بڑی ھو جاتی ھے بشرطیکہ جسم مین رطوبت کی بھی کثرت ھو
اور حرارت سے نبض سکڑ جاتی ھے
اب مذید چند باتین ذھن نشین کرین اور نباض مریض کی نبض چھوتے ھی مندرجہ ذیل باتون پہ دھیان رکھے
١۔نبض چھوتے ھی ٹھنڈک محسوس ھو اور نبض موٹی ھو تو وہ نبض اعصابی غدی ھو گی
٢۔جو نبض چھونے سے کھردری اور خشک محسوس ھو عضلاتی اعصابی نبض ھو گی
٣۔جو نبض چھوتے ھی نرم اور گرم محسوس ھو وہ نبض غدی عضلاتی ھو گی
٤۔دقیق اور باریک نبض صرف اور صرف غدی اعصابی ھی ھو سکتی ھے کیونکہ اس مین حرارت ضرورت سے زیادہ خارج ھو رھی ھوتی ھے اس لئے نبض کا پھیلاؤ کم ھو کر سکڑاؤ یعنی باریک یا پتلی ھو گی
نوٹ۔۔حسب دستور نبض پہ چارون انگلیان رکھین باریک نبض بمشکل تین انگلیون تک ھی محسوس ھو گی دھاگے کی طرح پتلی اور باریک محسوس ھو گی
اب اصل بات کی طرف توجہ کرتے ھین جہان طبیب سوچ مین پڑ جاتا ھے یعنی ھم نے سائینس کے مظامین مین پڑھا ھے کہ حرارت سے چیزین پھیلتی ھین اس پہ بے شمار مثالین دی جا سکتی ھین مثلا آپ نے کبھی غور کیا ریلوے کی پٹڑی پہ جو لوھے کے گاڈر بچھے ھوتے ھین تو دو گاڈرون کے درمیان فاصلہ رکھا جاتا ھے اور ٹرین ان کے اوپر سے گزرتی ھے تو ان دو گاڈرون کا درمیانی فاصلہ زیرو ھو چکا ھوتا ھے یعنی جب ٹرین کے ویل تیزی سے حرکت کرتے ھین تو ان گاڈرون مین شدید حرارت پیدا ھوتی ھے اور یہ گرمی کی وجہ سے پھیل کر بڑے ھو چکے ھوتے ھین تو دو گاڈرون کا فاصلہ گھٹ کر ختم ھو جاتا ھے اسی طرح باقی سب چیزین بھی حرارت سے پھیلتی ھین لیکن حیرت کی بات ھے جب انسانی جسم مین گرمی بڑھتی ھے تو نبض باریک اور پتلی ھو جاتی ھے اب دیکھین عضلاتی غدی ھے یہ بھی سخت گرمی کی نبض ھے اور خالص صفراوی نبض بھی شدید گرمی کی نبض ھوتی ھے دونون نبضین ھی باریک ھوتی ھین اور اس بھی زیادہ عجیب بات یہ ھے کہ جب رطوبات کی زیادتی ھوتی ھے تو نبض پھیل جاتی ھے آخر کیون؟؟؟
اس کیون کا جواب نہ تو طب قدیم مین ملتا ھے اور نہ ھی طب جدید نے دیا ھے نا حیرت کی بات ؟
آئیے آج اس بات کی وضاحت دلائل اور تجربات سے کرتے ھین کہ ایسا کیون ھوتا ھے
سائینس کا ھی اصول ھے میرے وہ بھائی جنہون نے بی ایس سی تک تعلیم حاصل کی وہ میری بات کی تائید کرین گےاب میری بات غور سے سنین
ھر وہ مادہ حرارت سے پھیلتا ھے جو خود نہ جل رھا ھو بلکہ صرف حرارت حاصل کررھا ھو جیسے لوھار لوھے کو بٹھی مین رکھ کر گرم کررھا اب لوھے نے صرف حرارت حاصل کی لال سرخ ھو گیا تو لوھا پھیل بھی چکا ھے کیونکہ اس نے صرف حرارت حاصل کی ھے خود نہین جلا بلکہ جل تو کوئلے رھے تھے
دوسرا قانون ۔۔۔اب ھر وہ مادہ حرارت سے سکڑتا ھے جو خود سے حرارت حاصل نہ کررھا ھو بلکہ حرارت خارج کررھا ھو یعنی جل رھا ھو
اب مذید تشریح لوھے کے بارے مین کیے دیتا ھون
لوھا بذات خود ایک منجمد شدہ رطوبت ھے جس مین سردی اتنی آگئی ھے کہ وہ منجمد حالت مین ھے یعنی اس کے مالیکیول جکڑ مار گئے ھین اب لوھا جب بھی حرارت حاصل کرے گا تو اس کے مالیکیول پتلے ھونگے تو حرارت سے پھیلتا محسوس ھوگا اسی طرح مین نے ایک مثال کوئلہ کے بارے مین دی اب تفصیل سے لکھتے ھین کوئلہ جو لکڑی سے تیار ھوتا ھے اب لکڑی بھی بذات خود ایک رطوبت ھے اس مین جلنے کی خاصیت ھے اس لئے وہ جب بھی جلتی ھے تو اس مین سکیڑ پیدا ھوتا ھے پھیلتی نہین ھے بالکل یہی مثال انسانی وجود پہ صادق آتی ھے یعنی انسانی وجود مین جب جلنے کا عمل ھوتا ھے تو جل کر حرارت خارج کرنے کا عمل ھوتا ھے تو دوستو نبض سکڑ جاتی ھے یاد رھے انسانی جسم مین وافر مقدار مین فولاد بھی ھوا کرتا ھے
اب جب انسانی جسم مین حرارت حاصل کرنے کا عمل ھو گا ؟
یاد رکھین حرارت حاصل کرنے کا عمل انسانی جسم مین اس وقت ھوا کرتا ھے جب رطوبت کی زیادتی سے خمیر اور تعفن پیدا ھوتا ھے اس وقت حرارت حاصل کرنے کا عمل ھوا کرتا ھے تو نبض پھیل جاتی ھے اب جب تعفن کے بعد مادہ جل رھا ھوگا تو نبض سکڑی ھوئی ھو گی
مجھے امید ھے بات سمجھ آگئی ھو گی دوستو اجازت چاھون گا کل شاید پوسٹ نہ لکھ سکون مجھے گجرات شہر عدالت مین کسی کام کے سلسلے مین سارا دن مصروف رھنا ھے باقی تفصیل انشاءاللہ پرسون کی پوسٹ مین اللہ حافظ