Saturday, December 1, 2018

ھاضمہ دار کیپسول

۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔ ھاضمہ دار کیپسول ۔۔۔۔۔
پہلے دوا سمجھ لین
گندھک آملہ سار بیس گرام
پودینہ خشک پچاس گرام
سندھ بیس گرام
کالی مرچ دس گرام
نوشادر ٹھیکری بیس گرام
سوڈابائی کارب بیس گرام
ست اجوائن ایک ماشہ
تمام دوائین پیس کر چار نمبر کیپسول بھر لین
ایک ایک کیپسول دن مین تین بار ھمراہ پانی دین
فائدے۔۔۔تبخیر معدہ ۔۔۔پیٹ درد ۔۔۔درد گردہ ۔۔۔ریح قبض ۔۔احتلام بدھضمی ۔۔کے لئے موثر ھے گروپ مطب کامل محمود بھٹہ

Friday, November 30, 2018

تشخيص امراض وعلامات 60

۔۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔تشخيص امراض وعلامات ۔۔۔۔۔قسط نمبر 60۔۔۔۔۔۔۔
آج ھماری بحث غصہ سے شروع ھو گی ۔۔
غصہ ۔۔۔۔ ایک ایسی کیفیت کا نام ھے جس کے تحت انسان کے اندر زبردست قسم کا جوش اور ولولہ پیدا ھوتا ھے اور نفسیاتی طور پر آپ غصے کو یون سمجھ سکتے ھین
ایک ایسی الجھن کہ انسان کی طبیعت کے خلاف کچھ برداشت نہ ھو سکے
طبی لحاظ سے آپ غصہ کو جگر وغدد کی ایسی کیفیت وحالت کو کہتے ھین کہ جس مین صفراوی مادہ بکثرت پیدا ھو اور اس کے اثرات خون مین جمع ھوتے رھین یا آپ اسے یون سمجھ سکتے ھین
کہ حالت غصہ مین انسان کا غدی نظام یعنی صفراوی نظام اپنی صفراوی رطوبات یا گرمی اپنی شدت کے جوھر کو حواس وعقل پہ ظاھر کرتی ھے اور صفراوی مادہ خارج نہین ھوپاتا تو شدت گرمی کے باعث عضلاتی نظام مین تحلیل و ضعف واقع ھوتا ھے جس کے باعث اعصاب مین تسکین واقع ھوتی ھے جس کی وجہ سے عقل وشعور بھی ماند پڑ جاتے ھین یعنی جاتے رھتے ھین اور گرمی خشکی یعنی غدی عضلاتی تحریک کے باعث غصہ اپنے جواھر دکھاتا ھے اور باقی آپ سب جانتے ھین کہ غصہ کی کیفیت مین انسان کیا کچھ کر سکتا ھے یا کرتا ھے
ندامت۔۔۔۔۔
ندامت بھی ایک جذبہ ھے حقیقت مین شرمندگی کے مترادف ایک لفظ ھے جب بھی کوئی انسان سے سرزد ھوجاۓ اور جب انسان کو غلطی کا احساس ھو جاۓ تو جو کیفیت انسان پہ پیدا ھوتی ھے اسے ندامت کہتے ھین
دیکھین مین نے بار بار لفظ انسان کا استعمال کیا ھے انسان صرف اس کے لئے استعمال ھوتا ھے جس مین آدمیت بشریت اخلاصیت یعنی ھر لحاظ سے مکمل ھو اسے آپ انسان کہتے ھین ورنہ اس دار فانی مین لوگ ایسے ایسے موجود ھین بلکہ زندہ مثال آپ کے سامنے ھین جو بظاھر بشکل انسان ھی آپ کو نظر آتے ھین لیکن سچ مین باطنی اور ظاھری لحاظ سے بھی ایک بھی کام انسانون والا نہین ھے کسی بھی حقوق العباد کی پاسداری نہین کرتے بلکہ حقوق شکن ھین جس مین کتنے ھی لوگ شامل آپ کے سامنے ھین اور اللہ کی زمین پہ اکڑ اکڑ کر چلتے ھین تکبر اتنا ھے کہ انسانیت کی معراج سے بھی دور کچھ اور نظر آتے ھین ھر اپنی غلطی پہ بجاۓ ندامت کے فخر کرتے ھین بلکہ اسے خوبی سمجھتے ھین
دوستو انسان کی اصلیت کیا ھے اب تھوڑا تجزیہ کر لیتے ھین بظاھر آپ کو ایک شخص مین نو تادس سوراخ نظر آتے ھین باقی بھی لاکھون کے حساب سے چھوٹے چھوٹے سوراخ ھین سب کے بارے مین نظر دوڑا لیتے ھین
پہلے دو سوراخ آنکھون کے ھین ان سے آپ دیکھتے ھین لیکن ان سے پیپ دار مادہ جس سے آنکھین چپک بھی جایا کرتی ھین وہ نکلتا ھے یا ہھر آنسو نکلتے ھین یہ آنکھ کے فضلے ھین کیا وھی بندہ اسے کھا سکتا ھے قطعی نہین بلکہ شدید کراھت کرے گا
پھر کان ھین جن سے میل کچیل نکلتی ھے کیا آپ وہ میل کھا سکتے ھین قطعی نہین بہت ھی نفرت کا اظہار کرین گے
پھر ناک کے نتھنے ھین جن سے نزلہ پیپ دار مادہ ھی نکلتا ھے یہ بھی گندگی ھے منہ ھے الٹی تھوک بلغم نکلتی ھے نیچے مردون کے دو سوراخ جن سے پیشاب اور پاخانہ نکلتا ھے عورتون کو حیض بھی آیا کرتا ھے ایک اضافی سوراخ ھے یہی بندہ نطفہ کی تخلیق پہلی خوراک یہی حیض اور جب دنیا مین آۓ تو انتہائی خوبصورت شکل تخلیق کن چیزون سے ھوئی پھر دوستو ھزارون لاکھون مسام جن سے س
پسینہ خارج ھوتا ھے وہ بھی نہین کھایا پیا جاسکتا
یعنی انسانی جسم سے اگر نیا بھی سوراخ کردیا جاۓ تو مادہ خون ھی نکلے گا جو بدبو لئے ھوتا ھے ایک بھی مقام دکھا دین جہان سے انسان کے اندر سے کوئی اچھی چیز نکلتی ھو یعنی گندگی کا ڈھیر ھے بندہ پھر بھی اس رب کائینات کا شکر ادا کرنا چاھیے جس نے تمام مخلوقات مین بڑا مقام انسان کو دے دیا یعنی اشرف المخلوقات کا مقام دیا لیکن انسان ھونا بھی سیکھیے انسان ھونا ھی انسان کی معراج ھے انسان کو عاجزی انکساری ھی ججتی ھے نہ کہ تکبر غرور اکڑ یہ صفات انسان کے لئے نہین ھین میری اس ساری بحث سے مراد یہ ھے کہ اگر غلطی ھو جاۓ تو ماننی بھی چاھیے اور ندامت کی کیفیت بھی پیدا ھوتی ھے آج مین آپ کو ایک اور نقطہ بھی بتاۓ دیتا ھون جہان قدیم کتابون مین نبض کے باب مین لفظ تحریر ھوا کرتا ھے بلکہ ایک نبض ھوا کرتی ھے جسے معتدل معتدل معتدل لکھا جاتا ھے یاد رکھین نظریہ مفرداعضاء اسے غدی اعصابی نبض سے جوڑتی ھے اور ندامت کے وقت انسان کی نبض بھی غدی اعصابی ھوا کرتی ھے اور ایک بات اور بھی یاد رکھین پرانی قدیم کتب مین جو آخری نبض بیان ھوئی ھے جو ھر لحاظ سے معتدل ھوا کرتی ھے یہ عام لوگون مین قطعی نبض نہین آتی بلکہ صرف انبیاء کرام مین آتی ھے بلکہ مین کہا کرتا ھون روۓ زمین پہ صرف رسول اللہ صلى الله عليه و سلم کے بغیر کسی مین بھی یہ نبض نہین آئی ھو گی ایک وہ ھستی ایسی ھے جن کا مزاج اتنا معتدل ھوا ھے باقی نہین ھو سکتا اس لئے انسانی جسم مین باقی دنیا کے سب سے معتدل مزاج غدی اعصابی ھی ھوا کرتا ھے
ندامت مین غدد مین انبساط مین پیدا ھو تب ندامت محسوس ھوا کرتی ھے
حقیقت مین اگر مواخذہ کیا جاوے تو معلوم ھوتا ھے کہ ندامت مین جب معمول کو غلطی کا احساس کا ھوتا ھے تو اعصابی قوت مین لطافت پیدا ھوتی ھے اور غدی قوت مین تلملاھٹ سی پیدا ھوتی ھے اور حقیقت مین مزاج غدی اعصابی اور اعصابی غدی کا ملا جلا رجحان پیدا ھوتا ھے اسی لئے کچھ اطباء اسے غدی اعصابی اور بعض اطباء اسے اعصابی غدی مانتے ھین انشاءاللہ باقی بحث غم و خوشی اگلی اقساط مین ھوگی اجازت چاھون گا محمود بھٹہ گروپ مطب کامل

Wednesday, November 28, 2018

تشخيص امراض وعلامات 59

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔تشخيص امراض وعلامات ۔۔۔۔۔قسط نمبر 59۔۔۔۔۔
انسانی جذبات غیر شعوری تحریکات ھین اس لئے جنسی جذبات بھی غیر شعوری سے پیدا ھوتے ھین
یہ وضاحت درج ھے نظریہ مفرد اعضاء کی کتابون مین
جذبہ لذت اعصابی غدی تحریک ھے جس سے اعصاب خصوصا جنسی اعصاب کے فعل مین تیزی پیدا ھو جاتی ھے جس کے ساتھ ھی غدد یعنی خاص کر خصیون مین دوران خون تیز ھو جاتا ھے اور عضلات خصوصا جنسی عضلات پر دباؤ بڑھ جاتا ھے اور حالت انتشار پیدا ھو جاتی ھے جس سے خصیون مین منی کی پیدائش شروع ھو جاتی ھے اور منی کے دباؤ سے انزال کی صورت پیدا ھو جاتی ھے
لیکن ایک بات ضرور یاد رکھین جس بھی مفرد عضو کا فعل تیز ھو گا اس کا عمل شدید ھو گا یعنی ھر کسی کا ایک جیسا انزال نہین ھوا کرتا نقطہ سمجھ لین بہت سے راز آپ کے دماغ مین روشن ھو جائین گے
پہلی بات جس کے اعصاب مین تیزی ھو گی تو سمجھ لین لذت اور جذبات مین تیزی ھو گی یعنی شدت ھو گی
دوسری بات جس کے غدد مین تیزی ھو گی تو منی کی پیدائش اور اس کے دباؤ مین شدت ھو گی
تیسری بات اگر عضلات مین تیزی ھو گی تو سمجھ لین انتشار اور قوت مین بھی شدت ھو گی
یہ ھے فلسفہ جنسی جذبات کا اور اس طرح جنسی جذبات پایہ تکمیل تک پہنچتے ھین
اب ایک بات اور سمجھائے دیتا ھون ایسے سب لوگ جو جنسی جنونی ھوتے ھین اور اکثر معاشرے کا ناسور ثابت ھوتے ھین یہ اس آخری تحریک کے زیادہ شکار ھوتے ھین امید ھے سمجھ گئے ھونگے ھین اب بات کرتے ھین خوف کی
خوف۔۔۔۔۔۔
ھمیشہ سے ایک بات سچ رھی ھے اگر مقابل طاقتور ھے تو جسم پہ خوف طاری ھوا کرتا ھے اگر کسی کے دل سے خوف نامی چیز نکل جاۓ تو مدمقابل بے شک پہاڑ نظر آۓ لیکن کمزور نظر آنے والا اس پہاڑ کو گرا دے گا
جب خوف پیدا ھوتا ھے تو پہلی علامتون مین سے جسم کا رنگ بدلتا ھے خاص کر چہرے کا یعنی زرد ھو جاتا ھے اب بہت سے لوگون سے میرا سوال ھے جبکہ میرے کیے ھوۓ سوال کا جواب بھی مین انہی پوسٹون مین لکھ رھا ھون
سوال۔۔۔ خوف سے رنگ زرد سفید کیون ھوتا ھے آخر نیلا سرخ گلابی بادامی کیون نہین ھوتا۔۔۔۔۔
اب بات آگے لئے چلتے ھین رنگ ماند پڑ جاتا ھے رونگٹے کھڑے ھو جاتے ھین بولنے کی قوت مین ڈگمگاھٹ یعنی لڑکھڑاھٹ یا زبان تھرتھرانے لگتی ھے اگر بندہ کہین جنگل مین رات کو تنہا ھو تو بے ساختہ عجیب و غریب آوازین بھی نکال سکتا ھے
دوستو اس سارے عمل مین اعصابی عضلاتی تحریک کا عمل دخل ھوتا ھے جس کے باعث خوف کے وارد ھوتے ھی نفسانی قوت اندر کی طرف راجع ھوئی عضلاتی قوت کو ماند کردیتی ھے صابر ملتانیؒ نے اپنی کتاب مین خوف کے عمل مین کمی کو رفتہ رفتہ لکھا ھے یعنی یعنی خوف کم آھستہ آھستہ ھوتا ھے یکلخت خوف کم نہین ھوا کرتا جیسے ھی خوف کم ھو گا تو چہرہ سرخ ھو جایا کرتا ھے اس لئے کہ قوت مدبرہ بدن مقابل سے مقابلہ کرنے کی ھمت بندھاتی ھے تو غدد عضلات کسی قدر جوش مین آجایا کرتے ھین جس کے باعث رنگ سرخ ھوا کرتا ھے یاد رھے نظریہ مفرد اعضاء کے قانون کے مطابق خوف کے وقت اعصابی یعنی دماغی خلیات Neurons کی تحریک اجاگر ھو جایا کرتی ھے کیفیاتی لحاظ سے اعصاب کا تعلق عضلات سے ھوتا ھے اس لئے اس حالت مرکبہ کو اعصابی عضلاتی کے نام سے پکارا جاتا ھے اور یہی اعصاب کی فاعلہ تحریک ھے
یاد رکھین خوف کی حالت مین دماغ پہ اس قدر دباؤ یعنی پریشر بڑھتا ھے کہ اس کی مثل کے خلیات Nerons اپنی نوع کے فالتو خلیات پیدا کرتے ھین جس کی وجہ سے رطوبات وافر مقدار مین افراز ھوتی ھین اس طرح رطوبات کا زیادہ پیدا ھونا اور خون کی ماھیت کو تبدیل کرنا جسم مین سردی اور کپکپی پیدا کردیتا ھے یاد رکھین سردی اور رطوبات کی یہی شدت جگر کی رطوبات یعنی صفرا و گرمی کو مغلوب کیے رکھتی ھے اور معلول کے جسم کی جرات بالکل ھی ختم ھوجایا کرتی ھے دوستو یہ جتنے بھی نقطے مین نے لکھے ھین انہین ازبر کر لین زندگی بھر کام آئین گے انشاءاللہ باقی جذبات کی تشریح اگلی اقساط مین بیان کرون گا
محمود بھٹہ گروپ مطب کامل

Tuesday, November 27, 2018

تشخيص امراض وعلامات 51

۔۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔تشخيص امراض وعلامات۔۔۔قسط نمبر51۔۔
آج نبض غدی اعصابی اور اعصابی غدی دونون کا ھی کرون گا
غدی اعصابی ۔۔۔
یہ نبض نہ طویل نہ عمیق نہ ھی عریض ھوتی ھے مگر اس کا رجوع قعر کی جانب ھوا کرتا ھے ایسی نبض کا حامل شخص حواس مین سستی بوجھل جسم نیند کا غلبہ ذائقہ نمکین پیشاب مین جلن جگر گردے امعاء جسم مین سوزش سر اور شانون پہ بوجھ درد کمر کا بوس لیسدار لیکوریا نزلہ حار سرعت انزال سلسل بول مروڑ پاخانہ مین آؤن کا آنا ضعف معدہ ھاضمہ بھوک کی کمی سوزاکی زھر جیسے عوارضات پاۓ جاتے ھین باقی اس مزاج مین خطرناک امراض بہت ھی کم ھوا کرتی ھین حرقت البول پیشاب مین پتھری کا اخراج سوزش و ورم گردہ شدید ۔ بائین گردے مین جلن پیشاب زرد سفیدی مائل جلن سے رک رک کر آتا ھے غدد ناقلہ مین تحریک ارادی عضلات مین تحلیل اور حکم رسان اعصاب مین تسکین ھوا کرتی ھے
اب بات کرتے ھین اعصابی غدی نبض کی
اعصابی غدی۔۔۔۔یہ نبض باقی تمام نبضون کی نسبت کلائی کے قعر مین واقع ھوتی ھے اسی لئے اسے نبض منخفض کہتے ھین قوتون کے فنا ھونے کے قریب رفتار نملی نبض یعنی چیونٹی کی مانند دکھائی دیتی ھے اس لئے اسے نبض دودی نملی بھی کہتے ھین
اس نبض مین اعصابی دردین ھیضہ شدت قے ۔۔شدت اسہال محرقہ دماغی ۔ بے ھوشی ۔ کثرت رطوبات زکام جریان ۔غیر ارادی طور پہ پیشاب کا اخراج ۔۔قلت خون ۔ کثرت بلغم مگر خارج نہ ھوتی ھو ۔ ضعف باہ ۔ نامردی کی حد تک اصل شوگر ۔ یعنی جو شوگر کے مریض یہ کہتے ھین کہ نہ کبھی انتشار آتا ھے نہ ھی خیال آتا ھے اگر کبھی آبھی جاۓ تو فورا ختم بھی ھو جایا کرتا ھے وہ لوگ اسی مزاج کے مالک ھوا کرتے ھین۔۔بول فی الفراش ۔۔دل کا ڈوبنا لمس نبض مین نرمی وسردی ھوا کرتی ھے قویٰ مین کمزوری کے ساتھ اس نبض مین فترہ آنے لگ جاتا ھے اور یہ بہت ھی خطرناک ھوا کرتا ھے عموما ھارٹ فیل اور حرارت غریزی کا جسم مین مکمل اخراج ھو جانے سے موت واقع ھوتی ھے بہت ھی خطرے ھوتے ھین اس نبض مین
آئیے آج مزاج کے اعتبار سے مختصر تشریح ولب لباب بیان کرتے ھین
نمبر١۔۔اعصابی عضلاتی تحریک
خلط۔۔بلغم خالص
تشریح ۔۔اعصاب کی مشینی تحریک ھے جس مین بلغم آسانی سے خارج ھوا کرتی ھے
٢۔ تحریک ۔۔۔عضلاتی اعصابی
خلط۔۔۔سودا خام
تشریح ۔۔سوداوی مادہ کیمیاوی طور پہ تیار ھوتا ھے اور خون مین سرایت کرتا رھتا ھے مگر اپنے مجاری سے خارج ھونے کا نام بھی نہین لیتا
٣۔۔تحریک عضلاتی غدی
خلط۔۔۔سودا خالص
تشریح ۔۔سوداوی مادہ اپنی کیمیاوی کیفیت کو مکمل کرنے کے بعد اپنا ناطہ صفرا سے جوڑ لیتا ھے اس لئے اپنے مجاری سے مادے کو خارج بھی کرنے لگتا ھے
٤۔۔تحریک غدی عضلاتی
خلط ۔۔صفرا خام
تشریح ۔۔یہان سوداویت تو مغلوب ھو چکی ھوتی ھے یعنی اس کا خاتمہ بالخیر ھو چکا ھوتا ھے اور اب صفرا غالب ھے مگر یاد رکھین اس کیفیت مین صفراء مادہ سودا کی خشکی کے باعث خون مین سرایت کرتا رھتا ھے اور جسم کا رنگ زرد کرتا رھتا ھے اور صفرا اپنے مجاری سےخارج ھونے کا نام تک نہین لیتا
٥۔تحریک ۔۔ غدی اعصابی
خلط۔۔ صفرا خالص
تشریح ۔۔۔ اس تحریک مین صفرا کا ناطہ بلغمی مادے سے جڑ چکا ھے سوداوی مادے سے جان چھوٹ چکی ھے یعنی خشکی کی جگہ تری نے لے لی ھے تو اس مین صفرا پیدا ھونے کے ساتھ ساتھ اپنے مجاری سے خارج بھی ھورھا ھوتا ھے
٦۔۔اعصابی غدی تحریک
خلط۔۔۔بلغم خام
تشریح ۔۔اس تحریک مین بلغمی مادے کا تعلق ابھی صفرا سے ھے اس مین بلغمی مادہ اپنے مجاری سے خارج ھونے کا نام بھی نہین لیتا بلکہ دھرنا دے کر بدن مین بیٹھ ھی جاتا ھے اپنے مجاری کی طرف نہین جاتا
اب ذرا مواخذہ سب تحریکون کا کرتے ھین
جب بھی کسی مادے کا تعلق اپنے پچھلے مزاج کے مادے سے ھوتا ھے تو موجودہ مادہ بدن سے قطعی خارج نہین ھوتا اور یہ کیفیت ھمیشہ خطرناک امراض کا باعث ھوتی ھے مادے کا اعتدال یا جسم سے خارج اس وقت ھی ھوتا ھے جب اس کا تعلق مستقبل سے جڑ جاتا ھے یعنی اگلے مادے سے تعلق پیدا ھوجاتا ھے تو وہ اپنے مجاری سے خارج ھوتا رھتا ھے یعنی زائد خارج بھی ھو گا اور خالص مادہ جو جسم کی ضرورت ھو گا وہ بدن مین رہ بھی جاۓ گا یعنی تین مزاج اعصابی غدی ۔۔عضلاتی اعصابی ۔۔غدی عضلاتی یہ بدن کے خطرناک ھوتے ھین بشرطیکہ اگر خود ھی پیدا ھوۓ ھون اگر طبیب دوا دے کر عارضی طور پہ یہ مزاج پیدا کرتا ھے تو کچھ حرج نہین ھے لیکن یاد رھے ان مزاجون کی دوائین لمبا عرصہ نہین کھلائی جاسکتی ورنہ مزاج مستقل ھونے سے یہ کیفیت بھی خطرناک ھو جایا کرتی ھے کیونکہ اس صورت حال سے بھی مزاجاً تعفن پیدا ھوا کرتا ھے جو نئی امراض کا باعث بن جاتا ھے اکثر اطباء سم الفار کچلہ یا دیگر کشتہ جات کا بے دریغ استعمال کرکے مزاجی اعتبار سے بدن کی اصل کیفیت تباہ کرتے ھین اور بندہ موت کے منہ مین چلا جاتا ھے طبیب شفا کی تلاش مین رھتا ھے اور بندہ قضا ھو جاتا ھے پھر اتنے سے الفاظ مین بات ختم ھوجاتی ھے بس جی اللہ کا جو حکم ھم نے تو ھر ممکن علاج کیا یاد رکھین روز محشر حساب کتاب ھو گا اور یہ آپ کے ذمہ ھے اور اس بات کو بھی ذھن مین رکھین یہ بات قطعی طور پہ غلط ھے کہ طب یونانی کی ادویات تو بےضرر ھین یہ بات بالکل غلط ھے طب کی دواؤن کے بھی اسی طرح سائیڈ ایفیکٹ ھین جیسے ایلوپیتھی کی ادویات کے ھین اور ھیوموپیتھی کی ادویات بھی اتنی ھی خطرناک ھوتی ھین
دوا کا استعمال مزاج جانچے بغیر قطعی نہ کرین کیفیات کو مدنظر رکھین اگر مرض مشینی تحریک مین ھے آپ کو ضرورت ھے کہ کیمیائی تحریک پیدا کرنے سے صحت بحال ھو گی تو عارضی طور پہ کیمیائی تحریک پیدا ضرور کرین اب صحت کے لئے لازم ھے اس موضوع پہ پچھلی اقساط مین مضمون لکھ چکا ھون انشاءاللہ مختصر تشریح کل پھر کر دونگا تاکہ آپ کو یاد تازہ ھو جاۓ کہ کیمیائی تحریک اور مشینی تحریک جسم پہ کیا اثرات چھوڑتی ھین نہ مزاج کی پہچان مشکل ھے نہ مرض کی پہچان مشکل نہ ھی علاج مشکل ھوتا ھے کوئی بھی مرض ھو اس کا پہچاننا آسان کام ھے لیکن یاد رکھین سمجھ بہت مشکل ھے اگر آپ مرض اور بدن کی کیفیت سمجھتے ھی نہین ھین تو کیونکر صحت بحال کر سکتے ھین انشاءاللہ کل کی قسط کے بعد بدن کی تقسیم پہ لکھین گے اور نبض کی تقسیم پہ لکھین گے ایک انچ جگہ پہ ھی کیون نہ مرض ھو آپ سمجھین گے تو آپ کو پتہ چل جاۓ گا نہین سمجھین گے تو نہین پتہ چلے گا انشاءاللہ مضمون اب بہت ھی اھم حصے مین داخل ھونے والا ھے بار بار پڑھنے سے ھی سمجھ آۓ گا

تشخيص امراض وعلامات 58

۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔تشخيص امراض وعلامات ۔۔۔قسط نمبر 58 ۔۔۔
آج ھماری بحث وتکرار قوت غضبی کے بارے مین ھے
قوت غضبی مین افراط تفریط اور ردات کو بالترتیب غضب ۔۔جبن یعنی بددلی ندامت ھتک اور خوف کی کیفیات سے مرتب کرتے ھین
غضب وغصہ حقیقت مین قوت غضبی تحریک غدی کا نتیجہ ھین یا یون سمجھ لین غضب وغصہ غدی کی کیمیائی تحریک غدی عضلاتی سے پیدا ھوتی ھے اور آپ جانتے ھین اس تحریک مین صفرا پیدا تو ھوتا ھے لیکن اپنے مجاری سے خارج نہین ھوتا اسی وجہ سے طبیعت مین جوش وغضب پیدا ھوتا ھے یاد رکھین اس مین انسان انتہائی دلیرانہ اقدام اٹھانے سے بھی گریز نہین کرتا چاھے وہ موت کی آغوش مین ھی کیون نہ چلا جا ۓ اور یہ بات بھی یاد رکھین یہ غدد کی انقباضی کیفیت سے ھوتا ھے اور اس بات کو بھی ذھن مین رکھین جو نظام غدد کی انبساطی کیفیت ھے اس مین ندامت ھتک اور بددلی جیسی کیفیات پیدا ھوتی ھین ایک تجربہ میرا بارھا آنکھون دیکھا بھی ھے آپ کو بھی بتاۓ دیتا ھون قاتل جب قتل کرتا ھے اس وقت یا اس سے تھوڑی دیر بعد تک انتہائی جوش جنون مین ھوتا ھے اس وقت وہ قتل کا اعتراف بڑے ھی جوشیلے اور بلند آواز سے کرتا ھے اور بدن مین جو دوسری کیفیت دیکھنے کو ملتی ھے آنکھون کی سرخی جسم کا کجھلانا سر پہ بار بار ھاتھ سے رگڑنا پھر کچھ دیر بعد جب وہ اس کیفیت سے نکلنے لگتا ھے تو پیٹ مین مروڑ کی شکایت بھی کرتا ھے بعض کو جسم پہ شدید کجھلی ھوتی ھے پھر آھستہ آھستہ یہ کیفیت جاتی رھتی ھے پھر حقیقی خوف اور ندامت کی کیفیت پیدا ھوجایا کرتی ھے اب قاتل خاموش ھوجاتا ھے اور اکثر زمین پہ بیٹھ کر گردن ڈال دیا کرتے ھین زمین پہ لکیرین کھینچ رھے ھوتے ھین خیر آگے سب جذبات کی اصلیت لکھتا ھون یہان آپ کو یہ سمجھانا مقصود تھا غضب وغصہ روح اور خون کے جوش مین آنے کا نام ھے اور یہ بات بھی یاد رکھین اس سب کی ابتدا یا بنیاد انتقام کی خواھش سے ھوتا ھے خواھشین تو انسان مین بے شمار ھوتی ھین یاد رکھین جب بھی کسی خواھش مین شدت پیدا ھوتی ھے تب اس خواھش کو پورا کرنے کی ٹھانتا ھے جوش وغضب انتقام خواھش کی شدت سے یہ تحریک پیدا ھوتی ھے
علامہ جلال الدین دوانی نے اس کو یون تعبیر کیا ھے ::: وہ فرماتے ھین غضب کی ترقی سے نور عقل مستور ھو جاۓ گا ::
جبکہ حکماء نے اس کی مثال یون دی ھے ۔۔۔ترقی غضب مین گھرے انسان کو ایسے غار سے تشبیہ دی ھے جو آگ اور دھوئن سے بھرا ھو اور سواۓ غوغا اور شعلون کے اور کوئی چیز اس مین معلوم نہ ھو
ایسی حالت مین علاج کچھ اس صورت مین ھو سکتا ھے کہ اگر مریض بیٹھا ھوا ھے تو اسے کھڑا رھنے کی تلقین کرین سرد پانی پینے کی ھدایت کرین بشرطیکہ اسے بدنی نقصان نہ کررھا ھو حدیث مبارکہ ھے بار بار وضو کرنے کی ھدایت کرین اب دیکھ لین حدیث مبارکہ مین کتنا بڑا فلسفہ پوشیدہ ھے اور نیند لینے کی بھی ھدایت ھے اب طب جدید مین علاج بہت ھی آسان ھے مقام تسکین کو تحریک دے دین صحت انشاءاللہ بحال ھوجاۓ گی
لفظ جذبات تو ھر کوئی سمجھتا ھے لیکن جذبات سمجھنا ھر کسی کے بس کی بات نہین ھے جذبات کسے کہتے ھین ان کی تقسیم کیا ھے کونسا جذبہ کس مزاج کے تحت ھے اب اگلا ھمارا موضوع یہی ھے جو انتہائی دلچسپ بھی ھے
جذبات کو طبی طور پر بھی نفسیاتی طور پر بھی تین حصون مین تقسیم کیا جاتا ھے یاد رھے جذبات کی ھر مفرد عضو یعنی اعضائے رئیسہ کے حساب سے تو جذبات کی تین قسمین ھی ھوئین لیکن ھر قسم کے دو دو پہلو ضرور ھین یا دوسرے لفظون مین یون سمجھ لین جذبات کی کل چھ قسمین ھین یعنی ایک جذبہ کا تعلق جب مفرد عضو کی خلیاتی اکائی سے قائم ھو کر جب دوسرے مفرد عضو کے خلیاتی اکائی سے جڑتا ھے تو ایک علیحدہ جذبہ پیدا ھوتا ھے اب اس طرح چھ اقسام بنتی ھین اب ھم پہلے بھی تشریح کر چکے ھین نفسانی قوت ۔۔۔غضبی قوت ۔۔شہوی قوت کی ۔۔اب ان کے تحت ھی دو دو جذبے ھین
1۔۔۔۔۔اعصابی یا نفسانی قوت
١۔اعصابی غدی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لذت
٢۔۔اعصابی عضلاتی ۔۔۔۔۔خوف
2۔۔۔غدی یا غضبی قوت
١۔۔غدی عضلاتی ۔۔۔غصہ
٢۔۔غدی اعصابی ۔۔۔ندامت
3۔۔۔عضلاتی یا شہوی قوت
١۔۔عضلاتی اعصابی۔۔۔غم
٢۔۔عضلاتی غدی ۔۔۔۔ مسرت
اب ھم پہلے مذکورہ جذبے لذت کی بات کرتے ھین
لذت۔۔۔سب سے پہلے ایک غلطی کی نشاندھی
بہت سے کتب مین لذت کو عضلاتی اعصابی تحریک کے تحت لکھا گیا ھے تو ان سے معذرت
کیونکہ عضلاتی اعصابی تحریک مین کثرت شہوت ھوا کرتی ھے لیکن یاد رکھین انزال کے وقت کی کیفیت اعصابی غدی ھی ھوا کرتی ھے اگر کیفیت عضلاتی اعصابی سے ھی قائم رھے تو بندہ خداانزال تو ھو ھی نہین سکتا اور آپ اسے لذت کا نام نہین دے سکتے بلکہ زحمت ومرض مین شمار کرین گے اور اس کو اعصابی عضلاتی لکھنے والے جان لین بلکہ تحریک پہ دھیان دین تو بات سمجھ آۓ گی انزال کے وقت بجائے لذت کے درد محسوس ھو گا اور لذت اور درد دو علیحدہ کیفیات ھین شاعرون کی باتین نہ مان لین جو وہ درد کا حد سے گزر جانا کی بات کرتے ھین وہ تو صرف لفظون کی کہانی ھے شاعر پتہ نہین شعر کا وزن اور قافیہ ردیف ملاتے ملاتے طرح مصرع کی اصلاح کرتے کرتے حقائق کا بیڑا غرق بھی کردیا کرتا ھے یاد رکھین جذبات کا ذکر کرتے کرتے خود جذبات مین نہ بہہ جایا کرین یہ طب ھے دوستو یہان صرف حقائق اور تجربات ھی کام آتے ھین ایسا نہ ھو کل کلان کو آپ کسی مرض کا علاج کسی شعر کے ورد سے کرتے پھرین اور مریض سے کہتے پھرین کہ بھئی آپ فلان جذبے کا شکار ھو گئے ھین آپ اس شعر کو ھزار بار دہرائین انشاءاللہ نجات مل جاۓ گی بلکہ مجھے شک ھے کہ کہین عضلاتی اعصابی شعر کی تلاش نہ شروع ھو جاۓ تاکہ انزال ھی نہ ھو پھر اعصابی غدی شعر کہنے والا شاعر جواب نفی مین نہ دے دے خیر شاعرون سے معذرت ان الفاظ پہ بلکہ محسوس نہ کرنا کبھی ھم نے بھی اس دشت مین گھوڑے دوڑاۓ ھین یعنی شاعری کی ھے لاشعوری نہین بلکہ شعوری تحریک مین شاعری کی
انشاءاللہ لذت کے جذبہ کی تشریح اگلی قسط مین اگر کسی کی دل آزاری ھوئی ھو تو پھر معذرت
محمود بھٹہ گروپ مطب کامل

Monday, November 26, 2018

۔تشخيص امراض وعلامات 50

۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔تشخيص امراض وعلامات ۔۔۔۔قسط نمبر50۔۔
اللہ تعالی بڑے ھی رحمان ھین مجھے ھمت دی اور آج پچاس اقساط پوری ھوئی ھین مجھے یہ مضمون لکھنا بڑا ھی مشکل کام لگا ایک تسلسل سے لکھنا اتنا بھی آسان کام نہین ھے بہرحال ذات باری کی مدد شامل رھی مستقل مزاجی اور شروع سے ھی لکھنے کی عادت کام آئی دعا کرین اللہ تعالی مجھے مضمون مکمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے
آج ھمارا موضوع غدی عضلاتی تحریک کی وضاحت ھے
غدی عضلاتی ۔۔۔اس نبض مین طول کو دیکھا جاتا ھے جو حرارت کے باعث پیدا ھوتا ھے اور جو سابقہ نبض عضلاتی غدی مین شرف تھا یعنی بلندی تھی وہ حرارت کے باعث کچھ کم ھو گیا ھے اس نبض کے قرع مین اگر قوت نہ ھو تو سمجھ لین ضعف واضمحلال پہ دلالت کررھی ھے یعنی دبانے سے بغیر دقت کے دب جاۓ
اب ایک بات یاد رکھین یہ نبض نہ تو مشرف ھوتی ھے اور نہ ھی منخفض ھوتی ھے بلکہ بالکل ھی درمیان مین ھوتی ھے یعنی اگر عضلاتی نبض ھے تو طبیب نبض پہ ھاتھ رکھتے ھی اس کی ٹپکن محسوس کرے گا اگر اعصابی ھے تو اچھا خاصا اپنی انگلیون کو دباۓ گا تب جا کر نبض محسوس ھو گی غدی نبض تھوڑے سے دباؤ سے محسوس ھوتی ھے
اب نبض غدی عضلاتی کی تشریح سمجھین جب گرمی کا تعلق عضلات کی خشکی وریاح سے ھوتا ھے مگر اس کا اخراج درست طریقہ سے نہین ھورھا ھوتا بلکہ صفرا کی رکاوٹ سے یرقان ۔۔سوءالقینہ ۔۔حدت جلن بخار ۔۔استسقاء کا امکان پاؤن اور ھاتھون مین جلن نیز گلا حلق سینہ آنتون مثانہ وپیشاب مین بھی جلن پائی جاتی ھے یاد رھے اگر یہ نبض درمیانی انگلی پہ قرع دے یعنی درمیانی انگلی کے بالکل وسط مین ٹھوکر لگاۓ تو یقینی طور پہ سوزاکی نبض ھے پیشاب مین جلن اور درد کا پایا جانا لازمی ھوتا ھے گاھے گاھے کچھ مریضون مین پہلے پیشاب دو دھاری خارج ھوا کرتا ھے بعد ازان ایک ھی دھار مین خارج ھونا شروع ھوجاتا ھے اب ھوتا یہ ھے پیشاب کے اخراج سے وہ رطوبت جو نالی کے منہ پہ جمی ھو اسے خارج ھونے مین تھوڑی دیر لگا کرتی ھے
یاد رکھین غدی عضلاتی کیمیاوی تحریک ھے درد گردہ ورمی ۔۔پتھریان وسوزش و ورم گردہ جلن مثانہ بول الدم تصغر گردہ تقطیر البول سوزاک بندش بول البیومن کا اخراج پیشاب زرد سرخی مائل جلن سے آتا ھے غدد جاذبہ مین تیزی اور غیر ارادی عضلات مین تحلیل اور حسی اعصاب مین تسکین ھوا کرتی ھے
اس کے علاوہ التہاب باریطون ۔۔ذات الجنب ۔ تپ محرقہ ۔۔۔سوزش وجلن بے چینی خصیتہ الرحم طمث وحیض مین بے قائدگی اور درد بعض دفعہ ایک ماہ مین دو تین دفعہ حیض ھو جایا کرتے ھین استحاضہ کی کیفیت ۔۔خفقان ضعف قلب ۔ پھیپھڑوں دل اور معدہ مین سوزش دم پھولنا پٹھون کا کمزور ھونا سن ھونا سدہ شریانی ۔ ھائی بلڈ پریشر ۔ ابتدائی اورام بشرطیکہ نبض وسط مین ھو یعنی طویل کے بجاۓ قصیر ھو تو تپ لرزہ جریان خون اندرونی زخم وجع القلب ھوتے ھین
اگر نبض باریک اور تنگ بھی ھو تو تپ محرقہ التہاب باریطون ذات الجنب ھو سکتے ھین
اگر نبض مین سختی آجاۓ تو لازمی طور پر ذات الریہہ رعشہ یا گردون کے امراض ھو سکتے ھین
مین نے کوشش کی ھے کہ آپ کو ھر وہ مرض بتا سکون اور نبض کی وہ کیفیت بھی بتا سکون جو غدی عضلاتی نبض مین عام طور پہ آسکتے ھین انشاءاللہ آگے چل کر آپ کو سر سے لے کر پاؤن تک ھر مرض کی نبض سے آگاہ کرون گا تاکہ آپ کو سمجھنے مین آسانی ھو جاۓ باقی مضمون انشاءاللہ آئیندہ گروپ مطب کامل کی زینت بنے گا اللہ حافظ

Sunday, November 25, 2018

شہد کا معجونات مین استعمال

۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔شہد کا معجونات مین استعمال ۔۔۔۔۔
کل مجھے ایک میسج میرے ایک محترم دوست نے کیا جس مین شہد کا استعمال کسی معجون مین نہ کرنے کے بارے مین سوال تھا ان کا فرمانا تھا بعض لوگون کو شہد موافق نہین ھوتی کیا کیا جاۓ اسی وقت میرے ذھن مین چند سوالات شہد کے بارے مین آۓ آئیے آپ کو بھی آگاہ کرتا ھون
یہ تو سبھی جانتے ھین کہ شہد کا استعمال ھزارون سال سے ھے میری کچھ عرصہ دلچسپی فرعونیات کے مضامین مین بھی رھی جہان تک ممکن ھو سکا اسے پڑھا اب اس دور کی تہذیب تمدن رسم ورواج معاشرتی تخلیق وقانون وبادشاھت فرعون پہ مطالعہ رھا وہ تو ھمارا موضوع نہین ھے لیکن اس مین ایک دلچسپی کی بات آپ کے لئے بھی ھے اس زمانہ مین بھی محقیقین پنسلین یعنی اینٹی بائیوٹک سے آگاہ تھے اس دور مین نزلہ زکام وبائی امراض وبخار کے لئے ایک دوا تیار ھوتی تھی جس کا رزلٹ اپنے وقت مین جادوئی سمجھا جاتا تھا
ایک روٹی خمیر شدہ تیار کی جاتی جسے پانی مین بھگو کررکھ دیا جاتا دو چار روز مین اس پہ پھپھوندی شدید قسم کی لگ جاتی تھی یاد رکھین یہ پھپھوندی ھی پنسلین ھوا کرتی ھے اب اس روٹی کو خشک کیا جاتا سوکھنے کے بعد اس پہ شیر کی چربی لگائی جاتی اور پھر سفوف بنا کر اس مین شہد شامل کرکے معجون بنا کر محفوظ کرلیتے اور بوقت ضرورت اسے استعمال کرتے
میرا یہ مقصد ھرگز نہین ھے کہ وہ لوگ علمی میدان مین کہان تک پہنچے ھوۓ تھے ھان یہ پتہ ضرور چلتا ھے وہ لوگ شہد کی افادیت سے آگاہ تھے لاشون کو حنوط کرنا اس دور کا رواج اورایجاد ھے بلکہ ان کے عقائد کا حصہ ھین اور لاش کوحنوط کرنے کیلئے وہ لوگ سوڈیم بنزوویٹ یعنی ست لوبان اور شہد مین لتھڑی پٹیان ھی لپیٹا کرتے تھے جو آج بھی ھزارون سال گزرنے کے باوجود بالکل درست ھین اس ساری گفتگو مین میرا ایک مقصد پنہان تھا طب مین ایک دوا معجون کی شکل مین ھے کیا آپ جانتے ھین کہ کیون ھے؟
اب اسی دوا کو بطور سفوف یا گولی یا کیپسول کی شکل مین بھی لایا جا سکتا ھے لیکن معجون کیون بنانی گئی تو دوستو اس سوال کا جواب کچھ یون ھے
١۔۔نباتات کچھ عرصہ بعد اپنے اثرات کھو دیتی ھین اب ساتھ شہد مل جانے سے لمبے عرصہ کے لئے اپنی افادیت پہلے دن والی برقرار رکھتی ھین
٢۔۔۔شہد مین انتہائی اعلی نسل کے ھرقسم کے وٹامن ھین ان کے اثرات انسانی جسم پہ خوشگوار ھوتے ھین یعنی ھر معجون مقوی بھی کچھ نہ کچھ ھوتی ھے
٣۔۔۔شہد دنیا کا سب سے بہترین اینٹی بائیوٹک بھی ھے اب یہ اثر بھی معجون مین ھوتا ھے
٤۔۔۔شہد کے مل جانے سے دوائین بہت حد تک خراب ھونے سے محفوظ ھو جاتی ھین
یاد رکھین کوئی بھی معجون بغیر شہد کے کبھی بھی مکمل نہین ھوتی آجکل کے حکماء خود کو ذھین فطین ثابت کرتے ھوۓ گلوکوز اور چینی کا قوام کرکے معجون بناتے ھین جو کسی صورت مین بھی معجون یا دوا کہلانے کی حقدار نہین ھوتی اسی وجہ سے دواخانون پہ اعتماد نہین رھا اس سے بہتر ھے آپ معجون کے نسخہ کا سفوف بنا کر مریض کو کھلا دین یا پھر بہترین طریقہ یہ ھے کہ آپ شہد کے موسم مین اپنی ضرورت کے مطابق شہد خالص اکھٹی کرلیا کرین
اب اس مین شفائی اثرات اسلام کی رو سے کتنے ھین وہ آپ سب جانتے ھین آپ کو پتہ ھے نا؟ کہ جب جنت کا ذکر آتا ھے تو ساتھ شہد اور دودھ کی نہرون کا ذکر آتا ھے اب اس مین ایک بہت بڑا فلسفہ ھے جہان جنت مین حورون کا ذکر ھے وھان شہد اور دودھ کا بھی ذکر ھے اللہ تعالی نے جنت کی غذاؤن مین ان کو افضلیت کیون دی اس بارے مین کوئی عالم دین ھی وضاحت فرما سکتے ھین شہد کے بارے مین سوال مجھ سے محترم پیر اویس علی چشتی صاحب نے کیا تھا وہ بہترین عالم دین بھی ھین مین ان سے ھی گزارش کرون گا کہ وہ تھوڑی وضاحت فرما دین

خالص قلمی شورہ تیار کرنا

۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔خالص قلمی شورہ تیار کرنا ۔۔۔۔۔۔۔۔
دو روز ھوۓ کسی نے یہ سوال کررکھا تھا بلکہ پوسٹ لکھی ھوئی تھی جس کا جواب کسی نے بھی نہین دیا بلکہ کچھ نے لاعلمی کا بھی اظہار کررکھا تھا مجھے بہت حیرت ھوئی اور کچھ نہین تو ھمارے گروپ مطب کامل مین بہت سے کیمیاء گر بھی موجود ھین اب یہ کیمیاء کا تو بہت ھی اھم جزو ھے اس کے بغیر کیمیاء گری کا تو سوال ھی پیدا نہین ھوتا چند ھی چیزین ھین کیمیاء گری کے لئے پارہ قلمی شورہ گندھک نوشادر وغیرہ اور مزے کی بات ھے قلمی شورہ خالص بازار مین قطعی دستیاب ھی نہین ھے سب جانتے ھین صرف ٹکرین مار رھے ھین آئیے آج اس راز سے پردہ اٹھاتے ھین مین نے تین روز پہلے قلمی شورہ خود سے تیار کیا ھے میرے پاس ختم ھو چکا تھا بہت ھی اعلی کوالٹی کی قلمین بنی ھین آجکل موسم ھے سب دوستون کو دعوت ھے وافر مقدار مین بنائین خود بھی استعمال کرین اور دوسرون کو بھی دین پہلے جو قلمی شورہ بازار مین دستیاب تھا اسے بنانے کا طریقہ یہ تھا شور زدہ زمین پہ چھوٹا سا کنوان کھودا جاتا تھا اور اس کنوین سے شور زدہ پانی نکال کر اس کا سیر شدہ محلول بنایا جاتا تھا اور پھر اس کا قلمی شورہ بنتا تھا اسے بھی آپ مکمل خالص نہین کہہ سکتے تھے کیونکہ اس مین بھی بہت سی کثافت جو زمینی پانی کی نمکیات کی شکل مین ھوتی ھے ملی ھوئی ھوتی ھے ایک بات مین دعوے سے کہتا ھون گروپ مطب کامل مین اس وقت اکاون ھزار سے اوپر ممبر ھین ان کو بھی چھوڑین بلکہ پورے پاکستان اور انڈیا مین اس دور کا کوئی بھی طبیب یا کیمیاء گر جس نے قلمی شورہ دیکھا یا استعمال کیا ھو اس نے آج تک خالص قلمی شورہ نہ ھی دیکھا ھے اور نہ ھی استعمال کیا ھے جو بازار مین کمپنی کا تیار شدہ ایک نمبر قلمی شورہ دستیاب ھے وہ بھی سواۓ کیمیکل کے اور کچھ نہین ھے مصنوعی طریقہ سے بنایا جاتا ھے انشاءاللہ جو طریقہ بتانے لگا ھون یہ دنیا کا سب سے خالص قلمی شورہ بنے گا آئیے اب بات کو سمجھین
شور زردہ زمین سے وافر مقدار مین سفید شور جو زمین کے اوپر سفید تہہ سی بنا چکا ھو اسے صاف ستھرا حاصل کرین یعنی اوپر اوپر سے اٹھا لین مٹی کسی صورت شامل نہ ھونے دین اب اس مین چار گنا پانی شامل کرین پتا ھے کونسا پانی شامل کرنا ھے صرف بارش کا پانی شامل کرنا ھے اب بہت سے لوگ کمنٹس مین یہ سوال کرین گے کہ کیا فلٹر والا پانی یا نہر کا صاف پانی یا کسی اور طریقے سے صاف شدہ پانی شامل نہین کرسکتے تو جناب قطعی نہین شامل کرنا صرف بارش کا پانی اس مین شامل کرنا ھے یہ واحد پانی ھوتا ھے جس مین نمکیات شامل نہین ھوتے باقی آپ بے شک روئی کا باقائدہ فلٹر بنا کر اس سے پانی فلٹر کر لین اس مین نمکیات شامل رھتے ھین ھان ایک طریقہ ھو سکتا ھے پہلے فلٹر کرین پھر عرق نکالنے والے قرع انبیق مین ڈال کر اس کا عرق نکال لین یہ بڑی حد تک صاف ھو جاتا ھے میری ان سب باتون سے مراد یہ ھے جو پانی آپ نے اس شور مین شامل کرنا ھے وہ زیرو ھونا چاھیے بن تو دوسرے پانی سے بھی جاۓ گا لیکن نمکیات شامل ضرور ھونگے
اب جب آپ نے اس حاصل شدہ شور کو پانی مین حل کردیا ھے پھر بھی احتیاطً اسے روئی کی مدد سے فلٹر کردین یا کم سے کم موٹے کپڑے سے چھان لین اب اس کو آگ پہ چڑھا دین اور اتنا ابالین کہ اگر آپ نے کلو شور ڈالا تھا تو ساتھ کلو ھی پانی رہ جاۓ اب اسے آگ سے نیچے اتار کر رکھ دین کسی محفوظ جگہ پہ ڈھانک کر رکھ دین بلکہ رات کو باھر ٹھنڈی فضاء مین رکھین صبح دیکھین گے تو اس مین نیچے تہہ مین بے شمار شیشے کی طرح قلمین بنی ھوئی ملین گی اب اوپر والا پانی اتار دین اور قلمون کو دھوپ مین خشک کر لین یہ آپ کا قلمی شورہ نایاب قسم کا تیار ھو گیا ھے اب جہان چاھے استعمال کرین جہان بھی قلمی شورے کی آپ کو ضرورت ھے یہ ھے خالص ترین قلمی شورہ

Friday, November 23, 2018

تشخيص امراض وعلامات 57

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔تشخيص امراض وعلامات ۔۔۔۔۔قسط نمبر 57۔۔۔۔
الحمداللہ اب اللہ تعالی نے ھمت عطا فرمائی تو کچھ دن سے روزانہ کے حساب سے قسط لکھ رھا ھون اور مضمون بھی لمبا ھی ھوتا جارھا ھے ختم ھونے کے ابھی کوئی آثار نہین بہت سے دوست اس بارے روزانہ سوال کیے دیتے ھین کہ کب مضمون مکمل ھو تو ھم پی ڈی ایف فائل بنانا چاھتے ھین اور کچھ کا خیال ھے باقاعدہ کتابی شکل مین شائع کیا جائے دوستو سب کچھ کردین گے کتابی شکل مین بھی کردین گے خریدار کتنے ھین چند ایک باقی کہان لے جاؤن کتابین یہ بات مجھے بتائین اس مضمون سے چند ایک کو دلچسپی ھو سکتی ھے ھر کسی کو نہین ھو سکتی یہ کونسا قوت باہ کا نسخہ ھے کہ لوگون کو باری نہ آۓ کمنٹس دینے مین ۔۔۔۔۔ اس کے باوجود گروپ مطب کامل کے دوستو کا جو مشورہ ھو گا اس پہ عمل کیا جاۓ گا کیونکہ اس مضمون کےوارثان مین گروپ مطب کامل کا ھر وہ قاری ھے جس نے اسے مستقل طریقہ سے پڑھا ھے باقی چند ایک دوستون کو سابقہ اقساط نہین مل رھی تو میری تصویر پہ کلک کرین سابقہ فائل سب مل جاۓ گی مذید سر مد صاحب لازمی طور پہ ھر ضرورت مند کو سابقہ فائل لازما مہیا کرین جن کا کہنا یہ ھے ھم فائل نہین کھول سکتے دراصل ان کے پاس جو بھی نیٹ کا سسٹم ھے خواہ موبائل ھے وہ کمزور ھے جدید سسٹم سے سب کچھ ممکن ھوتا ھے باقی دوستو اقساط ابھی بہت ھی طویل ھین انتظار کرین اب چھوڑے ھوۓ مضمون کی طرف چلتے ھین
اگر افراط شہوت زنان مرغوبہ کی ھو تو سابقہ مفاسد پہ غور کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی مدنظر رکھین کہ ضعف بدن فساد عقل نقصان عمر اور تلف مال کا سب سے بڑا سبب عورتون کی طرف رغبت کرنا ھے
امام غزالیؒ نے اس شہوت کو ایک ظالم عالم سے تشبیہ دی ھے اگر بادشاہ اس قوت کو کھلا چھوڑ دے تو وہ رعایا کا تمام مال چھین کر قوم کو فقروفاقہ تک پہنچا دیا کرتا ھے مثالین آپ کے سامنے زندہ ھین مجھے تو کچھ سمجھانے کی ضرورت نہین ھے
اسی طرح اگر قوت شہوت عقل ونفس مطمئنہ کے مطیع یعنی تابع نہ ھو تو تمام مواد صالح اور اخلاط محمودہ کو اپنے تصرف مین لا کر تمام قوی اور اعضاء کو ضعیف کردے گی
کثرت مباشرت کی تباہ کاریون سے بچانے کے لئے علامہ جلال الدین دوانی یون فرماتے ھین کہ جس طرح تمام کھانے سد جوع مین یکسان ھین اسی طرح تمام عورتین اطفاء اور شہوت مین یکسان ھین یعنی ایک جیسی ھین اب مین بات سمجھاتا ھون اگر آپ کے گھر کے اندر آپ کی پسند کی پسند کا کھانا مثالا قورما پکا ھوا ھے پھر بھی آپ یون کرین کہ یہ گھر مین پکا ھوا نہین کھانا بلکہ یہی قورما باھر جا کر کسی اور کے ھان کھانا ھے کیا آپ اس فعل کو عقل وشرع کے مطابق سمجھین گے قطعی نہین تہذیب واخلاق کا تقاضا تو یہ تھا کہ آپ گھر والا کھانا ھی کھائین بالکل یہی بات ھے کہ آپ اپنی زوجہ کو چھوڑ کر باھر غیر عورتون کی طرف جائین گے تو بتائین آپ کا عقل کب درست ھے
حدیث شریف مین ھے زنا سے عمر اور رزق کی برکت جاتی رھتی ھے یاد رکھین زانی پہ جو سب سے کم ترین مصیبت آتی ھے یا مسلط ھوتی ھے وہ یہ ھے کہ اس کا رزق اور اس رزق کی برکت جاتی رھتی ھے اس پہ بے شمار مثالین دے سکتا ھون زانی ھمیشہ مسائل مین گھرا رھتا ھے صحت کے حوالے سے بھی اور مالی لحاظ سے بھی اور معاشرتی بلکہ معاشی مسائل بھی اسی کا گھر دیکھ لیتے ھین
اب یاد رکھین طبی لحاظ سے یہ سوداوی مادہ کی کثرت سے ھوتا ھے اور یہ کیفیت اس وقت ھوتی ھے جب عضلات کا ناطہ اعصاب سے ھو یعنی عضلاتی اعصابی کیفیت جو کہ کیمیائی تحریک ھے جس مین سوداوی مادہ بکثرت پیدا ھوتا ھے یاد رکھین اس تحریک مین اعصاب کی تری اس قدر کم یا کمزور ھوتی ھے کہ اسے خارج کرکے اعتدال پہ نہین لا سکتی کیونکہ خشکی کو ھمیشہ گرمی پیدا کرکے ھی دور کیا جا سکتا ھے اس لئے ایسے مریضون کو عضلاتی اعصابی کے بجاۓ عضلاتی غدی ادویات اور غذا دین پھر غدی عضلاتی اور اس کے بعد غدی اعصابی استعمال کرین تب بندہ صحت مند ھوگا انشاءاللہ باقی مضمون اگلی قسط مین اور اس مین قوت غضبی پہ بحث کرین گے

Thursday, November 22, 2018

تشخيص امراض وعلامات 56

۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔تشخيص امراض وعلامات۔۔۔۔قسط نمبر 56۔۔
کل کی پوسٹ مین تشریح قوت شہویہ مین عضلاتی اعصابی تحریک کی تشریح کی تھی آج دوسری تحریک عضلاتی غدی جوکہ عضلات کی مشینی تحریک کہلاتی ھے اس کے تحت لکھا جاۓ گا
اس تحریک مین قوت شہوی کے تحت افراط شہوت اور بہادری کا جذبہ بہت زیادہ ھوتا ھے اگر نفسیاتی طور پر یعنی نفسیاتی کیفیت دیر تک اسی جذبہ کے تحت رھے تو معمول ایسے اقدام کرنے سے بھی گریز نہین کرتا جن کے باعث بہت زیادہ نقصان کا احتمال ھوا کرتا ھے حتی کہ ایسے افراد موت تک سے ٹکر خواہ مخواہ لے لیا کرتے ھین
علامہ جلال الدین دوانی فرماتے ھین اس قوت مین افراط وازیادسے حرص ولالچ مین اضافہ ھوتا ھے اور تفریط سے خمود
اب بات کی وضاحت کرتا ھون یعنی اگر اس قوت کی بدن مین بہت زیادہ ھو جاۓ تو بندے کے اندر لالچ اور حرص بھی بڑھ جاتا ھےاور اگر کمی ھو جاۓ تو نفس ارادتاً ضروری لذتون سے کی طلب سے بھی اجتناب کرتا ھے نیز قوت شہوی مین روات کی کیفیت اغلب ھو تو انسان قبیح عادات کا شکار ھوتا ھے جیسے مٹی کا کوئلے کھانے کی عادت ھوتی ھےیا لواطت کی عادت اپنی لپیٹ مین لے لیتی ھین یا آپ اسے یون بھی کہہ سکتے ھین کہ اس قوت کے اختلال سے افراط شہوت۔۔ حزن ۔۔۔ حسد ۔۔وغیرہ امراض وعلامات بھی ظہور مین آتے ھین
امید ھے بات سمجھ آگئی ھو گی کہ اس مین کون کونسی عادات پڑ جایا کرتی ھے
اب بات تھوڑی سی علاج پہ
یاد رکھین اللہ جلّہ شانہ نے نفس اور بدن مین ایک محکم نظام قائم فرمایا ھے جس کے سلاسل سے جو کیفیت کسی ایک خاصہ مین پیدا ھوتی ھے وہ دوسرے مین بھی سرایت کرجاتی ھے یہی بات محترم دوست محمد صابر ملتانی نے اعضاء کی تشریح مین واضح کی ھے کہ تینون اعضائے رئیسہ ایک دوسرے سے جڑے ھوۓ ھین اور اس رابطہ کے لئے اللہ تعالی نے تمام اعضاء پر دو دو مختلف یعنی دوسرے اعضاء کی جھلیان قائم کررکھی ھین اس لئے ان امراض نفسانی کے علاج مین اس بات کو مدنظر رکھین کہ اگر اس ردی ملکہ کی شروعات اور سبب کوئی بدنی مرض یا خلطی بگاڑ ھے تو پہلے طب جسمانی کی رو سے علاج کرین ھان اگرباعث بگاڑ یا افعال قبیح کی مزادلت ھے تو پھر نفسیاتی علاج یعنی روحانی علاج کرنا چاھیے
جیسے جسمانی علاج مناسب غذا سے بھی کیا جاتا ھے اور دوا بھی کیا جاتا ھے کبھی کبھی اس مین زھرین بھی استعمال کرنے کی ضرورت پیدا ھو جاتی ھے کبھی صرف داغ دینے یا اپریشن کی بھی نوبت آجاتی ھے بالکل اسی طرح نفسیاتی علاج مین بھی ان امور کی ضرورت پڑتی ھے جیسے پہلے تہذیب اخلاق اور ازالہ رذیلت افعال جمیلہ کے تکرار سے کرنا چاھیے یہ سمجھ لین بمنزلہ غذا علاج ھے اور اگر نفسیاتی علاج یعنی نفس کو تویخ و ملامت کرنے سے علاج کارگر نہ ھو تو پھر کسی دوسری رذیلت کے ارتکاب سے علاج کرین اور یہ ھم منزلہ علاج دوا یا بالسم یعنی زھرون سے علاج سمجھ لین اگر پھر بھی فائدہ نہ ھو تو پھر تکالیف شاقہ سے علاج کرین تاکہ اس کی قوت ضعیف ھو کر نفس مطمئنہ کی مطیع ھو جاۓ
دوستو افسوس اس وقت ھوتا ھے جب لوگ نفس کی تشریحات مین اپنے اپنے مطلب کی تشریح کردیتے ھین سچ بتانے سے گریز کرین گے کبھی آپ نے نفس امارہ نفس لوامہ نفس مطمئنہ کی تشریحات پڑھی ھین نہین پڑھی تو لازما پڑھین اب بات وھین سے شروع کرتے ھین
اگر افراط شہوت ماکولات ومشروبات مین ھو تو جو فساد یا غلاظتین پر خوری سے پیدا ھوتی ھین ان پہ بھی غور کرنا چاھیے اس سے عقل وشعور مین فتور آجایا کرتا ھے یہ تو آپ نے سن ھی رکھا ھو گا کہ زیادہ کھانے والا بدعقل ھوتا ھے یعنی کند ذھن ذھنی پستی ذلت وخواری ھی صرف حاصل ھوتی ھے اور انسانی جاہ حشمت زائل ھو جایا کرتی ھے بلکہ مین آپ کو ایک حدیث مبارکہ بھی سناتا ھون
حدیث مبارکہ ھے ۔۔۔اَلبَطنَةَ رَاس کلّ داءٍ۔۔۔یعنی پیٹ بھر کر کھانا تمام بیماریون کی اصل ھے جبکہ قرآن مجید مین بھی اللہ تعالی فرماتے ھین کھاؤ پیو مگر اسراف نہ کرو
اب بات کو سمجھین بسیار خوری عقل شعور مین فتور پیدا کرتی ھے اور عقل شعورمین فتور جسم مین ثقالت پیدا کرتا ھے یاد رکھین معدہ مین ریاح وتیزابیت بھی اسی کا شاھکار ھین اسی طرح اس فقرہ کے مترادف پیٹ مین ریاح وتیزابیت کی زیادتی عقل وشعور مین فتور کا باعث بھی ھوا کرتی ھے اور یاد رکھین امراض قلب کا بھی باعث یہی ھے
دیگر مصروفیات کے باعث آج کے لئے اتنا ھی کافی ھے بہت سی تشریح باقی ھے آج آپ صرف یہ بھی غور کرین ھمارا دین اسلام پہ کتنا عمل ھے رسول اللہ صلى الله عليه و سلم کی صحت کے بارے مین اھم تعلیمات پر ھمارا کتنا عمل ھے یقین جانین اگر ھم ان تعلیمات پہ عمل کر لین تو سوال ھی پیدا نہین ھوتا کہ ایسے ویسے بیماری نزدیک آئے میری تحقیق یہ بھی ھے کہ تمام خطرناک امراض جن مین ھیپاٹاٹس ٹی بی کینسر فالج ھارٹ اٹیک برین ھیمرج سب امراض معدہ وجگر یہ سب امراض اسلامی تعلیمات پہ عمل کرنے سے نہین پیدا ھوتی

Wednesday, November 21, 2018

تشخيص امراض وعلامات 55

۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔تشخيص امراض وعلامات ۔۔۔قسط نمبر 55۔۔
قوت شہوی یعنی حصولیہ قوت کے امراض
پچھلی قسط مین احساساتی یعنی نفسانی قوت کی امراض پہ بحث تھی اور جہل بسیط پہ بات ختم ھوئی تھی آپ کو یاد ھو گا جہل بسیط اعصابی عضلاتی مین آتا ھے صاف ظاھر ھے آج ھم تحریک کے حساب سے عضلاتی اعصابی تحریک کا ذکر آج شروع کرین گے اور اسے جہل مرکب بھی کہا جاتا ھے سب سے پہلے اس کی صفات عرض کرتا ھون قوت شہوی اعصابی یعنی نفسانی قوت کی ردات سے نفس مکمل طور پر عضلاتی اعصابی کیفیت جب اختیار کرجاتا ھے تو اس کے معمول کو علوم کا شوق جاگزین ھوتا ھے جن سے کمال حقیقی پیدا نہ ھو جیسے علم جدل یعنی لڑائی ۔۔۔۔۔ کہانت یعنی غیب کی باتین بتانا۔۔۔۔۔ رمالی یعنی علم نجون ورمل ۔۔۔۔۔۔اس قسم کی کیفیت پیدا ھوتی ھے اسے آپ جہل مرکب کہتے ھین یا آپ اسے جہل بسیط کی صورت ثانیہ بھی کہہ سکتے ھین یا دوسرے لفظون مین اعصابی یعنی بلغمی رطوبات غلیظ ھوکر سوداوی شکل اختیار کر جاتی ھین اور قوت نفس ھٹ دھرمی کو اپنا اوڑھنا پچھونا بنا لیتی ھے میری اس ساری بات سے مراد یہ ھے کہ جہالت عقل وعلم کے مترادف کیفیت کو گردانا جاتا ھے اور یاد رکھین جہالت ھی کی بدولت ظلمت کے بادل امڈتے ھین یہ بھی یاد رکھین ظلمت سے سیاھی وسوداویت کے ناطے عقل وشعور باطل ھو جایا کرتا ھے اس تحریک مین سوداویت کا غلعبہ آچکا ھوتا ھے تو لازمی بات ھے اعصابی یعنی دماغی قوی مین تحلیل واقع ھو گی اور غدد کے نظام مین تسکین ھو گی یعنی اپنی تندی اور گرمی کے باعث عقل مین جلا پیدا کرنے سے قاصر اور معالجہ کے لئے جہان تادیب کی ضرورت ھے وھان غذائی معالجہ کے لئے ایسی غذائین استعمال کرنا ھونگی جن سے غدد یعنی جگر کے نظام مین سستی کے بجاۓ تیزی پیدا ھو سکے اور جسم مین حرارت زیادہ پیدا ھو تاکہ عضلاتی نظام کی بھی گڑ بڑ درست سمت اختیار کرسکے
اب تھوڑی سی مذید وضاحت جہل مرکب کے بارے مین
جہل مرکب ایک ایسی کیفیت کا نام ھے جس کے بارے مین یون بھی کہا جا سکتا ھے کہ اس مین مبتلا شخص اصل واقع کے خلاف اعتقاد رکھتا ھو اور اپنے ناقص علم کو اصل پہ ترجیح دیتا ھو یاد رکھین اس کیفیت کا حامل شخص اپنی نادانگی کا علم بھی نہین رکھتا چونکہ اس کیفیت مین یہ بات لازم ھے کہ اس مین اپنی نادانستگی و ناآگہی کا علم بھی نہین ھوتا اسی لئے اسے جہل مرکب کی صفت سے موسوم کیا جاتا ھے طب یونانی کے ماھرین نے اعضائے رئیسہ دل دماغ اور جگر پہ ھی اتفاق کیا لیکن اب فتنون کا دور ھے اور بعض حکماء نے عورتون مین رحم کو اور مردون مین خصیون کو چوتھا اعضائے رئیسہ قرار دے کر قانون ثلاثہ کی جگہ قانون اربعہ کو فروغ دینا چاھا جس سے طب قدیم کی بنیادین ھلا کررکھ دین ایک عجیب منافقت پیدا کی گئی اب یہان اللہ تعالی نے صابر ملتانی کو اس کام کے لئے چن لیا اور طب قدیم کے ھی اصول قانون ثلاثہ پہ تشریحات کرکے ایک جدت پیدا کردی اور قانون اربعہ کا منہ بند کیا لیکن افسوس اب نئے سرے سے یہ فتنہ طب مین دوبارہ پیدا کیا گیا ھے انشاءاللہ اس پہ تفصیل سے مضامین لکھون گا باقاعدہ تاریخوں کے حساب سے اور آپ کو بتاؤن گا کہ اصل طب کو چارون اطراف سے گھیرنے کے لئے کیا کیا حربے استعمال کیے گئے اور مزے کی بات وقت اور وقت کے حاکمین بھی اس مین ملوث رھے ھین اور آج بھی یہ جنگ جاری ھے اسی لئے نیا پڑھنے والا طبیب دو کشتیون مین سوار ھوتا ھے اسے علم ھی نہین ھوتا کہ مین حقیقت مین کس کشتی پہ سوار ھون اور میری منزل کہان ھے اور پوری زندگی وہ منزل پہ کبھی بھی نہین پہنچ سکتا سنجیدگی اور بردباری کا تو نام ونشان ھی نہین اور نہ اخلاق وتہذیب کا دامن تھامنے کو تیار ھین بس جذباتی باتین کین اور اندر سے چوھا نکال کر ھاتھ مین تھمادین گے
اگر اعضائے رئیسہ کو چار مان ھی لیا جاۓ تو لازمی طور پہ قوی کو بھی چار ھی بنانا پڑے گا جو ناممکن ھے اس طرح یون معلوم ھوتا ھے کہ ایساسوچنے اورلکھنے والے علم ریاضی کوتو جانتے ھی نہین ھین انہین علم ھی نہین ھے کہ اعضائے رئیسہ کا روح قوت اور نفس کے ساتھ چولی دامن کا ساتھ ھے اب ان تینون کی باھمی مشاورت ھی سے احساسات وخلیات نیز اخلاط اپنی اپنی شکلون کا لبادہ اوڑھتے ھین
بہت سے اطباء وعلماء کے نزدیک لاعلاج مرض ھے مگر جس علاج سے کچھ فائدہ ھے وہ علم ریاضی ھے یعنی حساب اور ھندسہ وغیرہ کا سیکھنا ھے کیونکہ اس کے مریض کے مطالب پورے ھونے سے نفس مین لذت پیدا ھوتی ھے یقین پیدا ھوتا ھے اور پھر جب اپنے معتقدات مین یہ لذت نہین ملتی تو غلطی کا علم ھو جاتا ھے اورجہل مرکب جہل بسیط سے تبدیل ھوکر اکتساب فضائل کی استعدادپیداھوجاتی ھے یادرھےحکیم افلاطون نے بھی اپنے دروازے پہ لکھ رکھاتھاجوعلم ھندسہ نہین جانتاوہ یہان داخل نہین ھوسکتا
کیاخیال ھے پھرایک طبیب کوریاضی دان بھی ھوناچاھیے؟جی ھان ھوناچاھیے
باقی تشریح قوت شہوی کی اگلی قسط مین