Wednesday, November 7, 2018

تشخيص امراض وعلامات 52

۔۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔تشخيص امراض وعلامات ۔۔۔قسط نمبر 52۔۔۔
پچھلی قسط مین بات کیمیائی اور مشینی تحریک پہ ختم ھوئی تھی چند روز قسط نہ لکھ سکا کیون نہ لکھ سکا یہ سب کو علم ھے خیر پہلی فرصت مین آج مختصر اس بات پہ پھر سے تشریح کرتے ھین کہ کیمیائی اور مشینی تحریک مین فرق کیا ھے یہ وہ تشریحات ھین جو کتب مین بھی درج ھین لیکن مین ذرا اسے بھی آسان الفاظ مین لکھون گا کیمیائی اور مشینی تحریک پہ جو تشریح مین نے اپنی طرف سے کرنی تھی وہ بہت پہلے کرچکا ھون جو نئے اصحاب ھین وہ پچھلی قسطون مین پڑ ھ سکتے ھین
کیمیائی تحریک ۔۔۔
١۔۔کیمیائی تحریک مین کسی عضو کے سکون کی حالت مین یعنی انبساط کے باعث پیدا ھوتی ھے
یعنی اس کے تحت عضو اجتماع خون کے باعث جسمی طور پہ پھول چکا ھوتا ھے
٢۔۔کیمیائی تحریک مین عضو صرف ان رطوبات کو خارج کرتا ھے جو اس کے سکون وانبساط سے جمع ھو چکی ھوتی ھین
٣۔۔کیمیائی تحریک مین عضو خلط کو پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ خون مین جمع بھی کرتا رھتا ھے
٤۔۔کیمیائی تحریک سے پیدا ھونی والی امراض یعنی تکالیف ایسی پیدا ھوتی ھین جو انسان مدتون برداشت کر سکتا ھے
٥۔۔۔کیمیائی تحریک مین خلط کی زیادتی تکلیف کا باعث ضرور بن سکتی ھے لیکن اس تحریک مین فوری جان کا خطرہ نہین ھوتا
٦۔۔کیمیاوی تحریک مین دوسرے اعضاء مین تحلیل وتسکین بھی کیمیائی ھی ھوتا ھے اب یہ نہین ھوتا کہ تحریک کیمیائی ھو اور تسکین وتحلیل مشینی ھو
٧۔۔کیمیائی تحریک سے ھی تغذیہ ھوا کرتا ھے
٨۔۔کیمیائی تحریک مین ھی عضو زیادہ کام کرتا ھے
٩۔۔ کیمیائی تحریک مین خلط کے مطابق ھی بدن کا رنگ ھو جایا کرتا ھے یعنی سودا بڑھ جاۓ تو رنگت سیاھی مائل اور اگر صفرا بڑھ جاۓ تو جسم پہ پیلاھٹ آجایا کرتی ھے
یعنی غدد مین کیمیائی تحریک کے تحت اب لازما خون مین صفرا کی مقدار زیادہ ھو جاۓ گی اب اس خلط کا خون مین جمع ھونا یرقان اسود اصفر ونیز استسقاء وغیرہ پیدا ھو جایا کرتا ھے
اب بات کرتے ھین مشینی تحریک کی۔۔۔
١۔۔مشینی تحریک مین عضو کے اندر شدید انقباض ھوتا ھے جس کے باعث رکی ھوئی رطوبات راہ فرار اختیار کرتی ھین جس کی وجہ سے پھولا ھوا جسم پچک جایا کرتا ھے
٢۔۔۔مشینی تحریک ھمیشہ کیمیائی تحریک کے بعد پیدا ھوا کرتی ھے اور خلط پیدا ھونے کے ساتھ ساتھ بدن سے خارج بھی ھوتی رھتی ھے
٣۔۔ مشینی تحریک مین عضو اپنی ھی پیدا کردا خلط خارج بھی کرتا ھے
٤۔۔مشینی تحریک مین عضو مین سکیڑ وانقباض کے سبب شدید تکلیف ھوا کرتی ھے جو ناقابل برداشت ھوتی ھے
٥۔۔۔مشینی تحریک مین فوری موت واقع ھو جانے کا خطرہ ھوا کرتا ھے
٦۔۔۔مشینی تحریک کے تحت دوسرے حیاتی عضو مین شدید تحلیل وتسکین پیدا ھوتی ھے جس سے تیزی کے ساتھ ضعف آیا کرتا ھے
٧۔۔۔مشینی تحریک سے تصفیہ اور تنتیہ ھوا کرتا ھے
٨۔۔مشینی تحریک مین عضو کو زیادہ کام کرنا پڑتا ھے
٩۔۔مشینی تحریک مین عضو کے خلط خارج کرنے کی وجہ سے جسم کا رنگ طبعی حالت مین ھی رھا کرتا ھے
اب یاد رکھین مشینی تحریک مین مفرد عضو مین شدید انقباض وسکیڑ پیدا ھوتا ھے اور رطوبات کو جاری کرنے مین ایک منٹ کا بھی وقفہ نہین ھوا کرتا اور تیزی سے کرتا ھے جس کی وجہ سے رطوبات ضرورت سے زیادہ جسم سے خارج ھو جایا کرتی ھین جس کے باعث شدید تکلیف ھونے سےموت واقع ھو جایا کرتی ھے جیسا کہ ھیضہ مین اعصابی عضلاتی تحریک خونی قے مین عضلاتی غدی سے بیشتر اوقات فیصلہ ھو جاتا ھے
اب ھلکی سی تشریح تحریک بمطابق اخلاط
١۔۔اعصابی عضلاتی
خلط۔۔ بلغم خالص
اعصاب کی مشینی تحریک ھے جس سے باآسانی بلغم خارج ھوتی ھے
٢۔۔عضلاتی اعصابی
خلط ۔۔۔ سودا خام
سوداوی مادہ کیمیاوی طور تیار ھوتا ھے اور خون مین سرایت کرتا رھتا ھے مگر اپنے مجاری سے خارج نہین ھوتا
٣۔۔عضلاتی غدی
خلط۔۔سودا خالص
سوداوی مادہ اپنی کیمیائی کیفیت کو مکمل کرنے کے بعد صفراوی ناطہ کے باعث اپنے مجاری سے جاری ھوجاتا ھے
٣ــ غدی عضلاتی
خلط۔۔صفرا خام
سوداویت مغلوب ھو چکی ھے اور صفرا غالب آچکی ھے مگر اس کیفیت مین صفراوی مادہ عضلاتی مادہ کی خشکی کے باعث خون مین سرایت کرتا رھتا ھے جسم سے خارج نہین ھوتا جس کی وجہ سے جسم کا رنگ زرد ھو جایا کرتا ھے
٥۔غدی اعصابی
خلط۔۔صفرا خالص
اس مین صفرا پیدا بھی ھوتا ھے اور خارج بھی ھوتا ھے
٦۔ اعصابی غدی
خلط ۔۔ بلغم خام
اس مین بلغم خارج نہین ھوتی پیدا بھی ھوتی رھتی ھے
اب ایک اور بات بھی سمجھ لین کہ کہان تحریک ھو گی تو کہان تسکین و تحلیل ھوگی
١۔مقام ۔۔دماغ
تحریک اعصاب
تحلیل۔۔ غدد
تسکین۔ عضلات
بلغم ورطوبت کی زیادتی
٢۔۔مقام دل
تحریک عضلات
تحلیل اعصاب
تسکین غدد
سودا وخشکی کی کثرت
٣۔مقام جگر
تحریک غدد
تحلیل عضلات
تسکین اعصاب
صفرا وگرمی کی کثرت
انشاءاللہ باقی مضمون اگلی قسط مین

No comments:

Post a Comment