Saturday, March 30, 2019

نمک کیا ھے 6|Salt|herbal salt

۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Salt|herbal salt

۔۔۔۔۔ نمک کیا ھے ؟۔۔۔۔۔۔قسط نمبر 6۔۔۔۔۔۔
پچھلی قسط مین ابھی نمک کی بدن مین کمی کا ھی ذکر چل رھا تھا باقی مضمون شروع کرنے سے پہلے ایک نقطہ سمجھ لین
بدن کی خشکی دور کرنے طریقہ یہ ھے کہ اعصابی تحریک مین نمک جسمانی ضرورت کے مقابلے مین کم ھو جاتا ھے جبکہ عضلاتی تحریک مین جسم مین جذب ھی نہین ھوتا اور غدی تحریک مین جسم سے خارج ھی نہین ھوتا اور غدی اعصابی مین حد مقدار سے بڑھ جایا کرتا ھے کمی ھمیشہ غدی تحریک سے پوری کی جائے گی جبکہ اگر مقدار زیادہ ھو گئی ھے تو اعصابی تحریک سے اعتدال پہ کیا جا سکتا ھے آپ نے صرف یہ کرنا ھے کہ قارورہ اور نبض اور دیگر علامات سے نمک کی کمی بیشی کا تعین کرین اگر کم ھے تو مقدار بڑھا لین اگر زیادہ ھے تو مقدار گھٹا لین اس طرح آپ نمک کو اعتدال پہ لا کر بہت سی امراض کو باآسانی دور کرسکتے ھین
اصول وقانون نمک کی مقدار کو معتدل رکھنے کا پہلے اس لئے لکھا ھے کہ مجھے شک تھا تھوڑی دیر مین آپ نے یہ سوال وقت سے پہلے ھی لکھ دینا تھا
پچھلی قسط مین بات یہان تک پہنچی تھی کہ غشائے رطوبتی اگر خشک ھو جائین تو یہ جسم مین نمک کی کمی کی علامت ھین لیکن بعض اوقات نمک کی کمی کے برعکس بھی حالت وارد ھو جایا کرتی ھے یعنی تمام رطوبتی جھلیون اور مجاری سے زبردست یا قدرے زیادہ پانی خارج ھونا شروع ھو جاتا ھے
ایک بات یاد رکھین کہ اگر رطوبتی جھلیان خشک ھو جائین یا ضرورت سے زائد ان مین تری ظاھر ھو جائے تو یہ دونون صورتین ھی نمک کی کمی کو ظاھر کرتی ھین یاد رھے کہ اعصابی تحریک مین مسلسل اخراج نمک سے اورعضلاتی تحریک مین انجذاب نہ ھونے سے جسم مین اس کی کمی ھوا کرتی ھے یعنی ان دونون تحاریک مین نمک کی کمی ھوتی ھے اور یہ اصول بھی آپ پہلے سے جانتے ھی ھونگے کہ خشکی عضلاتی تحریک کا اور تری اعصابی تحریک کا خاصہ ھے اب نمک دونون مین ھی کم ھوتا ھے اب آپ کو مثالاھیضہ کے مرض اور اس کا فلسفہ علاج پہ بات کرتے ھین
ایک بات آپ جانتے ھی ھین کہ ھیضہ اعصابی تحریک کی پیداوار ھے اب اس کی ابتدا اس طرح ھوتی ھے کہ اعصابی تحریک کی وجہ سے عضلات مین پانی کا ارتکاز بڑھتا جاتا ھے غدد مین تحلیل سے حرارت اور نمک خارج ھوتے ھین اب نتیجہ یہ نکلتا ھے کہ ان دونون اثرات کی وجہ سے بدن مین حرارت اور نمک کم ھوتاجاتا ھے عضلاتی نظام کی سستی سے رطوبات رک کر ان مین انتہائی تعفن پھر جراثیم اور پھر زھر پیدا ھو جاتے ھین
نوٹ۔۔۔ یہان ایک نقطہ اور بھی بیان کرتا چلون ایلوپیتھک مین اکثریت امراض مین جراثیم کا ذکر آجایا کرتا ھے اب جراثیم یا تو بیکٹیریا یا وائرس ھوتا ھے اب ان کے خاندانون کا بھی ذکر ھوتا ھے کہ فلان جراثیم ھے اور یہ فلان خاندان سے تعلق رکھتا ھے اب طب قدیم جو ھمارے کالجون مین پڑھائی جاتی ھے بلکہ ھمارے گروپ مطب کامل کے کافی ممبر بھی یہ بات جانتے ھین کہ مین خود بھی تو ایک کالج مین پڑھاتا بھی ھون بلکہ پچھلے دنون پنجاب ھیلتھ کیئر افسران اور طبی کونسل بورڈ انتظامیہ و حکماء حضرات سرگودھا ڈویژن مین ایک کالج کانفرس مین شریک ھوئے اب ان معزز مہمانان کو لے کر یہ بندہ ناچیز اس اجلاس مین شریک ھوا تو ھمارے گروپ مطب کامل کے کافی ممبران مجھ سے وھان ملے بھی تھے اور تصاویر بھی سب کے ساتھ بنوائی تھین خیر بات ھو رھی تھی جراثیم کی تو طب قدیم اس کے جواب مدلل نہین دے سکتی لیکن انشااللہ یہ خادم آپ کو جلد ھی ان خاندانون کی تشریح لکھے گا اس وقت آپ ایک ھی بات سمجھ لین کسی بھی مادے مین خواہ وہ بلغمی ھے یا صفراوی یا سوادوی ھے جب تعفن پیدا ھوتا ھے تووھان کیڑے پیدا ھوتے ھین ان کو جراثیم کہا جاتا ھے
اب بات وھین سے ھی شروع کرتے ھین جہان نوٹ لکھنے سے پہلے تھے
ھیضہ مین یہ حالت زندگی کے لئے خطرناک ھوتی ھے چنانچہ جسم اس اذیت سے چھٹکارا پانے کے لئے ان زائد رطوبات کو خارج کرنا شروع کردیتا ھے یعنی اعصاب کی مشینی تحریک شروع ھوجاتی ھے اب اسہال قے ٹھنڈے پسینے اس کا مظہر ھین یہ رطوبات کی زیادتی سے گرے ھوئے ٹمپریچر اور نمک کی کمی کو پورا کرنے کی کوشش ھے
اگر مشینی تحریک جاری رھے تو رطوبات کا ضرورت سے زیادہ اخراج ھونے سے خون گاڑھا اور ٹمپریچر مذید کم ھونے لگتا ھے اب بچ رھنے والا نمک رطوبات کی غیر موجودگی اور غدد مین تسکین کی بنا پہ ھضم نہین ھوتا یا ضرورت سے کم ھوتا ھے مریض کا پیشاب انتہائی سرخ تیزابی اور کیمیائی ٹیسٹ مین اس کی پی ایچ پانچ سے کہین کم ھوجاتی ھے یعنی عضلاتی تحریک پیداھوچکی ھوتی ھے
اب سوال یہ ھے کہ مریض پھر شفایاب کیون نہین ھوا؟
جبکہ اعصابی تحریک کا علاج بھی تو عضلاتی تحریک پیدا کرنا ھی تھا آپ اس بات کو سوچین بلکہ کسی کے پاس جواب ھے تو لکھے مین انشااللہ کل کی پوسٹ پہ جواب لکھون گا اجازت دین محمود بھٹہ کو
گروپ مطب کامل

Friday, March 29, 2019

نمک کیا ھے 5|salt|herbal salt

۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Salt|herbal salt
۔۔۔۔نمک کیا ھے ۔۔۔۔قسط 5۔۔۔
بہت سے دوستون کے ذھن مین یہ بات یا خیال آگیا ھے کہ مین نے آب حیات کی شرح کرنی شروع کی ھوئی ھے کچھ انباکس بھی ایسے خیالات کا اظہار کیا گیا ھے جبکہ ایسی کوئی بات نہین ھے مین نے مضمون کے شروع مین صرف اتنا لکھا تھا کہ نمک کی تشریح لکھنے لگا ھون ساتھ ھی یہ بات بھی بتائی تھی کہ آب حیات بغیر نمک مکمل نہین ھوتا یہ بھی اس دوا کا جزو اعظم ھے لیکن مین نے یہ کہین بھی نہین لکھا کہ آب حیات کا نسخہ لکھنے لگا ھون یہ ایسی ھی بات ھو گی کہ ایم اے نصاب کی کتب نرسری کلاس کے بچے کو پڑھانی شروع کردین باقی جب انسان مین اھلیت آجاتی ھے تو بندے کو خود بخود ھی ان سب باتون کا پتہ چل جاتا ھے آپ صرف مضمون پہ توجہ دیا کرین
جیسے ھمارا نقطہ نظر نمک ھے تو اسی پہ توجہ دینی چاھیے
نمک۔۔۔۔۔یہ بات سب کے مشاھدہ مین گزری ھو گی بلکہ تجربہ مین گزری ھو گی کہ نمک آسانی سے پانی کو جذب کرنے کی صلاحيت رکھتا ھے یہان یہ فلسفہ بھی سمجھ لین کہ پانی نمک کو جذب نہین کرتا بلکہ نمک پانی کو جذب کرتا ھے اب نمک کی اس خوبی کی بنا پہ یہ جسم مین پانی کا توازن برقرار رکھتا ھے اب نظریہ مفرداعضاء کی زبان مین گرم تر خواص کی وجہ سے غدد واعصاب پر اثر انداز ھوتا ھے اور ان کی غذا بنتا ھے اعصاب مین تسکین کی بنا پر جو رطوبات ٹھہری ھوتی ھین یا جن رطوبات نے حسی اعصابی مین تسکین پیدا کی ھوتی ھے انہین جذب کرکے غددناقلہ کے ذریعےخارج کرتا ھے اس طرح ان اعصاب مین تقویت اور تحریک کی صورت پیدا ھو کر تکلیف دہ علامات ختم ھونا شروع ھو جاتی ھین یعنی غددجاذبہ مین تحریک کی زیادتی سے اور نتیجتا غیرارادی عضلات مین تحلیل اور حسی اعصاب مین تسکین سے جو غیرنارمل صورت پیدا ھو چکی تھی وہ ختم ھوجاتی ھے
اب بات سمجھ لین کہ نمک عضلاتی یعنی خشک اثرات وتحریک کی تمام علامات کا فوری اور دائمی علاج ھے آخر کیون ؟ یہ بات آپ سوچین اب جن جن دوستو کو طب پہ اور نظریہ پہ مکمل عبور حاصل ھے وہ جب اس بات کو سوچین گے تو مین یقین سے کہتا ھون ان کے سامنے ایک راستہ کھل جائے گا وہ آب حیات کی کافی سیڑیاں عبور کرجائین گے یہان مین اتنا ھی کچھ بتا سکتا تھا آئیے اب باقی مضمون کی طرف چلتے ھین
اب ایک بات مین پہلے لکھ چکا ھون کہ نمک بدن مین زیادہ ھو جائے یا کم ھو جائے ھر دو صورتون مین جسم بیمار ھو جاتا ھے اب کیسے معلوم ھو گا کہ جسم مین نمک زیادہ ھو چکا ھے یا کم ھو گیا ھے
اب بات سمجھین
اگر نمک کی مقدار جسم مین کم ھو جائے توتمام غشائے رطوبتی بالکل خشک یا نسبتاً خشک ھوجاتی ھین یہ خشکی دائمی اور بعض اوقات عارضی ھوسکتی ھے
اب آپ اپنا ذھن لڑائین ایسی خشکی کب ھو سکتی ھے ؟
پریشان نہین ھونا اب یہ بھی نہ سمجھ لینا کہ سب ذھن لڑانے والی باتین محمود بھٹہ آج آپ کے لئے چھوڑ رھا ھے چلین اب بات سمجھین۔عضلاتی تحریک مین اعصابی نظام مین تحلیل کی وجہ سے آبی جھلیون مین خشکی ھو جایا کرتی ھے
اب خشک اور گرم موسم مین ھم اکثر مشاھدہ کرتے ھین کہ کانوں اور آنکھون اور گلے اور جلد مین خشکی محسوس ھوتی ھے جسم پہ بھوسی سی اڑتی ھے ھاتھ پاؤن چہرہ زبان ھونٹ خشک ھوجاتے ھین اور پھٹ جاتے ھین یہ اس بات کی علامت ھے کہ رطوبتی اور آبی جھلیان نمناک نہین رھین۔ یعنی پانی کی تقسیم درست نہین یعنی نمک کی کمی ھو گئی ھے عضلاتی اعصابی تحریک مین یہ خشکی عارضی ھو سکتی ھے اس تحریک مین رطوبت کی کمی نہین ھوتی بلکہ رطوبات کا جماؤ ھوتا ھے اب یہ جمی ھوئی رطوبت کو ھلکی سی بھی حرارت مل جائے تو یہ جماؤ ٹوٹ جایا کرتا ھے بہرحال عضلاتی تحریک مین پانی کی تقسیم اور انجذاب متوازن نہین رھتا اور آبی جھلیان خشک ھو جاتی ھین اگر یہ صورت حال لگاتار رھے تو یہ دائمی عارضہ بن جاتا ھے جس کا مطلب ھے ھمارے جسم مین مستقل نمک کی کمی ھو چکی ھے اب یہ جسم پہ کریمین ملنے سے یہ خشکی جاتی نہین ھے بلکہ اصول سے علاج کرنے سے درست ھوتا ھے باقی مضمون انشااللہ آئیندہ

Wednesday, March 27, 2019

نمک کیا ھے 4|salt|herbal salt

۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Salt|herbal salt
۔۔۔۔ نمک کیا ھے ۔۔۔۔۔قسط 4۔۔۔۔۔۔
کل کی پوسٹ سوالون کے جواب اور باقی دلائل پہ ھی پوری ھو گئی آج پوسٹ کا سابقہ تسلسل شروع کیا ھے اس سے پہلے مین بات کررھا تھا کہ انسانی جسم مین ستر فیصد پانی ھے جو نمک کے بغیر ناکارہ ھے یہ بھی لکھ چکا ھون کہ نمک ھی جسم کے پانی اس پانی کو زندگی کے افعال کے لئے کارآمد بناتا ھے اور اندرونی رطوبات کو متوازن رکھتا ھے پانی غذا اور تنفس اور جلد کے ذریعے ھمارے جسم مین داخل ھو کر خون مین پہنچتا رھتا ھے پھر دوران خون کے ذریعے جسم کے ھر حصے اور نظام پہ اثر انداز ھوتا ھے خاص کر اعصابی نظام کو سب سے زیادہ متاثر کرتا ھے جلد کے ریشون اور دماغ واعصاب اور بلغمی جھلیون کو تر رکھتا ھے اور ان مین نمی پیدا کرتا ھے خوراک کے اجزاء کو قابل حل بناتا ھے اور ھر خلیے تک پہنچانے اور ھر جگہ سے زھریلے اور ناکارہ مواد کو خارجی اعضاء تک لے جانے کا فریضہ بھی سرانجام دیتا ھے وہ پانی ھمارے جسم کا اتنا بڑا حصہ ھے پیدائش زندگی اور اھتمام زندگی افعال اور بقائے زندگی کا انحصار جس پر ھے لیکن جسم مین نمک کے بغیر صرف بوجھ اور غیر ضروری ھے یعنی نمک ھی خون کے تمام معدنی اجزاء سے زیادہ اھم ھے
یہ
یہ الکوحل مین حل نہین ھوتا لیکن اس کے عرق یعنی محلول مین بہت سی ایسی ادویات بھی حل ھو جاتی ھین جو پانی مین بذات خود ناقابل حل ھوتی ھین یاد رکھین نمک مین قوت تولید فطری طور پہ پائی جاتی ھے اس لئے جسم مین حیوانی مواد اور کئی طرح کے مرکبات تیار کرنے کا اھل ھے جو بحالی صحت اور قیام صحت کے لئے ضروری ھین
افعال زندگی کی انجام دھی کے دوران بہت سے ناکارہ مادے ھمارے جسم مین بنتے ھین یاد رکھین انہین ٹھکانے لگانے مین نمک ھی اھم کردار ادا کرتا ھے بس اس بات پہ نگاہ رکھنی چاھیے کہ کہین اس کی مقدار ھمارے جسم مین کم نہ ھو جائے جس طرح نمک کی کمی سے غیر طبعی علامات پیدا ھوتی ھین اور پھر بعض اوقات موت تک واقع ھو جاتی ھے بالکل اسی طرح نمک کی زیادتی سے بھی کئی طرح کی بیماریاں اور بعض دفعہ موت کا سبب بن جاتی ھین یہ بات بھی ذھم مین رھے کہ جیسے مٹھاس ھماری زندگی کا لازم جزو ھے اور روز مرہ کی خوراک مین قدرتا کچھ نہ کچھ حصہ کم وبیش پایا جاتا ھے بالکل اسی طرح نمک بھی ھماری خوراک مین قدرتا کم وبیش شامل رھتا ھے یہ بات بھی یاد رکھین مٹھاس قوت ھے اور نمک زندگی ھے اس لئے صرف اس کا کم و بیش یعنی کم یا زیادہ ھو کرنے سے بات نہین بنتی بلکہ جو خوراک ھمارے جسم مین اس کی مقدار کم یا زیادہ کرتی ھے اس کے بارے مین جاننا ضروری ھے
اب دیکھین ایلوپیتھک پریکٹس مین نارمل سیلائن یعنی نمکین ڈرپ بڑے وسیع پیمانے پہ استعمال ھوتی ھے اس بات سے کوئی انکار نہین کرسکتا کہ اکثر مریضون کی جان بچانے مین یہ نمک کا محلول بہت ھی کارآمد ثابت ھوا ھے بلکہ موت کی وادی مین جاتے مریض بچ جاتے ھین
اب بایوکیمک طریقہ علاج مین درجن بھر نمکیات سے تمام بیماریوں کا علاج کیا جاتا ھے اب ان نمکیات مین سے عام نمک ایک ھے جسے نیٹرم میوری ٹیکم یا نیٹرم میور کے نام سے جانا جاتا ھے محترم دوست محمد صابر ملتانیؒ بھی فرماتے تھے کہ بایوکیمک طریقہ علاج بہترین ھے بشرطیکہ اسے بالاعضاء سمجھا جائے اگر بالاعضاء نہ سمجھا جائے تو اس کی افادیت کچھ بھی نہین
نمک نظریہ مفرداعضاء کے بھی فارماکوپیا مین شامل ھے اور طب قدیم بھی اسے بے شمار امراض وادویات مین شامل کرتی ھے لیکن ایمانداری کی بات ھے کہ اس کی اصل اھمیت کو ھم سمجھ ھی نہین پائے بلکہ صرف ھاضم ھی خیال کرکے ھاضم ادویات مین ھی شامل کرتے ھین بلکہ ھاضم ادویات مین تو بڑی بے دردی سے بغیر سوچے سمجھے خانہ پوری کے طور پر بھی شامل کرلیتے ھین ۔۔۔ھونا تو یہ چاھیے تھا؟ کہ ھم اسے محرک شدید ملین یا پھر خاص کر کشتہ کی شکل مین استعمال کرتے یاد رکھین اسے بطور مقوی استعمال کرکے سرعت یعنی تیزی سے فائدہ حاصل کیا جا سکتا ھے مختصرا آپ یون سمجھ لین کہ ھمارے جسمانی نظام کی صحت یابی کے لئے نمک کے افعال اور اس کی کمی وبیشی کے اثرات کو سمجھنا انتہائی ضروری ھے یہ کیسے معلوم ھو کہ اب ھمارے جسم کو نمک کی کمی کا سامنا ھے یا پھر زیادتی کا سامنا ھے نیز ھر دو صورتون مین ھمین کن علامات سے واسطہ پڑ سکتا ھے یعنی کونسی علامات نمک کی کمی اور کونسی علامات زیادتی ظاھر کرتی ھین ان سب کا ذکر انشااللہ اگلی قسط مین کرین گے
آخری باتین ۔۔۔ ایک دوست نے کمنٹس مین بھی پھر انباکس بھی اس بات کا اظہار کیا کہ جس شخص نے نمک کی اھمیت کو اجاگر کیا تھا اسے نوبل پرائز ملا تھا جبکہ مین حیران ھون ھمارے حکیم بھی اس کے بارے مین جانتے ھین؟
تو دوستو یہ سب پڑھ کے میری سوچ دور تک چلی گئی کہ رسول اللہ ﷺ نےبےشمارمواقع پہ نمک سے گزاراکیاھم مسلمان ھین کبھی آج تک نہین سوچا آخر کیون؟آج آپ ضرور سوچئے محمود بھٹہ گروپ مطب کامل

Tuesday, March 26, 2019

نمک کیا ھے 2|Salt|herbal salt

۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Salt|herbal salt
۔۔۔۔۔۔نمک کیا ھے ؟۔۔۔۔۔قسط ٢۔۔۔
نمکیات کو تین گروپ مین تقسیم کیا تھا اب ان مین سے پہلے گروپ اساسی نمک
یہ نمکیات کمزور تیزاب اور طاقتور اساس کے ملنے سے بنے ھین جیسے میٹھا سوڈا یہ کھاری مزاج کی وجہ سے اعصاب پر اثر انداز ھونے والے نمکیات ھین ان کی پی ایچ سکیل پر اساسی نمبر ظاھر ھوتا ھے
تیزابی نمک۔۔۔
یہ نمکیات طاقتور تیزاب اور کمزور اساس سے معرض وجود مین آتے ھین جیسے سوڈیم کلورائیڈ جسے آپ کھانے کا نمک کہتے ھین یہ عضلات پہ اثر انداز ھوتے ھین ان کا پی ایچ سکیل پہ تیزابی نمبر ظاھر ھوتا ھے
تعدیلی نمکیات۔۔۔
یہ نمکیات طاقتور اساس اور طاقتور ھی تیزاب سے بنتے ھین یہ غدی مزاج رکھتے ھین ان کا پی ایچ سکیل پر نمبر سات ھوتا ھے
اب ایک بات یاد رکھین کہ عمل تعدیل سے بننے والے نمکیات کو جب پانی مین ملادیا جائے تو وہ واپس اپنے اجزاء تیزاب اور نمکیات مین تبدیل ھوجایا کرتے ھین اس عمل کو عمل باشیدگی کہتے ھین یہ عمل تعدیل کے بالکل الٹ ھوتا ھے یہ بات بھی یاد رھے عمل تعدیل کے علاوہ دیگر پانچ طریقے بھی ایسے ھین جن سے نمکیات بنتے ھین
اب آپ جو کچھ بھی کھاتے اور پیتے ھین ان کا بیشتر حصہ تینون مفرد اعضاء یعنی دل دماغ اور جگر کے باھمی تعاون سے ھمارے جسم مین نمکیات کی شکل مین بدل جایا کرتا ھے اب ان سب کی تکمیل ھمیشہ جگر مین ھوا کرتی ھے خواہ وہ اساسی نمک بنے یا تیزابی نمک بنے یا تعدیلی نمک کی شکل مین آئے یہ نمکیات جب جسم مین پانی کے ساتھ ملتے ھین تو اپنے اجزاء مین تقسیم ھوکر اعصاب عضلات اور غدد کی غذا بنتے ھین ھر ایک نمک مین دو مفرد اعضاء کی خوراک اور دو ھی کیفیات پائی جاتی ھین اب لوھا کیلشیم سونا چاندی سبزیان دالین گوشت آپ جو بھی کھائین باآلاخر ان کا کارآمد حصہ جسم مین نمک کی ھی شکل اختیار کرے گا اگر نمک بنے گا تو ھضم و جذب ھو گا ورنہ جیسے کا تیسا جسم سے بذریعہ فضلات باھر خارج ھو جایا کرتا ھے
اب مین آپ کو یہان ایک نقطہ کی بات بتانے لگا ھون
اگر ھم اپنی ادویات کو پہلے سے ھی نمکیات مین ڈھال لین تو کیا خیال ھے جو کام بدن نے کافی دیر مین کرنا ھے وہ ھم نے پہلے ھی کردیا ھے یعنی بدن کے نظام کے لئے آسانی پیدا کردی ھے تو دوستو یہ بات بھی یاد رکھین اگر آپ ھر دوا کو نمک کی شکل مین ڈھالنا سیکھ جائین تو آپ کی دوائیں انجیکشن سے بھی زیادہ تیز اثر ھو جائین گی یعنی ھماری ادویات کو اپنا عمل مکمل کرنے مین جتنا وقت یا طویل چکر کاٹنا پڑتا ھے وھی کام منٹون سیکنڈون کے حساب سے ھو جائے گا یعنی آپ کی ھردوا اکسیر بن چکی ھو گی اور آپ کی ھر دوا واقعی اکسیر اور تریاق کہلانے کی مستحق ھو گی ایک بات اور بھی یاد رکھین ایلوپیتھک میڈیسن اکثریت مین نمکیات ھی ھین آپ نمکیات کہتے ھین لیکن اسی لفظ کو ذرا انگریزی مین آپ سالٹ کہین گے اب ایلوپیتھی مین عام ادویات کا پہلے سالٹ ھی تیار کیا جاتا ھے پھر دیگر سالٹ ملا کر مرکب دوا کی شکل دی جاتی ھے لیکن ایک بات ھے یہ سب کیمیائی طریقہ سے تیار کیے جاتے ھین یعنی ان کے کشید کا طریقہ جو وہ استعمال کرتے ھین دوا کشید ھونے کے بعد ساتھ مضر اثرات بھی ساتھ لے آتی ھے جبکہ ھم ایسا طریقہ اختیار کرسکتے ھین جو دوا کو مضر نہ ھونے دے ۔۔جس مین سب سے اھم بات یہ ھے کہ ایلوپیتھک مین کسی بھی ایک نباتات سے کوئی ایک کارآمد جزو الگ کرلیا جاتا ھے باقی کو چھوڑ دیا جاتا ھے جبکہ قانون فطرت ھے کہ کسی بھی ایک نبات مین جو خود سے کافی نمکیات کا مرکب ھوتی ھے اس کا ایک جزو اگر مفید ھے تو اس کے ھمیشہ دو پہلو ضرور ھوتے ھین مثبت اور منفی پہلو جبکہ اسی نبات مین اس کے ھردوپہلو کو اچھے یا بداثرات کو کنٹرول حد مین رکھنے کے لئے فطرت نے دیگر نمکیات بھی رکھے ھوتے ھین تب ھی اسے زندگی ملی ھوتی ھے اب ھم نے ان اجزاء کو ایسے الگ نہین کرنا بلکہ اس مین سے فضلہ خارج کردینا ھے صرف خالص نمک الگ کرلینا ھے جو ھر دو پہلو پہ اچھا ثابت ھو سکے کیا خیال ھے آپ کا میری بات سمجھ آرھی ھے یہ مین نے آپ کو ایک نقطہ بتایا ھے
اب بات کرتا ھون ذرا آپ کا جسم نمکیات کو غذا کیسے سمجھتا ھے ایک بات واضح اور اٹل ھے کہ تین اعضائے ریئسہ ھین دل دماغ اور جگر باقی اگر کوئی تلی یا رحم یا خصیہ جات کو اعضائے ریئسہ سمجھتا ھے تو بے شک سمجھے آخر جمہوری دور ھے آپ گوڈون اور گٹون کو بھی اعضائے ریئسہ مین شامل کرسکتے ھین لیکن اصل مین تین ھی ھین یہ آپ کے جسم کے اندر تین بادشاہ ھین جن کی الگ الگ اپنی اپنی سلطنتون کے مالک ھین خون ایک مرکب سیال ھے جو بدن کو جہان بھی غذا کی ضرورت ھوتی ھے اور جس غذا کی ضرورت ھوتی ھے بہم پہنچاتا ھے اب میرا سوال ھے کبھی آپ نے خون کا ذائقہ چکھا ؟ اگر نہین چکھا تو ٹیسٹ لین دوستو یہ نمکین ھوتا ھے
اب یہ خون نمکین کیون ھوتا ھے یہ بات اگلی پوسٹ مین کرین گے اب اجازت چاھون گا محمود بھٹہ گروپ مطب کامل

Monday, March 25, 2019

نمک کیا ھے|salt|herbal salt



۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Salt|herbal salt
۔۔۔۔۔۔۔۔ نمک کیا ھے؟ ۔۔۔۔۔۔۔
علم طب کتنا وسیع ھے اس کا اندازہ لگانا بہت ھی مشکل کام ھے اگر پھر بھی اندازہ لگانے کا شوق ھو تو اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ھے کہ اگر انسان ساری زندگی علم طب پڑھے اور زندگی اندازاً سو سال ھوتو شاید آدھا علم پڑھ لے پھر بھی مشکل کام ھے بڑے عرصہ سے سوچ رھا تھا کہ نمک پہ ایک مضمون لکھون لیکن سچ بات ھے مضمون کی کوئی ترتیب ذھن مین نہین آرھی تھی اس وقت بھی کوئی خاص ترتیب ذھن مین نہین ھے بس جو بات یاداشت مین آگئی وہ لکھ دونگا اگر کچھ بے ترتیبی مضمون مین نظر آئے تو معذرت چاھون گا پوری کوشش ھو گی کہ کچھ مضبوط دلائل سے لکھ سکون
مین نمک کی تعریف مین اگر کچھ کہون گا تو یہ لکھون گاکہ نمک ایک زندگی ھے زندگی اس کے بغیر ممکن نہین ھے
پہلی بات یہ سمجھ لین کہ ھم جو کچھ بھی کھاتے پیتے ھین بدن مین جاکر باآلاخر وہ نمک کی شکل مین بدل جاتا ھے ھے نا عجیب بات ؟
انسانی وجود مین ستر فیصد پانی ھے جو نمک کے بغیر بالکل فضول ھے یعنی انسانی جسم مین یہ پانی بغیر نمک کے ٹھہر ھی نہین سکتا اگر اس مین نمک شامل نہ ھو ایک بات سب جانتے ھین کہ اگر پانی بدن مین کم یا ختم ھو جائے تو بندہ بھی ختم ھو جاتا ھے جب پانی کم ھوتا ھے یا بدن سے خارج ھوتا ھے تو ساتھ نمک بھی بدن سے باھر نکل جاتا ھے اور بدن فوری طور پہ کمزوری محسوس کرتا ھے اور بعض اوقات نمک میسر نہ ھو سکنے کی وجہ سے بندہ موت کے منہ مین چلا جاتا ھے اب آپ نے ایک بات اور سوچنی سمجھنی ھے جب بھی کسی بندے پہ ایسی نوبت آتی ھے تو ڈاکٹر فورا کہتا ھے کہ نمکیات کی کمی ھو گئی ھے اب سوچنے والی بات یہ بھی ھے کہ یہان جمع کا صیغہ استعمال ھوا ھے لفظ نمک صرف ایک نمک کی بات ھو رھی تھی جب مرض الموت کی علامات ظاھر ھوئین تو ایک نمک کی بات نہین رھی بلکہ نمکیات کا لفظ استعمال ھوا ھے اب اس بات سے پتہ چلا کہ انسانی جسم مین کئی طرح کے نمکیات موجود ھین اب دوستو ھم ان نمکیات کو سمجھتے ھین لیکن اس سے پہلے اس بات کو سمجھتے ھین کہ آخر نمک بذات خود کیا چیز ھے؟
عام طور پر ھم صرف اتنا ھی جانتے ھین اور صرف اسی کو سمجھتے ھین جو ھمارے کھانے مین استعمال ھوتا ھے یا جسے ھم کھیوڑہ کا نمک کہتے ھین دوستو درمیان ایک بات آپ کو یہ بھی بتاتا چلون کہ کھیوڑہ کی نمک کی کان میرے قریب ھی واقع ھے تھوڑے سے فاصلہ پہ موجود ھے کان کی سیر کا مزہ گرمیون کے موسم مین آتا ھے جب اندر داخل ھو تو بندہ ایئر کنڈیشن کو بھول جاتا ھے اتنی ٹھنڈ ھوتی ھے یہ بھی ایک سوال ھے کہ نمک تو گرم مزاج کا ھوتا ھے پھر کان مین سردی کا کیا کام ۔۔اب اس سوال کا جواب آگے آجائے گا
ھم بات نمک کی کررھے تھے جسے ھم دوسرے لفظون مین سوڈیم کلورائیڈ بھی کہتے ھین دوستو اس کے علاوہ بھی بہت سے نمکیات ھین
اب پہلے نمک کو سمجھتے ھین
خوردنی نمک ایک آئنی مرکب ھے یہ نمک تیزاب اور اساس کے باھمی عمل سے بنتا ھے یعنی تیزاب اور کھار کے باھمی عمل سے بنتا ھے بات اگر اب بھی سمجھ نہین آئی تو کچھ یون سمجھ لین شدید ترشی اور کھار کے باھمی عمل سے نمک بنتا ھے یہ بات یاد رکھین تیزاب اور کھار جب عمل کرتے ھین تو اپنا وجود ختم کرکے نمک اور پانی مین بدل جاتے ھین اب اس عمل مین حرارت بھی بنتی ھے اب اس سارے عمل کو ھم تعدیلی عمل کہتے ھین اب اس بات کو یاد رکھین اسی تعدیلی عمل سے کیمیائی دنیا اور ھمارے بدن کے اندر کئی اقسام کے نمک بنتے ھین اب یہ بات اس نمک پہ منحصر ھے کہ جب وہ تعدیلی عمل سے گزر کر آیا اور اپنا وجود مکمل کیا تو اس وقت تیزاب اور اساس کی نوعیت کیا تھی اب تمام نمکیات کو تین اقسام مین یا تین خاندانون مین سمجھا جاتا ھے پہلے نمبر پہ اساسی نمک دوسرے نمبر پہ تیزابی نمک اور تیسرے نمبر پہ تعدیلی نمک
دوستو آج کچھ مصروفیت ھے جس کی بنا پہ آج کا مضمون اتنا ھی لکھ سکتا ھون باقی مضمون کل انشااللہ

Sunday, March 24, 2019

ھائی بلڈ پریشر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔ ھائی بلڈ پریشر۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دو دن پہلے مین نے ایک پوسٹ لو بلڈ پریشر پہ لکھی تھی تو اس کے کمنٹس مین فورا سے پہلے یہ لکھنا کئی نے اپنا فرض جانا کہ ھائی بلڈ پریشر پہ بھی لکھ دین اب یہ ھمت کسی کو بھی نہین ھوتی کہ کم سے کم محمود بھٹہ کی پچھلی پوسٹون پہ نظر ھی ڈال لین شاید اس پہ لکھا جا چکا ھو اور دوستو ھائی بلڈ پریشر پہ کافی ادویات مین پہلے لکھ چکا ھون جیسے ایک دوا میرا معمول مطب ھے چندن گل سرخ صندل سفید الائچی سفید کشنیز زیرہ سفید برابر وزن پیس کر بڑے سائز کے کیپسول بھر لین ھائی بلڈ پریشر مین بہت مفید دوا ھے نارمل کردیتی ھے خیر آج آپ کو ایک معجون سے آگاہ کرتا ھون جو بی پی کو لو کرتی ھے یہ ایک نئی دوا ھو گی آپ کے لئے
طباشیر نقرہ 40گرام
بہمن سفید40گرام
گل سرخ40گرام
صندل سفید60گرام
کشنیز 60گرام
گاؤزبان60گرام
مغز خیارین150گرام
مغز کدو200گرام
تخم خرفہ سیاہ500گرام
زرشک250گرام
عرق گلاب750ML
عرق کیوڑہ750ML
قند سفید تین گنا
تمام ادویات ادویات کا سفوف بنا کر عرقیات کی مدد سے قند ملا کر قوام بنا کر ادویات شامل کر لین بس معجون تیار ھے
چھ ماشہ تک مقدار خوراک صبح شام
دل کی صفراوی بافتون کی سوزش اتار کر صحت کی راہ پہ لے آتا ھے خفقان قلب اور ھائی بلڈ پریشر مین بہت ھی زیادہ مفید ھے
اس پوسٹ کو لکھتے وقت ایک خیال بار بار ذھن مین آرھا تھا (نمک۔۔۔۔ نمک)
جب بھی بلڈ پریشر ھائی کا ذکر آتا ھے تو ذھن مین ھر ایک کے ایک سوال آتا ھے کہ اب نمک سے پرھیز کرنا ھے کیون؟
یہ بات حکماء مین سے کسی نے بھی نہ سوچی ھو گی کہ آخر نمک مین ایسی کیا بات ھے کہ جو بلڈ پریشر بلند کردیتا ھے جبکہ نمک بذات خود زندگی ھے ایک اور سوال بازار مین ایک نمک بھی ملتا ھے جسے بلڈ پریشر والے مریض استعمال کرسکتے ھین جو مہنگے دامون بکتا ھے وہ کونسا نمک ھے اور اس کی کان کہان ھے پھر کیا کھیوڑہ کا نمک مضر صحت ھے
اب کچھ ایسی امراض بھی ھین جو نمک کی کمی سے واقع ھو جاتی ھین ۔۔۔کچھ خطرناک امراض جن سے موت واقع ھو جاتی ھے ؟بہت سے ایسے ھی سوالات ھین جن کی تشریح بہت ضروری سمجھی ھے اگر آپ جان لین تو آنکھین کھلی کی کھلی رہ جائین بس ایک بات یاد رکھین آب حیات نمک کے بغیر مکمل نہین ھوتا آپ کو یاد ھو گا ایک مضمون مین میں نے نسخہ آب حیات کا لکھنا شروع کیا تھا جس کی ابتدا کچھ یون لکھی تھی۔۔۔
کہ پیاز سفید جب چھوٹے ھون تو ان کے اندر پارہ ڈالنا ھے اور جب تیار ھو جائین تو ان کا پانی نکال کر شہد مین جلانا ھے بس اتنا ھی لکھا تھا کہ بڑے بڑے عالمون میدان مین اتر آئے کہ ھم اس نسخہ کو اچھی طرح جانتے ھین اور یہ کتابی نسخہ ھے فلاں فلاں کتاب مین لکھا ھے جبکہ مین پہلے ھی لکھ چکا تھا کہ کتابون مین صرف پیاز تیار کرنے اور اسے بطور سبزی ھی کھانے کا لکھا ھے آگے شہد والی بات بھی نہین لکھی اب ھر شخص نے شمع شبستان کے اس صفحہ کی تصویر لگانی بھی فرض سمجھی جہان پیاز تیار کرنے کا لکھا تھا اب اس دوا کا اگلا حصہ مین نے کبھی بھی نہین لکھا اور نہ ھی لکھنا ھے بس آج آپ کو اس کے ایک جزو کے بارے مین بتا دیا ھے کہ آب حیات بغیر نمک کے بن ھی نہین سکتا درحقیقت آب حیات وہ دوا تھی جس کے چند قطرے زندگی بھر کے لئے انسان کو طاقت کا ایک طوفان بنا دیتے ھین لازوال دوا ھے خیر یہ اب موضوع نہین
اگر نمک کو بھی آپ جانتے ھین تو بتا دین میرا وقت بچ جائے گا کیا خیال ھے؟ بتائیے گا ضرور۔۔۔
محمود بھٹہ گروپ مطب کامل

Saturday, March 23, 2019

اُٹنگن

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خزائن المفردات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اُٹنگن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تعارف۔۔دوا مین اس بوٹی کے بیج استعمال ھوتے ھین ۔جو مغز تخم کشنیز سے مشابہ ھین درخت چھوٹا اور چار پتون والا ھوتا ھے پتون مین کلی اور اس مین دوعدد بیج ھوتے ھین
مزاج۔۔ترگرم اول درجہ مین یعنی اعصابی غدی ھے
ذائقہ مین میٹھا اور بدمزہ ھوتا ھے
رنگ خاکی ھے
ان مین ایک قسم کی اسفنجی کیفیت ھوتی ھے جب ان پہ پانی چھڑکا جاتا ھے تو فورا ابھار پکڑتے ھین یعنی رطوبت کو جذت کرنا شروع کردیتے ھین
خواص۔۔مقوی اعصاب ۔۔دافع سوزش غدد۔۔مقوی باہ ۔۔مغلظ منی
جاذب رطوبات۔سرعت انزال اور سیلان الرحم مین فائدہ مند محرک اعصاب خوبی کی وجہ سے جب مقوی باہ اور غدد کی سوزش دور کرتا ھے تو لازما ممسک بھی ھے
گردون کی سوزش اور پیشاب کی جلن مین بھی مفید ھے
خشک کھانسی کو بھی درست کرتا ھے
یاد رھے نمناک زمین مین پیدا ھوتا ھے
نوٹ۔۔ پوسٹ کا ایک مقصد یہ بھی ھوتا ھے آپ لوگ پڑھنے کے بعد اب جس جس علاقہ مین یہ پودا پیدا ھوتا ھے اس بارے مین آگاہ کیا کرین 






بید مشک

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

المفردات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خزائن
۔۔۔۔۔۔۔۔ بید مشک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسی نام سے زیادہ مشہور ھے باقی فارسی مین گربہ بید عربی نام خلاف بلخی ھے
دو اقسام کا ھے ایک بید سادہ یہ ذرا قد مین بڑا ھوتا ھے اور دوسرا بید مشک
بید سادہ ذرا کم خوشبودار ھوتا ھے جبکہ بید مشک کے پھول سے زیادہ خوشبو آتی ھے پاکستان مین لاھور تا پشاور سب جگہ پایا جاتا ھے رنگ اور تعارف درخت تصاویر سے بہت واضح ھے
ذائقہ تیز ھے
مزاج اعصابی عضلاتی ھے سرد تر
مقدار تازہ کا رس دو تا پانچ تولہ تک جبکہ عرق انچ تا دس تولہ تک
افعال ۔۔محرک دماغ واعصاب ھونے کی وجہ سے مسکن حرارت ھے کیمیاوی طور پہ خون مین رطوبات صالح پیدا کرتا ھے
جگر مین تحلیل کرکے جگر کو ھرقسم کے سدون سے پاک کرتا ھے مخرج حرارت ھونے کی وجہ سے گرمی کی پیاس قے اور خفقان قلب مین بہت مفید ھےخوشبودار ھونے کی وجہ سے مفرح قلب ھےصفراوی درد سر مین بہت مفید ھے
صفراوی بخارون مین  بہت مفید ھے جبکہ سوداوی یا بلغمی بخار مین کوئی فائدہ نہین ھے
یہ دوا مقوی دماغ ھے لیکن بعض حکماء نے اسے مقوی قلب بھی لکھ دیا ھے جبکہ یہ مقوی قلب کسی صورت بھی نہین ھے بلکہ صرف مفرح قلب ھے بلکہ زیادہ استعمال سے مضعف قلب یعنی دل کو کمزور بھی کردیتا ھے






Friday, March 22, 2019

لو بلڈ پریشر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔ لو بلڈ پریشر ۔۔۔۔۔۔۔
ھائی بلڈ پریشر کا علاج تو ھم روزانہ کسی نہ کسی پوسٹ مین پڑھ ھی لیتے ھین جبکہ بلڈ پریشر کا کم ھو جانا بھی بہت ھی زیادہ خطرناک ھے دل فیل ھوجاتا ھے ایلوپیتھک مین تو ایسی حالت مین فوری مدد کے لئے بے شمار ادویات ھین اور کچھ نہین تو ڈیکا ڈران انجیکشن سے ھی کام لے لیا جاتا ھے لیکن طب مین آپ کو ایسی حالت کا مستقل علاج بتائے دیتا ھون مندرجہ دوا استعمال کرنے سے مستقل طور پر اس مرض سے چھٹکارا مل جائے گا
تخم اسپند اور مگھاں برابر وزن پیس لین تین ماشہ تک صبح دوپہر شام ھمراہ پانی دین
اب جن کا بلڈ پریشر لو رھتا ھے جسم مین سستی رھتی ھے کام کاج کرنے کی ھمت نہین رھتی ان سب کو یہ دوا استعمال کرائین چند روز مین تمام عوارضات ختم ھو کر بندہ اس مرض سے چھٹکارا پا جائے گا محمود بھٹہ گروپ مطب کامل

Thursday, March 21, 2019

ریٹھا

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔خزائن المفردات۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ریٹھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فارسی ھندی نام ریٹھا سندھی نام اریٹھو جبکہ انگریزی نام سوپ نے ھے
تعارف
ایک پہاڑی درخت کا پھل ھے چھوٹی چھالیہ کے برابر ھوتا ھے پھل گچھوں کی شکل میں لگتا ھے اس کا باھر کا حصہ پتلے باریک چھلکے پہ قائم ھوتا ھے اب اس چھلکے کے اندر سیاہ رنگ کی گھٹلی ھوتی ھے اور گٹھلی کے اندر سفید رنگ کا مغز ھوتا ھے
رنگ زردی مائل سفید گٹھلی کا مغز بھی سفید جبکہ گٹھلی کا رنگ سیاہ ھے ذائقہ تلخ ھوتا ھے
مقام پیدائش۔۔ پنجاب میں کہیں کہیں درخت نظر آتے ھیں دراصل اس کی کاشت کا خیال کسی کو نہیں اگر کاشت کیا جائے تو امید ھے پنجاب سندھ اور خیبر پختونخوا میں ضرور پیدا ھو گا اور بلوچستان کے بھی زیادہ حصوں میں کاشت ھو سکتا ھے یہاں منڈی بہاوالدین ضلع میں کافی تعداد میں یہ درخت پائے جاتے ھیں
مزاج۔۔ اعصابی غدی ھے ترگرم
مقدار خوراک چار رتی تا ماشہ
خواص۔۔مولد ومخرج رطوبات۔۔۔مخرج صفراوحرارت، جالی لازع مخرش غشا مخاطی تریاق مارگزیدہ وعقرب معطس ۔ تریاق خناق
فائدے۔۔۔
تمام غدی اعصابی ادویہ میں سب سے تیز اثرات کا حامل ھے چند منٹ میں عصبی نظام کو ھیجان میں لے آتا ھے چونکہ مخرش  اور لازع ھے اس لئے برص چھائیں اور بہق پہ ضماد کرنے فایدہ دیتا ھے
ریٹھا شدید الکلی کے اثرات رکھتا ھے غدی عضلاتی تحریک سے گلے کی غشا مخاطی میں جب شدید ورم پیدا ھو تو اسے عرف عام میں خناق کا مرض کہتے ھیں اس کے لئے دوتین ریٹھوں کے چھلکا کا پاؤ بھر پانی میں ابال کر جوشاندہ سا بنا دیں اب اس سے غرارے کرانے سے مرض درست ھو جاتی ھے عام طور پہ ٹانسلز کا مرض عام ھے اس کے لئے حب بندق کا نسخہ بے شمار مرتبہ لکھ چکا ھوں اب پھر لکھے دیتا ھوں
گندھک آملہ سار۔۔رائی ۔۔۔ چھلکا ریٹھا برابر وزن پیس کر حب نخودی بنا کر ایک تا دو گولی صبح دوپہر شام ھمراہ پانی دیں یہی دوا آپ بواسیر جیسے مرض پہ استعمال کریں رزلٹ سوفیصد ملے گا اگر مندرجہ بالا ادویہ میں 5گرام قلمی شورہ کا اصافہ کرکے گولیاں بنا لیں تو پھر مندرجہ ذیل امراض میں مبتلا افراد کے لئے تیر بہدف دوا بن جائے گی
سوزاک۔۔خونی پیچش۔۔ چھوٹے پیشاب میں خون آنے کی شکایت تقطیرالبول یا عسرت الطمث ھو یہ سب درست ھو جاتی ھیں
مردہ جنین کو خارج کرنے کے لئے پیس کر فرزجہ بنا کر اندام نہانی میں رکھتے ھیں
مارگزیدہ وعقرب گزیدہ کے لئے تریاق صفت دوا ھے مارگزیدہ کو چھ ماشہ پیس کر پانی میں ملا کرپلانے سے دو دو گھنٹے بعد پلاتے رھیں تمام زھر قے اور اسہال کے ذریعے خارج ھو جاتی ھے مارگزیدہ مقام پہ بھی پیس کر لگائیں عقرب گزیدہ مقام پہ بھی پیس کر لگائیں فورا درد سے سکون ملے گا
بے شمار حکماء نے ریٹھا کا مزاج گرم خشک لکھا ھے لیکن جو فوائد لکھتے ھیں تو بالکل الٹ لکھتے ھیں اب گرم خشک دوا کا کام ھے کہ صفرا بڑھائے جبکہ تجربات سے اور ان کی تحاریر سے بھی یہ بات صاف عیاں ھے کہ ریٹھا ھر صفراوی مرض کو درست کردیتا ھے جیسے سوزاک یرقان اصفر جریان خون تقطیر البول چھپاکی درست ھوتے ھیں اور جو امراض رطوبت بڑھنے سے پیدا ھوتے ھیں مثلا سلسل بول زکام چھینکیں آنا دست و قے وغیرہ ریٹھا کے مسلسل استعمال سے بڑھ جایا کرتے ھیں اب ان دلائل سے ھی یہ بات ثابت ھو جاتی ھے مزاج تر گرم ھے اور جن کتابوں میں گرم خشک لکھا ھے وہ غلط لکھا ھے 






جوشاندہ عسر ولادت

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔جوشاندہ عسر ولادت۔۔۔۔۔۔
برگ بانس اڑھائی تولہ آدھ سیر پانی میں پکائیں جب پانی نصف رہ جائے تو اتار کر چھان لیں اب اس کے ساتھ دو ماشہ سہاگہ بریان کھلا دیں پندرہ تا بیس منٹ میں بچہ کی پیدائش ھو جاتی ھے بعض دفعہ دو تا تین خوراک دینی پڑتی ھیں جو آپ ھر آدھے گھنٹہ بعد دے سکتے ھیں