Saturday, January 12, 2019

تشخيص امراض وعلامات 71

۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔تشخيص امراض وعلامات ۔۔۔۔قسط نمبر 71۔۔۔
کیپسول اورفےشیا مین لپٹے ھوتے ھین
رنگ زردی مائل براؤن اور تقریبا لمبائی مین چار سینٹی میٹر اور تین سینٹی میٹر موٹے ھوتے ھین یہ غدد دو حصون مین منقسم ھوتے ھین ھر حصہ سے مخصوص ھارمون خارج ھوکر جسم کے افعال پر اثرانداز ھوتے ھین
یہ تھا مختصر تعارف گردون کا اب بات کرتے ھین گردے کے کردار پہ یعنی اس کا فعل یا فنکشن یا گردے کام کیا کرتے ھین
۔functions of kidneysگردے کے افعال
گردے جسم مین نہایت ھی اھم کردار یا فعل سرانجام دیتے ھین صحت مند گردون کے ان افعال کو چار حصون مین تقسیم کیا جاتا ھے
پہلا حصہ
جسم مین پانی کی مقدار کو کنٹرول کرنا یا ایک حد مین رکھنا
گردے فالتو پانی جسم سے باھر نکال دیتے ھین
اسے کم بھی نہین ھونے دیتے
گرمیون مین جلد کا درجہ حرارت معتدل رکھنے کے لئے جب جسم مسامات سے کے ذریعے کافی پسینہ خارج کررھا ھوتا ھے تو گردے پیشاب کا اخراج کم کردیتے ھین
اور سردیون مین جونہی جلد سے پسینے کی آمد کا سلسلہ موقوف ھوتا ھے تو یہ پیشاب زیادہ خارج کرنا شروع کردیتے ھین اسی طرح اندرونی حالات کے مطابق اپنے فعل کو بڑھا یا کم کرکے پانی کا توازن جسم مین برقرار رکھتے ھین
دوسرا فعل۔۔۔جسم مین نمکیات کی مقدار کو کنٹرول کرنا
گردون کا دوسرا کام یہ ھے کہ یہ نمکیات کو انسانی جسم کی ضروریات کے مطابق رکھتے ھین جب کبھی زیادہ نمکیات کی ضرورت ھوتی ھے تو بڑھا لیتے ھین جب کم نمکیات کی ضرورت ھوتی ھے تو گھٹا دیتے ھین فالتو جسم سے باھر خارج کردیتے ھین یعنی ضرورت کے مطابق نمکیات کا لیول رکھتے ھین اس لیول کو برقرار رکھنے کے لئے کبھی وہ پانی کو جسم مین روکتے ھین تو کبھی خارج کرتے ھین مثلا اگر سوڈیم کی مقدار جسم مین بڑھ جاتی ھے تو یہ پانی کو روکنا شروع کردیتے ھین تاکہ اندرونی محلول مین نمک کی مقدار کم ھو جاۓ اسی طرح اگر سوڈیم کی مقدار کم ھو جاۓ تو یہ پانی کا اخراج بڑھا کر جسم مین اس کا ارتکاز زیادہ کرنے مین مدد دیتے ھین
تیسرا فعل یا کردار گردون کا۔۔۔
خون کی پی ۔۔ایچ یعنی کھاری پن اور تیزابی پن مین توازن رکھنا
یاد رکھین ھمارا خون کھاری ھوتا ھے جس کی پی۔۔ایچ 7.4ھے
وہ مادے جو تیزابیت مین اضافے کا باعث بنتے ھین اگر جسم مین رک جائین تو خون کا کیمیائی معیار برقرار نہین رھے گا چنانچہ گردے ان رکے ھوئے مادون کو فورا خارج کردیتے ھین اس طرح خون کا کھاری پن قائم رھتا ھے
چوتھا کردار گردون کا۔۔۔
فالتو اور فاسد مادون کا اخراج کرنا
گردے جسم اور خون کے اندر سے زائد از ضرورت مادے زھریلی ادویات وفالتو نمکیات اور ٹوٹے جوئے خلیات اور جراثیمون کا پیدا کردہ زھر اور اندرون جسم پیدا ھونے والی زھرون اور جسم مین زائد اخلاط کو بھی خارج کرتے ھین
گردے کیمیائی رطوبات اور جسم کا طبعی توازن قائم رکھنے کے لئے پیشاب بناتے بھی ھین اور خارج بھی کرتے ھین
یہ تھی مختصر تشریح گردون کے اصل کام پہ جو وہ سرانجام دیتے ھین
اب ھم اپنے اصل موضوع یعنی قارورہ کی طرف چلتے ھین یعنی پیشاب سے امراض کی تشخيص کی طرف چلتے ھین اور اس ضمن مین ھم دونون طریقے یعنی طب قدیم کا بھی فلسفہ اور نظریہ مفرداعضاء کا بھی فلسفہ اور جدید سائینس کا فلسفہ یعنی ٹیسٹ پیشاب سب کو ساتھ ساتھ بیان کرین گے یاد رھے یہ طریقہ کار انشاءاللہ طب کی دنیا مین پہلی دفعہ ھو گا انشاءاللہ آپ کی دلچسپی بڑھے گی محضوظ بھی ھونگے اور مقصود بھی ھونگے آئیے پہلے سمجھتے ھین آخر پیشاب ھے کیا چیز
پیشاب ۔۔۔ پیشاب کی تعریف یون کی جاسکتی ھے پیشاب وہ مائع جسے گردے پیدا کرتے اورخارج کرتے ھین جس مین فاسد مادے اورنمکیات ھوتے ھین جسے نظام بول جسم سے باھر نکالتا ھے اسے پیشاب کہتے ھین
اس کا قدرتی رنگ ھلکا پیلا مخصوص بو اور وزن مخصوصہ1.010تا1.030ھے معمولی تیزابی خواص کا حامل ھے اس کی پی ایچ 4.5 سے 8 ھے چوبیس گھنٹے مین پیشاب کی مقدار جو ایک جوان آدمی خارج کرتا ھے ایک تا ڈیڑھ لٹر ھوتی ھے یادرھے بعض اوقات موسمی حالات یا اشیائے خورد ونوش کی عادات اورروزمرہ کےکام کی نوعیت کے مطابق اس مین کمی بیشی ھو سکتی ھے
خورد بین کے نیچے اس کا تجزیہ کرنے پہ یا عام حالت مین تجزیہ ھونے پہ اس مین مندرجہ ذیل اجزاپاۓ جاتے ھین
پانی اس مین %96ھوتا ھے اور باقی دیگر چار فیصد اس مین زیادہ تر پروٹین کے زھریلے مرکبات اور مختلف نمکیات ھوتے ھین باقی اس مین یوریاureaدو فیصد ھوتا ھے
یورک ایسڈ uric acid
کریاٹی نین creatinine
ہپ پیورک ایسڈ hippuric acid
فاسفیٹ phosphate
سلفیٹ sulphates
آگزلیٹoxylates
کلورائیڈ chlorides
اور پوٹاشیم۔۔سوڈیم ۔۔میگنیشیم ۔۔امونیم آئینز۔۔یوروبائیلوجن البیومن۔ایپی تھلیل سیلز۔۔wbc..rbcاور ھارمونز وغیرہ دو فیصد ھوتے ھین
یادرھے پیشاب کےان اجزاکی کمی بیشی سےگردےاورجسم کی مختلف بیماریون کا پتہ چلایا جاتا ھے باقی آئیندہ

Friday, January 11, 2019

تشخیص امراض وعلامات 70

۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔تشخیص امراض وعلامات۔۔۔قسط نمبر70۔۔
کان ناک آنکھ میمیری گلینڈ یعنی پستان اور اعضائے مخصوص بھی فالتو مادون کو باھر نکالتے ھین
اگر طبعی طریقہ سے یہ مادے خارج نہ ھون تو جسم مین سوزش اور ورم پیدا ھو کر انہین باھر نکالنے کا طریقہ اختیار کرتا ھے اگر اس طرح بھی کامیابی نہ ھو تو جسم مستقل بیمار ھو جاتا ھے
یاد رکھین عمل اخراج excretionکا عمل بہت بڑا اور وسیع ھے جسے جانے بغیر ھر مرض کا علاج ممہن نہین ھے یعنی اسے جان کر آپ ھرمرض کا شافی علاج کرسکتے ھین
حقیقت مین عمل اخراج ایک جامع اصطلاح ھے لیکن ھم نے یہان صرف اور صرف قارورہ پہ بحث کرنی ھے اس لئے عمل اخراج کے لئے گردون اور اس سے متعلقہ دیگر اعضاء کے ذریعے جو اخراج ھوتا ھے اس پہ ھی بات کرین گے آپ نے اگر مکمل اس نظام کو سمجھنا ھے تو کتب کو پڑھین یعنی ھم صرف نظام بول پہ بات کرین گے باقی آپ اناٹومی وفزیالوجی لازمی پڑھین مضمون ذرا خشک ضرور ھے لیکن آپ کی دلچسپی ضرور بڑھے گی کیونکہ اس نظام مین قوت باہ کی بھی امراض کا حصہ ھے یعنی منی کا اخراج بھی اسی نظام کا حصہ ھے اور آپ کو سب سے زیادہ دلچسپی بھی تو اسی سے ھے ۔۔۔( معذرت کے ساتھ)
آئیے اپنے موضوع کی طرف چلتے ھین
یاد رکھین سب سے زیادہ زھریلے مرکبات پروٹین کی توڑ پھوڑ سے بنتے ھین اور انہین نائٹروجنی فاسد مادے کہا جاتا ھے انسان مین یہ نائٹروجنی فاسد موادnitrogenous wastesنظام بول ھی سے پیشاب کی شکل مین باھر نکلتا ھے جس مین زیادہ تر یوریا ھوتا ھے ۔۔جسم مین نمکیات اور پانی کا ضرورت سے زیادہ اجتماع بھی یکسان طور پہ مضر ھے اور ان کا توازن بھی اسی نظام کا مرھون منت ھے اور اس دور مین جو غذا جس پہ بے شمار سپرے اور کیمیکل استعمال ھوتے ھین جیسے سنا ھے آجکل کھیرا چوبیس گھنٹے مین سپرے کرکے تیار کرتے ھین یہ بات مین نے سنی ھی ھے اس بارے اصل مین حقیقت کا مجھے علم نہین ھے خیر یہ غذائین اور کیمیکل پر مشتمل ادویات کا نشانہ بھی جگر اور گردے ھی بنتے ھین ( اسی لئے چند روز پہلے مین نے ایک مضمون لکھا تھا جس مین سم الفار کا حوالہ تھا تاکہ حکماء روز محشر معاشرے کو تباہ کرنے کے ذمہ دار نہ ٹھہرین ایسا نہ ھو کہ جہنمیون کی سب سے بڑی لائن حکماء کی ھو)اللہ تعالی سب کو ھدایت نصیب کرے۔۔
ان کیمیکل کی وجہ سے گردے نشانہ بنتے ھین جنکی وجہ سے انتہائی پیچیدہ خرابیان امراض کی شکل مین سامنے آتی ھین اور یہ کام تیزی سے پھیل رھا ھے اس لئے بھی اس نظام کو سمجھنا بہت ھی ضروری ھے
اور یہ نظام مندرجہ ذیل اعضاء پہ مشتمل ھوتا ھے دستو اعضاء کا ذکر کرنے سے پہلے آپ کو یہ بتا دون اسے نظام اخراج کہتے ھین یعنی excretory system
اس مین پہلے نمبر پہ دو گردے آتے ھین یہ خون سے پیشاب کو فلٹر کرتے ھین
دوسرے نمبر پہ دو حالب نالیانureter آتی ھین یہ گردون مین بنے پیشاب کو مثانے مین لاتی ھین
تیسرے نمبر پہ مثانہ bladderآتا ھے اس مین پیشاب سٹور ھوتا ھے
چوتھے نمبر پہ مجریٰ البول urethraآتا ھے یہ مثانہ مین جمع شدہ پیشاب کو باھر نکالتا ھے
میرا خیال ھے گردے کا مختصر تعارف ضرور لکھ دون تاکہ مضمون کی اصل شکل آپ پہ واضح ھو سکے دوستو مین نے بڑا ھی مختصر لکھنا ھے تفصیلات کے لئے متعلقہ کتب پڑھین
گردےkidneys۔۔
انسانی جسم مین دونون گردے ریڑھ کی ھڈی کے دائین اور بائین طرف پیٹ کی پچھلی دیوار مین کمر کے چوتھے مہرے کے اوپر ھوتے ھین اور تقریبا چھاتی کے بارھوین مہرے یعنی آخری پسلی تک جاتے ھین گردون کا فزیکل معائینہ ھمیشہ پیچھے کی طرف یعنی کمر سائیڈ سے کرنا چاھیے
دایان گردہ جگر کی وجہ سے بائین گردے کی نسبت ذرا نیچے کی طرف ھوتا ھے
گردے کی شکل لوبیا کے دانہ جیسی ھوتی ھے
ھر گردے کے دو سرے ایک اوپر کی طرف اور ایک نیچے کی طرف ھوتا ھے اور دو سطحین ایک سامنے والی anteriorاور دوسری پیچھے والی posteriorاور دو کنارے ایک باھر کی طرف نکلا ھوا محدبLateral borderاور دوسرا ریڑھ کی ھڈی کی طرف اندر کو دبا ھوا معقرMedial borderھوتا ھے اس کنارے مین ایک گڑھا سا ھوتا ھے جسے ناف گردہ کہتے ھین
یہان سے اعصاب تازہ خون کی نالی رینل شریان اندر داخل ھوتی ھے اور یوریٹر اور رینل ورید باھر نکلتی ھے
ھر گردے کے اوپر والے سرے سے نیچے والے سرے تک لمبائی بارہ سینٹی میٹر(4.5)انچ ھوتی ھےاور چوڑائی باھر کے کنارے سے اندر والے کنارے تک 7سینٹی میٹر(2.5)انچ ھوتی ھے اور موٹائی چار سینٹی میٹر(1.25)انچ ھوتی ھے
ایک صحت مند انسان کے گردے کا وزن130--140گرام کے لگ بھگ ھوتا ھے
چربی کی تہہ مین لپٹے ھوۓ ھر گردے پر ایک جھلی یا غلافfascia اور کیسول ھوتا ھے جو اسے محفوظ رکھتا اور اپنی جگہ قائم رکھتا ھے
دونون گردون کے اوپر ایک ایک غددسپرارینل گلینڈ یا ایڈرینل گلینڈ ( کلاہ گردہ)کے نام سے پایا جاتا ھے اس کے گرد بھی کافی چربی پائی جاتی ھے اور کیپسول

Thursday, January 10, 2019

تشخيص امراض وعلامات 69

۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔تشخيص امراض وعلامات۔۔۔قسط نمبر 69۔۔۔
ذاتی وجوھات کی وجہ سے کچھ دنون سے اس مضمون کا تسلسل ٹوٹا ھوا ھے کوشش ھو گی کہ اب یہ تسلسل نہ ٹوٹنے پاۓ کیونکہ جیسے جیسے مضمون آگے جا رھا ھے مضمون کی گہرائی بھی بڑھتی جارھی ھے آج مضمون کو قارورے کے باب مین داخل کرنے لگا ھون مرض کی تشخيص کےلئے طب مین قارورہ کی ھمیشہ سے بہت زیادہ اھمیت رھی ھے قدیم اطباء نبض کے ساتھ قارورہ دیکھ کر فیصلہ کرنا فرض سمجھتے تھے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنی نااھلی کی وجہ سے طبیب حضرات نے قارورہ دیکھنا بند کردیا بلکہ کچھ عرصہ پہلے مین نے ایک گروپ مین قارورہ پہ لکھا مضمون پڑھا جس مین قارورہ دیکھنا سب سے بڑی جہالت قرار دیا گیا تھا بلکہ یہان تک لکھا تھا پیشاب دیکھ دیکھ کر پھر سونگھ کر ان حکیمون کے دماغون مین بھی پیشاب بھر گیا تھا
یہ قدیم اطباء کی ذات پہ فتوہ تھا۔۔۔
نہایت ھی افسوس ھوا یہ سب پڑھ کے ۔۔۔
حقیقت تو یہ ھے پروین شاکر کے شعر کی طرح
بات تو سچ ھے مگر بات ھے رسوائی کی۔۔
کی طرح قدیم اطباء نے قارورہ پہ رنگ کی حد تک تو لکھ دیا کہ فلان رنگ قارورہ کا فلان خلط کو ظاھر کرتا ھے لیکن وسیع تجربات بلکہ اٹل فیصلے لکھنے سے گریز کیا جیسے تاریخ طب مین بعض اطباء کی داستانین تشخيص پہ لکھی گئی ھین کہ فلان حکیم صاحب نے قارورہ دیکھ کر یہ فتوہ مرض لگایا تھا اب ان داستانون کا موجودہ دور کے اطباء کو کیا فائدہ ھو سکتا ھے بلکہ سواۓ افسوس کے اور کچھ بھی نہین کیا جا سکتا انشاءاللہ کوشش ھو گی اس موضوع پہ آپ کو وہ کچھ بتا سکون جو طبی کتب مین درج نہین ھے یعنی وہ شکوہ دور کرنے کی کوشش ھو گی جو اجداد کی شکل مین طب کو ملا ھے
یاد رکھین قارورہ کی اھمیت آج بھی مسلمہ ھے حکماء اپنی نا سمجھی مین تو اس سے گریز کرنے لگے لیکن طب ایلوپیتھی نے اس پہ بہترین تشریحات وتجربات کیے آج ایلوپیتھی کا زیادہ انحصار قارورہ اور بلڈ ٹیسٹ رپورٹ پہ ھی ھوتا ھے نظریہ مفرداعضاء نے بھی قارورہ پہ بہت ھی اعلی دلائل اور تجربات کیے ھین اور کافی حد تک آسانیان پیدا کی ھین انشاءاللہ اس سلسلہ مین قارورہ کی ھر طرح تشریح کی جاۓ گی لیکن اس سے پہلے یہ سمجھنا بہت ضروری ھے کہ درحقیقت قارورہ ھے کیا؟ اور اس بھی پہلے ایک سوال جسے مین ھی آپ سے کیے دیتا ھون کہ قارورہ کا تعلق تو زندگی سے ھے اب بے جان تو قارورہ پیدا نہین کرسکتا آپ پہلے زندگی کی تشریح کرین تو دوستو حقیقت مین قارورہ کا مفہوم پیدائش سمجھنے اور امراض سے اس کا کیا تعلق ھے مختصر اس پہ لکھون گا مذید سمجھنے کے لئے اناٹومی اور فزیالوجی پڑھین
اب بات سمجھین ۔۔ جاندار اور بے جان مین یون تمیز کی جا سکتی ھے کہ وہ خواص جو مادہ حیات یعنی protoplasmمین پاۓ جاتے ھین جن سے ھر جاندار بنتا ھے یعنی زندگی کی نشانیان ھین انہین سامنے رکھین تو دوستو جاندارون مین سرانجام پانے والے بڑے امتیازی افعال مندرجہ ذیل ھین
میٹابولزمmetabolism
نشوونماgrowth
حساسیتlrritability
افزائش نسلreproduction
حرکتmovement
غذائیتnurition
عمل تنفسrespiration
عمل اخراجexcretion
تمام جاندارون کے جسم اور ھر خلیے مین ھمہ وقت ایک خاص ترتیب سے کیمیائی تعاملات جاری رھتے ھین اور یہ اعمال جاندار کی ھئیت structureبرقرار رکھنے اور افعال زندگی کا تسلسل برقرار رکھنے کے لئے از حد ضروری ھے
ان مین بعض توانائی پیدا کرتے ھین تو کچھ نئے مادہ حیات کو جنم دیتے ھین اور کچھ آپ کے جسم کی مرمت کرتے ھین تو کچھ آپ کے جسم سے رطوبات کے اخراج اور انہین خاص مقامات تک پہنچانے کے لئے ضروری ھین اب ان سب کیمیائی اعمال کو مجموعی طور پہ آپ میٹابولزم یا استحالہ یا تحویل کہتے ھین یعنی میٹا بولزم کے ذریعے ھی جسم مین نیا پروٹو پلازم بنتا سنورتا اور توانائی پیدا کرتا ھے
یاد رکھین میٹابولزم دو طرح کا ھوتا ھے ایک تعمیری ھوتا ھے تو ایک تخریبی ھوتا ھے یعنی تعمیری اعمال مین تمام مادے بنتے ھین جن کی آپ کے جسم کو ضرورت ھے جبکہ ان مادون کی توڑ پھوڑ اور ذخیرہ شدہ خوراک کی توڑ پھوڑ کاعمل میٹابولزم کاتخریبی حصہ ھے مثلا ھمارے جسم مین پروٹین شکر اور روغنیات بنتے اور جسم وخلیات کا حصہ بننے کا عمل تعمیری کہلاۓ گا اور انکی ٹوٹ پھوٹ کو ھم تخریبی کہتے ھین یاد رکھین تخریبی عمل مین توانائی ہیدا ھوتی ھے لیکن ساتھ مین بہت سے زھریلے بیکار یعنی فاسد مادے اور مرکبات بھی بن جاتے ھین جن کا جسم سے اخراج بہت ضروری ھوتا ھے اور جسم ان اجزاء کو کئی اعضا اور راستون سے خارج کرتا ھے جیسے جلد سے پانی اور نمکیات اور دیگر فضلات خارج ھوتے ھین اور کاربن ڈائی آکسائیڈ آپ پھیپھڑوں کے ذریعے خارج کرتے ھین
پروٹین اور کاربوھائیڈریٹ اور چکنائیون کے استحالے کے دوران بننے والے بیشتر مادے پیشاب کے راستے خارج ھوتے ھین اور انہین خون جسم کے اعضاء سے گردون تک پہنچاتا ھے باقی آئیندہ

اھم بات بلکہ اصلاح کی باتین

۔۔۔۔۔۔۔ اھم بات بلکہ اصلاح کی باتین۔۔۔۔۔۔۔۔
آج ایک پوسٹ دیکھ کر مین سوچ مین پڑ گیا کسی نے سرعت انزال کی پوسٹ لکھی ھوئی تھی اور نیچے روضہ رسول اللہ صلى الله عليه و سلم کی تصویر لگی ھوئی تھی اور یہ دیکھ کر نہایت ھی افسوس ھوا اب مجھے سمجھ نہین آئی ان صاحب کو کیا کہون کہ ان کی عقل کدھر چرنے گئی ھوئی ھے خدا کے بندے ذرا خود ھی سوچ لے پوسٹ قوت باہ اور تصویر روضہ رسول کی
کم سے کم کچھ تو عقل والا کام کیا ھوتا اگر تصویر ھی ساتھ لگانی ھے تو ادویات کی لگاتے اس کے علاوہ مین اور کچھ نہین کہون گا آج تک اتنی تنقید مین نے کسی بھی طبیب پہ نہین کی یہان کام برداشت سے باھر تھا اس گروپ مین ھر اس طبیب کی حوصلہ افزائی کی جاتی ھے جس کی سوچ تعمیری ھو اچھا لکھین اور سوچ کر لکھین اور نیا لکھین پرانے نسخہ جات تقریبا سب کے علم مین ھین آپ نے بہت ھی پرانا نسخہ نظریہ مفرد اعضاء کا لکھا جس مین زیرہ کا وزن ٣٥گرام اور سقمونیا کا وزن ٥گرام لکھ دیا سیدھا سیدھا لکھ دیتے ایک تولہ سقمونیا سات تولہ زیرہ پیس کر ملا لینا ھے ساتھ یہ بھی لکھ دیتے غدی اعصابی ھے بات سب کو سمجھ بھی آجاتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری آپ سے بھی اور دیگر نئے حکماء سے ایک ھی گزارش ھے پہلے گروپ کے اصول قوائد لازمی پڑھین اور ساتھ کبھی بھی کسی مقدس مقام کی تصویر نہ لگائین مقدس مقامات کا احترام مقدم رکھین اگر لگانی ھی تو مفردات کی تصویر لگا سکتے ھین باقی پرانے لکھنے والے حکماء سے بھی گزارش ھے جب بھی کچھ ایسی غلطی دیکھین لازما نشاندھی وہ خود کیا کرین باقی ایک بات خوش آئیند جو مجھے نظر آتی ھے بہت سے حکماء نے میری تقلید مین نبض یا کچھ اسی قسم کے مضامین لکھنے شروع کیے ھین یہ بہت ھی اچھی بات ھے اب قوت باہ کو چھوڑ کر دیگر امراض پہ بھی بہت سے دوستون نے لکھنا شروع کررکھا ھے یہ بھی بہت ھی اچھی بات ھے سب مبارک باد کے مستحق ھین ھمارا سب سے بڑا مقصد طب کو وہ مقام دلوانا ھے جس کی طب مستحق ھے عزت والا مقام اور آپ سب طبیب میرے بھائی ھین اگر کسی کے پاس علمی کمی ھے تو کوئی بات نہین اسے سمجھانا ھمارا کام ھے علم طب کو آسان الفاظ مین پیش کرنا دلائل اور حقائق طب بتانا ھمارا مشن ھے سب امراض پہ لکھنا اور تحقیقات کرنا طب کا سب سے بڑا مشن بنانا ھے یاد رکھین علم طب کتب مین بہت ھی مشکل ھے اسے آسان الفاظ مین سمجھانا ھمارا کام ھے نئے مبتدی اطباء کو جن جن اصول اور قوائد طب کی جہان سمجھ نہین آتی نشاندھی کرین اس کی وضاحت ضرور لکھ دی جاۓ گی اللہ تعالی سب کو سیدھے راستہ پہ چلنے کی توفیق عطا فرمائے دعاؤن مین یاد رکھیے گا اللہ حافظ

Tuesday, January 8, 2019

ورم رحم ۔۔۔ جلن دار لیکوریا ۔۔ اختناق الرحم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کا مل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔ ورم رحم ۔۔۔ جلن دار لیکوریا ۔۔ اختناق الرحم ۔۔۔
عام لیکوریا کے علاج کا تقریبا ھر کسی کو علم ھو چکا ھے مثلا آپ کمرکس پھٹکڑی بریان مازو گل انار چھلکا انار سپاری اقاقیا کا برابروزن سفوف بنا کر ماشہ صبح شام ھمراہ دودھ دین تو چند دنون مین لیکوریا رک جاتا ھے لمبی چوڑی ادویات کی ضرورت ھی نہین پڑتی لیکن آج ھم بات کرین گے جلن دار لیکوریا کی جس مین شدید جلن بھی پیدا ھوتی ھے اس مین ورم رحم یا سوزش رحم بھی ھوا کرتا ھے بعض دفعہ مزمن ھونے کی صورت مین جوڑون مین درد بھی ھوا کرتا ھے یعنی چھوٹے جوڑون مین اب ان تمام علامات وامراض کے لئے ایک ھی دوا جو مختصر بھی ھے اور فوائد مین انتہائی اعلی رزلٹ بھی دیتی ھے
پہلے دوا لکھتے ھین اسگندھ کی کھار دس گرام چینی سوگرام ہیس کر دو نمبر سائز کے کیپسول بھر لین اور صبح دوپہر شام استعمال کرین اب خواہ چھوٹے جوڑون مین درد ھے خواہ جلن دار لیکوریا ھے یا ورم رحم ھے یا صرف سوزش رحم ھے یا اختناق الرحم ھے آنکھ بند کرکے استعمال کرین رب کریم شفا دین گے اب بہت سون کے ذھن مین ایک سوال ضرور ھو گا وہ ھے کھار اسگندھ ؟
تو اس مین کوئی خاص بات ھے ھی نہین جسے آپ اسگندھ یا آکسن بوٹی کہتے ھین باھر عام پیدا ھوا کرتی ھے اس کی بے شک بڑی بڑی بھی جڑین وغیرہ نکال کر انہین سوکھنے کے لئے رکھ دین جب سوکھ جائین تو انہین جلا کر سفید راکھ بنا لین پھر معروف طریقہ ھی ھے یعنی راکھ پانی مین حل کرین پھر چوبیس گھنٹے بعد مقطر لینا ھے اب اس پانی کو آگ پہ رکھ کر خشک کر لین جو باقی بچے گا یہی کھار اسگندھ ھے اب مذید دوسوال کیے جاتے ھین جن کے بعد سوالات کی دنیا ختم ھو جایا کرتی ھے اکثر لوگ یہ سوال کرنا فرض عین سمجھتے ھین پہلا سوال کیا شوگر کے مریض استعمال کرسکتے ھین اگر نہین کرسکتے تو پھر کیا کرین وہ۔۔ اب ایک بات یقینی ھے اس مین چینی شامل ھے شوگر والا تو استعمال سے رھا اگر مین کہون بھی تب بھی آپ اتنے تو سیانے ھین ھی فورا کہین گے نہین جی چینی شامل ھے اب اسی سوال کا دوسرا جزو ۔۔۔۔ کہ وہ جائین پھر کہان تو دوستو کونسا اللہ کی نعمتین ختم ھو گئی ھین بے شمار ادویات دیگر بھی موجود ھین اب دوسرا سوال کیا بلڈ پریشر کا مریض استعمال کرسکتا ھے جی ضرور کرے بلکہ اس سے بی پی کم ھی ھوگا

سائیڈ ایفکیٹ کیا ھوتا ھے

۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔ سائیڈ ایفکیٹ کیا ھوتا ھے؟؟؟۔۔۔۔۔۔
شام کسی نے فون کیا پھر فون کسی اور نے کیا بات تقریبا ایک ھی تھی بات ھو رھی تھی کسی نے دوا کی مقدار زیادہ بنا لی سوال تھا کیا مرض ٹھیک ھونے کے باوجود باقی دوا بھی مریض کو کھلا دین تو میرا جواب تھا جی نہین اب بات سب کو سمجھاتا ھون جب بھی کوئی مرض آتا ھے تو کسی ایک تحریک مین آتا ھے آپ دوا دیتے ھین تو مرض کو اگلی تحریک بدل مین دیتے ھین تو مرض سے نجات مل گئی جب تحریک بدل گئی اور مرض سے نجات بھی مل گئی تو مذید دوا کھلانا چند مسائل پیدا کرتا ھے اب دوا کی متعلقہ تحریک مین جب مسلسل دوا کھلانے سے تحریک مین شدت پیدا ھو گی تو اس تحریک سے متعلقہ منفی اثرات بدن پہ پڑنے شروع ھو جائین گے جسے آپ نئی مرض کا نام دے سکتے ھین یعنی وھی دوا جو پہلے شفا تھی اب قضا بن کے نازل ھو گئی اس گفتگو سےایک مراد یہ بھی ھے حد اعتدال سے بڑھ جانے کا نام بھی مرض ھے مین زیادہ حیران اس وقت ھوا جب یہی سوال ایک صاحب نے مکمل انباکس کررکھا تھا اب اخلاقی تقاضا ھے کہ سکرین شارٹ نہ لگاؤن بلکہ درخواست کرون گا خود ھی پوسٹ پہ سوال لکھ دین اب ایک اور تشریح بھی کیے دیتا ھون ایلوپیتھی دواکے بداثرات جسم پہ۔۔۔۔
تو دوستو اس بات کی تشریح آسان الفاظ مین یون کی جا سکتی ھے بلکہ چند نقاط آپ کو سمجھاۓ دیتا ھون ایلوپیتھی کی ھر دوا پہ ھر طرح کی ھدایات درج ھوتی ھے عام فہم بات یہ ھے کہ جیسے اینٹی بائیوٹک کے بارے مین اکثریت کی ھدایت یہ ھوتی ھے کہ پانچ دن سے زیادہ نہ کھلائین اگر بہ امر مجبوری آپ دینا ھی چاھتے ھین تو 72گھنٹے بعد دوبارہ کھلا سکتے ھین یا اتنے عرصہ بعد آپ دوبارہ اسے استعمال کرسکتے ھین اب اگر آپ لکھی گئی ھدایات پہ عمل کرتے ھین تو انسانی جسم پہ بداثرات نہین آئین گے اگر ناک مین سیدھ مین یا لا علمی مین مسلسل مریض کو استعمال کرواتے جائین گے تو بدن پہ بداثرات لازما ظاھر ھونگے دوسری ھدایت بے شمار ادویات پہ ھدایات مین یہ بھی لکھا ھوتا ھے کہ آپ اس دوا کے ساتھ فلان فلان گروپ کی ادوہات نہین کھلا سکتے اگر کھلائین گے تو یہ نقصانات اٹھائین گے صاف لکھا ھوتا ھے اب ڈاکٹر حضرات اس بات پہ قطعی توجہ نہین دیتے بلکہ مخالف ادویہ کا مرکب لکھ کر مریض کے ھاتھ پرچی تھمادیتے ھین وہ میڈیکل سٹور سے لے کر دوا کھا لیتا ھے پتہ اس وقت چلتا ھے جب مریض نئی مصیبت مین پھنس جاتا ھے ایسے بےشمار کیس دیکھے ھین میری اس ساری گفتگو کا ایک ھی مقصد ھے دوا خواہ ایلوپیتھی ھے یا ھومیوپیتھی ھے یا پھر دیسی دوا ھے حداعتدال سے بڑھ جانا یا درج شدہ ھدایات کے مخالف چلنا بداثرات کا لازما باعث بنتا ھے اپنے معالج سے لازما یہ بات پوچھا کرین کہ کہین مخالف گروپ کی میڈیس تو نہین بداثرات تو نہ ھونگے یا کم سے کم فارمیسی والون سے سوال کرلیا کرین یا پھر اگر آپ انگریزی پڑھ سکتے ھین تو دوا کے اندر ایک پیپر ھو گا اس پہ لکھا سب پڑھین تب دوا استعمال مین لائین اب آخری ھدایت مین ان صاحب کے لئے لکھ رھا ھون جنہون نے انباکس مجھے یہ لکھاتھا کہ مین نے جسم سے سودا نکالنے کے لئے لونگ جلوتری دارچینی کا قہوہ ساتھ پکوڑے کھاۓ پانچ ھفتے تو جسم سے بھاپ نکلتی ھے اتنا گرم ھے رات کو بخار ھوتا ھے اتنی گرمی چڑھی ھے تو میرے خودساختہ طبیب بھائی مین نے آپ کا لکھا سب پڑھا ھے بہتر تھا کسی قریبی طبیب کے پاس جاتے اگر نہین جانا تو کم سے کم غدی اعصابی ملین اور ساتھ اکسیر بادیان کھائین باقی آخری بات۔۔۔ طریقہ علاج کوئی بھی غلط نہین ھوتا بس اس طریقہ کو استعمال کرنے والے اھل لوگ نہین ھوتے پہلے پورے علم کا حاصل کرنا ضروری ھے ایک ایم بی بی ایس بھی بے شمار غلطیان کرجاتا ھے لیکن جب ایک ایسا شخص جسے صرف یہ علم ھے پیراسٹامول بخار اور درد کی گولی ھے پان سٹان بھی یہی کچھ کرتی ھے بروفین بھی یہی کام کرتی ھے بس قیمتون کا فرق ھے ایم پی کلاکس بھی اینٹی بائیوٹک ھے کلیتھرو سین بھی اینٹی بائیو ٹک ھی ھے بس قیمتون کا فرق ھے ایک گولی امیرون کے لئے ھے ایک غریبون کے لئے ھے اب اتنے علم والا دیہات مین بیٹھ کر بہت بڑا ڈاکٹر بن جاتا ھے جسے یہ علم نہین پیراسٹامول درحقیقت ھے کیا؟ کس سالٹ سے بنی ھے مقدار خوراک کیا ھے کب کہان اور کتنی استعمال کرنے چاھیے اگر بروفین یا پان سٹان بھی یہی کام کرتی ھین تو علیحدہ سے ان کا وجود کیون کر بنا ھے یہ حقیقت مین کیا سالٹ ھین یہ جسم کے اندر جا کر کیا عمل کرتی ھین مقدار کیا ھے خیر یہ لمبی بحث ھے بات سمجھانی تھی امید ھے سمجھ گئے ھونگے

Sunday, January 6, 2019

نمبر دو مفردات کی پہچان

۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔ نمبر دو مفردات کی پہچان ۔۔۔۔۔۔۔۔
آج کی پوسٹ شروع کرنے سے پہلے مین آپ کو یہ بتا دون کہ مین نے کل اور پرسون دو دن غائب رھنا ھے یعنی پوسٹ نہ لکھ سکون گا یہ وقت مین چل سو چل مسلسل سفر مین رھون گا انشاءاللہ کل دن گیارہ بجے مندھرے پہنچنا ھے تھوڑی دیر وھان رک کے پھر اسلام آباد کی طرف گامزن ھونا ھے ایک تا دو بجے مری پہنچنا ھے ایک تا دو گھنٹہ وھان ٹھہرنے کےبعد واپس براستہ اسلام آباد شام سات بجے تک ھری پور ھزارہ سے چند کلو میٹر پہلے پنیان گاؤن پہنچ جانا ھے رات وھان ھی جناب محمد اعظم مسلم صاحب کے ھان ٹھہرنا ھے پھر صبح دوبارہ اسلام آبادبلکہ مارگلہ پہنچنا ھے پھر واپسی چکری کچھ دیر رکنا ھے وھان سے بذریعہ موٹر وے واپس شام تک گھر پہنچون گا پھر آپ سے بشکل پوسٹ ملاقات شروع ھو گی آئیے آج بات کرتے ھین طباشیر پہ
طباشیر۔۔۔۔۔ یہ synthetic اور اصل دونون حالتون مین ملتی ھے synthetic علامہ اقبال کے شہر سیالکوٹ مین بنتی ھے لیکن مارکہ انڈیا کا لگا ھوتا ھے لوھے کے ڈبہ مین یا پلاسٹک کے ڈبہ اور لفافہ مین بھی پیک ملتی ھے اس کا رنگ گہرا سفید دودھیا اور بہت ھی سستی ملتی ھے جبکہ اصل طباشیر جلے ھوۓ کوئلہ جیسی ھوتی ھے جو مختلف سائز کی ڈلیون اور ھلکے بور مین ملتی ھے اس کو طباشیر بانسی کہتے ھین یہ دوھزار تا پچیس سو مین کلو ملتی ھے جبکہ خوبصورت اور نمبر دو طباشیر سو تا ڈیڑھ سو مین کلو ملتی ھے فرق خود ھی دیکھ لین
عرقیات۔۔۔بازاری عرقیات یا تو ایسینس ملے ھوتے ھین یا پھر دوا کا وزن جو عرق مین ھونا چاھیے اس مقدار سے بہت ھی ھلکے ھوتے ھین یہ سوال آج کی پوسٹ پہ ھی آیا تھا بہتر ھے عرق خود ھی تسلی سے کشید کرین یا کسی تسلی والے دوکاندار سے لین
ست ۔۔۔ یہ بھی مارکیٹ مین دو طرح کے آتے ھین اب وہ ست جو لیبارٹریون مین ھی تیار ھوتے ھین جیسے ست پودینہ ست اجوائن ست الائچی یا پھر کافور وغیرہ ان کا خریدنا بازار سے مجبوری بھی ھے اور کسی حد تک درست بھی ھوتے ھین اور یہ ست تیار کرنا عام طبیب کے بھی بس کا روگ نہین ھے مین کبھی طریقہ بنانے کا لکھ دونگا ھو سکے تو بنا لیجئے گا باقی کچھ ست بازار مین بالکل ھی ناقص ھوتے ھین جیسے ست گلو ست ملٹھی ست کیکر وغیرہ ان کے بنانے کا طریقہ بھی آسان ھے انشاءاللہ سفر سے واپسی پہ طریقہ لکھ دونگا کوشش کرین خود ھی تیار کرین ایمانداری کی بات ھے آخرالذکر ست مکمل دو نمبر ھوتے ھین خود تیار کرکے دیکھ لینا بلکہ جب تیار کرین گے تو قیمت سے اور ذائقہ اور رنگ سے ھی اندازہ ھو جاۓ گا
زیرہ سیاہ ۔۔۔دوستو سفید زیرہ کو سرکہ مین بھگو کر ذرا بھون لیا جاتا ھے اسے سیاہ بنا کر بازار مین لے آتے ھین جبکہ زیرہ سیاہ ایرانی یا قندھاری نام سے ملتا ھے اس کی شکل شباھت ھی علیحدہ ھے یہ سیاہ چمکدار اور سائز مین نہایت چھوٹا ھوتا ھے جبکہ نمبر دو سفید زیرے کے ھی جتنے سائز کا ھوتا ھے آج کے لئے اتنا ھی کافی ھے دعاؤن مین یاد رکھیے گا

Saturday, January 5, 2019

پنسار سے اصل اور نقل ادویات کی پہچان

۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔ پنسار سے اصل اور نقل ادویات کی پہچان ۔۔۔۔۔۔
آج سب سے پہلے تو ایک انتہائی افسوس ناک خبر جو مجھ تک پہنچی ھے ھمارے مشہور طبیب میان احسن صاحب جن کی پوسٹین آپ گروپ مین پڑھتے ھین ان کی والدہ ماجدہ کا کل انتقال ھوا ھے إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعون مجھے رات گئے اطلاع بذریعہ ظہور صاحب ملی افسوس جنازے مین شامل نہ ھو سکا باوجود میان احسن صاحب میرے بالکل قریب ھی پھالیہ شہر مین رھتے ھین رات آٹھ بجے جنازہ تھا اللہ تعالی ان کی والدہ ماجدہ کو جنت الفردوس مین جگہ نصیب فرمائے اور میان احسن صاحب اور اھل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے
اب اپنے موضوع کی طرف آتے ھین کچھ عرصہ پہلے یہ سلسلہ شروع کیا تھا لیکن پھر رک گیا رات ایک صاحب نے میرے ھی نسخہ معجون فلاسفہ کبیر پہ ایک پوسٹ لکھی جسے مین نے خود ھی اپروو کیا ان صاحب نے شاید اپنی طرف سے درست نشاندھی کی تھی لیکن ان کی پوسٹ نے بار بار توجہ جس جانب دلائی اس مین چند الفاظ تھے دوا کے استعمال سے خشکی اور خارش پیدا ھونا اور پھنسیان پیدا ھونا ۔۔۔۔۔ جبکہ اس نسخہ مین کسی طرح بھی کوئی ایسی دوا شامل نہین ھے جو یہ علامات پیدا کرتی ھو بار بار سوچنے پہ جو بات سمجھ آئی وہ مفردات کا درست نہ ملنا سبب سمجھ آیا صاحب پوسٹ یقینا مفردات کی پہچان نہین رکھتے تھے پنساری نے متبادل غلط ادویات لازمی شامل کی تھین اس وجہ سے آج اس پوسٹ کی ضرورت محسوس کی انشاءاللہ کبھی کبھار آپ کو مارکیٹ مین بھری دو نمبر ادویات سے آگاہ کرتے رھین گے آج وقت اور موسم کی مناسبت سے سب سے شہد
شہد ۔۔۔۔۔شہد مکھیون کی نسل کے حساب سے اور موسم اور پھولون درختون کے حساب سے علاقہ کے لحاظ سے کئی ذائقون مین ھوتی ھے سب سے اچھا شہد اب آپ اسے ھی کہین گے جو آزاد مکھیون نے پیدا کیا تھا فارمی شہد اتنا ھی غلط ھوتا ھے یا اتنا ھی فرق ھوتا ھے جتنا دیسی مرغ اور ولائتی ککڑ ( چکن) مین ھوتا ھے
اب بات کرتے ھین چھوٹے شہد کی تو یہ بہت ھی کم مقدار مین میسر ھوتا ھے کین اور ڈرمون کے حساب سے دستیاب ھی نہین ھو سکتا چھوٹی مکھی بھی دو قسم کی ھوتی ھے ایک مکھی کا شہد بہت ھی طاقتور ھوتا ھے نایاب چیز ھے آجکل مجھے میسر ھے تحفہ ملا تھا صبح ناشتہ مین استعمال کرتا ھون
اب اصل نقل کی پہچان کی بات کرتے ھین کیونکہ یار لوگ مصنوعی شہد اتنی بہترین بنا کر مارکیٹ مین لاتے ھین کہ پہچان مشکل ھو جاتی ھے بناتے چینی اور ٹاٹری سے ھی ھین کچھ تھوڑا شہد کا فلیور استعمال کرلیتے ھین جو کہ مارکیٹ مین عام ملتا ھے پہچان کے لئے کچھ لوگون نے یقین کررکھا تھا کہ کتا شہد نہین کھاتا دوستو اس زمانے مین کتے بھی ماڈرن ھو گئے ھین شہد کھا لیتے ھین جلانے سے جلتی نہین یا کچھ اور بے شمار طریقے بھی ھین نمک حل نہین ھوتا آج آپ کو دنیا کا سب سے بہترین طریقہ اور سب سے بڑا لیبارٹری ٹیسٹ بتاتا ھون تجربہ خود کر لین
شہد کو منہ مین ڈالین حلق تک ذائقہ دے لیکن جلد ھی ذائقہ اور مٹھاس منہ اور حلق مین ختم ھو جاۓ تو شہد اصلی ھے اگر دیر تک ذائقہ اور مٹھاس برقرار رھے تو شہد نقلی ھے
سرکہ ۔۔۔۔۔۔بازار مین بہت سی کمپنیون کے بہت سے سرکے مثلا جامن انگور گنے سیب وغیرہ کے ملتے ھین یہان تک لوگ اب کچھ کمپنیون کے سرکون پہ بہت اعتماد کرتے ھین یہ سب کے سب synthetic ھوتے ھین ذائقہ کی تبدیلی کے لئے فلیور کلر سکرین متعلقہ فروٹ کا بنا کر عوام کو پیش کیا جاتا ھے ان مین ایک بھی درست نہین ھے اب دلیل دیتا ھون بازار مین دستیاب انگوری سرکہ پچاس سے لے کر اڑھائی تین سو تک قیمت مین دستیاب ھو گا اب اگر آپ خود انگور کا سرکہ بنائین گے تو آپ کو اندازہ ھو جاۓ گا یہ آپ کو ھزار بارہ سو مین بوتل پڑے گا پھر محنت مزدودی ڈالین گے تو بات پندرہ سو تک چلی جاۓ گی اب منافع شامل کرین تو خود ھی بتائین کتنے مین ملے گا منافع اگر آپ ہچاس یا سو بھی لین تو سولہ سو دین گے ھان گنے کا سرکہ آپ کو سستا پڑتا ھے سیب کا بھی مہنگا بنتا ھے میرے تجربہ کے مطابق سات سو کا سیب لین تو بوتل سرکہ بنتا ھے اگر آپ نے واقعی سرکہ استعمال کرنا ھے تو تھوڑی محنت کر لین طریقہ پہلے ھی گروپ مین لکھ چکا ھون خود تیار کرین اکثر لوگ سرکہ سیب دل کے امراض مین استعمال کرتے ھین اور بازار سے سرکہ سیب لیتے ھین جو سرکہ سیب ھوتا ھی نہین اب اس نے فائدہ کیا خاک کرنا ھے
رائی ۔۔۔ یہ ایک دن پہلے بھی کسی نے انباکس تصویر لگا کر پوچھا تھا رائی بہت ھی باریک سرخ عنابی کلر مین ھوتی ھے جو عام بازار مین ملتی ھے اس مین سیاھی مائل دانے ھوتے ھین سرسون شامل ھوتی ھے اگر اصل رائی نہ ملے تو تارا میرا استعمال کرلیا کرین بس آج اتنا ھی کافی ھے باقی پھر کبھی

Friday, January 4, 2019

کسی کا بے ڈھنگا قد بڑھ گیا تو کسی کا قد چھوٹا ھونا

۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔ کسی کا بے ڈھنگا قد بڑھ گیا تو کسی کا قد چھوٹا ھونا۔۔۔۔۔
امید ھے سب کو علم ھو گا قد بڑھنے کا تعلق اور قد گھٹنے کا تعلق ھارمون سے ھوتا ھے جنہین ھم طبی زبان مین غدد کہتے ھین یہ بدن کے اندرونی غدد سے نکلنے والے افرازات پر ھے خصوصا کلاہ گردہ سے اخراج پانے والے ھارمونز پہ ھے
دوستو یہ ھارمونز یا گلٹیان اندرونی طور پہ ایسے مواد تیار کرتی ھین جو خون کی ترکیب مین نہایت اھمیت رکھتے ھین صحت وسلامتی روئیدگی وبالیدگی وارتقا ونمو کا تعلق بھی اسی پر ھے بلکہ ایک لحاظ سے بقا حیات پر انہی ھارمونز کا اثر بالواسطہ پڑتا رھتا ھے اگر یہ افرازات رحم مادر مین نہ آئین تو یہ لاعلاج خلقی نقائص کا سبب بنتے ھین اگر بچپن سے شباب تک جب بھی ان مین نقص آجاۓ تو یاد رکھین خون کی ترکیب بدل جاتی ھے اور بڑھوتری رک جاتی ھے
اگر یہ افرازات یک دم زیادہ خارج ھونا شروع ھو جائین تو یا تو پورا قد یا پھر کوئی عضو بے ھنگم بڑھ جاتا ھے جس سے بدنی اعضاء کا توازن بگڑ جاتا ھے
آجکل یہ مسائل بہت زیادہ آرھے ھین اس مین کچھ ھاتھ تو کیمیائی عوامل کا ھے جیسے فصلون پہ بے جا سپرے گندے پانی مین پرورش پاتی سبزیان جن مین بہت ھی خطرناک زھریلے مادے شامل ھو جاتے ھین بعض جگہون پہ تو قریب قریب تابکار مادے تک ھوتے ھین آپ تصور بھی نہین کرسکتے انتظام نہ ھونے کی وجہ سے بہت سی ملون فیکٹریون سے ایسے بے شمار مادے نکل رھے ھوتے ھین جو آگے جاکر مختلف شکلین اختیار کرکے پھر وھی پانی فصلون کو لگایا جاتا ھے اور سبزیون کو لگ رھا ھوتا ھے اور اوپر سے ان پہ سپرے ایسے کیے جاتے ھین کہ جلد سے جلد سبزیان تیار ھون جتنی تیزی سے یہ سپرے سبزی بڑھا کر تیار کرتے ھین کیا وھی مادہ انسانی جسم مین کچھ نہین کرتا ھو گا خود سوچ لین اب دوسرے پہلو کی طرف چلتے ھین
اب باقی رھتی سہتی ذمہ داری کچھ دواساز ادارون نے بھی سنبھال رکھی ھے قد بڑھانے یعنی گروتھ ھارمونز بناتے ھین اب ان تمام باتون سے کچھ لوگون کا سر بڑا اور باقی جسم چھوٹا کسی کا دھڑ بڑا یعنی ٹانگین لمبی اور اوپر والا جسم چھوٹا اور کچھ کی ٹانگین چھوٹی اور اوپر والا جسم لمبا ھو گیا اب کسی کے بازو لمبے ھو گئے تو کسی کے ھاتھ بڑے ھو گئے یہ سب صورتین اب نظر عام آتی ھین
بہت دفعہ گروپ مطب کامل مین یہ سوال کیا گیا بلکہ پوچھا گیا آج طبیعت کچھ بہتر تھی اور کچھ دوستون سے وعدہ بھی کررکھا تھا کہ تفصیل سے اس مرض پہ لکھون گا تو آئیے تفصیل تو لکھ دی اب طبی پہلو اس مسئلہ کو بالمزاج دیکھتے ھین
نمبر١۔۔ جن لوگون کے قد یک دم رک جائین یعنی چھوٹے رہ جائین تو ان کی تحریک عضلاتی غدی سے غدی عضلاتی ھوتی ھے اب یقینی بات ھے ان کا علاج آپ غدی اعصابی سے اعصابی غدی تک کرین گے
نمبر٢۔۔جن لوگون کے قد یکدم بڑھ جائین ان کی تحریک اعصابی غدی ھوتی ھے اب ان کی ھارمونی ترکیب درست کرین اعصابی عضلاتی پہلے دوائین دین پھر عضلاتی اعصابی دوا وغذا دین
یہ پوسٹ حکماء کو علاج سمجھانے کے لئے لکھی ھے
یاد رھے علاج لمبا عرصہ کرین مریض کی نبض دیکھتے رھین جب تک تحریک مکمل تبدیل نہ ھو جاۓ علاج جاری رکھین

Thursday, January 3, 2019

رگین ھاتھون پہ ابھر آنا

۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔ رگین ھاتھون پہ ابھر آنا ۔۔۔۔۔۔
یہ دو چار دن پہلے میری ھی پوسٹ پہ کسی نے ھاتھ کی تصویر لگائی جس پہ رگین ابھری ھوئی تھین وھان مین نے تیزی سے نظر دوڑاتے وقت مختصر جواب لکھ دیا تھا کہ یہ دخانی مادے کی وجہ سے ھوتا ھے آج ذھن مین بات آئی کہ تھوڑی وضاحت اور علاج بھی لکھ دیا جاۓ تو دوستو یہ دخانی مادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ ھی ھوتا ھے یعنی ریاح کی زیادتی سے یہ مرض پیدا ھوتا ھے اگر پھر بھی بات نہین سمجھے تو عضلاتی اعصابی تحریک بہ مائل عضلاتی غدی تحریک ھوتی ھے یعنی عضلاتی تحریک نامکمل ھوتی ھے آپ کو بے شمار پوسٹون مین وضاحت کرچکا ھون ریاح کا تعلق عضلاتی تحریک سے ھوتا ھے
اب ایسا شخص لازما سکڑا یعنی پتلے وجود کا مالک ھوتا ھے اور جسم پہ موٹی موٹی رگین پھولی ھوئی سی ھوتی ھین ان کا بلڈ پریشر عام طور پہ کم ھوتا ھے یاد رکھین یہ رگین یا تو تحلیل سے پھیلی ھین یا تسکین سے پھولی ھین انکا علاج ھمیشہ تحریک کو مکمل کردینے سے ھوتا ھے جس سے رگین بھی درست ھو جائین گی گوشت بھی پیدا ھو گا اور ضعف بھی ٹھیک ھو جاۓ گا علاج لکھ رھا ھون ان کے نسخے بے شمار مرتبہ گروپ مین لکھ چکا ھون یہ آپ کو تلاش کرنے ھی پڑین گے
تریاق تبخیر دو دو گولی دن مین تین مرتبہ
شدید نمبر تین آدھا ماشہ تین دفعہ
جوارش عضلاتی غدی مقوی دو ماشہ صبح اور شام دین
حب صابر رات سوتے وقت دو گولی دین
معجون خبث الحدید ماشہ ماشہ صبح شام دین
اب کچھ عرصہ ان دواؤن کے استعمال سے مرض جاتی رھے گی

Wednesday, January 2, 2019

خارش اور اس کا بہترین علاج

۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔خارش اور اس کا بہترین علاج ۔۔۔۔۔۔
آجکل روزانہ کے حساب سے دو چار بار مجھ سے خارش کا علاج پوچھا جا رھا ھے شربت کا نسخہ بتاؤن تو سامنے سردی کا بہانہ آتا ھے کہ کہین پلانے سے سردی یا نمونیا ھی نہ ھو جاۓ آئیے آج آپ کا ذھن اس بارے مین بھی کھولتے ھین کہ ایک طبیب کو وقت کے تحت کیسے ادویات مین اختراع کرنی چاھیے یہان لکھتے وقت میری ایک مجبوری یہ بھی ھوتی ھے کہ بات عام آدمی تک بھی پہنچ جاۓ اور وہ بھی باآسانی دوا بنا سکے بے شمار دوائین یہان نہین لکھ سکتا کیونکہ انہین بنانا عام طبیب کے بس کا بھی روگ نہین ھے ان کا اظہار یعنی یہان لکھنا وقت ضائع کرنے کے مترادف ھے یا یون سمجھ لین اپنی علمیت یا رعب جھاڑنے والی بات ھے وہ انداز آج تک اپنایا ھی نہین شاید ایک دو دوائین مین نے اس طرز پہ لکھی ھین جیسے معدے کی گیس کے لئے آپ عرق پودینہ اجوائن کرفس تیزپات سنڈھ سوئے وغیرہ نکالین پھر اس مین ٹیٹینم ڈالکر دودھ کی طرح محلول بنائین پھر شربت بنانے کےلئے زینتھیم گم مٹھاس کے لئے سکرامیٹ محفوظ کرنے کے لئے پی پی اور ایم پی اور سوڈیم بنزوویٹ وغیرہ ڈالین ساتھ ذائقہ اور خوشبو کے لئے روغن سونف اور پیپر منٹ آئل استعمال کرین وغیرہ وغیرہ اسی طرح جدید طرز پہ مین اونٹ کٹارہ اور دھماسہ کا ایک جوھر نکال لیتا ھون جو خارش اور جلدی امراض مین سب سے اعلی ھوتا ھے لیکن ایسی دوا بنانا ھر ایک کے بس کا روگ نہین ھے تو پھر بتانے کا بھی فائدہ نہین ھے آئین اب اصل موضوع کی طرف چلتے ھین جو آسان بھی ھے اور فائدہ مند بھی ھے
شاھترہ چرائیتہ منڈی بوٹی عناب سر پھوکہ ھلیلہ زنگی عشبہ صندل سرخ ھر ایک پانچ پانچ تولہ لے لین اگر موسم گرمی کا ھے تو اس مین پانچ لٹر پانی ڈال کر بارہ گھنٹہ کے رکھ دین اس کے بعد آگ پہ چڑھا دین جب پانی آدھا رہ جاۓ تو اتار کر اچھی طرح چھان لین اب اس مین پانچ کلو چینی ڈالکر قوام کر لین شربت تیار ھے چار چمچ تک صبح شام پلائین خارش کا بہترین شربت ھے
اب یہی ادویات سردی کے موسم مین باریک پیس کر ان ادویات کے وزن سے تین گنا زیادہ شہد ڈالکر قوام کرکے معجون بنا لین اب تین ماشہ تک معجون صبح دوپہر شام کھلائین خارش پھوڑے پھنسی سب مین مفید ھے اب آپ کی مرضی ھے اسے شربت کی شکل مین استعمال کرتے ھین یا معجون کی شکل مین ۔۔فائدہ انشاءاللہ ھردو صورت مین ھو گا